مراقبہ کا بیان



(5) بَابُ الْمُرَاقَبَةِ

مراقبہ کا بیان

قَالَ اللّٰهُ تَعَالَى : ﴿اَلَّذِيْ يَرَاكَ حِيْنَ تَقُوْمُ وَ تَقَلُّبَكَ فِى السَّاجِدِيْنَ﴾

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”جو تم کو جب تم (تہجد وغیرہ کے وقت) اٹھتے ہو دیکھتا ہے اور نمازیوں میں تمہارے پھرنے کو بھی۔“

روضۃ الصالحین جلداول 209

تشریح: ”الذي يراك حين تقوم.“ جو تم کو دیکھتا ہے جس وقت تم کھڑے ہوتے ہو۔

اس میں مفسرین کے تین اقوال ملتے ہیں۔ (1)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مقاتل کے نزدیک کھڑے ہونے سے مراد نماز میں کھڑا ہونا ہے۔

ابوالجوزا فرماتے ہیں مراد کھڑے ہونے سے جب بھی آپ ﷺ اپنی جگہ کھڑے ہوں۔ (2)

حضرت حسن بصری کے نزدیک مراد جب آپ ﷺ تنہائی میں ہوتے ہیں۔ (3) سب ہی مراد ہوسکتا ہے۔

”وَتَقَلُّبَكَ فِى السَّاجِدِيْنَ“ ساجدین سے مراد حضرت عبداللہ بن عباس، عکرمہ اور مقاتل وغیرہ کے نزدیک نماز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تم کو اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تم تنہا نماز پڑھتے ہو اور اس وقت بھی دیکھتا ہے جب نمازیوں کے ساتھ جماعت کی نماز پڑھتے ہو۔

علامہ مجاہد نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ آپ ﷺ جب نماز میں مقتدیوں کی طرف دیکھتے ہو اس کو بھی اللہ جانتا ہے جیسے کہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ میں اپنی پشت کے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے کہ سامنے کی طرف دیکھتا ہوں۔ (4)

بعض کے نزدیک اس سے مراد تہجد کی نماز ہے۔ تہجد گزاروں کے احوال کو تلاش کرنے کے لئے آپ ﷺ جو آتے جاتے ہیں اللہ اس کو دیکھتا ہے۔

بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جب شب کی نماز کی فرضیت منسوخ ہوئی تو آپ ﷺ رات کو اپنے گھر سے باہر تشریف لے آئے تاکہ دیکھیں کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم رات کو اپنے گھروں میں کیا کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو عبادت خداوندی میں مشغول پایا اس حال کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ (5)

یہ تمام ہی باتیں آیت کریمہ میں مراد ہوسکتی ہیں۔

Page 210

اللہ ہر حال میں ساتھ ہے

وَقَالَ تَعَالَى : ﴿وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ﴾

(Reference: Surah Al-Hadid, Ayat 4)

ترجمہ: نیز فرمایا: ”اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔“

تشریح: اے بندو! تم جہاں کہیں بھی ہوں اللہ تمہارے ساتھ ساتھ ہے۔ انسان ہر ایک سے چھپ سکتا ہے مگر اللہ کے سامنے وہ چھپ نہیں سکتا۔ اللہ ساتھ میں ہے اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطۂ علم میں نہیں آسکتی مگر یہ معیت کا وجود یقینی ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کا وجود قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی کام ہوسکتا ہے۔ دنیا کا تمام نظام اسی اللہ کی مشیت وقدرت پر ہی موقوف ہے، وہ اللہ ہر جگہ اور ہر حال میں موجود ہے مگر معیت ناقابل بیان ہے۔ (1)

علامہ ابن کثیر نے آپ ﷺ کی روایت نقل کی ہے کہ سب سے افضل ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس کا یقین ہو کہ جہاں پر بھی میں ہوں گا اللہ میرے ساتھ ہوگا۔ امام احمد کی طرف یہ اشعار منسوب ہیں:

اِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْمًا فَلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَ لٰكِنْ قُلْ عَلَىَّ رَقِيْبُ

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفِلُ سَاعَةً وَ لَا اَنَّ مَا تُخْفِىْ عَلَيْهِ يَغِيْبُ (2)

(1) معارف القرآن 8 / 293 (2) تفسیر ابن کثیر 3 / 326

اللہ سے کوئی شے مخفی نہیں

وَقَالَ تَعَالَى : ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَىْءٌ فِى الْاَرْضِ وَ لَا فِى السَّمَآءِ﴾


ترجمہ: نیز فرمایا: ”خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔“

تشریح: سارے جہان کی تمام اشیاء اللہ کے سامنے بالکل ظاہر ہیں اس سے کوئی ذرہ بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔

"مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِىْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِىْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ" (1)


ترجمہ: کوئی زمین پر پتہ نہیں گرتا مگر وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور نہ کوئی دانہ زمین کے تاریک حصہ میں گرتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز گرتی ہے مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے۔

فِى الْاَرْضِ وَ لَا فِى السَّمَآءِ :

سوال: صرف زمین و آسمان کی چیزیں اللہ سے مخفی نہیں، کیا اور جگہ کی چیزیں مخفی ہیں؟

جواب: آسمان کے اعتبار سے کلام ہے یہ زمین و آسمان ہی کو جانتا ہے مگر اس سے تمام جہان کی ہر جگہ مراد ہے۔

سوال: زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیوں کیا؟

جواب: آیت کریمہ میں بندوں کے اعمال کی جزا وسزا دینے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ بندوں کے اعمال کی جگہ زمین ہے اس لئے اس کو پہلے بیان فرمایا اور ساتھ ہی آسمان کا تذکرہ بھی کردیا گیا۔ (2)

(1) سورۃ الانعام آیۃ 59 (2) تفسیر مظہری 2 / 175

Page 211

اللہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا ہے

وَقَالَ تَعَالَى : ﴿اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ﴾

(Reference: Surah Al-Fajr, Ayat 14)

ترجمہ: اور فرمایا: ”بے شک تمہارا پروردگار تاک میں ہے۔“

تشریح: مفسرین فرماتے ہیں کہ مرصاد اور مرصد انتظار گاہ کو کہتے ہیں جو کسی بلند مقام سے دور دراز لوگوں کو دیکھ سکے اور لوگوں کی حرکات واعمال کو دیکھ سکے۔

تو اب مطلب آیت کریمہ کا یہ ہوا کہ حق تعالیٰ شانہ ہر انسان کے تمام اعمال وحرکات کو دیکھ رہا ہے اور عنقریب قیامت میں ان کے ایک ایک عمل کی جزا وسزا دینے والا ہے۔ (1)

(1) معارف القرآن 8 / 41، تفسیر مظہری 12 / 201

وَقَالَ تَعَالَى : ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِى الصُّدُوْرُ﴾

(Reference: Surah Ghafir, Ayat 19)

وَ الْاٰيٰتُ فِى الْبَابِ كَثِيْرَةٌ مَّعْلُوْمَةٌ .

ترجمہ: نیز فرمایا: ”وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو باتیں سینوں میں پوشیدہ ہیں ان کو بھی۔“

اس باب میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔

لغات: ❖ خائنة: یا صیغہ اسم فاعل ہے اس کا موصوف محذوف ہے یعنی خیانت کرنے والی نظر یعنی چوری سے اس کو دیکھنا جس کے دیکھنے کو شریعت نے حرام کیا ہے۔ یا خائنۃ کو مصدر مانا جائے جیسے عافیۃ مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ اللہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے۔ (1)

تشریح: مفسرین کے اس بارے میں چار اقوال ہیں

پہلا قول: عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی قوم میں سے گزرے اور وہاں پر کسی عورت پر نظر ڈالے اور جب کوئی اس کو دیکھے تو فوراً اپنی آنکھوں کو جھکالے کہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس نے بد نظری کی ہے۔ (2)

دوسرا قول: مجاہد کا ہے کہ اس آیت سے مراد ہر اس جگہ دیکھنا ہے جس کو شریعت نے منع فرمایا ہے۔

تیسرا قول: ضحاک کا ہے وہ فرماتے ہیں اس جگہ پر دیکھنا جس کو اللہ نے پسند نہیں کیا۔

چوتھا قول: علامہ سُدِّی کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ دیکھنے کے بعد پھر دوبارہ دیکھنا مراد ہے۔ (3)

جبرئیل علیہ السلام کا اُمتِ محمدیہ کو تعلیم دینا

(60) ﴿وَ اَمَّا الْاَحَادِيْثُ فَالْاَوَّلُ: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ اِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيْدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ شَدِيْدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا يُرٰى عَلَيْهِ اَثَرُ السَّفَرِ وَ لَا يَعْرِفُهُ مِنَّا اَحَدٌ، حَتّٰى جَلَسَ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فَاَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ اِلٰى رُكْبَتَيْهِ، وَ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلٰی فَخِذَيْهِ وَ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ (ﷺ) اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ: اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ، وَ تُقِيْمَ الصَّلٰوةَ وَ تُؤْتِيَ الزَّكٰوةَ، وَ تَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَ تَحُجَّ الْبَيْتَ اِنِ اسْتَطَعْتَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا. قَالَ: صَدَقْتَ. فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَ يُصَدِّقُهُ قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ؟ قَالَ: اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَ مَلَائِكَتِهِ، وَ كُتُبِهِ، وَ رُسُلِهِ، وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَ شَرِّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِحْسَانِ؟ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَاَنَّكَ تَرَاهُ فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَاِنَّهُ يَرَاكَ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. قَالَ: فَاَخْبِرْنِيْ عَنْ اَمَارَاتِهَا قَالَ: اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا، وَ اَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُوْنَ فِي الْبُنْيَانِ. ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ اَتَدْرِيْ مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللهُ وَ رَسُوْلُهُ اَعْلَمُ. قَالَ: فَاِنَّهُ جِبْرِيْلُ اَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ اَمْرَ دِيْنِكُمْ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)﴾

وَ مَعْنٰى: تَلِدُ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا: اَیْ سَيِّدَتَهَا، وَ مَعْنَاهُ اَنْ تَكْثُرَ السَّرَارِيُّ حَتّٰى تَلِدَ الْاَمَةُ السِّرِّيَّةُ بِنْتًا لِّسَيِّدِهَا وَ بِنْتُ السَّيِّدِ فِيْ مَعْنَى السَّيِّدِ وَ قِيْلَ غَيْرُ ذٰلِكَ. وَالْعَالَةُ: الْفُقَرَاءُ وَ قَوْلُهُ مَلِيًّا اَیْ زَمَانًا طَوِيْلًا وَ كَانَ ذٰلِكَ ثَلَاثًا.

