Page 281
روضة الصالحین جلداول
(10) بَابٌ فِي الْمُبَادَرَةِ إِلَى الْخَيْرَاتِ، وَحَثِّ مَنْ تَوَجَّهَ لِخَيْرٍ عَلَى الْإِقْبَالِ عَلَيْهِ بِالْجِدِّ مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍنیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے
نیکیوں کی طرف آمادہ ہونے کے بارے میںقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ﴾ (بقره: 148)ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔“تشریح: اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا مختلف قوموں کے مختلف قبلوں میں کوئی ایک دوسرے کے قبلہ کو تسلیم نہیں کرتا ہر ایک اپنے ہی قبلہ کو حق کہتا تھا، تو اب اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اپنے قبلہ (مکہ) کو حق ہونے کو ان مشرکین کو سمجھانا جب کہ وہ عناد پر ہو کوئی فائدہ نہیں اصل کام میں لگ جاؤ، وہ کام ہے نیک کاموں میں دوڑ دھوپ اور آگے بڑھنے کی کوشش۔ کیونکہ فضول بحثوں میں وقت ضائع کرنا اور ”مُسَابَقَت إِلَى الْخَيْرَاتِ“ میں سستی کرنا عموماً آخرت سے غفلت کے سبب ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو اپنی آخرت اور انجام کی فکر درپیش ہو وہ کبھی بھی فضول بحثوں میں نہیں الجھتے بلکہ وہ تو اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ (1)(1) تفسیر معارف القرآن 389/1، وتفسیر مظہری 251/1
نیک اعمال کی طرف سبقت کے بیان میںوَقَالَ تَعَالَى: ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾ (آل عمران: 133)
Page 282روضۃ الصالحین جلد اول
ترجمہ: نیز فرمایا: ”دوڑو اپنے پروردگار کی بخشش اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے جو ڈرنے والوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔“تشریح: ”وَسَارِعُوْا إِلَى مَغْفِرَةٍ“ ”مغفرت“ سے یہاں پر مراد اسباب مغفرت ہے، اس کی مفسرین نے مختلف تعبیریں فرمائی ہیں مثلاً ابن عباسؓ نے فرمایا مراد اسلام ہے، حضرت عکرمہؒ کے بقول توبہ رجوع الی اللہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک ادائے فرض ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مراد نماز کی تکبیر اولیٰ ہے، بقول ضحاکؒ جہاد ہے، ان تمام اقوال سے مقصود اعمال صالحہ ہیں جو مغفرت الٰہی کا باعث اور سبب بنتے ہیں۔ (1)”عَرْضُهَا السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ“: یہ کلام بطور تمثیل کے ہے حقیقت میں مراد نہیں ہے کیونکہ عام لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ وسعت زمین و آسمان کی ہوتی ہے اس لئے اس سے تعبیر کر دیا گیا حالانکہ جنت کی وسعت تو اس سے بھی بہت زیادہ ہوگی، جب جنت کا عرض اتنا لمبا ہے تو اب اس کے طول کا حال خدا جانے کتنا ہوگا۔ بعض لوگوں نے عرض کو طول کے مقابلہ میں نہیں کہا بلکہ عرض کو ثمن یعنی قیمت کے معنی میں لیا ہے۔ (2) جیسے امام رازیؒ فرماتے ہیں۔إِنَّ الْعَرْضَ هٰهُنَا مَايُعْرَضُ مِنَ الثَّمَنِ فِيْ مُقَابَلَةِ الْمَبِيْعِ أَيْ ثَمَنُهَا لَوْ بِيْعَتْ كَثَمَنِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَالْمُرَادُ بِذٰلِكَ عَظِيْمُ مِقْدَارِهَا وَجَلَالَةُ خَطَرِهَا وَإِنَّهُ لَا يُسَاوِيْهَا شَيْءٌ وَإِنْ عَظُمَ.ترجمہ: ”ابو مسلمؒ کہتے ہیں کہ عرض سے مراد آیت میں وہ چیز ہے جو مبیع کے مقابلہ میں بطور قیمت پیش کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض جنت کی قیمت لگائی جائے تو سارا آسمان و زمین کے بقدر قیمت ادا کرنی ہوگی یہ جنت کی عظمت اور جلالت کی قدر کا بیان ہے۔“ (3)(1) زاد المسیر 29/2۔ تفسیر معارف القرآن 181/2(2) تفسیر مظہری 363/2، وتفسیر معارف القرآن 182/2(3) تفسیر کبیر۔ وزاد المسیر 29/2
