جدوجہد کا بیان

(11) بَابٌ فِی الْمُجَاہَدَةِ


جدوجہد کا بیان

کوششوں سے راہیں کھلتی ہیں

قَالَ اللہُ تَعَالٰی: ﴿وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ وَاِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ﴾ (عنکبوت: 69)

ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”اور جن لوگوں نے ہمارے لئے کوشش کی ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے اور خدا تو نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔“

تشریح: جاہَدوا: کے معنی آتے ہیں دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری کوشش کرنا، کبھی یہ رکاوٹیں کفار کی طرف سے آتی ہے تو اس کو جہاد کہتے ہیں اور کبھی یہ نفس شیطان کی طرف سے پیش آتی ہیں اس کو مجاہدہ کہتے ہیں (1) علماء فرماتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اس لئے یہاں پر دوسرے معنی مراد ہوں گے۔

ان دونوں قسموں میں اللہ کی طرف سے سیدھے راستے کی رہنمائی ہوتی ہے کبھی کبھار آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ کہ اب


Page 295

روضہ الصالحین جلد اول

میں اس موقع پر کیا کروں تو اس آیت میں بتایا گیا کہ ان کے قلوب کو ہم حق اور خیر و برکت کی طرف پھیر دیتے ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی طرف سے جو علم لوگوں کو دیا گیا ہے اور اس پر چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ہم ان کے لئے آگے کا علم کھول دیتے ہیں۔

حضرت جنید بغدادیؒ فرماتے ہیں جو توبہ کی کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اخلاص کے راستے بتادیتے ہیں، فضیل بن عیاضؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے طلبِ علم میں جہاد کیا ہم ان کے لئے علم کے مطابق عمل کرنے کے راستے بتا دیتے ہیں۔

سہل بن عبداللہؒ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے سنت کو قائم کرنے کی کوشش کی ہم ان کو جنت کے راستے بتا دیتے ہیں۔ (2)

(1) معارف القرآن 6/727 (2) تفسیر مظہری 9/195


وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ﴾ (حجر: 99)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آ جائے۔“

تشریح: یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ: حضرت ابن عباسؓ، مجاہدؒ اور جمہور مفسرین کے نزدیک یقین سے مراد موت ہے (1) کیونکہ موت کا آنا ہر زندہ کے لئے یقینی ہے۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو اولاً خطاب ہے کہ جب تک آپ ﷺ زندہ رہیں اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں، عبادت کو ترک نہ کریں، یہی قول تقریباً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ ”﴿وَاَوْصٰنِیْ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّکٰوةِ مَا دُمْتُ حَیًّا﴾“ (2)

ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ نے مال کو جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم نہیں دیا بلکہ مجھ پر یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ: ”سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ“

کہ میں اللہ کی تسبیح اور حمد اور اللہ کے لئے سجدہ کرتا رہوں یہاں تک کہ موت کا وقت آ جائے۔ (3)

(1) زاد المسیر 4/310، وابن کثیر 2/580 (2) تفسیر مظہری 6/470 (3) مشکوٰۃ


وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً﴾ (مزمل: 8)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔“


Page 296

روضہ الصالحین جلد اول

اللہ کا نام لو ہر طرف سے منقطع ہو کر

تَبْتِیْلاً: کا معنی لغت میں کلمہ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منہ سے نکالنے کے ہیں اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ تلاوتِ قرآن میں جلدی نہ کی جائے بلکہ ترتیل اور تسہیل کے ساتھ ادا کریں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے معانی میں بھی غور اور تدبر کریں۔ (1)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ ”رَتِّلْ“ کا عطف ”قُمِ اللَّیْلَ“ پر ہے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ رات کے قیام میں خوب آرام آرام سے تلاوتِ قرآن کرنا چاہئے۔ اگرچہ نمازِ تہجد میں قرأت، تسبیح، رکوع، و سجود سب ہی ہوگی مگر تلاوت کو سب سے زیادہ اہتمام سے کرنے کو کہا گیا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ تہجد کی نماز بہت زیادہ لمبی پڑھتے تھے (2) اور یہی عادت بعد میں اسلاف کی آج تک ہے۔

علامہ قرطبیؒ نے لکھا ہے کہ حضرت علقمہؒ نے ایک شخص کو حسن صوت کے ساتھ تلاوت کرتے دیکھا تو فرمایا ”لَقَدْ رَتَّلَ الْقُرْاٰنَ فَدَاہُ اَبِیْ وَاُمِّیْ“: ترجمہ: اس شخص نے قرآن کی ترتیل کی ہے میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں۔

