روضۃ الصالحین جلداول | 195
(4) بَابُ الصِّدْقِ
سچائی کا بیان
قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ (توبة: 119)
ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: "اے اہلِ ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔"
تشریح: ایمان والوں کو خطاب کرکے کہا جا رہا ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ اس آیت کا مصداق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مراد محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں کہ ان کے ساتھ رہنے کو کہا جا رہا ہے کیونکہ ان کی نیتیں خالص ہیں، دل بے لوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے کہ یہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سچے ارادے سے تبوک کی طرف نکلے اور منافقوں کی طرح مت ہو جاؤ کہ جنہوں نے آپ ﷺ کا ساتھ نہیں دیا۔
علامہ ضحاکؒ نے فرمایا کہ مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات ہے کہ ان کے ساتھ ہو جاؤ۔ (1)
"اَلصَّادِقِیْنَ" بقول ابن جریرؒ کے مراد مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں یا مراد وہ تین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہیں جو غزوہٴ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے کہ انہوں نے دل سے گناہ کا اعتراف کیا اور (منافقوں کی طرح) جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔ (2)
بعض مفسرین فرماتے ہیں اس آیت میں صادقین کہا گیا ہے علماء و صلحاء نہیں فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ ہو جاؤ کیونکہ صادقین کا لفظ فرما کر عالم و صالح کی پہچان بتادی کہ صالح و عالم وہی شخص ہو سکتا ہے جس کا ظاہر و باطن یکساں ہو نیت و ارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو اور عمل کا بھی سچا ہو۔ (3)
اس آیت میں سب مسلمانوں کو خطاب ہے اور قیامت تک کے لئے خطاب ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں کم از کم ایک جماعت تو سچی موجود ہوگی۔ (4)
(1) زاد المسیر 339/3
(2) تفسیر مظہری 422/5
(3) تفسیر معارف القرآن 485/4
(4) تفسیر ابن کثیر 414/2
صفحہ 196
روضۃ الصالحین جلداول | 196
سچوں کی تعریف
وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ﴾ (الاحزاب: 35)
ترجمہ: نیز فرمایا: "اور سچے مرد اور سچی عورتیں۔"
تشریح: اس آیتِ کریمہ میں مرد اور عورت دونوں کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ اس سچے ہونے میں صادق القول ہونا بھی داخل ہے اور صادق العمل ہونا بھی اور ایمان اور نیت میں بھی سچا ہونا داخل ہے یعنی مسلمان مرد اور مسلمان عورت ایسے ہوتے ہیں کہ نہ ان کے کلام میں کوئی جھوٹ ہوتا ہے نہ عمل میں کم ہمتی اور سستی اور نہ ہی ریاکاری (نفاق) وغیرہ۔ (1)
ایک ضروری تنبیہ
اس آیتِ شریفہ میں مرد اور عورت دونوں کو اللہ جل شانہ نے خطاب فرمایا حالانکہ عموماً قرآنِ مجید کا اسلوب تو یہی ہے کہ خطاب مردوں کو کیا جاتا ہے عورتیں خود ضمناً ان میں شامل ہوتی ہیں، اس میں اشارہ ہوتا ہے کہ عورتوں کے تمام معاملات ستر اور پردہ پوشی کے ساتھ ہونے چاہئیں، اسی میں ان کا اکرام و اعزاز ہے۔ قرآنِ مجید میں عموماً اس قانون پر عمل کیا جاتا ہے مثلاً امرأۃ فرعون، امرأۃ نوح، امرأۃ لوط وغیرہ إلا حضرت مریم علیہا السلام کے کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نسب کسی باپ کی طرف نہیں ہو سکتا تھا اس لئے ان کو ان کی ماں حضرت مریم علیہا السلام کی طرف مجبوراً منسوب کیا جاتا ہے۔
(1) معارف القرآن 133/7
سچائی کا صلہ
وَ قَالَ تَعَالٰی: ﴿فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾ (محمد: 21)
ترجمہ: نیز فرمایا: "تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا۔"
تشریح: اس آیت میں منافقین کو خطاب ہے کہ وہ پہلے دعویٰ کرتے رہے کہ جہاد کا حکم آئے گا تو ہم جہاد کریں گے مگر جب جہاد کی صریح آیات نازل ہوئیں تو اب صدقِ دل سے جہاد کرنے کے بجائے اس سے فرار کا بہانہ تلاش کرنے لگ گئے۔ (1)
لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ جہاد کرتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا۔
مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں وہ اگرچہ منافق ہی تھے تو بعد میں نفاق سے توبہ کر لیتے تو ان کا یہ ایمان مقبول ہو جاتا کیونکہ توبہ تو موت تک قبول ہوتی ہے۔ (2)
(1) تفسیر معارف القرآن 39/8
(2) تفسیر معارف القرآن 39/8
