تقویٰ کا بیان

صفحہ 234

روضۃ الصالحین جلد اول

(6) باب فی التقویٰ

تقویٰ کا بیان

اعلیٰ درجے کا تقویٰ

قَالَ تَعَالٰی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَاتِهٖ﴾ (آل عمران: 102) ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے ”مؤمنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔“

اس آیت میں ایمان والوں کو خطاب ہے کہ تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ کہتے ہیں بچنے کو، اس تقویٰ کے بہت سے درجات ہیں سب سے اعلیٰ درجہ تقویٰ کا یہ ہے کہ اپنے دل کو غیر اللہ سے بچانا اور اللہ کی یاد اور اس کی رضامندی میں مشغول رکھنا اسی اعلیٰ درجہ کو حاصل کرنے کے لئے اس آیت میں ”حَقَّ تُقَاتِهٖ“ کا اضافہ کیا گیا ہے کہ تقویٰ کا وہ درجہ حاصل کرو جو حق ہے تقویٰ کا۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، قتادہ، ربیع، حسن بصریؒ وغیرہ سے یہ منقول ہے جو مرفوعاً خود نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے۔

حَقُّ تُقَاتِهٖ هُوَ أَنْ يُطَاعَ فَلَا يُعْصَى وَيُذْكَرَ فَلَا يُنْسَى وَيُشْكَرَ فَلَا يُكْفَرَ۔ (1) حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے کوئی کام طاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کبھی بھولیں نہیں اور اس کا شکر ہمیشہ ادا کریں کبھی ناشکری نہ کریں۔

اسی مضمون کو دوسرے مفسرین نے اس طرح بیان فرمایا کہ حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت اور برائی کی پرواہ نہ کرے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے اگرچہ انصاف کرنے میں خود اپنے نفس یا اپنی اولاد یا ماں باپ ہی کا نقصان ہوتا ہو۔ (2)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ حق تقویٰ آدمی کو حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے۔ (3)


(1) مجمع الزوائد 6 / 326۔ بحر المحیط۔ تفسیر ابن کثیر 1 / 396۔ زاد المسیر 2 / 11۔ تفسیر مظہری 2 / 71 (2) معارف القرآن 2 / 127۔ تفسیر مظہری 2 / 71 (3) تفسیر مظہری 2 / 71۔ تفسیر ابن کثیر 1 / 396


صفحہ 235

روضۃ الصالحین جلد اول

خوف خدا ایمان کی بنیاد ہے

وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ (التغابن: 16) وَهٰذِهِ الْآيَةُ مُبَيِّنَةٌ لِلْمُرَادِ مِنَ الْأُولٰی۔ ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”سو جہاں تک ہو سکے اللہ سے ڈرو۔“ یہ آیت پہلی آیت کے مطلب کو واضح کر رہی ہے۔ فَاتَّقُوا: اس میں فاء سببیہ ہے کہ ایمان سبب تقویٰ ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی پوری کوشش اور طاقت تقویٰ کو حاصل کرنے میں صرف کرے۔ (1)

علامہ آلوسیؒ نے فرمایا کہ جب آیت ”اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ“ نازل ہوئی کہ اللہ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ کا حق ہے تو صحابہ کرام کو یہ آیت بہت بھاری معلوم ہوئی کہ یہ کس کے بس کی بات ہے کہ تقویٰ کا حق ادا کرے اس پر پھر یہ آیت بالا نازل ہوئی کہ ”فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ کہ جتنا تم میں طاقت ہو اتنا تو اللہ سے ڈرو کہ حق تعالیٰ شانہ انسان کو اس کی طاقت اور قدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ”لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔“ (2)

اب مطلب یہ ہوا کہ حصولِ تقویٰ میں اپنی پوری توانائی اور کوشش کر لو اس سے اللہ تعالیٰ کے تقویٰ کے حق ادا ہو جائے گا۔ (3)

