صبر کا بیان

(32) وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِيْ جَزَآءٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ مِنْ اَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهٗ اِلَّا الْجَنَّةُ. (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں میرے پاس مؤمن انسان کے لئے جب میں اس کی دنیوی محبوب چیز کو چھین لوں اور وہ صبر کرے، سوائے جنت کے کوئی بدلہ نہیں۔“

لغات:

جَزَآءٌ: جَزَی، جَزَاءً ضرب سے بمعنی کسی کو بدلہ دینا۔

قَبَضْتُ: قَبَضَ، قَبْضًا ضرب سے بمعنی کسی چیز کو پکڑنا۔ باز رہنا۔ روکنا۔ اللہ تعالیٰ کا قول ہے: (اَللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْسُۜطُ) اللہ کسی کو تنگی دیتا ہے اور کسی کو خوشحال کرتا ہے۔


156 روضۃ الصالحین جلد اول

صَفِيَّهٗ: ”الصَّفِيُّ“ بمعنی مخلص دوست جمع: اَصْفِيَاء مُؤنث صَفِيَّة و صَفِيَّة ہر خالص چیز۔

تشریح: يَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اس کو حدیث قدسی کہتے ہیں۔ اِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهٗ: ”صفی“ اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کو بے حد محبوب ہو خواہ وہ اولاد ہو یا والدین ہوں یا بیوی وغیرہ ہو، ان کے انتقال کے وقت اللہ کا حکم سمجھ کر صبر کرنا یہ کمال ایمان کی علامت ہوگی کیونکہ اس نے اپنے جذبات پر اللہ کے حکم کو مقدم کیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے جنت کی خوشخبری ہے اور ایسے موقع پر جزع فزع کرنا یہ کمزور ایمان کی علامت ہوگی۔ (2)

بچہ مرنے پر صبر کرے تو اللہ اس کو جنت عطا فرمائیں گے

ثُمَّ احْتَسَبَهٗ: یہ حِسْبَان سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں سمجھنا، گمان کرنا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی دشوار اور بامشقت کام کو اجر و ثواب کا موجب سمجھ کر اختیار کرنا ہی صبر عند اللہ مطلوب و مقصود ہے۔ (3) بعض علماء نے لکھا ہے جب اللہ کسی کے محبوب کی روح کو قبض کرلے پھر وہ اس پر صبر کرے تو اس صبر کی وجہ سے اس کا اللہ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ اللہ جل شانہ اس بندے کو جنت دیئے بغیر راضی اور خوش نہیں ہوں گے۔ جب آدمی کو اس قسم کا کوئی صدمہ پہنچے تو اس کریمانہ وعدہ کو یاد کرکے صبر کرے تو انشاء اللہ العزیز اس صبر میں اس کو ایک لذت اور حلاوت ملے گی اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً جنت بھی عطا ہوگی۔ (4)

تخریج حدیث: اَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ الْعَمَلِ الَّذِيْ يَبْتَغِيْ بِهٖ وَجْهَ اللّٰهِ تَعَالٰی

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) اس کی پوری وضاحت حدیث نمبر 11 میں گزر چکی ہے۔ (2) نزهة المتقین 55/1 (3) تحفة العابدین (4) معارف الحدیث 301/2


صبر پر شہادت کا ثواب

(33) ﴾ وَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ عَنِ الطَّاعُونِ فَأَخْبَرَهَا أَنَّهُ كَانَ عَذَابًا يَبْعَثُهُ اللّٰهُ تَعَالَى عَلَى مَنْ يَشَاءُ فَجَعَلَهُ اللّٰهُ تَعَالَى رَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِينَ، فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ، فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يُصِيبُهُ إِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَهُ إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الشَّهِيدِ ﴿ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

صفحہ 157

ترجمہ: "حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے ان کو بتایا طاعون عذاب الٰہی تھا جن لوگوں پر چاہتا تھا مسلط کر دیتا تھا اب اللہ نے اس کو ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے پس جو مومن انسان طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے وہ صبر اور طلبِ ثواب کی نیت سے اپنے شہر میں ہی رہے اس بات پر یقین کر لے کہ اللہ نے جو لکھ دیا ہے وہ پہنچ کر رہے گا تو اس کو شہید کے برابر ثواب ملے گا۔"

لغات: ❖ الطاعون: بمعنی طاعون کی بیماری، پلیگ، وبا کی موت جمع: طواعین۔ ❖ یقع: وقع وقوعاً فتح سے بمعنی واقع ہونا۔ داخل ہونا۔ ❖ فیمکث: مکثاً و مکثاً نصر سے بمعنی ٹھہرنا۔ ❖ بلد: الْبَلَدُ وَالْبَلْدَةُ کوئی جگہ آباد ہو یا غیر آباد۔ شہر۔ جمع: بلاد. بلدان جدید لغت میں بلدیہ: میونسپلٹی۔

تشریح: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانہ میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے عہد میں چھ مرتبہ طاعون کی بیماری آئی۔

طاعون شیرویہ 6ھ میں آیا۔

طاعون عمواس 17ھ، 18ھ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شام کے علاقہ رملہ اور بیت المقدس کے درمیان کی بستی میں آیا اس میں تقریباً 25 ہزار اموات واقع ہوئیں۔

50ھ میں کوفہ میں آیا۔ اس طاعون میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا۔

عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں 67ھ میں آیا اس کو طاعون جارف کہتے ہیں اس میں تین دن میں دو لاکھ دس ہزار اموات ہوئیں۔

طاعون فتیات عبدالملک بن مروان کے دور 87ھ میں آیا اس کو طاعون فتیات اس لئے کہتے ہیں کہ اس طاعون کی ابتداء جوان لڑکیوں سے ہوئی۔

100ھ میں عدی بن ارطاۃ میں آیا۔

فَلَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَقَعُ فِي الطَّاعُونِ فَيَمْكُثُ فِي بَلَدِهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا. کوئی بندہ نہیں جو طاعون کی بیماری میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے شہر میں ہی صبر کرتا ہو طلبِ ثواب کی نیت سے۔ طاعون یا اس قسم کی وبائی بیماری میں اللہ کی ذات پر اعتماد کرے اور تقدیر پر راضی رہے کہ جو حالات بھی آئیں گے وہ میری تقدیر کے مطابق ہی آئیں گے میرے یہاں سے بھاگنے سے میرے حالات تبدیل نہیں ہوں گے اور اس صورت میں جزع فزع اور


صفحہ 158

ناشکری کا اظہار بھی نہ کرے۔ اس صورت میں اگر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے تو وہ شہادت کے درجے پر فائز ہو جائے گا۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ وبائی بیماری دوسری جگہ نہ پھیلے۔ (1) یہی حکم دوسرے شہر کے لوگوں کے لئے بھی ہے کہ وہ طاعون زدہ شہر میں جانے سے اجتناب کریں جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جب طاعون آیا تو وہ بھی اس جگہ تشریف نہیں لے گئے۔

کیا وبائی بیماری منتقل ہوتی ہے؟

اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے جیسے کہ قرآن مجید میں آتا ہے: لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ (Reference: Surah At-Tawbah, Ayat 51)

ہرگز ہرگز نہیں آئے گی ہم پر کوئی مصیبت بجز اس کے جو اللہ جل شانہ نے لکھ دی ہے اور اللہ پر ہی بھروسہ کرنا ہے ایمان والوں کو۔ اسی طرح ایک حدیث میں ارشاد ہے: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ فِي الْإِسْلَامِ نہ اسلام میں بیماری لگنے کی حقیقت ہے اور نہ بدشگونی ہے۔

اگر بیماری منتقل نہیں ہوتی تو وہاں سے نکلنے سے کیوں منع کیا گیا؟

یہ منع صرف اس لئے کیا گیا کہ کچے ایمان والے کا عقیدہ خراب نہ ہو جائے کہ میں فلاں جگہ چلا گیا تھا اس لئے یہ بیماری لگ گئی۔ آپ ﷺ نے ایک جذامی آدمی کے ساتھ کھانا کھایا اس بات کو بتانے کے لئے کہ جو تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوگا۔

تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب الطب (باب اجر الصابر فى الطاعون) و رواه احمد في مسنده 25267/9۔

نوٹ: راویہ حدیث حضرت عائشہؓ کے حالات حدیث نمبر (2) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) دلیل الفالحین


بینائی کے عوض جنت

(34) ﴾ وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُولُ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَ جَلَّ قَالَ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ، يُرِيْدُ عَيْنَيْهِ ﴿ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی جاتی رہے) اس پر وہ صبر کرے ان کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔“


صفحہ 159

لغات: ❖ ابتلیت: ابتلیٰ، ابتلاء بمعنی آزمانا۔ قسم کھلانا۔ ❖ حبیب: بمعنی محب۔ محبوب ❖ عوضتہ: عاض عوضاً نصر سے بمعنی بدلہ دینا۔

تشریح:

نابینا کو جنت کی خوشخبری

إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِى بِحَبِيبَتَيْهِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُهٗ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ. ترجمہ: جب میں اپنے بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں (آنکھوں) میں مبتلا کر دوں (یعنی بینائی ختم کر دوں) اس پر وہ صبر کرے تو اس کے عوض میں اس کو جنت عطا کرتا ہوں۔ اس حدیث سے ایک نابینا صابر شاکر شخص کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص بڑے احترام کا مستحق ہے۔ ایسے شخص کے ساتھ بے اعتنائی کرنا بڑی محرومی کی بات ہے۔ (1) نابینا کو یہ فضیلت اس لئے دی گئی کہ وہ دنیائے فانی سے پورا فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس پر اللہ کی طرف سے اس کو یہ انعام دیا جا رہا ہے کہ یہ شخص اپنے تقدیر پر راضی ہوگا تو اب دنیائے فانی کے نفع کے عوض میں اس کو جنت کے ہمیشہ کے نفع سے نوازا جائے گا۔ (2) آنکھوں کی بینائی پر یہ فضیلت خاص کیوں ہے؟ سب سے اہم عضو انسان کا آنکھ ہی ہے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر یہ فضیلت دی گئی۔ آنکھوں کا نہ ہونا دنیا میں سب سے بڑی محرومی ہے۔ اللہ جل شانہ جزا بھی بقدر مشقت عطا فرماتے ہیں اس لئے اس بڑی محرومی کی جزا جنت کی صورت میں دی جا رہی ہے۔ (3)

ہر اک مصیبت کی تہہ میں چھپی رہتی ہے راحت بھی شب تاریک کے دامن سے ہوتی ہے سحر پیدا

تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب المرضى (باب فضل من ذهب بصره) ورواه الامام احمد في مسنده 14023/4، ترمذى، البيهقي 375/3۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالک کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) تحفۃ العابدین 115 (2) نزھۃ المتقین 56/1 (3) دلیل الفالحین 167/1، نزھۃ المتقین 56/1


مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے

وَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ اَبِي رَبَاحٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا اَلَا اُرِيْكَ امْرَاَةً مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ فَقُلْتُ: بَلَى قَالَ هَذِهِ الْمَرْاَةُ السَّوْدَاءُ اَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَقَالَتْ: اِنِّي اُصْرَعُ وَاِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ تَعَالٰى لِيْ قَالَ: اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَ لَكِ الْجَنَّةُ وَ اِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللّٰهَ تَعَالٰى اَنْ يُعَافِيَكِ فَقَالَتْ: اَصْبِرُ فَقَالَتْ: اِنِّيْ اَتَكَشَّفُ فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ فَدَعَا لَهَا ﴿(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)﴾

ترجمہ: ”حضرت عطا بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کیا میں تجھے جنت کی حقدار عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے کہا ضرور دکھائیے، اس نے کہا یہ سیاہ فام عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر کہنے لگی مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور میری شرمگاہ سے کپڑا ہٹ جاتا ہے میرے لئے اللہ سے دعا کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے اور اگر تو چاہے تو میں اللہ سے تیری صحت کے لئے دعا کرتا ہوں۔ اس نے کہا میں صبر کرتی ہوں لیکن میرے لئے دعا فرمائیں کہ بے پردگی نہ ہو، آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔“

لغات: ❖ اُصْرَعُ: صَرْعًا و صَرْعًا فتح سے بمعنی زمین پر گرا دینا۔ صُرِعَ بمعنی مرگی کی بیماری والا ہونا۔ جدید لغت میں صراعة: کُشتی مَصْرَع: اکھاڑا مُصَارِع: پہلوان۔ ❖ اَتَكَشَّفُ: كَشْفُ كَشْفًا ضرب سے بمعنی ظاہر کرنا۔ کھولنا۔ کہا جاتا ہے کشف اللہ غمہ اللہ اس کے غم کو زائل کرے۔ جدید لغت میں كَشَاف: اسکاؤٹ۔ ❖ يُعَافِك: اَعْفَى معافاة و عفاءً و عافيةً بمعنی صحت دینا، بلا اور برائی سے بچانا۔

