Page 277
روضة الصالحین جلداول
(9) بَابٌ فِي التَّفَكُّرِ فِي عَظِيْمِ مَخْلُوْقَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَ فَنَاءِ الدُّنْيَا وَ أَهْوَالِ الْآخِرَةِ وَسَائِرِ أُمُوْرِ هِمَا وَتَقْصِيْرِ النَّفْسِ وَتَهْذِيْبِهَا وَحَمْلِهَا عَلَى الْاِسْتِقَامَةِ
اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات میں غور وفکر کرنے، دنیا کے فنا ہونے، آخرت کی ہولناکیوں اور دنیا و آخرت کے تمام امور، نفس کی کوتاہی اور اس کی اصلاح وتہذیب اور اس کو استقامت پر آمادہ کرنے کا بیان
اللہ کی مخلوق کی عظمتوں کے بارے میں غور وفکر کا بیان
قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا﴾ (سبا: 46)
ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”میں تمہیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم خدا کے لئے دو دو اور اکیلے اکیلے کھڑے ہو جاؤ اور غور کرو۔“تشریح: اس آیت میں اہل مکہ پر حجت تمام کرنے کے لئے ان کو ایک درمیانی راہ بتائی جارہی ہے کہ تم ایک کام کرو کہ خود اس نبی ﷺ کے بارے میں عقل سے سوچو کہ یہ سچا ہے یا جھوٹا۔ (1)
Page 278
روضة الصالحین جلداول
تَقُوْمُوْا: اس سے مراد کھڑا ہونا نہیں ہے بلکہ یہ ایک محاورہ ہے کہ کام کا پورا اہتمام کرو، غور کرنے کے دو طریقے ہو سکتے ہیں:
خلوت و تنہائی میں خود غور کرنا اور سوچنا۔
اپنے احباب واکابر سے مشورہ کرنا۔ مگر اس میں ایک بات یہ کہی گئی ہے کہ مثنی: دو، دو ہو یعنی زیادہ ہجوم نہ ہو کیونکہ جب زیادہ لوگ ہوں گے پھر بھی آدمی کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتا (2) مگر اس میں ایک شرط لگائی گئی ہے کہ للہ کہ یہ اللہ کے لئے ہو اس کو راضی کرنے کے لئے اور پچھلے خیالات وعقائد سے خالی الذہن ہو کر حق کی تلاش کریں تو ضرور ان کو حق مل جائے گا۔ اور ان کی عقل ضرور اسی بات کی گواہی دے گی کہ یہ نبی کوئی پاگل اور دیوانہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے چالیس سال اسی قوم کے اندر گزرے، وہ اس کے ایک ایک عمل کو جانتے ہیں، پھر ایک دم وہ کلمۂ توحید ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ“ کی دعوت دیتے ہیں تو لازماً یہ وحی کے ذریعہ سے ہوگا۔ (3)
(1) تفسیر ابن کثیر 551/3(2) تفسیر معارف القرآن 310/6(3) تفسیر مظہری 78/9
کائنات میں غور وفکر کا بیانوَقَالَ تَعَالَى: ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ﴾ (آل عمران: 190، 191)ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ اے پروردگار! تو نے اس (مخلوق) کو بے فائدہ پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے۔“
شان نزولحضرت عطاء بن رباحؒ ایک موقع پر حضرت عائشہؓ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ ﷺ کی کوئی عجیب بات جو آپ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتلائے۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی تمام شان ہی عجیب تھی ہاں ایک عجیب بات یہ
Page 279
روضة الصالحین جلداول
ہے کہ ایک رات آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میرے ساتھ لیٹ گئے اور فرمایا کہ مجھے اجازت دو کہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں، پھر آپ ﷺ بستر سے اٹھے وضو فرمایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، قیام فرمایا، اس قدر روئے کہ آنسو سینہ مبارک پر بہنے لگے پھر رکوع فرمایا اس میں بھی روئے، سجدہ کیا اس میں روئے، یہاں تک کہ صبح بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور نماز کی اطلاع دی۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ ﷺ اس قدر روئے حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ اور میں کیوں نہ روتا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آج رات ہی مجھ پر یہ آیات نازل فرمائی: ”إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ الخ“ (1)وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ : تفکر کہتے ہیں کسی چیز کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنے کو، اس آیت سے معلوم ہوا کہ غور وفکر کرنا یہ بھی عبادت ہے، اسی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تَفَكُّرُ سَاعَةٍ خَيْرٌ مِنْ قِيَامِ لَيْلَةٍ“ ایک گھڑی کی غور وفکر پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے غور وفکر کو افضل عبادت فرمایا ہے، حضرت حسن بن عامرؒ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایمان کا نور اور روشنی غور وفکر ہے، سفیان بن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ غور وفکر ایک نور ہے جو ترے دل میں داخل ہو رہا ہے۔ بشر حافیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت میں تفکر کرتے تو معصیت و نافرمانی نہ کر سکتے۔ (2)