صفحہ 197
روضۃ الصالحین جلداول | 197
مگر ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ حکمِ جہاد کو ناگوار سمجھا۔ (3)
(3) تفسیر مظہری 484/10
صِدِّیق اور کَذَّاب کی تعریف
(54) ﴿وَ اَمَّا الْاَحَادِیثُ. فَالْاَوَّلُ: عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَ إِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ صِدِّيقًا، وَ إِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَ إِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللّٰهِ كَذَّابًا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
احادیث پیشِ خدمت ہیں:
ترجمہ: پہلی حدیث: "حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسولِ اکرم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو "صِدِّیق" لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کی رہنمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں "کَذَّاب" لکھ دیا جاتا ہے۔"
لغات:
اَلصِّدْقُ: صِدْق صَدَقًا نَصَرَ سے بمعنی سچ بولنا۔ الصدق سچ، فضیلت، صلاح۔
اَلْبِرُّ: بَرَّ بَرًّا نَصَرَ اور ضَرَبَ سے بمعنی اطاعت کرنا۔ حسنِ سلوک کرنا البر: عطیہ۔ طاعت۔ نیکی۔
اَلْفُجُوْرُ: فَجَرَ فَجْرًا و فُجُوْرًا نَصَرَ سے بمعنی گناہ کرنا۔ زنا کرنا۔ جھوٹ بولنا۔ فَجْر بمعنی آغاز۔ شروع۔
تشریح:
سچائی نیکی کی رہنمائی کرتی ہے
"إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ" مطلب یہ کہ سچ بولنا بذاتِ خود بھی نیک عادت ہے اور آدمی جب سچائی کو اپناتا ہے تو اس کی خاصیت یہ ہو جاتی ہے کہ پھر وہ آدمی زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی نیک کردار اور صالح کردار ادا کرتا ہے، اور سچائی اس کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتی ہے پھر اس کو دو انعام ملتے ہیں۔ ایک دنیا میں دوسرا آخرت میں۔ دنیا کا انعام یہ ملتا ہے یہ مقامِ صدیقیت تک پہنچ جاتا ہے۔ (1)
اسی طرح جھوٹ بولنا بذاتِ خود ایک خبیث عادت ہے آدمی اگر ہر موقع پر جھوٹ کو اپناتا رہتا ہے تو اس آدمی میں فسق و فجور کا میلان پیدا ہوتا رہتا ہے...
اس کا دنیا میں نقصان یہ ہوتا ہے کہ یہ کذاب لکھ دیا جاتا ہے اور اس کی زندگی میں لعنت اور پھٹکار بھی پڑتی رہتی ہے جیسے کہ قرآنِ مجید کا فیصلہ ہے "لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ" (2) "جھوٹے آدمی پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔"
آخرت کا نقصان یہ ہوگا کہ اس کا حشر منافقوں میں ہوگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم بن جائے گا۔ (3)
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک اور روایت زیادہ وضاحت کے ساتھ آئی ہے وہ یہ ہے:
"لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ فَيُنْكَتُ فِي قَلْبِهٖ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَسْوَدَّ قَلْبُهٗ فَيُكْتَبُ عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الْكَاذِبِينَ." (4)
ترجمہ: ہمیشہ بندہ جھوٹ بولتا ہے اور اسی میں آگے بڑھتا رہتا ہے پھر اس کے دل میں ایک کالا نقطہ لگا دیا جاتا ہے پھر وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
تخریج حدیث: صحیح البخاری کتاب الادب (باب قول اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ و کونوا مع الصادقین و ما ینہی عن الکذب) صحیح مسلم کتاب البر (باب تحریم النمیمۃ و باب قبح الکذب و حسن الصدق و فضلہ) و اخرجہ امام احمد فی مسندہ 3638/2 و فی الادب المفرد 386، ابوداؤد والترمذی و ابن حبان 272، و مصنف ابن ابی شیبة 590/8 والبیہقی 243/10.
نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے حالات حدیث نمبر (36) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔
(1) معارف الحدیث 260/2
(2) سورہ آلِ عمران آیت 61
(3) نزہۃ المتقین 70/1، معارف الحدیث 260/2، تحفۃ العابدین 146
(4) روضۃ المتقین 95/1
سچائی اطمینان کا باعث ہے
(55) ﴿اَلثَّانِي: عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الصِّدْقَ طُمَأْنِينَةٌ، وَالْكَذِبَ رِيبَةٌ.﴾ (رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَ قَالَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ)
قَوْلُهُ: "يَرِيْبُكَ" هُوَ بِفَتْحِ الْيَاءِ وَ ضَمِّهَا: وَ مَعْنَاهُ اتْرُكْ مَا تَشُكُّ فِيْ حِلِّهِ وَاعْدِلْ إِلَى مَا لَا تَشُكُّ فِيْهِ.
