باب الحث على الإزدياد من الخير فی أواخر العمر

(۱۲) بَابُ الْحَثِّ عَلَى الْإِزْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ فِيْ أَوَاخِرِ الْعُمُرِ


آخری عمر میں نیک کاموں کے زیادہ کرنے کی ترغیب


قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّايَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ﴾ (فاطر: ۳۷)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو سوچنا چاہتا سوچ لیتا اور


[زمزم پبلشرز]

[صفحہ ۳۲۸]

روضۃ الصالحین جلد اول

تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا۔“

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَالْمُحَقِّقُوْنَ: مَعْنَاهُ: أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ سِتِّيْنَ سَنَةً؟ وَيُؤَيِّدُهُ الْحَدِيْثُ الَّذِيْ سَنَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، وَقِيْلَ: مَعْنَاهُ: ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَقِيْلَ: أَرْبَعِيْنَ سَنَةً. قَالَهُ الْحَسَنُ وَالْكَلْبِي وَمَسْرُوْقٌ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضاً. وَنَقَلُوْا: أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوْا إِذَا بَلَغَ أَحَدُهُمْ أَرْبَعِيْنَ سَنَةً تَفَرَّغَ لِلْعِبَادَةِ. وَقِيْلَ: هُوَ الْبُلُوْغُ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿وَجَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ﴾ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْجُمْهُوْرُ: هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقِيْلَ الشَّيْبُ. قَالَهُ عِكْرِمَةُ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُمَا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور محققین علماء اس آیت کا مطلب بیان کرتے ہیں ”کیا ہم نے تمہیں ۶۰ سال کی عمر نہیں عطاء کی تھی؟“ اس کی تائید آنے والی حدیث سے بھی ہو رہی ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ۸۰ سال کی عمر ہے اور بعض نے ۴۰ سال کہا ہے۔ چنانچہ حسن، کلبی، مسروق اور عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایک روایت یونہی مروی ہے اور مدینہ والوں کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان میں سے کسی کی عمر ۴۰ سال تک پہنچ جاتی تو وہ عبادت کے لئے فارغ رہتا، بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد بلوغت کی عمر ہے اور ”جَاءَ كُمُ النَّذِيْرُ“ کا معنی عبداللہ بن عباسؓ اور جمہور علماء بیان کرتے ہیں اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں لیکن عکرمہ، ابن عیینہ وغیرہ کہتے ہیں اس سے مراد بڑھاپا ہے۔ واللہ اعلم

تشریح: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمُحَقِّقُوْنَ مَعْنَاهُ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ سِتِّيْنَ سَنَةً: سے مراد ابن عباسؓ اور محققین علماء کے نزدیک ساٹھ سال کی عمر مراد ہے یہی بات ابن جریر اور طبرانی سے بھی معلوم ہوتی ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

حسن بصری، کلبی اور مسروق سے مروی ہے کہ چالیس سال کی عمر مراد ہے، ایک روایت ابن عباسؓ کی بھی چالیس کی ہے اسی طرح مجاہدؒ سے بھی یہی منقول ہے۔

علامہ قرطبیؒ فرماتے ہیں کہ ابن مالکؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے شہر کے علماء کو دیکھا ہے کہ وہ علم اور دنیا میں لگے رہتے تھے مگر جب ان کی عمر چالیس سال کی ہوتی تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اللہ کی یاد میں ہمہ تن مشغول ہوجاتے تھے۔

قِيْلَ هُوَ الْبُلُوْغُ: بعض نے بلوغ کی عمر کو بتایا، بلوغ کی عمر امام شافعیؒ اور صاحبینؒ کے نزدیک پندرہ سال ہے، اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک اٹھارہ سال ہے جب کہ کوئی علامت بلوغ نہ پائی جائے۔

نذیر: سے مراد ابن عباسؓ اور جمہور علماء کے نزدیک آپ ﷺ کی ذات مبارک ہیں اور حضرت عکرمہ اور حضرت ابن عیینہ کے نزدیک بڑھاپا ہے یہ بھی انسان کو ڈرانے کے لئے کافی ہے۔

حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے مختصر حالات:

حسن بصریؒ ان کا پورا نام ابو سعید الحسن بن ابی الحسن یسار بصری ہے، آپ زید بن ثابتؓ کے یا جمیل بن قطبہ کے آزاد کردہ غلام تھے، آپ کی والدہ

[زمزم پبلشرز]


[صفحہ ۳۲۹]

روضۃ الصالحین جلداول

خیرہ ام سلمہؓ کی آزاد کردہ کنیز تھیں، حسن بصریؒ نے بہت سے صحابہؓ کی زیارت کی۔ (تہذیب الاسماء ۱۶۱/۱)

امام ابن المدینیؒ فرماتے ہیں کہ حسن بصریؒ کی مرسلات اگر ثقہ راویوں سے مروی ہوں تو وہ صحیح ہیں، اسی طرح ابو زرعہؒ فرماتے ہیں (تہذیب التہذیب ۲۷۰/۲)

وفات: ۱۱۰ھ میں ہوئی۔

حضرت کلبیؒ کے مختصر حالات:

ان کا پورا نام ابو النضر محمد بن سائب بن بشر بن عمرو بن عبدالحارث ہے، کوفہ کے رہنے والے تھے، تاریخ، انساب اور تفسیر میں مشہور ہوئے، ان پر اہل علم نے شدید جرح کی ہے، امام احمدؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کیا کلبی کی تفسیر دیکھنا چاہئے فرمایا نہیں۔ اسی طرح حافظ ذہبیؒ فرماتے ہیں: ”لَا يَصِح ذِكْرُهُ فِى الْكُتُبِ فَكَيْفَ الاِحتجاج بِه“ کتابوں میں ان کا ذکر کرنا ہی درست نہیں تو ان سے استدلال کیونکر درست ہو سکتا ہے۔ (تہذیب التہذیب ۱۷۸،۱۸۱/۸)

وفات: ان کا انتقال ۱۴۶ھ میں ہوا۔

حضرت مسروقؒ کے مختصر حالات:

ان کی کنیت ابو عائشہ اور والد کا نام اجدع بعد میں عبدالرحمن ہوا۔ انہوں نے ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں اسلام قبول کیا یا عہد فاروقی میں، یمن کے رہنے والے تھے، مشہور جنگ قادسیہ میں شریک تھے، انہوں نے حضرت عائشہؓ، ابن مسعودؓ، عثمانؓ، علیؓ، معاذ بن جبلؓ، زید بن ثابتؓ وغیرہ سے علم حاصل کیا (تہذیب التہذیب ۱۱۰/۱۰)

ابن مسعود کے ان اصحاب میں سے تھے جس کا شغل درس و افتاء تھا۔ (تہذیب التہذیب ۱۱۰/۱۰)

وفات: ان کا انتقال ۶۳ھ میں ہوا۔

راوی حدیث حضرت عکرمہؒ کے مختصر حالات:

ابن عباسؓ کے غلام تھے، حصین بن ابی الحر العنبر ی نے ان کو حضرت ابن عباسؓ کو بطور ہدیہ کے دیا تھا۔ ابن عباسؓ نے ان کو انتہائی محنت سے تعلیم دی انہوں نے حضرت علیؓ، ابوہریرہ، ابن عمر، ابو سعید الخدریؓ سے بھی علم حاصل کیا۔ (تہذیب التہذیب ۲۶۴/۷)

انہوں نے چالیس سال حصول علم میں گزارے (تذکرۃ الحفاظ للذہبی رحمۃ اللہ علیہ، ۹۰/۱)

امام شعبیؒ فرماتے ہیں کہ عکرمہؒ سے بڑا عالم ہمارے زمانے میں کوئی نہیں۔ (تہذیب التہذیب ۲۶۶/۷)