تشریح: اِمْرَاَةً مِّنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ اس عورت کا نام سعیرہ اور اس کی کنیت ام زفر تھی۔ (1)

مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کا بدلہ جنت ہے

اِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَ لَكِ الْجَنَّةُ اگر صبر کر سکے تو اس کا ثواب جنت ہے۔ اس سیاہ فام عورت نے دنیا کی چند روزہ تکلیف برداشت کر کے اس کے عوض جنت کو حاصل کر لیا یعنی فانی بیماری کے عوض ابدی مقام قرب و رضا الٰہی کو حاصل کر لیا اور اپنی تقدیر پر راضی ہو گئی:

خدا کے فیصلے سے کیوں ہو ناراض جہنم کی طرف کیوں چل رہے ہو

بیماری کے لئے دعا کرانا جائز ہے

فَادْعُ اللّٰهَ اَنْ لَا اَتَكَشَّفَ میرے لئے دعا فرما دیں کہ بے پردگی نہ ہو۔ بے ہوشی کی حالت میں بے اختیار بدن کا کھل جانا یہ نہ گناہ ہے اور نہ ہی معصیت مگر اس عورت کا دعا کروانا ایک فطری حیا و شرم کی وجہ سے تھا۔


اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی میں ہمت ہو تو وہ رخصت کے بجائے عزیمت پر عمل کرے تو یہ قرب الٰہی کا زیادہ ذریعہ بنتا ہے جیسے کہ اس عورت نے رخصت کے مقابلے میں عزیمت کو ترجیح دی۔ (2) نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس طرح بیماری کا علاج دوا کے ساتھ کروانا جائز ہے اسی طرح کسی اللہ والے سے دعا کروانا بھی جائز ہے۔ (3)

تخریج حدیث: اخرجه البخاري كتاب المرضى (باب فضل من يصرع من الريح) وصحيح مسلم كتاب البر (باب ثواب المؤمن فيما يصيبه)

راوی حدیث حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات: نام: عطاء، کنیت: ابومحمد، والد کا نام: اسلم اور ان کی کنیت: ابورباح تھی، تابعی ہیں حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں پیدا ہوئے۔ قرآن و حدیث کے حافظ تھے اور اپنے زمانے کے بڑے مفتی تھے۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں عطاءؒ فقہ، علم و ورع اور فضل و کمال کے لحاظ سے سادات تابعین میں سے تھے حجتہ اللہ اور کبیر الشان تھے۔ (تہذیب التہذیب 3/7) علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ عطاءؒ مکہ کے مفتی اور مشہور امام تھے بڑے بڑے ائمہ ان کے علمی کمالات کے معترف تھے۔ (تہذیب الاسماء) مناسک حج کے بھی بڑے عالم تھے: امام باقر فرماتے ہیں کہ عطاءؒ سے زیادہ مناسک حج کا کوئی جاننے والا باقی نہیں ہے۔ (طبقات ابن سعد 345/5) علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلیمان بن عبدالملک آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے اس کو مناسک حج بتائے۔ (طبقات ابن سعد 345/5) قوت ایمانی: عبدالرحمنؒ فرماتے ہیں کہ سارے مکہ والوں کا ایمان مل کر بھی عطاءؒ کے ایمان کے برابر نہیں تھا۔ (تہذیب التہذیب 203/7) حدیث پر عمل کرنے کا بہت زیادہ ذوق تھا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ تابعین میں سے کوئی بھی عطاءؒ سے زیادہ متبع حدیث نہیں تھا۔ (تہذیب الاسماء 333/1) انہوں نے صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت سے حدیث یاد کی اور ان سے فائدہ اٹھانے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے (تہذیب التہذیب 199/7) امام باقر رحمۃ اللہ علیہ لوگوں کو فرماتے تھے کہ جہاں تک ہو سکے عطاءؒ سے حدیث یاد کرلو۔ (تہذیب الاسماء 334)

(1) فتح الباری (2) نزهة المتقين 57/1 (3) نزهة المتقين 57/1، روضة المتقين 78/1


نبی کا بے انتہا صبر

وَعَنْ اَبِيْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانِّى اَنْظُرُ اِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَحْكِيْ نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَ سَلَامُہٗ عَلَيْهِمْ ضَرَبَهٗ قَوْمُهٗ فَاَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهٖ وَ هُوَ يَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَاِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

روضہ الصالحین جلد اول

صفحہ 162

ترجمہ: "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے ایک پیغمبر کے بارے میں فرما رہے تھے کہ اس کو قوم نے اس قدر مارا کہ اس کو لہولہان کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا اے اللہ میری قوم کو معاف فرما یہ جانتے نہیں ہیں۔"

لغات: أنظر: نَظَرَ وَ نَظْرً و مَنْظَرًا نصر سے اور سمع سے بمعنی دیکھنا غور سے دیکھنا۔ ❖ يحكى: حَكٰى حِکَايَةً ضرب سے بمعنی کسی سے کلام نقل کرنا۔ بیان کرنا۔ ❖ يمسح: مَسَحَ مَسْحًا فتح سے بمعنی پونچھنا۔ جدید لغت میں ممسحة: پیمائش کا فیتہ، پائدان۔

تشریح: يَحْکِیْ نَبِيًّا مِنَ الْاَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ آپ ﷺ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے ایک پیغمبر کے بارے میں فرما رہے تھے۔

اس نبی سے کون سے نبی مراد ہیں؟ مجاہد اور عبید بن عمیر لیثیؒ نے کہا کہ اس سے مراد حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ مگر اکثر محدثین نے کہا کہ اس سے مراد خود جناب رسول اللہ ﷺ تھے۔ (1)

وَ هُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِہٖ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہا تھا۔ اگر مراد نوح علیہ السلام ہیں تو ان کی قوم بھی ان کو بہت مارتی تھی جس سے ان کے چہرے کا خون نکلتا تھا اور اگر مراد آپ ﷺ ہیں تو اس سے مراد اکثر محدثین کے نزدیک غزوہ اُحد کا دن ہے جس دن میں آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود گھس گئی جس سے خون نکلا اور اسی روز آپ ﷺ کا دانت مبارک بھی ٹوٹا تھا۔ (2)

اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ کس نبی کی دعا ہے؟ سوال: اگر مراد نوح علیہ السلام ہیں تو یہاں پر یہ دعا منقول ہے کہ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ اس کے خلاف قرآن میں تو نوح علیہ السلام کی طرف سے قوم کو بد دعا منقول ہے لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِينَ دَيَّارًا۔ جواب: ابتداء میں نوح علیہ السلام دعا کرتے رہے اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ کے ساتھ مگر جب آخر میں اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ ان چند لوگوں کے علاوہ جو آپ پر ایمان لا چکے ہیں کوئی اور ایمان نہیں لائے گا تو اس کے بعد آپ علیہ السلام نے ان کو لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ کے ذریعہ سے بد دعا دی۔ (3)

داعیانِ تبلیغ کے لئے ایک سبق اس واقعہ سے دین کا کام کرنے والوں کے لئے ایک اہم سبق یہ ملتا ہے کہ داعیانِ تبلیغ کو جب تبلیغ و دعوت کی راہ میں


صفحہ 163

تکلیفیں آئیں تو اس کو برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے ساتھ انتقام کے جذبہ کے بجائے عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے ان لوگوں کے بارے میں معافی اور ہدایت کی دعا بھی کرتے رہنا چاہئے۔ (4)

تخریج حدیث: اخرجہ البخاری کتاب الانبیاء (باب ما ذکر عن بنی اسرائیل و کتاب المرتدین) مسلم کتاب الجہاد (باب غزوۃ احد) رواہ احمد فی مسندہ 2 / 3611، و ابن ماجہ، و ابن حبان 6576۔

راویِ حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات: نام: عبداللہ، کنیت: ابو عبدالرحمن، والد کا نام: مسعود، والدہ کا نام: اُمِّ عبدتھا اسد الغابہ میں ان کے اسلام لانے کا واقعہ یہ لکھا ہے کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ جا رہے تھے راستہ میں عبداللہ بن مسعودؓ بکریاں چرا رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے دودھ مانگا، انہوں نے کہا یہ بکریاں امانت ہیں اس لئے میں نہیں دے سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی بکری ایسی ہے جس نے بچے نہ دیئے ہوں؟ عرض کیا ہاں، انہوں نے وہ بکری پیش کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تو اس کے تھن میں دودھ بھر آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور حضرت ابوبکرؓ اور عبداللہ بن مسعودؓ، تینوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔ اس معجزے کے بعد وہ مسلمان ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمیشہ خدمت میں رہے تھے۔ (اسد الغابہ، تذکرہ عبداللہ بن مسعودؓ جلد 2) جب یہ ہجرت کر کے مدینہ آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی کے متصل ایک قطعہ زمین کا عطا فرمایا۔ (طبقات ابن سعد/ تذکرہ عبداللہ بن مسعودؓ جلد 3) تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ رہے۔ 20ھ میں کوفہ کے قاضی مقرر ہوئے اور دس سال تک وہاں کے قاضی رہے۔ ان کے خصوصی اوصاف میں لکھا ہے کہ ان کو علم کا شوق انتہا درجہ کا تھا، اور قرآن مجید کی تفسیر کے ماہر بھی تھے، قرأت میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے قرآن سنا اور روایت بیان کرنے میں بہت زیادہ احتیاط کرتے اور اپنے زمانے میں فقہ کے بھی ماہر تھے۔ ان کی خوبیوں کی بناء پر ایک بڑا مجمع ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا بلکہ بقول شقیقؓ کے ہم لوگ مسجد میں بیٹھ کر عبداللہ بن مسعودؓ کے مکان سے نکلنے کا انتظار کرتے تھے۔ (مسند احمد 1 / 377) وفات: 32ھ میں 60 سال سے کچھ زیادہ عمر پا کر داعیِ اجل کو لبیک کہا نمازِ جنازہ حضرت عثمان غنیؓ نے پڑھائی اور عثمان بن مظعونؓ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ (طبقات ابن سعد 1 / 113) مرویات: ان کی روایات کی تعداد 848 ہے ان میں سے 64 بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں 21 بخاری میں اور 35 مسلم میں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ (تہذیب الکمال 234)



مسلمان کی معمولی تکلیف سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں

(37) ﴿ وَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَّ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَّصَبٍ وَّ لَا وَصَبٍ وَّ لَا هَمٍّ وَّ لَا حَزَنٍ وَّ لَا اَذًى وَّ لَا غَمٍّ حَتّٰى الشَّوْکَةِ یُشَاکُهَا... ﴾

إِلَّا كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ). وَ الْوَصَبُ: الْمَرَضُ.

ترجمہ: "حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کو تھکان، بیماری، غم، تکلیف اور کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ الوصب کے معنی بیماری کے ہیں۔"

لغات: نصب: نصب، نصبا ضرب اور فتح سے بمعنی تھکانا اور نصب نصبا سمع سے بمعنی تھکنا۔ ❖ وَصَب: يُوْصَبُ وَصْبًا بمعنی بیمار ہونا۔ صفت وصِب جمع: وصابی و صاب۔ ❖ هَمّ: هَمَّ هَمًّا نصر سے بمعنی بے چین کرنا۔ غمگین کرنا۔ جمع: هموم۔ ❖ حزن: حَزَنَ حُزْنًا نصر سے بمعنی آزردہ خاطر کرنا سمع سے حَزَنَ یحزن اور حُزُونَةً کرم سے بمعنی سخت ہونا۔ ❖ أذی: أذِیَ أذًی و إذَاةً سمع سے بمعنی تکلیف و اذیت پانا۔ ❖ الشوكة: واحد شوكة جمع اشواک بمعنی کانٹا۔

تشریح: کانٹا لگنے سے بھی گناہ معاف ہو جاتے ہیں "حَتّٰى الشَّوْکَةِ یُشَاکُهَا اِلَّا کَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَایَاهُ" یہاں تک کہ کانٹا لگنے سے جو پریشانی ہوتی ہے اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی آدمی کو کسی قسم کی کوئی راحت یا تکلیف پہنچے تو اس کا ذہن فوراً اللہ جل شانہ کی طرف جائے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اگر کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اس پر صبر کرے اور اگر وہ صبر کے بجائے جزع و فزع اور تقدیر الہی کا شکوہ کرے تو ایک تو دنیاوی تکلیف ہو گی اس کے ساتھ ساتھ آخرت کے اجر و ثواب سے محروم ہو جائے گا بلکہ صرف یہی نہیں کہ آخرت کا اجر نہیں ہو گا بلکہ آخرت کے لئے یہ عمل وبال بن جائے گا۔ (1)

مصیبت نام ہے اہل وفا کی آزمائش کا اسی میں آدمی کا حوصلہ معلوم ہوتا ہے

تخریج حدیث: اخرجہ البخاری کتاب المرضیٰ (باب ما جاء فی کفارة المرضی) و قول اللہ تعالیٰ من يعمل سوءا يجز بہ۔ مسلم کتاب البر (باب ثواب المؤمن فيما يصيبہ من مرض او حزن او نحو ذلك حتى الشوکة يشاكها۔ رواہ امام احمد فی مسندہ 3 / 8432، ابن حبان 2905، والبيهقی 3 / 273۔

صفحہ 165

روضۃ الصالحین، جلد اول

کانٹا چبھنا بھی سیئات کا کفارہ ہے

(38) ﴿وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ هُوَ يُوْعَكُ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ تُوْعَكُ وَعْكًا شَدِيْدًا قَالَ: أَجَلْ إِنِّی أُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ قُلْتُ: ذٰلِكَ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ: أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيْبُهُ أَذًى شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلَّا كَفَّرَ اللهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، وَ حُطَّتْ عَنْهُ ذُنُوْبُهُ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ). وَالْوَعْكُ: مَغْثُ الْحُمَّى، وَ قِيْلَ الْحُمَّى.

ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ بخار میں مبتلا تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ تو شدید بخار میں مبتلا ہیں، فرمایا ہاں مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔ میں نے عرض کیا اس لئے آپ ﷺ کو دوگنا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں یہی بات ہے بالکل اسی طرح جیسے مسلمان کو کانٹا چبھنے سے یا اس سے زیادہ کسی مصیبت کی زحمت اٹھانی پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے گناہ معاف فرما دیتے ہیں اور گناہ اس سے یوں ساقط ہو جاتے ہیں جیسے درخت کے پتے گر جاتے ہیں۔"

وعک: بخار سے معدے اور آنتوں میں ہونے والی تکلیف یا خالی بخار۔

لغات:

یوعک: وَعَكَ وَعْكًا ضرب سے بمعنی گرمی کا تیز ہونا۔ وَعَكَتْهُ الْحُمَّى بخار کا کسی کو ایذا پہنچانا تَوَعُّك بخار میں مبتلا ہونا۔

اَجَلْ: بمعنی ہاں، بے شک۔

ورقہا: ورق ورقاً بمعنی درخت کا پتے دار ہونا، درخت کے پتے اتارنا، جدید لغت میں ورق النقد بمعنی نوٹ۔

تشریح: آپ ﷺ کو عام لوگوں سے زیادہ بخار میں تکلیف ہوتی تھی

يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّكَ تُوْعَکُ وَعْكًا شَدِيْدًا: یا رسول اللہ آپ ﷺ کو تو شدید بخار ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی عام لوگوں کی طرح حالات آتے تھے اور یہ ان کے رفعِ درجات کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ أَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ اَجَلْ: آپ ﷺ کے لئے دوگنا ثواب ہے؟ فرمایا ہاں۔ دوگنا ثواب کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو دوگنا مشقت بھی اس میں ہوتی تھی، ڈبل مشقت سے ڈبل ثواب دیا جاتا تھا۔


صفحہ 166

روضۃ الصالحین، جلد اول

بخار کے فضائل

ایک روایت میں آتا ہے کہ اِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِيْنَ يُصِيْبُهُ الْوَعْكُ أَوِالْحُمَّى كَالْحَدِيْدَةِ تُدْخَلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خُبْثُهَا وَ يَبْقَى طِيْبُهَا۔ (1) ترجمہ: مؤمن بندے کی مثال جب اس کو بخار ہو جائے اس لوہے جیسی ہے کہ جس کو آگ میں ڈالا جائے تو اس کا میل جاتا رہے اور عمدہ حصہ باقی رہ جائے۔

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اَلْحُمَّى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ وَ حُمَّى لَيْلَةٍ تُكَفِّرُ خَطَايَا سَنَةٍ مُجَرَّمَةٍ (ای کاملہ) (2) آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بخار حصہ ہے ہر مؤمن کا آگ سے اور ایک رات کا بخار پورے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ اَلْحُمَّى شَهَادَةٌ اَيِ الْمَوْتُ فِيهَا۔ (3) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بخار شہادت ہے یعنی بخار میں مر جانا شہادت ہے۔

اور ایک روایت میں جس کے راوی اسد بن کرز رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، آتا ہے کہ قَالَ الْحُمَّى تَحُتُّ الْخَطَايَا كَمَا تَحُتُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا اَیْ تُسْقِطُ۔ (3) آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ بخار خطاؤں کو ایسے جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو۔

تخریجِ حدیث:

اخرجہ البخاری کتاب المرضی (باب شدۃ المرض) مسلم کتاب البر (باب ثواب المؤمن فیما یصیبہ) رواہ امام احمد فی مسندہ 3618/2- والدارمی 316/2، ابن حبان 2937، والبيهقی 372/3۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے حالات حدیث نمبر (36) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) ترغیب و ترہیب 298/3 (2) رواہ القضاعی (3) اخرجہ الدیلمی باسنا صحیح (3) رواہ ابن نافع باسنا حسن

اللہ جس سے بھلائی چاہتا ہے اس کو مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے

(39) ﴿وَ عَنْ أَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: مَنْ يُّرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) وَ ضَبَطُوْا يُصَبْ بِفَتْحِ الصَّادِ وَ كَسْرِهَا۔


صفحہ 167

روضۃ الصالحین، جلد اول

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں گرفتار رکھتا ہے۔ "يُصَبْ" صاد پر زبر یا زیر کے ساتھ دونوں طرح صحیح ہے۔"

لغات:

الخیر: بمعنی خیر بھلائی۔ چیز کا اپنے کمال کو پہنچنا۔ جمع: خُيُوْرٌ مثل مشہور ہے خیر العلم ما حضرک بہترین علم وہ ہے جو ضرورت کے وقت مستحضر ہو جائے۔

تشریح: جس سے اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں مبتلا کرتا ہے

مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ: اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اس کو مصائب میں گرفتار رکھتا ہے۔ دنیا کی تکلیفیں، مصائب، بیماریاں، جان و مال کا نقصان وغیرہ میں مؤمن کے لئے بھلائی اس طرح ہے کہ دنیا میں وہ ان سب کی وجہ سے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس کے سامنے دعا و التجاء کرتا ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اور آخرت کے درجات بھی بلند ہوتے ہیں۔ (1) بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے مؤمن کے لئے جنت میں ایک مقام بنایا ہوا ہے اگر وہ عبادات کے ذریعہ وہ مقام حاصل نہیں کرتا تو اس کو مصائب دیتے ہیں اور جب وہ اس پر صبر کرتا ہے تو وہ اس مقام کو حاصل کر لیتا ہے۔

ترے غم کی جو مجھ کو دولت ملے --- غمِ دو جہاں سے فراغت ملے

تخریجِ حدیث:

صحیح البخاری کتاب المرضی (باب ما جاء فی کفارة المرض) و اخرجہ امام مالک فی مؤطا مالک، احمد فی مسندہ 7239/3، ابن حبان 2907۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) نزھتہ المتقین 59/1، روضۃ المتقین 81/1

موت کی تمنا نہ کی جائے

(40) ﴿وَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ لِضُرٍّ أَصَابَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَقُلْ: اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِّي وَ تَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِّي﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی تکلیف کے آنے پر کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے اگر اس سے کوئی چارہ نہ ہو تو یہ کلمات کہے "اے اللہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھئے جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے اور اس وقت فوت کر دیجئے جب میرے حق میں فوت ہونا بہتر ہو۔"


صفحہ 168

روضۃ الصالحین، جلد اول

لغات:

أحینی: حَيِيَ حياةً سمع سے بمعنی زندہ رہنا۔ احیاء: زندہ کرنا اور ادغام کے ساتھ بھی آتا ہے اس میں مصدر حياء آتا ہے بمعنی شرمندہ ہونا، شرمانا ۔

توفنی: توفی توفياً بمعنی حق پورا ہونا۔ مدت کو پہنچنا۔ توفاہ الله: موت دینا توفی فلان مرنا۔ اللہ تعالیٰ مُتَوَفِّى، فوت شدہ بندہ۔ متوفی۔ الوفاة: بمعنی موت جمع: وَفَيَات۔

تشریح: موت کی تمنا کرنا جائز نہیں

لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ: کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے۔ موت کی تمنا کرنا منع اس لئے ہے کیونکہ مستقبل کا علم کسی کو نہیں کہ آئندہ زندگی اس کے حق میں بہتر ہوگی یا نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مصیبت کے وقت میں موت کی تمنا کرنا اس میں بے صبری بھی پائی جاتی ہے حالانکہ شریعت میں مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (1) اگر دعا ہی کرنی ہے تو حدیث بالا والی دعا کی جائے کہ جب تک میرے لئے زندہ رہنا بہتر ہے تو زندہ رکھو اور جب موت بہتر ہو تو موت دے دے۔ ہاں اگر کسی مقدس مقام یا شہادت کی تمنا کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔ (2)

تخریجِ حدیث:

اخرجہ البخاری کتاب المرضی (باب ما جاء فی کفارة المرض) و صحیح مسلم فی الذکر (باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به) و اخرجہ امام احمد فی مسندہ 12015/4، النسائی 1818، ابن حبان 2966 و البيهقی 377/3۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت انسؓ کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) نزھتہ المتقین 60/1، روضۃ المتقین 81/1 (2) نزھتہ المتقین 60/1

پہلے لوگوں کو بھی بہت تکالیف دی گئیں

(41) ﴿وَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ هُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَّهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلَا تَدْعُو لَنَا؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ، فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيْهَا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ، وَ يُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِهِ وَ عَظْمِهِ مَا يَصُدُّهُ ذٰلِكَ عَنْ دِيْنِهِ، وَ اللهِ لَيُتِمَّنَّ اللهُ هٰذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضَرَ مَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ وَ الذِّئْبَ عَلَىٰ...


صفحہ 169

روضۃ الصالحین، جلد اول

غَنَمِهِ، وَلٰكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) وَ فِيْ رِوَايَةٍ: وَ هُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً وَّ قَدْ لَقِيْنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ شِدَّةً.

ترجمہ: "حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے (کفار کی ایذا رسانیوں کا) شکوہ کیا آپ ﷺ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے تھے، ہم نے عرض کیا آپ ﷺ ہمارے لئے غلبہ کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے بعض لوگوں کو پکڑ لیا جاتا، گڑھا کھودا جاتا، اس میں اس کو گاڑا جاتا، اس کے سر پر آری چلایا جاتا اور اس کے ٹکڑے کر دیئے جاتے اور بعض کو لوہے کی کنگھیوں سے اس کے گوشت کو نوچا جاتا ہڈیاں تک متاثر ہو جاتی تھیں لیکن اس کے باوجود وہ دین سے روگردانی نہ کرتا۔ خدا کی قسم اللہ تعالیٰ اسلام کی تکمیل فرمائے گا اور امن کی کیفیت یہ ہوگی کہ ایک سفر کرنے والا صنعاء سے حضرموت تک سفر کرے گا لیکن وہ صرف خدا سے ڈرے گا اور وہ اپنی بکریوں پر بھیڑیوں کا خوف نہ رکھے گا لیکن تم جلد بازی سے کام لے رہے ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ چادر سر کے نیچے رکھے ہوئے تھے اور ہمیں مشرکین کی طرف سے تکلیفیں پہنچی تھیں۔"

لغات:

شکونا: شَكَا شَكْوَىٰ و شِكَايَةً نصر سے بمعنی شکایت کرنا۔

متوسد: تَوَسَّدَ الْوِسَادَةَ بمعنی سر کے نیچے تکیہ رکھنا۔ الْوِسَادَةُ، الْوِسَادَةُ الْوِسَادَةُ تکیہ۔ گل تکیہ۔ جمع وِسَادَات و وِسَادَات و وِسَادَات، و وَسَائِدُ۔

فیحفر: حَفَرَ حَفْرًا ضرب سے بمعنی زمین میں گڑھا کھودنا۔

یمشط: مَشَطَ مَشْطًا نصر و مَشَّطًا نصر و ضرب سے بمعنی بالوں میں کنگھی کر کے سلجھانا۔