ترجمہ: دوسری حدیث: "حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (سن کر یہ کلمات) یاد کئے۔ شک میں مبتلا کرنے والی چیزوں کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اختیار کرو جو شک و شبہ سے پاک ہوں۔"
بلند ہوں (یادرکھو) سچائی باعثِ اطمینان ہے اور جھوٹ شک و شبہ کا سرچشمہ ہے۔ امام ترمذی نے کہا حدیث صحیح ہے۔
"یُرِیْبُکَ" یا پر زبر اور پیش دونوں طرح صحیح ہے۔ راب یریب یا اراب یریب اس کے معنی ہیں جس چیز کے حلال ہونے میں شک ہو اسے چھوڑ دو اور ایسی چیز کو اختیار کرو جس میں تمہیں شک نہ ہو۔
لغات:
حفظت: حفظ حفظاً سمع سے بمعنی زبانی یاد کرنا۔ ضائع اور تلف ہونے سے بچانا۔
دع: ودع يدع فتح سے بمعنی ترک کرنا۔ (لسان العرب)
یریبک: رَابَه يَرِيْبُه ريباً بمعنی کسی کو شک میں یا تہمت میں ڈالنا۔
طمانینة: اطمأن اطمئناناً بمعنی آرام لینا۔ قرار پکڑنا۔ پست ہونا۔
تشریح:
شک میں مبتلا کرنے والی چیزوں کو چھوڑ دو
"دَعْ مَا يَرِيْبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيْبُكَ" شک میں مبتلا کرنے والی چیزوں کو چھوڑ دو۔
محدثین فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک میں جناب رسول اللہ ﷺ نے سچ اور جھوٹ کی ایک نہایت اہم پہچان بتلائی ہے کہ سچ وہ ہے جس سے آدمی کو اطمینانِ قلب حاصل ہو جائے اس کو اردو محاورے میں دل کا ٹھکنا کہتے ہیں یعنی جس بات پر دل ٹھکے وہ سچ ہے۔ اسی بناء پر امام ابوحنیفہؒ کا مشہور مقولہ ہے کہ اپنے دل سے فتویٰ لو اگر دل میں شک ہے اگرچہ مفتی صاحبان ظاہر کو دیکھ کر جائز ہونے کا فتویٰ بھی دے دیں مگر تمہارا دل مطمئن نہیں تو اس پر عمل نہ کرو۔ (1)
کیونکہ ایک دوسری جگہ پر فرمایا گیا کہ "اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ" (2) مؤمن کی فراستِ قلبی سے ہوشیار رہو کہ وہ حق تعالیٰ شانہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
مگر ایک ضروری امر یہ ہے کہ یہ قانون اور بنیاد اس قلب کے لئے ہے جو قلب خواہشاتِ نفسانی کی کدورت سے پاک ہو اور اس نے اپنے قلبِ سلیم کو اپنی خواہشات سے خراب نہ کر لیا ہو مگر عام طور سے لوگوں نے اپنے دل کو خواہشاتِ نفسانی سے خراب کر رکھا ہے اس لئے اب ضروری ہے کہ جو مفتی فتویٰ دے اسی پر عمل کریں۔ (3) واللہ اعلم
تخریج حدیث: سنن ترمذی و مسند احمد 20/1 والمستدرک للحاکم 13/2 والطيالسی 1178 والبیہقی 330/5، والدارمی 2532 بالفاظ متقاربة.
راوی حدیث حضرت حسنؓ بن علیؓ کے مختصر حالات:
نام: حسن، کنیت: ابومحمد، لقب: شبیہِ رسول ﷺ، خطاب: ریحانۃ النبی، والد کا نام: علیؓ اور والدہ کا نام: فاطمہؓ بنت رسول اللہ ﷺ تھا۔ پیدائش: سنہ 3 ہجری کے تیسرے سال رمضان المبارک کے مہینہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت پر آپ ﷺ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لے گئے اور پوچھا کیا نام رکھا ہے؟ کہا حرب۔ فرمایا کہ اس کا نام حسن ہے۔ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ بھی کیا۔ ابھی حسنؓ آٹھ سال کے تھے کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
صفحہ 200
روضۃ الصالحین جلداول | 200
وسلم دنیا سے رخصت ہو گئے۔
عہد ابوبکر: آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ بھی ان سے بڑی محبت فرماتے۔ ایک مرتبہ کھیلتا ہوا دیکھ کر کندھے پر اٹھا لیا فرمایا قسم ہے یہ نبی ﷺ کے مشابہ ہے، علیؓ کے مشابہ نہیں ہے، یہ سن کر حضرت علیؓ بھی ہنسنے لگے۔ (بخاری کتاب مناقب الحسن والحسین)
حضرت عمرؓ بھی ان سے بڑی محبت کرتے، ان کا وظیفہ پانچ ہزار ماہانہ مقرر فرمایا۔ (فتوح البلدان بلاذری)
حضرت حسنؓ نے حضرت عثمانؓ کے محاصرہ کے وقت حفاظت کا کام بھی کیا۔ حضرت حسنؓ نے جنگِ جمل سے حضرت علیؓ کو روکا۔ حضرت علیؓ کے انتقال پر ان کی نمازِ جنازہ انہوں نے ہی پڑھائی پھر لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
دوسری طرف حضرت امیر معاویہؓ نے حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد فوجی پیش قدمی شروع کر دی اس وقت حضرت حسنؓ کوفہ میں تھے اور پھر حضرت حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کر کے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تاکہ مسلمانوں کا آپس میں خون خرابہ نہ ہو۔ اس سے آپ ﷺ کی یہ پیشگوئی پوری ہوگئی کہ یہ بیٹا سید ہے خدا اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے فرقوں میں صلح کرائے گا۔ (مشکوٰة)
ان کی خلافت کی مدت چھ یا سات مہینے سے کچھ زیادہ تھی۔