نیک اعمال کرنے میں جلدی کرنے کے بیان میں
وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ:(87) فَالْاَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ فَسَتَكُوْنُ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِيْ كَافِرًا أَوْ يُمْسِيْ مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيْعُ دِيْنَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا.“ (رواه مسلم)ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک کاموں کے کرنے میں جلدی کرو عنقریب تاریک رات کے حصوں کے مانند فتنے رونما ہوں گے، صبح کے وقت آدمی ایماندار ہے تو شام کو کافر ہو جائیگا اور شام کو ایماندار ہے تو صبح کو کافر ہو جائے گا، دنیا کے مال و متاع کے لئے دین کو فروخت کر دے گا۔“لغات:
بادروا: بادر مبادرة مفاعلہ ہے کسی چیز کی طرف لپکنا، جلدی کرنا۔
قطع: قطع قطعاً فتح سے بمعنی کاٹنا، علیحدہ و جدا کرنا۔
بعرض: العرض بمعنی اسباب، سامان جمع عروض۔تشریح: بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ: نیک کاموں میں جلدی کرو۔اس میں ترغیب ہے کہ آدمی اپنی مشغولیت اور معذوریت کے آنے سے پہلے پہلے نیک اعمال کر لے۔ (1)
عنقریب ہولناک فتنے ہوں گےفَسَتَكُوْنُ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ: عنقریب تاریک رات کے حصوں کے مانند فتنے رونما ہوں گے۔اس میں قرب قیامت کی علامت کا بیان ہے کہ قیامت کے قریب پے در پے فتنوں کا ظہور ہوگا اور وہ فتنے ایسے ہولناک ہوں گے کہ آدمی اپنے دین و ایمان کو بھی بھول جائے گا پھر دنیا کے حاصل کرنے کی دوڑ میں ایسا لگے گا کہ دنیوی مفادات کے حاصل کرنے کے لئے اپنے دین و ایمان کا بھی سودا کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں کرے گا، ایسے حالات میں جناب رسول اللہ ﷺ ایمان والوں کو تلقین فرمارہے ہیں کہ ایسے وقت میں اعمال صالحہ میں تاخیر نہ کرنا بلکہ اس کو جلدی سے جلدی کرنے کی کوشش کرنا۔تخریج حدیث: اخرجه مسلم کتاب الایمان (باب الحث على المبادرة بالاعمال قبل تظاهر الفتنة) تحفة الاشراف 13990۔نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) روضۃ المتقین 133/1
نبی کریم ﷺ کا صدقہ میں جلدی کرنا
(88) الثَّانِي: عَنْ أَبِيْ سِرْوَعَةَ (بكسر السين المهملة وفتحها) عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِيْنَةِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَرَأَى أَنَّهُمْ قَدْ عَجِبُوْا مِنْ
Page 284روضۃ الصالحین جلد اول
سُرْعَتِهِ، قَالَ: ”ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِيْ، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ“ (رواه البخاري)وَفِيْ رِوَايَةٍ لَّهُ: ”كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ“، ”التِّبْرُ“ قِطَعُ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ.ترجمہ: ”حضرت ابو سروعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (سین کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز ادا کی آپ ﷺ نماز سے سلام پھیر کر تیزی سے کھڑے ہو گئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی کسی عورت کے حجرے میں تشریف لے گئے اور لوگ آپ ﷺ کی تیزی دیکھ کر گھبرا گئے، چنانچہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو محسوس کیا کہ لوگ میری تیزی سے سخت متعجب ہیں، آپ نے فرمایا مجھے خیال گزرا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی ہے، تو میں نے اس کے بند رکھنے کو معیوب جانا اور اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا۔“بخارى کی ایک روایت میں ہے صدقات سے گھر میں سونے کا ایک ٹکڑا رہ گیا تھا اس کا میرے گھر میں رات بھر رہنا مجھے ناگوار گزرا۔”التبر“ سونے یا چاندی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔لغات:
وراء: وَرَاءَ الْإِنْسَانِ بمعنی پیچھے یا آگے مذکر و مونث ہے اور یہ سوی کے معنی بھی دیتا ہے جیسے کہتے ہیں: ”مَنْ ابْتَغَى وَرَاءَ ذٰلِكَ“ جو شخص اس کے سوا طلب کرے۔
تخطی: تخطی تخطیا بمعنی آگے گزر جانا، سبقت کرنا۔
رقاب: جمع ہے الرقبۃ کی بمعنی گردن یا اس کے پیچھے کا حصہ (گدی)
فزع: فزع فزعاً سمع سے بمعنی دہشت زدہ ہونا، خائف ہونا۔
سرعته: سرع سرعة سمع سے بمعنی جلدی کرنا۔
تبر: التبر بمعنی سونے کا ڈھیلا جو نہ ڈھلا ہوا ہو، واحد تبرة آتا ہے۔
تشریح: ضرورت کے وقت لوگوں کی گردنیں پھلانگنا جائز ہےفَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلَى بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهِ: ”آپ ﷺ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے کسی بیوی کے حجرے میں تشریف لے گئے“ علماء نے لکھا ہے عام حالات میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آنا جانا ناپسندیدہ عمل کہا گیا ہے لیکن خاص حالات میں کسی خاص ضرورت کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہے۔ اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو سلام پھیرنے کے فوری بعد اٹھ سکتے ہیں۔ (1)
Page 285روضۃ الصالحین جلد اول
ففزع الناس من سرعته: لوگ آپ ﷺ کی اس تیزی کو دیکھ کر گھبرا گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عموماً آپ ﷺ سکون اور آرام سے چلتے تھے اس روز آپ ﷺ جلدی میں تشریف لے گئے تو ضرورت کی وجہ سے جلدی چلنا جائز ہے۔ ابن عربیؒ فرماتے ہیں اعتدال کی چال چلنا یہ سنت ہے زیادہ آہستہ یا زیادہ تیز چلنا یہ پسندیدہ نہیں ہے۔ (2)تخریج حدیث: اخرجه احمد (16151) صحيح البخاري كتاب الآذان (باب من صلى بالناس فذكر حاجة فتخطا هم.
راوی حدیث حضرت عقبہ بن الحارث کے مختصر حالات:نام: عقبہ، کنیت ابوسروعۃ، والد کا نام حارث تھا، ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے عقبہ بن الحارث بن عامر بن نوفل بن عبدمناف بن قصی القرشی، النوفلی، علامہ نوویؒ نے ان کی کنیت ابوسروعۃ کہی ہے باقی اسماء الرجال والے فرماتے ہیں ابوسروعۃ ان کے بھائی کا نام ہے فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے، عقبہ بن الحارث سے بخاری شریف میں تین روایات ہیں۔(1) روضۃ المتقین 134/1 (2) روضۃ المتقین 134/1
دخول جنت کے شوق میں جلدی کرنا
(89) الثَّالِثُ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: ”فِي الْجَنَّةِ“ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. (متفق عليه)ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا؟ فرمایا جنت میں، چنانچہ اس نے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں پھر لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔“لغات:
أين: اسم ظرف ہے کہاں کے معنی دیتا ہے جیسے کہیں این یوسف؟ یوسف کہاں ہے اور معنی شرط کو متضمن ہو کر دو فعلوں کو جزم دیتا ہے خواہ ما: اس کے ساتھ ملحق ہو یا نہ ہو جیسے ”این یا اینما تقف اقف“ تو جہاں کھڑا ہوگا میں بھی کھڑا ہوں گا۔
تمرات: بمعنی خرما، واحد تمرۃ جمع تمرات و تمور و تمران آتی ہیں۔
تشریح: صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنت کا شوققَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ يَوْمَ أُحُدٍ: آدمی سے مراد حضرت عمرو بن الحمام بن الجموح بن حرام الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔فَأَيْنَ أَنَا؟ کہ اگر میں اس غزوہ احد میں شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا؟قَالَ فِي الْجَنَّةِ: فرمایا جنت میں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کتنا شوق شہادت اور شوق جنت تھا۔
قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ: لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جو شخص سچے دل سے شہادت کا طالب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور اس کو شرف شہادت نصیب فرما دیتے ہیں۔ (1)تخریج حدیث: اخرجه احمد و بخارى كتاب المغازی (باب غزوة احد)، مسلم كتاب الامارة (باب ثبوت الجنة للشهيد) رواه ابن حبان 4653، و البيهقي 43/9۔نوٹ: راوی حدیث حضرت جابر بن عبداللہ کے حالات حدیث نمبر (4) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔(1) روضۃ المتقین
کس صدقہ میں زیادہ ثواب ہے؟
(90) الرَّابِعُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: ”أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيْحٌ شَحِيْحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَى، وَلَا تُمْهِلُ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ. قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا وَ لِفُلَانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ“ (متفق عليه)”الحلقوم“: مَجْرَى النَّفَسِ. وَالْمَرِيءُ“: مَجْرَى الطَّعَامِ وَ الشَّرَابِ.ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس قسم کے صدقہ کا ثواب زیادہ ہے؟ فرمایا تندرستی، بخل کی موجودگی، افلاس کے ڈر اور غنا کی امید کی حالت میں صدقہ خیرات کرنا اور صدقہ کرنے میں سستی نہ کیجئے یہاں تک کہ جب سانس حلق کی طرف آنے لگے تو پھر تو کہنا شروع کرے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا۔“حلقوم: سانس کی گزرگاہ۔ المریء: کھانے پینے کی گزرگاہ۔لغات:
صحیح: بمعنی تندرست عیب سے پاک، قابل اعتماد جمع اصحاء و صحاح و اصحة۔
شحیح: بمعنی بخیل حریص۔ جمع شحاح و اشحة۔
الحلقوم: گلا جمع حلاقیم۔
تشریح: کون سے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہےجَاءَ رَجُلٌ: ایک آدمی آیا۔ اس کے نام کے بارے میں بھی محدثین خاموش ہیں، ابن حجرؒ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہو۔
أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا: کس قسم کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے، دوسری روایت میں ہے "أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ"۔
أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ: کہ تم تندرست اور بخل کی موجودگی اور افلاس کے ڈر کی حالت میں ہو ایک دوسری روایت میں ہے "وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ"۔ "کہ آدمی اپنی صحت اور تندرستی کی حالت میں تھوڑا سا بھی مال صدقہ کرے یہ افضل ہے کیونکہ صدقہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور توکل کے ساتھ کرے گا اس کو معلوم ہے کہ ہو سکتا ہے اس مال کی کل اس کو ضرورت پیش آ جائے۔ اس کے باوجود وہ صدقہ کر رہا ہے۔
تندرستی میں صدقہ دینے کی فضیلت
وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ كَذَا وَلِفُلَانٍ كَذَا۔ "سستی نہ کریں یہاں تک سانس حلق میں چلی جائے پھر کہنے لگے کہ فلاں کو اتنا فلاں کو اتنا" اس میں ترغیب ہے کہ موت تک سستی نہ کی جائے جس وقت خیال آئے اسی وقت صدقہ کر دے۔ ایک دوسری روایت میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةٍ عِنْدَ مَوْتِهِ۔ (2)
تندرستی میں ایک درہم کا صدقہ مرتے وقت کے سو درہم سے بہتر ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے۔
مَثَلُ الَّذِي يَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوْ يُعْتِقُ كَالَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ۔ (3)
