باب فى بيان كثرة طرق الخير

(13) بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ

نیک اعمال کے راستوں کے زیادہ ہونے میں

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: ﴿وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ﴾ (بقرۃ: 215)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔“

پھر اس کا بدلہ پورا پورا دے گا کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ سے مخفی ہو۔


صفحہ ۳۳۸

روضۃ الصالحین جلد اول

وَقَالَ، تَعَالٰى: ﴿وَمَاتَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ﴾ (البقرۃ: 197)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے، ”تم جو بھلائی بھی کرتے ہو اللہ جل شانہ اسے جانتا ہے۔“

وَقَالَ تَعَالٰى: ﴿فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَّرَهٗ﴾ (الزلزلۃ: 7)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔“

فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْراً يَّرَهٗ: کہ کوئی معمولی سی بھی نیکی کرتا ہے اللہ جل شانہ اس کو جانتے ہیں اور قیامت کے دن انسان اس کے اجر کو دیکھ لے گا۔

خَیْرًا: اس سے مراد وہ خیر ہے جو شرعاً معتبر ہو، نیکی ایمان کے بغیر معتبر نہیں کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل نیک نہیں یعنی آخرت میں اس کا بدلہ نہیں ہوگا، کافر کو اللہ جل شانہ اس کی نیکی کا دنیا میں ہی بدلہ عطاء فرمادیتے ہیں، اس آیت سے بعض علماء نے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا وہ بالآخر جنت میں ضرور داخل ہوگا کیونکہ صرف ایمان یہ صرف نیکی نہیں بلکہ بہت بڑی نیکی ہے اس لئے وہ اگر ہمیشہ جہنم میں رہے تو اس نیکی کا بدلہ کہاں دیکھے گا اس لئے اس کو جہنم سے نکالا جائے گا اور جب ایک مرتبہ جنت میں داخل ہوگا تو پھر وہاں سے نہیں نکالا جائے گا۔ (۱)

یہی مضمون متعدد احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔

(۱) معارف القرآن ۸۰۱/۸، تفسیر مظہری ۵۰۳/۱۲

وَقَالَ تَعَالٰى: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ﴾ (الجاثیۃ: ۱۵)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے، ”جو کوئی نیک عمل کرے گا تو وہ اپنے لئے کریگا۔“

تشریح: اس آیت میں ایمان والوں کو ترغیب دی جارہی ہے، کہ جتنے نیک اعمال بھی تم کرو گے اس کا پورا بدلہ تم کو ہی ملے گا، تمہارے نیک اعمال سے اللہ جل شانہ کی ملکیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اگر تم کوئی گناہ کرو تو اس سے بھی اللہ جل شانہ کی ملکیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو کچھ بھی تم کرو گے تم اپنے ہی فائدہ اور نقصان کے لئے کرو گے اس لئے سمجھ داری یہ ہے کہ خوب نیک اعمال کئے جائیں تا کہ اس کا بدلہ خوب ملے، بدلہ دینے میں اللہ کوئی کمی بھی نہیں فرماتے۔ ایک کا بدلہ دس کے ساتھ اور پھر ”وَاللّٰهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ“ (۱) جس کے لئے اللہ جتنا چاہئے بڑھا دیتے ہیں۔


”وَالْاٰيَاتُ فِى الْبَابِ كَثِيْرَةٌ“ اس باب میں بہت سی آیات ہیں۔

”وَاَمَّا الْاَحَادِيْثُ فَكَثِيْرَةٌ جِدّاً وَّهِيَ غَيْرُ مُنْحَصِرَةٍ فَنَذْكُرُ طَرَفاً مِّنْهَا“

اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے تو وہ بھی بہت سی ہیں جس کا شمار ہی نہیں، ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر کریں گے۔

(۳) سورۃ بقرۃ: ۲۶۱



افضل اعمال کی ترتیب

(117) ﴿الأَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”الْإِيْمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِيْ سَبِيْلِهِ“ قُلْتُ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ”أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، وَ أَ كْثَرُهَا ثَمَنًا“، قُلْتُ: فَإِنْ لَّمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: تُعِيْنُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ“، قُلْتُ: يَارَسُوْلَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ العَمَلِ؟ قَالَ: تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ“﴾ (متفق عليه)

”الصَّانِعُ“ بِالصَّادِ المهملة هذا هو المشهور، وَرُوِيَ ”ضَائِعًا“ بالمعجمة: أیْ ذَا ضَيَاعٍ مِنْ فُقَرَاءُ عِيَالٍ، وَنَحْو ذَلِكَ، ”وَالْأَخْرَقُ“: الَّذِي لَا يُتْقِنُ مَا يُحَاوِلُ فِعْلَهُ.

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کونسا عمل افضل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا خدا پر ایمان رکھنا۔ اور اس کے راستہ میں جہاد کرنا۔ میں نے عرض کیا کونسا غلام آزاد کرنا بہتر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو گھر والوں کو زیادہ پیارا ہو اور جس کی قیمت بھی زیادہ ہو، میں نے عرض کیا اگر میں یہ نہ کر سکوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کام کرنے والے (فقیر عیالدار) کی مدد کرے۔ یا جو دوست کام نہ کر سکے اس کا کام کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ آپ بتائیں اگر میں ان سے بعض عمل کرنے سے کمزور رہوں آپ ﷺ نے فرمایا تو لوگوں سے اپنی شرارت روک لے یہ کام بھی تیرے نفس پر تیری طرف سے صدقہ ہے۔“

”الصانع“ یہ صاد مہملہ کے ساتھ مشہور ہے اور یہ ضاد معجمہ کے ساتھ بھی مروی ہے یعنی ضائعاً۔ جو غربت یا عیال داری اور اسی قسم کی دیگر کسی وجہ سے پریشان حال ہو اور ”اخرق“ بے ہنر جو اپنے مطلوبہ فعل کو اچھی طرح نہ کر سکے۔

لغات: ❖ الرقاب: جمع ہے الرقبۃ کی بمعنیٰ گردن یا اس کے پیچھے کا حصہ (گدی) غلام کو اس لئے بولتے ہیں کہ جز اشرف بول کر کل مراد ہوتی ہے۔

❖ الثمن: بمعنیٰ بیچی ہوئی چیز کا عوض جمع اثمان و اثمنۃ۔

❖ صانعا: صنع صنعاً فتح سے بمعنی بنانا۔ الیہ معروفاً کسی کے ساتھ بھلائی واحسان کرنا۔

❖ تکفُّ: کف، کفاًّ نصر سے عن الامر کسی کو کسی کام سے روکنا، باز رکھنا۔

تشریح: اَیُّ الاَعْمَالِ اَفْضَلُ: یعنی جس کا ثواب سب سے زیادہ ہو۔ ”اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰهِ“ اللہ پر ایمان رکھنا ہی تمام اعمال کی

[زمزم پبلشرز]

صفحہ ۳۴۰ روضۃ الصالحین جلد اول

جڑ اور بنیاد ہے، اس کے بغیر تو کوئی بھی خیر معتبر نہیں ہوتی۔ (۱)

وَالْجِهَادُ فِیْ سَبِیْلِهِ: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔ ”اَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ اَنْفَسُهَا عِنْدَ اَهْلِهَا“ گھر والوں کو زیادہ محبوب ہو، جیسے کہ قرآن میں آتا ہے ”لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ“ (۲) کہ تم نیکی کے کامل درجہ تک نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ایسی چیز خرچ نہ کرو جو تم کو محبوب ہے۔ ”وَاَكْثَرُهَا ئَمَنًا“ اس کی قیمت زیادہ ہو، یعنی وہ ایسا غلام ہو جو بہت زیادہ سمجھ دار اور زیادہ نفع والا ہو۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام آزاد کرنے میں اور قربانی کے جانور میں فرق ہوگا کہ اگر ایک ہزار روپے کے ایک طرف دو غلام ملتے ہو تو دوسری طرف ایک ہی قیمتی غلام ملتا ہے تو اب یہاں پر دو غلام کو آزاد کرنا افضل ہوگا بنسبت ایک قیمتی غلام کے۔ اور قربانی کے جانور میں ایک ہزار کے دو جانور کے بنسبت ایک موٹا تازہ جانور جو ایک ہزار کا ایک ہی ہو وہ زیادہ افضل ہوگا۔ کیونکہ قربانی میں جانور کا موٹا تازہ ہونا زیادہ افضل ہے۔ (۳)

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زیادہ نفع والا عدد کے زیادہ ہونے سے زیادہ افضل ہے۔ (۴)

اَوْ تَصْنَعُ لَاَ خْرَقَ: بے ہنر کا کام کردو۔ ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر ہنرمند کا کام میں مدد کرنا یہ ہنر والے کے کام میں مدد کرنے سے افضل ہے۔ کیونکہ جس کو وہ ہنر آتا ہی نہیں اور وہ کام بھی اس کے ذمہ ہے تو وہ کام کیسے ہوگا اور جس کو وہ ہنر آتا ہے تو آج نہیں کل وہ اپنا کام مکمل کرلے گا۔ (۵)

تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب العتق، (باب ائ الرقاب افضل؟) و صحيح مسلم كتاب الايمان، (باب بيان كون الايمان بالله افضل الاعمال)، اخرجه احمد ۲۱۳۸۹/۸، نسائى ۳۱۲۹، ابن ماجة، سنن دارمی ۳۰۷/۲، ابن حبان ۱۵۲، مصنف عبدالرزاق ۲۰۲۸۹، والبيهقى ۲۷۳/۲۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوذر جندب بن جنادہؓ کے حالات حدیث نمبر (۶۱) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(۱) نزہۃ المتقین ۱۲۰/۱

(۲) سورۃ آل عمران، آیت ۹۲

(۳) شرح مسلم

(۴) فتح الباری ......

(۵) روضۃ المتقین ۱۶۲/۱

آدمی کے ہر عضو پر صدقہ ہے

(118) ﴿الثَّانِي: عَنْ أَبِيْ ذَرٍّ أَيْضاً رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَيُجْزِئُ مِنْ ذَالِكَ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى“﴾

(رواه مسلم)

”السُّلَامَى“ بضم السين المهملة وتخفيف اللام وفتح الميم: الْمَفْصِلُ.

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے ہر ایک عضو پر صدقہ ہے، چنانچہ ”سبحان اللہ“ کہنا صدقہ ہے۔ ”الحمدللہ“ کہنا ”لا الہ الا اللہ“ کہنا ”اللہ اکبر“ کہنا تمام صدقات ہیں۔ ”اَمْرٌبِالْمَعْرُوْفِ وَنَهْیٌ عَنِ الْمُنْكَرِ“ صدقات ہیں اور ان تمام کے بدلے دو رکعات نماز چاشت کی کفایت کرجاتی ہے۔

سُلامَیٰ: سین مہملہ کے پیش اور تخفیف لام اور میم کے فتحہ کے ساتھ بمعنی جوڑ۔

لغات: ❖ سُلامَیٰ: السُّلامَیٰ بمعنی ہر کھوکھلی، چھوٹی ہڈی جس طرح انگلیوں کی ہڈیاں۔ جسم کے عضو کو بھی کہتے ہیں جمع سلامیات۔

تشریح:

چاشت کی نماز کی برکت

يُصْبِحُ عَلٰى كُلِّ سَلَامٰى مِنْ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ: کہ آدمی کے ہر ایک عضو پر صدقہ واجب ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے، ”فِی الْاِنْسَانِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَّسِتُّوْنَ مَفْصِلاً“ (۱)

کہ انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، تو روزانہ تین سو ساٹھ صدقہ کرنا چاہئے۔ کہ ان جوڑوں ہی کی برکت سے آدمی اٹھتا، بیٹھتا اور حرکت کرتا ہے، تو ہر ایک جوڑ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اس کی شکر گزاری ہر ایک پر لازم ہے، اس کا شکر ادا کرنے کا آسان طریقہ بتایا گیا جو غریب سے غریب فرد بھی کرسکتا ہے وہ ”سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ وغیرہ پڑھنا ہے۔ (۲)

چاشت کی نماز کی فضیلت

وَيُجْزِئُ مِنْ ذَالِكَ رَكْعَتَانِ: ان تمام کے بدلے دو رکعت نماز چاشت کفایت کر جاتی ہے کیونکہ نماز میں جسم کے تمام ہی اعضاء مصروف ہو کر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ (۳)

نماز چاشت دو سے بارہ رکعت تک پڑھی جاسکتی ہے۔ مگر اس میں آپ ﷺ کی عموماً عادت چار رکعت پڑھنے کی تھی، محمد ابن جریر رحمہ اللہ، طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں چاشت کی نماز کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں وہ درجہ تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی ہیں۔ (۴)

