باب فی الیقین والتوکل

صفحہ 225

روضۃ الصالحین جلد اول

(7) بَابُ فِي الْیَقِیْنِ وَالتَّوَکُّلِ

یقین اور توکل کا بیان

اللہ کے وعدہ کا ایفاء

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿وَلَمَّا رَاَى الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا﴾ (الأحزاب: 22)


صفحہ 226

روضۃ الصالحین جلد اول

ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبرﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبرﷺ نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔“

تشریح: اس آیت میں غزوہ احزاب کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب غزوہ احزاب میں مسلمانوں نے کافروں کے لشکر کو آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ہم سے کیا تھا اور وہ وعدہ سورۃ بقرہ کی اس آیت کے ذریعہ سے کیا تھا کیونکہ سورت بقرہ نزول کے اعتبار سے سورت احزاب سے پہلے نازل ہوئی تھی وہ آیت یہ ہے۔ ﴿اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ..... اِلٰٓى اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ﴾ (البقرة: 214) اس آیت میں صراحتاً ذکر کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کا کڑا امتحان لیا جائے گا، بڑی شدائد ان پر آئیں گی۔ (1)

«وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا»: اس سے ان کا ایمان اور اطاعت زیادہ ہوگئی۔ یہاں ”ایمان“ سے مراد رسولﷺ کے قول کی تصدیق اور ”تسلیما“ سے مراد اللہ کے حکم اور تقدیر کے سامنے سر جھکا دینا ہے۔ (2)

(1) تفسیر مظہری 330/9- زادالمسیر 191/6 تفسیر ابن کثیر 483/3 (2) تفسیر مظہری 330/9- ابن کثیر 483/3


مسلمانوں کے لئے اللہ ہی کافی ہے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِيْمَانًا ۖ وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ۔ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ؕ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ﴾ (آل عمران: 173-174)

ترجمہ: ارشادِ باری تعالیٰ: ”جب ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلہ) کے لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے تو ان کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔“

تشریح: «اَلَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا»: جب ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے لئے لشکر جمع کیا ہے۔ اس آیت سے مراد مجاہد، عکرمہ، مقاتل وغیرہ کے نزدیک نعیم بن مسعود اشجعی ہے جو ابوسفیان اور اس کے مشرک


صفحہ 227

روضۃ الصالحین جلد اول

ساتھیوں کی خبر لے کر مدینہ میں اس وقت آئے جب آپﷺ غزوہ بدر صغریٰ کی تیاری میں مصروف تھے۔ (1) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”النَّاس“ سے مراد عبدالقیس کے وہ شتر سوار ہیں جو ابوسفیان کی طرف سے اس وقت خدمت میں آئے جب آپﷺ حمراء اسد میں تھے۔ (2) «اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ»: یہاں پر ”النَّاس“ سے مراد ابوسفیان اور اس کے ساتھی ہیں۔ «قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ»: اس موقع پر مسلمانوں نے کہا کہ خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے اس سفر میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تمام راستہ اسی کا ورد کرتے رہے۔ اللہ کے کافی ہونے سے یہ مراد نہیں کہ آدمی اسبابِ دنیا کو چھوڑ دے اسبابِ ظاہری یہ بھی اللہ کا انعام ہے اس کی ناشکری نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان اسبابِ ظاہری پر اعتماد نہ کرے کہ اس سے ہوگا بلکہ اعتماد اللہ کی ذات پر کرے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ ایک ہی اللہ کرے گا۔

«فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ»: اس آیت میں ”حسبنا اللہ و نعم الوکیل“ کہنے کے فوائد اور ثمرات اور برکات کا بیان ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ نے تین انعامات دیئے:

کافروں کے دل میں رعب ڈال دیا وہ بھاگ گئے۔

ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو حمراء الاسد کے بازار میں تجارت کا موقع ملا جس سے منافع بھی حاصل ہوئے اس کو لفظ فضل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

جو یقینی انعام ہے وہ یہ کہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اللہ رضا مندی نصیب ہوئی اس کو ”وَاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ۔“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (3)

(1) زاد المسیر 58/2- ابن کثیر 449/1 (2) مظہری 428/2 (3) معارف القرآن 243/2


اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ﴾ (الفرقان: 58) ترجمہ: ارشادِ باری تعالیٰ: ”اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا۔“ تشریح: اس آیتِ شریفہ میں ترغیب دی جا رہی ہے کہ آدمی اعتماد کرے اسی ذات پر جو ہمیشہ زندہ رہے گی اس کو موت نہیں آئے گی۔ (1) اصل میں ”حئی“ اس کو کہتے ہیں کہ جو زندہ رہے بغیر روح کے، تمام جاندار روح کے ساتھ زندہ ہے ان کی زندگی کسی بھی وقت...


صفحہ 228

روضۃ الصالحین جلد اول

وقت ختم ہوسکتی ہے، اگر اللہ کے سوا کسی اور پر اعتماد کیا تو وہ کسی بھی وقت بے یارومددگار چھوڑ دے گا مگر اللہ جل شانہ کی حیات پر کبھی بھی موت طاری ہونے کا وہم بھی نہیں ہوسکتا، تو ایسی ذات پر اعتماد کرنے والا کبھی بھی بے یارومددگار نہیں ہوسکتا۔ (1) تفسیر ابن کثیر 335/3


ایمان والوں کو ہر حال میں اللہ پر توکل کرنا چاہئے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَعَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾ (ابراهیم: 11) ترجمہ: ارشادِ خداوندی: ”اور اللہ پر ہی مومنوں کو بھروسہ کرنا چاہئے۔“ تشریح: اس آیت سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا خطاب ہے اپنی قوم کو ”قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ۔“ تو آیت کا مطلب یہ ہوا کہ انبیاء نے اپنے ایمان والے ساتھیوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ کافروں کے مقابلے کے وقت اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا چاہئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنا تقاضائے ایمان بھی ہے کہ جب مومن کا یہ پختہ عقیدہ ہوجاتا ہے کہ ہر خیر و شر کو پیدا کرنے والا اور نفع و ضرر پہنچانے والا اللہ جل شانہ کے سوا کوئی اور نہیں تو وہ لازمی طور پر اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے۔ (1) (1) تفسیر مظہری 290/6


تمام امور کے ابتدا میں اللہ پر توکل کرنا چاہئے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ﴾ (آل عمران: 159) وَالْاٰیَاتُ فِي الْاَمْرِ بِالتَّوَکُّلِ كَثِيْرَةٌ مَّعْلُوْمَةٌ۔ ترجمہ: ارشادِ خداوندی: ”اور جب کسی کام کا عزم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔“ تشریح: اس آیتِ مبارکہ میں غزوہ احد کے ایک فیصلے کی طرف اشارہ ہے۔ کہ جب آپﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے باہر جاکر مقابلہ کیا جائے یا مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو اکثر نوجوان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رائے یہی ہوئی کہ باہر نکل کر مقابلہ کیا جائے مگر آپﷺ کی منشاء یہی تھی کہ اندر ہی رہ کر مقابلہ کیا جائے جب آپﷺ...


صفحہ 229

روضۃ الصالحین جلد اول

زرہ پہن کر آگئے تو ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا کہ اندر ہی رہ کر مقابلہ کریں تو اس پر آپﷺ نے فرمایا اب اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے۔ اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جب باہم مشورہ سے جو طے ہوجائے اس پر عمل کرو اور اعتماد اللہ کی ذات پر رکھو۔ کیونکہ غیب کا علم تو اللہ کو ہی ہے۔ (1) ”عَزَمْتَ“: سے صیغہ خطاب سے آپﷺ مراد ہے یا مشورہ کا امیر مراد ہے کہ عزم اور پختہ ارادہ امیر کا معتبر ہے کہ جب امیر کا مشورہ کے بعد اس کام کے کرنے کا پختہ عزم و ارادہ ہوگیا تو اب اللہ پر بھروسہ کر کے کام کرلینا چاہئے۔ اپنی عقل و رائے اور تدبیروں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے: خویش را دیدیم و رسوائی خویش امتحان مکن اے شاہ پیش (1) تفسیر مظہری 47/2 (2) معارف القرآن 225/2-226


اللہ پر بھروسہ کرنے والے کے لئے اللہ کافی ہے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ؕ اَیْ كَافِيْه﴾ (الطلاق: 3) ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔“ تشریح: کہ اگر کوئی اللہ کی ذات اقدس پر بھروسہ اور توکل کرے گا۔ تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مہمات کے لئے کافی ہوجائے گا کیونکہ اللہ جس طرح چاہتا ہے پورا کردیتا ہے۔ جیسے کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے۔ (1) ”لَوْ اَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللّٰهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُوْ اِخْمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا۔“ (1) ترجمہ: ”اگر تم اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے جیسا کہ اس کا حق ہے تو بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسا کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس ہوتے ہیں۔“ اسی طرح عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر (70) ہزار آدمی بے حساب جنت میں داخل ہوں گے ان کے اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والے ہوں گے۔ (2) (1) ترمذی و ابن ماجہ (2) بخاری و مسلم بحوالہ تفسیر مظہر



صفحہ 250

روضۃ الصالحین جلد اول

تلاوتِ قرآن سے ایمان کی زیادتی کا بیان

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ﴾ (الانفال: 2) وَالْآيَاتُ فِی فَضْلِ التَّوَكُّلِ كَثِیرَةٌ مَعْرُوفَةٌ.

