(32) وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِيْ جَزَآءٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهٗ اِلَّا الْجَنَّةُ. (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں میرے پاس مؤمن انسان کے لئے جب میں اس کی دنیوی محبوب چیز کو چھین لوں اور وہ صبر کرے، سوائے جنت کے کوئی بدلہ نہیں۔“
لغات:
جَزَآءٌ: جَزَی، جَزَاءً ضرب سے بمعنی کسی کو بدلہ دینا۔
قَبَضْتُ: قَبَضَ، قَبْضًا ضرب سے بمعنی کسی چیز کو پکڑنا۔ باز رہنا۔ روکنا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: (اَللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْسُۜطُ) اللہ کسی کو تنگی دیتا ہے اور کسی کو خوشحال کرتا ہے۔
156 روضۃ الصالحین جلد اول
صَفِيَّهٗ: ”الصَّفِيُّ“ بمعنی مخلص دوست جمع: اَصْفِيَاء مُؤنث صَفِيَّة و صَفِيَّة ہر خالص چیز۔
تشریح:يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اس کو حدیث قدسی کہتے ہیں۔اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ: ”صفی“ اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کو بے حد محبوب ہو خواہ وہ اولاد ہو یا والدین ہوں یا بیوی وغیرہ ہو، ان کے انتقال کے وقت اللہ کا حکم سمجھ کر صبر کرنا یہ کمال ایمان کی علامت ہوگی کیونکہ اس نے اپنے جذبات پر اللہ کے حکم کو مقدم کیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے اور ایسے موقع پر جزع فزع کرنا یہ کمزور ایمان کی علامت ہوگی۔ (2)
بچہ مرنے پر صبر کرے تو اللہ اس کو جنت عطا فرمائیں گے
ثُمَّ احْتَسَبَهٗ: یہ حِسْبَان سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں سمجھنا، گمان کرنا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی دشوار اور بامشقت کام کو اجر و ثواب کا موجب سمجھ کر اختیار کرنا ہی صبر عند اللہ مطلوب و مقصود ہے۔ (3)بعض علماء نے لکھا ہے جب اللہ کسی کے محبوب کی روح کو قبض کرلے پھر وہ اس پر صبر کرے تو اس صبر کی وجہ سے اس کا اللہ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ جل شانہ اس بندے کو جنت دیئے بغیر راضی اور خوش نہیں ہوں گے۔ جب آدمی کو اس قسم کا کوئی صدمہ پہنچے تو اس کریمانہ وعدہ کو یاد کرکے صبر کرے تو انشاء اللہ العزیز اس صبر میں اس کو ایک لذت اور حلاوت ملے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً جنت بھی عطا ہوگی۔ (4)
تخریج حدیث: اَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ الْعَمَلِ الَّذِيْ يَبْتَغِيْ بِهٖ وَجْهَ اللّٰهِ تَعَالٰی
نوٹ: راوی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) اس کی پوری وضاحت حدیث نمبر 11 میں گزر چکی ہے۔(2) نزهة المتقین 55/1(3) تحفة العابدین(4) معارف الحدیث 301/2
صبر پر شہادت کا ثواب
(33) ﴾ وَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللّٰهُ تَعَالَى رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ ﴿ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
صفحہ 157
ترجمہ: "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے ان کو بتایا طاعون عذاب الٰہی تھا جن لوگوں پر چاہتا تھا مسلط کر دیتا تھا اب اللہ نے اس کو ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے پس جو مومن انسان طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے وہ صبر اور طلبِ ثواب کی نیت سے اپنے شہر میں ہی رہے اس بات پر یقین کر لے کہ اللہ نے جو لکھ دیا ہے وہ پہنچ کر رہے گا تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔"
لغات: ❖ الطاعون: بمعنی طاعون کی بیماری، پلیگ، وبا کی موت جمع: طواعین۔❖ یقع: وقع وقوعاً فتح سے بمعنی واقع ہونا۔ داخل ہونا۔❖ فیمکث: مکثاً و مکثاً نصر سے بمعنی ٹھہرنا۔❖ بلد: الْبَلَدُ وَالْبَلْدَةُ کوئی جگہ آباد ہو یا غیر آباد۔ شہر۔ جمع: بلاد. بلدان جدید لغت میں بلدیہ: میونسپلٹی۔