قاضی ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاشت کی نماز پچھلے انبیاء اور رسولوں کی نماز ہے۔ (۵)

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ چاشت کی نماز حضرت داؤد علیہ السلام کثرت سے پڑھتے تھے۔ (۶)

صفحہ ۳۴۲ روضۃ الصالحین جلد اول

ابن نجار رحمہ اللہ نے حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے کہ چاشت کی نماز حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔ (۷)

ایک روایت میں آتا ہے کہ جو چاشت کی دو رکعت پر اہتمام کرے تو اس کے تمام گناہ خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہو معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (۸)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الزكوة، (باب بيان ان اسم الصدقة يقع على نوع من المعروف)، ابوداؤد.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوذرؓ کے حالات حدیث نمبر (۶۱) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(۱) ابوداؤد۔ ومسند احمد

(۲) دلیل الفالحین ۳۴۵/۱

(۳) مرقاۃ شرح مشکواۃ ۱۹۹/۳

(۴) مظاہر حق جدید ۸۵۲/۱

(۵) مظاہر حق جدید ۸۵۲/۱

(۶) مظاہر حق جدید ۸۵۲/۱

(۷) مظاہر حق جدید ۸۵۲/۱

(۸) مسند احمد۔ جامع ترمذی۔ وسنن ابن ماجہ

مسجد میں تھوکنے کی ممانعت

(119) ﴿الثَّالِثُ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عُرِضَتْ عَلَىَّ أَعْمَالُ أُمَّتِيْ حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِيْ مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيْقِ، وَوَجَدْتُ فِيْ مَسَاوِيءِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ“﴾ (رواه مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھ پر میری امت کے نیک اور برے اعمال پیش کئے گئے، تو میں نے نیک اعمال میں پایا وہ ایذا دینے والی چیزیں جن کو راستہ سے ہٹایا جائے، اور برے اعمال میں پایا کہ مسجد میں ناک وغیرہ کا فضلہ پھینکا جائے اور اس کو دفن نہ کیا جائے۔“

لغات: ❖ عُرِضَتْ: عَرَضَ عَرْضاً ضرب سے بمعنی پیش کرنا، دکھلانا۔

❖ الأَذٰى: اذى اذىً سمع سے بمعنی تکلیف واذیت پانا۔

❖ يُمَاطُ: ماط میطاً و اماطۃً ضرب سے بمعنی دور ہو جانا، علیحدہ ہونا۔

[زمزم پبلشرز]

صفحہ ۳۴۳ روضۃ الصالحین جلد اول

❖ النُّخَاعَةُ: نخع نخعاً فتح سے بمعنی سینہ یا ناک سے کوئی چیز دور کرنا۔

❖ لَا تُدْفَنُ: دفن دفناً ضرب سے بمعنی مردہ کو دفن کرنا۔ الحدیث بات کو چھپانا۔

تشریح:

مسجد میں تھوکنا جائز ہے احادیث کی روشنی میں

وَوَجَدْتُ مَسَاوِئَ اَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُوْنُ فِی الْمَسْجِدِ لَاتُدْفَنُ: اس کے ساتھ ساتھ کوئی گناہ نہیں کہ مسجد میں ناک وغیرہ کا فضلہ نکالا جائے مگر اس کو دفن نہ کیا جائے۔

مسجد میں تھوکنا گناہ ہے، اگر کسی سے یہ غلطی ہو جائے تو اس کو صاف کر دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی مانگے۔

ایک دوسری روایت میں ہے آتا ہے ”اَلْبُزَاقُ فِى الْمَسْجِدِ خَطِيْئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا“ (۱)

مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسکا کفارہ دفن کرنا ہے، ایک دوسری روایت میں ہے ”اَلتَّفْلُ فِی الْمَسْجِدِ سَيِّئَةٌ وَّدَفْنُهُ حَسَنَةٌ“ (۲) کہ مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا دفن کرنا نیکی ہے۔

مسجد میں تھوکنا ناجائز ہے محدثین کے اقوال کی روشنی میں

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”قَالَ النَّوَوِيُّ فِى التَّحْقِيْقِ اَلْبُصَاقُ فِى الْمَسْجِدِ قَالَ سَوَاءٌ فِيْهِ دَاخِلُهُ وَ خَارِجُهُ“ (۳) امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں محقق بات یہی ہے کہ مسجد میں تھوکنا حرام ہے خواہ تھوکنے والا مسجد میں ہو یا باہر ہو۔ علماء احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسجد میں تھوکنا مکروہ تحریمی ہے، اگر کسی نے تھوکا تو اس کا صاف کرنا واجب ہے۔ (۴)

ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے ابن عماد رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ۔

قَالَ ابْنُ عِمَادٍ لَا خِلَافَ اَنَّ مَنْ بَصَقَ بِالْمَسْجِدِ اِسْتِهَانَةً بِهِ كَفَرَ. (۵)

ابن عماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں کسی کا بھی اختلاف نہیں کہ مسجد میں اِسْتِخْفَافاً وَ اِسْتِهَانَةً تھوکنا موجب کفر ہے۔ امام ابن ابی جمرۃ اندلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مفتی کو دیکھا جو فتویٰ میں مقتداء تھے، کہ مسجد کے کنارے بیٹھے تھے اور مسجد کے باہر ایک باغیچہ تھا پھر بھی مسجد میں بیٹھ کر باغیچہ میں تھوکنا پسند نہیں کیا کرتے تھے۔ (۶)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب المساجد (باب النهى عن البصاق فى الصلوة) والبخاري في الادب المفرد.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوذرؓ کے حالات حدیث نمبر (۶۱) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(۱) سنن دارمی

(۲) مسند احمد، الطبرانی، مجمع الزوائد

[زمزم پبلشرز]




صفحہ نمبر 344

۳۴۴

روضۃ الصالحین جلد اول

(۳) نزہۃ الناظرین ص ۷۵، و سبل السلام ۱۵۰/۱

(۴) کتاب الفقہ علی مذہب الاربعہ ۲۸۹/۱

(۵) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ۲۰۰/۲

(۶) رحمت القدوس ترجمہ بہجۃ النفوس


تسبیح و تحمید بھی صدقہ ہے

(120) ﴿الرَّابِعُ عَنْهُ: أَنَّ نَاساً قَالُوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ، ذَهَبَ اَهْلُ الدُّثُوْرِ بِالْاُجُوْرِ، يُصَلُّوْنَ كَمَا نُصَلِّيْ، وَيَصُوْمُوْنَ كَمَا نَصُوْمُ، وَيَتَصَدَّقُوْنَ بِفُضُوْلِ اَمْوَالِهِمْ قَالَ: "اَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مَاتَصَدَّقُوْنَ بِهِ: اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيْرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيْدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيْلَةٍ صَدَقَةً، وَاَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِيْ بُضْعِ اَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ"، قَالُوا: يَارَسُولَ اللّٰهِ اَيَأْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهُ، وَيَكُوْنُ لَهُ فِيْهَا اَجْرٌ؟! قَالَ: "اَرَاَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِيْ حَرَامٍ اَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ اَجْرٌ"﴾ (رواہ مسلم)

"الدثور" بالثاء المثلثة: الاموال، واحدها دِثْرٌ.

ترجمہ: "حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چند لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مالدار لوگ اجر و ثواب کو لے گئے، وہ ہماری طرح نمازیں قائم کرتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے زائد اموال کو خیرات کرتے رہتے ہیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے خیرات کے مقابلہ میں اس نعمت سے نہیں سرفراز کیا کہ تمہارا ”سبحان اللہ“ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا، ”الحمدللہ“ کہنا اور ”لا الہ الا اللہ“ کہنا صدقہ ہے اور امر بالمعروف کرنا اور نہی عن المنکر کرنا صدقہ ہے۔ اور تمہارا اپنی بیوی کی شرمگاہ کو آنا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنی شہوت کی تکمیل کرتے ہیں اس پر بھی ہمیں ثواب ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: آپ ذرا بتائیں اگر کوئی شخص حرام شرمگاہ کو آتا ہے تو کیا اسے گناہ نہیں ہوگا! اسی بناء پر جب کوئی شخص حلال شرمگاہ کو آئے تو اس کو اجر و ثواب بھی ہوگا۔

"الدثور": ثاء مثلثہ کے ساتھ اس کے معنی اموال کے ہیں اس کا واحد دِثْرٌ ہے۔

لغات: ❖ الدثر: بمعنی بہت مال، دثر واحد، تثنیہ، جمع ایک ہی طرح استعمال ہوتا ہے۔ کبھی اس کی جمع دثور بھی لاتے ہیں۔

زمزم پبلشرز

صفحہ نمبر 345

۳۴۵

روضۃ الصالحین جلد اول

❖ بِضْعٌ: البِضْعَةُ و البَضْعَةُ بمعنی گوشت کا ٹکڑا جمع بضع، و بضع و بضائع۔

❖ وِزْرٌ: وزر، وزراً ضرب اور سمع سے بمعنی گنہگار ہونا۔

تشریح: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ: مالدار لوگ ہم فقراء سے آگے بڑھ گئے۔

اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ تھا، اس لئے فقراء صحابہ نے یہ شکایت کی کہ مالدار باقی اعمال میں تو ہم سے برابر ہیں مگر اپنے مال کو اللہ کے راستہ میں صدقہ کر کے ہم سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ (۱)

صدقہ صرف مالی نہیں، بدنی بھی ہو سکتا ہے

اِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيْحَةٍ صَدَقَةً: ”ہر تسبیح صدقہ ہے“ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ”سبحان اللہ، الحمد للہ“ وغیرہ پر وہ ثواب ملتا ہے جو مال کے صدقہ کرنے میں ملتا ہے، اسی طرح سے اس حدیث میں ”سبحان اللہ، الحمد للہ“ وغیرہ کو صدقہ کرنے والے کی مثال دی گئی ہے۔ (۲)

نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف مال کے خرچ کرنے کا نام نہیں کہ آدمی یہ کہے کہ میں صدقہ کیسے کروں میرے پاس تو مال ہی نہیں اس حدیث میں فرمایا گیا کہ ”تسبیح و تحمید“ بھی صدقہ ہے (۳) اسی وجہ سے ایک دوسری روایت میں آتا ہے ”کل معروف صدقۃ“ (۴) ہر نیکی صدقہ ہے، علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مباحات میں بھی نیت کرنے سے وہ بھی نیکی بن جاتی ہے۔

اَيَأْتِيْ اَحَدُنَا شَهْوَتَهُ؟: شرم گاہ سے اپنی ضرورت پوری کرے یہ بھی صدقہ ہے، اس سے معلوم ہوا جو کام بھی شریعت کے مطابق کیا جائے وہی نیکی بن جاتا ہے اگرچہ آدمی اپنی فطری ضرورت ہی کو پورا کرے یہ عمل بھی نیکی بن جاتا ہے جب کہ نیک صالح اولاد کی نیت ہو، پاک دامنی کی نیت ہو، ساتھ ساتھ اپنی نظری تفکرات کو حرام جگہ سے بچانے کی نیت ہو۔ (۵)

علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دین کی ایسی باتیں جس کو عموماً چھپایا جاتا ہے مگر ایسی بات کا بھی کسی عالم ومفتی سے ضرورت کے وقت میں سوال کرنا نہ مکروہ ہے اور نہ ادب کے خلاف ہے۔

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الزكاة، (باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف) واخرجه احمد ٢١٥٢٩/٨، البخاري في الادب المفرد.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوذرؓ کے حالات حدیث نمبر (۶۱) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) نزہۃ المتقین ۱۲۲/۱ (۲) روضۃ المتقین ۱۶۴/۱

(۳) مرقاة شرح مشکوٰة (۴) مسلم شریف

(۵) روضۃ المتقین ۱۶۴/۱ (۶) دلیل الفالحین ۳۲۹/۱

زمزم پبلشرز

صفحہ نمبر 346

۳۴۶

روضۃ الصالحین جلد اول

خندہ پیشانی سے اپنے بھائی سے ملنا بھی نیکی ہے

(۱۲۱) ﴿عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئاً وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلِيْقٍ﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ نیکی میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھ، اگرچہ تو اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت شگفتگی اختیار کرے۔“

لغات: ❖ لا تحقرن: حقر، حقراً و حقارةً ضرب سے بمعنی حقیر سمجھنا، چھوٹا جاننا۔

❖ طلیق: طَلَقٌ، طُلُوقاً و طُلُوقَةً باب کرم سے بمعنی ہنس مکھ ہونا، خندہ پیشانی ہونا۔