ترجمہ: اور ارشادِ خداوندی ہے: ”مؤمن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، فضائل توکل میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔“

تشریح: اس آیت میں کامل مؤمن کی تین خصوصی صفات کا بیان ہے، (1) خوفِ خدا (2) ترقیِ ایمان (3) اللہ پر توکل۔ پہلی صفت ”اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ“ ترجمہ: جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو دل ڈر جاتے ہیں۔ اسی کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا: ”وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ.“ ترجمہ: ”خوشخبری دے دیجئے ان متواضع نرم لوگوں کو جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔“ (1)

وَجِلَتْ: کہتے ہیں وہ ہیبت جو بڑوں کی جلالتِ شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے یا مراد خوفِ عذاب ہے، اسی وجہ سے بعض مفسرین آیتِ بالا کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گناہ کا ارادہ کرے پھر خدا کی یاد آگئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا اور گناہ سے باز آگیا۔ (2)

دوسری صفت: زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا: کہ تلاوتِ آیات سے مسلمانوں کے ایمان کی قوت و کیفیت اور نورِ ایمان میں ترقی ہوجاتی ہے۔ کہ عبادت اس کی طبیعت میں داخل ہوجاتی ہے پھر اس کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ قال الشاعر: وَإِذَا حَلَّتِ الْحَلَاوَةُ قَلْبًا ... نَشَطَتْ فِی الْعِبَادَةِ الْأَعْضَاءُ جب کسی دل میں حلاوتِ ایمان جگہ پکڑ لیتی ہے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت و لذت حاصل کرنے لگتے ہیں۔ (3)

تیسری صفت: وعلی ربهم يتوكلون: اپنے تمام اعمال و احوال میں اللہ کی ذات پر اعتماد ہو، اسباب میں اصلی کامیابی نہ سمجھے بلکہ یہ سمجھے جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔ اپنے دل و دماغ کو صرف ساری تدبیروں اور اسباب میں الجھا کر نہ رکھے۔ (4)

(1) معارف القرآن 3 / 187 (2) مظہری 5 / 21، ابن کثیر 2 / 298 (3) معارف القرآن 4 / 178 (4) معارف القرآن 4 / 179


صفحہ 251

روضۃ الصالحین جلد اول

ستر ہزار متوکلین بغیر حساب و کتاب جنت میں جائیں گے

وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ: (74) فَالْأَوَّلُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأُمَمُ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَهُ الرُّهَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِی سَوَادٌ عَظِیمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِی، فَقِیلَ لِی: هٰذَا مُوسٰی وَقَوْمُهُ وَلٰكِنِ انْظُرْ إِلَى الْآفَاقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیمٌ، فَقِیلَ لِی: انْظُرْ إِلَى الْآفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیمٌ، فَقِیلَ لِی: هٰذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ،“ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی أُولٰئِكَ الَّذِینَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِینَ صَحِبُوا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِینَ وُلِدُوا فِی الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللّٰهِ شَيْئًا. وَذَکَرُوا أَشْیَاءَ. فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”مَا الَّذِی تَخُوضُونَ فِیهِ؟“ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ: ”هُمُ الَّذِینَ لَا یَرْقُونَ، وَلَا یَسْتَرْقُونَ وَلَا یَتَطَیَّرُونَ، وَعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ،“ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰهَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”أَنْتَ مِنْهُمْ،“ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: ادْعُ اللّٰهَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”سَبَقَكَ بِهَا عُکَّاشَةُ.“ (متفق علیہ) ”الرُّهَیْطُ“ بضم الراء: تصغیر رَهْط، وَهُمْ دُونَ عَشَرَةِ أَنْفُسٍ. ”وَالْآفُقُ“: النَّاحِيَةُ وَالْجَانِبُ. ”وَعُکَّاشَةُ“ بضم العین و تشدید الکاف و بتخفیفها، و التشديد أفصح.

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں چنانچہ میں نے دیکھا کسی پیغمبر کے ساتھ چھوٹی سی جماعت ہے، کسی پیغمبر کے ساتھ ایک آدمی، کسی کے ساتھ دو آدمی ہیں اور بعض ایسے بھی تھے جن کے ساتھ کوئی نہ تھا، اچانک مجھے ایک انبوہِ نظر آیا میں نے خیال کیا کہ میری امت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے لیکن آپ آسمان کے کنارے کی طرف نظر اٹھائیں، میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت موجود ہے پھر مجھے کہا گیا آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی بہت بڑی جماعت نظر آئی، تو مجھے کہا گیا یہ آپ ﷺ کی امت ہے، ستر ہزار ان کے ساتھ ہیں جو جنت میں بلا حساب و عذاب داخل ہوں گے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے حجرے میں چلے گئے، آپ ﷺ...


صفحہ 252

روضۃ الصالحین جلد اول

... کے تشریف لے جانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بحث کرنے لگے کہ وہ کون لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب و عذاب کے داخل ہوں گے؟ بعض نے کہا شاید وہ لوگ ہوں گے جن کو رسول ﷺ کا شرفِ صحبت حاصل ہے، بعض نے کہا شاید وہ لوگ جن کی پیدائش حالتِ اسلام میں ہوئی اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہرایا، اس سلسلہ میں مختلف خیالات کا اظہار کیا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا تم کیا بحث کر رہے ہو؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بتایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں اور نہ کرواتے ہیں اور نہ ہی شگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کیا اللہ سے دعا فرمائیں کہ مجھے ان میں شامل فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا تو ان میں شامل ہے اس کے بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرمائے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم پر سبقت لے گئے۔“

الرُّهَیْطُ: راء پر پیش کے ساتھ دھط کی تصغیر ہے دس سے کم افراد پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ أُفُقُ: کے معنی ہے کنارا، رُخ، اور عکاشہ عین پر پیش اور کاف تشدید کے ساتھ یا بغیر تشدید کے (یعنی کاف مشدد اور غیر مشدد دونوں طرح جائز ہے) لیکن تشدید کے ساتھ زیادہ فصیح ہے۔

لغات: عُرِضَتْ: عرض عرضاً ضرب سے بمعنی پیش کرنا، دکھلانا۔ ❖ الرهط: بمعنی آدمی کا قبیلہ، تین سے دس تک کا گروہ جس میں عورت نہ ہو۔ اس کا واحد نہیں۔ جمع أَرْهُطُ ارهاط جمع الجمع اراهط۔ ❖ نهض: نهض نهضاً فتح سے بمعنی کھڑا ہونا۔ ❖ خاض: خاض خوضاً نصر سے بمعنی پانی میں گھسنا۔ گفتگو میں مشغول ہونا۔ ❖ يرقون: رقى رُقيا و رُقیاً ضرب سے بمعنی نفع رسانی یا ضرر رسانی کے لئے ٹونا، منتر کرنا۔

تشریح: ستر ہزار مؤمن بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے هٰذِهِ أُمَّتُكَ وَ مَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ. یہ آپ ﷺ کی امت ہے ان میں ستر ہزار ایسے ہیں جو جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہوں گے۔ اس جملہ کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں۔ ایک مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں سے ستر ہزار لوگ وہ ہیں جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت میں ستر ہزار اس کے علاوہ ہوں گے جو جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے۔ (1)


صفحہ 253

روضۃ الصالحین جلد اول

مگر پہلا ترجمہ زیادہ اچھا ہے کیونکہ ایک دوسری روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں۔ هٰذِهِ أُمَّتُكَ وَیَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ مِنْ هٰؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا (2) یعنی یہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ ہیں اور ان میں سے ستر ہزار لوگ وہ ہیں جو بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔ (3)

ستر ہزار سے مراد

ستر ہزار سے مراد تکثیر ہے کہ بہت ہی زیادہ اس قسم کے لوگ میری امت میں ہوں گے۔

دم کروانے کی حقیقت

لَا یَرْقُونَ وَلَا یَسْتَرْقُونَ: نہ دم کرتے ہیں اور نہ دم کرواتے ہیں۔ اس سے مراد جھاڑ پھونک اور تعویذ وغیرہ ہے جو کلماتِ قرآنیہ ادعیہ ماثورہ اور اسماء الٰہی کے بغیر ہو۔ شیخ عبدالحق دہلویؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس جھاڑ پھونک سے مراد زمانہ جاہلیت کے جھاڑ پھاڑ اور مشرکانہ منتر ہیں جن کا کتاب و سنت کی تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور اس کی وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ (4)