حضرت حسنؓ کے اندر بہت سے اوصاف تھے ان میں سے بعض یہ ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے خطیب تھے، ان کے اشعار اور حکیمانہ اقوال بھی بہت منقول ہیں۔ دنیا سے استغناء اور بے نیازی، صدقات و خیرات کثرت سے کرنا، اور وقت کا بڑا حصہ عبادات میں گزارنا، لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا وغیرہ ان میں کوئی دوسرا شریک نہ تھا۔
جیسے کہ گزرا آپ ﷺ کی وفات کے وقت حضرت حسنؓ کی عمر آٹھ سال تھی اس کے باوجود انہوں نے آپ ﷺ سے تیرہ روایات یاد کر رکھی تھیں۔ اصحابِ السنن نے ان کی روایات کو نقل کیا ہے۔
وفات: 50ھ میں ان کو زہر دے دیا گیا جس کے تین دن کے بعد 47 سال کی عمر میں اس دارِ فانی کو خیرباد کہہ دیا۔ ان کی تمنا نبی کریم ﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کی تھی، نانی جان حضرت عائشہؓ سے اجازت لے لی مگر مروان نے مخالفت کی۔ پھر ان کو جنت البقیع میں ان کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہ زہراؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ (استیعاب 1/145 و اسد الغابة 2/15)
جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ مدینہ میں اس سے پہلے اتنا ہجوم نہیں دیکھا گیا کہتے ہیں کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو زمین پر نہ گرتی۔ (تہذیب التہذیب 301/2)
(1) دلیل الفالحین 205/1 (2) دلیل الفالحین 205/1 (3) دلیل الفالحین 206/1
سچائی کا حکم
(56) ﴿اَلثَّالِثُ: عَنْ أَبِي سُفْيَانَ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِهِ الطَّوِيلِ فِي قِصَّةِ هِرَقْلَ، قَالَ هِرَقْلُ: فَمَا ذَا يَأْمُرُكُمْ. يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ قُلْتُ: يَقُولُ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَحْدَهُ لَا تُشْرِكُوا بِهٖ شَيْئًا، وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ اٰبَآؤُكُمْ وَيَأْمُرُنَا بِالصَّلٰوةِ، وَالصِّدْقِ، وَالْعَفَافِ، وَالصِّلَةِ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: تیسری حدیث: "حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہرقل کے قصہ کی طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہرقل نے سوال کیا کہ وہ پیغمبر تم کو کس بات کا حکم دیتا ہے؟ ابوسفیان کہتے ہیں میں نے جواب دیا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ...وہ ہمیں کہتے ہیں تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور جو بات تمہارے آباؤ اجداد کہتے ہیں اس سے باز آجاؤ اور وہ ہمیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں، سچائی، پاکدامنی، صلہ رحمی کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔"
لغات:
اعبدوا: عَبَدَ عِبَادَةً و عُبُودَةً نصر سے بمعنی اللہ کو ایک جاننا۔ عبادت کرنا۔
تشرکوا: شرک شرکاً و شرکتہ سمع سے بمعنی شریک ہونا۔ ساجھی ہونا۔ جمع شرکاء و اشراک۔ جدید لغت میں شرک بمعنی جال پھندا۔ شرکۃ کمپنی، فرم۔
اتركوا: ترک ترکاً نصر سے بمعنی چھوڑنا۔ غافل کرنا۔
العفاف: عفّ و عِفّة ضرب سے بمعنی پاک دامن ہونا۔ حرام یا غیر مستحسن کام سے رکنا۔
تشریح: فی حدیثہ الطویل فی قصۃ ہرقل۔ ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہرقل کے قصہ کی طویل حدیث کو بیان کرتے ہوئے کہی۔ (1) یہ واقعہ ہجرت کے چھ سال بعد ہوا۔
ابوسفیان نے کفر کی حالت میں بھی شریعت کی تعریف کی
"وَاتْرُكُوا مَا يَقُولُ اٰبَآؤُكُمْ" اس سے باز آجاؤ جو تمہارے آباؤ اجداد کہتے ہیں۔
اس جملہ میں ابوسفیان نے ہرقل کو آپ ﷺ کے مخالف کرنا چاہا کیونکہ آباؤ اجداد کے خلاف آدمی سننا پسند نہیں کرتا۔ (2)
"يَأْمُرُنَا بِالصَّلٰوةِ وَالصِّدْقِ" نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں، سچائی وغیرہ کی تاکید کرتے ہیں۔
اس حدیثِ پاک میں ایک دشمنِ اسلام کی زبان سے نبی کریم ﷺ اور آپ کی تعلیمات کا اعتراف ہے۔ ابوسفیان نے ان باتوں کا اعتراف اس وقت میں کیا جب کہ وہ مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں صدق کو بھی ابوسفیان نے بیان کیا جس کی وجہ سے ہرقل سمجھ گیا کہ یہ سچے نبی ہیں کیونکہ تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی صفاتِ عالیہ میں سے سچ بولنا بھی تھا۔ یہ وصف تمام انبیاء سابقین میں متفق علیہ کی حیثیت رکھتا ہے، یہ صدق انبیاء کرام علیہم السلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام صلحاء اور علماء اخلاق بھی صدق کو انسانی کمالات و فضائل میں سب سے اعلیٰ مقام دیتے ہیں۔
تخریج حدیث: صحیح بخاری باب بدء الوحی و کتاب الصلوٰة و صحیح مسلم کتاب الجہاد (باب کتب النبی ﷺ "الی ہرقل یدعو الی الاسلام") والترمذی و ابن حبان 6555 .