یہی بات تقریباً حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، طاؤسؒ، اور امام نوویؒ سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں کہ ”فاتقوا اللہ مااستطعتم“ یہ درحقیقت ”حَقَّ تُقَاتِهِ“ کی تفسیر و تشریح ہے مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاعت صرف کر دے تو حق تقویٰ ادا ہو جائے گا اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد بھی کسی ناجائز کام میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ حقوقِ تقویٰ کے خلاف نہیں۔ (4)


(1) تفسیر مظہری 11 / 548 (2) سورہ بقرہ آیت 286 (3) تفسیر روح المعانی (4) معارف القرآن 2 / 127

صحیح بات کرنے کی تلقین

وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ (الاحزاب: 70)


وَالْآيَاتُ فِي الْأَمْرِ بِالتَّقْوَى كَثِيرَةٌ مَعْلُومَةٌ۔ ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”مؤمنو! خدا سے ڈرو اور بات سیدھی کہا کرو۔“ تقویٰ کے حکم کے بارے میں کثرت کے ساتھ آیت موجود ہیں۔

قَوْلًا سَدِيدًا: اس کی متعدد تفسیریں منقول ہیں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا اس کا ترجمہ ہے صحیح بات۔ قتادہؒ نے کہا کہ انصاف کی بات، حسن بصریؒ نے کہا کہ سچی بات، بعض نے کہا سیدھی بات، بعض نے کہا کہ حق تک پہنچنے کا مقصد رکھنے والی بات۔ (1)

لفظ سدید: ان تمام کو شامل ہے، اسی وجہ سے علامہ کاشفؒ فرماتے ہیں کہ قول سدید وہ قول ہے جو سچا ہو جھوٹ کا اس میں شائبہ نہ ہو، صواب ہو جس میں خطاء کا شائبہ نہ ہو، ٹھیک بات ہو مذاق و دل لگی نہ ہو، نرم کلام ہو دلخراش نہ ہو۔ (2)

قَوْلًا سَدِيدًا: سے مراد حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور عکرمہؒ کے نزدیک کلمہ توحید ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ“ ہے۔ (3)

اور علامہ قتادہؒ کے نزدیک تمام اقوال و اعمال میں انصاف کرنا مراد ہے، علامہ مقاتلؒ کے نزدیک زیب و زینت کے بارے میں لوگوں نے جو باتیں کی جو آپ ﷺ کو ناپسند ہوئی یہ مراد ہے (4) یا بعض کے نزدیک حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر جو بعض لوگوں نے بہتان تراشی کی وہ مراد ہے۔ (5)


(1) زاد المسیر 6 / 218 (2) تفسیر روح البیان (3) تفسیر ابن کثیر 3 / 529 (4) زاد المسیر 6 / 218 (5) تفسیر مظہری 9 / 73

رزق اللہ کے ذمہ ہے

وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ (الطلاق: 2، 3) ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے۔ ”جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج و محن) سے مخلصی کی صورت پیدا کر دے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو۔“

شان نزول: عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لڑکے سالم کو دشمن گرفتار کر کے لے گئے ہیں ان کی ماں سخت پریشان ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو اور تمہارے لڑکے کی ماں کو حکم دیتا ہوں کہ کثرت کے ساتھ ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“ پڑھا کرو دوسری روایت میں آپ ﷺ نے ان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا اور بکثرت ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“ پڑھنے کو بھی فرمایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا...


صفحہ 237

روضۃ الصالحین جلد اول

کہ لڑکا قید سے نکل گیا۔ اور دشمنوں کی چار ہزار بکریاں اور کچھ اونٹوں کو وہ ہنکا کر ساتھ والے کے پاس پہنچ گیا، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ سے جب ان بکریوں اور اونٹوں کے بارے میں مسئلہ معلوم کیا تو اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔ (1)

اس آیت بالا میں تقویٰ کی دو برکتیں بیان کی گئی ہے پہلی یہ کہ مصائب اور مشکلات سے اللہ نجات دیگا مفسرین فرماتے ہیں کہ مشکلات سے مراد عام ہے خواہ دنیاوی مشکلات ہوں یا آخرت کی۔