جب ان کا انتقال ہوا تو لوگوں نے کہا: ”مَاتَ أَفْقَهُ النَّاسِ وَأَشْعَرُ النَّاسِ“ آج سب سے بڑے فقیہ اور سب سے بڑے شاعر کا انتقال ہوگیا۔

حضرت سفیان بن عیینہؒ کے مختصر حالات:

سفیان بن عیینہ غلام خاندان کے ہیں، والد کا نام عیینہ اور دادا کا نام ابو عمران میمون تھا۔ (ابن خلکان)

کوفہ میں پیدا ہوئے ۱۰۷ھ میں ۷ سال میں قرآن حفظ کر لیا اور علم دین کے حصول میں مشغول ہوئے (تہذیب الاسماء ۲۴۵/۱)

ان کے بارے میں خطیب بغدادیؒ نے ان کا قول لکھا ہے ”مَا كَتَبْتُ شَيْئاً قَطُّ إِلَّا حَفِظْتُهُ“ میں جس چیز کو بھی لکھا مجھے وہ یاد ہو جاتی (تاریخ بغداد ۱۸۲/۹)

ان کے بارے میں فرمایا گیا ”مَا فِیْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ أَتْقَنُ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ“ زھری کے تلامذہ اور اصحاب میں سے سب سے زیادہ قابل اعتماد ابن عیینہ تھے۔ (تہذیب التہذیب ۱۱۹/۴)

امام احمدؒ فرماتے ہیں قرآن کو جاننے والا میں نے ان سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا۔ (تہذیب التہذیب ۱۲۰/۴)

[صفحہ ۳۳۰]

وفات: ان کا انتقال (۱۹۸ھ) میں حرم پاک میں ہوا اور قبرستان جیحون میں مدفون ہوئے (ابن خلکان)

ساٹھ سال کے بعد کوئی عذر باقی نہیں رہتا

(۱۱۲) ﴿وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ فَالْأَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَغَ سِتِّيْنَ سَنَةً" (رواه البخاري) قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَاهُ: لَمْ يَتْرُكْ لَهُ عُذْراً إِذْ أَمْهَلَهُ هَذِهِ الْمُدَّةَ. يُقَالُ: أَعْذَرَ الرَّجُلُ إِذَا بَلَغَ الغَايَةَ فِى الْعُذْرِ.﴾

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس آدمی کو معذور جانتے ہیں جس کی عمر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ ساٹھ (۶۰) برس کو پہنچ گیا۔ علماءؒ نے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے کہا ہے جب اللہ پاک اتنی مدت اس کو مہلت دیتے ہیں تو پھر کوئی عذر باقی نہیں رہتا ہے۔ عربی کا محاورہ ہے ”اعذر الرجل“ یہ اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص عذر کے آخری مرحلہ پر پہنچ جاتا ہے۔“

لغات: ٭ اعذر: اعذر اعذاراً افعال سے بمعنی کسی کو معذور اور مجبور سمجھنا۔

٭ اجل: بمعنی مدت، وقت، موت جمع آجال۔

تشریح: أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ: اللہ تعالیٰ آدمی کو معذور جانتے ہیں کہ جب آدمی کی عمر ساٹھ سال کی ہو گئی تو اب آدمی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ کاش! کہ میری عمر زائد ہوتی تو میں یہ نیک اعمال کر لیتا۔ (۱)

نیز اس سے محدثینؒ یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اتمام حجت کے بغیر کسی شخص کو سزا نہیں دیتے ساٹھ سال کی عمر میں بھی اتمام حجت ہو جاتی ہے۔ (۲)

نیز اس حدیث میں اس بات پر بھی تنبیہ ہے کہ ساٹھ سال کی عمر کے بعد آدمی کو تو غفلت اور گناہوں سے باز آ جانا چاہیئے کیونکہ بظاہر اس کے بعد موت کا زمانہ قریب ہو جاتا ہے، اس عمر میں بھی فسق و فجور اور اللہ کی نافرمانی کے ارتکاب پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی جارہی ہے۔ (۳)