صفحہ 213

ترجمہ: ’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے، اچانک ایک آدمی جس کا لباس نہایت سفید اور بال نہایت سیاہ تھے آیا، نہ اس پر بظاہر سفر کا کوئی اثر دکھائی دیتا تھا اور نہ ہی اس کو ہم میں سے کوئی پہچانتا تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے زانو سے زانو ملا کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھ گیا، عرض کیا اے محمد ﷺ اسلام کیا چیز ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی پیش کرے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز ادا کرے، زکوٰۃ دے، رمضان کے روزے رکھے اگر بیت اللہ جانے کی استطاعت ہو تو حج کرے۔ اس نے عرض کیا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ اس پر ہمیں تعجب ہوا کہ آپ ﷺ سے سوالات بھی کر رہا ہے اور پھر آپ ﷺ کے جوابات کی تصدیق بھی کر رہا ہے، پھر اس نے دریافت کیا ایمان کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں کو مانے، قیامت، تقدیر اچھی بری پر ایمان رکھتا ہو۔ اس نے کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا، پھر اس نے احسان کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو اللہ کی عبادت اس تصور کے ساتھ کرے گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ تصور پختہ نہ ہو سکے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے، پھر اس نے قیامت کے بارے میں سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا میں سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس نے کہا قیامت کی علامت بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور ننگے پاؤں ننگے بدن مفلس بکریاں چرانے والوں کو عمارتوں کی تعمیر میں فخر کرتے ہوئے پاؤ گے۔ پھر وہ سائل چل دیا، میں کچھ عرصہ ٹھہرا رہا، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمر! تجھے پتہ ہے کہ وہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا وہ جبریل علیہ السلام تھے تمہیں دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔

لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لونڈیوں کی کثرت ہو جائیگی یہاں تک کہ ہم خوابی کے لئے مخصوص لونڈی اپنے آقا کے لئے بیٹی جنے گی اور یہ آقا کی بیٹی آقا ہی کے معنی میں ہے اور اس کے علاوہ کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ عالة بمعنی فقراء، ملیا کا مطلب ہے زمانہ طویل، حدیث میں اس سے مراد تین دن ہیں۔‘‘

لغات:

❖ اماراتها: الامارة بمعنی علامت جمع امارات۔

❖ تلد: ولدت تلد لدةً و ولادۃً بمعنی جنا۔

❖ الحفاة: حفی حفاً سمع سے بمعنی ننگے پاؤں چلنا۔ زیادہ چلنے سے پاؤں کا گھس جانا۔ صفت حفٍ و حافٍ جمع حفاة۔

صفحہ 214

❖ العراة: عری عریة و عریاً سمع سے بمعنی ننگا ہونا۔ صفت عارٍ و عریان جمع عراة۔

❖ العالة: عال عیلاً و عیلةً ضرب سے بمعنی محتاج ہونا۔

❖ رعاء: رعی رعیاً بمعنی مویشی چرانا۔ الراعی فاعل چرواہا، جمع رعاة و رعیان و رعاء۔

❖ الشاء: الشاة بمعنی بکرا بکری جمع شاة و شیاہ۔

تشریح: حدیثِ جبرئیل علیہ السلام

اس حدیث کو حدیثِ جبرائیل علیہ السلام بھی کہا جاتا ہے۔

حدیث کا سبب ورود

مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پوچھو لیکن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ ﷺ کے غلبہ ہیبت کی وجہ سے سوال نہیں کرتے تھے تو جبرائیل امین کو اللہ نے بھیجا تاکہ وہ دین کی بنیادی باتوں کا سوال کریں جس سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو فائدہ ہو۔ (1)

حدیثِ جبرائیل علیہ السلام کی اہمیت

بعض علماء نے اس حدیث کی جامعیت کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جس طرح قرآنِ مجید کے تفصیلی علوم و معارف کا خلاصہ سورتِ فاتحہ میں مذکور ہے جس کی وجہ سے سورتِ فاتحہ کو اُم القرآن کہا جاتا ہے تو اسی طرح سے یہ حدیثِ جبرائیل علیہ السلام اپنی جامعیت میں اس قابل ہے کہ اس کو اُم السنہ کہا جائے۔ جیسے علامہ ابن حجر نے علامہ قرطبی سے نقل کیا ہے۔

هَذَا الْحَدِيْثُ يَصْلُحُ اَنْ يُقَالَ لَهٗ اُمُّ السُّنةِ لِمَا تَضَمَّنَهٗ مِنْ حُمَلِ عِلْمِ السُّنةِ. (2)

ترجمہ: یہ حدیث اس قابل ہے کہ اس کو اُم السنہ کا نام دیا جائے اس لئے کہ اس میں پورے علم کا احوال اور نچوڑ موجود ہے۔

حدیثِ جبرائیل علیہ السلام کا زمانہ

مولانا ادریس نے حافظ تورپشتی سے نقل کیا ہے کہ حدیثِ جبرئیل علیہ السلام کا زمانہ 10ھ حجۃ الوداع کے بعد ہے۔ اس حدیثِ جبرائیل علیہ السلام میں پوری شریعت کا احوال آگیا تاکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی کے تفصیلی احکامات کا آخری وقت میں خلاصہ ہو جائے۔ (3)

یہی بات تقریباً مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمائی ہے: يَحْتَمِلُ اَنْ يَكُوْنَ بَعْدَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ لِاَنَّهٗ وَرَدَ لَفْظُ آخِرِ عُمْرِهٖ. (4)

صفحہ 215

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ کہاں رکھا؟

وَ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلٰی فَخِذَيْهِ زانو سے زانو ملا کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے زانو پر رکھ کر بیٹھ گئے۔

اس جملہ میں کفیہ کی ضمیر کا مرجع بالاتفاق آنے والے شخص (جبرائیل علیہ السلام) ہیں۔ مگر فخذیہ اس کی ضمیر میں دو قول ہیں:

پہلا قول: یہ بھی آنے والے شخص ہی کی طرف راجع ہے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنی دونوں رانوں پر رکھیں۔

دوسرا قول: اس کا مرجع جناب رسول اللہ ﷺ ہیں تو ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں آپ ﷺ کی رانوں پر رکھیں۔ (5)

اس سے ان کا مقصد آپ ﷺ کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا۔ اس دوسرے قول کی تائید ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے:

حَتّٰى وَضَعَ يَدَهُ عَلٰی رُكْبَتَیْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ. (6)

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یا محمد ﷺ کیوں کہا؟

وَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ ﷺ کہا اے محمد ﷺ بظاہر یہ جملہ قرآن کی اس آیت کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ:

’’لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا‘‘

ترجمہ: تم آپس میں جس طرح ایک دوسرے کو آواز دیتے ہو اس طرح سے رسول ﷺ کو آواز نہ دو۔

(حوالہ: سورۃ النور، آیت 63)

جواب: محدثین نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں مثلاً:

آیتِ قرآنیہ میں خطاب بنی آدم علیہ السلام کو ہے فرشتے اس سے مستثنیٰ ہیں۔

دوسرا جواب: یہ دیا جاتا ہے کہ محمد کا لغوی معنی مراد ہے (یعنی وہ ذات جو قابلِ تعریف ہے) (7)

تیسرا جواب: یہ دیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ اس آیت کے نزول سے پہلے کا ہے۔

اسلام کیا ہے؟

اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِسْلَامِ پہلا سوال اسلام کے بارے میں کیا کیونکہ اسلام قبولِ شرائع و التزامِ فرائض ادا کرنے کا نام ہے اس لئے یہ سب سے پہلے ہونا چاہئے۔ اس کے جواب میں اسلام کے بنیادی ارکان کو بیان فرمایا کلمہ توحید، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج۔

ایمان کیا ہے؟

اَخْبِرْنِيْ عَنِ الْاِيْمَانِ ایمان نام ہے آپ ﷺ کی تمام باتوں پر یقین رکھنا اور دل کی گہرائی سے اس کو سچا ماننا۔ ان ایمانی باتوں میں سے اساسی ایمانیات وہ ہیں جس کو اس روایت میں بیان فرمایا:

اللہ پر یقین، 2. ملائکہ پر یقین، 3. آسمانی کتابوں پر یقین، 4. رسولوں پر یقین، 5. قیامت کا یقین، 6. تقدیر پر یقین۔

احسان کیا ہے؟

"فَاَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ اَنْ تَعْبُدَ اللہَ كَاَنَّكَ تَرَاہُ"

کہ آدمی یوں اللہ کی عبادت کرے جیسے دل کی آنکھوں سے اپنے معبود کو دیکھ رہا ہے پھر یہ دھیان اس قدر غالب ہو جائے گویا یہ ظاہری آنکھوں سے اللہ کو دیکھ کر عبادت کر رہا ہے۔ دنیا میں ظاہری آنکھیں اللہ تعالیٰ کو دیکھ نہیں سکتیں اس لئے کلمہ تشبیہ كَانَّ استعمال کیا۔

اور اگر یہ خیال پیدا نہیں ہو رہا تو پھر یہ تصور کرے کہ اللہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے۔ پہلے درجہ میں اخلاص، خشوع و خضوع عبادت میں زیادہ ہو گی دوسرے درجہ میں اس سے کچھ کم۔⁽⁸⁾

قیامت کب آئے گی؟

فَاَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ: قیامت کب آئے گی؟

قیامت کے بارے میں مجھے خبر دیں۔

سوال: ان چاروں سوالوں کے درمیان میں آپس میں کیا ربط ہے؟

جواب: یہاں پر ترقی ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ہے۔ سب سے پہلے آدمی اسلام میں داخل ہوتا ہے پھر ترقی کرتے ایمان بنتا ہے، اس کے بعد احسان کا درجہ آتا ہے، اب انسان کا ایمان مکمل ہو گیا۔ تو قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی چیز اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے پھر اس کے زوال کا وقت آ جاتا ہے پھر اسی طرح عبادت اپنے حد کمال کو پہنچے گی تو اب اس کے زوال کا وقت آ گیا یعنی قیامت۔⁽⁹⁾

مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ اس جملہ کے بارے میں تمام محدثین فرماتے ہیں کہ قیامت کی تاریخ کے نہ جاننے میں ہم دونوں مساوی ہیں کسی کو بھی اس کا علم نہیں۔⁽¹⁰⁾

علم محیط صرف ذات باری تعالیٰ کا ہے آپ ﷺ کو اگرچہ علم الاولین والآخرین سے نوازا گیا ہے لیکن آپ ﷺ کا علم محیط نہیں ہے۔ علم کا ذاتی ہونا اور محیط ہونا یہ خصائص خالق کے ہیں۔

اَنْ تَلِدَ الْاَمَةُ رَبَّتَهَا لونڈی اپنے آقا کو جنے گی۔

اس جملہ کے محدثین نے بہت سے مطالب بیان کئے ہیں مثلاً یہ جملہ کنایہ ہے اس بات سے کہ اولاد والدین کی نافرمان ہو جائے گی جیسے گویا کہ والدین غلام باندی کی طرح اور اولاد آقا بن جائے گی۔

صفحہ 217

روضۃ الصالحین جلد اول | 217

یا جن باندیوں کو غلبہ علی الکفار کے بعد حاصل کیا ان سے اولاد ہو گی پھر یہی اولاد بعد میں بادشاہ بن جائے گی۔

یا معاملات غیر اہل کے سپرد ہونے لگیں۔ مثلاً ایک دوسری روایت میں آتا ہے إِذَا وُسِّدَ الْأَمْرُ إِلَىٰ غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ کہ جب معاملات غیر اہل کے سپرد کئے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔ تو اس دوسری روایت نے پہلی حدیث کے مطلب کو واضح کر دیا۔⁽¹¹⁾

وَ أَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ...... الخ

حفاۃ: ننگے پاؤں، عراۃ: ننگے بدن، عالۃ: محتاج کثیر العیال لوگ، رعاء: راعی کی جمع ہے چرواہا۔

مطلب یہ ہے کہ بھوکے ننگے بکریوں کو چرانے والے ارذل قسم کے لوگ اونچے اونچے محلات بنائیں گے۔

تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الایمان، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عمر بن خطاب کے حالات حدیث نمبر (2) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) مسلم شریف 29/1

(2) فتح الباری 125/1

(3) تعلیق الصبیح

(4) فتح الملہم

(5) فتح الملہم، فتح الباری، تعلیق الصبیح 15/1

(6) نسائی 265/2

(7) فتح الملہم، تعلیق الصبیح 15/1

(8) فتح الباری 120/1۔ یہاں پر امام نوویؒ نے بھی بہت نفیس بحث کی ہے تفصیل کے لئے دیکھئے شرح مسلم 28/1

(9) فتح الملہم 61/1

(10) فتح الباری 121/1، عمدۃ القاری 293/1، اشعۃ اللمعات 42/1

(11) فتح الملہم

اللہ کا خوف ہر وقت ساتھ ہو

﴿61﴾ اَلثَّانِي: عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ وَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَّسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ)

ترجمہ: دوسری حدیث: "حضرت ابوذر اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ کا ڈر رکھو اور بُرائی کے بعد نیکی کرو وہ برائی کو مٹا دے گی اور

صفحہ 218

روضۃ الصالحین جلد اول | 218

لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔"

ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

لغات: ❖ اتق: اتقى اتقاءً بمعنیٰ ڈرنا، کسی سے بچنا۔ تقی تقی و تقاء بمعنیٰ پرہیز کرنا۔ وقی وقیاً بمعنیٰ گھوڑے کے کھر کا گھسنا۔

❖ تمحہا: محا محواً نصر سے بمعنیٰ مٹنا۔ مَحَا مَحْيَةً بمعنی مٹانا۔

تشریح: ہر حال میں تقویٰ اختیار کرنا چاہئے

"اِتَّقِ اللہَ حَيْثُمَا كُنْتَ" جہاں کہیں بھی ہو اللہ کا ڈر رکھو۔

ایک دوسری روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی طرح کی نصیحت فرمائی کہ "أَوْصِيكَ بِتَقْوَى اللهِ فِي سِرِّكَ وَعَلَانِيَتِكَ" کہ میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ کے تقویٰ کی سرّاً اور علانیتہ۔

محدثین فرماتے ہیں کہ لفظ تقویٰ مختصر لفظ ہے مگر بہت ہی جامع لفظ ہے مختصر یہ کہ اس میں تمام وہ امور منہیات جس سے شریعت نے روکا ہے اس سے بچنا اور وہ تمام امور جس کو شریعت نے کرنے کا حکم دیا ہے ان سب کو بجالانا، ان سب کا نام تقویٰ ہے۔⁽¹⁾

پھر اس نظر سے جانچ کے تو کر یہ فیصلہ — کیا کیا تو کرنا چاہئے کیا کیا نہ چاہئے

برائی کے بعد نیکی کرنے کی ترغیب

"وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا" برائی کے بعد نیکی کرو وہ برائی کو مٹا دے گی۔

اس حدیث کا مفہوم قرآن مجید کی اس آیت کریمہ میں بھی موجود ہے۔

"اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ" ⁽²⁾ بے شک نیکیاں مٹاتی ہیں برائیوں کو۔

(حوالہ: سورہ ھود، آیت 114)

مفسرین و محدثین دونوں کا اتفاق ہے کہ یہاں الحسنات سے تمام نیک کام مراد ہیں مثلاً نماز، روزہ، صدقات، حسن خلق، صلہ رحمی وغیرہ۔ اسی طرح سیئات سے تمام برے کام مراد ہیں خواہ وہ کبیرہ گناہ ہوں یا صغیرہ مگر قرآن مجید کی دوسری آیات اور احادیث نبویہ کے متعدد ارشادات کی وجہ سے علماء اس کو صغیرہ گناہوں کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ نیک کام کی وجہ سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مگر تفسیر بحر محیط میں محققین علماء اصول کا یہ قول نقل کیا ہے کہ نیک کاموں سے صغیرہ گناہ جبھی معاف ہوتے ہیں جب کہ آدمی ان گناہوں کے کرنے پر نادم بھی ہو اور آئندہ نہ کرنے کا ارادہ بھی کرے، ان پر اصرار نہ کرے کیونکہ روایات حدیث میں جتنے واقعات کفارہ ہو جانے کے منقول ہیں ان سب میں یہ تصریح بھی ہے کہ ان کا کرنے والا جب اپنے فعل پر نادم ہو اور آئندہ کے لئے توبہ کرے اس پر آپ ﷺ نے اس کو گناہ معاف ہو جانے کی بشارت سنائی ہے۔⁽³⁾ واللہ اعلم

صفحہ 219

روضۃ الصالحین جلد اول | 219

اچھے اخلاق کی فضیلت

"خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ" لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔

حسن اخلاق کی متعدد روایات میں فضیلت بیان کی گئی ہے ایک دوسری روایت میں آتا ہے "اِنَّ مِنْ اَحَبِّکُمْ اِلَیَّ اَحْسَنُکُمْ اَخْلَاقًا" ⁽⁴⁾ تم میں سے وہ شخص مجھ کو بہت پیارا ہے جو اچھے اخلاق والا ہو۔

