نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے

(۱۰) بَابٌ فِى الْمُبَادَرَةِ إِلَى الْخَيْرَاتِ، وَحَبِّ مَنْ تَوَجَّهَ لِخَيْرِ عَلَى الْإِقْبَالِ

عَلَيْهِ بِالْجَدِ مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ

نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے


صفحہ 289

سر پر باندھ لیا اور انصار نے کہا کہ ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے، اس کے بعد ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ کی، جو بھی سامنے آتا تھا وہ قتل ہو جاتا تھا۔ (1) اور ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے ؎

اَنَا الَّذِي عَاهَدَنِي خَلِيـلِي    وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيلِ اَقُومُ الـدَّهـرَ فِـي الْـكُیُولِ    اَضْرِبُ بِسَیْفِ اللَّهِ وَ الرَّسُولِ

تخریج حدیث: مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنهم (باب من فضائل ابی دجانۃ سماک بن خرشة) واخرجہ امام احمد فی مسنده 12237۔ نوٹ: راویِ حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہما کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (1) مسلم شریف (2) دلیل الفالحین 1 / 29


قربِ نبی کا زمانہ بہتر زمانہ ہے

(92) ﴿اَلسَّادِسُ: وَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ. فَقَالَ: "اِصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ" سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.﴾ (رواه البخاري)

ترجمہ: "حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے، ہم نے ان کے پاس حجاج کے مظالم کا شکوہ کیا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا صبر سے کام لو اس لئے کہ جو وقت آ رہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو گے، میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے سنی ہے۔"

تشریح:

آنے والا زمانہ موجودہ دور سے بھی بدتر ہوگا

لَا يَأْتِیْ زَمَانٌ اِلَّا وَ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ: اس لئے کہ جو وقت آ رہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا۔ اس حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہی ہوتے جائینگے۔ اسی اعتبار سے حکمران بھی ایک دوسرے سے ظالم آتے رہیں گے، ایسے حالات میں حکمران کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی اصلاح کی فکر کرے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی سوچے اور حکمرانوں کے ظلم پر صبر سے کام لے۔


صفحہ 290

اس حدیث پر ایک سوال اور اس کے دو جواب

سوال: کیا ہر زمانہ پہلے والے سے برا ہوگا؟ یہ صحیح نہیں کیونکہ حجاج بن یوسف کے بعد عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ آیا اور بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی کا زمانہ آئے گا۔ یہ زمانے تو اچھے ہوں گے۔ اس سوال کے کئی جوابات محدثین نے دیئے ہیں۔ مثلاً: پہلا جواب: اس حدیث کو اکثریت پر محمول کریں گے کہ اکثر ایسا ہی ہوگا کہ بعد کا زمانہ پہلے کے زمانے سے برا ہوگا۔ دوسرا جواب: بعض نے جواب یہ دیا کہ حجاج کے زمانے سے زمانہ دجال تک کا زمانہ مراد ہے حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کا زمانہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوگا۔ تیسرا جواب: آنے والا زمانہ برا ہی ہوگا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ مستثنیٰ ہوگا باقی زمانے کسی نہ کسی اعتبار سے اور کسی نہ کسی جگہ کے حالات یا کسی نہ کسی معاملہ میں از روئے علم و عمل کے پہلے زمانے سے بدتر ہی حالت میں ہوگا۔ (1)

تخریج حدیث: بخاری کتاب الفتن (لایاتی زمان الا الذی بعدہ شر منہ) راویِ حدیث حضرت زبیر بن عدی رحمۃ اللہ کے مختصر حالات: نام: زبیر، والد کا نام عدی تھا یہ تابعی ہیں علامہ ذہبی الکاشف میں فرماتے ہیں۔ زبیر بن عدی الحمدانی الیامی ہے۔ یہ حضرت انسؓ سے ہی عموماً روایت لیتے ہیں، یہ مقام رے کے قاضی بھی رہے، ان کے شاگردوں میں سفیان ثوری مشہور ہیں اور 131ھ میں انتقال ہوا۔ (1) مظاہر حق جدید 4 / 913 - مرقاة 10 / 121، 122


سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کا حکم

(93) ﴿اَلسَّابِعُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ!"﴾ (رواه الترمذی وقال حدیث حسن)

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو، کیا تم ایسی فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی یا ایسی دولت مندی جو سرکش بنا دے گی یا ایسی بیماری، جو مزاج کو فاسد بنا دے گی یا ایسا بڑھاپا، جس میں عقل باقی نہ رہے یا ایسی موت، جو اچانک آ جائے یا دجال کا (یاد رکھو) دجال شدید ترین نظروں سے


صفحہ 291

اوجھل شر کا نام ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے یا قیامت کا اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔" لغات:

مُنْسِيًا: نسی نسیاً و نسیاناً سمع سے بمعنی چیز کو بھولنا۔

مُطْغِيًا: طغی و اطغی بمعنی سرکش بنانا، سرکشی پر اکسانا۔

هَرَمًا: هرم هرماً سمع سے بمعنی بہت بوڑھا۔ کمزور ہونا۔

مُفَنِّدًا: فند فنداً سمع سے بمعنی سٹھیانا، بڑھاپے کی وجہ سے ضعیف العقل ہونا۔

مُجْهِزًا: بمعنی ناگہانی موت۔

تشریح:

فقیری میں، آدمی اللہ کو فراموش کر دیتا ہے

الا فقرًا مُنْسِيًا: "ایسی فقیری کے انتظار میں جو خدا فراموشی کر دے" مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہو اسی حالت میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کرے، ایسا نہ ہو کہ اگر وہ فقر میں مبتلا ہے تو وہ اسی حالت کو اپنے لئے غنیمت جانے اور یہ سمجھے کہ مال و دولت کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان سے خدا نے مجھ کو بچا لیا ہے، اس وقت میں یہ موقع ہی غنیمت ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے خدا کا صابر بندہ بن جائے اگر وہ اپنے فقر کا شاکی ہو کہ مجھ کو مال و دولت مل جائے اور مال کے جمع کرنے کے پیچھے لگ جائے تو اس کا یہ مال دولت کی خواہش کرنا، سرکشی میں مبتلا اور راہ راست سے دور کر دینے والا ہوگا تو اس کو چاہئے کہ اپنے لئے فقر کی حالت میں اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کر لے۔ اسی طرح حدیث کے دوسرے جملوں کا مطلب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ نے جس حالت میں آدمی کو رکھا ہے وہ اسی حالت میں رہتے ہوئے اللہ کی اطاعت کرے اور وہ یہ خیال کر لے کہ یہی حالت میرے لئے بہتر ہے اگر میری دوسری حالت ہو تو میں راہ راست سے دور ہو جاتا۔ (1)

دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا

اَوِ الدَّجَّالُ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ: "دجال کا انتظار کرتا رہتا ہے جو ہر غائب شر سے بدتر ہے۔" دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا جس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔ "مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ": حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔ (2) اور دجال کے فتنے سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا (3) مطلب یہ ہوا کہ آدمی نیک اعمال کرے اس سے پہلے کہ دجال نکلے۔ کیونکہ دجال بہت بڑا فتنہ ہے اس وقت میں اچھے اچھے لوگ اس کے فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے۔ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ: "قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے" قیامت کا منظر دنیا کے سب مناظر سے زیادہ کڑوا ہے۔ (4)


صفحہ 292

تخریج حدیث: ترمذی کتاب الزهد (باب ماجاء فی المبادرة بالعمل)۔ ذکرہ ابن عدی فی الکامل فی الضعفاء 6 / 442۔ نوٹ: راویِ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (1) مرقاة شرح مشکوٰۃ۔ مظاہر حق جدید 4 / 687 (2) مسلم شریف (3) متفق علیہ (4) روضۃ المتقین 1 / 138


خیبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا

(94) ﴿اَلتَّامِنُ: عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: "لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ" قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعَى لَهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ: "اِمْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ" فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: "قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"﴾ (رواه مسلم) "فَتَسَاوَرْتُ" هُوَ بِالسِّينِ الْمُهْمَلَةِ: أَيْ وَثَبْتُ مُتَطَلِّعًا.