دوسری برکت یہ بیان کی گئی ہے اللہ اس کو ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کا خیال و گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہاں پر بھی رزق سے مراد دنیا و آخرت دونوں جگہ کا رزق مراد ہے اور رزق سے مراد صرف کھانا پینا نہیں بلکہ ضروریات دنیا کی تمام چیزیں مراد ہے۔ (2)


(1) روح المعانی 28 / 8، زاد المسیر 8 / 38، معارف القرآن 8 / 386، تفسیر مظہری 11 / 75، تفسیر ابن کثیر 4 / 406 (2) تفسیر روح المعانی

اللہ بہت بڑے فضل واحسان والے ہیں

وَقَالَ اللهُ تَعَالٰی: ﴿إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ﴾ (انفال: 29) وَالْآيَاتُ فِي الْبَابِ كَثِيرَةٌ مَعْلُومَةٌ۔ ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے۔ ”مؤمنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لئے امرِ فارق پیدا کر دیگا یعنی تم کو ممتاز کر دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہیں بخش دیگا اور خدا بڑے فضل والا ہے۔“

تشریح: اس آیت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے تقویٰ پر تین انعامات دینے کا دعویٰ فرمایا ہے (1) فرقان (2) کفارہ سیئات (3) مغفرت۔

پہلا انعام: فرقان ہے اور فرقان کہتے ہیں وہ چیز جو دو چیزوں کے درمیان فرق اور فصل کر دے، اللہ کی مدد کو بھی فرقان کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ سے حق اور باطل میں فرق ہو جاتا ہے، غزوہ بدر کو بھی فرقان کہا گیا ہے کہ اس نے بھی حق اور باطل میں فرق کر دیا تھا۔ (1)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ کے نزدیک یہاں فرقان سے مراد اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد اور حفاظت ایسی ہو کہ دشمن کو کامیابی حاصل نہ ہو سکے تقویٰ کے ذریعہ اللہ نصرت و امداد کرتے ہیں۔


صفحہ 238

روضۃ الصالحین جلد اول

ابن زید، و ابن اسحاق نے کہا یہاں فرقان سے مراد عقل و بصیرت ہے جس کے ذریعہ سے حق و باطل میں امتیاز آسان ہو جائے کہ تقویٰ اختیار کرنے سے اللہ تعالیٰ فراست و بصیرت عطاء فرما دیتے ہیں کہ جس سے اس کو اچھے برے میں فیصلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ (2)

دوسرا انعام: کفارہ سیئات۔ کہ اس سے دنیا میں جو خطائیں لغزشیں سرزد ہو جاتی ہیں دنیا میں اس کا کفارہ اور بدل کر دیا جاتا ہے، یعنی اس کو ایسے اعمال صالحہ کی توفیق دے دی جاتی ہے جو اس کی تمام لغزشوں پر غالب آ جاتے ہیں۔

تیسرا انعام: تقویٰ اختیار کرنے والوں کو آخرت کی مغفرت اور اس کے تمام گناہوں کی معافی بھی کر دی جاتی ہے۔ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ: تقویٰ پر تین انعامات کا وعدہ کیا گیا۔ وہ جزا اور بدلہ کے طور پر ہے مگر اللہ تعالیٰ بڑے فضل واحسان والے ہیں۔ اس کی داد و دہش کسی پیمانہ کے ساتھ مقید نہیں، اس کے احسان و انعام کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا، تو تقویٰ پر ان تین انعام کے علاوہ مزید امیدیں بھی رکھنی چاہئے۔ (3)


(1) تفسیر ابن کثیر 3 / 314 (2) زاد المسیر 3 / 235۔ معارف القرآن 4 / 218 (3) معارف القرآن 4 / 218

انسان کی شرافت علم و دین پر ہے

(69) وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ فَالْأَوَّلُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: «أَتْقَاهُمْ». فَقَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ». قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا»۔ (متفق عليه) ”وَفَقِهُوا“ بِضَمِّ الْقَافِ عَلَى الْمَشْهُورِ، وَحُكِيَ كَسْرُهَا، أَيْ: عَلِمُوا أَحْكَامَ الشَّرْعِ۔