اسی طرح ایک مرتبہ حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو قرآن کی آیت پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا حکم ”وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً“ سنا ہے بس یہی ترتیل ہے جو یہ آدمی کر رہا ہے۔ (3)

اس سے معلوم ہوا کہ الفاظ کو اس کے مخارج اور صفات سے ادا کرنا حسن صوت سے پڑھنا معانی اور مطالب پر غور کرنا یہ سب ترتیل میں داخل ہے۔

(1) تفسیر قرطبی (2) تفسیر معارف القرآن 12/590 (3) تفسیر قرطبی


معمولی نیکی کا اجر بھی ملے گا

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَہٗ﴾ (زلزلت: 7)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔“

تشریح: ذَرَّةٍ: کہتے ہیں چھوٹی چیونٹی کو کہ وہ نیکی جو بھی ہو معمولی سی ہی کیوں نہ ہو اگر اللہ کے دربار میں قبول ہوگئی تو قیامت کے دن اس پر بھی بہت کچھ ملے گا۔ اسی وجہ سے حضرت مقاتلؒ نے فرمایا اس آیت میں مسلمانوں کو ترغیب دی جا رہی


Page 297

روضہ الصالحین جلد اول

ہے کہ نیک عمل کرلو خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ آئندہ قریب وقت میں چھوٹی نیکی بھی بڑی ہو جائیگی (1) جیسے کہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے آدھے چھوارے کے برابر بھی خیرات کرتا ہے تو اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ میں اس کو لے لیتا ہے پھر خیرات کرنے والے کے لئے اس نیکی کو بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو کر دیا جاتا ہے جیسے کہ تم میں سے بعض لوگ بچھڑے کی پرورش کرتے ہیں۔ (2) (وہ بڑا ہو جاتا ہے)

یہ آیت بہت ہی جامع آیت ہے، اسی وجہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یہ قرآن کی سب سے زیادہ مستحکم اور جامع آیت ہے، حضرت انس بن مالکؓ کی ایک لمبی روایت آئی ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسی آیت کو ”اَلْاٰیَةُ الْجَامِعَةُ“ فرمایا یعنی منفرد یکتا اور جامع آیت۔ (3)

ایک شخص حسن بصریؒ کے پاس سورۃ الزلزال پڑھتے ہوئے گذرا، جب اس آخری آیت پر پہنچا تو حسن بصریؒ نے فرمایا بس میرے لئے یہی کافی ہے تو نے نعمت کی انتہاء کردی۔ (4)

(1) تفسیر مظہری 12/502 (2) بخاری و مسلم (3) تفسیر مظہری 12/506، تفسیر معارف القرآن 8/802 (4) تفسیر مظہری 12/506


جو تم کرو گے اللہ کے ہاں اس سے بہتر پاؤ گے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللہِ ہُوَ خَیْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا﴾ (مزمل: 20) (تصحیح: کتاب میں دی گئی بقرہ: 273 کی حوالہ کی جگہ درست حوالہ سورۃ المزمل، آیت 20 ہے)

ترجمہ: اور اللہ نے فرمایا: ”اور جو تم اپنے لئے اچھائی آگے بھیجتے ہو اللہ کے ہاں اس سے بہتر صلے میں پاؤ گے۔“

تشریح: اس آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ اپنے پاس مال رکھنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستہ میں اس کو خرچ کر دے جو بھی جتنا بھی خرچ کرے گا وہ اللہ کے علم میں ہوگا اور اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ جل شانہ خود عطاء فرمائیں گے، اس کا اجر و ثواب ضائع ہونے والا نہیں ہوگا۔ (1)

(1) تفسیر مظہری 9/27


Page 298

روضہ الصالحین جلد اول

اللہ کے ولی سے دشمنی اللہ سے دشمنی ہے

(95) ﴿فَالْاَوَّلُ: وَعَنْ اَبِیْ ہُـرَیْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: "اِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ: مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ؛ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ"﴾ (رواہ البخاری)

’’اٰذَنْتُہٗ‘‘: اَعْلَمْتُہٗ بِاَنِّیْ مُحَارِبٌ لَّہٗ ’’اِسْتَعَاذَنِیْ‘‘ رُوِیَ بِالنُّوْنِ وَالْبَاءِ۔

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں، میرا بندہ فرائض سے زیادہ اور کسی محبوب عمل کے ساتھ میرا تقرب حاصل نہیں کرسکتا، میرا بندہ نوافل پڑھ کر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو محبوب سمجھتا ہوں تو میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ حاصل کرے تو میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔“ (بخاری)

اٰذَنْتُہٗ: اس کا معنی ہے میں اس کو بتا دیتا ہوں کہ میری اس سے جنگ ہے۔ اِسْتَعَاذَنِیْ: یہ نون اور باء کے ساتھ ہے۔