تشریح: ہر دور میں ایمان والوں پر آزمائش ہوتی ہے

قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ: تم سے پہلے جو لوگ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین حق کی راہ میں مصائب اور تکلیفوں کا آنا یہ صرف دور محمدی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور میں دین والوں پر آزمائش آتی رہی۔ اس جملہ سے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مصائب قریش سے مت گھبراؤ بلکہ اپنے سے پہلے کے لوگوں پر نگاہ رکھو کہ ان پر کیسے کیسے مصائب اور تکلیفیں آئیں اس کے باوجود وہ دین پر جمے رہے۔ (1)

ہم نے طے کیں اس طرح منزلیں --- گر پڑے، گر کر اٹھے، اٹھ کر چلے


صفحہ 170

روضۃ الصالحین، جلد اول

حَتَّى يَسِيْرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضَرَ مَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللهَ. یہاں تک کہ ایک سوار تنہا صنعاء (یمن) سے چل کر حضر موت پہنچ جائے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا۔ اسی جملہ میں سرور کائنات ﷺ نے مسلمانوں کو ایک عظیم بشارت سنائی یا آپ ﷺ نے پیش گوئی فرمائی کہ عنقریب اللہ جل شانہ زمین کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے پاک و صاف کر دے گا اور ہر جگہ اسلام کا عدل و انصاف و امن و امان ہوگا۔ یہ دور خیر القرون والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے بعد والے بھی یہ دور دیکھ سکتے ہیں بشرطیکہ اسلام کے عدل و انصاف کو اختیار کر لیں۔

تخریجِ حدیث:

اخرجه البخاری فی کتاب علامات النبوة (باب علامات النبوة فی الاسلام و باب ما لقی النبی ﷺ و اصحابہ من المشرکین بمكة)، اخرجہ امام احمد فی مسندہ 21130/7، النسائی 5335 و ابن حبان 2897۔ البيهقی 5/6۔

راوی حدیث حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات:

نام: خباب، کنیت: ابوعبداللہ، والد کا نام: ارت بن جندلہ تھا۔ زمانہ جاہلیت میں غلام بنا کر مکہ میں فروخت کر دیئے گئے (اسد الغابہ 106/2) اسلام کے ابتدائی زمانے میں زید بن ارقم کے گھر میں مسلمان ہوئے (طبقات ابن سعد 116/3) اسلام لانے والوں میں ان کا چھٹا نمبر تھا۔ ابتداء میں مسلمان ہونے اور غلام تھے اس لئے ان کو مشرکین نے خوب سزا دی ننگی پیٹھ دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا کر سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیتے تھے اور بالآخر وہ انگارے خود زخموں کی رطوبت سے بجھ جاتے (طبقات ابن سعد 117/3) مدینہ کی ہجرت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خراش بن صمہ غلام تمیم کے ساتھ مواخات کرا دی۔ تمام غزوات میں شرکت کی (طبقات ابن سعد) تلواریں بنا کر کسب معاش کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ بھی ان کا بہت احترام کرتے تھے، ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ان کو اپنے گدھے پر بٹھایا اور لوگوں میں اعلان کیا کہ ان کے علاوہ صرف ایک شخص اور ہے جو اس گدھے پر بیٹھنے کا مستحق ہے۔ خبابؓ نے پوچھا: وہ کون شخص ہے؟ کہا: بلال، خبابؓ نے کہا: وہ میرے برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟ مشرکین میں ان کے مددگار تھے، لیکن میرا خدا کے سوا کوئی مددگار نہ تھا اور پھر اپنے مصائب کی داستان سنائی۔ (مستدرک حاکم تذکرہ خباب بن ارت جلد 3) وفات: 37 ھ میں کوفہ میں بیمار ہوئے اور پھر 73 برس کی عمر میں انتقال ہوا اسی وقت حضرت علیؓ جنگ صفین سے واپس آئے تھے، اطلاع ملی، فوراً حاضر ہوئے اور نماز جنازہ پڑھائی۔ مرویات: ان کی مرویات کی تعداد 33 ہے۔ ان میں سے 3 بخاری و مسلم دونوں میں ہیں دو میں بخاری اور ایک میں مسلم منفرد ہیں۔ (1) نزھتہ المتقین 60/1


رويضۃ الصالحین جلد اول

پیج 171

موسٰی علیہ السلام کے صبر کی مثال

(42) وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ اثَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ نَاسًا فِي الْقِسْمَةِ فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِثْلَ ذٰلِكَ، وَأَعْطَى نَاسًا مِنْ أَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَاثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ مَا عُدِلَ فِيهَا وَمَا أُرِيدَ فِيهَا وَجْهُ اللَّهِ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ، فَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ حَتَّى كَانَ كَالصِّرْفِ ثُمَّ قَالَ: فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَىٰ قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ فَقُلْتُ: لَا جَرَمَ لَا أَرْفَعُ إِلَيْهِ بَعْدَهَا حَدِيثًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَقَوْلُهُ كَالصِّرْفِ هُوَ بِكَسْرِ الصَّادِ الْمُهْمَلَةِ: وَ هُوَ صِبْغٌ أَحْمَرُ.

ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ حنین میں رسول اللہ ﷺ نے غنیمتوں کو تقسیم فرماتے ہوئے کچھ لوگوں کے ساتھ تالیفِ قلبی کرتے ہوئے ترجیحی سلوک اختیار فرمایا، چنانچہ اقرع بن حابس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے عیینہ بن حصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی اتنے ہی دیے اور عرب کے اشراف کے ساتھ ترجیحی سلوک کرتے ہوئے انہیں زیادہ دیا، ایک شخص بول اٹھا اللہ کی قسم! یہ تقسیم منصفانہ نہیں ہے اور نہ ہی اس میں اللہ کی رضا مندی کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم! میں ضرور اللہ کے رسول کو اس سے مطلع کروں گا۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ کو مطلع کیا، اس کو سن کر آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب اللہ اور اس کا رسول عدل و انصاف نہ کریں تو کون انصاف کرے گا؟ پھر فرمایا اللہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے کہیں زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔ آپ ﷺ کی کیفیت دیکھ کر میں نے دل میں کہا کہ اس کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں اس قسم کی بات نہیں پہنچاؤں گا۔

کَالصِّرْفِ: صاد کے زیر کے ساتھ ہے۔ وہ سرخ رنگ جس سے سرخ کھال کو رنگا جاتا ہے۔

لغات: آثَرَ: آثَرَ إِیْثَاراً افعال سے بمعنی اکرام و عزت کرنا۔ پسند کرنا۔ فضیلت و برتری دینا۔ ❖ الْقِسْمَةُ: قَسَمَ قَسْماً ضرب سے بمعنی تقسیم کرنا۔ ❖ أعطٰی: أَعْطٰی اِعْطَاءً افعال سے بمعنی دی۔


پیج 172

لَأُخْبِرَنَّ: خَبَرَ و اخبره کسی کو کسی شئی سے آگاہ کرنا خبردار کرنا کہتے ہیں۔ أَخْبَرَهُ خُبُورَہُ یعنی جو چیز اس کے پاس تھی اس کی اس نے اطلاع و خبر دی۔ ❖ يَعْدِلُ: عَدَلَ عَدْلًا ضرب سے بمعنی انصاف کرنا۔ ❖ لَاجَرَمَ: جرم یعنی ضرور! یقینی، ناگزیر کہتے ہیں: لاجرم لا فعلن خدا کی قسم میں ایسا کروں گا۔ جَرَمَ جَرْمًا ضرب سے بمعنی کاٹنا۔ پورا کرنا اور کرم سے بمعنی بڑے جرم والا ہونا۔

تشریح: امام وقت کو اختیار ہے مال غنیمت کو زیادہ دینے کا

وَأَعْطَى نَاسًا مِّنْ اَشْرَافِ الْعَرَبِ، وَاثَرَهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْقِسْمَةِ: عرب کے سرداروں کو ترجیحی سلوک کرتے ہوئے انہیں زیادہ دیا۔ امام اور خلیفہ وقت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حالات و ضروریات اور تقاضائے وقت کے مطابق نو مسلموں کو یا دیگر ذی وجاہت اور صاحب اثر و رسوخ لوگوں کو تالیفِ قلوب (دلجوئی) کے طور پر دوسرے مسلمانوں سے زیادہ دے دے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے غزوہ حنین میں نومسلم قبائل اور ان کے سرداروں کو مال غنیمت کی تقسیم میں قدیم ترین مہاجر اور انصار غازیوں پر فوقیت اور ترجیح دی ان کی تالیف قلوب کے لئے۔ اسی کی طرف آپ ﷺ نے ایک حدیث میں اشارہ فرمایا إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكِبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ. (1) فَقَالَ رَجُلٌ وَاللَّهِ إِنَّ هَذِهِ قِسْمَةٌ اس آدمی کا نام ذوالخویصرہ تھا اور یہ منافق شخص تھا۔

نبی کو ایذا پہنچانے والا موجب قتل ہے

ثُمَّ قَالَ فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ يَعْدِلِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَىٰ قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ. ترجمہ: پھر فرمایا اللہ جل شانہ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ان کو اس سے کہیں زیادہ اذیتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔ موسیٰ علیہ السلام کو جوان کی قوم نے ایذا دی اس کا تذکرہ خود قرآن مجید میں مذکور ہے۔ "وَ إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِي وَ قَد تَّعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ" (2) (حوالہ: سورہ الصف، آیت 5) ترجمہ: اور جب کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تم یہ جانتے ہوئے کہ میں اللہ جل شانہ کی طرف سے بھیجا ہوا تمہاری طرف رسول ہوں مجھے کیوں ایذا پہنچاتے ہو۔ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے جس میں امت محمدیہ کو بھی خطاب ہے کہ تم موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح اپنے نبی کو ایذا مت دو۔


پیج 173

قَالَ تَعَالٰی: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ" (3) (حوالہ: سورہ الاحزاب، آیت 69) ترجمہ: اے ایمان والو تم ان لوگوں کی طرح مت بنو جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی۔ یہاں پر تنبیہ کی جارہی ہے کہ مسلمانو! تم جناب رسول اللہ ﷺ کو تکلیف نہ دو جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قوم نے دی۔ علماء نے لکھا ہے کہ ایذاء رسول کا مرتکب جیسے نبی کی حیات میں کافر اور واجب القتل تھا اسی طرح ان کی وفات کے بعد بھی آیت قطعی دلائل کی روشنی میں ایسے شخص کے کفر اور قتل پر متفق ہے۔

تخریج حدیث: اخرجه البخاری فی ابواب الخمس و فی الانتباه و فی الدعوات و فی الادب (باب من اخبر صاحبه بما یقال فیه. مسلم فی الزکاة (باب اعطاء المؤلفة قلوبهم علی الاسلام و تصبر من قوی ایمانه، رواہ امام احمد فی مسندہ 2 / 3902 و ابن حبان 2917۔

نبوٹ: راوی حدیث حضرت عبد اللہ بن مسعود کے حالات حدیث نمبر (36) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (1) دلیل الفالحین 1 / 178 (2) سورۃ الصف آیت: 5 (3) سورۃ الاحزاب آیت: 69

ابتلاء پر صبر کرنے کا اجر

(43) وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ، وَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا وَ مَنْ سَخِطَ فَلَهُ السُّخْطُ. (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ)

ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا ہی میں اس کو جلدی سزا دے دیتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو باوجود اس کے گناہوں کے سزا دینے سے رکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز اس کو پوری سزا دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ثواب کی زیادتی تکلیفوں کی زیادتی پر موقوف ہے بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو محبوب جانتا ہے تو اس کو آزمائشوں میں گرفتار کرتا ہے پس جو شخص آزمائشوں کے باوجود خوش رہا اس کو اللہ کی خوشنودی حاصل ہوگی اور جو شخص ناخوش ہوا اس پر اللہ ناخوش ہوا۔"


پیج 174

ترمذی نے اس کو حدیث حسن کہا ہے۔

لغات: عجل: عَجِلَ عَجَلًا و عَجْلَةً سمع سے بمعنی جلدی کرنا کہتے ہیں عَجَّلَ بِهِ إِلَيْهِ ایک کام سے دوسرے کی طرف جلدی کی۔ جدید لغت میں مُسْتَعْجَلٌ بمعنی ہنگامی- ارجنٹ۔ ❖ العقوبة: العقاب و المعاقبة بمعنی بدی کا بدلہ۔ سزا ❖ أَمْسَكَ: أَمْسَكَ إِمْسَاكًا کرم سے مَسْكَ مَسَاكَةً بمعنی مشکیزے کا پانی گرنے نہ دینا، ضرب اور نصر سے مَسَكًا جمنا، متعلق ہونا۔ ❖ عظم: عظم عِظَامًا و عِظَامَةً کرم سے بمعنی بڑا ہونا۔ صفت عظیم جمع عظماء۔ ❖ سخط: سخط سَخَطًا سمع سے بمعنی کسی پر غضب ناک ہونا۔ ناپسند کرنا۔