ایک اور روایت میں آتا ہے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب سوال کیا کہ سب سے بہتر چیز انسان کو کون سی عطا کی گئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اچھے اخلاق۔⁽⁵⁾

ایک اور روایت میں میرے آقا ﷺ کا ارشاد ہے "اِنَّ اَثْقَلَ شَیْءٍ یُّوضَعُ فِی مِیزَانِ الْمُؤْمِنِ مِنْ یَوْمِ الْقِیَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ" ⁽⁶⁾ قیامت کے دن مؤمن کے ترازو میں سب سے وزنی عمل اچھے اخلاق ہیں۔

تخریج حدیث: ترمذی کتاب البر و الصلۃ (باب ما جاء فی معاشرة الناس) دارمی 333/2 و احمد۔

راوی حدیث حضرت ابوذرؓ (جندب بن جنادہ) کے مختصر حالات:

نام: جندب، کنیت: ابوذر، لقب: صدیق الاسلام، والد کا نام: جنادہ اور والدہ کا نام رملہ تھا۔ قبیلہ بنی غفار سے تعلق تھا۔

شروع میں یہ نہایت مشہور راہزن تھے پھر ایک دم زندگی میں انقلاب آیا، خود فرماتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے سے تین سال پہلے سے میں نماز پڑھتا تھا۔ (طبقات ابن سعد 163/4)

جب آپ ﷺ کی دعوت سنی تو اپنے بھائی انیس کو بھیجا تحقیق کرنے کے لئے پھر خود ہی آئے اور حضرت علیؓ کے ساتھ مل کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ ﷺ نے ان کو ان کی قوم میں تبلیغ و دعوت کے لئے بھیج دیا اپنا سارا وقت تبلیغ و دعوت میں صرف کرتے رہے، آدھا قبیلہ تو اسی وقت مسلمان ہو گیا اور آدھا قبیلہ ہجرت کے بعد مسلمان ہوا۔ (مسند احمد 174/5)۔

آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد انہوں نے بھی مدینہ کی طرف ہجرت کر لی اور آپ ﷺ کی خدمت میں رہتے تھے۔ (طبقات ابن سعد 166/4)

حضرت ابوذرؓ تارک الدنیا اور زہد پیشہ تھے آپ ﷺ اور ابوبکرؓ کے زمانے میں مدینہ میں ہی رہے، اس کے بعد شام ہجرت کر کے چلے گئے (استیعاب 83/1)۔

ان کا مذہب یہ تھا کہ جو مال ہے اس کو اپنے پاس رکھنا جائز نہیں ہے، یہ حق ہے بھوکوں اور ننگوں کا، اس بناء پر تمام صحابہ سے اختلاف رہتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے ان کو مدینہ بلا لیا، یہاں پر بھی لوگوں سے اختلاف رہا تو حضرت عثمانؓ نے مجبور ہو کر ان سے کہا کہ آپ مکہ کے قریب ربذہ تشریف لے جائیں بعض کے نزدیک انہوں نے خود کہا کہ میں ربذہ میں قیام کرنا چاہتا ہوں۔

وفات: ربذہ میں ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ان کی بیوی رونے لگی کہ اس صحرا میں کون انتظام کرے گا۔ انہوں نے کہا میں تم کو خوش خبری سناتا ہوں، وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک صحرا میں مرے گا، وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچے گی اور وہ کفن دفن کرے گی، میرے علاوہ جو لوگ تھے وہ آبادی میں مر چکے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ایک جماعت کے ساتھ آئے وہ مدینہ سے عراق جا رہے تھے، لہٰذا عبداللہ بن مسعودؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور پھر وہیں پیوند خاک کیا۔ (مستدرک حاکم 346/3)

مرویات: ان سے روایات کی تعداد 281 ہے ان میں بارہ میں بخاری اور مسلم دونوں متفق ہیں اور دو میں بخاری اور سات میں مسلم منفرد ہیں۔ (تہذیب الکمال 349)


الحین جلد اول | 220

(1) دليل الفالحين (2) سورت هود آيت 114 (3) تفسير محيط (4) بخاری (5) مشکوة (6) ابوداؤد

ہر کام تقدیر کے موافق ہوتا ہے

(62) اَلثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ: يَا غُلَامُ اِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ وَ إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ، وَ إِنِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ.

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَ فِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ اَمَامَكَ، تَعَرَّفْ اِلَى اللّٰهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ وَاعْلَمْ اَنَّ مَا اَخْطَاَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَكَ، وَ مَا اَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَاعْلَمْ اَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَ اَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَ اَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا.

ترجمہ: تیسری حدیث: "حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نبی ﷺ کے پیچھے سوار تھا آپ ﷺ نے فرمایا اے لڑکے! میں تجھ کو چند کلمات بتاتا ہوں۔ اللہ کے احکام کی حفاظت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اللہ کو اپنے سامنے پائے گا، تو جب مانگے بس اللہ سے مانگ اور جب مدد کا طلب گار ہو تو اللہ سے مدد طلب کر اور یقین رکھ اگر تمام دنیا تجھے فائدہ پہنچانے پر جمع ہو جائے تو تجھے صرف وہی فائدہ دے سکتا ہے جو تیرے مقدر میں ہے اور اگر تمام کے تمام تجھے نقصان دینے پر اکٹھا ہو جائیں تو تجھے کچھ نقصان نہیں دے سکتے مگر جس قدر اللہ تعالیٰ نے تقدیر میں تیرے لئے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا دیئے گئے اور تقدیر کے دفاتر خشک ہو چکے ہیں۔" (ترمذی)

ترمذی کے علاوہ بعض کتابوں میں ہے اللہ کے حقوق کی حفاظت کر تو اس کو اپنے آگے پائے گا، خوش حالی میں اللہ کے حقوق کا خیال رکھو وہ تنگ حالی میں تمہارا خیال رکھے گا اور یقین کرو جو مصیبت تجھ سے خطا کر گئی ہے اس نے تجھے پہنچنا ہی نہیں تھا اور جس مصیبت میں تم گرفتار ہو گئے اس نے تمہیں چھوڑنا ہی نہیں تھا اور سمجھ لو صبر کرنے کے ساتھ اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور مصیبت کے بعد کشادگی حاصل ہوتی ہے اور جہاں تنگی ہے وہاں آسانی بھی آئے گی۔

لغات: ❖ اَلْاَقْلَامُ: بمعنی لکھنے کا قلم۔ جب تک تراشا اور بنایا نہ جائے قَصَبَةٌ اور براعۃ کہلاتا ہے اور بنانے کے بعد قلم۔ جمع أقلام۔

❖ جَفَّتْ: جفَّ جفافاً و جفوفاً ضرب سے بمعنی خشک ہونا۔ سوکھنا۔

❖ اَلصُّحُفُ: جمع ہے الصحيفة کی بمعنی لکھا ہوا کاغذ۔ ورق۔

❖ اَلرَّخَاءُ: رخا رخاءً نصر فتح سمع کرم سے بمعنی زندگی کا آسودہ و فراخ ہونا۔ نرم ہونا۔

❖ اَلْفَرَجُ: فرج فرجاً ضرب سے بمعنی کشادہ کرنا۔ کھولنا۔ الفرج: کشادگی۔

تشریح: "اِحْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ" تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت کرے گا۔

قرآن میں یہ فرمایا گیا: "أَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ" ⁽¹⁾ تم میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔

(حوالہ: سورہ البقرہ، آیت 40)

"اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ" ⁽²⁾ تم اللہ کے دین کی حفاظت کرو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔

(حوالہ: سورہ محمد، آیت 7)

اللہ کے حقوق کا خیال رکھو تو اللہ کو ہمیشہ اپنے سامنے پاؤ گے

"اِحْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ" اللہ کے حقوق کا خیال رکھو تو تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے۔

محدثین نے اس جملہ کے کئی مطلب بیان کئے ہیں اور سب ہی مراد ہو سکتے ہیں مثلاً تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو یعنی جن امور کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کرو اور جس سے اجتناب کا حکم ہے اس سے بچو تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ بھی تمہارا خیال رکھے گا کہ تم کو دنیا میں بھی ہر قسم کی آفات اور مصیبتوں سے بچائے گا اور آخرت میں بھی عذاب سے محفوظ رکھے گا جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ" ⁽³⁾

(حوالہ: سورہ النحل، آیت 128)

یا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کے احکامات کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے گا اور تمہارے مقاصد اور عزائم میں کامیاب کرتا رہے گا۔

یا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور رضا میں مشغول رہو گے تو گویا کہ اللہ کو اپنے سامنے پاؤ گے۔ اس صورت میں تم ایمان کے کامل درجہ اور احسان کے درجہ پر فائز ہو جاؤ گے، ہر دم اللہ ہی تمہاری نگاہ میں رہے گا اللہ کے ماسوا ہر چیز معدوم اور فنا ہو جائے گی۔⁽⁴⁾


غیر سے اٹھ جائے بالکل ہی نظر — تو ہی تو آئے نظر دیکھوں جدھر

جب بھی سوال کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے کرو

"وَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ" جب بھی کسی چیز کا سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو۔

جس سے اللہ خوش ہوں گے کبھی دنیا والوں کے سامنے ہاتھ مت پھیلاؤ، ما احسن من قال:

اللّٰهُ يَغْضَبُ إِنْ تَرَكْتَ سُؤَالَهٗ — وَ ابْنَاءُ آدَمَ حِيْنَ تُسْأَلُ تَغْضَبُ

اللہ تعالیٰ اس وقت ناراض ہوتے ہیں جب تم اس سے سوال نہ کرو اور آدم کے بیٹے اس وقت ناراض ہوتے ہیں جب ان سے سوال کیا جاتا ہے۔⁽⁵⁾

قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا: "وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ" ⁽⁶⁾ تمہارے رب نے فرمایا کہ مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔

(حوالہ: سورہ غافر، آیت 60)

"وَاعْلَمْ اَنَّ الْاُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی اَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَّمْ یَنْفَعُوْکَ اِلَّا بِشَیْءٍ" الخ

جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ایک اللہ ہے اسی کی طرف ہر حال میں رجوع کرو۔ اگر وہ نہ دے تو ایک فرد بشر کیا تمام مخلوق بھی مل کر خدا کی مرضی و حکم کے خلاف کسی شخص کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

قلم اٹھا کر رکھ دیئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے

"رُفِعَتِ الْاَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ" قلم اٹھا لئے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔

یعنی جو احکام صادر ہونے تھے وہ سب کچھ لکھے جا چکے، قیامت تک تقدیر و قسمت کے فیصلے لوح محفوظ میں لکھے جا چکے ہیں اور اب لوح محفوظ کو لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے اب اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو گا۔

صحیفے خشک ہو گئے کا مطلب یہ ہے کہ کاتب جب لکھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو وہ اپنے قلم کو اٹھا کر رکھ دیتا ہے اور اپنے کاغذات کو لپیٹ کر رکھ دیتا ہے، اسی طرح اللہ نے بھی قلم اٹھا کر رکھ دیا اور صحف کو لپیٹ دیا، اب اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی۔ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ لوح محفوظ میں تو کوئی تغیر و تبدیلی نہیں آتی ہاں وہ کتاب جس میں فرشتے بندوں کے اعمال لکھتے ہیں اس میں کمی و بیشی ہوتی ہے مثلاً کسی نے کوئی گناہ کیا فرشتوں نے لکھ لیا جب توبہ کیا تو اس کو مٹا دیا۔⁽⁷⁾

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی نصیحت

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ ہر مؤمن کے لئے لازم ہے کہ وہ اس حدیث کو سامنے رکھے اور اپنی تمام حرکات و سکنات میں اس کے مطابق عمل کرے تاکہ دنیا و آخرت میں اللہ کی رحمت اور سرفرازی سے نوازا جائے۔⁽⁸⁾

تخریج حدیث: ترمذی ابواب صفة القيامة اخرجہ امام احمد فی مسندہ 280/1، والبيهقی فی شعب الایمان 1074۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (11) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

صفحہ 223

روضۃ الصالحین جلد اول | 223

(1) سورۃ بقرۃ آیۃ 40 (2) سورۃ محمد آیۃ 8 (3) سورۃ النحل آیۃ 128 (4) مرقاۃ 54/10، مظاہر حق جدید 810/4 (5) مظاہر حق جدید 811/4، مرقاۃ 54/10 (6) سورۃ مؤمن آیۃ 60 (7) مرقاۃ 55/10 (8) فتوح الغیب


صحابہ کرام کا بال کے برابر کاموں کو مہلک سمجھنا

(63) اَلرَّابِعُ: عَنِ اَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا هِيَ اَدَقُّ فِي اَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوْبِقَاتِ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ)

وَقَالَ: (الْمُوْبِقَاتُ) الْمُهْلِكَاتُ

ترجمہ: چوتھی حدیث: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں تم ایسے کام کر بیٹھتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ معمولی ہیں لیکن ہم عہد نبوی ﷺ میں ان کاموں کو مہلکات میں سے سمجھتے تھے۔"

"موبقات" کے معنی ہیں ہلاک کرنے والے۔

لغات: ❖ اَدَقُّ: دقَّ دقةً ضرب سے بمعنی باریک ہونا۔ چھوٹا ہونا۔

❖ اَلْعَيْنُ: بمعنی آنکھ کا ڈھیلا پلک وغیرہ سمیت سب پر اطلاق ہوتا ہے۔ جمع اَعْيُن، عيون، اعیان، جمع الجمع اعینات۔

❖ اَلشَّعْرُ: بمعنی بال جمع اشعار و شعار و شعور۔

❖ نَعُدُّ: عدَّ عدّاً نصر سے بمعنی گمان کرنا۔ گننا۔ شمار کرنا۔

❖ اَلْمُوْبِقَاتُ: وبق وبقاً ضرب سے بمعنی ہلاک ہونا۔ صفت وَبِقٌ جمع موبقات۔

تشریح: عدمِ خوفِ الٰہی سے گناہوں کی جرات پیدا ہو جاتی ہے

"لَتَعْمَلُوْنَ اَعْمَالًا هِيَ اَدَقُّ فِي اَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ" جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی زیادہ معمولی ہیں۔

مطلب یہ ہے کہ انسان میں جتنا اللہ کا خوف ہوتا ہے اتنا ہی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہے اور یہ خوف جتنا کم ہوتا ہے اتنا ہی اس کی گناہوں پر جسارت بڑھتی رہتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دلوں میں اللہ کا شدید خوف ہر دم موجود رہتا تھا اس لئے وہ معمولی سے معمولی گناہ پر بھی بہت زیادہ خوف محسوس کرتے تھے اور دوسری بات یہ کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے ان کو یہ کیفیت بدرجہ اتم حاصل تھی مگر عہد رسالت کے بعد یہ کیفیت بتدریج کم ہوتی گئی حتیٰ کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہی ساتھیوں کو یعنی جو تابعین تھے ان کو یہ فرما رہے ہیں کہ اب یہ وقت آ گیا ہے کہ وہ گناہ جسے ہم اپنے لئے ہلاکت کا ذریعہ سمجھتے تھے وہ اب لوگوں کی نگاہ میں حقیر اور معمولی بن گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ

صفحہ 224

روضۃ الصالحین جلد اول | 224

انسان اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرنے کی کوشش کرے گناہ خود بخود اس سے چھوٹ جائیں گے۔⁽¹⁾

اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا کہ مؤمن گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا اس پر پہاڑ گر رہا ہے اور غیر مؤمن یہ سمجھتا ہے گویا کہ ناک پر مکھی بیٹھی تھی اس کو اڑا دی۔⁽²⁾ یعنی اس کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب الرقاق (باب ما يتقى من محقرات الذنوب)

نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالکؓ کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) نزہۃ المتقین 9/1، روضۃ المتقین 108/1 (2) بخاری

غیرت اللہ کی صفت ہے

(64) اَلْخَامِسُ: عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَغَارُ، وَ غَيْرَةُ اللّٰهِ تَعَالَى أَنْ يَأْتِيَ الْمَرْءُ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

"وَالْغَيْرَةُ" بِفَتْحِ الْغَيْنِ وَ اَصْلُهَا الْاَنَفَةُ.

ترجمہ: پانچویں حدیث: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور اللہ کو غیرت اس وقت آتی ہے جب انسان ایسے کاموں کا ارتکاب کرے جس کو اس نے حرام کیا ہے۔"

اور غیرت غین کے زبر کے ساتھ ہے اس کے معنی ہیں خودداری۔

لغات: ❖ يَغَارُ: غَارَ يَغَارُ غيرةً بمعنی غیرت کرنا۔

❖ حَرَّمَ: حرَّم تحريماً تفعيل سے بمعنی کسی چیز کو حرام کرنا۔

تشریح: اللہ کی غیرت کا مطلب

"إِنَّ اللّٰهَ تَعَالَى يَغَارُ" غیرت کا لفظ اردو زبان میں دو معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

اول یہ کہ کوئی شخص یہ سمجھ کر کہ مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا، اس وجہ سے وہ کوئی برا کام کرے یا ایسا کام کرے جو خود اگرچہ برا نہ ہو مگر دوسروں کے سامنے وہ کام کرنا عیب دار ہو، اس حالت میں کوئی دیکھ لے یا کوئی سامنے سے آ جائے تو وہ فوراً اس کو چھوڑ دے یا چھپنے کی کوشش کرے۔

دوسرا معنی غیرت کا یہ ہے کہ کوئی باپ یا کوئی آقا اپنے ماتحت کو سختی سے کسی کام کے کرنے سے منع کرے اس منع کرنے کے باوجود وہ ماتحت اپنے باپ یا آقا کے سامنے اس کام کو کرے۔

یہاں پر زیادہ مناسب معنی دوسرا والا ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنی مخلوق پر بعض کاموں کو حرام کیا انہی کے فائدے کے لئے۔ اب مخلوق کی بیباکی اور بے غیرتی یہ ہے کہ جس کام سے منع کیا ہے وہ اس کو کرے، اس پر اللہ جل شانہ کو غصہ آتا ہے، کبھی کسی مصلحت سے اسی وقت سزا بھی دے دیتے ہیں مگر عموماً حق تعالیٰ شانہ اپنی شفقت و رحمت سے فوراً سزا نہیں دیتے، مہلت دے دیتے ہیں تاکہ مخلوق توبہ کر لے پھر وہ توبہ کرے تو وہ اپنی رحمت و شفقت سے دوبارہ نوازنا شروع کر دیتے ہیں۔ (1)

تخریج حدیث: بخاری کتاب النکاح (باب الغيرة)، مسلم کتاب التوبہ (باب غيرة الله تعالیٰ و تحريم الفواحش) و اخرجه امام احمد فی مسنده 8527/3، الطیالسی و ابن حبان 293۔

راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر 7 کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) روضة المستقین 108/1، دلیل الفالحین ایضاً

اللہ کسی بھی وقت امتحان لے سکتا ہے

(بنی اسرائیل کے تین آدمیوں کا ایمان افروز واقعہ)

(65) ﴿السَّادِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ ثَلَاثَةً مِّنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ أَبْرَصَ وَ أَقْرَعَ وَ أَعْمَى أَرَادَ اللهُ أَنْ يَّبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَّ جِلْدٌ حَسَنٌ وَّ يَذْهَبُ عَنِّي الَّذِي قَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، فَمَسَحَهٗ، فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهٗ وَ أُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا فَقَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْإِبِلُ، أَوْ قَالَ: الْبَقَرُ. شَكَّ الرَّاوِي، فَأُعْطِيَ نَاقَةً عُشَرَاءَ فَقَالَ: بَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهَا.