وَلَا یَتَطَیَّرُونَ: نہ بدشگونی لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نیک فال کو پسند فرماتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جب کوئی کام کرنا ہوتا یا کسی سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تو کسی پرندے کو اڑاتے اگر وہ داہنی سمت میں اُڑ جاتا تو اس کام کو مبارک سمجھ کر کر لیتے اور اگر وہ پرندہ بائیں سمت میں اڑتا تو اس کام کو منحوس سمجھتے اور وہ کام نہ کرتے۔ (5)

آپ ﷺ نے دوسرے آدمی کے لئے دعا کیوں نہیں فرمائی

ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللّٰهَ أَنْ یَجْعَلَنِی مِنْهُمْ فَقَالَ: سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ. ترجمہ: ”پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اس نے بھی عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں شامل فرمادے آپ ﷺ نے فرمایا کہ عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم پر سبقت لے گئے۔“ اس سوال کے محدثین نے متعدد جوابات دیئے ہیں۔ پہلا جواب: اللہ جل شانہ کی طرف سے ایک ہی آدمی کے بارے میں دعا کرنے کی اجازت ملی ہوگی، آپ ﷺ عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں دعا فرما چکے تھے اس لئے اس دوسرے آدمی کے بارے میں گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔ دوسرا جواب: وہ آدمی اپنی باطنی حیثیت و حالت کے اعتبار سے اس مرتبہ کا مستحق نہیں تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کے حق میں دعا نہیں فرمائی۔ تیسرا جواب: دراصل وہ آدمی منافق تھا آپ ﷺ کو تو اس بات کا علم تھا مگر ازراہِ اخلاق و مروت آپ ﷺ نے ایک مجمل...


صفحہ 254

روضۃ الصالحین جلد اول

... جواب دیا کہ تم نے تاخیر کر دی عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم سے پہل کر گئے۔ چوتھا جواب: عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں وحی خفی کے ذریعہ سے معلوم ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ نے عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں صرف دعا کی۔ یہ آخری جواب زیادہ اچھا ہے۔ کیونکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا آدمی وہ سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو مشاہیر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے ہیں۔ (6)

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب الطب (باب من اکتوی او کوی غیره) وصحیح مسلم کتاب الایمان (باب الدليل على دخول الطوائف من المسلمين الجنة بغير حساب) رواه ترمذی ایضاً۔

نوٹ: راویِ حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (11) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) مرقاة شرح مشکوۃ (2) بخاری شریف (3) مرقاة: 10 / 43 (4) اشعة اللمعات (5) مظاہر حق جدید (6) یہ سارے جوابات مظاہر حق جدید 4 / 99، مرقاة 10 / 44 پر مذکور ہیں


نبی ﷺ کی ایک جامع دعا

(75) الثَّانِی: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ”اللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَیْكَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ. اللّٰهُمَّ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ.“ (متفق علیه) وَهٰذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ وَ اخْتَصَرَه الْبُخَارِيُّ.

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے ’اے اللہ میں تیرے لئے فرمانبردار ہو گیا اور تجھ پر ایمان لے آیا اور تیری ذات پر بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری ذات کی مدد سے میں جھگڑتا ہوں، اے اللہ میں تیری عزت کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ تو مجھے گمراہ کرے تو زندہ ہے تجھے موت نہیں آئے گی لیکن تمام جن و انس مر جائیں گے۔‘“ یہ الفاظ مسلم میں ہیں بخاری نے اسے مختصر نقل کیا ہے۔


Page 255 روضۃ الصالحین جلد اول

لغات: اسلمت: اسلم اسلاماً بمعنی مطیع وفرمانبردار ہونا۔ مذہب اسلام قبول کرنا۔ ❖ خاصمت: خاصم خصاماً و مخاصمةً مفاعلہ سے بمعنی نزاع کرنا۔ جھگڑا کرنا۔

تشریح: آپ ﷺ کی ایک ایمان افروز دعا نبی کریم ﷺ کے اس دعا کو مانگنے اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا پھر اس روایت کو نقل کرنا اور محدثینِ عظام کا پھر محفوظ کرنا، ان سب کا واحد مقصد یہی ہے کہ ان دعاؤں کا امت بھی مانگنے کا اہتمام کرے۔ اس دعا بالا کے ترجمہ پر اگر غور کیا جائے تو اس میں دعا کا ایک ایک لفظ اعتقاد کی پختگی اور ایمان کی تازگی اور زیادتی کا سبق دے رہا ہے اور دعا مانگتے وقت آدمی اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ بھی ہوتا ہے اس لئے یہ مزید ایمانی پختگی کا ذریعہ بن جاتی ہے، حق تعالیٰ شانہ ہر موقع کی مسنون دعا اس وقت پر مانگنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب التوحید (باب قولہ تعالیٰ وهو العزيز الحكيم. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ. وللهِ الْعِزَّةُ ولرسوله) وصحیح مسلم کتاب الذکر والدعاء (باب التعوذ من شرما عمل ومن شر ما لم يعمل).

نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (11) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔


خوف کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی ﷺ کی دعا (76) الثالث: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَيضاً قَالَ: "حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"، قَالَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِيْنَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَقَالَهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ قَالُوا: إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَاناً وَقَالُوا: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" (رواه البخاري) وفِي رِوَايَةٍ له عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: "كَانَ آخِرُ قَوْلِ إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِيْنَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ: حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ"

ترجمہ: "حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جب کہا گیا کہ لوگ آپ ﷺ کی مخالفت میں جمع ہو چکے ان سے ڈرنا چاہئے تو اس سے ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوا وہ بول اٹھے "حسبنا اللہ ونعم الوکیل"۔


Page 256 روضۃ الصالحین جلد اول

ایک دوسری روایت میں ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے انہوں نے کہا: ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں پھینکا جانے لگا تو ان کا آخری کلمہ "حسبی اللہ و نعم الوکیل" تھا۔

لغات: القى: القی القاءً بمعنی پھینکنا۔ ❖ فاخشوهم: خشی خشیًا سمع سے بمعنی ڈرنا۔ مرعوب ہونا۔ ❖ فزادهم: زاد زيادةً ضرب سے بمعنی زیادہ ہونا۔ ❖ الوكیل: بمعنی وہ شخص جس پر بھروسہ کیا جائے، وہ جس کو عاجز آدمی اپنا کام سپرد کر دے جمع وُکلاء۔ اللہ تعالیٰ کی صفت بن کر روزی دینے والا، کفایت کرنے والا، کے معنی دیتا ہے۔

تشریح: غزوہ حمراء الاسد کا سبب "حِيْنَ قَالُوا إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ." مفسرین نے لکھا ہے یہ مکالمہ غزوہ حمراء الاسد کے وقت ہوا۔ حمراء الاسد یہ مدینہ طیبہ سے آٹھ میل پر ایک مقام کا نام ہے۔ اس مکالمہ کا واقعہ مختصر یہ ہوا۔ کہ کفارِ مکہ کو غزوہ احد کے واپسی پر بہت افسوس ہوا کہ ہم غالب آجانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس لوٹ آئے ہمیں تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ایک حملہ کر کے سب مسلمانوں کو ختم کر دیتے ان کا دوبارہ مدینہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ ہونے لگا مگر اللہ جل شانہ نے ان کے دل میں ایسا رعب ڈالا کہ سیدھا مکہ مکرمہ کو ہو لئے یہاں آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ ان کفار کے تعاقب پر حمراء الاسد تک پہنچے۔ (1) ایک روایت میں آتا ہے آپ ﷺ نے جب کفار کے تعاقب کا اعلان کیا تو ستر زخمی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کھڑے ہو گئے جب آپ ﷺ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ حمراء الاسد پہنچے تو وہاں نعیم بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے اس نے خبر دی کہ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھ مزید لشکر جمع کر کے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے اس خبر کو سن کر ان سب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یک زبان ہو کر کہا۔ "حسبنا اللہ و نعم الوکیل"۔ "اللہ تعالیٰ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی بہتر مددگار ہے۔" (2)

پریشانی کو دور کرنے کے لئے: "حسبنا اللہ و نعم الوکیل" کا پڑھنا بڑا مجرب ہے اس سے معلوم ہوا کہ ہر پریشانی کے وقت میں اس آیت کا پڑھنا مجرب ہے یہی عادت لکھی ہے انبیاء کرام، صحابہؓ، تابعینؒ اور اولیاء سب کے سب وہ ہر آڑے وقت میں اس کو پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کو نمرود نے آگ میں ڈلوانے کا ارادہ کیا

(1) معارف القرآن 239/2 (2) بخاری


Page 257 روضۃ الصالحین جلد اول

اس موقع پر فرشتے بھی اترے کہ ہم آپ کی مدد کریں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہی جملہ فرمایا "حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ" پریشانی دور کرنے کے لئے ہے اس آیت کا پڑھنا بڑا مجرب ہے مزید یہ کہ مشائخ و علماء نے لکھا ہے کہ جو اس آیت کو ایک ہزار مرتبہ جذبہ ایمان، یقین کے ساتھ پڑھے پھر دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس دعا کو رد نہیں فرمائے گا۔ (3)

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ آل عمران (باب ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم)

نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (11) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (3) معارف القرآن 244/2


ایک قوم صرف توکل پر جنت میں جائیگی (77) الرابع: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ" (رواه مسلم) قِيلَ: مَعْنَاهُ مُتَوَكِّلُونَ، وَقِيْلَ: قُلُوبُهُمْ رَقِيْقَةٌ.