تشریح: جب بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہو تو توبہ استغفار کرنا چاہئے

إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الْخَيْرَ........ الخ جب اللہ اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا ہی میں اس کو جلدی سزا دے دیتا ہے۔ یہ حدیث ہر مؤمن کو ایک اہم سبق کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جب بھی وہ کسی آزمائش یادکھ، بیماری میں گرفتار ہو تو فوراً اس کو اپنے شب و روز کے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے اگر کوئی گناہ یا نافرمانی ہو رہی ہے تو فوراً استغفار کر لینا چاہئے اور اگر کسی کی حق تلفی ہوئی ہو تو جلد از جلد اس کی تلافی کر لینا چاہئے۔ مزید یہ کہ اس دکھ اور بیماری پر صبر و شکر بھی کرنا چاہئے کہ اس ذاتِ کریم و رحیم نے دنیا میں ہی معمولی سی دکھ بیماری دے کر آخرت کے دردناک عذاب سے بچا لیا۔ اگر کوئی گناہ یا نافرمانی نظر نہ بھی آئے تب بھی توبہ و استغفار کرنا چاہئے کیونکہ بہت سے گناہوں کا ہمیں علم نہیں ہوتا لیکن وہ گناہ ہم سے ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اس حدیث میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب بھی کوئی دکھ بیماری وغیرہ آئے تو شکوہ و شکایت جزع و فزع کے بجائے توبہ و استغفار اور صبر و شکر کی طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ یہ معمولی سی تکلیف آخرت کے بڑے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بن جائے گی۔ (1) اور جو آزمائش کے وقت میں جزع و فزع میں مبتلا ہوا اور اپنی تقدیر پر راضی نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ تقدیر تو اس کی پہلے ہی مرتب ہو چکی ہے اس لئے اس پر راضی رہنا چاہئے۔ (2)

قضاء کے سامنے بیکار ہوتے ہیں حواسِ اکبر کھلی ہوتی ہے گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

تخریج حدیث: رواہ الترمذی فی کتاب الزھد (باب ما جاء فی الصبر علی البلاء) و ابن ماجه و ابن حبان 2911 و رواہ احمد فی مسندہ 5 / 16806-


اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بچے کی موت پر صبر کرنے کا عظیم بدلہ

(44) ﴿وَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ الصَّبِيِّ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ۔ فَقَالَ: أَعَرَّسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْمِلْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ بَعَثَ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ فَقَالَ: أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ قَالَ: نَعَمْ تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا، ثُمَّ أَخَذَهَا مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ، ثُمَّ حَنَّكَهُ وَ سَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَ فِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: فَرَأَيْتُ تِسْعَةَ أَوْلَادٍ كُلُّهُمْ قَدْ قَرَؤُوا الْقُرْآنَ يَعْنِي مِنْ أَوْلَادِ عَبْدِ اللَّهِ الْمَوْلُودِ۔

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا: لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ، فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَ شَرِبَ، ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا، فَلَمَّا أَنْ رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَ أَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ؟ قَالَ: لَا فَقَالَتْ: فَاحْتَسِبِ ابْنَكَ قَالَ: فَغَضِبَ ثُمَّ قَالَ: تَرَكْتِنِي حَتَّى إِذَا تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ فِي لَيْلَتِكُمَا قَالَ: فَحَمَلَتْ قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا، فَدَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ، فَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ: إِنَّكَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ وَ أَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَ قَدِ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى، تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا وَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ: لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهُ أَحَدٌ تَغْدُوا بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَ ذَكَرَ تَمَامَ الْحَدِيثِ۔

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر سے باہر نکلے تو اس کا انتقال ہوگیا واپس آئے تو لڑکے کے بارے میں پوچھا، لڑکے کی والدہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا پہلے کی نسبت بہت زیادہ سکون میں ہے اور اس کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھ دیا اس نے کھانا کھایا، بیوی سے مجامعت کی، اس کے بعد اُمّ سلیم نے کہا لڑکے کو دفن کرو۔ صبح کے وقت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ سنایا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کیا تم نے رات کو ہمبستری کی تھی؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان دونوں کے لئے برکت عطا فرما۔ چنانچہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں لڑکا تولد ہوا۔ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مجھے ابوطلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور اس کے ساتھ کچھ کھجوریں بھی بھیج دیں، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ جواب دیا ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ ﷺ نے ان کو منہ میں چبا کر بچے کے منہ میں رکھا اس طرح اس کو تحنیک فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔“ (بخاری ومسلم)

بخاری کی روایت میں ہے کہ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے اس عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے 9 لڑکوں کو دیکھا ان سب نے قرآن پاک پڑھا تھا۔

مسلم کی روایت میں ہے کہ اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لڑکا فوت ہوگیا، اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر والوں سے کہا اس بیٹے کے بارے میں تم ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ نہ بتانا میں خود ہی ان کو بتاؤں گی۔ چنانچہ جب وہ آئے تو اس نے ان کے سامنے رات کا کھانا پیش کیا اس نے کھانا کھایا اس کے بعد اُمّ سلیم نے زیب و زینت لگانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی پہلے سے زیادہ بن سنور کر سامنے آئی، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ساتھ ہمبستری کی، جب اُمّ سلیم نے دیکھا کہ وہ سیراب ہوگیا ہے اور اس کی حاجتِ نفسانی پوری ہوچکی ہے تو اپنے خاوند سے کہنے لگیں ابوطلحہ! مجھے بتاؤ اگر کوئی قوم کسی کو اپنی کوئی چیز عاریۃً دے دیتی ہے پھر اس کو واپس طلب کرے تو کیا انہیں اس کا حق پہنچتا ہے کہ وہ عاریۃً چیز کو واپس لوٹانے سے انکار کر دیں؟ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا نہیں، اُمّ سلیم نے کہا آپ اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ سے ثواب طلب کریں (اس کا انتقال ہوگیا) ابوطلحہ (ناراض ہو کر) کہنے لگے تم نے مجھے بتایا ہی نہیں۔ جب میں مجامعت کر بیٹھا تو پھر تم نے بیٹے کے فوت ہونے کا تذکرہ کیا، یہ کہا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ کہہ سنایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو برکت فرمائے۔ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اُمّ سلیم حاملہ ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں تھے، اُمّ سلیم بھی سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھیں اور رسول اللہ ﷺ جب سفر سے مدینہ تشریف فرما ہوتے تو رات کو نہ آتے۔ چنانچہ مدینہ کے قریب پہنچے تو اُمّ سلیم کو دردِ زہ شروع ہوگیا، ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُمّ سلیم کے پاس رکنا پڑا اور رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے اے اللہ بے شک تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے نکلیں تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلوں اور جب آپ ﷺ مدینہ میں داخل ہوں تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہوں، تجھے معلوم ہے کہ میں اب رک گیا ہوں۔ اُمّ سلیم کہنے لگیں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اب مجھے وہ تکلیف نہیں رہی جس کو میں پہلے محسوس کرتی تھی لہٰذا ہم بھی چلیں ہم وہاں سے چلے۔ مدینہ پہنچے تو دردِ زہ شروع ہوگیا اور لڑکا پیدا ہوا۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا کہ اس بچے کو کوئی دودھ نہ پلائے، کل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جائیں گے۔ چنانچہ صبح کے وقت میں نے بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پہلی تمام حدیث کو بیان کیا۔

لغات:

❖ قَبَضَ: قَبْضًا ضرب سے بمعنی کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑنا اور اس پر انگلیاں جما دینا۔ قبضہ اللہ خدا کا کسی کو مار دینا۔ جدید لغت میں قبضہ ہینڈل۔

❖ العشاء: عَشَّی تَعْشِیَةً بمعنی شام کا کھانا کھلانا اور اعشیٰ عشاء رات کا کھانا کھلانا تعشٰی رات کا کھانا کھایا۔

❖ اعرستم: عَرَسَ عَرْسًا سمع سے بمعنی اترانا چمٹ جانا محبت کرنا اعرس دلہن لانا چکی کے ایک پاٹ کو دوسرے پر پیسنے کے لئے رکھنا، جماع کرنا۔

❖ فمضغھا: مضغ مَضْغًا فتح اور نصر سے بمعنی چبانا۔

❖ حنکہ: حنک حَنْکًا چبا کر نرم کرنا اور حَنَّکَ حَنْکًا و حَنَّکًا ضرب اور نصر سے بمعنی زمانہ کے تجربات و امور کا انسان کو دانا و حکیم بنا دینا۔ تحنک پگڑی کو ٹھوڑی کے نیچے سے لا کر باندھنا۔

❖ شبع: شبع شِبْعًا سمع سے بمعنی سیر ہونا۔

❖ تلطخت: لطخ لَطْخًا فتح سے بمعنی آلودہ کرنا۔ لتھیڑنا

تشریح: قَالَتْ اُمُّ سَلَیْمٍ: وَھُوہ اَسْکَنُ مَا کَانَ فَقَرَّبَتْ اِلَیْہِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشّٰی ثُمَّ اَصَابَ مِنْھَا۔

اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ سکون میں ہے، اُمّ سلیم نے شام کا کھانا ان کے سامنے رکھا انہوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور رات کو جماع بھی کیا۔

اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا عظیم الشان صبر و تحمل

اس حدیث پاک میں حضرت اُمّ سلیم انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے صبر و تحمل اور شوہر کے ساتھ وفا شعاری کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ بچے کا انتقال ہوگیا وہ بھی نرینہ اولاد کا اس سے پہلے بھی ایک لڑکا جس کا نام عمیر تھا اس کا بھی انتقال ہو چکا تھا نیز ماں کو بچے سے کس قدر محبت ہوتی ہے باپ کو اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔

دوسری طرف شوہر کے ساتھ وفاداری کہ اگر شوہر کو بچے کے انتقال کی خبر سنادی تو معلوم نہیں کتنے دن تک کھانا پینا اور آرام و راحت سے محروم ہوجائیں گے اس لئے خود اپنے کلیجہ پر صبر و ضبط کا پتھر رکھ کر شوہر کے لئے بتکلف آراستہ ہو کر اس کو طبعی خواہش کی بھی ترغیب دی ان سب باتوں نے اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدا پرستی، شوہر کے ساتھ خدمت گذار ایک قابل تقلید شخصیت بنا دی۔

جو تو میرا تو سب میرا فلک میرا زمین میری

اگر اک تو نہیں میرا تو کوئی شے نہیں میری

تحنیک کرنا سنت ہے

ثم حنکہ اس کو تحنیک فرمائی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔

تحنیک کہتے ہیں کھجور وغیرہ چبا کر بچے کے تالو میں مل دینا۔ اس کی شریعت میں بہت اہمیت ہے کتب حدیث میں تحنیک کے بہت سے واقعات آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہما اپنے نومولود بچوں کو آپ ﷺ کی خدمت میں لے جایا کرتے اور آپ ﷺ سے دعائے برکت اور تحنیک کراتے۔ امام نوویؒ نے لکھا ہے کہ نومولود بچے کو کسی دیندار عالم یا صالح بزرگ کے پاس لے جا کر اس کے لئے دعائے خیر و برکت کرانا چاہئے اور چھوارہ چبا کر اس کے منہ میں بھی لگا دے اگر چھوارہ نہ ہو تو کوئی میٹھی چیز یا شہد وغیرہ لگا دیا جائے۔ عموماً لوگوں نے اس بنیادی سنت کو چھوڑ دیا ہے۔

اور آپ ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے جس کے راوی ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں

صفحہ 4

فرماتے ہیں اَحَبُّ الْاَسْمَاءِ اِلَی اللّٰہِ عَبْدُاللّٰہِ وَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ (2) کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ پسندیدہ نام اللہ تعالیٰ کے نزدیک عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔

عورت کا اپنے شوہر کے لئے زینت کرنا جائز ہے

ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهٗ اَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذٰلِكَ پھر پہلے سے کہیں زیادہ بن سنور کر ان کے پاس آئیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت زیب و زینت کرے تو یہ جائز ہے بشرطیکہ یہ زیب و زینت شوہر کے لئے ہو، نامحرم نہ دیکھیں اور یہ زینت اس طرح نہ ہو کہ بالکل حلیہ ہی بدل جائے جس کو تغییر خلق اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس زینت میں تشبہ بالکفار نہ ہوجائے کیونکہ ایک روایت میں فرمایا گیا لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِغَيْرِنَا لَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ وَلَا بِالنَّصَارَی۔