فَأَتَى الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: شَعْرٌ حَسَنٌ وَّ يَذْهَبُ عَنِّي هَذَا الَّذِي قَذِرَنِي النَّاسُ فَمَسَحَهٗ فَذَهَبَ عَنْهُ وَ أُعْطِيَ شَعْرًا حَسَنًا. قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْبَقَرُ فَأُعْطِيَ بَقَرَةً حَامِلًا وَّ قَالَ: بَارَکَ اللهُ لَكَ فِيهَا.

فَأَتَى الْأَعْمَى فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ اَنْ يَّرُدَّ اللهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَأُبْصِرَ النَّاسَ فَمَسَحَهُ فَرَدَّ اللهُ إِلَيْهِ بَصَرَهٗ قَالَ: فَأَيُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: الْغَنَمُ فَأُعْطِيَ شَاةً وَالِدًا، فَأَنْتَجَ هَذَانِ وَ وَلَّدَ هَذَا فَکَانَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْإِبِلِ، وَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْبَقَرِ، وَ لِهَذَا وَادٍ مِّنَ الْغَنَمِ.


ثُمَّ إِنَّهُ أَتَى الْأَبْرَصَ فِي صُورَتِهِ وَ هَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِّسْكِينٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي

فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ اَسْأَلُكَ بِالَّذِي أَعْطَاكَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ وَالْمَالَ بَعِيرًا أَتَبَلَّغُ بِهِ فِي سَفَرِي؟ فَقَالَ: الْحُقُوقُ كَثِيرَةٌ. فَقَالَ: كَأَنِّي أَعْرِفُكَ، أَلَمْ تَكُنْ أَبْرَصَ يَقْذَرُكَ النَّاسُ فَقِيراً فَأَعْطَاكَ اللَّهُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا وَرِثْتُ هَذَا الْمَالَ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ.

وَ أَتَى الْأَقْرَعَ فِي صُورَتِهِ وَ هَيْئَتِهِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِهَذَا وَ رَدَّ عَلَيْهِ مِثْلَ مَا رَدَّ هَذَا. فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَصَيَّرَكَ اللَّهُ إِلَى مَا كُنْتَ.

وَأَتَى الْأَعْمَى فِي صُورَتِهِ وَ هَيْئَتِهِ فَقَالَ: رَجُلٌ مِّسْكِينٌ وَابْنُ سَبِيلٍ اِنْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ فِي سَفَرِي فَلَا بَلَاغَ لِيَ الْيَوْمَ إِلَّا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ اَسْأَلُكَ بِالَّذِي رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ شَاةً اَتَبَلَّغُ بِهَا فِي سَفَرِي؟ فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَعْمَى فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيَّ بَصَرِي فَخُذْ مَا شِئْتَ وَ دَعْ مَا شِئْتَ فَوَ اللَّهِ لَا أَجْهَدُكَ الْيَوْمَ بِشَيْءٍ أَخَذْتَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ. فَقَالَ: أَمْسِكْ مَا لَكَ فَإِنَّمَا ابْتُلِيتُمْ فَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْكَ وَ سَخِطَ عَلَى صَاحِبَيْكَ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

"وَالنَّاقَةُ الْعُشَرَاءُ" بِضَمِّ الْعَيْنِ وَ فَتْحِ الشِّيْنِ وَ بِالْمَدِّ: هِيَ الْحَامِلُ قَوْلُهُ "أَنْتَجَ" وَ فِي رِوَايَةٍ "فَنَتَجَ" مَعْنَاهُ: تَوَلَّى نِتَاجَهَا وَالنَّاتِجُ لِلنَّاقَةِ كَالْقَابِلَةِ لِلْمَرْأَةِ. وَ قَوْلُهُ "وَلَّدَ هَذَا" هُوَ بِتَشْدِيدِ اللَّامِ: أَيْ تَوَلَّى وِلَادَتَهَا وَ هُوَ بِمَعْنَى أَنْتَجَ فِي النَّاقَةِ. فَالْمُوَلِّدُ، وَالنَّاتِجُ، وَالْقَابِلَةُ بِمَعْنَى لَكِنْ هَذَا لِلْحَيَوَانِ، وَ ذَلِكَ لِغَيْرِهِ. قَوْلُهُ "اِنْقَطَعَتْ بِيَ الْحِبَالُ" هُوَ بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ، وَالْبَاءِ الْمُوَحَّدَةِ: أَيِ الْأَسْبَابُ. وَ قَوْلُهُ: "لَا أَجْهَدُكَ" مَعْنَاهُ: لَا أَشُقُّ عَلَيْكَ فِي رَدِّ شَيْءٍ تَأْخُذُهُ اَوْ تَطْلُبُهُ مِنْ مَالِي."

وَ فِي رِوَايَةِ الْبُخَارِيِّ: "لَا أَحْمَدُكَ" بِالْحَاءِ الْمُهْمَلَةِ وَ الْمِيْمِ وَ مَعْنَاهُ: لَا أَحْمَدُكَ بِتَرْکِ شَيْءٍ تَحْتَاجُ إِلَيْهِ كَمَا قَالُوا: "لَيْسَ عَلَى طُوْلِ الْحَيَاةِ نَدَمٌ" أَيْ عَلَى فَوَاتِ طُولِهَا.

ترجمہ: چھٹی حدیث: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ سے سنا فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے برص والا، گنجا، اندھا۔ چنانچہ اللہ نے ان کو آزمانا چاہا ایک فرشتہ کو انسان کی شکل میں ان کے پاس بھیجا۔ فرشتہ برص والے کو کہتا ہے کہ تمھیں کون سی چیز محبوب ہے؟ اس نے کہا اچھا رنگ اور خوبصورت جسم اور جس بیماری کی وجہ سے لوگ مجھے برا جانتے ہیں وہ ختم ہو جائے، چنانچہ اس نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو اس کی بیماری جاتی رہی اور اسے خوبصورت رنگ عطا ہو گیا، فرشتے نے پوچھا کون سا مال زیادہ پسند کرو گے؟

پسند کرو گے؟ اس نے کہا اونٹ یا گائے، راوی کو شک ہے، چنانچہ اس کو دس ماہ کی حاملہ اونٹنی عطا کی گئی فرشتے نے دعا کی اللہ تیرے مال میں برکت فرمائے۔ اس کے بعد فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا تجھے زیادہ کونسی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا خوبصورت بال اور جس عیب کی وجہ سے لوگ مجھے معیوب جانتے ہیں وہ مجھ سے دور ہو جائے، فرشتے نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، بیماری جاتی رہی اور خوبصورت بال مل گئے۔ فرشتے نے پوچھا کونسا مال زیادہ پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا گائے، چنانچہ اس کو ایک حاملہ گائے عطا کی گئی اور اس کے لئے برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد فرشتہ اندھے کے پاس آیا اس سے پوچھا تمھیں کون سی چیز پسند ہے؟ اس نے کہا اللہ پاک مجھے نظر واپس کر دے میں لوگوں کو دیکھ سکوں، فرشتے نے اس کی آنکھ پر ہاتھ پھیرا اللہ نے اس کو نظر عطا فرمادی، فرشتے نے پوچھا کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا بکریاں، اس کو بچہ جننے والی ایک بکری دے دی گئی، چنانچہ ان دونوں نے بھی بچے جننے اور بکری نے بھی اپنا بچہ جنا۔ ایک طرف گائے کی نسل سے جنگل بھر گیا تو دوسری طرف اونٹوں اور بکریوں سے بھی دوسرے جنگل بھر گئے۔