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جنت میں کچھ ایسے لوگوں کو داخلہ ملے گا جن کے دل پرندوں کے دلوں کے مانند ہوں گے۔ بعض کے نزدیک اس کے معنی ہیں اللہ پر بھروسہ کرنے والے، بعض کے نزدیک مطلب یہ ہے کہ (پرندوں) کی طرح نرم دل والے ہوں گے۔"

لغات: افئدتهم: جمع ہے الفواد کی بمعنی دل۔ بسا اوقات عقل پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ❖ الطير: طار طيراً ضرب سے بمعنی پرندہ کا اڑنا۔ الطائر۔ فاعل پرندہ۔ جمع طير و طيور۔

تشریح: اللہ پر بھروسہ کرنے والے جنت میں داخل ہوں گے يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ: جنت میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی داخل کیا جائے گا جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔ علامہ نوویؒ نے اس کے دو مطلب نقل کئے ہیں پہلا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ جل شانہ پر ایسا بھروسہ کرنے والے ہوں گے جیسے کہ پرندے کرتے ہیں جن کے بارے میں ایک دوسری روایت میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ پرندے ایسے ہوں گے


Page 258 روضۃ الصالحین جلد اول

کہ "تغدو خماصاً وتروح بطاناً" کہ صبح جب گھونسلوں سے نکلتے ہیں تو بھوکے ہوتے ہیں، شام کو جب وہ لوٹ کر آتے ہیں تو ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ دوسرے دن کی وہ روزی کی وہ فکر نہیں کرتے اور دوسرے دن کے لئے جمع بھی نہیں کرتے بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے اپنے گھونسلے سے نکلتے ہیں، اللہ جل شانہ واپسی سے پہلے پہلے ان کے پیٹ بھر دیتا ہے۔ (1) دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے دل ایسے نرم ہوتے ہیں جیسے کہ پرندوں کے دل ہوتے ہیں یعنی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ رقیق القلب لوگ ہوتے ہیں ان کے دل عجز و نیاز اور خوف و خشیتِ الہی کے غلبہ کی وجہ سے نرم اور لطیف ہوتے ہیں۔ (2)

تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب الجنة (باب يدخل الجنة اقوام الخ)

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔ (1) نزہۃ المتقین 91/1 (2) روضۃ المتقین 121/1


اللہ پر توکل اور یقین کا بیان (78) الخامس: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيْرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ، فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتاً، قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللهُ. ثَلَاثاً" وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ (متفق عليه) وفِي رِوَايَةٍ: قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَإِذَا أَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَسَيْفُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَةِ، فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ: "لَا" قَالَ: فَمَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "اللهُ." وفِي رِوَايَةِ أبي بكر الاسماعيلى في صَحِيْحِه: قَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "اللهُ" قَالَ:


Page 259 روضۃ الصالحین جلد اول

فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ فَقَالَ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟" فَقَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ، فَقَالَ: "تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ؟" قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي أَعَاهِدُكَ أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، فَخَلَّى سَبِيْلَهُ، فَأَتَى أَصْحَابَهُ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ.

قَوْلُهُ: "قَفَلَ" أَيْ: رَجَعَ. وَ "الْعِضَاهُ": الشَّجَرُ الَّذِي لَهُ شَوْکٌ. وَ "السَّمُرَةُ" بفتح السين و ضم الميم: الشَّجَرَةُ مِنَ الطَّلْحِ، وَهِيَ الْعِظَامُ مِنْ شَجَرِ الْعِضَاهِ. وَ "اخْتَرَطَ السَّيْفَ" أَيْ: سَلَّهُ وَهُوَ فِي يَدِهِ. "صَلْتاً" أَيْ: مَسْلُولاً، وَهُوَ بِفَتْحِ الصَّادِ وَ ضَمِّهَا.

ترجمہ: "حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کے علاقے کی طرف رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کرنے گئے جب لوٹے تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوٹے، کثیر خاردار درختوں کی وادی سے گزر رہے تھے کہ قیلولہ کا وقت ہو گیا چنانچہ رسول اللہ ﷺ اتر پڑے، لوگ درختوں کے سائے میں منتشر ہو گئے، رسول اللہ ﷺ بھی کیکر کے درخت کے نیچے نازل ہوئے تلوار کو درخت کے ساتھ لٹکایا، ہم تھوڑی دیر کے لئے سو گئے، اچانک ہم نے سنا رسول اللہ ﷺ ہمیں پکار رہے ہیں اور آپ ﷺ کے پاس ایک اعرابی تھا، آپ ﷺ نے بتایا اس نے میری تلوار میرے اوپر میان سے نکال لی جب کہ میں سویا ہوا تھا میں نیند سے بیدار ہوا تو میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی اور مجھ سے کہہ رہا تھا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا اللہ بچائے گا تین بار کہا، آپ ﷺ نے اس اعرابی کو کوئی سزا نہ دی۔" ایک روایت میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، جب ہم ایک سائے دار درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے اس کو رسول اللہ ﷺ کے لئے چھوڑ دیا، ایک آدمی مشرکوں میں سے آیا رسول اللہ ﷺ کی تلوار درخت کے ساتھ آویزاں تھی اس نے تلوار کو میان سے باہر نکالتے ہوئے کہا کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ ﷺ نے کہا نہیں، پھر اس نے کہا تم کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ فرمایا اللہ! چنانچہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی، رسول اللہ ﷺ نے تلوار کو پکڑتے ہوئے فرمایا کون تجھ کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا آپ ﷺ بہترین پکڑنے والے بن جائیں، آپ ﷺ نے کہا کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں؟ اس نے جواب دیا نہیں لیکن میں تجھ سے معاہدہ کرتا ہوں کہ تم سے جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی ایسی جماعت میں شریک ہوں گا جو تیرے ساتھ جنگ و جدال کر رہے ہوں، آپ ﷺ نے اس کو رہا فرما دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آ کر کہنے لگا میں بہترین انسان کے پاس سے تمہارے پاس آیا ہوں۔

قفل: کے معنی ہیں واپس ہوا۔ عضاہ: کانٹوں والا درخت، السمر: سین پر زبر اور میم پر پیش۔ کیکر کا درخت، یہ کانٹے دار درخت کی بڑی قسم ہے۔ اخترط السیف: تلوار کو اپنے ہاتھ میں لے کر سونتا۔ صلتاً: صاد کے زبر اور پیش کے ساتھ دونوں طرح صحیح ہے۔

Page 260

رو‌ضۃ الصالحین جلد اول

طرح صحیح ہے۔ معنی ہیں مسلولا بمعنى ،سونتی ہوئی۔ لغات: ❖ قفل : قفل قفلاً و قفولاً نصر اور ضرب سے بمعنی سفر سے واپس آنا۔ ❖ العضاہ: بمعنی ہر بڑا کانٹے دار درخت واحد عضاهة و عضة۔ ❖ سمرة: بمعنی ببول کا درخت جمع اَسْمُر ۔ ❖ اخترط : خرط خَرطاً نصر اور ضرب سے بمعنی درخت کے پتے ہاتھ کے ساتھ کھینچ کر اُتار دینا، اخترط السیف تلوار سونتنام۔ ❖ استیقظت : يَقِظَ يَقَظاً سمع سے بمعنی جاگنا۔ استیقظ جگانا۔ ❖ صلتا : اصلت السیف تلوار کو نیام سے باہر نکالنا۔