تشریح: کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھا جائے

لاَ تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئاً: نیکی میں سے کسی کو حقیر نہ سمجھنا اس حدیث میں اس بات کی ترغیب ہے کہ آدمی کسی بھی نیکی کو خواہ وہ دیکھنے کے اعتبار سے چھوٹی کیوں نہ ہو (۱) اس کو کر لینا چاہئے ہو سکتا ہے اللہ کے دربار میں یہی چھوٹی نیکی قبول ہو جائے۔

اپنے دشمن سے بھی خندہ پیشانی سے ملنا چاہئے

وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلِيْقٍ: اگرچہ اپنے بھائی سے ملاقات کرتے وقت خندہ پیشانی سے ملنا ہی ہو۔

مولانا ادریس کاندہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خندہ پیشانی سے ملنا نیکی ہے، کیونکہ اس سے مخاطب کو خوشی وفرحت حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کے دل کو خوش کرنا بھی نیکی ہے (۲) اس سے محبت پیدا ہوتی ہے جو مطلوب و محبوب عمل ہے، بعض محدثین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دشمن بھی ملاقات کے لئے آئے تب بھی اس سے خوشی سے ملاقات کی جائے (۳) جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھے ایک شخص کی برائی بیان فرما رہے تھے کچھ دیر کے بعد وہی آدمی حاضر ہو گیا تو آپ ﷺ اس سے بھی بہت ہی بشاشت کے ساتھ ملے۔ (۴)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب البر، (باب استحباب طلاقة الوجه عند اللقاء)، واخرجه الترمذي مطولاً، والبغوى في المشكوة.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوذرؓ کے حالات حدیث نمبر (۶۱) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) روضۃ المتقین ۱۶۵/۱ (۲) التعلیق الصبیح شرح مشکوٰۃ المصابیح (۳) مرقاۃ شرح مشکوٰۃ (۴) مشکوٰۃ شریف

زمزم پبلشرز

صفحہ نمبر 347

۳۴۷

روضۃ الصالحین جلد اول

آدمی پر ہر جوڑ کے بدلے میں صدقہ واجب ہے

(۱۲۲) ﴿عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيْهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْتَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلَوةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيْطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ﴾ (متفق عليه)

وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ اَيْضًا مِنْ رِّوَايَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِيْ آدَمَ عَلٰى سِتِّيْنَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللّٰهَ وَحَمِدَ اللّٰهَ وَ هَلَّلَ اللّٰهَ وَسَبَّحَ اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ اللّٰهَ وَ عَزَلَ حَجَراً عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ اَوْ شَوْكَةً اَوْ عَظْمًا عَنْ طَرِيْقِ النَّاسِ اَوْ اَمَرَ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ نَهٰى عَنْ مُنْكَرٍ، عَدَّ دَالسِّتِّيْنَ وَ الثَّلَاثِ مِائَةٍ فَإِنَّهُ يُمْسِيْ يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ.“

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کے تمام جوڑوں پر صدقہ واجب ہے جب سورج نکلتا ہے۔ دو انسانوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھانے یا سواری پر سامان رکھوانے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ عمدہ بات کہنا صدقہ ہے، جو قدم نماز کی طرف اٹھتا ہے صدقہ ہے، راستہ سے تکلیف دہ چیز کا اٹھانا صدقہ ہے۔ امام مسلمؒ نے اس حدیث کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا، انہوں نے بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام بنی آدم کے تین سو ساٹھ اعضا پیدا کئے گئے ہیں پس جو شخص اللہ اکبر کہے، اللہ کی حمد کرے، تہلیل و تسبیح بیان کرے، استغفار کہے، راستے سے پتھر (کی رکاوٹ) کو دور کرے یا کانٹا اور ہڈی کو راستہ سے ہٹادے یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔ کرے (ان کاموں کی گنتی) تین سو ساٹھ ہو جائے تو وہ اس حال میں شام کرے گا کہ اس نے اپنے آپ کو جہنم سے دور کر لیا۔“

لغات: ❖ تعدل: عدل، عدلاً ضرب سے بمعنی برابری کرنا، انصاف کرنا، سمع سے بمعنی ظلم کرنا۔

❖ تعین: عون تعویناً تفعیل سے اعان، اعانۃً افعال سے بمعنی مدد کرنا۔

❖ خطوة: الخطوة بمعنی چلنے کے وقت دو قدموں کے درمیان کا فاصلہ۔

❖ مفصل: المَفْصِل بمعنی بدن کے اعضاء کا جوڑ، جمع مفاصل۔

❖ شوکة: شاک، شوکاً نصر سے بمعنی کانٹا چبھونا۔ الشوکة بمعنی کانٹا۔

زمزم پبلشرز

صفحہ نمبر 348

۳۴۸

روضۃ الصالحین جلد اول

❖ زحزح: زحزح، زحزحةً رباعی مجرد سے بمعنی دور کرنا، ہٹانا۔

تشریح: كُلُّ سُلَامٰى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ: ہر جوڑ کے بدلے میں ایک صدقہ ہے۔ جوڑ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے اسی کی برکت سے انسان کے اعضاء کام کرتے ہیں، لہٰذا اس نعمت کے شکرانہ کے طور پر روزانہ انسان کو اتنا ہی صدقہ کرنا چاہئے کہ اللہ ان جوڑوں کو صحیح و سالم رکھے۔ (۱)

تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ: ”دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا بھی صدقہ ہے“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صدقہ صرف مال و دولت دینے کا نام نہیں بلکہ صلح کروا دینا یہ بھی مال خرچ کرنے کی طرح ہے۔ (۲)

وَتُعِيْنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا: کسی آدمی کو اس کی سواری پر بٹھا دینا یا اس کا سامان اٹھا کر رکھوانے میں مدد کرنا بھی صدقہ ہے۔ ابن بطالؒ فرماتے ہیں یہ تو دوسرے کے جانور میں مدد کرنے کا اجر ہے، اگر وہ اپنی ہی سواری پر سوار لے لے تو اس کا اجر تو اس سے بھی زیادہ ہوگا۔

وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ: ”اچھی بات کرنا صدقہ ہے“ یہی معنی میں قرآن کی یہ آیت بھی ہے ”قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَا اَذًى.“ (۳)

وَكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيْهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ: ہر وہ قدم جس سے چل کر آدمی نماز کی طرف جائے یہ بھی صدقہ ہے۔

دوسری روایت میں یہ وضاحت بھی آئی ہے۔

”مَنْ تَطَهَّرَ فِيْ بَيْتِهِ ثُمَّ مَشٰى إِلٰى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللّٰهِ لِيَقْضِى فَرِيْضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللّٰهِ كَانَتْ خُطْوَتُهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً وَالأُخْرٰى تَرْفَعُ دَرَجَةً.“ (۴)

وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ: اپنے نفس کو جہنم سے دور کر لیا یا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اعمال کرنا اپنے جوڑوں کے بقدر اپنے جسم کو جہنم کی آگ سے بچانا ہے۔ (۵)

یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ آدمی کچھ بھی نہ کر سکے تو صرف چاشت کی نماز ۳۶۰ جوڑوں کے بدلہ میں ہو جاتی ہے۔

تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب الصلح. (باب فضل الاصلاح بين الناس و العدل بينهم) وكتاب الجهاد (باب فضل من حمل متاع صاحبه في السفر) وصحيح مسلم كتاب الزكاة (باب بيان ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف) واخرجه احمد ٨١٨٩/٣، و سنن ابن حبان ٣٣٨١، و البيهقي ١٨٧/٤ تا ۱۸۸ ومشكوة ايضاً.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) مظاہر حق جدید ۲۶۴/۲ (۲) روضۃ المتقین ۱/ ۱۶۵ (۳) سورت بقرہ آیت ۲۶۲

(۴) مسلم شریف۔ کتاب المساجد و مواضع الصلوۃ (باب فضل الصلوۃ المکتوبۃ الخ) (۵) دلیل الفالحین

زمزم پبلشرز



صفحہ (349)

روضتہ الصالحین جلد اول

مسجد میں صبح و شام جانے والے اللہ کے مہمان ہیں

(123) عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ" (متفق عليه)

"النُّزُلُ" الْقُوتُ وَ الرِّزْقُ وَمَا يُهَيَّأُ لِلضَّيْفِ:

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ جو شخص صبح و شام مسجد کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس صبح و شام کو جنت میں اس کی مہمانی تیار کرتے ہیں۔"

"النزول" کے معنی ہیں خوراک، روزی اور وہ چیز جو مہمان کے لئے تیار کی جائے۔

لغات:

غدا: الْغَدْوَةُ بمعنی وقت صبح، طلوع فجر اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت، دن کا شروع حصہ جمع غُدِیٌّ وغُدُوٌّ۔

راح: راح، روحاً نصر سے بمعنی شام کے وقت آنا یا جانا یا کام کرنا۔ وقت کی قید کے بغیر مطلق جانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔

نزلاً: نزل، نزولاً ضرب سے۔ القوم بالقوم کسی کے یہاں مہمان اترنا، التنزیل بمعنی مہمان۔

تشریح:

وَمَنْ غَدَا فِي الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ: جو صبح یا شام کو مسجد کی طرف جاتا ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مطلق ہے مسجد میں جائے، خواہ اعتکاف کی نیت سے یا قرآت قرآن کے لئے یا نماز کے لئے۔ (1)

بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں مسجد کی طرف جانے کی اور نماز باجماعت پڑھنے کی ترغیب ہے۔ (2)

اس حدیث کے بارے میں صاحب معارف الحدیث تحریر فرماتے ہیں کہ بندہ صبح یا شام جس وقت بھی اور دن میں جتنی دفعہ بھی خدا تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہوتا ہے رب کریم اس کو اپنے عزیز مہمان کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہر دفعہ کی حاضری پر جنت میں اس کے لئے مہمانی کا خاص سامان تیار کراتا ہے جو وہاں پہنچنے کے بعد بندہ کے سامنے آنے والا ہے، اور ظاہر ہے کہ رب کریم کے جنت والے سامان مہمانی کا یہاں کون تصور کر سکتا ہے۔ (3)

تخریج حدیث: صحیح بخاری کتاب الاذان (باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح)، وصحیح مسلم کتاب المساجد (باب المشى إلى الصلوۃ تمحى به الخطايا الخ) واخرجه احمد 5 / 2037۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(1) دلیل الفالحین 1 / 352-353

(2) نزہۃ المتقین 1 / 124

(3) معارف الحدیث 3 / 173

صفحہ (350)

روضتہ الصالحین جلد اول


کوئی کسی کے ہدیے کو معمولی نہ سمجھے

(124) وَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا نِسَآءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ" (متفق عليه)

قَالَ الْجَوْهَرِيُّ الْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِيْرِ كَالْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّةِ قَالَ: وَرُبَّمَا اسْتُعِيرَ فِي الشَّاةِ۔

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی ہمسایہ عورت کو بکری کی کھر کا (ہدیہ بھیجوانے) کو معمولی نہ سمجھے۔"

لغات:

جارة: جاور، مجاورة، مفاعلہ سے بمعنی پڑوس میں رہنا۔ الجار بمعنی پڑوسی۔

فرسن: الفرسن بمعنی اونٹ کے کھر کا کنارہ، جمع فراسن، استعارةً بکری کے کھر پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔

تشریح:

عورتوں کو کیوں مخاطب کیا گیا؟

يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ: "اے مسلمان عورتو!" ایک دوسری روایت میں "يَا نِسَاءَ الْمُؤْمِنِينَ" کے الفاظ بھی منقول ہیں (1) اس سے معلوم ہوا کہ اس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں۔ کہ وہ کسی کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے۔ جو حدیث بالا میں عورتوں کو صرف مخاطب بنایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عادت عورتوں میں کچھ زیادہ ہوتی ہے۔ (2)

لا تحقرن جارة لجارتها کے دو مطلب

لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا: کہ کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے۔

اس حدیث کے محدثین نے دو مطلب بیان فرمائے ہیں:

ہدیہ کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی بھی کسی کے ہدیہ کو معمولی نہ سمجھے، ہو سکتا ہے کہ وہ ہدیہ دیکھنے میں تو معمولی سا ہو مگر اخلاص کی وجہ سے اللہ کے نزدیک اس کی قیمت بہت زیادہ ہو۔

دینے والے کی طرف اشارہ ہے کہ جس نے یہ ہدیہ تمہارے پاس بھیجا ہے اس بھیجنے والے کو معمولی اور حقیر نہ سمجھا جائے۔ (3)

اس جز سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہدیہ دیتے رہنا چاہئے اگر زیادہ نہ پائے تو معمولی ہی دے دیا کریں یہ بھی نہ دینے سے بہتر ہے۔ (4)

وَ لَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ: اگرچہ وہ بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ علماء فرماتے ہیں کہ بکری کا کھر تو کوئی کسی کو ہدیہ نہیں دیتا یہ تو تحفہ دینے کے قابل ہی نہیں؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں مبالغہ کہا جا رہا ہے کہ ہدیہ میں بھیجی جانے والی...