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوا یا رسول اللہ ﷺ! کریم انسان کون ہے فرمایا جس میں اللہ کا ڈر زیادہ ہے، صحابہ نے عرض کیا ہم نے آپ ﷺ سے یہ نہیں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر یوسف نبی اللہ علیہ السلام بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ کریم ہیں، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا ہم اس کے بارے میں بھی سوال نہیں کر رہے ہیں، فرمایا اچھا تو آپ عرب کے خاندانوں کے بارے میں سوال کر رہے ہو (تو یاد رکھو) جو خاندان جاہلیت میں بہتر شمار ہوتے تھے وہ اسلام میں بھی بہتر سمجھے جائیں گے جب ان میں فقاہت عقلمندی موجود ہو گی۔‘‘ فقہوا: مشہور استعمال کے مطابق قاف کے پیش کے ساتھ، اور قاف کے زیر کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی احکام کا علم۔ لغات: ❖ اکرم: کرم کرُماً باب کرم سے بمعنی معزز اور شریف ہونا۔ ❖ معادن: جمع ہے معدن کی اور اس کا معنی ہے ہر چیز کا منبع۔ سونے کی کان وغیرہ۔

تشریح: انسان کی شرافت خاندانی شرافت پر نہیں بلکہ علمِ دین پر ہے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سوال کہ کریم انسان کون ہے؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو متقی ہو، جتنا جس میں تقویٰ ہو گا اتنا ہی پرہیزگاری ہوگی، جیسے کہ قرآن مجید میں بھی ارشاد خداوندی ہے۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ ۚ (1) تم میں سب سے زیادہ کریم آدمی اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ آپ ﷺ نے یہ ارشاد اس لئے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے خاندان اور ذاتی شرافت پر فخر کرتے تھے اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اسلام میں شرافت تقویٰ کے اعتبار سے ہوگی نہ کہ خاندانی اعتبار سے۔

شرافت دین میں ہے قَالَ فَاَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ: صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سوال میں نسبی شرافت کی طرف اشارہ تھا اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا انسانوں میں سب سے زیادہ شریف و بزرگ حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو خدا کے نبی اور خدا کے نبی کے بیٹے اور خدا کے نبی الحق علیہ السلام کے پوتے اور خدا کے دوست حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں، مسلسل چار پشتوں میں نبوت اس سے بڑھ کر دینی، روحانی اور اخلاقی کمال و شرافت اور کیا ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے تیسری مرتبہ اپنے مدعا کا اعادہ کیا تو آپ ﷺ نے اب تیسری بار ان کے مدعا ”فعن معادن العرب تسئلوننی“ کے ساتھ تعیین فرمائی کہ جن لوگوں کی ذات اور شخصیت میں زمانہ جاہلیت میں ایسی امتیازی شان و خصوصیات موجود تھیں جن کی وجہ سے وہ معزز و مکرم سمجھے جاتے تھے۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو اب بھی وہ معزز و مکرم بن جائیں گے۔ فرق یہ ہوگا کہ زمانہ جاہلیت میں ان کی صلاحیتیں اپنی ذاتی اور خاندانی اعتبار سے استعمال ہو رہی تھی مگر اسلام قبول کرنے اور دین سیکھنے کے بعد ان کی اب یہ صلاحیتیں اسلام کے لئے استعمال ہوں گی۔

تخریج حدیث: صحیح بخاری، کتاب الانبیاء (باب واتخذ اللہ ابراهیم خلیلاً) وصحيح مسلم كتاب الفضائل (باب من فضائل یوسف علیہ السلام) و اخرجه امام احمد فی مسنده 3 / 909، ابن حبان 92۔

(1) سورت حجرات: 13


Page 240

دنیا دار عورتوں سے پرہیز کرو (70) ❖ الثَّانِي: عَنْ أَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيْهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ، فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَ اتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ“ ❖ (رواه مسلم) ترجمہ: ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا دنیا شیریں، ہری بھری چیز ہے اور اللہ نے تم کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے وہ دیکھ رہا ہے کس طرح کے اعمال تم کرتے ہو، پس دنیا اور عورتوں سے بچاؤ اختیار کرو اس لئے کہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا تھا۔‘‘