ترجمہ: "اس شخص کی مثال جو اپنی موت کے وقت صدقہ کرے یا غلام آزاد کرے اس شخص کی طرح ہے جو کسی کو ایسے وقت میں تحفہ دے جب کہ اس کا پیٹ بھر چکا ہو۔"
دوسری بات یہ ہے کہ موت کے وقت میں اس کے مال میں وارثوں کا حق بن جاتا ہے بلکہ اگر وہ اس وقت میں صدقہ بھی کرنا چاہے تو صرف تہائی مال 1/3 سے زیادہ نہیں کر سکتا ہے۔
تخریج حدیث: اخرجہ بخاری کتاب الزکاۃ (باب ای الصدقۃ افضل) و کتاب الوصایا (باب الصدقۃ عند الموت) و مسلم کتاب الزکاۃ (باب بیان ان افضل الصدقۃ صدقۃ الصحیح الشحیح) اخرجہ احمد و النسائی و ابن ماجہ و ابن حبان و ابن خزیمۃ و البیهقی و مشکوۃ۔
نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے مختصر حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔
(1) فتح الباری (2) ابوداؤد شریف (3) ترمذی۔ نسائی۔ دارمی
صفحہ 288
روضۃ الصالحین جلد اول (صفحہ 288)
حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہادری
(91) ﴿الْخَامِسُ: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: "مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا؟" فَبَسَطُوا أَيْدِيَهُمْ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُولُ: أَنَا أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهِ؟" فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَبُو دُجَانَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا آخُذُهُ بِحَقِّهِ فَفَلَقَ بِهِ هَامَ الْمُشْرِكِينَ﴾ (رواه مسلم)
اِسْمُ أَبِي دُجَانَةَ: سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ. قَوْلُهُ: "أَحْجَمَ الْقَوْمُ": أَيْ تَوَقَّفُوا. وَ "فَلَقَ بِهِ": أَيْ شَقَّ، "هَامَ الْمُشْرِكِينَ": أَيْ رُؤُوْسَهُمْ.
ترجمہ: "حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن تلوار اٹھائے ہوئے فرمایا کون مجھ سے یہ تلوار لیتا ہے؟ ہر شخص نے تلوار لینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا مجھے دیجئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لیتا ہے؟ اس پر تمام لوگ رک گئے، حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں لیتا ہوں اس کے حق کے ساتھ، چنانچہ اس نے تلوار کو پکڑا اور اس کے ساتھ مشرکوں کی گردنیں کاٹ ڈالیں۔" (مسلم)
ابودجانہ کا نام سماک بن خرشہ ہے۔
اَحْجَمَ الْقَوْمُ: کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے توقف کیا فَلَقَ پھاڑا، چیرا "ھام المشرکین": مشرکوں کے سر یعنی کھوپڑیاں۔
لغات:
❖ فاحجم: المحاجم ڈرنے کا خوگر۔ خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹنے والا۔
❖ ففلق: فلق فلقاً ضرب سے بمعنی پھاڑنا۔
❖ ھام: الھامۃُ بمعنی ہر چیز کی چوٹی سر دھڑ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے جمع ھام و ھامات۔
تشریح: آپ ﷺ کی تلوار کو ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لے لیا
فاحجم القوم: لوگ رک گئے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں رکے بلکہ اس لئے رکے کہ کہیں اس کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو جائے، شروع میں تو آپ ﷺ نے بغیر شرط کے اس تلوار کو دینے کا اعلان فرمایا تھا تو ہر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لینے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ مگر جب شرط لگائی تو اب اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں آپ ﷺ کی منشاء پوری نہ ہو اس لئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم رک گئے اور ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو لے لیا۔
اس کے بعد بعض روایات میں آتا ہے کہ ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تلوار کو لے کر ایک سرخ پٹی نکالی اور اس پٹی کو...