تشریح: آپ ﷺ کے شجاعت اور توکل علی اللہ کا ایک سبق آموز واقعہ ذات الرقاع : یہ غزوہ 6ھ میں ہوا تھا۔ ذات الرقاع ایک پہاڑ کا نام ہے اسی وجہ سے اس غزوہ کو بھی ذات الرقاع کہتے ہیں۔ بعض نے کہا کہ رقاع کہتے ہیں کپڑے کے ٹکڑے کو، جوتوں کے فقدان کی وجہ سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے پاؤں میں کپڑوں کے جوتے لپیٹے تھے اس لئے اس کا یہ نام پڑ گیا۔ (1) عِنْدَهُ اَعْرَابِيٌّ: اس دیہاتی آدمی کا نام اکثر محدثینؒ نے غورث بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا ہے۔ (2) مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قُلْتُ: اللهُ ثَلَاثًا: ترجمہ: تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: اللہ۔ اس حدیث پاک میں محبوب رب العالمین کی شان یقین و توکل علی اللہ اور شجاعت امت کے لئے ایمان افروز اور سبق آموز ہے غور کریں شدید ترین جان کے خطرہ کے باوجود کہ ظاہری حالات کے اعتبار سے برہنہ تلوار ہاتھ میں لئے خون کا پیاسا دشمن سر پر کھڑا ہے، ان حالات کے باوجود ذرہ برابر خوف وہراس اور گھبراہٹ آپ ﷺ کے پاس تک نہیں بھٹکتی اور نہایت اطمینان و سکون اور دلجمعی کے ساتھ جواب دیا، وہ شخص توکل علی اللہ کے رعب اور صبر و استقلال کے سبب اور ایمان باللہ کے سکون واطمینان کی طاقت سے مرعوب ہو کر وہ خون کا پیاسا خائف ہو کر لرزنے لگا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گرگئی۔ (3) کن خیر آخذ: آپ ﷺ بہترین تلوار اٹھانے والے بن جائیں۔ اس میں آپ ﷺ کی رحمت وعفو درگزر کا سبق ملتا ہے کہ اس خون کے پیاسے سے انتقام لینے کے بجائے آپ ﷺ نے فوراً معاف فرما دیا۔

اعرابی مسلمان ہو گیا تھا فَقَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ لَا: آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اس اعرابی نے کہا کہ نہیں۔

اس روایت سے تو معلوم ہورہا ہے کہ وہ اعرابی مسلمان نہیں ہوا تھا مگر علامہ واقدیؒ نے کہا ہے وہ مسلمان ہو گیا تھا اور پھر وہ اپنی قوم میں گیا وہاں اس کی برکت سے بہت سے لوگوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ (4) تخریج حدیث: صحيح بخارى، كتاب الجهاد، (باب من علّق سيفه بالشجر فى السفر)، وكتاب البخارى (باب غزوة ذات الرقاع)، صحيح مسلم كتاب الفضائل (باب توكله ﷺ على الله تعالى وعصمة الله تعالى له من الناس). واخرجه امام احمد فى مسنده 14341/5، ابن حبان 2883، والبيهقى 319/6۔


نوٹ: راوی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ کے حالات حدیث نمبر (4) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) نزهة المتقين 1/ 92 (2) روضة المتقين 1/ 123، نزهة المتقين 92/1 (3) تحفة العابدين 1/ 233، دليل الفالحين 1/ 368 (4) روضة المتقين 1/ 123


پرندوں کا اللہ پر توکل کرنے کی مثال (79) السادس : عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا» (رواه الترمذي) وقال حديث حسن. معناه تذهبُ أوَّلَ النَّهارِ خِمَاصًا: أى: ضَامِرَةَ البُطُونِ مِنَ الْجُوعِ، وَتَرجِعُ آخِرَ النَّهارِ بِطَانًا، أى: مُمْتَلِئَةَ البُطُونِ. ترجمہ: ”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر تمہارا توکل اللہ پر صحیح ہو جائے تو وہ تم کو اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو رزق دیتا ہے کہ صبح کے وقت بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر (گھونسلوں) میں آ جاتے ہیں۔“ اسے ترمذیؒ نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے، اس کے معنی ہیں کہ دن کے آغاز میں پرندے بھوکے نکلتے ہیں یعنی ان کے پیٹ پچکے ہوتے ہیں اور دن کے آخر میں لوٹتے ہیں تو پیٹ بھرے ہوتے ہیں۔ لغات: ❖ تغدو : غدا غُدواً نصر سے بمعنی صبح کو جانا، مطلقاً جانا اور بمعنی صار بھی مستعمل ہے۔


Page 262

رو‌ضۃ الصالحین جلد اول

❖ خماصا: خمص خمصا سمع سے بمعنی پیٹ کا خالی ہونا۔ ❖ تروح: الرواح مصدر بمعنی شام یا سورج ڈھلنے کے وقت سے، رات، اس کا مقابل صباح ہے۔ ❖ بطانا: البطن بمعنی پیٹ۔ ہر چیز کا اندرونی حصہ۔

تشریح: توکل کرنے والوں کو اللہ پرندوں کی طرح پالتے ہیں اس حدیث شریف کا مفہوم یہ ہے کہ سعی و جدوجہد اور کسب وعمل حقیقت میں رزق پہنچانے والا نہیں ہے بلکہ رزق پہنچانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی روزی کمانے کے لئے حرکت وعمل سے باز رہے کیونکہ توکل و اعتماد کا تعلق دل سے ہے جو اعضائے ظاہری کی حرکت وعمل کے مطلقاً منافی نہیں ہے اسی وجہ سے امام غزالیؒ فرماتے ہیں جس شخص کا گمان یہ ہو کہ توکل نام ہے کسب وعمل کے ترکہ، کر دینے کا اور ہاتھ پاؤں کو معطل کر دینے اور اپاہج بن کر پڑے رہنے کا کہ جیسے کسی کپڑے کو زمین پر ڈال دیا جائے تو وہ غلطی پر ہے۔ (1) امام قشیریؒ کا قول یہ ہے توکل کا اصل مقام قلب ہے اور حصول معاش کے لئے معقول اور مناسب طریقہ پر جدوجہد اور سعی کرنا اللہ تعالیٰ پر اعتماد و بھروسہ کرنے کے منافی نہیں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”وَكَأَيِّن مِن دَابَّةٍ لَا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ“ یعنی اور کوئی جانور اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اس کو بھی اور تمہیں بھی رزق عطا کرتا ہے۔ (2)

ایک عبرت ناک واقعہ ملا علی قاریؒ نے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ اللہ کس طرح پرورش کرتا ہے، فرماتے ہیں جب کوے کے بچے انڈے سے باہر آتے ہیں تو بالکل سفید ہوتے ہیں۔ کوا جب ان بچوں کو دیکھتا ہے تو وہ اسے بہت برے لگتے ہیں وہ ان بچوں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اس کے بعد اللہ جل شانہ مکھیاں اور چیونٹیاں اس بچے کے پاس بھیجتا ہے جس کو وہ بچے کھاتے ہیں پھر ایسے ایسے وہ کالے ہوجاتے ہیں پھر جب کوا ان کو سیاہ دیکھتا ہے تو پھر آکر ان کی پرورش کرتا ہے۔ (3)

تخریج حدیث: سنن ترمذى. ابواب الزهد (باب فى التوكل على الله) اخرجه امام احمدؒ فى مسنده 205/1، و الحاكم 318/4، و ابن حبان 730، ابونعيم فى الحلية 69/10۔


نوٹ: راوی حدیث حضرت عمرؓ ابن خطاب کے حالات حدیث نمبر (1) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) مرقاة 50/10 (2) مظاہر حق جدید 803/4 (3) مرقاة 50/10




صفحہ 263

سونے کے مسنون آداب وعمليات

(80) السابع: عَنْ أَبِي عُمَارَةَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا فُلَانُ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَقُلْ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ» فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَأَصَبْتَ خَيْرًا“ (متفق عليه)

وفی رواية فی الصحيحين عن البراء قال: قال لی رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوْئَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ: وَذَكَرَ نَحْوَهُ، ثُمَّ قَالَ: وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُوْلُ“

ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو کہو ”اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور میں نے اپنے چہرہ کو بھی تیری طرف کر دیا اور اپنے تمام معاملات تیری طرف تفویض کر دیے اور میں نے اپنی پیٹھ کو تیری طرف جھکا دیا، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے، تیرے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں اور نہ کوئی نجات گاہ ہے، تیری نازل کردہ کتاب پر ایمان لے آیا اور تیرے نبی مرسل ﷺ کو تسلیم کر لیا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا اگر اس رات تو فوت ہو جائے تو تیرا فوت ہونا فطرت پر ہو گا اور تو بھلائی کو پہنچا۔

صحیحین کی ایک روایت میں حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا جب تو سونے کا ارادہ کرے تو نماز والا وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ، مذکورہ کلمات کہہ، پھر فرمایا ان کلمات کو بالکل آخر میں کہہ۔

لغات:

فوضت: فوض تفويضا تفعیل سے بمعنی اختیار سپرد کرنا۔

رغبة: رغب سمع سے بمعنی چاہنا، خواہش کرنا، محبت کرنا۔

رهبة: رهب رهبةً سمع سے بمعنی خوف کھانا، ڈرنا۔

ملجا: بمعنی پناہ کی جگہ، قلعہ، پناہ لینا، جمع ملاحی۔

منجا: نجا نجاةً نصر سے بمعنی خلاصی پانا، نجات پانا، المنجی نجات کا مقام۔

اضطجع: ضجع ضجعًا فتح سے بمعنی پہلو کے بل لیٹنا۔


صفحہ 264

تشریح: رات کے سونے کی دعا کے ہر ہر لفظ کی وضاحت

اس دعا میں سات جملے ہیں ہر ایک جملے کی مختصر وضاحت:

أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ إِلَيْكَ: اے اللہ میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنی جان کو، اپنی تمام کام کرنے کی قوتوں کو، اعضاء و جوارح کی خواہشوں اور ارادوں سب ہی کو تیرے سپرد کر دیا، اے اللہ جب میں ترے سپرد ہو گیا اب جو تو چاہے مجھ سے کام لے لے۔

وَوَجَّهْتُ وَجْهِيْ إِلَيْكَ: میں نے اپنے منہ کا رخ تیری طرف کر دیا، یعنی تمام کائنات سے منہ موڑ کر صرف تیری طرف متوجہ ہو گیا، اسی کا دوسرا نام اللہ کی ذات پر توکل کرنا ہے، جب آدمی اللہ کے حوالے ہو جائے تو اب یہ اپنے اسباب و مسائل اور اپنی تدبیروں اور کوششوں کو ذرہ برابر بھی اہمیت و وقعت نہیں دے گا۔

وَفَوَّضْتُ أَمْرِيْ إِلَيْكَ: اور میں نے اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، یعنی میں نے اپنا ہر کام ہر معاملہ تیرے علم و حکمت کے تابع کر دیا جو تیری مرضی ہو وہی میری مرضی ہو گی، اسی کو مقام رضا کہا جاتا ہے۔

وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِيْ إِلَيْكَ: میں نے اپنی پیٹھ تیری طرف جھکا دی، میرے دنیوی یا دینی کاموں کو کرنے میں جو بھی تدبیریں کوششیں میں کرتا ہوں اس کام کو تکمیل تک پہنچانا تیرے ہی فضل و کرم اور تیرے ہی توفیق دینے پر ہے، میرے ظاہری اسباب و تدابیر کی مؤثر حقیقی کے مقابلے میں کوئی بھی حیثیت نہیں ہے، اسی کو عبدیت کا اعلیٰ مقام کہا جاتا ہے۔

رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ: تیری طرف رغبت کی وجہ سے اور تیرے ہی خوف کی وجہ سے کہ آدمی تمام امور کو انہی دو وجہ سے کرتا ہے۔ کبھی کسی کے شوق اور رغبت میں وہ کام کرتا ہے اور کبھی کسی کے خوف اور ڈر کی وجہ سے کام کرتا ہے، تو اسی میں فرمایا کہ میرے بھی تمام کاموں کا دارومدار انہی دونوں چیزوں پر ہے۔

لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ: تجھ سے پناہ حاصل کرنے اور نجات پانے کی جگہ بھی ترے سوا اور کہیں نہیں۔ کہ اگر میں نے اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ اور اعتماد کیا آپ اگر مجھ سے ناراض ہو گئے تو اب میرا یقین و ایمان یہ ہے کہ اب ترا غضب و قہر نازل ہو گا اور ترے غضب و قہر سے بچانے اور نجات دلانے والا بھی ترے سوا کوئی بھی نہیں ہو سکتا تیری ناراضگی اور خفگی سے نجات ترے ہی عفو و کرم سے مل سکتی ہے۔

آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ: جو کتاب تو نے اتاری ہے میں تری کتاب اور نبی پر ایمان لا چکا ہوں، اس فقرے میں بندہ اپنی عبدیت کا اظہار کر رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ کو اور ترے نبی کو اور کتاب کو ماننے والا ہوں اگرچہ شیطان کے دھوکہ میں آ کر خطاء اور گناہ گار ہوں مگر میں تجھ پر ہی ایمان رکھتا ہوں۔ اس لئے اے اللہ تو مجھے معاف فرما دے۔

تخريج حديث: صحيح بخاري کتاب الدعوات (باب ما يقول اذا نام، باب اذابات طاهراً وباب النوم).


صفحہ 265

على شق الايمن) کتاب التوحيد۔ وصحيح مسلم کتاب الذکر والدعاء (باب ما يقول عند النوم واخذ المضجع) واخرجه امام احمد 18611/6، والنسائي في اليوم والليلة، وابن حبان 5527۔

راوی حدیث حضرت براء بن عازب کے حالات: نام: براء، ابوعمارہ کنیت، خاندان حارثہ سے ہے، والد کا نام عازب ہے، ان کے ماموں ابو بردہ بن نیارؓ جو بدری ہے عقبہ میں اسلام قبول کر چکے تھے ان کی برکت سے ان کے خاندان میں اسلام پھیلا، مسلمان ہو کر مدینہ میں مصعب بن عمیرؓ اور ابن ام مکتومؓ سے قرآن سیکھنا شروع کر دیا۔ بدر میں حضرت براء حاضر ہوئے مگر آپ ﷺ نے بچہ ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا۔ (بخاری 564/1)

احد، خندق، حدیبیہ، خیبر، اور حنین میں شرکت کی، محاصرہ طائف اور حجۃ الوداع میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے 15 غزوات میں شمولیت کی۔ (مسند احمد 292/4)

ان میں انکساری و تواضع نمایاں تھی اپنے آپ کو نہایت ناچیز سمجھتے تھے، کوفہ میں ایک مکان بنایا اسی میں رہتے تھے۔ روایات میں بہت زیادہ احتیاط رکھتے تھے، ان سے مرویات کی تعداد 305 ہے، ان میں سے 32 پر بخاری اور مسلم دونوں متفق ہیں (تہذیب الکمال) احادیث میں احتیاط کی بناء پر ایک موقع پر فرمانے لگے۔

مَا كُلُّ الْحَدِيْثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُنَا عَنْهُ كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعِيَّةُ الْإِبِلِ (مسند احمد 288/4)

جتنی حدیثیں میں بیان کروں ضروری نہیں کہ سب رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ہوں ہم اونٹ چراتے تھے اس بناء پر آپ ﷺ کے پاس ہر وقت حاضر نہ رہ سکتے تھے۔

آپ ﷺ کا اللہ پر توکل

(81) الثامن: عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ الْقُرَشِيِّ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. وَهُوَ وَأَبُوْهُ وَأُمُّهُ صَحَابَةٌ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ. قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِيْنَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ وَهُمْ عَلَى رُؤُوْسِنَا فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا. فَقَالَ: ”مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا“ (متفق عليه)

ترجمہ: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب القرشی التیمی سے روایت ہے (آپ اور آپ کے والد، والدہ سب صحابی ہیں) بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے مشرکوں کے پاؤں کو دیکھا کہ وہ ہمارے سروں پر چڑھ آئے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر ان میں سے کوئی انسان اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو یقیناً ہمیں دیکھ پائے گا۔


صفحہ 266

گا، آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان دونوں انسانوں کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے؟“

لغات:

اقدام: جمع ہے قدم کی بمعنی پاؤں۔

الغار: بمعنی کھوہ، غار جمع اغوار۔

وظنك: ظن ظنًّا نصر سے بمعنی یقین کرنا۔ جاننا۔ اور گمان کے معنی بھی دیتا ہے جیسے ظننت زيداً صاحبک۔

تشریح: واقعہ ہجرت اور آپ ﷺ کا اللہ پر توکل

اس حدیث شریف میں جس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے۔ جب آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے، اس سے پہلے باقی مسلمان ہجرت کر چکے تھے، مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کی گرفتاری پر سو اونٹوں کا انعام بھی مقرر کر دیا تھا جس کی لالچ میں بہت سے لوگ آپ ﷺ کی تلاش میں سرگرداں تھے حتیٰ کہ مشرکین اس غار ثور جس میں آپ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پناہ لی ہوئی تھی، وہاں تک پہنچ گئے۔ مگر اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک مکڑی کے ذریعہ سے جال تنوا دیا اور ایک جنگلی کبوتر کے ذریعہ سے انڈے دلوا دیے۔ مشرکین نے جب اس منظر کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ پاؤں کے نشانات یہاں تک تو ملتے ہیں اس کے آگے کہاں تشریف لے گئے اگر اس غار میں جاتے تو یہ مکڑی کا جالا اور انڈے کیسے صحیح سالم رہ سکتے ہیں، اندر سے ان مشرکین کے پاؤں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نظر آ رہے تھے ابوبکر صدیق کو فکر ہوئی کہ کہیں ان کی نگاہ ہم پر نہ پڑ جائے اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر! رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں۔ اس بات سے آپ ﷺ کی شجاعت اور بے خوفی اور اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل کا ثبوت ملتا ہے اسی حدیث کے واقعہ کو قرآن مجید نے بھی نقل کیا ہے۔

«إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا» (Reference: Surah At-Tawbah, Ayat 40)

”جب کفار نے ان کو نکلنے پر مجبور کر دیا تھا (اس حالت میں) کہ وہ نبی صرف دو کا دوسرا تھا جب کہ وہ اپنے رفیق سفر سے کہہ رہا تھا تم غم نہ کرو بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے، تو اللہ نے ان پر اپنا خاص سکون اتارا اور فرشتوں کی فوج سے ان کی تائید فرمائی جو تم کو نظر نہیں آ رہی تھی، کافروں کی بات بھی نیچی کر دی اور اللہ کی بات ہی اونچی رہتی ہے۔“

جب اس واقعہ پر حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اشعار کہے تھے

وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمُنِيْفِ وَقَدْ ... طَافَ الْعِدَاءُ بِهِ إِذْ صَعِدَ الْجَبَلَا وَكُلُّ حُبِّ رَسُوْلِ اللهِ قَدْ عَلِمُوْا ... مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِهِ رَجُلَا


صفحہ 267

ان اشعار کو سن کر آپ ﷺ مسکرائے۔ (4)

تخريج حديث: صحيح بخاري کتاب التفسير (باب قوله ثانی اثنين اذهما فی الغار) کتاب فضائل الصحابة رضی الله تعالى عنهم (باب مناقب المهاجرين وفضلهم۔) وصحيح مسلم کتاب فضائل الصحابة (باب من فضائل ابی بکر الصديق رضی الله تعالى عنه) واخرجه امام احمد فی مسنده 11/1 مصنف ابن ابی شيبة 712، والبزار 36، ابن حبان 6278۔

راوی حدیث حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مختصر حالات: نام عبداللہ، ابوبکر کنیت، صدیق اور عتیق لقب، والد کا نام عثمان، کنیت ابوقحافہ، والدہ کا نام سلمیٰ کنیت ام الخیر تھی، والد کی طرف سے نسب نامہ: عبداللہ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی القرشی التیمی، والدہ کی طرف سے: ام الخیر بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ (طبقات ابن سعد 119/3) چھٹی پشت میں مرہ پر ابوبکرؓ اور آنحضرت ﷺ کا نسب نامہ مل جاتا ہے۔ بچپن سے آپ ﷺ علیہ وسلم سے دوستی تھی تجارت پر بھی ایک ساتھ جاتے (کنزالعمال 313/6)

سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت بھی ان ہی کو نصیب ہوئی، ہر غزوہ پر آپ ﷺ کے ساتھ رہے کبھی آپ ﷺ سے جدا نہ ہوئے۔ نہ قبل از اسلام اور نہ بعد از اسلام، بلکہ زندگی اور مرنے کے بعد بھی ساتھ ہی ہیں، آپ ﷺ کے وصال کے بعد تمام لوگوں نے بالاتفاق ان کو خلیفہ اول مقرر کر لیا، آپ کی خلافت کا زمانہ دو سال چار ماہ ہے، ان کا نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کے متفرق اجزاء کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کر دیا۔ اس سے پہلے قرآن ایک ساتھ کسی کے پاس بھی نہیں تھا اور چاروں طرف سے اسلام کے خلاف جو باتیں پھیل رہی تھیں ان سب کا انہوں نے سدباب کیا اور دین کو دوبارہ اسی ترتیب پر کر دیا جس ترتیب پر آپ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔

وفات: حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بخار ہوا اور تقریباً پندرہ دن اسی میں گزر گئے پھر دوشنبہ کے دن ختم کے منگل کی رات کو تریسٹھ سال کی عمر میں اواخر جمادی الاولیٰ 13ھ میں اس عالم فانی سے کوچ فرمایا۔ (طبقات ابن سعد)

رات ہی کو تجہیز و تکفین کی گئی آپ کی زوجہ اسماء بنت عمیسؓ نے غسل دیا اور حضرت عمر فاروقؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور نبی کریم ﷺ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔

مرویات: ان سے روایات کی تعداد 142 ہے، چھ پر بخاری و مسلم دونوں متفق ہیں، گیارہ صرف بخاری میں اور ایک مسلم میں منفرد ہے (تہذیب الکمال)


گھر سے نکلنے کی دعا

(82) التاسع: عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُوْمِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: ”بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ ...“

Page 268

روضۃ الصالحین جلد اول

«إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» حديث صحيح رواه ابوداؤد و الترمذي، وغيرهما باسانيد صحيحة: قال الترمذي: حديث حسن صحيح وهذا لفظ ابی داؤد. ترجمہ: ”حضرت ام سلمہ ام المؤمنینؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر سے نکلتے تو فرماتے ’’اللہ کے نام کے ساتھ نکلا ہوں اللہ پر بھروسہ ہے‘‘ اے اللہ! میں تیری اس سے پناہ چاہتا ہوں کہ گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں یا پھسل جاؤں یا پھسلا یا جاؤں یا ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا میں کسی پر جہالت کروں یا مجھ سے جہالت کی جائے ۔‘‘ یہ روایت صحیح ہے اسے ابوداؤد اور ترمذی وغیر ہما نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے، ترمذیؒ نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ لفظ ابوداؤد کے ہیں۔ لغات: ❖ ازل: زَلَّ زَلاّ ضرب سے بمعنی پھسلنا، گرنا۔ ❖ اجھل: جھل جھلاً سمع سے بمعنی نہ جاننا، ان پڑھ ہونا، صلہ میں علیٰ آئے تو جہالت کا اظہار کرنا۔

گھر سے نکلنے کی دعا کی وضاحت تشریح: بسم اللہ الخ: اس دعا کو آپ ﷺ بھی گھر سے نکلتے وقت پڑھتے تھے تو ہم کو بھی اس دعا کے پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے اس دعا کے پڑھنے کی برکت سے آدمی انشاء اللہ العزیز ناکامی کے ساتھ اور آخرت کے نقصان کے ساتھ واپس نہیں لوٹے گا۔ اس دعا کے الفاظ کی مختصر وضاحت۔ ان اضل: گمراہ ہو جاؤں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میں دعا کرتا ہوں اے اللہ کہ مجھ پر چھپے نہ رہیں وہ امور جس کی طلب کے لئے میں جا رہا ہوں۔ ازلَّ او اُزَلَّ: اس سے مراد گناہ ہے کہ میں خود گناہ کروں اور نہ ایسا ہوں کہ کوئی مجھ کو گناہ پر آمادہ کرے۔ اظلِمَ او اُظلَم: ”کہ میں نہ کسی پر ظلم کا ذریعہ بنوں اور نہ کوئی میرے اوپر ظلم کرے“ کیونکہ ظلم کی قیامت کے دن سخت سزا ہوگی، ایک روایت میں فرمایا گیا ہے ”اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ قیامت کے دن ظلم اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔ اجھلَ او يُجھلَ علَیَّ: ”نہ میں کسی پر جہالت کروں اور نہ مجھ پر جہالت کی جائے“ اس جہالت سے مراد یہ ہے کہ کسی کو ایذا پہنچائیں یا تکلیف دیں نہ میں کسی کے ساتھ یہ کروں اور نہ میرے ساتھ کوئی دوسرا ایسا کرے۔ تخریج حدیث: ترمذی ابواب الدعوات (باب التعوذ من ان نجهل او يجهل علينا). وسنن ابی داؤد كتاب الادب (مايقول اذا خرج من بيته). والنسائی فى عمل اليوم والليلة 85۔