لغات:

عَادٰی: عدی عداً سمع سے بمعنی بغض رکھنا۔

وَلِیًّا: ولی ولایۃً سمع سے بمعنی کسی سے محبت کرنا۔

الْحَرْبُ: بمعنی جنگ، لڑائی، کہتے ہیں وقعت بینہم حرب۔ ان کے درمیان لڑائی چھڑ گئی، جمع حروب ہے۔

تشریح: اللہ کے ولی کی دشمنی اللہ سے دشمنی ہے

مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ: جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔


صفحہ 299

روضتہ الصالحین جلد اول

اس کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں جو میرے ولی کو ایذاء دیتا ہے تو اس شخص کی یہ انتہائی قابلِ نفرت حرکت کی وجہ سے میں اس کے ساتھ لڑائی کا اعلان کرتا ہوں یا مطلب یہ ہے کہ جو میرے ولی سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے جب وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے تو میں بھی اس کے خلاف اعلانِ جنگ کروں گا۔ (1) اعلانِ جنگ اللہ جل شانہ کا دو جگہ پر ہوتا ہے ایک یہاں پر دوسرا سود کے بارے میں۔ «فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ» (2) ترجمہ: اس (سود) سے باز نہیں آتے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔ یہ دونوں ہی بہت خطرناک چیزیں ہیں ان دونوں ہی سے دنیا اور آخرت دونوں ہی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔

اللہ کا کان، ہاتھ، پاؤں بن جانے کے پانچ مطلب

«فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ»: میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے۔ اس جملہ کے محدثین متعدد مطالب بیان فرماتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

حافظ ابن تیمیہؒ یہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات کے ذریعہ میں اپنے بندے پر محبت ڈال دیتا ہوں پھر وہ ہر قسم کے شہوات چھوڑ کر اللہ ہی کی محبت کو دل میں غالب کر لیتا ہے پھر وہ بندہ جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو سنتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں سنتا اور اسی طرح جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو دیکھتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھتا۔ (3)

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان فرمایا کہ بندہ عبادت کے ذریعہ سے جب اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے تو اللہ کا نور اس کو گھیر لیتا ہے پھر اسی کی برکت سے اس شخص سے ایسی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں جو خلافِ عادت ہوتی ہیں، اسی وقت میں بندے کے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جیسے کہ قرآن میں بھی اس کی متعدد مثال ملیں گی مثلاً «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ»: اے نبی! ﷺ کنکریاں تم نے نہیں، ہم نے پھینکی تھیں، تو اسی وجہ سے یہاں پر بھی اللہ نے اپنی طرف منسوب کر لیا۔ (4) (Reference: Surah Al-Anfal, Ayat 17)

مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے بندہ کو اللہ سے قرب حاصل ہوتے ہوتے اس درجہ شدید تعلق و محبت ہو جاتی ہے گویا کہ وہ اللہ کی آنکھ و کان اور ہاتھ سے دیکھتا ہے، سنتا اور کرتا ہے، اس جملہ سے بندہ کو اللہ کے ساتھ شدتِ محبت کو بیان کرنا مقصود ہے (معاذ اللہ اتحاد یا حلول ثابت کرنا مقصود نہیں ہے) (5)

شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نوافل کے ذریعہ سے بندے کا اللہ جل شانہ سے قرب ہو جاتا ہے پھر تمام معاملات اس پر منکشف ہونے لگتے ہیں (6)

علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ میں اس بندہ پر ان افعال و اعمال کو آسان کر دیتا ہوں جن کا تعلق ان اعضاء سے ہے اور ان


صفحہ 300

روضتہ الصالحین جلد اول

اعمال و افعال کے کرنے کی توفیق دیتا ہوں یہاں تک کہ گویا اعضاء ہی بن جاتا ہوں۔ تخریج حدیث: بخاری، کتاب الرقاق (باب التواضع) ابن حبان 347۔ نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) مظہر حق جدید 4/486 (2) مرقاۃ 5/52 (3) مرقاۃ 5/5 (4) حجۃ اللہ بالغہ... (5) التعلیق الصبیح 3/63 (6) التعلیق الصبیح 3/63

اللہ کا بندے کے قریب ہونا

(96) «الثَّانِي: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: "إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً"» (رواه البخاري) ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں فرمایا جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھ کے پھیلانے کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میری طرف آہستہ چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔" لغات: «شِبْرًا»: شبر شبراً نصر اور ضرب سے بمعنی بالشت سے ناپنا، الشبر بالشت جمع اشبار۔ «ذِرَاعًا»: الذراع بمعنی کہنی سے لے کر درمیانی انگلی کے سرے تک کا حصہ، جمع اذرع ذرعان۔ «بَاعًا»: الباع دونوں بازوؤں کے پھیلانے کی مقدار جو تقریباً 6 فٹ ہوتی ہے۔ «هرولة»: بمعنی تیز چلنا۔