راوی حدیث حضرت ابوسفیانؓ کے مختصر حالات:
نام: صخر، کنیت: ابوسفیان تھی، صخر بن حرب بن امیہ بن عبدشمس بن عبدمناف ہے۔
شروع میں اسلام کی خوب مخالفت کی اور اسلام کو مٹانے میں انہوں نے پوری قوتیں صرف کر رکھی تھیں۔ ابتداءِ دعوتِ اسلام سے لے کر فتحِ مکہ تک مسلسل مخالفت کی۔ دعوتِ اسلام کے آغاز میں قریش کا جو وفد آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کے پاس آپ ﷺ کی شکایت لے گیا اس…
میں بھی ابوسفیان شامل تھے۔ (سیرت ابن ہشام 1/138)
آپ ﷺ کو قتل کرنے کی جو سازش تیار کی گئی تھی لیکن جو آپ ﷺ کی بروقت ہجرت سے ناکام ہو گئی، اس سازش میں بھی ابوسفیان شریک تھے۔ بہر حال ابوسفیان نے مسلمانوں کو ایذا پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا۔
اور جب فتح مکہ کے موقع پر حضرت عباسؓ ابوسفیان کو لے کر آئے ہیں، آپ ﷺ نے نہ ابوسفیان کے قتل کرنے کا حکم دیا نہ جلاوطن کرنے کا بلکہ ارشاد فرمایا ابوسفیان افسوس کا مقام ہے کیا اب بھی وقت نہیں آیا؟ خدا کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس نرمی اور محبت کی دعوت کے بول پر ابوسفیان نے کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کتنے بڑے شریف اور کتنے بڑے صلہ رحم کرنے والے ہیں۔ خدا کی قسم! اگر خدا کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو آج میرے کام آتا۔ آپ ﷺ نے پھر ارشاد فرمایا ابوسفیان تمہاری حالت قابل افسوس ہے کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم مجھے خدا کا رسول مانو۔ اس کے جواب میں پھر ابوسفیان نے کہا مجھ کو اس میں شک ہے پھر حضرت عباسؓ کے ڈانٹنے اور سمجھانے پر ابوسفیان کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ (سیرت ابن ہشام 2/235)
پھر آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین اور محاصرہ طائف میں ساتھ رہے۔ جنگ یرموک میں ان کے بیٹے معاویہؓ اور ان کی بیوی ہندہؓ سب نے ہی شرکت کی۔ ان سے ہرقل کے سوال و جواب والی روایت مشہور مروی ہے۔
وفات: حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت 31 ھ سے 34 ھ تک میں انتقال ہوا اس وقت ان کی عمر اٹھاسی سال تھی، حضرت عثمانؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
(1) پورا واقعہ بخاری فی بدء الوحی، کتاب الجہاد و مسلم باب کتب النبی ﷺ ، ابوداؤد، نسائی اور ترمذی وغیرہ میں موجود ہے۔
(2) دلیل الفالحین 1/270
صدق دل سے شہادت کی تمنا
(57) ﴿الرَّابِعُ: عَنْ أَبِي ثَابِتٍ، وَقِيلَ أَبِي سَعِيدٍ، وَقِيلَ أَبِي الْوَلِيدِ، سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ بَدْرِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ سَأَلَ اللهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهٖ﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
ترجمہ: چوتھی حدیث: ”حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص صدق دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے شہادت طلب کرتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر فوت ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کے مراتب کا مستحق ٹھہرائے گا۔“
لغات:
الشہادۃ: شَهِدَ و شَهُدَ شَهَادَةً سمع اور کرم سے بمعنی گواہی دینا اُسْتُشْهِدَ اللہ کی راہ میں شہید ہونا۔ اس کی جمع شہداء ہے۔
بلغہ: بلغ بلوغاً نصر سے بمعنی پہنچنا۔ کرم سے بمعنی فصیح و بلیغ ہونا۔
مات: مات موتاً نصر سے بمعنی مرنا۔ آگ بجھنا۔ کپڑے کا بوسیدہ ہونا۔
فراشہ: فرش فَرْشًا و فِرَاشًا نصر سے اور ضرب سے بچھنا۔ الفراش بچھونا، گھونسلا۔
صفحہ 203
تشریح:
اہل بدر کی خصوصیت ہے
وھو بدری: سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری صحابی ہیں۔ بدری ہونے کو یہاں خصوصیت سے بیان فرمایا گیا کہ یہ ان صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لئے بہت ہی خصوصیت کی بات تھی جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوسکتا۔ وہ خصوصیت یہ ہے کہ ”اِطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالُوا اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمُ الْجَنَّةُ.“ (1)
اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو اپنی خصوصی نظر کرم اور مغفرت سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فرمایا ہے تم جو چاہو کرو جنت تمہارے لئے واجب ہوگئی ہے۔
سچے دل سے شہادت طلب کرنے والا شہداء کے درجہ پر ہوگا
”الشہادۃ بصدق بلغہ اللہ منازل الشہداء“ سچے دل سے شہادت طلب کرنے والا اگر اپنے بستر پر ہی مر جائے تب بھی اس کو شہداء کے مراتب کا مستحق ٹھہرایا جائے گا۔
اس حدیث پاک میں اخلاص نیت کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے کہ دل میں اخلاص سے نیت کرنے سے بھی اللہ تعالیٰ لوگوں کو شہداء کے مرتبوں پر فائز کر دیتا ہے۔ (2)
یعنی لڑائی کے میدان میں شہید ہوئے بغیر ہی محض صدق و اخلاص کی بناء پر اتنا بلند مرتبہ عطاء فرما دیتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر کسی کی نیت خراب ہو تو میدان جہاد میں بہادری سے لڑائی کرنے کے بعد بھی جہنم میں جائے گا۔ (3)
تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الامارة (باب استحباب الشهادة في سبيل الله تعالى) و ابوداؤد، ترمذی، والنسائی 3162، ابن ماجہ 2797، ابن حبان 3192، والدارمی 205/2، والبيهقى 169/9۔
راوی حدیث حضرت سہل بن حنیفؓ کے مختصر حالات:
نام: سہل، کنیت: ابوسعید، ابوثابت، ابوالولید، والد کا نام: حنیف تھا۔
بدر سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ اُحد میں چند صحابہؓ جو میدان میں ثابت قدم رہے ان میں سے ایک سہل بھی تھے۔
جنگ جمل کے بعد بصرہ کے والی بنائے گئے، جنگ صفین میں حضرت علیؓ کی طرف سے شرکت کی (صحیح بخاری 602/2)
ان کے بارے میں آتا ہے کہ بہت زیادہ خوبصورت تھے۔ ایک مرتبہ نہا رہے تھے ایک انصاری صحابی نے دیکھ کر کہا کیسا بدن ہے میں نے تو ایسا بدن کبھی نہیں دیکھا اس کے بعد سے بیمار ہو گئے۔ آپ ﷺ کے سامنے قصہ پیش ہوا فرمایا لوگ اپنے بھائی کا جسم یا مال دیکھتے ہیں اور دعا نہیں کرتے اس لئے نظر لگتی ہے۔
وفات: 38 ھ کوفہ میں ہوئی۔ حضرت علیؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے جنازہ میں چار تکبیرات کے بجائے چھ تکبیرات کہیں اور فرمایا کہ یہ بدری ہیں۔
مرویات: ان سے 40 روایات نقل کی جاتی ہیں جن میں بخاری و مسلم چار میں متفق ہیں اور دو مزید مسلم میں موجود ہیں۔
(1) بخاری و مسلم (2) دلیل الفالحین 209/1 (3) دلیل الفالحین 95/1
صفحہ 204
دین کے کام کو مکمل توجہ کے ساتھ کرنا چاہئے
(58) ﴿اَلْخَامِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللهِ وَسَلَامُهٗ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِقَوْمِهٖ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا لَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا، وَلَا أَحَدٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ أَوْلَادَهَا. فَعَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَ أَنَا مَأْمُورٌ، اللّٰهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا، فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ، فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ: فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُكَ، فَلَزِقَتْ يَدُ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ بِيَدِهٖ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَجَاءُوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا فَلَمْ تَحِلُّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ثُمَّ أَحَلَّ اللهُ لَنَا الْغَنَائِمَ لِمَا رَأَى ضَعْفَنَا وَ عَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
”الْخَلِفَاتُ“ بِفَتْحِ الْخَاءِ الْمُعْجَمَةِ وَ كَسْرِ اللَّامِ: جَمْعُ خَلِفَةٍ وَ هِيَ النَّاقَةُ الْحَامِلُ.
