Page 272
(8) بَابُ الإِسْتِقَامَةِ
استقامت کا بیان
استقامت کی تاکید کا حکم
قَالَ اللهُ تَعَالى: ﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ﴾ (ھود: 112)ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: "(اے پیغمبر ﷺ) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے اس پر قائم رہو۔"
تشریح: لفظ ”استقامت“ ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس کا مفہوم ایک عظیم الشان وسعت رکھتا ہے استقامت کہتے ہیں سیدھا کھڑا ہونا اس طرح سے کہ ذرا سا بھی جھکاؤ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں کسی چیز کو کوئی ماہر انجینئر اس طرح کھڑا کر دے کہ ہر طرف زاویہ قائمہ ہی رہے کسی طرف ادنیٰ میلان نہ ہو مگر وہ قائم رہے اور ہر حال میں وہ بالکل سیدھی رہے یہ بہت ہی دشوار ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، کسب معاش اور اس کی آمد و صرف کے تمام ابواب میں اللہ جل شانہ کی قائم کردہ حدود کے اندر اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر سیدھا اس طور سے چلتا رہے کہ کسی باب کے کسی عمل اور کسی مال میں کسی ایک طرف جھکاؤ یا کمی زیادتی نہ ہونے پائے ورنہ استقامت نہیں رہے گی۔ اسی وجہ سے ابن عباسؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ نبوت کی مدت میں اس آیت سے زیادہ سخت کوئی آیت آپ ﷺ پر نازل نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا، اس سے مراد پوری سورۃ نہیں بلکہ صرف یہی ایک آیت ہے۔ (1)
ایک موقع پر سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے کوئی ایسی جامع بات بتا دیں کہ مجھے پھر کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" یعنی اللہ پر ایمان لا اور پھر اس پر استقامت حاصل کرو۔ (2)
(1) تفسیر مظہری 99/6 ۔ معارف القرآن 670، 671(2) مسلم شریف بحوالہ قرطبی
Page 273
روضۃ الصالحین جلداول
استقامت کا بدلہ جنت ہے
وَقَالَ اللهُ تَعَالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ، نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ﴾ (حم السجدہ: 30، 32)ترجمہ: نیز ارشاد فرمایا: "جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہی ہے پھر وہ اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے (اور کہیں گے) نہ خوف کرو نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تمہیں وعدہ کیا جاتا ہے خوشی مناؤ، ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے رفیق ہیں اور وہاں جس نعمت کو تمہارا جی چاہے گا تم کو ملے گی اور جو چیز طلب کرو گے تمہارے لئے موجود ہوگی۔ خدا غفور رحیم کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی۔"
تشریح: جن لوگوں نے استقامت حاصل کی تو ان کے لئے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔
استقامت کیا ہے؟
حضرت ابو بکر صدیقؓ سے استقامت کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: استقامت یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ قرار دو۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استقامت کے بارے میں فرمایا: "الْإِسْتِقَامَةُ أَنْ تَسْتَقِيمَ عَلَى الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ وَلَا تَرُوغَ رَوَغَانَ الثَّعَالِبِ" استقامت یہ ہے کہ تم اللہ کے تمام احکام اوامر اور نواہی پر سیدھے جمے رہو اس سے راہ فرار لومڑیوں کی طرح نہ نکالو۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اخلاص عمل فرمائی ہے، حضرت علی، ابن عباس رضی اللہ عنہم، حسن بصریؒ، قتادہؒ، وغیرہ فرماتے ہیں استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور فرائض کو ادا کرنا۔ مجاہدؒ اور عکرمہؒ کے بقول مرتے دم تک کلمہ توحید پر جمے رہنا۔ مقاتلؒ کے نزدیک معرفت پر قائم رہنا۔ (1)
تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ: خوشخبری کب ہوگی؟ ابن عباسؓ کے بقول یہ فرشتوں کا نزول موت کے وقت ہوگا۔ قتادہؒ نے فرمایا قبروں سے نکلتے وقت ہوگا۔ وکیع بن جراحؒ نے فرمایا کہ موت کے وقت قبروں سے نکلتے وقت اور پھر محشر میں جمع ہوتے وقت تین وقتوں میں ہوگی۔ ابو نعیمؒ نے حضرت ثابت بنانیؒ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حم السجدہ کی تلاوت کی اور جب "تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ" پر پہنچے تو فرمایا کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ مؤمن جب قبر سے اٹھے گا تو دو فرشتے جو دنیا میں اس