لغات: ❖ حلوة: حلا نصر سے حلو کرم سے اور حلی سمع سے حلاوة وحلواناً بمعنی میٹھا ہونا۔ ❖ خضرة: خضر خضرا سمع سے بمعنی سبز ہونا، خضرة الدمن وہ سبزہ جو کوڑے کرکٹ پر اگتا ہے جس کا ظاہر اچھا ہو اور باطن برا اس کے لئے بطور کنایہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ❖ فتنة: بمعنی آزمائش اس کی جمع فتُن آتی ہے۔

بال کالے سفید ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ پھر بھروسہ نہیں جوانی کا

تشریح: إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ: دنیا بڑی شیریں اور سبز ہے۔ جس طرح تروتازہ پھل ذائقے میں میٹھا اور دیکھنے میں خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا لگتا ہے تو یہی حال دنیا کے مال واسباب کا ہے انسان کو یہ بھی بہت ہی خوش رنگ اور دلوں کو لبھانے والا لگتا ہے۔ تو جس طرح تروتازہ پھل چند گھنٹوں کے بعد اس کی تروتازگی خراب ہو جاتی ہے تو اسی طرح یہ دنیا کا حال ہے آج تو بہت ہی سرسبز معلوم ہوتی ہے مگر جلد ہی اس کی سبزری ختم ہو جانے والی ہے۔ دنیا کا تو یہ حال ہے۔

پرہیزگاری کا پہلا دشمن آپ ﷺ نے بطور نصیحت کے فرمایا فاتقوا الدنیا: ”دنیا سے بچو“ تقویٰ اور پرہیزگاری سے دور کرنے والی چیز دنیا کی محبت ہے کہ مال و دولت کے جمع کرنے میں لگ جائے اور خدا کو بھول جائے دنیا کی محبت ایک دوسری روایت میں خطرناک فتنہ فرمایا گیا ہے کہ: لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةٌ وَ فِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ (2) ہر نبی کی امت کے لئے ایک آزمائش کی چیز ہوئی ہے اور میری امت کی آزمائش کی چیز مال ہے۔ ایک دوسری روایت میں اس کی قباحت کو اس طرح فرمایا۔ فَوَاللَّهِ لَا أَخْشَىٰ عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ وَلَٰكِنْ أَخْشَىٰ عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ عَلَىٰ مَنْ كَانَ


Page 241

قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ. (3) پس خدا کی قسم فقر و افلاس کا مجھے تمہارے متعلق کوئی اندیشہ نہیں لیکن میں تو تمہارے بارے میں اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا کے دروازے تم پر کھول دیئے جائیں جیسے کہ پہلی قوموں پر کھول دیئے گئے تھے پھر تم ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس کی حرص و ہوس میں ایسے ہی گرفتار ہو جاؤ جیسے وہ گرفتار ہوئے اور پھر وہ دنیا تم کو اسی طرح ہلاک کر ڈالے جیسے ان کو ہلاک کر چکی۔

پرہیزگاری کا دوسرا دشمن واتقوا النساء: عورتوں سے بچے رہنا، کہ عورتوں کی محبت یہ بھی پرہیزگاری کے لئے تباہی کا سبب بن جاتی ہے اور یہ محبت قوموں اور حکومتوں کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ تاریخ کے صدہا واقعات اس کے شاہد ہیں، یہ ایک ناقابلِ انکار و تردید حقیقت ہے کہ سب سے بڑا فتنہ عورت کی اندھی محبت ہے۔ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ: بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کا ہی تھا۔ یہ کون سا فتنہ تھا! اس کے بارے میں محدثین نے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں مگر اکثر نے واقعہ بلعام بن عوراء کو نقل کیا ہے کہ یہ ایک نیک آدمی تھا مگر اپنی بیوی کی محبت کی وجہ سے مردود ہو گیا۔ تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الرقاق (باب اکثر اهل الجنة الفقراء و اکثر اهل النار النساء، تحفۃ الاشراف 4345۔ نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوسعید خدری کے حالات حدیث نمبر (20) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (1) روضۃ المتقین 114 (2) مشکوٰۃ (3) مشکوٰۃ