صفحہ (351)

روضتہ الصالحین جلد اول

چیز کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے بکری کا کھر ہی ہدیہ میں بھیج دیا تو اس کو قبول کرلو۔ (5)

تخریج حدیث: صحیح بخاری، اوائل کتاب الهبة، كتاب الادب، (باب لا تحقرن جاره لجارتها)۔ صحیح مسلم، کتاب الزکوۃ (باب الحث على الصدقة و لو بالقلیل. و لا تمنعوا من العلیل لاحتقاره)۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) طبرانی عن عائشہ رضی اللہ عنہا

(2) مرقاۃ شرح مشکوۃ

(3) دلیل الفالحین 1 / 352

(4) نزہۃ المتقین 1 / 167

(5) مرقاۃ ، مظاہر حق جدید 2 / 262


ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں

(125) التَّاسِعُ: وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَ سَبْعُونَ، أَوْ بِضْعٌ وَ سِتُّونَ شُعْبَةً: فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ" (متفق عليه)

"البضع" من ثلاثة الى تسعة، بكسر الباء و قد تفتح "و الشعبة" القطعة۔

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان فرماتے ہیں کہ ایمان کی ستر سے کچھ اوپر یا ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں، سب سے افضل شاخ "لا الہ الا اللہ" کہنا ہے سب سے کم درجہ میں یہ ہے کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا اور حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔"

"بضع" کا لفظ تین سے نو تک کے عدد کے لئے بولا جاتا ہے اور یہ باء کے زیر کے ساتھ ہے اور کبھی زبر سے بھی پڑھ لیا جاتا ہے۔ "شُعْبَةٌ" بمعنی حصہ اور ٹکڑا ہے۔

لغات:

بضع: البضع بمعنی تین سے نو تک کا عدد۔

شعبة: الشعبة بمعنی درخت کی شاخ، فرقہ، گروہ۔

الحیاء: حیى، حياة سمع سے بمعنی زندہ رہنا، حتّی يحيى ادغام یاء کے ساتھ بھی آتا ہے، شرمندہ ہونا، شرمانا، الحیاء بمعنی شرم و حیاء۔

صفحہ (352)

روضتہ الصالحین جلد اول

تشریح: لفظ "بضع" کی تحقیق

بِضْعٌ وَ سِتُّونَ: ساٹھ سے کچھ اوپر، بضع کے مصداق میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے چند اقوال نقل کئے ہیں مشہور یہ ہے کہ تین سے لیکر نو تک کو کہتے ہیں اسی پر قزاز نے جزم کیا ہے۔ ابن مندہ فرماتے ہیں کہ بضع کا اطلاق تین سے دس تک پر کیا جاتا ہے، ایک قول ایک سے نو تک کا بھی ہے۔ اور ایک قول دو سے دس تک کا بھی ہے۔ (1)

"شُعْبَةٌ": اس پر تنوین تعظیم کے لئے ہے یعنی حیاء ایمان کا بہت بڑا شعبہ ہے اس حدیث شریف میں نبی کریم ﷺ نے اجمالاً ستر ایمانی شاخوں کا ذکر فرمایا مگر اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی کیونکہ اگر ان سب کی تفصیل بیان کی جاتی تو وہ طویل کا باعث بن جاتا مگر ساتھ ساتھ نہایت بلاغت کے ساتھ ان سب شعبوں کے طرف اشارہ بھی فرما دیا۔

حدیث کی جامعیت

بعض محدثین فرماتے ہیں کہ تمام ایمانی شعبوں کی دو قسمیں ہیں:

جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔

جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔

پہلی بات کو قول "لا الہ الا اللہ" سے ذکر کر دیا۔ کہ کلمہ طیبہ ہی سب سے اہم حقوق اللہ میں سے ہے دوسری بات کو "اماطة الاذى عن الطريق" سے ذکر کر دیا کہ جب یہ دوسرے کی رکھی ہوئی تکلیف دہ چیز کو دور کر رہا ہے تو وہ خود کیسے دوسروں کو تکلیف پہنچا سکتا ہے۔ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ ایمانی شعبہ دو قسم پر ہے (1) قولی (2) فعلی۔

قولی میں "لا الہ الا اللہ" کو ذکر فرمایا اور فعلی میں "إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ" کو بیان فرما کر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ایمان کی سربزی کے لئے اقوال اور افعال کا صحیح ہو جانا ضروری ہے۔

بعض نے اس طرح سمجھایا ہے کہ ایمانی شعبہ میں سے بعض کا تعلق کرنے سے ہے اور بعض کا تعلق نہ کرنے سے ہے تو "لا الہ الا اللہ" میں کرنے کا ذکر فرما کر تمام کرنے والی چیزوں کو جمع فرما دیا۔ اور "اماطة الاذى عن الطريق" میں نہ کرنے والے شعبہ کو جمع فرما دیا۔

شعبۂ ایمانی پر لکھی جانے والی چند کتب

علامہ عینی رحمہ اللہ نے ایمان کے شعبہ جات پر لکھی ہوئی کتابوں کا تذکرہ فرمایا ہے (2) مثلاً:

امام ابوعبد اللہ حلیمی رحمہ اللہ کی کتاب جس کا نام "المنهاج" ہے۔

امام ابوبکر البیہقی کی کتاب شعب ایمان کے نام سے ہے۔

شیخ عبد الجلیل کی کتاب، کتاب کا نام ہی شعب ایمان ہے۔

صفحہ (353)

روضتہ الصالحین جلد اول

4. علامہ اسحاق بن القرطبی نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام "کتاب النصائح" ہے۔

5. امام ابوحاتم ابن حبان بستی نے بھی ایک کتاب لکھی جس کا نام "وصف الایمان و شعبه" ہے۔

الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ:

حیاء بھی بضع و ستون میں داخل تھا مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کو مستقل بیان فرما دیا کہ جب آدمی میں حیاء ہے تو وہ تمام اوامر کا خیال رکھے گا اور تمام نواہی سے بچے گا۔ (3)

تخریج حدیث: أخرجه صحیح بخاری کتاب الایمان، (باب امور الایمان.) و صحیح مسلم کتاب الایمان (باب شعب الایمان) و ابوداؤد و ترمذی و النسائی و ابن ماجه و ابن حبان.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(1) فتح الباری 1 / 51

(2) عمدۃ القاری 1 / 128

(3) المفردات في غريب القرآن 14

اس موضوع پر اردو میں حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب "فروع الایمان" کا مطالعہ بھی مفید ہوگا۔


ایک کتے کو پانی پلانے سے جنت

(126) الْعَاشِرُ؛ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقِ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَاءَ خُفَّهُ مَاءً ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ: فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" (متفق عليه)

و في رواية للبخاري "فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ." وَ فِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: "بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ، فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ."

"الْمُوْقُ": الْخُفُّ "وَ يُطِيْفُ": يَدُورُ حَوْلَ "رَكِيَّةٍ" وَ هِيَ الْبِئْرُ۔

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی راستہ پر چل رہا تھا کہ وہ شدید پیاسا ہو گیا، اس نے کنواں پایا، اس میں اترا، پانی پیا، باہر آگیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا سخت پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے ہوئے ہے اور کیچڑ کھا رہا ہے، آدمی نے محسوس کیا کہ اس کتے کو شدید پیاس لگی ہوئی ہے جیسا کہ مجھے شدید پیاس لگی تھی۔ چنانچہ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزہ کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ کے ساتھ پکڑا اور اوپر چڑھ آیا، کتے کو پانی پلایا، اللہ نے اس کے عمل کی قدر فرماتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ جانوروں کے ساتھ ہمدردی کرنے میں ثواب ملتا ہے؟ فرمایا: ہر جاندار میں ثواب ملتا ہے۔“

بخاری کی روایت میں ہے اللہ نے اس کے عمل کی قدر دانی کرتے ہوئے اس کی مغفرت فرما دی اور اس کو جنت میں داخلہ دے دیا۔

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک کتا کنویں کے اردگرد گھوم رہا تھا قریب تھا کہ پیاس سے ہلاک ہو جاتا، اچانک بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت کی اس پر نظر پڑی اس نے اپنا موزہ اتارا اس کے ساتھ پانی کھینچا اور اس کو پلا دیا چنانچہ اس کی وجہ سے اس کو معاف کر دیا گیا۔

الموق: موزہ۔ يطيف: کنویں کے اردگرد چکر لگا رہا تھا۔

لغات: ٭ العطش: عطش، عطشاً سمع سے بمعنی پیاسا ہونا۔

٭ يلهث: لهث، لهثاً سمع سے بمعنی پیاس یا تھکن کی وجہ سے کتے وغیرہ کا ہانپ کر زبان ڈالنا۔

٭ الثرى: ثرى ثرىً سمع سے بمعنی مٹی کا خشک ہونے کے بعد تر و نرم ہو جانا، نمناک ہونا۔

٭ بركية: الركية بمعنی پانی والا کنواں جمع رکایا، ورکئی۔

٭ موقها: الموق بمعنی باریک موزہ پر اس کی حفاظت کے لئے موٹا موزہ پہنا جاتا ہے، جمع امواق۔

تشریح: رَجُلٌ يَمْشِيْ بِطَرِیْقٍ اِشْتَدَّ عَلَیْہِ الْعَطَشُ: ایک آدمی چل رہا تھا وہ شدید پیاسا ہو گیا۔

کتے کو پانی پلانے کے دو واقعات ہیں: ایک یہ آدمی ہے دوسرا اسرائیل کی بدکار عورت کا ہے۔ (۱)

منہ سے اس نے موزہ کو کیوں پکڑا؟

فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلاَ خُفَّہُ مَاءً: وہ کنویں میں اترا، اور موزے کو بھرا، اور منہ سے پکڑ کر باہر نکلا، عرب میں عموماً چمڑے کے موزے استعمال کئے جاتے تھے کہ اس میں پانی بھر لیا جائے تو گرتا نہیں ہے۔ اس موزے کو منہ سے پکڑنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ جنگل کے کنویں میں عام طور سے اترنے کے لئے کچھ اینٹیں وغیرہ اس طرح باہر کو نکال دیتے ہیں کہ جن کی مدد سے آدمی نیچے اتر سکتا ہے اور اوپر بھی چڑھ سکتا ہے مگر اترنے اور چڑھنے میں ہاتھ سے مدد لینا ہوتی ہے اس لئے اس نے موزے کو منہ سے پکڑا۔

ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے فرمایا کہ اس سے وہ جانور مستثنیٰ ہیں جن کو مارنے کا حکم ہے مثلاً سانپ، بچھو وغیرہ لیکن دوسرے بعض اہل علم کی رائے یہاں پر بھی یہی ہے کہ شریعت نے اگرچہ ان کو مارنے کا حکم دیا ہے لیکن یہ مطلب نہیں کہ وہ پیاسا ہو تو پانی نہ پلایا جائے۔ شریعت نے قتل کرنے میں بھی بہتری کی رعایت کا حکم دیا ہے۔

فَقَالَ فِيْ كُلِّ كَبِدٍ رَّطْبَةٍ اَجْرٌ: ہر جاندار میں ثواب ملتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ہر گرم جگر والے (یعنی جاندار) میں اجر ہے۔ (۲)

اس سے یہ لطیف امر بھی معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کو جب کسی شخص کا کوئی عمل بھی پسند آ جائے تو اس کی برکت سے اس کے عمر بھر کے تمام گناہ کو بخش دیتے ہیں، اس لئے ہر عمل میں اخلاص کی خوب کوشش کرنا چاہئے تاکہ وہ عمل اللہ کو پسند آ جائے اور ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔

تخریج حدیث: أخرجه صحيح بخارى كتاب الشرب (باب فضل سقى الماء). و كتاب المظالم (باب الأبار على الطريق) و صحيح مسلم كتاب السلام (باب فضل ساقى البهائم. و اطعامها) و أخرج امام مالك فى مؤطأه و أحمد و أبوداؤد و ابن حبان و البيهقى أيضاً.