ساٹھ سال کی عمر کو آدمی جب پہنچ گیا

اور ساٹھ سال کی عمر کو آدمی جب پہنچ گیا گویا کہ اس نے اپنی عمر پوری کر لی جیسے کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے ”أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ سِتِّينَ إِلَى سَبْعِينَ وَأَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذَالِكَ“ (۴) میری امت کی عمر ساٹھ سال سے ستر سال ہوگی

[صفحہ ۳۳۱]

بہت کم ہوں گے جو اس سے تجاوز کریں گے۔

تخریج حدیث: رواہ البخاری فی الرقاق (باب من بلغ ستین سنۃ فقد اعذر اللہ الیہ فی العمر)، واخرجہ احمد فی مسندہ ٩٤٠٣/٣۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے مختصر حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) دلیل الفالحین ۳۳۴/۱

(۲) فتح الباری

(۳) دلیل الفالحین ۱۴۲/۱،

(۴) اخرجہ ترمذی بسند حسن

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی فضیلت

(۱۱۳) ﴿الثَّانِي: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ، فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِى نَفْسِهِ فَقَالَ: لِمَ يَدْخُلُ هَذَا مَعَنَا وَلَنَا أَبْنَاءٌ مِثْلُهُ؟! فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ! فَدَعَانِي ذَاتَ يَوْمٍ فَأَدْخَلَنِي مَعَهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ قَالَ: مَا تَقُولُوْنَ فِى قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ (الفتح: ١)، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أُمِرْنَا نَحْمَدُ اللَّهَ وَنَسْتَغْفِرُهُ إِذَا نَصَرَنَا وَفَتَحَ عَلَيْنَا. وَسَكَتَ بَعْضُهُمْ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئاً. فَقَالَ لِي: أَكَذَالِكَ تَقُوْلُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ فَقُلْتُ: لاَ، قَالَ: فَمَا تَقُوْلُ؟ قُلْتُ: هُوَ أَجَلُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ لَهُ قَالَ: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ وَذَالِكَ عَلاَمَةُ أَجَلِكَ ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً﴾ (الفتح: ٣)، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَقُوْلُ.﴾ (رواه البخاري)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے بدر کے شیوخ کے ساتھ مقام دیتے تو بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کو محسوس کرتے اور کہتے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کم سن بچے کو ہمارے ساتھ کیوں بٹھاتے ہیں جب کہ اس جیسے ہمارے بھی بچے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: عبداللہ بن عباسؓ ان لوگوں میں سے ہے جہاں سے تم نے علم پڑھا، عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک روز حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلایا اور ان کے ساتھ بٹھایا، میرا خیال ہے کہ اس دن مجھ کو بلانے کا مقصد صرف یہ تھا کہ انہیں بتانا چاہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ”إِذَا جَاءَ

[صفحہ ۳۳۲]

نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ“ کا کیا مطلب ہے؟ بعض نے کہا کہ جب ہمیں کامیابی حاصل ہو چکی اور اللہ نے ہمیں فتح عطا کر دی ہے تو ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اب ہم حمد وثنا میں مصروف رہیں اور استغفار کرتے رہیں، بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بالکل خاموش رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے اے عبداللہ بن عباسؓ، تم بھی یہی کہتے ہو؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا کہ تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کا رحلت فرمانا ہے، اللہ نے نبی کریم ﷺ کو اس آیت سے معلوم کرا دیا کہ جب اللہ کی مدد اور کامیابی حاصل ہو جائے گی تو یہ آپ کی وفات کی علامت ہے، پس آپ کو چاہئے کہ اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں بھی اس آیت کا یہی مطلب سمجھتا ہوں۔“

لغات: ٭ اشیاخ: شاخ شیخاً، شیخوخۃً ضرب سے بمعنی بوڑھا ہونا، بڑی عمر والا ہونا جمع شیوخ، اشیاخ۔