ترجمہ: پانچویں حدیث: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء کرام میں سے ایک پیغمبر نے جہاد کے لئے نکلتے وقت اپنی قوم سے کہا کہ وہ آدمی میرے ساتھ نہ آئے جس نے کسی عورت سے نکاح کر لیا ہے لیکن ابھی تک اس کو گھر میں نہیں لایا جب کہ اس کے پروگرام میں اس کو گھر لانا ہے اور وہ شخص بھی میرے ساتھ نہ نکلے جس نے مکان تعمیر کر لیا ہے لیکن چھت نہیں ڈالی اور وہ شخص بھی نہ چلے جس نے حاملہ بکریاں یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کی ولادت کا منتظر ہے اس کے بعد وہ جہاد پر نکلے۔ عصر کی نماز کے قریب اس بستی کے پاس پہنچے جن سے جہاد کرنا تھا تو انہوں نے سورج کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی اس کے حکم کا پابند ہوں۔ اے اللہ سورج کو روک لیجئے، سورج رک گیا یہاں تک کہ اللہ نے فتح سے نوازا۔ انہوں نے غنیمتوں کو یکجا کرنے کا حکم دیا آسمان سے آگ آئی تاکہ ان کو جلا ڈالے لیکن آگ نے نہ جلایا، اس پر پیغمبر نے فرمایا یقیناً تم نے غنیمت کے مال میں خیانت کی ہے لہٰذا ہر قبیلہ سے ایک آدمی میرے ہاتھ پر بیعت کرے۔ چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا، تو انہوں نے فرمایا کہ تم میں خیانت ہے پس چاہئے کہ تمہارا پورا قبیلہ میرے ہاتھوں پر بیعت کرے چنانچہ دو یا تین آدمیوں کے ہاتھ ان کے ہاتھ پر چپک گئے۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تم نے خیانت کی ہے تو وہ ایک گائے کے سر جیسا سونے کا سر لائے تو اسے بھی مال غنیمت میں رکھ دیا، آگ آئی تو اسے کھا گئی۔ ہم سے پہلے کسی کے لئے غنیمت حلال نہ تھی پھر اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھ کر حلال کر دیا۔“
”خلفات“ خائے معجمہ پر زبر اور لام پر زیر کے ساتھ خلفہ کی جمع ہے گابھن اونٹنی۔
لغات:
يتبعنی: تبع تبعاً سمع سے بمعنی پیچھے چلنا۔ مطیع و فرمانبردار ہونا۔
يبن: بنى بنياً و بناءً ضرب سے بمعنی گھر تعمیر کرنا۔ زمین کو آباد کرنا اس میں گھر بنانا۔
اشتری: شرى شِرَاءً ضرب سے بمعنی خریدنا۔ بیچنا سمع سے بمعنی بجلی چمکنا۔
غلولا: غَلَّ غُلُولاً نصر سے بمعنی خیانت کرنا۔
فلزقت: لزق لزوقاً سمع سے بمعنی چمٹنا۔ چپکنا۔
ضعفنا: ضعف ضعفاً نصر سے اور ضعف ضعافة کمزور ہونا۔ فتح سے زیادہ کرنا۔
عجزنا: عجز عجزاً ضرب سے اور عجز عجوزاً سمع سے بمعنی عاجز ہونا قادر نہ ہونا۔
تشریح: ”غزا نبى من الانبياء صلوات الله و سلامه عليهم“ انبیاء میں سے ایک نبی نے جہاد کیا۔ اس نبی سے مراد بقول علامہ سیوطیؒ کہ یہ یوشع بن نون علیہ السلام تھے، یہی بات حاکم نے کعب الاحبار سے نقل کی ہے۔ (1)
دین کا کام یکسوئی کے ساتھ کرنا چاہئے
”فقال لقومه لا يتبعنى رَجُلٌ مَلَكَ بضع امرأة“ میرے ساتھ وہ شخص نہ نکلے جس نے کسی عورت سے نکاح کیا ہو۔
حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے چند قسم کے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے سے روک دیا کیونکہ جب آدمی کا دل کسی چیز میں اٹکا ہوا ہوتا ہے تو اس چیز کے علاوہ کسی اور کام میں آدمی کی طبیعت نہیں لگتی اور ان جیسے لوگوں کو لشکر میں شریک کیا جاتا تو وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دشمن کا مقابلہ نہیں کرتے اور یہ تو ظاہر ہے جہاد میں تو آدمی کو اپنا جوش جذبہ دکھانا ہوتا ہے۔ (1)
کیا سورج کسی کے لئے رکا ہے؟
”فقال للشمس إنك مأمورة و انا مامور اللهم احبسها علينا“ اس نبی نے سورج کو مخاطب کر کے فرمایا تو بھی اللہ کی طرف سے مامور ہے اور میں بھی اللہ کی طرف سے مامور ہوں، اے اللہ اس سورج کو ہم پر روک دے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یوشع بن نون علیہ السلام کے لئے سورج کو غروب ہونے سے روک دیا گیا تاکہ غروب سے پہلے پہلے فتح ہو جائے۔ مواہب لدنیہ کی روایت کے مطابق آپ ﷺ کو بھی یہ معجزہ آپ ﷺ کی زندگی میں دو مرتبہ دیا گیا۔ (1)
سورج غزوہ خندق کے دن جنگ کی وجہ سے غروب ہو گیا مگر آپ کی دعا کی وجہ سے سورج کو واپس کر دیا گیا، آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔ (2)
يَارَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا ٭ عَلٰی حَبِیْبِكَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّهِمِ
اُمت محمدیہ پر مال غنیمت حلال ہے
"فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ يَعْنِى النَّارُ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا" پس اس نے غنیمتیں جمع کیں اور اسے کھانے کے لئے آگ آئی لیکن اسے نہیں کھایا۔
پہلی اُمم میں یہ دستور تھا کہ جب ان کو مال غنیمت ملتا تو اس کو ایک میدان میں جمع کر دیتے۔ اگر وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوتا تو آسمان سے آگ آتی اور اس کو جلا دیتی اور اگر عنداللہ مقبول نہ ہوتا تو آگ اس کو نہیں جلاتی۔ مال غنیمت کو استعمال کرنے کی اُمم سابقہ کو اجازت نہیں تھی، یہ اس اُمت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ اس کے لئے اللہ نے مال غنیمت کو حلال کردیا۔ (3)
جیسے کہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے:
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِاَحَدٍ مِّنْ قَبْلِنَا ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ رَاٰى ضُعْفَنَا وَ عَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا. (4)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا پس مال غنیمت کا مال ہم سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں کمزور عاجز دیکھا تو اس کو ہمارے لئے حلال قرار دیا۔
تخریج حدیث: صحيح بخاری كتاب الجهاد (باب قول النبىﷺ احلت لكم الغنائم) و كتاب النكاح (باب من احب النساء قبل الغزو). صحيح مسلم كتاب الجهاد (باب تحليل الغنائم لهذا الامة خاصة) و اخرجه احمد فى مسنده 8245/3، والبيهقى 390/6، و ابن حبان 4807.