نوٹ: راوی حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) کنز العمال

(۲) فتح البارى شرح البخارى

(۳) کنز العمال

درخت کاٹنے پر آدمی کو جنت مل گئی

(۱۲۷) ﴿اَلْحَادِیْ عَشَرَ: عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَقَدْ رَاَيْتُ رَجُلاً يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِيْ شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيْقِ كَانَتْ تُؤْذِي الْمُسْلِمِيْنَ.﴾ (رواه مسلم)

وفي رواية: ”مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلٰى ظَهْرِ طَرِيْقٍ فَقَالَ: وَ اللهِ لَاُنَحِّيَنَّ هٰذَا عَنِ الْمُسْلِمِيْنَ لَا يُؤْذِيْهِمْ، فَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ“

وَ فِيْ رِوَايَةٍ لَّهُمَا: ”بَيْنَمَا يَمْشِيْ بِطَرِيْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْكٍ عَلَى الطَّرِيْقِ، فَاَخَّرَهُ فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ“

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک آدمی کو جنت میں پھرتے ہوئے دیکھا اس لئے کہ اس نے راستہ سے ایک درخت کو کاٹ ڈالا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔

اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی راستہ پر سے ایک درخت کی شاخ لیکر گزرا اس نے کہا اللہ کی قسم! میں اس کو مسلمانوں سے دور رکھوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے پس وہ جنت میں داخل کیا گیا۔

بخاری ومسلم کی روایت میں ہے کہ ایک بار ایک آدمی راستہ سے گزر رہا تھا اس نے راستہ پر کانٹوں والی شاخ کو پایا اس نے اس کو راستہ سے ہٹا دیا اللہ نے اس کی قدر دانی فرماتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔“

لغات: ٭ بغصن: الغصن، بمعنی شاخ، جمع غصون و اغصان۔

٭ لانحین: نحی نحیاً فتح سے بمعنی زائل کرنا، دور کرنا، دودھ بلونا۔

تشریح: يَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ: جنت میں چلتے پھرتے دیکھا۔ یعنی جنت کی نعمتوں سے مستفید ہو رہا تھا۔ (۱)

قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِیْقِ: اس درخت کو اس نے کاٹ دیا جو راستے میں تھا۔ لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا یہ اللہ کو بہت پسند ہے، اس کی یہ مثال دی جا رہی ہے کہ ایک آدمی نے اس درخت کو کاٹ دیا جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی، یہ عمل اللہ کو اتنا پسند آیا کہ اسی عمل پر اس کی مغفرت ہو گئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں مراد صرف درخت نہیں ہے ہر وہ چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو مثل گندگی ہو یا کانٹا ہو یا کوئی مردار ہو، غرض کوئی بھی ایسی چیز ہو جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو اس کو ہٹانے پر یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ (۲) اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔

تخریج حدیث: أخرجه صحيح بخارى كتاب الاذان (باب فضل تهجير الى الظهر). و صحيح مسلم كتاب البر. (باب فضل ازالة الاذى عن الطريق) و ابن حبان و أحمد، و البيهقى ١٤/٨۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۱، نزہۃ المتقین ۱/ ۱۲۶

(۲) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۰


ایک جمعہ کی نماز دوسرے جمعہ کی نماز تک گناہوں کے لئے کفارہ ہے


(128) ﴿اَلثَّانِيْ عَشَرَ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ تَوَضَّأَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ ثُمَّ اَتَى الْجُمُعَةَ، فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْجُمُعَةِ وَ زِيَادَةُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا.﴾ (رواه المسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی نماز کیلئے مسجد میں آیا، خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا تو اس کے اور دوسرے جمعہ کے درمیان کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں بلکہ تین دن اور زائد کے، اور جس شخص نے کنکر کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا۔“


[صفحہ 357]

لغات: ٭ مسّ: مس، مساً نصر اور ضرب سے بمعنی چھونا۔

٭ الحصی: حصی حصیا ضرب سے بمعنی کنکری سے مارنا، حصاۃً کنکری جمع حصیات۔

تشریح: فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ: اچھی طرح وضوء کرے۔ اس جملے میں وضوء کو اس کے سنن و آداب کے ساتھ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

اَتَی الْجُمُعَةَ: جمعہ کی نماز کے لئے مسجد میں آیا اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی جماعت کی اہمیت دوسری نمازوں سے زیادہ ہے کہ دوسری نمازیں انفرادی طور سے ادا ہو جاتی ہیں مگر جمعہ بغیر جماعت کے ادا نہیں ہوتا۔

امام خطبہ کے دوران بقدر ضرورت بات کر سکتا ہے

فَاسْتَمَعَ وَ اَنْصَتَ: خاموشی کے ساتھ خطبہ سنا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک خطبہ کا سننا ضروری ہے دینی ضرورت کے تحت امام بقدر ضرورت بات کر سکتا ہے مگر سامعین کو اس کی اجازت نہیں جیسا کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے ”مَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَ الْاِمَامُ يَخْطُبُ اَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا.“ کہ امام جمعہ کے دن خطبہ دے رہا ہو اور کسی نے دوسرے کو کہا کہ خاموش ہو جاؤ تب بھی اس نے لغو کیا۔

غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَ الْجُمُعَةِ وَ زِيَادَةُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ:

”تو اس کے گزشتہ جمعہ اور اس جمعہ کے دوران گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور مزید تین دن کے۔“ کیونکہ شریعت کا قاعدہ ہے ”مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا.“ (۲) ”کہ جو ایک نیکی لائے گا اس کو (کم از کم) دس گنا اجر ملے گا“ تو اس اصول کی بناء پر ایک جمعہ پڑھنے سے آدمی کے دس دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔

وَ مَنْ مَّسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا: جس نے کنکر کو ہاتھ لگایا اس نے لغو کام کیا“ آپ ﷺ کے زمانہ اقدس میں مسجد میں کنکریاں ڈال دی گئی تھیں تو اس حدیث میں فرمایا کہ جس نے ان کنکریوں کو بھی خطبہ کے دوران الٹ پلٹ کیا اس نے لغو کام کیا اس سے معلوم ہوتا ہے خطبہ نہایت ہی خشوع و خضوع سے سننا چاہئے۔ (۳)

تخریج حدیث: أخرجه صحيح مسلم كتاب الجمعة (باب فضل من استمع و أنصت فى الخطبة) و إمام مالك ٢٩٥، و أحمد ١٠/ ١٠٩٩٨ و ترمذى و ابن ماجه و ابن حبان ٥٣٦۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) ترمذی ابواب الجمعہ، (باب ماجاء فی کراھیۃ الکلام والامام یخطب)

(۲) سورۃ الانعام، آیت

(۳) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۲۔ دلیل الفالحین ۱/ ۳۶۳




صفحہ 358

روضۃ الصالحین جلداول


نمازی کے اعضاء سے وضو کرنے کے ساتھ ہی صغیرہ گناہ نکل جاتے ہیں

(129) ﴿الثَّالِثَ عَشَرَ: عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ، أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ، أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَتْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ"﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمان یا مومن انسان وضو کرتا ہے اپنا منہ دھوتا ہے تو اس کے منہ سے وہ تمام گناہ جو اس کی بری نظر سے سرزد ہوئے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ نکل جاتے ہیں، اور وہ جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے وہ گناہ جو ہاتھ کے ساتھ پکڑنے سے سرزد ہوئے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے اور جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو تمام وہ گناہ جو اس کے پاؤں کے چلنے کے ساتھ ہوئے، پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے بالکل صاف نکل جاتا ہے۔“

لغات: ٭ بطشتها: بَطْشٌ بَطْشاً نَصَرَ اور ضَرَبَ سے بمعنی پکڑنا، گرفت کرنا۔

٭ نقياً: نقی، نقاء سَمِعَ سے بمعنی صاف ہونا، خالص ہونا۔

تشریح: اَلْعَبْدُ الْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤْمِنُ: جب مسلمان یا مومن وضوء کرتا ہے ”أو“ یہ راوی کے شک کو ظاہر کرتا ہے کہ یہاں راوی کو شک ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے ”مسلم“ فرمایا تھا یا ”مؤمن“ فرمایا۔

وضوء کرنے سے گناہوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے

خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ: قاضی ابوبکر ابن عربی فرماتے ہیں کہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ تقدیری عبارت یوں ہے ”خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ أَثَرُ كُلِّ خَطِيئَةٍ“ کہ گناہ کا جو اثر تھا وہ ختم ہو جاتا ہے۔ (۱) جیسے ایک روایت میں آتا ہے جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے جتنے گناہ کرتا ہے اتنے سیاہ نقطے دل میں لگتے رہتے ہیں (۲) تو وضو کی برکت سے انسان نے جو گناہ کیا ہے اس کا اثر ختم ہو جاتا ہے جیسا کہ علامہ ابوالمواہب عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ کے حوالے سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی یہ بات نقل کی گئی ہے کہ ایک آدمی کو غسل کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کہ زنا نہ کیا کرو کہ اس


صفحہ 359

روضۃ الصالحین جلداول


کے غسل کے پانی میں زنا کا اثر نظر آ رہا تھا۔ (۳)

نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ: جو گناہ آنکھوں سے سرزد ہوئے ہیں، اس روایت میں صرف آنکھ کا ذکر ہے۔ جب کہ دوسری روایت میں ناک اور منہ کا بھی ذکر ہے۔ (۴)

حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ: یہاں تک کہ وہ گناہوں سے بالکل صاف ہو جاتا ہے۔

کیا وضو سے صغائر اور کبائر دونوں قسم کے گناہوں سے متوضی کو صاف کر دیا جاتا ہے؟

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو وغیرہ سے صغائر گناہ معاف ہوتے ہیں نہ کہ کبائر کیونکہ اس کے لئے توبہ شرط ہے (۵) بعض علماء نے اس کے کئی جوابات اور بھی دیئے ہیں۔ ”مرتب الکوکب الدری“ فرماتے ہیں مراد یہاں پر صغائر گناہ ہیں (کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے) اور جو حدیث میں ”حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ“ فرمایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لئے یہ بات بعید ہے کہ وہ مرتکب کبائر ہو۔ اگر اس سے کبیرہ گناہ ہو جاتا ہے تو جب تک وہ توبہ نہ کرے اس کو چین نہیں آتا یہی جواب شیخ الہند رحمہ اللہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔ (۶)

اس حدیث میں بھی لفظ عبد کا ذکر ممکن ہے اسی وجہ سے کیا گیا ہو، اور بعض علماء نے یہاں پر سکوت اختیار کیا ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر صغیرہ گناہ معاف ہوں گے کیونکہ دوسری روایت میں ”مَا لَمْ تُؤْتَى كَبِيرَةٌ“ (کہ جب تک وہ کبیرہ گناہ نہ کرے) کی قید موجود ہے۔ (۷)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الطهارة (باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء). و ابوداؤد و الترمذى و ابن ماجه.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) شرح مسلم للنووی ۱/ ۱۲۵

(۲) فتح الملہم ۱/ ۲۰۹

(۳) ترمذی ۱۶۹/۲۔ رواہ النسائی وابن ماجہ ایضاً

(۴) نسائی ۱/ ۱۴۔ مؤطأ مالک ۱۰۔ مستدرک حاکم ۱/ ۱۲۹۔ مسلم ۱/ ۱۲۵

(۵) شرح مسلم ۱/ ۱۲۱

(۶) الورد الشذی

(۷) فتح الباری ۱/ ۲۰۹


صفحہ 360

روضۃ الصالحین جلداول


ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کے لئے کفارہ ہے

(۱۳۰) ﴿الرَّابِعُ عَشَرَ: عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَ الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَ رَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَتِ الْكَبَائِرُ"﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک، رمضان المبارک سے رمضان المبارک تک کے درمیان کے گناہ (ان اعمال سے) معاف ہو جاتے ہیں بشرطیکہ کبائر گناہوں سے بچا جائے۔“

تشریح: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ: پانچوں نمازیں، جمعہ سے جمعہ تک، ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک، جتنے گناہ صغائر ہوتے ہیں ان سب کو اللہ ان اعمال کی برکت سے معاف فرما دیتے ہیں۔