٭ ابناء: جمع ہے ابن کی بمعنی لڑکا، بیٹا۔ اور اس کی جمع بنون بھی آتی ہے۔

٭ ذات یوم: ذات مؤنث ہے ذو کا۔ تثنیہ ذواتان۔ اور اس کی جمع ذوات۔ اس کا اور اس کے تثنیہ اور جمع کا اعراب انہیں کے مشابہ مفرد تثنیہ و جمع اسماء کا سا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں ”لقيتہ ذات يوم او ذات ليلة او ذات مرة۔“

تشریح: يُدْخِلُنِي مَعَ أَشْيَاخِ بَدْرٍ: مجھے بدر میں شریک ہونے والے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ اپنی مجلس میں شریک کرتے تھے، یعنی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابن عباسؓ کو اہل شوریٰ اور بڑے عمر والے اور ایسے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم جن کے زمانہ اسلام میں بڑے بڑے کارنامے تھے ان کے ساتھ بٹھاتے تھے۔ (۱)

”فَكَأَنَّ بَعْضَهُمْ وَجَدَ فِى نَفْسِهِ“ ان میں سے بعض نے یہ ناگوار سمجھا، ابن نحویؒ کے بقول مراد اس سے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جیسے کہ بخاری کی روایت میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ (۲)

”إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ عَلِمْتُمْ“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ابن عباسؓ کے مرتبہ کو تم لوگ نہیں جانتے۔ ایک دوسری روایت میں ہے۔ ”قَالَ الْمُهَاجِرُوْنَ لِعُمَرَ أَلَا تَدْعُو أَبْنَائَنَا كَمَا تَدْعُو ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُوْلِ إِنَّ لَهُ لِسَاناً سُؤُوْلًا وَقَلْبًا عُقُولاً۔“ (۳)

فَمَا رَأَيْتُ أَنَّهُ دَعَانِي يَوْمَئِذٍ إِلاَّ لِيُرِيَهُمْ: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ کو بلایا تاکہ ان کو میری (حیثیت وعلمیت) دکھلائیں،

ابن سعدؒ کی روایت میں ہے: ”أَمَّا أَنِّي سَأُرِيكُمُ الْيَوْمَ مِنْهُ مَا تَعْرِفُونَ بِهِ فَضْلَهُ“ (۴)

ذَالِكَ عَلاَمَةُ أَجَلِكَ: اس سے آپ ﷺ کی موت کی اطلاع دینی ہے۔

[صفحہ ۳۳۳]

اسی وجہ سے اس سورت کا نام بعض مفسرینؒ نے سورت التودیع کہا کہ رخصت کرنے والی، اس سورت کے نزول کے تقریباً ۸۰ دن کے بعد آپ ﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے۔ (۵)

اس سورت میں بتا دیا گیا کہ جس مقصد کے لئے آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا تھا وہ مقصد پورا ہو گیا۔

مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلاَّ مَا تَقُوْلُ: میرا علم بھی یہی ہے جو تم بیان کر رہے ہو، مسند احمد کی ایک روایت میں اس جگہ یہ الفاظ ہیں ”كَيْفَ تَلُوْمُوْنِي عَلَى مَا تَرَوْنَ“ (۶)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی عزت ومرتبت عمر سے نہیں بلکہ اس کی عقل وفہم سے ہوتی ہے۔ (۷)

فکم من صغیر لا حظته عنایة من الله فا حتا جت الیه الا کابر

تخریج حدیث: رواہ البخاری فی التفسیر (باب تفسیر سورۃ اذا جاء نصراللہ) و باب الأنبیاء باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ترمذی فی التفسیر (باب تفسیر سورۃ الفتح) وفی المغازی (باب نزل النبی ﷺ یوم الفتح) رواہ مسلم فی الصلوٰۃ (باب ما یقال فی الرکوع و السجود) اخرجہ احمد فی مسندہ ۳۱۳۷/۱، وترمذی و الطبرانی ۱۰۶۱۷، والبیہقی فی الدلائل ٤٤٦/٥ والنسائی فی الکبریٰ بالفاظ متقاربۃ۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے حالات حدیث نمبر (۱۱) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) دلیل الفالحین ۳۳۵/۱

(۲) بخاری باب علامات النبوۃ.......