تشریح: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئینبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عہد میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی۔
طاعون شیرویہ 6ھ میں آیا۔
طاعون عمواس 17ھ، 18ھ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شام کے علاقہ رملہ اور بیت المقدس کے درمیان کی بستی میں آیا اس میں تقریباً 25 ہزار اموات واقع ہوئیں۔
50ھ میں کوفہ میں آیا۔ اس طاعون میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا۔
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں 67ھ میں آیا اس کو طاعون جارف کہتے ہیں اس میں تین دن میں دو لاکھ دس ہزار اموات ہوئیں۔
طاعون فتیات عبدالملک بن مروان کے دور 87ھ میں آیا اس کو طاعون فتیات اس لئے کہتے ہیں کہ اس طاعون کی ابتداء جوان لڑکیوں سے ہوئی۔
100ھ میں عدی بن ارطاۃ میں آیا۔
فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا.کوئی بندہ نہیں جو طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر کرتا ہو طلبِ ثواب کی نیت سے۔ طاعون یا اس قسم کی وبائی بیماری میں اللہ کی ذات پر اعتماد کرے اور تقدیر پر راضی رہے کہ جو حالات بھی آئیں گے وہ میری تقدیر کے مطابق ہی آئیں گے میرے یہاں سے بھاگنے سے میرے حالات تبدیل نہیں ہوں گے اور اس صورت میں جزع فزع اور
صفحہ 158
ناشکری کا اظہار بھی نہ کرے۔ اس صورت میں اگر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو جائے گا۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ وبائی بیماری دوسری جگہ نہ پھیلے۔ (1)یہی حکم دوسرے شہر کے لوگوں کے لئے بھی ہے کہ وہ طاعون زدہ شہر میں جانے سے اجتناب کریں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب طاعون آیا تو وہ بھی اس جگہ تشریف نہیں لے گئے۔
کیا وبائی بیماری منتقل ہوتی ہے؟
اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسے کہ قرآن مجید میں آتا ہے:لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ(Reference: Surah At-Tawbah, Ayat 51)
ہرگز ہرگز نہیں آئے گی ہم پر کوئی مصیبت بجز اس کے جو اللہ جل شانہ نے لکھ دی ہے اور اللہ پر ہی بھروسہ کرنا ہے ایمان والوں کو۔ اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد ہے:لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ فِي الْإِسْلَامِ نہ اسلام میں بیماری لگنے کی حقیقت ہے اور نہ بدشگونی ہے۔
اگر بیماری منتقل نہیں ہوتی تو وہاں سے نکلنے سے کیوں منع کیا گیا؟
یہ منع صرف اس لئے کیا گیا کہ کچے ایمان والے کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے کہ میں فلاں جگہ چلا گیا تھا اس لئے یہ بیماری لگ گئی۔ آپ ﷺ نے ایک جذامی آدمی کے ساتھ کھانا کھایا اس بات کو بتانے کے لئے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوگا۔
تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب الطب (باب اجر الصابر فى الطاعون) و رواه احمد في مسنده 25267/9۔
نوٹ: راویہ حدیث حضرت عائشہؓ کے حالات حدیث نمبر (2) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) دلیل الفالحین
بینائی کے عوض جنت
(34) ﴾ وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُولُ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ، يُرِيْدُ عَيْنَيْهِ ﴿ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)
ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی جاتی رہے) اس پر وہ صبر کرے ان کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔“
صفحہ 159
لغات: ❖ ابتلیت: ابتلیٰ، ابتلاء بمعنی آزمانا۔ قسم کھلانا۔❖ حبیب: بمعنی محب۔ محبوب❖ عوضتہ: عاض عوضاً نصر سے بمعنی بدلہ دینا۔
تشریح:
نابینا کو جنت کی خوشخبری
إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ.ترجمہ: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی ختم کر دوں) اس پر وہ صبر کرے تو اس کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔ اس حدیث سے ایک نابینا صابر شاکر شخص کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص بڑے احترام کا مستحق ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ بے اعتنائی کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔ (1)نابینا کو یہ فضیلت اس لئے دی گئی کہ وہ دنیائے فانی سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس پر اللہ کی طرف سے اس کو یہ انعام دیا جا رہا ہے کہ یہ شخص اپنے تقدیر پر راضی ہوگا تو اب دنیائے فانی کے نفع کے عوض میں اس کو جنت کے ہمیشہ کے نفع سے نوازا جائے گا۔ (2)آنکھوں کی بینائی پر یہ فضیلت خاص کیوں ہے؟ سب سے اہم عضو انسان کا آنکھ ہی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یہ فضیلت دی گئی۔ آنکھوں کا نہ ہونا دنیا میں سب سے بڑی محرومی ہے۔ اللہ جل شانہ جزا بھی بقدر مشقت عطا فرماتے ہیں اس لئے اس بڑی محرومی کی جزا جنت کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ (3)
ہر اک مصیبت کی تہہ میں چھپی رہتی ہے راحت بھیشب تاریک کے دامن سے ہوتی ہے سحر پیدا
تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب المرضى (باب فضل من ذهب بصره) ورواه الامام احمد في مسنده 14023/4، ترمذى، البيهقي 375/3۔
نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالک کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) تحفۃ العابدین 115(2) نزھۃ المتقین 56/1(3) دلیل الفالحین 167/1، نزھۃ المتقین 56/1
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے
وَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا اَلَا اُرِيْكَ امْرَاَةً مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ هَذِهِ الْمَرْاَةُ السَّوْدَاءُ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَتْ: اِنِّي اُصْرَعُ وَاِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ تَعَالٰى لِيْ قَالَ: اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَ لَكِ الْجَنَّةُ وَ اِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰهَ تَعَالٰى اَنْ يُعَافِيَكِ فَقَالَتْ: اَصْبِرُ فَقَالَتْ: اِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا ﴿(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)﴾
ترجمہ: ”حضرت عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کیا میں تجھے جنت کی حقدار عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا ضرور دکھائیے، اس نے کہا یہ سیاہ فام عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر کہنے لگی مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میری شرمگاہ سے کپڑا ہٹ جاتا ہے میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے تیری صحت کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں لیکن میرے لئے دعا فرمائیں کہ بے پردگی نہ ہو، آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔“
لغات: ❖ اُصْرَعُ: صَرْعًا و صَرْعًا فتح سے بمعنی زمین پر گرا دینا۔ صُرِعَ بمعنی مرگی کی بیماری والا ہونا۔ جدید لغت میں صراعة: کُشتی مَصْرَع: اکھاڑا مُصَارِع: پہلوان۔❖ اَتَكَشَّفُ: كَشْفُ كَشْفًا ضرب سے بمعنی ظاہر کرنا۔ کھولنا۔ کہا جاتا ہے کشف اللہ غمہ اللہ اس کے غم کو زائل کرے۔ جدید لغت میں كَشَاف: اسکاؤٹ۔❖ يُعَافِك: اَعْفَى معافاة و عفاءً و عافيةً بمعنی صحت دینا، بلا اور برائی سے بچانا۔
تشریح: اِمْرَاَةً مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ اس عورت کا نام سعیرہ اور اس کی کنیت ام زفر تھی۔ (1)
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے
اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَ لَكِ الْجَنَّةُ اگر صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے۔اس سیاہ فام عورت نے دنیا کی چند روزہ تکلیف برداشت کر کے اس کے عوض جنت کو حاصل کر لیا یعنی فانی بیماری کے عوض ابدی مقام قرب و رضا الٰہی کو حاصل کر لیا اور اپنی تقدیر پر راضی ہو گئی:
خدا کے فیصلے سے کیوں ہو ناراضجہنم کی طرف کیوں چل رہے ہو
بیماری کے لئے دعا کرانا جائز ہے
فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ میرے لئے دعا فرما دیں کہ بے پردگی نہ ہو۔بے ہوشی کی حالت میں بے اختیار بدن کا کھل جانا یہ نہ گناہ ہے اور نہ ہی معصیت مگر اس عورت کا دعا کروانا ایک فطری حیا و شرم کی وجہ سے تھا۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی میں ہمت ہو تو وہ رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرے تو یہ قرب الٰہی کا زیادہ ذریعہ بنتا ہے جیسے کہ اس عورت نے رخصت کے مقابلے میں عزیمت کو ترجیح دی۔ (2)نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح بیماری کا علاج دوا کے ساتھ کروانا جائز ہے اسی طرح کسی اللہ والے سے دعا کروانا بھی جائز ہے۔ (3)
تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب المرضى (باب فضل من يصرع من الريح) وصحيح مسلم كتاب البر (باب ثواب المؤمن فيما يصيبه)
راوی حدیث حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات:نام: عطاء، کنیت: ابومحمد، والد کا نام: اسلم اور ان کی کنیت: ابورباح تھی، تابعی ہیں حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئے۔قرآن و حدیث کے حافظ تھے اور اپنے زمانے کے بڑے مفتی تھے۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں عطاءؒ فقہ، علم و ورع اور فضل و کمال کے لحاظ سے سادات تابعین میں سے تھے حجتہ اللہ اور کبیر الشان تھے۔ (تہذیب التہذیب 3/7)علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ عطاءؒ مکہ کے مفتی اور مشہور امام تھے بڑے بڑے ائمہ ان کے علمی کمالات کے معترف تھے۔ (تہذیب الاسماء)مناسک حج کے بھی بڑے عالم تھے: امام باقر فرماتے ہیں کہ عطاءؒ سے زیادہ مناسک حج کا کوئی جاننے والا باقی نہیں ہے۔ (طبقات ابن سعد 345/5)علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کو مناسک حج بتائے۔ (طبقات ابن سعد 345/5)قوت ایمانی: عبدالرحمنؒ فرماتے ہیں کہ سارے مکہ والوں کا ایمان مل کر بھی عطاءؒ کے ایمان کے برابر نہیں تھا۔ (تہذیب التہذیب 203/7)حدیث پر عمل کرنے کا بہت زیادہ ذوق تھا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ تابعین میں سے کوئی بھی عطاءؒ سے زیادہ متبع حدیث نہیں تھا۔ (تہذیب الاسماء 333/1)انہوں نے صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت سے حدیث یاد کی اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے (تہذیب التہذیب 199/7)امام باقر رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو فرماتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے عطاءؒ سے حدیث یاد کرلو۔ (تہذیب الاسماء 334)
(1) فتح الباری(2) نزهة المتقين 57/1(3) نزهة المتقين 57/1، روضة المتقين 78/1
نبی کا بے انتہا صبر
وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانِّى اَنْظُرُ اِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَحْكِيْ نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَ سَلَامُہٗ عَلَيْهِمْ ضَرَبَهٗ قَوْمُهٗ فَاَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهٖ وَ هُوَ يَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
روضہ الصالحین جلد اول
صفحہ 162
ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے ایک پیغمبر کے بارے میں فرما رہے تھے کہ اس کو قوم نے اس قدر مارا کہ اس کو لہولہان کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا اے اللہ میری قوم کو معاف فرما یہ جانتے نہیں ہیں۔"