نبی کریم ﷺ کی ایک جامع دعا (71) ❖ الثَّالِثُ: عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ: ”اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَ التُّقَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى“ ❖ (رواه مسلم) ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اے اللہ میں تجھ سے ہدایت، پرہیزگاری، پاکدامنی اور غنا کا سوال کرتا ہوں۔‘‘


Page 242

تشریح: ایک جامع اور مفید دعا اس میں چار چیزوں کی دعا مانگی گئی ہے چاروں چیز کی مختصر وضاحت یہ ہے:

هدی: ہدایت اسی کی دعا ہر مسلمان ہر نماز کی ہر رکعت میں اللہ جل شانہ سے درخواست کرتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ ”اے اللہ تو ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔‘‘

التقٰی: تقویٰ، یہ تمام امور کی جڑ ہے یہ ایک جامع لفظ ہے اس میں تمام اسلام کی تعلیمات آجاتی ہیں، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی تمام منہیات سے اپنے آپ کو روکے اور تمام اوامر پر عمل کرے۔ (1)

العفاف: پاکدامنی: اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی تمام ممنوع اور برے اعمال و اخلاق سے بچے خصوصاً کسی سے سوال کرنے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ذلت اٹھانے سے بچے۔ (2)

الغنی: مخلوق سے بے نیازی، یعنی ضروریات پورا کرنے کی بقدر روزی میسر آنے کی صورت میں حق تعالیٰ شانہ کے سوا کسی کے سامنے بھی اپنی حاجت و ضرورت کا اظہار نہ کرے اور جو کچھ اللہ کی طرف سے میسر ہو اسی پر قناعت کرے۔ اسی کو ایک دوسری روایت میں اس طرح فرمایا کہ بہترین دولت مندی دل کا غنی ہونا ہے (3) اسی وجہ سے ایک مسنون دعا میں فرمایا گیا: اللَّهُمَّ اغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ: اے اللہ تو مجھے اپنے فضل و انعام سے اپنے ماسوا سے غنی بنا دے۔ تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الذکر (باب التعوذ من شر ما عمل و شر مالم یعمل، اخرجه احمد و الترمذی و ابن ماجة ايضاً۔ نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن مسعود کے حالات حدیث نمبر (36) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) دلیل الفالحین 252/1 (2) دلیل الفالحین 252/1 (3) مشکوٰۃ (4) مشکوٰۃ

معصیت کی نذر پوری نہ کی جائے (72) ❖ الرَّابِعُ: وَ عَنْ أَبِي طَرِيْفِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: ”مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنٍ ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا فَلْيَأْتِ التَّقْوَى“ ❖ (رواه مسلم) ترجمہ: حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جو شخص قسم اٹھاتا ہے پھر اس سے کسی اور چیز کو زیادہ بہتر پاتا ہے تو وہ بہتر کام کرے۔‘‘


Page 243

لغات: ❖ حلف: حلف حَلْفاً وحِلْفاً ضرب سے بمعنی اللہ کی قسم کھانا۔ ❖ یمین: بمعنی قسم جمع أيمان وأَيْمُن۔

تشریح: اپنی قسم کے خلاف خیر پائے تو وہ قسم کا کفارہ دے دے من حلف على یمین ثم رأى اتقى لله منها فلیات التقوى. جو شخص قسم کھائے پھر اس سے کسی اور چیز کو زیادہ بہتر پاتا ہے تو وہ بہتر کام کرے۔ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اطاعت کی قسم کو پورا کرنا چاہئے اور معصیت والی قسم کو پورا کرنا جائز نہیں ہے جیسے کہ روایت میں آتا ہے ”فرأى غيرها خيرًا منها فليكفر عن يمينه وليفعل.‘‘ (1)