(۳) مصنف عبدالرزاق.......

(۴) طبقات ابن سعد.......

(۵) تفسیر قرطبی.......

(۶) مسند امام احمد.......

(۷) روضۃ المتقین ۱۵۸/۱

انتقال سے قبل آپ ﷺ کا معمول

(١١٤) ﴿الثَّالِث: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلوةً بَعْدَ اَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَ الْفَتْحُ﴾ إِلَّا يَقُولُ فِيهَا: "سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" (متفق عليه)

وفى رواية فى الصحيحين عنها: كان رسولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ اَنْ يَقُولَ فِى رُكُوعِهِ وَ سُجُودِه: "سُبْحَانَكَ اَللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْلِيْ" يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ“ أَيْ: يَعْمَلُ مَا﴾



صفحہ ۳۳۴

روضۃ الصالحین جلد اول

اُمِرَ بِهِ فِى الْقُرْاٰنِ فِى قَوْلِهِ تَعَالٰى: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ﴾

وَفِي رِوَايَةٍ لِّمُسْلِمٍ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ اَنْ يَّقُوْلَ قَبْلَ اَنْ يَّمُوْتَ: ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ.“ قَالَتْ عَائِشَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هٰذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِىْ اَرَاكَ اَحْدَثْتَهَا تَقُوْلُهَا؟ قَالَ: ”جُعِلَتْ لِىْ عَلَامَةٌ فِىْ اُمَّتِىْ اِذَا رَاَيْتُهَا قُلْتُهَا: ﴿اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ﴾ اِلٰى آخِرِ السُّوْرَةِ“

وَفِي رِوَايَةٍ لَّهُ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! اَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهِ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ؟ فَقَالَ: ”اَخْبَرَنِىْ رَبِّىْ اَنِّىْ سَاَرَى عَلَامَةً فِىْ اُمَّتِىْ فَاِذَا رَاَيْتُهَا اَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ؛ فَقَدْ رَاَيْتُهَا: ﴿اِذَاجَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ ”فَتْحُ مَكَّةَ“، ﴿وَرَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِىْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجاً. فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ اِنَّهٗ كَانَ تَوَّاباً﴾

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”اذا جاء نصر اللہ و الفتح“ کے نازل ہونے کے بعد حضور ﷺ ہر نماز میں ”سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ پڑھتے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے رکوع اور سجود میں اکثر بار ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ کہا کرتے تھے۔ قرآن پاک کی تاویل فرماتے یعنی قرآن پاک میں ”فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ“ کے ضمن میں حکم دیا گیا ہے۔ اس پر عمل فرماتے۔

اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ اپنی وفات سے قبل اکثر یہ کلمات فرماتے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“ ”تو پاک ہے تیری ہی تعریف کرتا ہوں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں“ اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کلمات کیا ہیں میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ یہ کلمات اب کہنے لگے ہیں۔ فرمایا میرے لئے میری امت میں ایک علامت قائم کی گئی ہے کہ جب میں اس علامت کو دیکھوں تو یہ کلمات کہوں پھر آپ نے یہ سورت تلاوت فرمائی ”اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ“

مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ اکثر ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہتے تھے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ اکثر ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا مجھے میرے رب نے بتایا ہے کہ میں

صفحہ ۳۳۵

روضۃ الصالحین جلد اول

عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا پس جب میں وہ علامت دیکھوں تو کثرت کے ساتھ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ کہوں پس میں نے وہ علامت دیکھ لی ہے۔ ”اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ“ یعنی مکہ فتح ہوچکا ہے اور ”آپ دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اللہ پاک کے دین میں جوق در جوق داخل ہورہے ہیں۔ پس آپ اپنے رب کی تسبیح و تحمید میں مشغول رہیں اور اس سے مغفرت مانگیں وہ توبہ قبول کرنے والا ہے ۔“