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز فرمایا یہ جھنڈا اس انسان کو عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے امارت کی کبھی چاہت نہ ہوئی لیکن اس روز میں نے امارت کے حصول کے لئے اپنے آپ کو بالکل تیار پایا اس امید سے میں نے گردن کو اونچا کیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا اور کہا جاؤ اور ادھر ادھر نہ جھانکنا یہاں تک کہ اللہ فتح دے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھوڑا سا چلے اور رک کر بلا التفات بلند آواز سے پکارا یا رسول اللہ ﷺ کس بات پر لوگوں سے لڑائی کروں فرمایا ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود


صفحہ 293

نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں پس جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو تجھ سے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حقوق کی صورتیں محفوظ نہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔" فتساورت: (سین مہملہ کے ساتھ) میں نبی کریم ﷺ کی طرف جھانکتے ہوئے اٹھ اٹھ کر دیکھتا تھا۔ لغات:

الرایة: بمعنی جھنڈا۔

الامارة: امر امراً و امر امارة سمع اور کرم سے بمعنی حاکم ہونا۔ سردار ہونا، امیر ہونا۔

فصرخ: صرخ صراخاً و صریحاً نصر سے بمعنی زور سے چیخنا، فریاد کرنا۔

تشریح: يَوْمَ خَيْبَرَ: یہ غالباً عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ کے آتے ہیں یہ مدینہ منورہ سے آٹھ منزل پر ہے بعض نے مدینہ منورہ سے دوسو (200) میل کے فاصلہ پر بتایا ہے، یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے، یہاں یہودیوں کے نہایت مضبوط متعدد قلعے تھے، جن میں سے بعض آج تک موجود ہیں، عرب میں یہودیوں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز یہی تھا۔ یہاں کے لوگوں سے آپ ﷺ نے صلح فرمائی تھی۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت

لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ: یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہو۔ اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے۔ (1) يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ: اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا۔ اس میں آپ ﷺ کے ایک معجزے کا تذکرہ ہے کہ خیبر کے فتح ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے اطلاع کر دی کہ کس کے ہاتھوں اللہ اس کو فتح کروائے گا۔ (2) اِمْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ: جاؤ اور ادھر ادھر نہ متوجہ ہونا یہاں تک کہ اللہ فتح دیدے۔ اس جملہ کے دو مطلب ہیں، ایک ظاہری مطلب کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم سیدھا جلدی خیبر جاؤ، ادھر ادھر متوجہ نہ ہو بلکہ اپنا کام پورا کرنا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس جملہ میں آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترغیب دی ہے کہ جلدی پہنچ جاؤ۔ یا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمنوں سے جنگ کے بعد نہ آنا یہاں تک کہ اللہ فتح بند دیدے۔ (3)

لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھ لیں

قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ: ان سے لڑائی کرنا یہاں تک کہ وہ کلمہ کی گواہی دے دیں۔

Page 294

روضہ الصالحین جلد اول

علماء کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ جنگ کرنے سے پہلے مشرکین کو دعوتِ اسلام دی جائے گی۔ اگر وہ قبول کرلیں تو وہ بھائی بن جائیں گے۔ اگر وہ اسلام کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا سوال کیا جائیگا اگر وہ اس سے بھی انکار کریں تو پھر ان سے جنگ کی جائیگی۔ اس حدیث سے بھی اس کی تائید ہورہی ہے۔

فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ: اگر وہ (اسلام) کا اقرار کرلیں۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسلام کے احکام کا اجراء صرف زبان کے اقرار سے بھی ثابت ہوجائے گا اور اس کو مسلمان سمجھا جائے گا باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائیگا۔ (2)

تخریج حدیث: مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم (باب من فضائل علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

نوٹ: راویِ حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(1) روضۃ المتقین 1/138 (2) دلیل الفالحین 1/300 (3) روضۃ المتقین 1/138، دلیل الفالحین 1/300 (4) دلیل الطالبین 1/128