تشریح: جب بندہ اللہ کے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو اللہ ایک ہاتھ قریب ہوتے ہیں

«إذا تقرب العبد الیَّ شبراً تقربت الیه ذراعاً»: کہ جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے۔ تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں۔ بندہ کا اللہ سے قریب ہونے کا مطلب ہے کہ جب بندہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ معمولی سی عبادت کرتا ہے جتنی کہ ایک بالشت، کم سے کم خیر کی مثال بالشت کے ساتھ دی جاتی ہے تو کہا


صفحہ 301

روضتہ الصالحین جلد اول

جا رہا ہے کہ بندہ تو معمولی سی عبادت کرتا ہے مگر اللہ جل شانہ کی رحمت اس پر ایک ہاتھ کے بقدر مہربان ہوتی ہے، اسی طرح اگر بندہ کچھ زیادہ عبادت کرتا ہے گویا ایک ہاتھ کے برابر تو اللہ اس سے دو گناہ زیادہ قریب ہوتے ہیں یعنی دونوں بازوؤں کے پھیلانے کے بقدر اور جب بندہ اللہ کی طرف آہستہ آہستہ رجوع کرتا ہے اور گناہوں کے چھوڑ کر اللہ جل شانہ کی طرف توجہ کرنے لگتا ہے تو اللہ جل شانہ کی رحمت اس کو دوڑ کر اپنے آغوش میں لے لیتی ہے، کہ شیطان اس کو راستہ میں نہ روک لے۔ (1)

مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا

تخریج حدیث: بخاری کتاب التوحید (باب ذکر النبی ﷺ) آخرجہ امام واحمد فی مسندہ 4/12289۔ نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالک کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) شرح مشکوٰۃ 5/53، وفتح الباری شرح البخاری

صحت اور فراغت ایک عظیم نعمت ہے

(97) «الثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ"» (رواه البخاري) ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو نعمتوں میں اکثر لوگ نقصان میں ہیں (یعنی ان نعمتوں کی موجودگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے عبادت میں مصروف نہیں) ایک نعمت تندرستی اور دوسری نعمت فراغت ہے۔" لغات: «مغبون»: غبن غبناً نصر سے بمعنی خرید و فروخت میں دھوکہ دینا غبن فلان بھاؤ میں کسی کو نقصان پہنچانا، فاعل غابن، مفعول مغبون۔ «الفراغ»: فرغ فراغاً وفروعاً سمع نصر اور فتح سے بمعنی کام پورا کر کے خالی ہونا۔

تشریح: دو نعمتوں کی بہت زیادہ ناقدری کی جاتی ہے

نِعْمَتَانِ: انسان ویسے ہی اللہ کی نعمتوں کا ناقدری رواں ہے مگر یہ دو عظیم نعمتوں کے سلسلہ میں تو بہت ہی زیادہ ناقدری داں ہے، ان میں ایک صحت اور تندرستی کی دولت ہے، یہ نعمت انسان کو کب تک میسر رہے گی؟ اس کا کسی کو پتہ نہیں، بیماری آتی ہے تو بتا کر نہیں آتی پھر آدمی کو حسرت و افسوس ہوتا ہے کہ کاش! صحت کے عالم میں کچھ کر لیتا لیکن اس وقت حسرت و افسوس


صفحہ 302

روضتہ الصالحین جلد اول

کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ بقول شاعر کے

ابھی تو ان کی آہٹ پر میں آنکھیں کھول دیتا ہوں وہ کیسا وقت ہوگا جب نہ ہوگا یہ بھی امکان میں

الفراغ: دوسری نعمت فراغت وقت ہے کہ آج اور ابھی فراغت ہے پھر مشغولیت آ جائے گی پھر آدمی تمنا کرتا ہے مگر پھر وہ کچھ کر نہیں سکتا ہے، جن لوگوں نے وقت کی قدر کر لی وہ دنیا میں بہت کچھ کر کے چلے گئے یہاں وقت کی قدر کرنے والوں کے چند مشہور واقعات لکھے جاتے ہیں جو ماضی قریب ہی میں گزرے ہیں۔