لغات: ❖ یَکثُر : کثر ، کثرۃً باب کرم سے بمعنی بہت ہونا اور ضرب سے کثر کثراً بمعنی کثرت میں غالب ہونا۔

❖ یتاول: تَأَوُّلاً تفعل سے بمعنی کلام کی تفسیر کرنا۔

❖ علامۃ: العلامۃ بمعنی نشان ، راہ کا نشان ۔ جمع علام و علامات۔

❖ اخبرنی : خبرہ واخبرہ بمعنی کسی کو کسی شئی سے آگاہ کرنا، خبردار کرنا۔

❖ افواجاً : الفوج بمعنی جماعت، گروہ، عرف میں مسلح عسکری جمع افواج و فووج ، جمع الجمع افاوج و افاویج۔

تشریح: سورت نصر کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ کا معمول

ان تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب آدمی کو اپنی موت قریب محسوس ہو تو تسبیح اور استغفار یعنی اللہ جل شانہ کی طرف توجہ میں اضافہ کر دینا چاہیے، جیسے کہ آپ ﷺ نے سورت نصر کے نازل ہونے کے بعد ”سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِىْ“ اور ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اَسْتَغْفِرُكَ وَاَتُوْبُ اِلَيْكَ“ اور ”سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِهٖ اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ“ وغیرہ پڑھنے کا اہتمام فرمانے لگے۔

اور بقول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سورت نصر کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے عبادت میں اتنا مجاہدہ فرمانا شروع کر دیا تھا کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک پر ورم آجاتا۔ (۱)

یہ استغفار کا کرنا کوئی گناہ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ رفع درجات کے لئے تھا، یا امت کی تعلیم کے لئے تھا، کہ میں معصوم ہوں تب بھی استغفار کرتا ہوں، اُمت تو خطا وار ہے تو امت کو اور زیادہ استغفار کرنا چاہئے۔

تخریج حدیث: رواہ البخاري فی التفسیر (باب تفسیر سورۃ اذاجاء نصر اللّٰہ) (و باب التسبیح و الدعاء فی السجود) وفي المغازی (باب نزل النبی ﷺ یوم الفتح)، رواہ مسلم فی الصلوٰۃ. (باب مايقال في الركوع والسجود) واخرجہ احمد فی مسندہ، ۲۴۲۱۸/۹، وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ و ابن حبان وا بن خزیمۃ ص ۶۰۵، و ابوعوانۃ ۱۸۶/۲، ۱۸۷، و مصنف عبدالرزاق ۲۸۷۸، والبیھقی ۱۰۹/۲۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حالات حدیث نمبر (۲) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) تفسیر قرطبی ......

صفحہ ۳۳۶

روضۃ الصالحین جلد اول

آپ ﷺ پر وفات سے قبل وحی کی کثرت

(۱۱۵) اَلرَّابِعُ: عَنْ اَنَسٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: اِنَّ اللّٰهَ عَزَّوَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبَيْلَ وَفَاتِهٖ، حَتّٰى تُوُفِّيَ اَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ. (متفق عليه)

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ پر آپ کی وفات سے پہلے مسلسل وحی نازل فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ایسی حالت میں ہوا کہ پہلے کی نسبت وحی زیادہ نازل ہوتی تھی۔“

لغات: ❖ تابع: تبع تبعاً سمع سے بمعنی پیچھے چلنا، ساتھ چلنا، تابع بین الاعمال، کام مسلسل لگاتار کرنا۔

❖ الوحی: وحی وحیاً ضرب سے بمعنی پیغام بر بھیجنا، اشارہ کرنا۔ ”الله فی قلبہ کذا“ خدا تعالیٰ کا کسی کے دل میں کچھ ڈالنا، لکھا ہوا، پیغام، انبیاء کی وحی۔