Page 274
روضۃ الصالحین جلداول
کے ساتھ ہوتے تھے وہ اس کو ملیں گے اور کہیں گے کہ تم خوف اور غم نہ کرو اور جنت کی بشارت سنو۔ (2)
وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں بہت سی وہ نعمتیں بھی ملیں گی جس کی آدمی صرف خواہش کریگا اور وہ نعمتیں مل جائیں گی۔ (3)
نُزُلًا مِنْ غَفُورٍ الرَّحِيمِ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی بہت سی نعمتیں ایسی بھی ہوں گی جو بغیر خواہش کے اس کو ملیں گی۔ (4)
(1) تفسیر مظہری 279/10 ۔ تفسیر ابن کثیر 106/4 (2) تفسیر مظہری 280/10، ابن کثیر 106/4(3) معارف القرآن 650/7، تفسیر مظہری 281/10 (4) معارف القرآن 650/7، تفسیر مظہری 281/10(5) معارف القرآن 651/7، تفسیر مظہری 281/10
(سجاوٹی لکیر)
استقامت والے جنتی ہیں
وَقَالَ تَعَالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ أُولئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (احقاف: 13، 14)ترجمہ: نیز فرمایا: "جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ اس پر قائم رہے تو ان کو نہ کچھ خوف ہو گا نہ وہ غمناک ہوں گے یہی اہل جنت ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ اس کا بدلہ ہے جو وہ کیا کرتے تھے۔"
تشریح: علماء فرماتے ہیں کہ استقامت تو ایک مختصر لفظ ہے مگر شرائع اسلامیہ کو جامع ہے جس میں تمام احکام الٰہیہ پر عمل اور تمام محرمات و مکروہات سے اجتناب دائمی طور پر شامل ہے۔ علامہ زمحشریؒ فرماتے ہیں کہ ”ربنا اللہ“ کہنا جب ہی صحیح ہو سکتا ہے جب کہ وہ دل سے یقین کرے کہ میں ہر حال ہر قدم میں اللہ تعالیٰ کی زیر تربیت ہوں مجھے ایک سانس بھی اس کی رحمت کے بغیر نہیں آسکتا اور اس کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان طریق عبادت پر مضبوط و مستقیم رہے کہ اس کا دل اور بدن دونوں اللہ کی عبادت سے انحراف نہ کریں۔ (1)
أُولئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ: استقامت والے کے لئے جنت کا وعدہ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے دنیا میں استقامت کے ساتھ زندگی گزاری جب اس سے ہٹانے کی ہر طرف سے کوشش ہوتی تھی، اب قیامت میں اس کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا جائے گا۔(اس آیت کی مزید وضاحت ماقبل آیت میں گزر چکی ہے)
(1) تفسیر کشاف
Page 275
روضۃ الصالحین جلداول
ایمان پر استقامت ہی کامیابی ہے
(85) وَ عَنْ أَبِي عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ تَعَالى عَنْهُ، وَقِيلَ: أَبِي عَمْرَةَ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ تَعَالى عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ: لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَكَ. قَالَ: "قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، ثُمَّ اسْتَقِمْ" (رواه مسلم)ترجمہ: ”حضرت سفیان بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتائیے کہ آپ ﷺ کے بعد پھر کسی سے سوال کرنے کی ضرورت نہ ہو، آپ ﷺ نے فرمایا کہو میرا اللہ پر ایمان ہے پھر اس پر استقامت اختیار کر۔“
تشریح: ایمان لاؤ اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو
قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ: استقامت کی بحث پہلے گزر چکی ہے، یہاں مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اوامر و نواہی پر اسلام لانے کے بعد انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ جمے رہنا اور احکام، فرائض، سنن پر عمل کرتے رہنا۔ یعنی ایمان لانے کے بعد عمل بھی ساتھ میں ہو اس لئے کہ عمل ایمان کا ثمرہ اور تتمہ ہے، جس طرح وہ درخت جس میں کوئی پھل نہ ہو اس کی کوئی اہمیت نہیں اسی طرح عمل کے بغیر ایمان کی اہمیت نہیں، استقامت کمال ایمان کی علامت ہے کہ ایمان کے ساتھ عمل بھی موت تک کرتا رہے بلکہ روز بروز اس میں اضافہ کرتا رہے اسی بارے میں قرآن کی یہ آیت بھی ہے۔إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا. (1)ترجمہ: ”بیشک جن لوگوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر جمے رہے۔“ خلاصہ یہ ہوا کہ استقامت اس کو کہتے ہیں کہ آدمی ایمان پر جما رہے اور اس کا انتقال بھی ایمان کی حالت میں ہو۔ (2)
تخریج حدیث: رواہ مسلم كتاب الايمان (باب جامع اوصاف الاسلام)، و ترمذی، نسائی، رواہ ابن ماجہ ایضاً.