صفحہ 289
روضۃ الصالحین جلد اول (صفحہ 289)
سر پر باندھ لیا اور انصار نے کہا کہ ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے، اس کے بعد ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ کی، جو بھی سامنے آتا تھا وہ قتل ہو جاتا تھا۔ (1)
اور ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے ؎
أَنَا الَّذِي عَاهَدَنِي خَلِيـلِي *** وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيـلِ
أَقُومُ الدَّهْرَ فِي الْكُيُولِ *** أَضْرِبُ بِسَيْفِ اللَّهِ وَالرَّسُولِ
تخریج حدیث: مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم (باب من فضائل ابی دجانۃ سماک بن خرشۃ) واخرجہ امام احمد فی مسندہ 12237۔
نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔
(1) مسلم شریف
(2) دلیل الفالحین 1/297
قربِ نبی کا زمانہ بہتر زمانہ ہے
(92) ﴿السَّادِسُ: وَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ. فَقَالَ: "اِصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ" سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.﴾ (رواه البخاري)
ترجمہ: "حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے، ہم نے ان کے پاس حجاج کے مظالم کا شکوہ کیا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا صبر سے کام لو اس لئے کہ جو وقت آرہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جالو گے، میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے سنی ہے۔"
تشریح: آنے والا زمانہ موجودہ دور سے بھی بدتر ہوگا
لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ: اس لئے کہ جو وقت آرہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا۔ اس حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہی ہوتے جائینگے۔ اسی اعتبار سے حکمران بھی ایک دوسرے سے ظالم آتے رہیں گے، ایسے حالات میں حکمران کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی اصلاح کی فکر کرے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی سوچے اور حکمران کے ظلم پر صبر سے کام لے۔
صفحہ 290
روضۃ الصالحین جلد اول (صفحہ 290)
اس حدیث پر ایک سوال اور اس کے دو جواب
سوال: کیا ہر زمانہ پہلے والے سے برا ہوگا؟ یہ صحیح نہیں کیونکہ حجاج بن یوسف کے بعد عمر بن عبدالعزیزؒ کا زمانہ آیا اور بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؒ کا زمانہ آئے گا۔ یہ زمانے تو اچھے ہوں گے۔
اس سوال کے کئی جوابات محدثین نے دیئے ہیں۔ مثلاً:
پہلا جواب: اس حدیث کو اکثریت پر محمول کریں گے کہ اکثر ایسا ہی ہوگا کہ بعد کا زمانہ پہلے سے برا ہوگا۔
دوسرا جواب: بعض نے جواب یہ دیا کہ حجاج کے زمانے سے زمانہ دجال تک کا زمانہ مراد ہے حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کا زمانہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوگا۔
تیسرا جواب: آنے والا زمانہ برا ہی ہوگا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ مستثنیٰ ہوگا باقی زمانے کسی نہ کسی اعتبار سے اور کسی نہ کسی جگہ کے حالات یا کسی نہ کسی معاملہ میں از روئے علم و عمل کے پہلے زمانے سے بدتر ہی حالت میں ہوگا۔ (1)
تخریج حدیث: بخاری کتاب الفتن (لایاتی زمان الا الذی بعدہ شر منہ)
راوی حدیث حضرت زبیر بن عدی رحمۃ اللہ کے مختصر حالات:
نام: زبیر، والد کا نام عدی تھا یہ تابعی ہیں علامہ ذہبی الکاشف میں فرماتے ہیں۔
زبیر بن عدی الہمدانی الیامی ہے۔ یہ حضرت انسؓ سے ہی عموماً روایت لیتے ہیں، یہ مقام رے کے قاضی بھی رہے، ان کے شاگردوں میں سفیان ثوری مشہور ہیں اور 131ھ میں انتقال ہوا۔
(1) مظاہر حق جدید 4/913 - مرقاۃ 10/122، 121
سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کا حکم
(93) ﴿السَّابِعُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفْنِدًا أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهٰى وَأَمَرُّ"﴾ (رواه الترمذي وقال حديث حسن)
ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو، کیا تم ایسی فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی یا ایسی دولت مندی جو سرکش بنا دے گی یا ایسی بیماری، جو مزاج کو فاسد بنا دے گی یا ایسا بڑھاپا، جس میں عقل باقی نہ رہے یا ایسی موت، جو اچانک آجائے یا دجال کا (یاد رکھو) دجال شدید ترین نظروں سے…
صفحہ ۲۹۱
روضۃ الصالحین جلد اول | ۲۹۱