اسی طرح اس زینت میں تشبہ بالرجال بھی نہ ہو کیونکہ آپ ﷺ نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو تشبہ بالرجال کرتی ہیں:

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهِينَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ۔ (3)

عورتیں بھی آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کے لئے جاتی تھیں

وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ سفر میں تھے حضرت اُمّ سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی (اپنے خاوند ابوطلحہ کے ساتھ) آپ ﷺ کے ساتھ تھیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن بھی میدانِ جنگ میں شریک ہوتی تھیں مگر ان کا کام زخمیوں کی مرہم پٹی، بیماروں کی تیمارداری اور کھانے پینے کا انتظام وغیرہ کرنا ہوتا تھا۔ امام ترمذیؒ نے اسی وجہ سے ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان ہے بَابُ مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْحَرْبِ یعنی عورتوں کا جہاد میں نکلنا اس کے بعد یہ روایت نقل کی ہے۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَ نِسْوَةٍ مَّعَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ لِيَسْتَقِينَ الْمَاءَ وَ يُدَاوِينَ الْجَرْحَی۔ (5)

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ اُمّ سلیم اور انصار کی عورتوں کو ساتھ جہاد میں لے جایا کرتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو پانی پلائیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کریں۔

تخریج حدیث: رواہ البخاری فی الجنائز (باب من لم یظھر حزنہ عند المصیبة و فی العقیقة (باب تسمیة المولود) رواہ مسلم فی الادب (باب استحباب تحنیک المولود عند ولادتہ، و فی فضائل الصحابة (باب من فضائل ابی طلحة الانصاری رضی اللہ تعالی عنہ)

غصہ پر قابو پا کر صبر کرنا

(45) وَ عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَةِ، اِنَّمَا الشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَهٗ عِنْدَ الْغَضَبِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَالصُّرَعَةُ بِضَمِّ الصَّادِ وَ فَتْحِ الرَّاءِ وَ اَصْلُهُ عِنْدَ الْعَرَبِ مَنْ یَصْرَعُ النَّاسَ کَثِیْرًا۔

ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دیتا ہے طاقتور تو صرف وہ انسان ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔"

الصرعة: صاد پر پیش اور را پر زبر کے ساتھ اس کی اصل عربوں میں یہ ہے کہ جو اکثر لوگوں کو پچھاڑ دے۔

لغات: ❖ الشدید: شَدَّ شِدَّةً ضرب سے بمعنی قوی ہونا۔ الشدید کے کئی معنی آتے ہیں بہادر، قوی، بلند، مضبوط، بخیل، شیر جمع اَشِدَّاء و شداد و شدوذ۔

❖ الصُّرَعَة: صرع، صرعاً فتح سے بمعنی زمین پر گرا دینا۔ الصُّرَعَة جس کو لوگ اکثر پچھاڑ دیں۔ اکثر پچھاڑنے والا۔

❖ یملک: ملک مَلْكًا ضرب سے بمعنی مالک ہونا۔ غالب ہونا۔ اپنے نفس پر قابو رکھنا۔

تشریح: پہلوان وہ ہے جو غصہ کو اپنے قابو میں رکھے

لَيْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَةِ: طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے۔

اس میں بتایا جا رہا ہے کہ جسمانی قوت و طاقت پر شجاعت کا دارو مدار نہیں، شجاعت کا مدار صرف قوتِ نفس پر ہے، اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ آدمی انتہائی غیض و غضب اور اشتعال کی کیفیت میں ہوتا ہے اس وقت میں وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ نفس کو پچھاڑنے والے کو بڑا پہلوان اس لئے کہا گیا ہے کہ جسم فانی کی روح باقی کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی تو اب جو اپنے نفسِ امارہ کو پچھاڑ دے گا اس کی حیثیت شریعت کی نگاہ میں جسم کے پچھاڑنے والے سے زیادہ ہوتی ہے۔

Page 181

روضۃ الصالحین جلد اول

نیز یہ کہ سامنے والا پہلوان اتنی طاقت والا نہیں جتنا کہ اس کا نفسِ امارہ طاقت والا ہے جیسے کہ حدیث میں فرمایا گیا "اَعْدٰی عَدُوِّكَ نَفْسُكَ الَّتِيْ بَيْنَ جَنْبَيْكَ" (1) کہ تمہارے دشمنوں میں سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو تمہارے پہلو میں ہے۔ اس کو پچھاڑنے والا زیادہ طاقتور ہوگا۔

بھروسہ کچھ نہیں اس نفسِ امارہ کا اے زاہد

فرشتہ بھی ہوجائے تو اس سے بدگمان رہنا

تخریجِ حدیث: رواہ البخاری فی الادب (باب الحذر من الغضب) و مسلم فی البر باب فضل من يملك نفسه عند الغضب اخرجہ امام مالک فی مؤطا 1681 و احمد 7223/3 والطيالسی 2520، و ابن حبان 717 والبیهقی 235/10

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) بخاری، تعلیق الصحیح 311/5، معارف الحدیث 228،229/2

تعوذ غصہ کا علاج ہے

(46) وَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ وَ رَجُلَانِ يَسْتَبَّانِ وَ اَحَدُهُمَا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهٗ، وَانْتَفَخَتْ اَوْدَاجُهٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اِنِّیْ لَاَعْلَمُ کَلِمَةً لَّوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ، اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ذَهَبَ مِنْهُ مَا يَجِدُ فَقَالُوْا لَهُ، اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: تَعَوَّذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ: "حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمتِ اقدس میں موجود تھا کہ دو آدمی آپس میں دست و گریباں ہو گئے ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی گردن کی رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اگر یہ اس کو کہہ دے تو اس کا غم و غصہ دور ہو جائے۔ اگر اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھ لے تو اس کی یہ حالت دور ہو جائے، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اس سے کہا کہ نبی ﷺ تیرے بارے میں فرماتے ہیں کہ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھ لے۔"

لغات: ❖ انتفخت: نفخ نفخاً نصر سے بمعنی پھونک مارنا۔ انتفخ پھولنا۔

❖ اوداجہ: وَدَجَ وَدْجاً ضرب سے بمعنی جانوروں کی گردن کی رگ کاٹنا۔ الوَدَج ج: اوداج گردن کی رگ۔

❖ تعوذ: عاذ عوذاً نصر سے بمعنی پناہ مانگنا۔ عوّذ تعویذاً۔ حفاظت کرنا۔ جادو کرنا۔ تعویذ پہنانا۔

Page 182

روضۃ الصالحین جلد اول

تشریح: غصہ شیطانی وسوسہ ہے

لو قال اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ اگر اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھ لے تو اس کی یہ (غصہ) کی حالت دور ہو جائے۔

غصہ میں شیطان آدمی پر مسلط ہو جاتا ہے اس لئے ایک دوسری روایت میں فرمایا گیا کہ غصہ آگ کی چنگاری ہے تم میں سے جو شخص اسے محسوس کرے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور اگر بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔ (1)

اور غصہ میں شیطانی مقاصد کی تکمیل ہوتی ہے اس لئے اس موقع پر شیطان سے پناہ مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں اگر تعوُّذ سے بھی غصہ نہ جائے تو وضو کرلے اس سے بھی دور نہ ہو تو دو رکعت نماز پڑھ لے یہ حربی دوا ہے جو شیطان پر بہت ناگوار ہوتی ہے۔ (2)

غصہ کا علاج

احادیث میں غصہ کا دو قسم کا علاج بتایا گیا ہے ایک ظاہری دوسرا باطنی۔

ظاہری علاج یہ بتایا گیا ہے کہ وضو کر لے:

اِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَ اِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَ اِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ اَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ۔ (3)

ترجمہ: غصہ شیطانی اثر کا نتیجہ ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ صرف پانی سے بجھتی ہے تو جس کو غصہ آئے اسے چاہئے کہ وضو کرے۔

اور حدیث میں اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ پڑھنے کو فرمایا گیا ہے۔ بعض روایات میں فرمایا کہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے بیٹھا ہو تو لیٹ جائے جیسے کہ روایت میں آتا ہے۔

"اِذَا غَضِبَ اَحَدُکُمْ وَ هُوَ قَائِمٌ فَلْیَجْلِسْ فَاِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَ اِلَّا فَلْیَضْطَجِعْ" (4)

ترجمہ: کہ تم میں سے کسی کو کھڑے ہونے کی حالت میں غصہ آجائے تو بیٹھ جائے ورنہ لیٹ جائے۔

باطنی علاج یہ بتایا گیا ہے کہ اس بات کا تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے اس کا غصہ کتنا شدید ہوگا وہ اپنے بندوں کے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور میں قادرِ مطلق بھی نہیں خالق و مالک بھی نہیں میں اس معمولی سی بات پر غصہ کروں۔

دوسرا تصور یہ کرے کہ قسمت میں جس طرح جو بات لکھی ہے ویسی ہی ہوتی ہے اس کا تصور کرنے سے بھی غصہ کافور ہو جاتا ہے۔

Page 183

روضۃ الصالحین جلد اول

تخریجِ حدیث: رواہ البخاری فی بدأ الخلق (باب صفة ابليس و جنوده) والادب (باب ما ینہی من السباب و اللعن) و (باب الحذر من الغضب) و مسلم فی البر (باب من يملك نفسه عند الغضب و بأی شیء يذهب الغضب) و اخرجہ احمد 27275/10 و مصنف ابن ابی شیبہ 533/8 و ابن حبان 5692 والحاکم 3649/2۔

راوی حدیث حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مختصر حالات:

نام: سلیمان، کنیت: ابو معرَف، والد کا نام: صرد بن جون تھا۔ فتحِ مکہ سے پہلے مسلمان ہوئے۔ زمانہ جاہلیت میں ان کا نام بیسار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر سلیمان رکھا۔ اسلام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے تھے۔ (طبقات ابن سعد 30/4)

جنگِ صفین میں حضرت علیؓ کے پرجوش حامیوں میں سے تھے اس جنگ میں یہ زخمی بھی ہوئے۔ اور کوفہ میں حضرت حسینؓ کے حامیوں کی جماعت میں سے تھے۔ حضرت حسینؓ کے بلانے کے خطوط انہیں کے گھر سے لکھے جاتے تھے۔ کربلا کا جب واقعہ پیش آیا تو ان کو بہت افسوس ہوا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ حضرت حسینؓ کی آمد پر ان کی مدد نہ کر سکے۔ حضرت حسینؓ کے خون کا انتقام لینے کے لئے چار ہزار آدمیوں کو لے کر مروان بن حکم کی فوج سے جنگ کی یہاں تک کہ شہید ہو گئے ان کے سر کو کاٹ کر مروان بن حکم کے پاس بھیجا گیا اس وقت ان کی عمر 93 سال تھی۔ (استیعاب 41/4-5)

ان سے پندرہ احادیث منقول ہیں بخاری و مسلم حدیثِ بالا پر متفق ہیں بخاری میں اس کے علاوہ ایک اور روایت ہے سنن میں باقی دوسری کتب میں موجود ہیں۔

(1) تنبیہ الغافلین ص 221

(2) مرقاة 312/9

(3) ابوداؤد

(4) مشکوٰۃ

غصہ کے قابو پر انعام

(47) وَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَظَمَ غَيْظًا، وَ هُوَ قَادِرٌ عَلٰی اَنْ یُنْفِذَهٗ دَعَاهُ اللّٰهُ سُبْحَانَهٗ وَ تَعَالٰی عَلٰی رُءُوْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حَتّٰی یُخَیِّرَهٗ مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ مَا شَآءَ

(رَوَاهُ اَبُوْ دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِیُّ وَ قَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ)

ترجمہ: "حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص غصہ کو پی جاتا ہے حالانکہ وہ اس کو نافذ کرنے پر قادر تھا اللہ پاک اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلوا کر اختیار دیں گے کہ حورِ عین میں سے جس کو چاہے پسند کر لے۔"

لغات: ❖ کظم: کظم كُظُوْمًا سمع سے بمعنی غصہ کو پی جانا۔ چپ رہنا۔

24


۱۸۲

روضۃ الصالحین جلد اول

❖ ينفذ: نفذ نفذاً و نفوذاً نصر سے بمعنی چھید کر پار ہونا۔ قوم سے آگے گذر جانا۔ النافذ اسم فاعل ہر کام کو کر گذرنے والا۔ نفذ نفوذاً بمعنی اثر و رسوخ جدید لغت میں مستعمل ہے۔