وقت کی قدر کرنے والے اکابر

مولانا یحییٰ کاندھلویؒ، والد ماجد شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خود فرماتے تھے کہ "پانچ ماہ نظام الدین کے حجرے میں میں نے اس طرح گزارے کہ خود مسجد والوں کو معلوم نہ ہوا کہ میں کہاں ہوں چنانچہ اس زمانے میں کاندھلہ سے نکاح طلبی کا تار آیا لوگوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مکتوب الیہ عرصہ سے یہاں نہیں ہے اسی عرصہ میں بخاری، سیرۃ ابن ہشام، طحاوی، ہدایہ، اور فتح القدیر کا بالاستیعاب اس اہتمام سے دیکھیں کہ مجھے خود حیرت ہے۔" (2) علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے بارے میں لکھا ہے۔ کہ ان کی طبیعت کافی خراب چل رہی تھی اسی دوران خبر پھیل گئی کہ شاہ صاحب کا وصال ہو گیا جب کمرے میں جا کر دیکھا تو شاہ صاحب نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکیے پر کتاب رکھی مطالعہ کر رہے ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں، خود فرماتے ہیں کہ "میں نے طالب علمی میں بیس روز میں فتح الباری کی تیرہ جلدیں مکمل دیکھ ڈالی تھیں" اسی طرح فتح القدیر کے بارے میں فرمایا کہ "اس کے مطالعہ میں بھی بیس دن صرف ہوئے صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ مطالعہ کے دوران تلخیص بھی کی"۔ کبھی پشت پر نہیں سوتے تھے جب شدید نیند آتی تو بیٹھے بیٹھے سو لیتے اور جب غنودگی ختم ہو جاتی تو پھر مطالعہ میں مشغول ہو جاتے۔ (5) شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحبؒ کے بارے میں لکھا ہے کثرت مطالعہ، کتب بینی، درس و تدریس وغیرہ کی مشغولیت کی وجہ سے مسلسل ایک ایک ہفتہ قطعاً نہ سوتے تھے، شب و روز کتاب سامنے ہی رہتی، جب حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ رات بارہ بجے کڑکڑاتی سردی میں تشریف لاتے اور مسلسل ایک ہفتہ نہ سونے کی وجہ سے کتاب ہاتھ سے لے کر رکھ دیتے، مولانا اعزاز علی صاحبؒ فرماتے ہیں "کہ شاہ صاحب کے جانے کے بعد چند منٹ تو حضرت شاہ صاحب کے اس کہنے کا جی پر اثر رہا مگر جب برداشت نہ ہو سکا تو کتاب لے کر دوبارہ مطالعہ میں مشغول ہو گیا۔" (6) حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ بازار سے کوئی چیز خریدتے تو پیسوں کی تھیلی دکان دار کے سامنے کر دیتے کہ اس میں سے پیسے نکال لو میں نکالوں گا تو وقت لگے گا اتنی دیر میں: سبحان اللہ: کتنی مرتبہ کہہ لوں گا" ایک مرتبہ وہ پیسوں کی تھیلی کوئی اچکا چھین کر بھاگ گیا، اس کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا فرمایا "اس چکر میں کون پڑے کہ اس کے پیچھے بھاگے اس کو پکڑے بس اللہ اللہ کرو۔" (7)


صفحہ 303

روضتہ الصالحین جلد اول

شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اپنا حال خود لکھتے ہیں کہ "بسا اوقات رات دن میں ڈھائی تین گھنٹے سے زیادہ سونا نصیب نہیں ہوتا تھا اور بلا مبالغہ کئی مرتبہ بلکہ بہت سی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ روٹی کھانا یاد نہیں رہی۔ عصر کے وقت جب ضعف معلوم ہوتا تھا تو اس وقت یاد آتا تھا کہ دوپہر کی روٹی نہیں کھائی رات کا معمول تو اس سے پہلے ہی چھوٹ گیا تھا تئیں پینتیس گھنٹے بغیر روٹی کھائے ہوئے گزر جاتے تھے۔" (8) یہ تو ماضی قریب کے اکابر کا حال ہے اسلاف کا کیا حال ہو گا خود ہی اندازہ لگا لیا جائے۔ تخریج حدیث: بخاری کتاب الرقاق (باب ماجاء فی الرقاق و ان لا عیش الا عیش الاٰخرہ)، ترمذی، وابن ماجہ 4170، وآخرجہ امام احمد فی مسندہ 3207۔ نوٹ: راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (11) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) صید الخاطر 2/3 (2) مقدمہ العلل المتناہیۃ 12 (3) تذکرۃ الحفاظ 4/1344 (4) تذکرۃ الخلیل ص 200 (5) نقشِ دوام... (6) تذکرہ اعزاز 2/107 تا 108 (7) اصلاحی خطبات... وقت کی قدر کریں 63 (8) آپ بیتی...