Page 269

روضۃ الصالحین جلد اول

راوی حدیث ام المؤمنین ام سلمہؓ کے مختصر حالات: نام: ہند، ام سلمہ کنیت، قریش کے خاندان مخزوم سے ہیں، سلسلہ نسب یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ سہیل بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم۔ والد کا نام ابو امیہ تھا جو بہت زیادہ سخی تھے۔ نکاح: پہلا نکاح عبداللہ بن عبدالاسد جو ابو سلمہ کے نام سے مشہور ہیں، ام سلمہؓ کے چچا زاد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی سے نکاح ہوا، شروع نبوت میں اپنے شوہر کے ساتھ مسلمان ہوئیں اور حبشہ کی طرف ہجرت بھی فرمائی غزوہ احد میں ان کے شوہر کو چند زخم آئے جمادی الثانی 4ھ میں ان کا زخم پھٹا اور اسی صدمہ میں وفات ہو گئی (زرقانی 3/273) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا صبر کرو ان کی مغفرت کی دعا مانگو، اور کہو کہ خداوند ان سے بہتر ان کا جانشین عطاء فرما۔ ام سلمہؓ کو بعد میں ابو بکرؓ نے پیغام نکاح دیا جو انہوں نے منع کر دیا، جب حضرت عمرؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیغام نکاح لے کر گئے تو ام سلمہؓ نے کہا: مجھ میں چند باتیں ہیں 1۔ میں سخت غیور ہوں 2۔ میں صاحب عیال ہوں۔ 3۔ میری عمر زیادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب باتوں کو قبول فرما لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح ہو گیا (نسائی 115) یہ نکاح شوال 4ھ میں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بہت محبت تھی، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کا بہت زیادہ خیال رکھتیں، بعض غزوات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھیں۔ 11ھ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے ایک دن طبیعت زیادہ خراب دیکھی تو چیخ اٹھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں (طبقات ابن سعد 2/13) وفات: جس سال واقعہ حرہ ہوا یعنی 63ھ میں اسی سال ام سلمہؓ کا انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر 84 سال کی تھی حضرت ابو ہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ (زرقانی 3/276) مرویات: ان سے 378 روایتیں منقول ہیں، بخاری و مسلم 13 پر متفق ہیں بخاری میں 3 مسلم میں 3 جدا جدا بھی ہیں۔

گھر سے نکلتے ہوئے اللہ پر توکل کرنا چاہئے (83) ﴿العاشر: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ. يَعْنِي إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، يُقَالُ لَهُ: هُدِيتَ وَكُفِيتَ وَوُقِيتَ، وَتَنَحَّى عَنْهُ الشَّيْطَانُ"﴾ (رواه أبو داود و الترمذي، والنسائي وغيرهم. وقال الترمذي: حديث حسن، زاد أبوداؤد: "فيقول: یعنى الشيطان لشيطان آخر: كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ؟") ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص گھر سے نکلتے وقت کہے ”اللہ کے نام سے نکلا ہوں، اللہ پر توکل کیا، گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے“ تو اس کو کہا جاتا ہے تو ہدایت دیا گیا، کفایت کیا گیا، بچایا گیا اور شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے۔“


Page 270

روضۃ الصالحین جلد اول

ابوداؤد ترمذی اور نسائی وغیرہم نے اس کو روایت کیا، ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے، ابوداؤد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں ”ایک شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے ترا اس آدمی پر کیسے بس چلے گا جو ہدایت دیا گیا، کفایت کیا گیا اور اس کو بچا لیا گیا۔“ لغات: ❖ وقیت: وقی وقایةً ضرب سے بمعنی کسی کی حفاظت کرنا۔

گھر سے نکلتے وقت کی دوسری دعا کی وضاحت تشریح: ایک دوسری روایت میں یہ دعا کچھ زیادہ وضاحت سے آئی ہے جس کے آخر میں یہ الفاظ بھی زائد ہیں۔ فَتَنَحَّى لَهُ الشَّيْطَانُ وَيَقُولُ شَيْطَانٌ آخَرُ كَيْفَ لَكَ بِرَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ. ”اس کے بعد شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے، دوسرا شیطان پہلے شیطان سے کہتا ہے کہ اس پر اب کیسے قابو کیا جاسکے گا جسے راہ راست دکھائی گئی اور غیر سے مستغنی کر دیا گیا اور تمام برائیوں سے بچا لیا گیا ہے۔“ یہ دعا پڑھنا اگرچہ علماء نے مستحب لکھا ہے۔ مگر دیکھیں کہ شریعت مطہرہ کے مستحب کاموں میں بھی کتنی حفاظت ہے تو پھر سنن واجبات اور فرائض میں کتنی حفاظت ہوگی۔ یہ دعا پڑھ کر آدمی نے اللہ کی ذات پر توکل و اعتماد کیا اور لاحول کے ذریعہ سے اپنے آپ کو عاجز جانا۔ اس پر اللہ کی طرف سے اس کو ہدایت کا انعام ملا، مطلب یہ ہوا کہ ہدایت نام ہے اس بات کا کہ بندہ اللہ کو یاد کرے اور اس پر اعتماد کامل رکھنے کے ساتھ اپنے تمام امور کو اللہ کی طرف سپرد کر دے۔ بقول ایک فارسی شاعر کے:

کار خود را بخدا بار گذار کس نمی بینم ازیں بہتر کار

تخریج حدیث: سنن ترمذی ابواب الدعوات (باب ماجاء مايقول اذا خرج من بيته) وسنن ابى داؤد كتاب الادب (باب مايقول اذا خرج من بيته) والنسائى فى عمل اليوم و الليلة 89 ابن حبان 822، ابن ماجة و الحاكم 519/1 ايضاً. نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالکؓ کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

خدمت کرنے کی برکت (84) ﴿الْحَادِيَ عَشَرَـ وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ"﴾ (رواه الترمذي باسنادٍ صحيح على شرط مسلم) ”يَحْتَرِفُ“ يَكْتَسِبُ وَيَتَسَبَّبُ.


Page 271

روضۃ الصالحین جلد اول

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عہد رسالت میں دو بھائی تھے ایک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ چنانچہ کام کرنے والے نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے بھائی کی شکایت کی آپ ﷺ نے فرمایا شائد تجھ کو اس کی وجہ سے رزق دیا جا رہا ہے۔“ اسے ترمذی نے صحیح سند کے ساتھ شرط مسلم پر روایت کیا ہے۔ ”يَحْتَرِفُ“: کے معنی کمانا اور اسباب و وسائل اختیار کرنا ہیں۔ لغات: ❖ يحترف: احترف احترافاً بمعنی کوئی پیشہ اختیار کرنا، اہل وعیال کے لئے کمائی کرنا۔ ❖ فشکا: شکا شکویٰ وشکایةً نصر سے بمعنی شکایت کرنا۔ ❖ لعل: حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے، اسم کو نصب دیتا ہے اور خبر کو رفع۔ توقع کے معنی دیتا ہے اور خوف کے معنی کے لئے بھی آتا ہے۔ کبھی اس کے شروع سے لام حذف کر کے عل بھی کہتے ہیں اور اس پر ماکافّہ لاتے ہیں جیسے لعلما اس کے معنی ہیں شائد، ہو سکتا ہے، جب یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس کے معنی واجب کے ہوتے ہیں۔ تشریح: کَانَ اخوان: ”دو بھائی تھے“ ان دونوں کے ناموں کے بارے میں محدثینؒ خاموش ہیں۔ (1)

آدمی کو غیر ظاہری سبب سے بھی روزی دی جاتی ہے فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ: ”ایک بھائی نے دوسرے بھائی کی شکایت کی“ یہ سمجھتے ہوئے کہ میرا بھائی نکھٹو اور کام چور ہے کہ محنت ومزدوری سے بچنے کی وجہ سے آپ ﷺ کے پاس بیٹھتا ہے۔ اس شکایت پر آپ ﷺ نے اس بھائی کی بدگمانی دور فرمائی، اس میں دو باتیں اہم ارشاد فرمائی۔ پہلی بات دین کی خدمت کرنا یہ بڑے لوگوں کا کام ہے، ان لوگوں کو نکھٹے اور کام چور کہنا صحیح نہیں کیونکہ علم دین کو حاصل کرنا اور پھر اس کو مخلوق تک پہنچانا یہ امت کا اہم فریضہ ہے، اس لئے ایسے لوگوں کو کچھ نہ کہو ورنہ گنہگار ہوگے۔ دوسری بات ارشاد فرمائی: ”لَعَلَّكَ تُرْزَقُ“ شائد تم کو اسی کی برکت سے رزق ملتا ہے۔ اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں خود محنت کر کے روزی کما رہا ہوں مگر ممکن ہے کہ اس روزی کا ذریعہ اور سبب کوئی دوسرا ہی ہے، خاص کر کے ایسے لوگ جو کہ کمزور اور ضعیف ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر رحم کھا کر دوسرے کو بھی ان کی برکت سے روزی دے دیتے ہیں، اس لئے جو روزی کما رہا ہے اس کو احسان نہیں جتلانا چاہئے، کہ کماتا تو میں ہوں اور یہ لوگ کماتے نہیں اور کھاتے ہیں۔ تخریج حدیث: اخرجه الترمذي ابواب الزهد (باب التوكل على الله. الحاكم فى العلم 320، والبغوى فى المشكوة.

Page 272

روضۃ الصالحین جلداول

نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالکؓ کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔ (1) دلیل الفالحین 1 / 281 (2) روضۃ المتقین 1 / 127