لغات:❖ أنظر: نَظَرَ وَ نَظْرً و مَنْظَرًا نصر سے اور سمع سے بمعنی دیکھنا غور سے دیکھنا۔❖ يحكى: حَكٰى حِکَايَةً ضرب سے بمعنی کسی سے کلام نقل کرنا۔ بیان کرنا۔❖ يمسح: مَسَحَ مَسْحًا فتح سے بمعنی پونچھنا۔ جدید لغت میں ممسحة: پیمائش کا فیتہ، پائدان۔
تشریح: يَحْکِیْ نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ آپ ﷺ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک پیغمبر کے بارے میں فرما رہے تھے۔
اس نبی سے کون سے نبی مراد ہیں؟مجاہد اور عبید بن عمیر لیثیؒ نے کہا کہ اس سے مراد حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ مگر اکثر محدثین نے کہا کہ اس سے مراد خود جناب رسول اللہ ﷺ تھے۔ (1)
وَ هُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِہٖ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا۔ اگر مراد نوح علیہ السلام ہیں تو ان کی قوم بھی ان کو بہت مارتی تھی جس سے ان کے چہرے کا خون نکلتا تھا اور اگر مراد آپ ﷺ ہیں تو اس سے مراد اکثر محدثین کے نزدیک غزوہ اُحد کا دن ہے جس دن میں آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود گھس گئی جس سے خون نکلا اور اسی روز آپ ﷺ کا دانت مبارک بھی ٹوٹا تھا۔ (2)
اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ کس نبی کی دعا ہے؟سوال: اگر مراد نوح علیہ السلام ہیں تو یہاں پر یہ دعا منقول ہے کہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ اس کے خلاف قرآن میں تو نوح علیہ السلام کی طرف سے قوم کو بد دعا منقول ہے لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِينَ دَيَّارًا۔جواب: ابتداء میں نوح علیہ السلام دعا کرتے رہے اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ کے ساتھ مگر جب آخر میں اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ ان چند لوگوں کے علاوہ جو آپ پر ایمان لا چکے ہیں کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو اس کے بعد آپ علیہ السلام نے ان کو لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ کے ذریعہ سے بد دعا دی۔ (3)
داعیانِ تبلیغ کے لئے ایک سبقاس واقعہ سے دین کا کام کرنے والوں کے لئے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ داعیانِ تبلیغ کو جب تبلیغ و دعوت کی راہ میں
صفحہ 163
تکلیفیں آئیں تو اس کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ انتقام کے جذبہ کے بجائے عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے ان لوگوں کے بارے میں معافی اور ہدایت کی دعا بھی کرتے رہنا چاہئے۔ (4)
تخریج حدیث: اخرجہ البخاری کتاب الانبیاء (باب ما ذکر عن بنی اسرائیل و کتاب المرتدین) مسلم کتاب الجہاد (باب غزوۃ احد) رواہ احمد فی مسندہ 2 / 3611، و ابن ماجہ، و ابن حبان 6576۔
راویِ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات:نام: عبداللہ، کنیت: ابو عبدالرحمن، والد کا نام: مسعود، والدہ کا نام: اُمِّ عبدتھااسد الغابہ میں ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ لکھا ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں عبداللہ بن مسعودؓ بکریاں چرا رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے دودھ مانگا، انہوں نے کہا یہ بکریاں امانت ہیں اس لئے میں نہیں دے سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی بکری ایسی ہے جس نے بچے نہ دیئے ہوں؟ عرض کیا ہاں، انہوں نے وہ بکری پیش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تو اس کے تھن میں دودھ بھر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابوبکرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ، تینوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔ اس معجزے کے بعد وہ مسلمان ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ خدمت میں رہے تھے۔ (اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن مسعودؓ جلد 2)جب یہ ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی کے متصل ایک قطعہ زمین کا عطا فرمایا۔ (طبقات ابن سعد/ تذکرہ عبداللہ بن مسعودؓ جلد 3)تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے۔ 20ھ میں کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے اور دس سال تک وہاں کے قاضی رہے۔ ان کے خصوصی اوصاف میں لکھا ہے کہ ان کو علم کا شوق انتہا درجہ کا تھا، اور قرآن مجید کی تفسیر کے ماہر بھی تھے، قرأت میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے قرآن سنا اور روایت بیان کرنے میں بہت زیادہ احتیاط کرتے اور اپنے زمانے میں فقہ کے بھی ماہر تھے۔ ان کی خوبیوں کی بناء پر ایک بڑا مجمع ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا بلکہ بقول شقیقؓ کے ہم لوگ مسجد میں بیٹھ کر عبداللہ بن مسعودؓ کے مکان سے نکلنے کا انتظار کرتے تھے۔ (مسند احمد 1 / 377)وفات: 32ھ میں 60 سال سے کچھ زیادہ عمر پا کر داعیِ اجل کو لبیک کہا نمازِ جنازہ حضرت عثمان غنیؓ نے پڑھائی اور عثمان بن مظعونؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ (طبقات ابن سعد 1 / 113)مرویات: ان کی روایات کی تعداد 848 ہے ان میں سے 64 بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں 21 بخاری میں اور 35 مسلم میں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ (تہذیب الکمال 234)
مسلمان کی معمولی تکلیف سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں
(37) ﴿ وَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَّ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَّصَبٍ وَّ لَا وَصَبٍ وَّ لَا هَمٍّ وَّ لَا حَزَنٍ وَّ لَا اَذًى وَّ لَا غَمٍّ حَتّٰى الشَّوْکَةِ یُشَاکُهَا... ﴾
صفحہ 164
إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ).وَ الْوَصَبُ: الْمَرَضُ.
ترجمہ: "حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو تھکان، بیماری، غم، تکلیف اور کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ الوصب کے معنی بیماری کے ہیں۔"
لغات:❖ نصب: نصب، نصبا ضرب اور فتح سے بمعنی تھکانا اور نصب نصبا سمع سے بمعنی تھکنا۔❖ وَصَب: يُوْصَبُ وَصْبًا بمعنی بیمار ہونا۔ صفت وصِب جمع: وصابی و صاب۔❖ هَمّ: هَمَّ هَمًّا نصر سے بمعنی بے چین کرنا۔ غمگین کرنا۔ جمع: هموم۔❖ حزن: حَزَنَ حُزْنًا نصر سے بمعنی آزردہ خاطر کرنا سمع سے حَزَنَ یحزن اور حُزُونَةً کرم سے بمعنی سخت ہونا۔❖ أذی: أذِیَ أذًی و إذَاةً سمع سے بمعنی تکلیف و اذیت پانا۔❖ الشوكة: واحد شوكة جمع اشواک بمعنی کانٹا۔
تشریح: کانٹا لگنے سے بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں"حَتّٰى الشَّوْکَةِ یُشَاکُهَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ" یہاں تک کہ کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی آدمی کو کسی قسم کی کوئی راحت یا تکلیف پہنچے تو اس کا ذہن فوراً اللہ جل شانہ کی طرف جائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اگر کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس پر صبر کرے اور اگر وہ صبر کے بجائے جزع و فزع اور تقدیر الہی کا شکوہ کرے تو ایک تو دنیاوی تکلیف ہو گی اس کے ساتھ ساتھ آخرت کے اجر و ثواب سے محروم ہو جائے گا بلکہ صرف یہی نہیں کہ آخرت کا اجر نہیں ہو گا بلکہ آخرت کے لئے یہ عمل وبال بن جائے گا۔ (1)
مصیبت نام ہے اہل وفا کی آزمائش کااسی میں آدمی کا حوصلہ معلوم ہوتا ہے
تخریج حدیث: اخرجہ البخاری کتاب المرضیٰ (باب ما جاء فی کفارة المرضی) و قول اللہ تعالیٰ من يعمل سوءا يجز بہ۔ مسلم کتاب البر (باب ثواب المؤمن فيما يصيبہ من مرض او حزن او نحو ذلك حتى الشوکة يشاكها۔ رواہ امام احمد فی مسندہ 3 / 8432، ابن حبان 2905، والبيهقی 3 / 273۔