اللہ تعالیٰ کی حد درجہ شکر گزاری

(98) «الرَّابِعُ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقُلْتُ لَهُ: لِمَ تَصْنَعُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا؟"» (متفق عليه) هذا لفظ البخاري، ونحوه في الصحيحين من رواية المغيرة بن شعبة. ترجمہ: "حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں پھٹنے کے قریب ہو جاتے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کس لئے اس قدر مشقت اٹھاتے ہیں؟ حالانکہ اللہ نے آپ ﷺ کی پہلی اور پچھلی تمام فروگزاشتیں مٹا ڈالیں ہیں، فرمایا کہ کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں۔"


یہ کتاب "روضۃ الصالحین" (جلد اول) کے صفحات 304 سے 308 تک کی نقلِ حرفی ہے۔


صفحہ 304

یہ لفظ بخاری کے ہیں اور اسی طرح کی روایت بخاری و مسلم میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔

لغات: ❖ تنفطر: فطر فطرًا ضرب اور نصر سے بمعنی پھاڑنا۔

تشریح:

آپ ﷺ کی کثرت عبادت ادائے شکر کے لئے تھی

وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ: آپ ﷺ کے پہلی اور پچھلی تمام گناہوں کی مغفرت فرمادی ہے؟

کیا انبیاء علیہم السلام سے بھی گناہ ہوتا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں اس پر علماء کا اتفاق ہے قرآن و حدیث میں جہاں بھی غَفَرَ یا ذَنْب کے الفاظ آتے ہیں اس سے مراد خلافِ اولٰی کام ہوتے ہیں جو انبیاء سے صادر ہوتے ہیں۔ کیونکہ نبوت کے بلند مقام کے اعتبار سے غیر افضل عمل کرنا بھی ایسی لغزش ہے جس کو قرآن و حدیث میں بطور تہدید کے عفو یا ذنب کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی کو کہا گیا ہے: حسنات الابرار سيئات المقربين. عام نیک لوگوں کی نیکیاں، مقربین کے حق میں برائیاں شمار ہوتی ہیں۔ (1)

کیا! میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والا بندہ نہ بنوں۔ یہ عبادت کا اعلیٰ درجہ ہے کہ آدمی عبادت جنت کے انعام کے لئے نہ کرے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ عبادت کرنے والے ہیں: (1) سوداگر کی عبادت: یہ وہ لوگ ہیں جو جنت کی آرزو اور ثواب کی تمنا کے لئے اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ (2) غلاموں کی عبادت: یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب الٰہی اور دوزخ کے خوف سے ڈر کر عبادت کرتے ہیں۔ (3) آزاد لوگوں کی عبادت: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مولیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ادائیگی شکر کے لئے عبادت کرے۔ (2)

تخریج حدیث: بخاری کتاب التهجد (باب قيام النبی ﷺ)، مسلم کتاب المنافقین (باب اکثار الاعمال الاجتهاد فی العبادة)، آخرجه احمد 1822/6، و النسائی 1643، ابن ماجه 1419، مصنف عبدالرزاق، و الحمیدی 759، وابن حبان 311، وابن خزیمة 1182، والبيهقى 16/3۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عائشہؓ کے حالات حدیث نمبر (2) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) تفسیر معارف القرآن 66/8 (2) مظاہر حق جدید 9/1


صفحہ 305

آخری عشرہ کی عبادت کی اہمیت

(99) ❖ الْخَامِسُ: وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: "كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ" ❖ (متفق عليه) والمُرَاد: العَشْرُ الأوَاخِرُ من شَهْرِ رَمَضَانَ. "وَ الْمِئْزَرُ": الإِزَارُ، وَهُوَ كِنَايَةٌ عَنِ اعْتِزَالِ النِّسَاءِ، وَقِيْلَ: الْمُرَادُ تَشْمِيْرُهُ لِلْعِبَادَةِ. يُقَالُ: شَدَدْتُ لِهَذَا الْأَمْرِ مِئْزَرِيْ، أَيْ: تَشَمَّرْتُ وَتَفَرَّغْتُ لَهُ.

ترجمہ: حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں رات کو بیدار رہتے اور اہل خانہ کو بھی بیدار فرماتے اور کوشش کے ساتھ عبادت میں مشغولیت رکھتے اور کمر ہمت باندھ لیتے۔ الْعَشْرُ الأوَاخِرُ: سے مراد رمضان کے آخری دس دن ہیں، مِئْزَر: ازار کے معنی میں ہے یعنی تہہ بند یا پاجامہ، یہاں کنایہ ہے اس بات سے کہ آپ ﷺ بیویوں سے کنارہ کشی اختیار فرمالیتے، اور بعض کے نزدیک اس سے مراد عبادت کے لئے مستعد اور تیار ہونا ہے، کہا جاتا ہے کہ "میں نے اس کام کے لئے منذر کس لیا ہے" یعنی اس کے لئے میں نے اپنے آپ کو تیار اور فارغ کرلیا ہے۔