اعمال سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں

إِذَا اجْتَنَبْتِ الْكَبَائِرُ: جب تک کبائر گناہوں سے اپنے آپ کو بچاتا رہے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کبیرہ گناہ کے لئے توبہ ضروری ہے یہی جمہور علماء کا مذہب ہے اسی پر اجماع المسلمین ہے۔ (۱)

مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اتفاق است علماء را کہ مراد گناہ ہائے صغیرہ است بدلیل: قولہ علیہ السلام“ ”الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَ الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ.“ (۲)

نیز یہ کہ اگر اعمال سے صغیرہ اور کبیرہ ہر قسم کے گناہ معاف ہو جائیں تو اب کوئی آدمی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔ کچھ نہ کچھ عمل تو آدمی کرتا ہی ہے۔ (۳)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الطهارة (باب الصلوات الخمس والجمعة الى الجمعة و رمضان الى رمضان مكفرات). والترمذي.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) التمہید لابن اثیر (۲) الاشعة اللمعات (۳) فتح الملہم


درجات کو بلند کرنے والے اعمال

(131) ﴿الْخَامِسُ عَشَرَ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟" قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ وَ انْتِظَارُ الصَّلَوةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ"﴾ (رواہ مسلم)

ترجمہ: ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند فرمائے؟ صحابہ نے عرض کیا ضرور یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا مشقت کے وقت میں مبالغہ کے ساتھ وضوء کرنا۔ اور مسجدوں کی طرف زیادہ آمد و رفت رکھنا اور نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، اسی کا نام رباط ہے۔“

لغات: ٭ ادلکم: دلّ دلالةً و دلولةً نصر سے بمعنی راہنمائی کرنا، راستہ دکھانا۔

٭ یمحو: محا محواً فتح سے بمعنی مٹانا۔

٭ الرباط: بمعنی جس سے کوئی چیز باندھی جائے وہ جگہ جہاں لشکر حفاظت سرحد کے لئے پڑاؤ ڈالے، اس کی جمع ربوط آتی ہے۔

تشریح: يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا: اللہ گناہوں کو مٹا دے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کنایہ ہے مغفرت سے (۱) نیز مراد یہ ہے کہ اللہ ان اعمال کی برکت سے گناہوں کو زائل کر دیتے ہیں۔ (۲)

وضوء میں مبالغہ کرنا

إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ: وضوء کو مبالغہ کے ساتھ کرنا، اعضاء کو ایک بار دھونا تو فرض ہے اور تین بار دھونا سنت اور مستحب ہے تین بار سے زائد دھونا اس روایت سے جائز معلوم ہوتا ہے۔

علامہ شامیؒ فرماتے ہیں ائمہ احناف سے دھونے کی تعداد کے بارے میں کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ علامہ شامی فرماتے ہیں ”لَوْ زَادَ عَلَى الثَّلَاثِ لِطُمَأْنِيَةِ الْقَلْبِ لَا بَأْسَ بِهِ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ: "دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ".“ (۳)

عَلَى الْمَكَارِهِ: ”مشقت کے وقت“ میں اس سے مراد یہ ہے کہ پانی کو قیمت سے زائد پر خریدنا پڑتا ہے یا سخت سردی ہو رہی ہو۔ یا جسمانی درد وغیرہ کے وقت میں پانی کا استعمال ناگوار ہو تب بھی وہ کرے۔ (۴)

اِنْتِظَارُ الصَّلَوةِ بَعْدَ الصَّلَوةِ: ایک نماز پڑھنے کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھا رہے دوسری نماز کے ادا کرنے کے لئے یا مطلب یہ ہے کہ مسجد سے اگرچہ وہ باہر چلا جاتا ہے مگر ”قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِهَا“ مگر نماز ہی میں اس کا دل اٹکا ہوا ہے۔

”رباط“ کی تحقیق

فَذَالِكُمُ الرِّبَاطُ: اسی کا نام رباط ہے۔ ”رباط“ کہتے ہیں سرحد کی حفاظت کو کہ دشمنوں سے اس کی حفاظت کرنا، تو ان اعمال کو رباط اس لئے کہا گیا کہ ان اعمال سے بھی شیطان سے انسان کی حفاظت ہوتی ہے۔ جیسے کہ دوسری روایت میں آتا ہے ۔ ”رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الأَكْبَرِ“ ”دشمنوں کے جہاد سے نفس کی جہاد کی طرف لوٹے ہیں“ نفس کی بھی مسلسل نگرانی کرنی ہے کہ کسی وقت بھی شیطان حملہ کر سکتا ہے۔ موطا مالک میں یہ دو مرتبہ ہے، نیز ترمذی میں یہی جملہ تین مرتبہ نقل کیا گیا ہے، اہتمام کی وجہ سے اس کا تکرار کیا گیا ہے۔ (۵)

تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب الطهارة باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره. رواه مالك في المؤطاء ٣٨٦ و أحمد ٧٢١٣/٣ ترمذی و النسائی.

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کے حالات حدیث نمبر (۷) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۳

(۲) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۳

(۳) رد المحتار ۱/ ۹۶

(۴) فتح الملہم۔ فیض الباری

(۵) فتح الملہم۔ التعلیق الصبیح ۔ شرح الطیبی

فجر اور عصر کی نماز پڑھنے سے جنت

(132) ﴿السَّادِسُ عَشَرَ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ"﴾ (متفق عليه)

”الْبَرْدَانُ“ الصُّبْحُ وَ الْعَصْرُ.

ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہے جنت میں داخل ہوگا۔“

لغات: ٭ الْبَرْدَيْنِ: برد، برداً نصر سے بَرُدَ برودۃً کرم سے بمعنی ٹھنڈا ہونا، البردان و الابردان بمعنی صبح و شام بھی مستعمل ہے۔

تشریح:

فجر اور عصر کی نماز کی فضیلت

مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ: ”بردین“ کی خود وضاحت حدیث شریف میں فرمائی گئی ہے۔ کہ اس سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے، ایک دوسری روایت میں یہ مضمون آتا ہے۔ ”لَا يَلِجُ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَ الْعَصْرَ.“ (۱) یعنی جس نے سورج نکلتے وقت اور غروب کے وقت کی نمازیں ادا کیں وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ یعنی فجر اور عصر کی نماز۔

کیا جنت کے دخول کے لئے عصر اور فجر کی نماز کافی ہے؟

سوال: صرف فجر اور عصر کی نماز پڑھنا کافی ہے جس کی وجہ سے جہنم میں داخل نہیں ہوگا اگرچہ وہ باقی نمازیں یا دوسرے گناہ بھی کرتا رہے؟

پہلا جواب: علامہ علقمی اور علامہ قزاز فرماتے ہیں یہ ابتداء اسلام کی بات تھی جب کہ صرف فجر اور عصر کی نماز ہی فرض تھی، پانچ وقتوں کی نماز فرض نہیں ہوئی تھی۔ (۲)

دوسرا جواب: علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ میں اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جو شخص فجر اور عصر کے وقتوں کا اہتمام کریگا وہ باقی وقتوں کا بدرجہ اولیٰ کریگا کیونکہ فجر میں نیند کی غفلت کا وقت ہوتا ہے اسی طرح عصر میں کام کی مشغولیت ہوتی ہے۔ اور جب یہ نمازوں کا اہتمام کریگا تو ارشاد خداوندی ہے ”اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ“ ”بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے“ تو نماز کی برکت سے وہ اور گناہوں سے بچتا رہیگا۔ اس بناء پر وہ جنت میں داخل ہوجائیگا۔ (۳)

تخريج حديث: أخرجه صحيح بخارى كتاب مواقيت الصلوٰة (باب فضل صلاة الفجر) و صحيح مسلم كتاب المساجد (باب فضل صلاتى الصبح و العصر و المحافظة عليهما). أحمد ١٦٧٣٠/٥. و الدارمي ٣٣١/١ و ابن حبان و البيهقى ٤٦٦/١۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے حالات حدیث نمبر (۸) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) مسلم شریف

(۲) دلیل الفالحین ۱/ ۳۹۷

(۳) طیبی شرح مشکوٰۃ

بیماری اور سفر میں آدمی کو پورا ثواب ملتا ہے

(132) ﴿السَّابِعُ عَشَرَ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيْمًا صَحِيْحًا“﴾ (رواه البخاري)

ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کا ثواب اسی طرح لکھا جاتا ہے جیسا کہ وہ تندرستی کی حالت یا وطن میں عمل کرتا تھا۔“

تشریح: اس حدیث کا مضمون متعدد روایات میں ملتا ہے (۱) کہ جب آدمی مرض یا سفر کی وجہ سے وہ اعمال نہیں کرسکتا جو حالت صحت یا حالت قیام میں جس کی اس کو عادت تھی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے وہ اجر وثواب عطاء فرماتے ہیں جس کو وہ حالت صحت اور حالت قیام میں کرتا تھا۔

ابن بطالؒ فرماتے ہیں مراد اس حدیث شریف میں استحباب اور نفل کے اعمال ہیں کہ اس کو نہ کرنے کا بھی ثواب ملتا ہے، مگر فرائض و واجبات تو ہر حالت میں ضروری ہیں۔ اس کو حالت سفر اور حالت مرض میں بھی کرنے کا اجر ملے گا اگرچہ وہ مرض وغیرہ کی وجہ سے کامل ادا نہ بھی کرسکے تب بھی پورا ثواب ملے گا۔ مثلاً مرض کی وجہ سے وہ نماز میں قیام نہ کرسکے بیٹھ کر نماز پڑھے تو اس ناقص ادا پر بھی کامل کا ثواب ملے گا۔

تخريج حديث: أخرجه صحيح بخارى كتاب الجهاد، (باب يكتب للمسافر) وأحمد ١٩٦٩٩/٧۔ وابوداؤد وابن ماجه و البيهقى ٣٧٤/٣۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کے حالات حدیث نمبر (۸) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۵۔ نزہۃ المتقین ۱/ ۱۳۰

ہر اچھا کام صدقہ ہے

(١٣٤) ﴿الثَّامِنُ عَشَرَ: ”عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”كُلُّ مَعْرُوْفٍ صَدَقَةٌ“﴾ (رواه البخاري)

ورواه مسلم من رواية حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ.

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہر اچھا کام صدقہ ہے۔

امام مسلم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

تشریح: معروف: امام راغب فرماتے ہیں کہ ”معروف“ کہتے ہیں کہ جس کو شرعاً اور عقلاً اچھا سمجھا جائے۔ اس حدیث پاک میں اس امر کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ صدقہ میں مال کا دینا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر وہ نیکی جو کسی کے ساتھ کی جائے وہ ثواب کے اعتبار سے صدقہ ہے۔ ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کوئی بھی عمل یا قول جو بھلائی کا ہو ان سب پر صدقہ کا ثواب ملتا ہے۔ (۱)

نیز صدقہ اصل میں اس کو کہتے ہیں جو واجب نہ ہو مگر کبھی کبھار صدقہ کا اطلاق واجب پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے فقہ کی کتابوں میں باب صدقۃ الفطر کا عنوان ہوتا ہے، حالانکہ صدقۃ الفطر واجب ہے نہ کہ نفل۔ (۲)

من رواية حذيفة: یہاں مصنف نے متفق علیہ کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ متفق علیہ کا لفظ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں پر بخاری ومسلم سنداً و متناً متفق ہوں یہاں پر متن میں تو دونوں متفق ہیں مگر سند میں نہیں کیونکہ بخاری میں یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور مسلم میں یہ روایت حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی گئی ہے۔ (۳)


صفحہ 365

روضۃ الصالحین جلد اول

تخريج حديث: صحيح بخارى كتاب الادب (باب كل معروف صدقة)، و صحيح مسلم كتاب الزكوة (باب ان اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف)، و أبوداؤد و أحمد ٢٣٤٣٠/٩ و مصنف ابن شيبة ٥٤٨/٨۔ و ابن حبان و الطبراني في الصغير ٦٧٢۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت جابرؓ کے حالات حدیث نمبر (۴) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۶

(۲) روضۃ المتقین ۱/ ۱۷۶

(۳) دلیل الفالحین ۱/ ۳۶۹

کھیتی باڑی کرنا بھی صدقہ ہے

(١٣٥) ﴿التَّاسِعُ عَشَرَ: عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَامِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةً، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً“﴾ (رواه مسلم)

وفى رواية له: ”فَلَا يَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْساً، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا طَيْرٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةً إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.“ وَفِىْ رواية له: ”لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْساً، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعاً، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ وَلَا دَابَّةٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً“ وروياه جميعاًمن رواية انس رضى الله عنه.

قوله: ”يرزؤه“ أى ينقصه.

ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان درخت نہیں لگاتا مگر جو کچھ اس سے کھایا جاتا ہے صدقہ ہے۔ اور جو چیز اس سے چوری ہوجاتی ہے وہ اس کے لئے صدقہ و خیرات ہے۔

مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ مسلمان جو درخت لگاتا ہے اس سے انسان، چوپائے، پرندے کھاجائیں قیامت تک اس کے لئے صدقہ ہے۔

اور ایک روایت میں ہے مسلمان جو درخت لگاتا ہے یا جو چیز کاشت کرتا ہے اس سے انسان، چوپائے یا کوئی اور چیز کھا جائے تو اس کے لئے صدقہ ہے۔ بخاری مسلم میں اس کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

لغات:

يغرس: غرس غرساً ضرب سے بمعنی درخت لگانا۔

يرزؤه: رزأ، رزأً فتح سے بمعنی کم کرنا، کم دینا، کچھ حاصل کرنا۔

يزرع: زرع، زرعاً فتح سے بمعنی زمین میں بیج بونا۔ زمین جوتنا۔


صفحہ 366

روضۃ الصالحین جلد اول

تشریح: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی مسلمان نے کوئی کھیتی یا درخت لگایا اس سے کوئی آدمی یا جانور چرند و پرند فائدہ اٹھاتے ہیں تو اس کا ثواب مالک کو ملتا ہے گویا اس حدیث شریف میں کھیتی کے مالک کو تسلی دی جارہی ہے کہ جو نقصان ہوا اس پر صبر کرو اس کے بدلہ میں تم کو ثواب ملے گا۔ (۱)

نیت کے بغیر ثواب کیوں؟

سوال: اعمال کا ثواب تو نیت پر موقوف ہے اور یہاں پر کھیتی کے مالک کی نیت تو نہیں ہوتی؟

جواب: اس کے جواب میں شاہ عبدالعزیز بن شاہ ولی اللہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ کھیتی کرنے کا اصل مقصود نوع انسانی اور حیوانی کی خدمت ہے، حصول ثواب کے لئے اجمالی نیت کافی ہے مالک کو ثواب ملے گا اس کی اجمالی نیت سے (یعنی اس نے انسانی وحیوانی زندگی کی بقاء کی نیت کی ہے) اب اس کھیتی سے کوئی مسلمان فائدہ اٹھائے یا حیوان یا چرند و پرند یا جائز طریقہ سے فائدہ اٹھایا جائے یا ناجائز طریقہ سے یعنی چوری وغیرہ کے ذریعہ سے مگر اس کو اس کی اجمالی نیت کی وجہ سے ہر حال میں ثواب ملے گا۔ (۲)

تخريج حديث: صحيح بخارى كتاب الحرث و المزارعة (باب فضل الزرع و الغرس). و صحيح مسلم كتاب المساقاة، (باب فضل الغرس و الزرع)، رواه ترمذى أيضاً.

نوٹ: راوی حدیث حضرت جابرؓ کے حالات حدیث نمبر (۴) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) مظاہر حق جدید ۱/ ۲۶۶

(۲) مظاہر حق جدید ۱/ ۲۶۶

مسجد کی طرف جانے میں ہر قدم پر نیکی ہے

(١٣٦) ﴿الْعِشْرُوْنَ: عَنْهُ قَالَ: أَرَادَ بَنُوْسَلِمَةَ اَنْ يَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: ”إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِى أَنَّكُمْ تُرِيْدُوْنَ أَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟“، فَقَالُوْا: نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَدْأَرَدْنَا ذٰلِكَ، فَقَالَ: ”بَنِىْ سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ؛ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ، دِيَارَكُمْ؛ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ“﴾ (رواه مسلم)

وفى رواية ”إِنَّ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً“ (رواه مسلم) ورواه البخارى أيضا بمعناه من رواية انس رضى الله عنه.

و ”بنوسلمة“ بكسر اللام: قبيلة معروفة من الانصار رضى الله عنهم، و ”آثارهم“ خُطَاهُم.

صفحہ 367

روضۃ الصالحین جلد اول

ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنوسلمہ قبیلہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، چنانچہ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی، آپ ﷺ نے ان کو فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مسجد کے نزدیک انتقال آبادی کرنا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہاں! یا رسول اللہ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے بنو سلمہ! تم اپنے گھروں میں سکونت پذیر رہو، تمہارے قدموں کو لکھا جائے گا۔“

ایک روایت میں ہے کہ ہر قدم کے بدلہ میں درجہ ہے۔ بخاری نے اس کا مضمون حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے۔

بنو سلمہ: لام کے زیر کے ساتھ انصار کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔ آثارھم: ان کے قدم اور قدموں کے نشانات۔

لغات:

ينتقلوا: انتقل انتقالاً، نقل مکانی کرنا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔

خطوة: بمعنی چلنے کے وقت دو قدموں کے درمیان کا فاصلہ۔ عوام اس کو اپنی اصطلاح میں فشحہ بولتے ہیں بمعنی مسافت۔

تشریح: فَقَالَ بَنُوْ سَلِمَةَ دِيَارُكُمْ تُكْتَبُ اثَارُكُمْ: بنوسلمہ تم اپنے گھروں میں رہو تمہارے قدموں کو لکھا جائیگا۔

علماء فرماتے ہیں فضیلت تو زیادہ اسی گھر کی ہوگی جو مسجد سے زیادہ قریب ہو کیونکہ جب مسجد پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو مسجد کے پڑوس والے بھی اس سے محروم نہیں ہوتے۔ جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے:

”فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيْبَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى التَّاسِعَةِ كَفَضْلِ الْغَازِىْ عَلَى الْقَاعِدِ“ (۱)

ترجمہ: مسجد سے جو گھر قریب ہیں اس کی فضیلت دور والے گھر پہ ایسی ہے جیسی غازی کو گھر بیٹھنے والے پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔

مسجد سے قریب تو چند ہی گھر آباد ہوسکتے ہیں باقی گھر مسجد سے دور ہی ہوں گے اس لئے ان کی بھی تسکین خاطر کے لئے ان کی بھی فضیلت حدیث بالا میں ارشاد فرمائی جارہی ہے۔ کہ جتنے قدم بھی رکھے گا اتنی نیکیاں ان کو ملیں گی۔ بعض روایات میں آتا ہے صحابہ مسجد کی طرف جاتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے تھے تاکہ ثواب زیادہ ملے۔

تخريج حديث: صحيح بخارى كتاب الاذان (باب احتساب الآثار). صحيح مسلم كتاب المساجد (باب فضل كثرة الخطا الى المساجد).

نوٹ: راوی حدیث حضرت جابرؓ کے حالات حدیث نمبر (۴) کے ضمن میں گزر چکے ہیں۔

(۱) کنز العمال


صفحہ 368

روضۃ الصالحین جلد اول | 368

نیکی کی حرص کرنے کے بارے میں

(137) الْحَادِي وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فَقِيلَ لَهُ، أَوْ فَقُلْتُ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ، وَفِي الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ جَمَعَ اللّٰهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ» (رواه مسلم)

وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ» "الرَّمْضَاءُ" الْأَرْضُ الَّتِي أَصَابَهَا الْحَرُّ الشَّدِيدُ۔

ترجمہ: "حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کا گھر مسجد سے اتنا دور تھا کہ میرے علم میں کسی دوسرے انسان کا گھر اتنا دور نہیں تھا اور اس کی کوئی نماز (مسجد سے) خطا نہ ہوتی، چنانچہ اس سے کہا گیا یا میں نے اس کو کہا کہ تو ایک گدھا خرید لے کہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرے، اس نے کہا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور واپس گھر آنا (میرے نامہ اعمال میں) لکھا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے اللہ نے ان تمام چیزوں کو جمع کر دیا ہے۔"

ایک روایت میں ہے کہ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔

الرمضاء: تپتی ہوئی زمین۔

لغات:

الظلماء: بمعنی تاریکی، رات کا پہلا حصہ۔

الرمضاء: بمعنی گرمی کی تیزی، دھوپ کی تیزی کی وجہ سے گرم زمین۔

تشریح: جتنا گھر مسجد سے دور ہوگا اتنا زیادہ ثواب ہوگا

اس حدیث شریف میں ترغیب ہے کہ آدمی کا گھر جہاں ہو وہیں رہے مسجد کی دوری سے نہ گھبرائے یہ دوری بھی باعث ثواب بنتی ہے کہ گھر سے مسجد کی طرف جانا اور مسجد سے واپس گھر کی طرف آنا ان سب میں اس کو اللہ کی طرف سے اجر و ثواب ملتا ہے، ایک دوسری روایت میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: "الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ" (1) مسجد میں جو جس قدر دور سے آتا ہے اس کو اتنا ہی اجر ملتا ہے۔

فِي الظَّلْمَاءِ: اس سے رات والی نمازیں یعنی فجر، عشاء اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں۔


صفحہ 369

روضۃ الصالحین جلد اول | 369


الرَّمْضَاءُ: "زمین کا گرم ہونا" اس سے ظہر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔ (2)

قَدْ جَمَعَ اللّٰهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ: "تیرے لئے اللہ نے تمام چیزوں کو جمع کر دیا" یعنی تمہاری نیت بھی اچھی ہے اور ارادہ بھی صحیح ہے اسی لئے اس پر اللہ کی طرف سے ثواب کامل ہوگا۔

كُلَّهُ: یہ کلمہ "ذَلِكَ" کے لئے تاکید ہے۔ (3)

تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب المساجد (باب فضل کثرۃ الخطاء الی المساجد) و ابوداؤد و ابن ماجة۔

راوی حضرت ابوالمنذر ابی بن کعبؓ کے حالات:

نام: ابوالمنذر، و ابوالطفیل کنیت، سید القراء، سید الانصار اور سید المسلمین القاب تھے۔ والدہ کا نام صہیلہ تھا۔ عقبہ ثانیہ میں یہ مسلمان ہوئے۔ بدر سے طائف تک کے تمام معرکوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے، حضرت ابوبکرؓ نے قرآن کی ترتیب و تدوین میں چند صحابہ کو مقرر کیا ان میں ایک یہ بھی تھے۔ حضرت عمرؓ نے صرف فتویٰ کا کام ان کے ذمہ کیا، جب انہوں نے درخواست کی مجھے بھی کسی جگہ کا عامل بنا دیں تو حضرت عمرؓ نے فرمایا تمہارے دین کو دنیا میں ملوث دیکھنا نہیں چاہتا۔ (بخاری کتاب الصلوٰۃ والترویح)

قرآن کے ساتھ ساتھ توراہ اور انجیل کے بھی عالم تھے، ان کے حلقہ درس میں عرب و عجم، روم اور شام و دیگر صوبہ جات اسلامیہ سے طلبہ علم حاصل کرتے تھے۔

حُبِ رسول اللہ ﷺ کا یہ عالم تھا کہ استوانہ حنانہ کو اپنے گھر میں بطور تبرک کے رکھا ہوا تھا، اور جب دیمک نے اس کو چاٹ لیا اس کے بعد اس کو اپنے گھر سے علیحدہ کیا۔ (بخاری 232/2)

وفات: 39ھ میں حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں انتقال ہوا حضرت عثمان غنیؓ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوئے۔

روایات: احادیث کے بیان کرنے میں بہت احتیاط کرتے تھے اسی وجہ سے ان سے صرف 164 احادیث منقول ہیں جن میں سے تین بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں بخاری میں ایک اور مسلم میں سات منفرد ہیں۔

(1) بخاری شریف، وابوداؤد شریف باب ماجاء فی فضل المشى الی الصلوۃ

(2) روضۃ المتقین 178/1

(3) دلیل الفالحین 227/1

دودھ دینے والی بکری کو ہدیہ میں دینے کی فضیلت

(138) الثَّانِي وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلَاهَا مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ» (رواه البخاري)

الْمَنِيحَةُ أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهَا لِيَأْكُلَ لَبْنَهَا ثُمَّ يَرُدَّهَا إِلَيْهِ۔


صفحہ 370

روضۃ الصالحین جلد اول | 370


ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چالیس خصلتیں ہیں، ان میں سے اعلیٰ خصلت کسی کو عاریۃً دودھ دینے والی بکری دے دینا ہے۔ جو شخص بھی انہیں میں سے کسی خصلت پر ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اس کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔"

منیحہ: اس جانور کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو بطور عطیہ دودھ کے لئے دے دے اور پھر وہ واپس کر دے۔

لغات:

خصلۃ: بمعنی عادت، اچھی ہو یا بری، زیادہ استعمال اچھی عادت کے لئے ہے، جمع خصال۔

منیحۃ: بمعنی دودھ والا جانور کسی کو دینا تاکہ وہ دودھ پینے کے بعد اس کو واپس کر دے۔

العنز: مصدر بمعنی بکری، مادہ، چکور، ہرن، جمع عِناز و اَعْنُز و عُنُوز۔

تشریح: چالیس خصلتیں

أَرْبَعُونَ خَصْلَةً: چالیس خصلتیں ہیں، مسند احمد کی روایت میں خصلۃ کی جگہ یہ حسنۃ کا لفظ آیا ہے۔

أَرْبَعُونَ: چالیس خصلتیں یا نیکیاں کون کون سی ہیں اس کو علماء نے احادیث سے جمع کیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:

کام کرنے والے کی مدد کرنا۔

جوتے کا تسمہ دینا۔

مسلمانوں کے عیوب کو چھپانا۔

مسلمانوں کے خوشی میں شامل ہونا۔

مجلس میں آنے والے کے لئے جگہ کشادہ کر دینا۔

بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا۔

درخت لگانا۔

کھیتی باڑی کرنا۔

نصیحت کرنا۔

رحم کرنا۔

سلام کا جواب دینا۔

چھینک کا جواب دینا۔

راستہ سے تکلیف دینے والی چیزوں کا ہٹا دینا وغیرہ۔ (1)


صفحہ 371

روضۃ الصالحین جلد اول | 371


أَعْلَاهَا مَنِيحَةُ الْعَنْزِ: ان خصلتوں میں سے سب سے اعلیٰ خصلت یہ ہے کہ کسی کو دودھ والی بکری دے دے۔

لفظ "منیحۃ" کی تحقیق

علامہ ابوعبیدؒ فرماتے ہیں کہ مَنِيحَة یہ عَظِيمَة کے وزن پر ہے اور اس کے دو معنی آتے ہیں:

کسی کو اس کی ضرورت کے وقت میں دودھ دینے والا جانور دے دے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو وہ اس کے مالک کو لوٹا دے۔

دوسرا یہ کہ دودھ دینے والا جانور مستقل ہدیہ کر دے مگر زیادہ استعمال اول والے معنی میں ہوتا ہے۔

تَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا: اللہ کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے کہ اللہ اپنے وعدے میں سچے ہیں۔

وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا: اور دوسری جگہ پر ارشادِ خداوندی ہے "وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيثًا" (سورہ النساء: 122) اللہ سے زیادہ کون سچا ہوگا "أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ" تو اللہ نے اس شخص کے لئے جو جنت کا وعدہ کیا تو اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائیں گے۔ (3)

تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب الہبۃ (باب فضل المنیحۃ)، واحمد 6846/2، وابوداؤد، وابن حبان 5095 والبیہقی 184/4۔

راوی حضرت ابومحمد عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کے حالات:

نام: عبداللہ، ابومحمد اور ابوعبدالرحمن کنیت، والد کا نام عمرو بن العاص اور والدہ ماجدہ کا نام ریطہ بنت منبہ تھا۔ اپنے والد عمرو سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے (اسد الغابۃ 233/3)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر حاضر رہتے تھے اور جو کچھ آپ ارشاد فرماتے فوراً اس کو قلمبند کر لیتے تھے (مسند احمد 192/2)۔

حضرت ابوہریرہؓ خود فرماتے ہیں ان کو مجھ سے زیادہ حدیثیں یاد ہیں کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔ (تذکرۃ الحفاظ 36)

آپ ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں بھی شریک ہوئے اور جنگ یرموک میں حضرت عمرو بن العاصؓ نے اپنا علم قیادت ان ہی کے ہاتھ میں دے دیا تھا۔ (اسد الغابۃ 233/3)

ان کا حلقہ درس بہت وسیع تھا اور یہ اپنے تلامذہ کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے، ایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے، رات کا اکثر حصہ عبادت میں گذارتے اور ہر تیسرے دن قرآن ختم کرتے تھے۔ (بخاری شریف)

وفات: آپ 65ھ میں مقام ضعا ط میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، اس زمانے میں مروان بن الحکم اور عبداللہ بن زبیر کی جنگ ہو رہی تھی، اس لئے لوگوں نے ان کے ہی گھر میں دفن کر دیا کیونکہ جنازہ کو عام قبرستان تک پہنچانا بھی مشکل تھا۔

مرویات: ان سے سات سو روایات کتب احادیث میں ملتی ہیں جن میں 17 میں بخاری اور مسلم دونوں متفق ہیں اور 8 بخاری میں اور 20 مسلم میں الگ الگ ہیں۔ (تہذیب الکمال 208)

(1) روضۃ المتقین 179/1، ودلیل الفالحین 37/1

(2) روضۃ المتقین 179/1

(3) روضۃ المتقین 179/1


صفحہ 372

روضۃ الصالحین جلد اول | 372

جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی کیوں نہ ہو

(139) الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ» (متفق عليه)

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

ترجمہ: "حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے دوزخ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے۔"

دونوں کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوں گے درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے اور بائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال دکھائی دیں گے اور اپنے سامنے دیکھے گا تو اس کو دوزخ دکھائی دے گی پس دوزخ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کے آدھے حصہ سے ہی ہو، اور اگر یہ میسر نہ آ سکے تو وہ بہتر بات کا صدقہ کرے۔

لغات:

بشق: الشِّقُّ بمعنی آدھا۔ جانب، کنارہ۔

ترجمان: ترجمہ بمعنی کلام، ترجمہ کرنا، صفت ترجمان و تَرْجُمَان، جمع تراجم، تراجمہ۔

أَشْأَمَ: الشَّامَةُ و الْمَشْأَمَةُ بمعنی بایاں پہلو، نحوست، بے برکتی۔

تشریح:

اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ: "دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرنے سے" اس حدیث میں ترغیب ہے کہ آدمی اپنے اور جہنم کے درمیان رکاوٹ قائم کرے صدقہ کے ذریعہ سے، اگر وہ زیادہ صدقہ نہیں دے سکتا تو ایک کھجور ہی دے، اگر یہ بھی ممکن نہیں تو مبالغہ کہا گیا کہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔

لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ: "اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا" اس میں انسانوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ گناہوں سے رک جاؤ کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور اللہ کو جواب دینا ہوگا۔ (1)

قیامت کے دن اعمال نظر آئیں گے

فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ: ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے اسی طرح بائیں جانب دیکھے گا تب بھی اس کو اپنے اعمال ہی نظر آئیں گے۔ یہی مضمون قرآن کی اس آیت "وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا"


صفحہ 373

روضۃ الصالحین جلد اول | 373

حَاضِراً۔“ (2) میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن آدمی اپنے سامنے اپنے اعمال کو حاضر پائے گا۔

فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ اگر کھجور کا ٹکڑا بھی نہ پائے تو اچھی بات کرے اچھی اور بھلائی کی بات کرے اس سے بھی آدمی جہنم سے بچے گا، یہ مضمون قرآن مجید کی ایک آیت میں بھی ملتا ہے ۔ ”قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى۔“ (3)

(اللَّهُمَّ اهْدِنَا لأَطْيَبِ الْكَلَامِ وَوَفِّقْنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ)

تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب التوحيد، و صحیح مسلم کتاب الزکاۃ (باب الحثّ على الصدقة ولو بشق تمرة أو بكلمة طيبة وانها حجاب من النار) واحمد 18276/6 ، وترمذی وابن حبان 3311 ، والطبرانی 208/17 ، والبیہقی 176/4 ۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت عدی بن حاتمؓ کے حالات حدیث نمبر (7) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(1) نزہۃ المتقین 133/1

(2) سورۃ الکہف آیت 49

(3) سورۃ البقرۃ آیت 263

کھانے کے بعد اللہ کی حمد کرنا چاہئے

(140) الرَّابِعُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللّٰهَ لَيَرْضٰی عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا“ ﴿رواه مسلم﴾

و ”الاکلة“ بفتح الهمزة: وهي الغدوة أوالعشوة۔

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے پر راضی ہوتے ہیں جو کھانا کھا کر الحمد للہ کہے یا پانی پینے کے بعد الحمد للہ کہے۔“

تشریح: کھانے کے بعد حمد کرنے کا ثواب روزہ رکھنے والے کے برابر ہے

کھانا پینا یہ انسان کی فطری ضرورت ہے، انسان کا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ، اللہ کے احکام پر قربان ہو جائیے کہ اس کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنے پر ایک طرف تو پیٹ کو بھرتا ہے دوسری طرف اللہ کے مطیع بندوں میں اس کا شمار ہو جاتا ہے۔


صفحہ 374

روضۃ الصالحین جلد اول | 374


ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت اس طرح آئی ہے فرمایا ”الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ“ (1) کہ کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے مثل ہے۔

ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں پر فضل فرمایا، کھانا کھا کر صرف شکر ادا کرنے پر روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے برابر ثواب عطاء فرمایا۔

تخریج حدیث: اخرجه صحیح مسلم کتاب الذکر (باب استحباب حمد اللہ تعالیٰ بعد الاکل والشرب)، رواه ترمذی ايضاً۔

نوٹ: راوی حدیث حضرت انس بن مالکؓ کے حالات حدیث نمبر (15) کے ضمن میں گذر چکے ہیں۔

(1) حاکم فی المستدرک

ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے

(141) الْخَامِسُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ“، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهٗ وَيَتَصَدَّقُ، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِيْنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوْفَ، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ اَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ“ ﴿متفق عليه﴾

ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔ اس نے عرض کیا فرمایئے اگر اس کو کچھ دستیاب نہ ہو؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کام کرے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، اس نے عرض کیا، فرمایئے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا محتاج مصیبت زدہ کی مدد کرے، عرض کیا فرمایئے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا امر بالمعروف کرے، عرض کیا اگر نہ کر سکے فرمایا برائی سے باز رہے پس تحقیق یہ صدقہ ہے۔“

لغات: * الملهوف: بمعنی غمگین جو مال کھو بیٹھا ہو یا اس کا کوئی قریب داغ فراق دے گیا ہو، مظلوم، ملهوف القلب دل جلا۔

تشریح: اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے مال سے صدقہ کرنا افضل ہے

يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهٗ وَيَتَصَدَّقُ: کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرے جس سے خود بھی نفع اٹھائے اور صدقہ بھی کرے

ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ اس میں ایک طرف اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کی ترغیب ہے تو دوسری طرف صدقہ کی بھی ترغیب معلوم ہوتی ہے۔ (1)

امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے کے لوگ اس بات کو برا سمجھتے تھے کہ کوئی دن صدقہ سے خالی جائے خواہ کھجور بھی صدقہ میں دی جائے یا روٹی کا ٹکڑا دیا جائے ، کیونکہ آدمی قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا۔ (2)

يُعِيْنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوْفَ: ”محتاج مصیبت زدہ کی مدد کرے“ علماء فرماتے ہیں حدیث میں عام محتاج مصیبت زدہ کا ذکر ہے خواہ وہ مصیبت زدہ مظلوم ہو یا عاجز ہو اس کی مدد کی جائے خواہ عمل کے ذریعہ سے کی جائے یا زبان سے تسلی دی جائے۔ (3)

يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ أَوِ الْخَيْرِ: لفظ ”أَوْ“ یہاں پر شک کے لئے ہے راوی کو شک ہوا کہ آپ ﷺ نے ”يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ“ فرمایا ہے یا ”يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ“ فرمایا ہے۔ بہر حال ”أَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ“ بغیر شک و شبہ اہم عمل ہے اہم حسنات ہے نیز تمام انبیاء علیہم السلام کا کام ہے۔ (4)

يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ: صدقہ کا مفہوم بہت عام ہے نیکی کرنا بھی صدقہ ہے تو برائی پہنچانے سے رکے یہ بھی صدقہ ہے نہ زبان سے تکلیف دے نہ باقی اعضاء سے اسی کو فارسی میں کسی شاعر نے خوب کہا ہے ۔

مرا بغیر تو امید نیست، بد مرساں (5)

تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب الزکاۃ (باب علی کل مسلم صدقة) و کتاب الادب و صحیح مسلم کتاب الزکاة (باب بيان ان اسم الصدقة الخ) والنسائی۔

(1) روضۃ المتقین 181/1

(2) احیاء العلوم

(3) روضۃ المتقین 182/1

(4) مفہوم روضۃ المتقین 181/1

(5) مظاہر حق جدید 263/2