اس کے بعد فرشتہ برص زدہ انسان کے پاس اس کی اپنی پہلی شکل و ہیئت میں آزمائش کے لئے آیا کہا کہ میں فقیر آدمی ہوں سفر میں میرے وسائل ختم ہو گئے ہیں اب میرے لئے اللہ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر گھر پہنچنا ممکن نہیں، میں تجھ سے اس ذات کے نام سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے سنہری رنگ اور مال دیا ہے کہ تو مجھے ایک اونٹ عطا کر دے تاکہ میں اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاؤں۔ اس نے جواب دیا کہ مجھ پر ذمہ داریوں کا انبار ہے، فرشتے نے کہا کہ شاید میں تجھے جانتا ہوں، کیا تو پہلے برص زدہ نہیں تھا؟ لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، تو فقیر تھا اللہ نے تجھے مالدار بنایا۔ اس نے کہا میں تو آبا واجداد سے وافر مال دیا گیا ہوں۔ فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے ویسا ہی کر دے جیسا کہ تو پہلے تھا۔ پھر گنجے کے پاس پہلی شکل و صورت میں آیا اور اس سے وہی باتیں کیں جو پہلے سے کی تھیں اس نے بھی وہی جواب دیا جو پہلے نے دیا تھا، فرشتے نے کہا اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پہلے کی طرح کر دے۔ پھر فرشتہ اندھے کے پاس پہلی شکل و صورت میں آیا اور کہا میں ایک مفلس نادار مسافر انسان ہوں، سفر میں سفر کے وسائل ختم ہو گئے ہیں، اب میں اللہ کی مدد اور تیری کرم نوازی کے بغیر منزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکتا، لہذا میں تجھ سے اللہ کے واسطے کے ساتھ سوال کرتا ہوں جس نے تجھے دوبارہ نظر دی ہے کہ تو ایک بکری میرے حوالہ کرتا کہ میں منزل پر پہنچ سکوں۔ اس نے کہا واقعی میں اندھا تھا، اللہ نے مجھے نظر عطا فرمائی، جتنا مال چاہو اٹھا لو اور جتنا چاہو چھوڑ دو، اللہ کی قسم آج مجھے کوئی تکلیف نہیں، جو بھی اللہ کے نام پر تو چاہے اٹھا لے۔ فرشتے نے کہا اپنے مال کو اپنے پاس ہی رکھو، تمہاری آزمائش مقصود تھی، پس تجھ سے اللہ راضی ہوا اور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا۔"

"النَّاقَةُ الْعُشَرَاءُ" عین پر پیش، شین پر زبر اور الف ممدودہ کے ساتھ حاملہ اونٹنی۔ انْتَجَ اور دوسری روایت میں فَنَتَجَ معنی ہیں اس کی پیداوار کا وہ مالک ہوا۔ ناتِج وہ آدمی جو اونٹنی سے بچہ جنوائے جیسے عورت کے لئے دایہ (قابلہ) ہوتی ہے۔ وَلَّدَ ہذا لام پر تشدید یعنی بکری سے پیدا ہونے والے بچوں کا مالک ہوا اور یہ انْتَجَ فی الناقة کے ہم معنی ہے پس مولد، ناتج اور قابلہ کے ایک ہی معنی ہیں لیکن اول الذکر الفاظ حیوان کے لئے ہیں اور قابلہ انسان کے لئے ہے۔ حبال: یہ حاء مہملہ اور بائے موحدہ (ایک نقطہ والی باء) کے ساتھ بمعنی اسباب ہے۔ لا اجھدک: اس کے معنی ہے تو جو لے گا یا میرے مال میں سے طلب کرے گا میں وہ تجھ سے واپس لے کر تجھے گرانی میں نہیں ڈالوں گا، اور بخاری کی روایت میں ہے لَا اَحْمَدُکَ: ہائے مہملہ اور میم کے ساتھ اس کے معنی ہیں اس چیز کے چھوڑ دینے پر جس کا تو حاجت مند ہے میں تیری تعریف نہیں کروں گا۔ یہ گویا اس بات کی ترغیب ہے کہ تو اپنی حاجت پوری کر لے میری خوشی اسی میں ہے جیسے عربوں میں محاورہ ہے "عمر دراز پر کوئی ندامت نہیں"، مطلب یہ ہے کہ لمبی عمر کے نہ ہونے پر ندامت نہیں۔

لغات:

ابرص: برص برصا سمع سے بمعنی برص کی بیماری میں مبتلا ہونا۔ صفت ابرص، مونث برصاء جمع بُرص، سام ابرص چھپکلی۔ تثنیہ کی حالت میں ھذان ساما ابرص اور جمع ھولاء سوام ابرص و ابارص آتی ہے اور چھپکلی کو ابو برص بھی کہتے ہیں برص ایک جلد کی بیماری ہے جس کی وجہ سے جلد سفید ہو جاتی ہے اور ایک تکلیف دہ خارش پیدا ہو جاتی ہے۔

اقرع: قرع قرعًا سمع سے بمعنی سر کے بالوں کا گر جانا اور جب مصدر بسكون الراء ہو تو معنی ہو گا کسی جگہ کا خالی ہونا۔ القرع گنج کی بیماری جس سے سر کے بال گر جاتے ہیں۔

اعمٰی: عمی عمیًا سمع سے بمعنی اندھا ہونا۔ الاعمٰی اندھا جمع عمی و عمیان۔

لون: بمعنی رنگ جو ایک چیز کو دوسری چیز سے ممتاز کر دے۔

قذرنی: قَذُرَ قذرًا و قَذِرَ قذرًا نصر اور سمع سے بمعنی کسی چیز سے گھن کرنا، پرہیز کرنا، گندہ محسوس کرنا۔

عشراء: بمعنی آٹھ یا دس ماہ کی حاملہ۔

حبال: جمع ہے حبل کی بمعنی رسی یہاں مراد اسباب ہیں۔

Page 229

روضة الصالحين جلد اول

فصیرک: صار صيرًا ضرب سے بمعنی واپس ہونا۔ منتقل ہونا۔

تشریح:

بنی اسرائیل کون ہیں؟

"اِنَّ ثَلَاثَةً مِّنْ بَنِي اِسْرَائِیْلَ" حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے کیونکہ اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا۔ یہ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں عبداللہ، بعض نے کہا اسرائیل کے معنی صفوۃ اللہ (اللہ کا برگزیدہ) ہے۔ (1)

"فَبَعَثَ اللَّهُ مَلَكاً" اللہ نے فرشتے کو بھیجا۔ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ انسانی صورت میں آیا تھا۔ (2)

"شَکَّ الرَّاوِي" راوی سے مراد یہاں اسحاق بن عبداللہ ہیں۔ (3)

"فَمَسَحَہ" محدثین نے یہاں دو احتمال بیان کئے ہیں ایک یہ کہ صرف سر پر ہاتھ پھیرا یا پورے بدن پر ہاتھ پھیرا فرشتے نے برکت کے لئے۔ (4)

بنی اسرائیل کے واقعہ سے عبرت

اس واقعہ کو آپ ﷺ نے اپنی اُمت محمدیہ کی عبرت کے لئے بیان فرمایا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی ایک امتحان و آزمائش ہوتی ہے اس آزمائش میں اگر انسان اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہیں بھولا بلکہ اس مال و دولت کو اللہ کی امانت سمجھ کر اللہ کی ضرورت مند مخلوق پر خرچ کر کے خوش ہوتا ہے اور اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہے جیسا کہ اندھے نے کیا تو اللہ اس سے خوش ہو کر مزید انعامات سے نوازتا ہے۔ اور اگر اس مال کی آزمائش میں وہ مال کے گھمنڈ میں مبتلا ہو گیا اور پھر اس نے اسے ضرورت مندوں پر خرچ نہ کیا اور بخل سے کام لیا تو اس سے اللہ کی ناراضگی بھی ہوتی ہے اور اللہ اس نعمت کو چھین بھی لیتے ہیں جیسے کہ ابرص اور گنجے کے ساتھ ہوا۔

علامہ کرمانیؒ فرماتے ہیں برص اور قرع اس سے آدمی کے مزاج میں فساد واقع ہو جاتا ہے بخلاف اندھا پن کے اس میں ایسا نہیں ہوتا اسی اعتبار سے ان لوگوں نے جواب دیا کہ اندھے آدمی نے نرمی کا ثبوت دیا بخلاف ان دونوں کے کہ انہوں نے سختی کا جواب دیا۔ (5)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو غریبوں اور مسکینوں کو صدقہ دیتے رہنا چاہئے اور بخل سے بچنا چاہئے جیسے ان دونوں نے کیا۔ (6)

اس میں یہ بھی ترغیب ہے کہ آدمی اللہ کی نعمتوں کا انکار نہ کرے جیسا کہ ان دونوں نے کیا۔ (7)

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب الانبیاء (باب ما ذكر عن بنی اسرائیل) صحیح مسلم کتاب الزہد و ابن حبان 314۔



دانا اور نادان کی پہچان

(66) ﴿السَّابِعُ: عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ ابْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهٗ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَ الْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَهٗ هَوَاهَا وَ تَمَنَّى عَلَى اللهِ﴾

(رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ)

قَالَ التِّرْمِذِيُّ وَ غَيْرُهٗ مِنَ الْعُلَمَاءِ: مَعْنَى دَانَ نَفْسَهٗ حَاسَبَهَا.