(1) تفسیر معارف القرآن 261/2(2) تفسیر ابن کثیر 374/1
عقل والوں کے لئے مثالیںقَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ﴾ (غاشية: 17 تا 21)ترجمہ: نیز فرمایا: ”یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب پیدا کئے گئے ہیں اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کئے گئے ہیں اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی، تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔“تشریح: أَفَلَايَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ : علامہ قتادہؒ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی چیزوں کے اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا۔ اور انہوں نے اس کی تکذیب کی تو اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یا جب ”سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ“ نازل ہوئی تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ ان بلند تختوں پر ہم کیسے بیٹھیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
إِلَى الإِبِلِ : اونٹ پر غور کرنے کو کہا گیا کہ جو اس اونٹ پر غور کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو بھی آسانی سے سمجھ سکے گا، اونٹ کتنا عظیم الجثہ جانور ہے اور اس اونٹ سے عربوں کی مناسبت بھی بہت تھی عموماً غریب سے غریب آدمی بھی اس کو پالتا تھا، تو کہا جا رہا ہے اونٹ بھی تو اونچا جانور ہے مگر اس پر چڑھنے کے لئے سیڑھی لگانا نہیں پڑتی۔ قدرت نے اس کے پاؤں میں دو گھٹنے دے دیئے یعنی ہر پاؤں میں دو گھٹنے بنا دیئے کہ وہ اس کو طے کر کے بیٹھ جاتا ہے اس وجہ سے اس پر چڑھنا اور اترنا آسان ہو جاتا ہے اسی پر جنت کو بھی قیاس کرلو۔ (2)وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ : پانی کو زمین پر بہایا گیا تو وہ ہلنے لگی تو اس پر پہاڑوں کو کھڑا کر دیا گیا تا کہ وہ جم جائے اس میں منافع بھی رکھ دیئے۔ (3)وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ : کہ زمین کو کس طرح بچھایا گیا یہی حالت جنت کی مسندوں کی ہوگی۔ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ میرے سوا کوئی اونٹ کی طرح پیدا کر سکتا ہے؟ اور آسمان کی طرح کوئی بلند کر سکتا ہے اور پہاڑوں کی طرح جما کر سکتا ہے اور زمین کی طرح بچھا سکتا ہے۔ (4)فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ : کہ ان چیزوں پر غور کرو، آپ ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ کے ذمہ تبلیغ و نصیحت کرنا ہے ان کا حساب کتاب اور جزا و سزا سب ہمارا کام ہے۔ (5)
(1) تفسیر مظہری 391/12(2) تفسیر معارف القرآن 332/8(3) تفسیر ابن کثیر 538/4(4) تفسیر مظہری 393/12(5) تفسیر معارف القرآن 334/8، وابن کثیر 538/4
اپنا محاسبہ کرنا ضروری ہےوَقَالَ تَعَالَى: ﴿أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الاَرْضِ فَيَنْظُرُوا.. الآية﴾ (محمد: 10)وَالْآيَاتُ فِي الْبَابِ كَثِيرَةٌ. وَمِنَ الْأَحَادِيثِ الْحَدِيثُ السَّابِقُ: ”الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ“ترجمہ: نیز فرمایا: ”کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے۔ اس مضمون کی آیات کثرت کے ساتھ موجود ہیں اور احادیث سے گذشتہ ابواب میں مذکورہ حدیث کہ سمجھ دار وہ انسان ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے باب کے مضمون کے موافق ہے۔“تشریح: علماء تاریخ فرماتے ہیں کہ عرب میں چلنے پھرنے کا رواج نہیں تھا اس آیت میں اہل مکہ کو خطاب فرما کر کہا جا رہا ہے استفہام انکاری کے طور سے کہ تم نے قوم عاد وثمود کی بستیاں کیا نہیں دیکھی وہ تو مکہ کے قریب ہی ہیں کہ ان کے مضبوط مضبوط قلعوں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعہ سے کیسے اکھاڑ پھینکا۔ ان سے عبرت حاصل کرو وہ خود بھی مضبوط تھے اور ان کے مقامات بھی بہت ہی مضبوط تھے جب اللہ کا عذاب آیا تو نہ وہ بچ سکے اور نہ ہی ان کے مکانات ان کو پناہ دے سکے۔ (1)(1) تفسیر قرطبی