لغات: ❖ جَدَّ: جد جدًا ضرب اور نصر سے بمعنی کوشش کرنا، اہتمام کرنا۔ ❖ الْمِئْزَر: المنزر و المنزرة تہبند جمع مآزر کہا جاتا ہے شدّ للامر منزرةً کسی کام کے لئے مستعد و تیار ہونا۔

تشریح: "اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ": آخری عشرہ داخل ہوتا، مگر مراد رمضان کا آخری عشرہ ہے جو 20 ویں رمضان سے 30 رمضان تک ہوتا ہے۔

عشرہ آخر رمضان میں آپ ﷺ اپنی کمر کس لیتے تھے

وَشَدَّ الْمِئْزَرَ: "تہبند کو کس لیتے تھے" اس کے دو مطلب علامہ نوویؒ نے بیان فرمائے ہیں: پہلا مطلب یہ ہے کہ یہ کنایہ ہوتا ہے "تحذر عن الجماع" سے کہ آخری عشرہ رمضان میں آپ ﷺ اپنی بیویوں کے پاس تشریف نہیں لیجاتے تھے۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کنایہ ہے عبادت کے لئے مستعد اور تیار ہونے سے، اردو میں بھی کہا جاتا ہے کہ "میں نے اب اس کام کے لئے اپنی کمر کس لی ہے" یعنی اب میں پوری طرح اس کام کے لئے تیار ہو گیا ہوں۔ (1) یہ تہبند کو کسنا یہ شب قدر کی تلاش میں ہوتا تھا۔ جو اس امت کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور سے عطاء فرمائی ہے جو ایک رات۔ ایک ہزار رات سے افضل ہے: "ليلة القدر خير من الف شهر": کہ لیلة القدر ایک ہزار ماہ کی عبادت سے افضل ہے۔


صفحہ 306

تخریج حدیث: بخاری کتاب صلوة التراويح (باب العمل فى العشرالاوآخر من رمضان)، مسلم کتاب الاعتکاف (باب اعتكاف العشر الاوآخر من رمضان) احمد في مسنده، و ابوداؤد، و النسائی 1638، و ابن ماجه، وابن حبان، و البيهقى 313/4۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالات حدیث نمبر (2) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) روضة المتقین 41/1


ہر حال میں تقدیر الٰہی پر راضی رہنا چاہئے

(100) ❖ السَّادِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ. اِحْرِصْ عَلَىٰ مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجِزْ. وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللّٰهِ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ" ❖ (رواه مسلم)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاقتور ایماندار کمزور ایماندار سے بہتر ہے اور اللہ کا زیادہ محبوب ہوتا ہے البتہ دونوں میں بھلائی موجود ہے، فائدہ مند چیز کا لالچ کرو اور اللہ سے مدد مانگو کمزوری کا اظہار نہ کرو، اگر تجھے کوئی پریشانی لاحق ہوجائے تو یوں نہ کہو اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہوجاتا البتہ یوں کہو تقدیر میں یوں ہی تھا اللہ نے جو چاہا کیا، اس لئے کہ اگر کا لفظ شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے۔"

لغات: ❖ حرص: حرص حرصًا سمع سے بمعنی حرص کرنا، لالچ کرنا۔ ❖ تعجز: عجز عجزًا و عجوزًا ضرب اور سمع سے بمعنی عاجز ہونا۔

تشریح:

قوی مؤمن ضعیف مؤمن سے بہتر ہے

الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ: طاقتور ایماندار کمزور ایماندار سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور مؤمن ادائے عبادات اور قیام فرائض و سنن اور جہاد وغیرہ میں کمزور مؤمن سے زیادہ مستعد ہوتا ہے۔ (1) بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ مؤمن قوی لوگوں کے اختلاط کے وقت ان کے ایذاء وغیرہ پر زیادہ صبر کرنے والا ہوتا ہے۔ (2)


صفحہ 307

وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ: قوی اور ضعیف مؤمن دونوں میں بھلائی ہے کہ اصل ایمان کی دولت میں دونوں شریک ہیں۔ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ: اللہ ہی سے مدد مانگو۔ کوئی بھی مسئلہ ہو آدمی کو چاہئے کہ اللہ پر ہی اعتماد و توکل کرے اور اسی کی طرف متوجہ ہو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا اس پریشانی وغیرہ کو دور نہیں کرسکتا۔