اوجھل کر سکتا ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے یا قیامت کا اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔“
لغات:
منسیاً: نسی نسیاً و نسیاناً سمع سے بمعنی چیز کو بھولنا۔
مطغیاً: طغی و اطغی بمعنی سرکش بنانا، سرکشی پر اکسانا۔
ہرماً: ہرم ہرماً سمع سے بمعنی بہت بوڑھا۔ کمزور ہونا۔
مفنداً: فند فنداً سمع سے بمعنی ستھیانا، بڑھاپے کی وجہ سے ضعیف العقل ہونا۔
مجھزاً: بمعنی ناگہانی موت۔
تشریح: فقیری میں، آدمی اللہ کو فراموش کر دیتا ہے
الافقراً منسیاً: ”ایسی فقیری کے انتظار میں جو خدا فراموشی کر دے“ مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہو اسی حالت میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کرے، ایسا نہ ہو کہ اگر وہ فقر میں مبتلا ہے تو وہ اسی حالت کو اپنے لئے غنیمت جانے اور یہ سمجھے کہ مال و دولت کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان سے خدا نے مجھ کو بچا لیا ہے، اس وقت میں یہ موقع ہی غنیمت ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے خدا کا صابر بندہ بن جائے اگر وہ اپنے فقر کا شاکی ہو کہ مجھ کو مال و دولت مل جائے اور مال کے جمع کرنے کے پیچھے لگ جائے تو اس کا یہ مال دولت کی خواہش کرنا، سرکشی میں مبتلا اور راہِ راست سے دور کر دینے والا ہو گا تو اس کو چاہئے کہ اپنے لئے فقر کی حالت میں اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کر لے۔
اسی طرح حدیث کے دوسرے جملوں کا مطلب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ نے جس حالت میں آدمی کو رکھا ہے وہ اسی حالت میں رہتے ہوئے اللہ کی اطاعت کرے اور وہ یہ خیال کر لے کہ یہی حالت میرے لئے بہتر ہے اگر میری دوسری حالت ہو تو میں راہ راست سے دور ہو جاتا۔ (۱)
دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہو گا
اَوِالدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ یُّنْتَظَرُ: ”دجال کا انتظار کرتا رہتا ہے جو ہر غائب شر سے بدتر ہے۔“
دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہو گا جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گا جس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔
”مَا بَیْنَ خَلْقِ اٰدَمَ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ فِتْنۃٌ اَکْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ“: حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔ (۲)
اور دجال کے فتنے سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا (۳) مطلب یہ ہوا کہ آدمی نیک اعمال کرے اس سے پہلے پہلے کہ دجال نکلے۔ کیونکہ دجال بہت بڑا فتنہ ہے اس وقت میں اچھے اچھے لوگ اس کے فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے۔
فَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ: ”قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے“ قیامت کا منظر دنیا کے سب مناظر سے زیادہ کڑوا ہے۔ (۴)
(لوگو: زم زم پبلشرز)
صفحہ ۲۹۲
۲۹۲ | روضۃ الصالحین جلد اول
تخریج حدیث: ترمذی کتاب الزھد (باب ماجاء فی المبادرة بالعمل۔ ذکرہ ابن عدی فی الکامل فی الضعفاء) ٤٤٢/٦۔
نوت: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔
(۱) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ۔ مظاہر حق جدید ۷۸/۴
(۲) مسلم شریف
(۳) متفق علیہ
(۴) روضۃ المتقین ۱/ ۱۳۸
خیبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا
(۹۴) الثَّامِنُ: عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: ”لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىٰ يَدَيْهِ“ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعَىٰ لَهَا، فَدَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ: ”امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّىٰ يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ“ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، عَلَىٰ مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: ”قَاتِلْهُمْ حَتَّىٰ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ“ (رواہ مسلم)
”فَتَسَاوَرْتُ“ ھُوَ بِالسِّیْنِ الْمُھْمَلَۃِ: أَي وَثَبْتُ مُتَطَلِّعًا۔
ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز فرمایا یہ جھنڈا اس انسان کو عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے امارت کی کبھی چاہت نہ ہوئی لیکن اس روز میں نے امارت کے حصول کے لئے اپنے آپ کو بالکل تیار پایا اس امید سے میں نے گردن کو اونچا کیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا اور کہا جاؤ اور ادھر ادھر نہ جھانکنا یہاں تک کہ اللہ فتح دے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھوڑا سا چلے اور رک کر بلا التفات بلند آواز سے پکارا یا رسول اللہ ﷺ کس بات پر لوگوں سے لڑائی کروں فرمایا ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود
(لوگو: زم زم پبلشرز)
صفحہ ۲۹۳
روضۃ الصالحین جلد اول | ۲۹۳
نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پس جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو تجھ سے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حقوق کی صورتیں محفوظ نہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔“
فتساورت: (سین مہملہ کے ساتھ) میں نبی کریم ﷺ کی طرف جھانکتے ہوئے اٹھ اٹھ کر دیکھتا۔
لغات:
الرایۃ: بمعنی جھنڈا۔
الامارۃ: امر امراً و امر امارۃً سمع اور کرم سے بمعنی حاکم ہونا۔ سردار ہونا، امیر ہونا۔
فصرخ: صرخ صراخاً و صریخاً نصر سے بمعنی زور سے چیخنا، فریاد کرنا۔
تشریح: يَوْمَ خَيْبَرَ: یہ غالباً عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ کے آتے ہیں یہ مدینہ منورہ سے آٹھ منزل پر ہے بعض نے مدینہ منورہ سے دوسو (۲۰۰) میل کے فاصلہ پر بتایا ہے، یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے، یہاں یہودیوں کے نہایت مضبوط متعدد قلعے تھے، جن میں سے بعض آج تک موجود ہیں، عرب میں یہودیوں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز یہی تھا۔ یہاں کے لوگوں سے آپ ﷺ نے صلح فرمائی تھی۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت
لَاُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ: یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہو۔
اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے۔ (۱)
يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىٰ يَدَيْهِ: اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا۔
اس میں آپ ﷺ کے ایک معجزے کا تذکرہ ہے کہ خیبر کے فتح ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے اطلاع کر دی کہ کس کے ہاتھوں اللہ اس کو فتح کروائے گا۔ (۲)
اِمْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّىٰ يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ: جاؤ اور ادھر ادھر نہ متوجہ ہونا یہاں تک کہ اللہ فتح دیدے۔
اس جملہ کے دو مطلب ہیں، ایک ظاہری مطلب کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم سیدھا جلدی خیبر جاؤ، ادھر ادھر متوجہ نہ ہو بلکہ اپنا کام پورا کرنا۔
دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس جملہ میں آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترغیب دی ہے کہ جلدی پہنچ جاؤ۔ یا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمنوں سے جنگ کے بعد نہ آنا یہاں تک کہ اللہ فتح نہ دیدے۔ (۳)
لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھ لیں
قَاتِلْهُمْ حَتَّىٰ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ: ان سے لڑائی کرنا یہاں تک کہ وہ کلمہ کی گواہی دے دیں۔
(لوگو: زم زم پبلشرز)
صفحہ ۲۹۴
۲۹۴ | روضۃ الصالحین جلد اول
علماء کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ جنگ کرنے سے پہلے مشرکین کو دعوتِ اسلام دی جائے گی۔ اگر وہ قبول کر لیں تو وہ بھائی بن جائیں گے۔ اگر وہ اسلام کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا سوال کیا جائیگا اگر وہ اس سے بھی انکار کریں تو پھر ان سے جنگ کی جائیگی۔ اس حدیث سے بھی اس کی تائید ہو رہی ہے۔
فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ: اگر وہ (اسلام) کا اقرار کر لیں۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسلام کے احکام کے اجراء صرف زبان کے اقرار سے بھی ثابت ہو جائے گا اور اس کو مسلمان سمجھا جائے گا باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائیگا۔ (۴)
تخریج حدیث: مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنھم (باب من فضائل علی رضی اللہ تعالی عنہ)
نوت: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔
(۱) روضۃ المتقین ۱/ ۱۳۸
(۲) دلیل الفالحین ۱/ ۳۰۰
(۳) روضۃ المتقین ۱/ ۱۳۸ دلیل الفالحین ۱/ ۳۰۰
(۴) دلیل الطالبین ۱/ ۱۲۸