تشریح: اَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ: آخری ایام میں پہلے کی بنسبت زیادہ وحی آپ ﷺ پر نازل ہوتی تھی۔ بعض علماء نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ آخری ایام میں وفود کی کثرت ہوئی اور کثرت سے لوگ اسلام میں داخل ہوئے تو ان لوگوں کے کثرت سوال کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی طرف سے زیادہ احکامات نازل ہوئے۔ (۱)

یا آخری ایام میں اللہ جل شانہ کا قرب زیادہ حاصل ہوا اس کی وجہ سے وحی میں کثرت ہوئی۔ (۲)

یا اس کی وجہ یہ تھی کہ دنیا اور آخرت کے تمام امور نازل کر دئیے گئے تا کہ بعد والوں کے لئے رہنمائی ملتی رہے۔ (۳)

تخریج حدیث: اخرجہ صحیح البخاری کتاب فضائل القرآن (باب کیفیۃ النزول، واوّل ما نزل)، صحیح مسلم اوائل کتاب التفسیر، واخرجہ احمد ۱۳٤۷۹/٤، وابن حبان ٤٤ مع اختلاف یسیر.

نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالک کے حالات حدیث نمبر (۱۵) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) نزہۃ المتقین ......

(۲) روضۃ المتقین ۱۱۹/۱

(۳) دلیل الفالحین ۳۴۱/۱

آدمی جس حالت میں مرتا ہے اسی حالت میں اٹھایا جائے گا

(۱۱۶) اَلْخَامِسُ: عَنْ جَابِرٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلٰى مَا مَاتَ عَلَيْهِ“ (رواه مسلم)

صفحہ ۳۳۷

روضۃ الصالحین جلد اول

ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس حالت پر کوئی آدمی فوت ہوا اسی حالت پر اٹھایا جائے گا۔“

لغات: ❖ یبعث: بعث بعثاً فتح سے بمعنی تنہا بھیجنا۔ المیت، اٹھانا۔ دوبارہ زندہ کرنا، چنانچہ یوم البعث اسی سے ہے یعنی دوبارہ اٹھنے کا دن۔

❖ مات: مات موتاً نصر سے بمعنی مرنا، آگ کا بجھنا۔

تشریح: اسی کے ہم معنی یہ حدیث ”إِنَّمَا الاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ“ بھی ہے مفہوم یہ ہے کہ ان احادیث میں ترغیب دی جارہی ہے کہ آدمی کو چاہئے کہ نیک کاموں میں لگا رہے، اگر اسی میں موت آئی تو نیک لوگوں کے ساتھ ہی ان کا حشر ہوگا، اس کے برعکس اگر وہ برے کاموں میں مشغول رہے تو اسی میں موت آئے گی اور ان ہی لوگوں کے ساتھ اس کا حشر ہوگا۔ خاص کر کے بڑھاپے اور مرض میں نافرمانی سے زیادہ بچنا چاہئے کہ موت کا پتہ نہیں کہ کس وقت موت آجائے

ہو رہی ہے عمر مثلِ برف کم

چپکے چپکے رفتہ رفتہ دم بدم

مصنف رحمہ اللہ نے اس باب کو یعنی باب ”الحثّ علی الازدیاد من الخیر فی اواخر العمر“ کو ”یبعث کل عبدٍ علی ما مات علیہ“ والی حدیث پر ختم فرمایا۔ اس سے یہ ترغیب دینی مقصود ہے کہ اگر یہ آخری حدیث کو سامنے رکھا جائے تو آدمی کا حسنِ خاتمہ ہونا آسان ہوجائے گا۔ ”نسئال اللّٰه تعالیٰ ان یرزقنا حسن الخاتمۃ“

تخریج حدیث: صحیح مسلم، کتاب الجنۃ، (باب اثبات الحساب)، و ابن ماجۃ.

نوٹ: راوی حدیث حضرت جابر کے حالات حدیث نمبر ۷ کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) نزہۃ المتقین ۱۱۹/۱

(۲) دلیل الفالحین ۳۴۰/۱