راوی حدیث حضرت سفیان بن عبداللہؓ کے مختصر حالات:نام: سفیانؓ، کنیت ابو عمرو یا ابو عمرۃؓ دونوں ہیں، ان کے والد کا نام عبداللہ تھا یہ طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھتے تھے حضرت عمرؓ نے عثمان بن ابی العاصؓ کو معزول کر کے ان کو عامل بھی بنا دیا تھا، ان کی صرف یہی روایت ہے، جو مسلم کے علاوہ ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی ہے۔
(1) سورۃ حم، السجدۃ آیت 30 (2) روضۃ المتقین 129/1
Page 276
روضۃ الصالحین جلداول
اللہ کی رحمت ہی پر جنت میں دخول ممکن ہے
(86) وَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ" قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ" (رواه مسلم)وَ "الْمُقَارَبَةُ": الْقَصْدُ الَّذِي لَا غُلُوَّ فِيهِ وَلَا تَقْصِيرَ. وَ"السَّدَادُ": الِاسْتِقَامَةُ وَ الْإِصَابَةُ، وَ "يَتَغَمَّدَنِيْ" يُلْبِسُنِي وَ يَسْتُرُنِي. قَالَ الْعُلَمَاءُ: مَعْنَى الْإِسْتِقَامَةِ: لُزُومُ طَاعَةِ اللهِ تَعَالَى، قَالُوْا: وَهِيَ مِنْ جَوَامِعِ الْكَلِمِ وَهِيَ نِظَامُ الْأُمُورِ، وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ.ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام پر سیدھے رہو اور مضبوطی اختیار کرو یاد رکھو! تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکے گا، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ ڈھانپ لے۔“
مقاربہ: کے معنی ہیں اعتدال کی راہ جس میں نہ غلو اور نہ ہی تقصیر ہو، سداد: کے معنی ہیں استقامت اور درستی، یتغمدنی: مجھے پہنائے اور ڈھانپ لے۔ علماء نے فرمایا ہے استقامت کے معنی ہیں رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا اہتمام کرنا، انہوں نے کہا یہ جوامع الکلم میں سے ہے۔ معاملات کا نظم اسی سے وابستہ ہے۔ (وباللہ التوفیق)
لغات: ٭ يتغمدنى: غمده و تغمده بمعنى قصور چھپانا۔ تَغَمَّدَهُ اللهُ بِرَحْمَةٍ: اپنی رحمت میں چھپا لینا۔
تشریح: آدمی اللہ ہی کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا
إِنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ: تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوگا جو بھی جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے داخل ہوگا۔ یہ حدیث شریف اہل سنت والجماعت کے مذہب کی دلیل ہے کہ اعمال کی وجہ سے آدمی جنت کا مستحق نہیں ہوگا، جنت میں دخول صرف اور صرف اللہ جل شانہ کے فضل اور رحمت سے ہی ہوگا۔ (1)
سوال: قرآن میں آتا ہے کہ "ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ" کہ قیامت میں کہا جائیگا جنت میں داخل ہو جاؤ! اپنے اعمال کے سبب۔اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل ہوگا۔
Page 277
روضة الصالحین جلداول
اس سوال کے کئی جوابات محدثینؒ نے دیئے ہیں ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ اعمال دخول جنت کے لئے سبب بن رہے ہیں مگر اس سے پہلے ایمان، ہدایت، اخلاص وغیرہ یہ سب تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہی سے ہوا ہے تو گویا کہ دخول جنت بھی اسی رحمت اور فضل سے ہوا اگر اس سے پہلے یہ فضل نہ ہوتا تو ان سب چیزوں کی توفیق کیسے ملتی۔ (2)دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دخول تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت وفضل سے ہوگا مگر اس کے منازل عالیہ اعمال کے اعتبار سے ہوگا۔ (3)
تخریج حدیث: مسلم کتاب المنافقین (باب لن يدخل احد الجنة بعمله)
نوٹ: راوی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) شرح مسلم للنووی(2) دلیل الفالحین 283/1(3) روضۃ المتقین 129/1