لفظ "اگر" شیطان کا دروازہ کھولتا ہے

وان اصابک شی فلا تقل لو انی فعلت کان کذا و کذا: اگر کوئی پریشانی ہو تو یہ مت کہہ کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ایسا ہوجاتا۔ بلکہ ایسا کہو کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا

خدا کے فیصلے سے کیوں ہو ناراض جہنم کی طرف کیوں چل رہے ہو

ہر موقع پر انسان تقدیر پر ایمان رکھے جب بھی اس کو کوئی پریشانی ہو یا کسی قسم کی کوئی بھی بات ہو تو فوراً یہ کہے کہ میری تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا۔ یہ نہ کہے کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ہوجاتا۔ ہر موقع پر صبر و تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرے اگر مگر نہ کرے، اس سے شیطان کو گمراہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے مثلاً بچے کا انتقال ہو گیا اگر وہ یہ کہتا ہے کہ "اگر میں بچے کو فلاں ہسپتال میں لے جاتا تو بچہ نہ مرتا۔"

تخریج حدیث: مسلم کتاب القدر (باب في الامر بالقوة وترك العجز والاستعانة بالله تفويض المقادير الى الله) آخرجه امام احمد فی مسنده 8799/7، ابن ماجه۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) روضة المتقین 42/1 (2) دلیل الفالحین 310/1


جنت اور دوزخ کو خواہشات اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے

(101) ❖ السَّابِعُ: وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ" ❖ (متفق عليه) وفي رواية لمسلم: "حُفَّتْ" بَدَلَ "حُجِبَتْ" وَهُوَ بِمَعْنَاهُ، أَيْ: بَيْنَهُ وَ بَيْنَهَا هَذَا الْحِجَابُ، فَإِذَا فَعَلَهُ دَخَلَهَا.

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخ شہوات کے ساتھ محجوب ہے اور جنت کو مشکلات کے ساتھ محجوب کر دیا گیا ہے۔" اور مسلم کی ایک روایت میں "حجبت" کی جگہ "حفت" ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں، مطلب یہ ہے کہ انسان کے درمیان اور جنت اور دوزخ کے درمیان پردہ ہے جب وہ اس کو اختیار کر لیتا ہے تو اس میں داخل ہو جاتا ہے۔"


صفحہ 308

لغات: ❖ حجبت: حجب حجبًا و حجابًا نصر سے بمعنی چھپانا، پردہ کرنا۔ ❖ الشهوات: جمع ہے شہوة کی بمعنی خواہش، شہوت، بھوک۔ ❖ المكاره: جمع ہے المکرہ کی بمعنی ناپسندیدہ، مکروہ۔

تشریح:

جنت اور دوزخ کو خواہشات اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے

حجبت النار بالشهوات...... الخ: دوزخ شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ انسان اور جہنم کے درمیان انسانی شہوات اور لذات رکاوٹ ہیں جب انسان شہوتوں اور لذتوں میں پھنس جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس نے اس رکاوٹ کو ہٹا دیا اور وہ اب جہنم میں پہنچ جائے گا۔ اسی طرح جنت کا حال ہے کہ جنت اور انسان کے درمیان احکامِ خداوندی کی اتباع، نفس کی خواہشات سے اجتناب وغیرہ یہ آڑ اور رکاوٹ ہیں جب انسان اس کو برداشت کر لیتا ہے تو گویا اس نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا اور جنت میں جانے کا مستحق قرار پائے گا۔ (1)

بہر غفلت یہ تیری ہستی نہیں دیکھ جنت اس قدر سستی نہیں

شهوات: علماء نے لکھا ہے شہوات سے مراد نفس کی وہ لذات ہیں جس کو شریعت نے حرام کیا ہے مثلاً زنا، شراب نوشی، غیبت وغیرہ۔ نفس کی وہ شہوات جو حرام نہیں ہے بلکہ مباح ہے تو وہ جہنم لے جانے کا باعث نہیں ہوتی اگر چہ یہ نفس کی مباح خواہشات ولذات کی اتباع آدمی کو اللہ کے قرب اور ولایت کے مقام سے دور کر دیتی ہے۔ (2)

تخریج حدیث: بخاری کتاب الرقاق (باب حجبت النار بالشهوات) ومسلم کتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها آخرجه امام احمد فی مسنده 12560/4، و دارمی 33/2، ابن حبان 718۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) فتح الباری شرح بخاری۔ ومرقاة شرح مشکوة (2) مظاہر حق جدید 624/4


ایک رکعت میں کئی سورتوں کو پڑھ سکتے ہیں

(102) ❖ الثَّامِنُ: وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللّٰهِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ، ثُمَّ مَضَىٰ؛ فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ، فَمَضَىٰ؛ فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا، ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا، يَقْرَأُ ...