کیا معصیت کی نذر ماننے کے بعد پوری نہ کرنے پر کفارہ ہے یا نہیں؟ اس میں فقہاء کے مختلف مذاہب ہیں مثلاً امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس پر کوئی کفارہ نہیں آئے گا (2) امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اس معصیت کو دیکھیں گے وہ معصیت ”لعینھا“ ہو گی یا ”لغیرھا“۔ اگر ”لعینھا“ ہے مثلاً قتل، زنا وغیرہ تو اس کو پورا کرنا جائز بھی نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی کفارہ آئے گا۔ اور اگر وہ لغیرھا ہے مثلاً عید کے دن یا ایام تشریق میں روزہ رکھے تو اس صورت میں اس کو پورا کرنا تو جائز نہیں ہوگا مگر اس صورت میں کفارہ یمین آئے گا۔ (3) تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الایمان (باب ندب من حلف یمینا فرأى غیرها خیراً منها. رواه النسائی، وابن ماجة ايضاً۔

راوی حدیث حضرت عدی بن حاتم الطائی کے مختصر حالات: عدی نام ہے ابوطریف کنیت ہے والد کا نام حاتم طائی تھا عدی کا خاندان ۔۔۔۔۔ قبیلہ طے پر حکمرانی کرتا رہا، ظہور اسلام کے وقت عدی حکمران تھے اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا تو آپ پریشان ہوئے اسلام کا سیلاب روکنا ان کے بس میں نہیں دوسری طرف حکمرانی کی وجہ سے اسلام کے سامنے سر جھکانے کی ہمت نہ پڑی بہرحال جب اسلامی فوجیں قبیلہ طے کی طرف روانہ ہوئیں تو عدی اپنے تمام خاندان کو لے کر شام چلے گئے۔ (سیرۃ ابن ہشام 2 / 368) اتفاق سے ایک رشتہ دار رہ گئی تھیں وہ گرفتار ہو گئیں۔ اس خاتون نے آپ ﷺ سے عرض کیا میرا چھڑانے والا کوئی نہیں احسان کریں، خدا آپ ﷺ پر احسان کرے گا۔ آپ ﷺ نے اس خاتون کو رہا کر دیا اور پھر بڑے اعزاز کے ساتھ ان کو رخصت کیا۔ اس سے عدی متاثر ہوئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے ان کو ایک گدے پر بیٹھایا اور خود زمین پر بیٹھے اس کے بعد عدی مسلمان ہو گئے آپ ﷺ نے ان کو قبیلہ طے کا دوبارہ امیر بنا دیا۔ (سیرت ابن ہشام 2 / 38) آپ ﷺ کی وفات کے بعد جب لوگ مرتد ہونے لگے اور زکوۃ دینے سے انکار کرنے لگے تھے مگر عدی کا قبیلہ ان کی کوشش سے برابر زکوۃ دیتا رہا۔ (استیعاب 2 / 516)

صفحہ 244 روضۃ الصالحین جلد اول

ہمیشہ باوضو رہتے تھے کبھی اقامت کے وقت وضو کی ضرورت نہیں پڑی (اصابہ 3/ 428)۔ وفات: آخری وقت میں کوفہ میں رہے کوفہ میں ہی 77ھ میں انتقال ہوا۔ روایات: ان سے 66 روایات مروی ہیں ان میں سے چھ بخاری و مسلم دونوں میں ہیں۔ 3 میں بخاری اور 2 میں امام مسلم منفرد ہیں (تہذیب الکمال 263)۔

(1) مسلم شریف ۔ (2) المغنی لابن قدامہ 11/ 334 (3) اعلاء السنن 11/ 426


حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ کی جامع نصیحت

(73) ﴿الخامس: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: "اتَّقُوا اللَّهَ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ"﴾ (رواه الترمذي، في آخر كتاب الصلواة وَقَالَ: حديث حسن صحيح) ترجمہ: ”حضرت امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کا ڈر رکھو، پانچوں نمازیں ادا کرو، رمضان المبارک کے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مال سے زکواۃ ادا کرو، اپنے امیروں کی (اگر معصیت کا حکم نہ دیں) اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ اس کو امام ترمذی نے کتاب الصلوٰۃ کے آخر میں روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

لغات:

يخطب: خطب خطبةً نصر سے بمعنی وعظ کہنا، تقریر کرنا، خطبہ پڑھنا۔

أدُّوا: ادى ادیاً ضرب سے بمعنی ادا کرنا، پہنچانا۔

امراء: جمع ہے امیر کی بمعنی حکم دینے والا، سردار قوم۔

حجۃ الوداع کے خطبہ کی چند باتیں

يَخْطُبُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں فرمایا ”حج الوداع“ کو حج الوداع اس لئے کہتے ہیں کہ وداع کا معنی ہوتا ہے رخصت کرنے کے، تو اس حج کے بعد بھی آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس حج کو حج الاسلام بھی کہتے ہیں۔ اتقو اللہ: اللہ سے ڈرو کہ تقویٰ ہی تمام اوامر پر آنے اور تمام نواہی سے بچنے کے لئے اکسیر ہے۔ (1)

صفحہ 245 روضۃ الصالحین جلد اول

وَأَطِيعُوا أُمَرَاءَكُمْ تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ: اپنے امیروں کی اطاعت کرو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے، علماء نے لکھا ہے کہ جب امیر کی اطاعت شرعی طریقے سے نافذ ہو جائے تو اب جائز امور میں اس کی اطاعت ضروری ہے البتہ ناجائز بات کا اگر وہ امیر حکم دے تو اس کی بات ماننا جائز نہیں ہوگی اس بات پر علامہ نوویؒ نے اجماع نقل کیا ہے۔ (2) اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ جب شرائط امارت کے ساتھ امیر بنا دیا جائے تو اب اس کی امارت سے بغاوت یا منازعت جائز نہیں جب تک کہ اس امیر کی طرف سے کفر بواح (یعنی ظاہری کفر) سامنے نہ آجائے۔ (3) تخریج حدیث: سنن ترمذی ابواب الصلوٰۃ (باب صلوٰۃ الجمعة) و آخره جه احمد 8/ 22223۔


راوی حدیث حضرت ابوامامہ باہلیؓ (صدی بن عجلان) کے مختصر حالات:

نام صدی، ابوامامہ کنیت، والد کا نام عجلان تھا، اسلام قبول کر کے غزوہ حدیبیہ میں شریک ہوئے اور بیعت رضوان کا بھی شرف حاصل ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کی قوم میں ہی تبلیغ دعوت کے لئے ان کو بھیج دیا جب یہ پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ تم بے دین ہو گئے، انہوں نے جواب دیا، کہ میں بے دین نہیں ہوا بلکہ خدا اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لایا ہوں، کسی نے بھی ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا یہاں تک پیاس کے وقت پانی بھی نہیں دیا، یہ اسی پیاس کی حالت ان کو نیند آئی تو خواب میں قدرت الہی نے ان کو سیراب کر دیا۔ جب نیند سے بیدار ہوئے تو قوم نے ان کو کھجور اور دودھ دیا مگر انہوں نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھ کو سیراب کر دیا۔ (مستدرک حاکم 3/ 642) اصابہ میں ہے کہ آخر میں ان کی کوششوں سے ان کا خاندان مسلمان ہو گیا (اصابہ 3/ 421) تبلیغ و اشاعت اسلام ان کا خاص مشغلہ تھا جہاں پر بھی دو چار آدمی مل جاتے ان کو احادیث نبوی ﷺ سناتے اور تاکید فرماتے اوروں کو بھی پہنچاؤ۔ (مسند دارمی باب البلاغ عن رسول اللہ ﷺ و تعلیم السنن، طبقات بن سعد 7/ 132) وفات: جنگ صفین میں حضرت علیؓ کا ساتھ دیا پھر شام میں جا کر اقامت اختیار کر لی اور پھر شام کے علاقے میں ہی عبدالملک اموی کے عہد میں 86ھ میں انتقال ہوا۔ کہتے ہیں کہ وفات کے وقت ان کی عمر 106 سال تھی۔ روایات: ان کی مروایات کی تعداد کل 250 ہے ان میں سے پانچ روایتیں بخاری میں اور تین مسلم میں ہیں (تہذیب الکمال 13/ 16)

(1) روضة المتقین: 1/ 116 (2) شرح مسلم للنووی 12/ 223 (3) حدیث مشکوۃ