❖ رؤوس: الرأس مفرد ہے بمعنی سر جمع رؤوس۔ ارؤس و رؤس اور اس اور بھی کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ الرأس چیز کا سب سے بلند حصہ، قوم کا سردار۔ راس الشہر او العام۔ مہینہ کا پہلا دن یا نئے سال کا پہلا دن۔ رأس الجلسہ صدارت کرنا۔

تشریح: غصہ کو قابو کرنے والے کو انعام

ایک دوسری روایت میں آتا ہے:

مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَى إِنْفَاذِهٖ مَلَأَهُ اللهُ تَعَالَى قَلْبَهٗ اَمْناً وَّ اِيْمَاناً۔ (۱)

ترجمہ: کہ جس شخص نے غصہ کو ضبط کر لیا باوجود یہ کہ وہ غصہ کو نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان و سکون سے بھر دے گا۔

عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتّٰى يُخَيِّرَهُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِيْنِ مَا شَاءَ۔

ترجمہ: تمام مخلوقات کے سامنے بلوا کر اس کو اختیار دیں گے کہ حورعین میں سے جس کو چاہے پسند کر لے۔

اس حدیثِ پاک میں غصہ کو پینے والوں کو ایک انعام دینے کا وعدہ کیا جا رہا ہے کہ آدمی غصہ میں بقول حکماء کے جنون ساعۃٍ۔(۲) "غصہ وقتی دیوانگی ہے" تو اس وقتی دیوانگی میں بے قابو ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اپنے غصہ کے وقت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے تو اللہ کی طرف سے اس کو یہ انعام ملے گا کہ قیامت کے دن اس کے سامنے بہت سی حوروں کو کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ان میں جو تم کو زیادہ اچھی لگتی ہوں ان کو پسند کر لو۔

حور العین کا معنی

حُوْرُ الْعِيْنِ: حور کے لغوی معنی سَمِعَ سے ہے کہ آنکھ کی سفیدی کا بہت سفید ہونا اور سیاہی کا بہت زیادہ سیاہ ہونا۔ (۳) ایسی آنکھیں بہت خوب صورت ہوتی ہیں اور آنکھ ہی سے عورت کی خوب صورتی زیادہ ہوتی ہے۔ بعض کہتے ہیں حور یہ نصر سے ہے بمعنی حیرت میں ڈال دینا۔ (۴) مطلب یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کا حسن دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دے گا۔

تخریج حدیث: رواہ ابوداؤد فی الادب (باب من کظم غیظاً) والترمذی فی ابواب صفة القيامة (باب فضل الرفق بالضعیف والوالدین والمملوک) و اخرج احمد فی مسنده ۱۵۶۳۷/۵، ابن ماجه


صفحہ 186

غصہ کی ممانعت

(48) ﴿وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِي، قَالَ: لَا تَغْضَبْ، فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لَا تَغْضَبْ﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے عرض کیا مجھے وصیت کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا غصہ چھوڑ دیجئے۔ آپ ﷺ نے بار بار دہرایا غصہ چھوڑ دیجئے۔“

لغات: أَوْصِنِي: أَوْصَىٰ إِيصَاءً بمعنیٰ کسی کے لئے کسی چیز کی وصیت کرنا۔ کام کا عہد لینا ۔ ❖ فَرَدَّدَ: رَدَّ رَدًّا نصر سے بمعنیٰ پھیرنا۔ واپس کرنا۔ بات کو بار بار دہرانا۔ ❖ مِرَارًا: الْمَرَّةُ مفرد بمعنیٰ ایک بار۔ جمع مَرٌّ و مِرَارًا و مَرَرٌ جدید لغت میں مرور بمعنیٰ ٹریفک۔

تشریح: آپ ﷺ کی وصیت کہ غصہ نہ کیا کرو

أَوْصِنِي قَالَ لَا تَغْضَبْ ترجمہ: مجھے وصیت کیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا غصہ چھوڑ دیجئے۔ معلوم ہوتا ہے جس صاحب نے وصیت کرنے کی درخواست کی وہ صاحب کچھ غیر معمولی قسم کے تیز مزاج اور مغلوب الغضب تھے۔ اس وجہ سے ان کے لئے مناسب ترین اور مفید ترین وصیت ہو سکتی تھی اور وہ یہی تھی کہ غصہ نہ کیا کرو۔ کیونکہ غصہ ایک مذموم عادت ہے اور غصہ کی حالت میں آدمی اللہ تعالیٰ کے حدود کا خیال نہیں رکھتا۔ شیطان کا تسلط غصہ والے پر ایسا چلتا ہے جیسا کسی دوسری حالت میں نہیں چلتا۔ غصہ مذموم وہ ہے جو دنیاوی معاملات اور نفسانیت کی وجہ سے ہو۔ اور اگر غصہ اللہ کے لئے اور حق کی بنیاد پر ہو اور اس میں حدود سے تجاوز نہ ہو تو یہ غصہ تو کمال ایمان کی نشانی اور جلال خداوندی کا عکس ہے۔ نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی میں جس چیز کی کمزوری ہو اسے اس بات کی بار بار نصیحت کرنا چاہئے تاکہ وہ مذموم عادت اس سے چھوٹ جائے۔ (2)

تخریج حدیث: رواہ البخاری فی الادب (باب الحذر من الغضب) رواہ امام احمد فی مسنده 8752/3 و رواہ البخاری فی الادب المفرد و ابن حبان۔

Page 187

مصائب گناہوں کا کفارہ ہیں

(49) ﴿وَ عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَ وَلَدِهٖ وَ مَالِهٖ حَتّٰى يَلْقَى اللهَ تَعَالَى وَ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ﴾ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ)

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کی جان، اولاد، مال پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔"

لغات: البلاء: بمعنی غم، آزمائش خیر سے ہو یا شر سے۔ ❖ یلقی: لَقِيَ يَلْقَىٰ لِقَاءً وَ لِقَاءَةً (از باب سمع) بمعنی ملاقات کرنا، استقبال کرنا۔

تشریح: اولاد و مال کی آزمائش پر بھی آدمی کے گناہ معاف ہوتے رہتے ہیں

﴿مَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَ الْمُؤْمِنَةِ فِي نَفْسِهِ وَ وَلَدِهِ وَ مَالِهِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ تَعَالَى وَ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ﴾ ترجمہ: مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کی جان، اولاد، مال پر مصیبتیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرتا ہے تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی اولاد یا مال وغیرہ پر جو کمی زیادتی وغیرہ سے آزمائش آتی ہے اس پر وہ صبر کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اس پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے صبر کرنے پر یہ انعام مرحمت فرمائے ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی مؤمن پر حالات آئیں یا اس کے مال و دولت میں کمی ہو جائے تو اس کو اس پر جزع فزع اور واویلا کرنے کے بجائے صبر کرنا چاہئے اور اس کو اللہ جل شانہ کی طرف سے امتحان سمجھنا چاہئے۔ (1)

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا گیا: ﴿وَ نَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَ الْخَيْرِ فِتْنَةً﴾ (2) ہم تمہاری شر اور خیر کے ساتھ آزمائش کریں گے۔ (حوالہ: سورہ الانبیاء، آیت: 35)

﴿لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ (3) ہم نے تم کو پیدا کیا تاکہ امتحان لیں تم میں سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے۔ (حوالہ: سورہ الملک، آیت: 2)


روضة الصالحین جلد اول وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں رہتا۔ علماء فرماتے ہیں کہ صبر کرنے سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں، کبیرہ گناہ تو توبہ و استغفار سے معاف ہوں گے۔

تخریج حدیث: رواہ الترمذی فی کتاب الزہد (باب ما جاء فی الصبر علی البلاء) و اخرجہ امام مالک فی مؤطا 556 و احمد 9818/3، ترمذی، ابن حبان 2913 والحاکم 1281/1، والبیہقی۔


یہ رہا فراہم کردہ تصاویر کا متن، جس میں اردو اسلامی ادب کے معیارات اور آپ کی ہدایات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ یہ صفحات کتاب "روضۃ الصالحین (جلد اول)" سے ماخوذ ہیں۔


صفحہ 187

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اتباعِ قرآن

(50) ﴿وَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَدِمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ بَدْرٍ فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ أَخِيهِ الْحُرِّ بْنِ قَيْسٍ، وَ كَانَ مِنَ النَّفَرِ الَّذِينَ يُدْنِيهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ مُشَاوَرَتِهِ كُهُولًا كَانُوا أَوْ شُبَّانًا فَقَالَ عُيَيْنَةُ لِابْنِ أَخِيهِ: يَا ابْنَ أَخِي لَكَ وَجْهٌ عِنْدَ هَذَا الْأَمِيرِ فَاسْتَأْذِنْ لِي عَلَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ لَهُ عُمَرُ، فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: هِيَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَوَ اللَّهِ مَا تُعْطِينَا الْجَزْلَ وَ لَا تَحْكُمُ فِينَا بِالْعَدْلِ، فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ. فَقَالَ لَهُ الْحُرُّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ، وَ إِنَّ هَذَا مِنَ الْجَاهِلِينَ، وَاللَّهِ مَا جَاوَزَهَا عُمَرُ حِينَ تَلَاهَا، وَ كَانَ وَقَّافًا عِنْدَ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى﴾ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں عیینہ بن حصن اپنے بھتیجے حر بن قیس کے پاس آئے اور حر بن قیس ان لوگوں میں سے ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا قریبی سمجھتے تھے اور قرآء لوگ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں بیٹھتے اور ان کے مشیر تھے جن میں کچھ ادھیڑ عمر والے اور کچھ نوجوان تھے۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے حر بن قیس سے کہا حضرت امیر المومنین کے ہاں تیرا مقام ہے میرے لئے وہاں جانے کی اجازت طلب کیجئے۔ چنانچہ انہوں نے اجازت مانگی اجازت مل گئی۔ جب وہ مجلس میں آئے تو عیینہ نے کہا کہ اے ابن الخطاب! رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدا کی قسم نہ تو ہمیں زیادہ مال عطا کرتا ہے اور نہ ہی تو ہم میں عدل


صفحہ 188

و انصاف کر رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی بات سن کر ناراض ہوگئے، قریب تھا کہ اس پر دست درازی شروع کردیتے۔ یہ حالت دیکھ کر حر بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے امیر المومنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا: ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 199) ”معافی اختیار کرو نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے رو گردانی کرو اور یہ جاہلوں میں سے ہے۔“ اللہ کی قسم اس آیت کی تلاوت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ حرکت نہ کی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتاب اللہ کے مطابق بہت زیادہ عمل کرتے تھے۔“

لغات:

يدنيهم: دَنَا يَدْنُوْا نصر سے بمعنی قریب ہونا اور سمع سے دَنِئَ بمعنی گھٹیا، ردی ہونا۔

مشاورته: شاور مشاورة مفاعلہ سے بمعنی آپس میں مشورہ کرنا۔

كهولاً: كَهْلٌ كُهُولًا فتح سے بمعنی ادھیڑ عمر کا ہونا۔

شبانا: الشباب والشبية مصدر بمعنی جوانی سن بلوغ سے تیس برس تک کا زمانہ۔

الجزل: اجزل العطاء کسی کو بخشش دینا اور بہت دینا۔ جزل جزلًا ضرب سے بمعنی دو ٹکڑے کرنا۔ کرم سے جَزَالَةً بڑا ہونا، موٹا ہونا۔

تلاها: تلا تلاوة نصر سے بمعنی پڑھنا۔

تشریح: حکمران کے مشیر کا اہل علم ہونا ضروری ہے وَ كَانَ الْقُرَّاءُ أَصْحَابَ مَجْلِسِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اہل قرآء سے مراد علم والے ہیں جو قرآن و حدیث کے معانی و مفاہیم، ناسخ و منسوخ، حلال و حرام کے علوم سے آگاہ ہوں۔ خلفاء راشدین کے مشیر اور ہم نشین اہل علم وغیرہ ہی تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران کو بھی اپنا مشیر دین کے علم اور شعور والوں کو ہی بنانا چاہئے، اس میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے ادھیڑ عمر کے ہوں یا جوان ہوں بشرطیکہ ان میں علم اور تقویٰ کی دولت ہو۔ (1)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے کوئی قرآن کی آیت پڑھ دیتا تو ان کا غصہ بالکل ختم ہو جاتا ”فَغَضِبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى هَمَّ أَنْ يُوقِعَ بِهِ“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غضبناک ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے ان کو مارنے کا ارادہ کیا۔


صفحہ 189

جب عیینہ بن حصن نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر الزام لگایا کہ آپ ہمارے ساتھ عدل وانصاف نہیں کرتے تو اس الزام کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غصہ کیا مگر جب عیینہ بن حصن کے بھتیجے نے قرآن کی آیت ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾ (سورۃ الاعراف: 199) پڑھی تو فوراً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جتنا بڑا ہو اتنا اس میں صبر وتحمل بھی ہونا چاہئے نیز قبول حق کے لئے کسی تامل کا اظہار نہیں کرنا چاہئے فوراً قبول کرلینا چاہئے۔ (2)

حضرت امام جعفر صادقؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو برگزیدہ اخلاق اختیار کرنے کا حکم دیا ہے قرآن مجید میں کوئی اور آیت اس آیت سے بڑھ کر مکارم اخلاق کی جامع نہیں ہے۔ (3)

علماء نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب بھی غصہ آتا اور کوئی قرآن کی آیت ان کے سامنے پڑھ دیتا تو فوراً ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا تھا۔

تخریج حدیث: رواه البخاری فى كتاب التفسير تفسير سورة الاعراف (باب خذ العفو وأمر بالعرف) باب اقتداء النبى صلى الله عليه وسلم.