ترجمہ: ساتویں حدیث: "حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا سمجھ دار آدمی وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرتا ہے اور عاجز وہ ہے جو خواہشات کی اتباع کرتا ہے اور آرزوؤں کو بڑھاتا رہتا ہے۔"

امام ترمذی نے اس کو روایت کیا اور کہا حدیث حسن ہے۔ امام ترمذی اور دوسرے علماء نے فرمایا ہے کہ "دان نفسہ" کا معنی ہے اپنا محاسبہ کرنا۔

لغات:

❖ الکیس: کاس کیسًا "ضرب" سے بمعنی عقلمند اور ذہین ہونا۔ الکیس: عقلمندی، سمجھ، ذہانت۔

❖ ھواھا: ھوی ھوی "سمع" سے بمعنی خواہش، عشق خیر میں ہو یا شر میں، محبوب، معشوق محمود ہو یا مذموم، غیر محمود میں زیادہ تر مستعمل ہے کہتے ہیں "فلان اتبع ھواہ" فلاں نے اپنی خواہشِ نفس کی اتباع کی۔

❖ تمنّٰی: الشیئ بمعنی ارادہ کرنا۔

❖ الأمانی: جمع ہے الأمنیة کی بمعنی آرزو۔

تشریح:

عقلمند کون ہیں؟

"مَنْ دَانَ" اس سے مراد محاسبۂ نفس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی اپنا محاسبہ شب و روز کرتا رہے اگر نیکیوں کا اس کو غلبہ معلوم ہو تو اس پر اللہ جل شانہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ ہی کی توفیق سے یہ ہوا اور اگر برائیوں کا غلبہ معلوم ہو تو توبہ استغفار کرے کہ نفس و شیطان کی وجہ سے یہ ہوا۔ ایک دوسری حدیث میں محاسبہ نفس کی مزید اہمیت اس طرح بیان کی گئی ہے فرمایا کہ: ’’حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا‘‘ اپنے نفس کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ (1)

نادان کون ہیں؟ ’’مَنْ اِتَّبَعَ نَفْسَهُ هَوَاهَا‘‘ جو خواہشات کی اتباع کرتا ہے۔ امام غزالیؒ نے حسن بصریؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ باطل آرزوؤں اور جھوٹی امیدوں سے دور رہو، خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو محض آرزوؤں کے سہارے نہ دنیا میں کامیاب کیا ہے اور نہ ہی آخرت میں کرے گا۔ (2)

اس حدیث شریف میں عقلمند اور نادان اور بے وقوف کی جو علامت بیان کی گئی ہے اگر آدمی اس علامت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارے اور اپنی زندگی کا محاسبہ کرتا رہے تو ان شاء اللہ ایک دن اس کی زندگی فرشتوں کے لئے بھی قابلِ رشک بن جائے گی۔

تخریج حدیث: ترمذی ابواب القیامة (باب الکیس من دان نفسہ) اخرجہ امام احمد فی مسندہ 1723/6، ابن ماجہ 4260۔

راویِ حدیث حضرت شداد بن اوسؓ کے مختصر حالات:

نام: شداد، کنیت: ابویعلیٰ و ابوعبدالرحمن، قبیلہ خزرج کے خاندان نجار سے تعلق تھا، مشہور شاعر حسان بن ثابتؓ کے بھتیجے تھے۔ والد کا نام: اوس بن ثابت اور والدہ کا نام: صریعیہ تھا۔ باپ، چچا وغیرہ پورا خاندان ان کا مسلمان ایک ساتھ ہو گیا تھا۔

آپ ﷺ کی وفات کے بعد شام، فلسطین، بیت المقدس اور حمص میں قیام رہا۔ عبادہ بن صامتؓ فرماتے تھے شدادؓ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو علم و حلم دونوں کے مجمع البحرین ہیں۔ (اسد الغابہ 38/2)

بہت زیادہ عبادت گزار تھے بسا اوقات رات کو آرام فرمانے کے لئے لیٹتے پھر اٹھ بیٹھتے اور تمام رات نماز میں گزار دیتے لیکن فرماتے اَللّٰهُمَّ إِنَّ النَّارَ قَدْ حَالَتْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ النَّوْمِ خدایا جہنم کی آگ میرے اور میری نیند کے درمیان حائل ہو گئی ہے۔ (اسد الغابہ 38/2)

حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں بَیَانٌ اِذَا نَطَقَ وَ یَکْظُمُ اِذَا غَضَبَ بولنے کے وقت وضاحت کرتے ہیں اور غصہ کے وقت حلم و درگزر کرتے ہیں۔

وفات: 58ھ میں 75 سال کی عمر میں انتقال ہوا بیت المقدس میں دفن ہوئے۔

مرویات: ان سے روایات کی تعداد 50 ہے ایک بخاری میں ایک مسلم میں ہے۔

(1) مرقاۃ شرح مشکوۃ 40/10 (2) احیاء العلوم و مظاہر حق 84/4

مسلمان کو فضول لایعنی کام کو چھوڑنا چاہئے (67) اَلثَّامِنُ: عَنْ اَبِیْ هُرَیْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُهٗ مَا لَا یَعْنِیْهِ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ غَیْرُهُ)


صفحہ 232

ترجمہ: آٹھویں حدیث: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھے اسلام کی علامت ہے فضول لایعنی کام کو چھوڑ دینا‘‘۔

لغات: لایعنیہ: عنی عنا سمع سے بمعنی مفید ہونا۔ لا داخل ہونے کی وجہ سے غیر مفید ہونا۔ فضول ہونا۔

تشریح: اسلام کی خوبی یہ ہے کہ آدمی لایعنی باتوں کو چھوڑ دے اس حدیث میں ایک نہایت ہی ضروری اصول بیان کیا گیا ہے کہ بے فائدہ اور لایعنی باتوں اور کاموں سے انسان اجتناب کرے اگر آدمی اس اصول کو اپنا لے تو وہ بہت سے گناہوں سے خود بخود بچ جائے گا۔ لایعنی کہتے ہیں اس کو جس کی نہ دینی ضرورت ہو اور نہ ہی دنیاوی۔ (1)

ایک دوسری روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا کہ میں تجھے ایسا عمل نہ بتاؤں کہ وہ عمل بدن پر تو ہلکا ہو مگر میزان میں بھاری ہو وہ یہ ہے اَلصَّمْتُ وَ حُسْنُ الْخُلُقِ وَ تَرْکُ مَا لَا یَعْنِیْکَ خاموشی اور خوش خلقی اور لایعنی چیز کا چھوڑنا۔ (2)

اس حدیث کی اہمیت کے پیشِ نظر بعض نے اس حدیث کو اسلام کا چوتھا حصہ بعض نے نصف اور بعض نے کل حصہ کہا ہے کہ اسلام نام ہی اس کا ہے کہ آدمی لایعنی چھوڑ دے۔ (3) علامہ نوویؒ نے بھی ذخیرہ احادیث میں سے چار احادیث کو اسلام کا دارومدار بتایا ہے ان میں سے ایک یہی حدیث ہے۔ (4)

تخریج حدیث: ترمذی ابواب الزہد (باب ما جاء فیمن تکلم فیما لا یعنیہ) و ابن ماجہ ایضاً مع اختلاف یسیر۔

نوٹ: راویِ حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) مرقاۃ 151/9، دلیل الفالحین 245/1 (2) احیاء العلوم 132/3 (3) دلیل الطالبین 106/1 (4) مرقاۃ 156/2

کیا مردوں سے ان کی بیویوں کے مارنے کے بارے میں سوال ہوگا؟ (68) اَلتَّاسِعُ: وَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: ’’لَا یُسْأَلُ الرَّجُلُ فِیمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ‘‘ (رواه ابوداؤد وغيره)

ترجمہ: نویں حدیث: ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی سے نہ پوچھا جائے کہ اس نے اپنی عورت کو کیوں مارا‘‘۔

تشریح: مردوں سے ان کی بیویوں کے مارنے کے بارے میں سوال نہیں ہوگا حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے مردوں کو عورتوں پر نگران بنایا ہے کہ ان سے احکامِ شرعیہ کی پابندی کروا کر ان کو ہمیشہ کی آگ سے بچائے جیسے کہ ارشادِ خداوندی ہے۔ (1) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ نگرانی کی ذمہ داری اس دوسری آیت سے بھی معلوم ہو رہی ہے۔ (2) الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے بعض (مردوں) کو بعض (عورتوں) پر دی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مردوں کے ذمہ ہے کہ اپنے ماتحت جو ہیں بچے، عورتیں وغیرہ ان پر احکامِ شرعیہ پر عمل کروائے اور اس کی خلاف ورزی پر ان کو سزا دے مگر اس مارنے میں شرط یہ ہے کہ اتنا نہ مارا جائے کہ نشان پڑ جائے اس حدیثِ بالا کا مضمون قرآن کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا (3) اور وہ عورتیں (بیویاں) جن کے سرکش ہو جانے کا تمہیں اندیشہ ہو تو پہلے ان کو نصیحت کرو اور پھر ان کو بستر پر اکیلا چھوڑ دو (اس پر بھی باز نہ آئے) تو ان کی پٹائی کرو اگر وہ تمہارا کہنا ماننے لگیں تو ان کے خلاف (انتقام) کی راہ مت تلاش کرو۔

تخریج حدیث: ابوداؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء، و اخرحہ امام احمد فی مسندہ 122/1، و ابن ماجة و الطیالسی و البزار 2351۔

راویِ حدیث حضرت عمر بن الخطابؓ کے حالات حدیث نمبر 1 کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) سورۃ التحریم: آیت 6 (2) سورۃ النساء: آیت 34 (3) سورۃ النساء: آیت 34