کاروبار میں سچ کی برکت
(59) السَّادِسُ : عَنْ أَبِيْ خَالِدٍ حَكِيْمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ : اَلْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ، فَإِنْ صَدَقَا وَ بَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِيْ بَيْعِهِمَا ، وَ إِنْ كَتَمَا وَ كَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
ترجمہ: چھٹی حدیث : ”حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بائع ، مشتری جب تک جدا نہ ہوں اختیار باقی رہتا ہے ، اگر وہ دونوں سچ بولیں اور کھول کر وضاحت کردیں تو ان کے کاروبار میں برکت ہوگی اور اگر (عیب کو) چھپائیں کذب بیانی سے کام لیں تو ان کے کاروبار کی برکت ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔“
لغات: ❖ البيعان: باع يبيع مبيعاً ضرب سے بمعنی بیچنا۔ خریدنا صفت بائع۔ جمع باعة صفت مفعولى۔ مبيع۔ بايعہ مبایعۃ کسی سے خریدوفروخت کا معاملہ کرنا۔
❖ الخيار: خار خيرة وخيراً ضرب سے بمعنی ایک شئی کو دوسری پر فضیلت دینا۔ برتری دینا منتخب کرنا۔ اور اسی سے ہے اللّٰهُمَّ خِرْلِيْ۔ اے اللہ میرے لئے دونوں امروں میں سے بہتر انتخاب فرما۔ الخیار پسندیدگی کہتے ہیں ۔ انت بالخیار تم جو چاہو پسند کرو۔
❖ يتفرقا: فرق فرقا و فرقاناً نصر اور ضرب بمعنی جدا کرنا۔ فرق تفریقاً تقسیم کرکے جدا جدا کرنا۔
❖ كتما: كتم كتمًا و كتمانًا. نصر سے بمعنی چھپانا۔ کسی چیز کو پوشیدہ کرنا۔ بعض اوقات کتم دو مفعولوں کے ساتھ متعدی ہوتا ہے جیسے کتمت زیدا الحدیث میں نے زید سے بات چھپائی ، مفعول اول میں مِنْ بھی بڑھایا جاتا ہے جیسے کتمت من زیدالحدیث ۔
❖ محقت: محق محقًا فتح سے بمعنی مٹانا۔ باطل کرنا۔ برکت کھولنا۔
تشریح: بائع اور مشتری کو کب تک اختیار باقی رہتا ہے؟
"الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَالَمْ يَتَفَرَّقَا." "بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں اختیار باقی رہتا ہے۔"
اس حدیث پاک میں فرمایا جارہا ہے کہ خریدوفروخت میں بائع ومشتری دونوں کی مکمل رضامندی ہونی چاہئے۔
"لَا تَأْكُلُوْا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ" (1)
(Reference: Surah An-Nisa, Ayat 29)
جب بائع و مشتری دونوں نے ایجاب و قبول کرلیا تو رضامندی متحقق ہوگی لہٰذا اب ایک دوسرے کا مال حلال ہوگیا تو حدیث بالا کا بھی مطلب یہ ہے کہ بائع ومشتری دونوں کو چیز کے رد کرنے کا اختیار ہوتا ہے جب تک کہ بائع ومشتری دونوں ایجاب و قبول سے فارغ نہ ہوجائیں، جب بائع ومشتری ایجاب وقبول سے فارغ ہوگئے تو اب اختیار ختم ہوجائے گا۔
بائع مبیع کے عیب کو ظاہر کردے
فَانْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُوْرِكَ لَهُمَا فِىْ بَيْعِهِمَا. اگر وہ سچ بولیں اور چیز کے (عیب) کو بیان کردیں تو اس سودے میں برکت ڈالدی جاتی ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ اگر وہ عیب کو بیان نہ کرے تو اس پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْاَسْقَعِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ بَاعَ عَيْبًا لَمْ يُنَبِّهْ لَمْ يَزَلْ فِى مَقْتِ اللّٰهِ اَوْ لَمْ تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُهُ. (ابن ماجه)
ترجمہ: واثلہ بن الاسقع کہتے ہیں کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ سے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی عیب دار چیز کو اس طرح بیچے کہ اس کے عیب کو نہ بیان کرے تو وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے غضب میں رہتا ہے یا یہ فرمایا کہ اس پر فرشتے ہمیشہ لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔
تخریج حدیث: صحيح البخارى كتاب البيوع (باب بين البيعان و لم يكتما و نصحا) و صحيح مسلم كتاب البيوع (باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين) اخرجه امام احمد فى مسنده 15314/5 ، مصنف ابن ابى شيبة 124/7 الدارمى 250/2 ، والطيالسى 1316 ، ابن حبان 4904.