یہ رہا فراہم کردہ تصاویر کا متن، جس میں اردو اسلامی ادب کے معیارات اور آپ کی ہدایات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ یہ صفحات کتاب "روضۃ الصالحین (جلد اول)" سے ماخوذ ہیں۔





حکمرانوں کے ظلم پر صبر کی تلقین

(51) ﴿وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ وَ أُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَ تَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾

وَالْأَثَرَةُ: الْاِنْفِرَادُ بِالشَّيْءِ عَمَّنْ لَّهٗ فِيهِ حَقٌّ۔

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میرے بعد ایک دوسرے پر ترجیح کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور کچھ ایسے امور جن کو تم ناپسند کرو گے، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں کیا حکم ہے؟ فرمایا جو حقوق تم پر ہیں تم ان کو ادا کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے سوال کرتے رہو۔“


صفحہ 190

روضۃ الصالحین جلد اول 190

الاثرۃ ترجیح دینا۔ مطلب یہ ہے کہ جس میں دوسروں کا بھی حق ہو اس کا اکیلے حق دار بن جانا۔

لغات:أثرة: الاثرة بمعنی دوسرے کے مقابلہ میں انسان کا اپنے لئے اچھی شئے پسند کرنا۔ خود کو دوسرے پر ترجیح دینا۔ انتہائی خود پسندی و خود غرضی۔

تشریح: حکمران ظلم کریں تو صبر کرو

سَتَكُونُ بَعْدِي أَثَرَةٌ میرے بعد ایک دوسرے پر ترجیح دیں گے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ میرے دنیا سے جانے کے بعد اگر ایسے حکمران ہوں جو تمہارا جائز حق بھی ادا نہ کریں اور تم پر اپنے اقرباء وغیرہ کو ترجیح دینے لگیں تو اس وقت میں صبر سے کام لینا۔ (1)

ایک دوسری روایت میں فرمایا گیا: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَ أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَاسْئَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ۔ (2)

ترجمہ: یقیناً تم میرے بعد اپنے ترجیحی سلوک اور بہت سی ایسی چیزوں کو دیکھو گے جس کو تم برا سمجھو گے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر آپ ﷺ ہمیں کیا ہدایت دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم ان حاکموں کا حق ادا کرو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔

ناجائز امور میں حکمران کی اطاعت نہیں

”وَ أُمُورًا تُنْكِرُونَهَا“ چند امور جن کو تم ناپسند کرو گے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ جب امیر کی امارت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ اس پر امام نوویؒ نے اجماع نقل کیا ہے۔ (3)

اور اگر ناجائز بات کا حاکم حکم دے تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی مگر اس صورت میں اس کی امارت سے بغاوت یا منازعت جائز نہیں البتہ اگر اس کی طرف سے کفر بواح (بالکل کھلا کفر) سامنے آجائے تو اب اس کے خلاف بغاوت بھی ہوگی اور منازعت بھی۔ حاکم کی طرف خلاف شرع حرکات سرزد ہوں تو دل سے برا سمجھنا ضروری ہے ساتھ ساتھ اس کی اصلاح کی تدابیر بھی سوچتے رہنا چاہئے۔ جو شخص قلباً و عملاً اس کی ان حرکات میں شریک ہوگا اس سے بھی عنداللہ مواخذہ ہوگا۔ (4)

تخریج حدیث: رواه البخاری فى كتاب الانتباه (باب علامات النبوة فى الاسلام) و فى الفتن (باب قول النبي ﷺ سترون بعدي امورا تنكرونها) رواه مسلم فى كتاب الامارة (باب وجوب الوفاء ببيعة الخلفاء الاول فالاول) و اخرجه امام احمد فی مسنده 3640 ابن حبان 4587، والبيهقى 157/8۔



یہ رہا فراہم کردہ تصاویر کا متن، جس میں اردو اسلامی ادب کے معیارات اور آپ کی ہدایات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ یہ صفحات کتاب "روضۃ الصالحین (جلد اول)" سے ماخوذ ہیں۔

صفحہ 191

ہر حال میں صبر کرنا

(52) ﴿وَ عَنْ أَبِي يَحْيَى أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾

وَ أُسَيْدٌ بِضَمِّ الْهَمْزَةِ. وَ حُضَيْرٌ بِحَاءٍ مُهْمَلَةٍ مَضْمُومَةٍ وَ ضَادٍ مُعْجَمَةٍ مَفْتُوحَةٍ وَ اللَّهُ أَعْلَمُ.

ترجمہ: ”حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ مجھے عامل بنا دیجئے جیسا کہ آپ ﷺ نے فلاں انسان کو عامل بنایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے بعد ترجیحی سلوک دیکھو گے پس تمہیں صبر کرنا ہو گا یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری میرے ساتھ ملاقات ہو۔“

”اسید“ ہمزہ کے پیش کے ساتھ اور ”حضیر“ حاء مہملہ (یعنی بغیر نقطے کے) پیش کے ساتھ اور ضاد پر زبر کے ساتھ ہے واللہ اعلم۔

لغات:

تستعملنی: عمل، عملاً سمع سے بمعنی کام کرنا۔ محنت کرنا استعملہ عامل بنانا۔ کام کرنے کو کہنا۔

الحوض: حاض حوضاً نصر سے بمعنی حوض بنانا۔ پانی جمع کرنا۔ الحوض پانی جمع ہونے کی جگہ جمع احواض و حیاض و حیضان۔ جدید لغت میں حوض السفن بمعنی گودی جس میں جہاز کھڑے ہوتے ہیں۔

تشریح: بغیر طلب کے عہدہ ملنے پر فرشتوں کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے ”أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي كَمَا اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا“ مجھے عامل بنا دیجئے جیسا کہ آپ ﷺ نے فلاں انسان کو عامل بنایا ہے۔ عام وقتوں میں آپ ﷺ نے عہدے کے طلب کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے جو خود طلب کرتا ہے تو فرشتوں کی مدد اس سے اٹھالی جاتی ہے اور اگر بغیر طلب کئے ہوئے اس کو عہدہ دے دیا جائے تو فرشتوں کی مدد اس کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہے۔ (1)


صفحہ 192

روضۃ الصالحین جلد اول 192

حکمراں کی طرف سے زیادتی ہو تو صبر کرو فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ بس صبر کرنا یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے مل لو۔ آپ ﷺ کا حکیمانہ مزاج مبارک یہ ہے کہ جب دو طرفہ حقوق ہوتے ہیں وہاں ہر جانب کو اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرے اور اپنے حقوق کی وصولیابی میں درگزر سے کام لے۔ تو اس حدیث میں بھی عوام کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ تم جائز امور میں امراء کی مکمل اطاعت کرنا اگر ناگوار حالت پیش آجائے تو صبر و تحمل سے کام لو اور دوسری بعض روایات میں امراء و سلاطین کو اس بات کی طرف متوجہ فرمایا کہ تم عوام کے حقوق کا پورا لحاظ رکھو۔ اگر عوام کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو حلم اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی قوموں نے اس سنہرے اصول کو سامنے رکھا قوموں میں خوشحالیاں پیدا ہوئیں اور جب بھی ان اصولوں کو چھوڑا تو اس قوم میں بدامنی اور شرو فساد ہی ہوا۔ (2)

تخریج حدیث: رواه البخاری فى الفتن باب قول النبى ﷺ (سترون بعدى امورا تنكرونها) والجنائز والخمس والمناقب والمغازى والرقاق۔ رواه مسلم فى الامارة (باب الامر بالصبر عند الولاة واستئشارهم)۔ و اخرجه احمد 18606/6۔

یہ رہا فراہم کردہ تصاویر کا متن، جس میں اردو اسلامی ادب کے معیارات اور آپ کی ہدایات کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔ یہ صفحات کتاب "روضۃ الصالحین (جلد اول)" سے ماخوذ ہیں۔


صفحہ 193


روضۃ الصالحین جلد اول


جنگ کرنے کی تمنا مضر ہے


(53) ﴿وَ عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ، حَتَّىٰ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فِيهِمْ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، وَ مُجْرِيَ السَّحَابِ، وَ هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ﴾ ﴿مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ﴾ وَ بِاللَّهِ التَّوْفِيقُ۔


ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ دشمن کے مقابلہ میں تھے، سورج کے ڈھلنے کا انتظار فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے سلامتی کا سوال کرو پس جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو جائے تو صبر کرو اور (اچھی طرح جان لو) کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے اللہ! کتاب نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے ان کو شکست دے اور ان پر ہمیں غالب فرما۔“


لغات:


❖ ظلال: جمع ہے اس کا مفرد الظل ہے بمعنی سایہ جمع ظلال اطلال۔


❖ السیوف: السيف تلوار جمع اسیاف و سیوف و اسیف۔ السيف ایک قسم کی سمندری مچھلی جس کی تلوار نما چونچ ہوتی ہے۔


❖ السحاب: بادل جمع سُحُب واحد سحابة جدید لغت میں سحاب لائری نکالنا۔


❖ هازم: هزم هزمًا ضرب سے بمعنی دشمن کو شکست دینا۔


❖ الاحزاب: الحزب گروہ، پارٹی۔ انسان کی فوج اور اس کے ہم خیال ساتھی۔ حصہ، جمع اس کی احزاب آتی ہے۔ جدید لغت میں حزب شیوعی کمیونسٹ پارٹی، حزب اشتراکی سوشلسٹ پارٹی۔


تشریح: دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی تمنا نہ کرو

”لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ“ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی تمنا نہ کرو۔

ایک طرف تو شریعت نے مسلمانوں کو ہمہ وقت جہاد کے لئے مستعد رہنے کی تاکید کی اور ساتھ ہی ساتھ یہ تاکید بھی کی جارہی ہے کہ خواہ مخواہ لڑائی مول بھی مت لو ہاں اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو اللہ جل شانہ پر اعتماد کر کے انتہائی پامردی کے


صفحہ 194


روضۃ الصالحین جلد اول


ساتھ دشمنوں سے مرتے دم تک لڑو یہاں تک کہ شہید ہو کر جنت پہنچ جاؤ یا غازی بن کر زندہ رہو۔ نیز اس خطبہ سے اس پروپیگینڈہ کی بھی تردید ہو رہی ہے جو دشمنانِ اسلام کرتے ہیں کہ اسلام تو صرف خونریزی اور غارتگری کی تعلیم دیتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف تو اسلام نے یہ کہا کہ خواہ مخواہ لڑائی مت کرو اس کے بعد بھی صلح کرنے کی کوشش کرو۔ ﴿وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ ”اے نبی اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ پھر وہ دشمن نہ مانے تو اب پھر لڑائی ہے۔“ (1)

(حوالہ: سورۃ الانفال، آیت 61)


فَإِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوْا:

اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ اے اللہ کتاب کے نازل کرنے والے۔

یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب جنگ ہو تو سارا اعتماد اپنے ہتھیاروں، مادی ساز و سامان اور اپنی قوت و طاقت پر نہ کرنا بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا اور دعاؤں میں مشغول رہنا اور یقین رکھنا کہ فتح و نصرت اللہ کے پاس ہے۔ (2) ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ﴾ جیسے کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (3)

(حوالہ: سورۃ الانفال، آیت 45)


ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم کو کسی جماعت سے جہاد میں مقابلہ کا اتفاق ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کا خوب کثرت سے ذکر کرو۔


تخریج حدیث: رواه البخاري في الجهاد (باب الجنة تحت بارقة السيوف) و (باب لا تتمنوا لقاء العدو) رواه مسلم في الجهاد (باب كراهة تمنى لقاء العدو والإمر بالصبر عند اللقاء) و اخرجه امام احمد في مسنده 19136/7 والحاكم 3413/2، ابوداؤد ايضاً۔