پارہ 3


Page 160

البقرة 2 160 تلك الرسل 3

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ ۘ مِّنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ ؕ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَمِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ ؕ وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا ۟ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ ﴿253﴾

یہ پیغمبر جو ہم نے (مخلوق کی اصلاح کے لئے) بھیجے ہیں، ان کو ہم نے ایک دوسرے پر فضیلت عطا کی ہے۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام فرمایا، اور ان میں سے بعض کو اس نے بدرجہا بلندی عطا کی۔ (170) اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو کھلی نشانیاں دیں، اور روح القدس سے ان کی مدد فرمائی۔ (171) اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے لوگ اپنے پاس روشن دلائل آجانے کے بعد آپس میں نہ لڑتے، لیکن انہوں نے خود اختلاف کیا، چنانچہ ان میں سے کچھ وہ تھے جو ایمان لائے، اور کچھ وہ جنہوں نے کفر اپنایا۔ اور اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے، لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ (172) ﴿253﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 253)

(170) مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے، لیکن بعض انبیائے کرام کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے، اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔

(171) یہی مضمون پیچھے آیت نمبر 87 میں آچکا ہے۔ تشریح کے لئے اس آیت کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔

(172) قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کردیتا، اور اس صورت میں سب کا دین ایک ہی ہوجاتا، اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا، لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا جس کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے اور انسان کو اس میں بھیجا گیا ہے۔ انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد اس کا یہ امتحان لینا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہدایت کا راستہ معلوم کرنے کے بعد کون ہے جو اس ہدایت پر اپنی مرضی سے چلتا ہے، اور کون ہے جو اس کو نظر انداز کرکے اپنی من گھڑت خواہشات کو اپنا رہنما بناتا ہے۔ اس لئے اللہ نے زبردستی لوگوں کو ایمان پر مجبور نہیں کیا۔ چنانچہ

Page 161

البقرة 2 161 تلك الرسل 3

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ؕ وَالْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿254﴾ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۬ۚ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ؕ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ؕ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ؕ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۚ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ وَلَا يَـُٔوْدُهٗ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ ﴿255﴾

اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے وہ دن آنے سے پہلے پہلے (اللہ کے راستے میں) خرچ کرلو جس دن نہ کوئی سودا ہوگا، نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)، اور نہ کوئی سفارش ہوسکے گی۔ (173) اور ظالم وہ لوگ ہیں جو کفر اختیار کئے ہوئے ہیں ﴿254﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے؛ جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے، نہ نیند۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے (وہ بھی) اور زمین میں جو کچھ ہے (وہ بھی)، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے؟ وہ سارے بندوں کے تمام آگے پیچھے کے حالات کو خوب جانتا ہے، اور وہ لوگ اس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اُس بات کے جسے وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے؛ اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بڑا عالی مقام، صاحب عظمت ہے۔ ﴿255﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 254-255)

آگے آیت نمبر 256 میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ حق کے دلائل واضح کردیئے گئے ہیں، اس کے بعد جو کوئی حق کو اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کرے گا، اور جو شخص اسے نظر انداز کرکے شیطان کے سکھائے ہوئے راستے پر چلے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔

(173) اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔

Page 162

البقرة 2 162 تلك الرسل 3

لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ ۟ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ٭ لَا انْفِصَامَ لَهَا ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿256﴾ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ؕ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِيٰٓـُٔهُمُ الطَّاغُوْتُ ۙ يُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿257﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّيَ الَّذِيْ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ ۙ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَأْتِيْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ﴿258﴾

دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ ہدایت کا راستہ گمراہی سے ممتاز ہوکر واضح ہوچکا۔ اس کے بعد جو شخص طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آئے گا، اس نے ایک مضبوط کنڈا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اللہ خوب سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے ﴿256﴾ اللہ ایمان والوں کا رکھوالا ہے؛ وہ انہیں اندھیریوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے رکھوالے وہ شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیریوں میں لے جاتے ہیں۔ وہ سب آگ کے باسی ہیں؛ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ﴿257﴾

کیا تم نے اس شخص (کے حال) پر غور کیا جس کو اللہ نے سلطنت کیا دے دی تھی کہ وہ اپنے پروردگار (کے وجود ہی) کے بارے میں ابراہیم سے بحث کرنے لگا؟ جب ابراہیم نے کہا کہ: ”میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی“ تو وہ کہنے لگا کہ: ”میں بھی زندگی دیتا ہوں اور موت دیتا ہوں۔ (174)“ ابراہیم نے کہا: ”اچھا! اللہ تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم ذرا اسے مغرب سے تو نکال کر لاؤ۔“ اس پر وہ کافر مبہوت ہوکر رہ گیا۔ اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ﴿258﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 256-258)

(174) یہ بابل کا بادشاہ نمرود تھا جو خدائی کا بھی دعوے دار تھا۔ اس نے جو دعویٰ کیا کہ میں زندگی اور موت دیتا

Page 163

البقرة 2 163 تلك الرسل 3

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰى قَرْيَةٍ وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا ۚ قَالَ اَنّٰى يُحْيٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ؕ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۚ

یا (تم نے) اس جیسے شخص (کے واقعے) پر (غور کیا) جس کا ایک بستی پر ایسے وقت گزر ہوا جب وہ چھتوں کے بل گری پڑی تھی؟ اس نے کہا کہ ”اللہ اس بستی کو اس کے مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟ (175)“ پھر اللہ نے اس شخص کو سو سال تک کے لئے موت دی، اور اس کے بعد زندہ کردیا۔ (اور پھر) پوچھا کہ تم کتنے عرصے تک (اس حالت میں) رہے ہو؟ اس نے کہا: ”ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ!“ اللہ نے کہا: ”نہیں! بلکہ تم سو سال اسی طرح رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ وہ ذرا نہیں سڑیں۔

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 259)

ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ میں بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتار دوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کرکے آزاد کردوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں۔ ظاہر ہے کہ اس کا یہ جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہورہی تھی، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اتر آیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ مگر لاجواب ہوکر حق کو قبول کرنے کے بجائے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے قید کیا، پھر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا جس کا ذکر قرآن کریم نے سورۂ انبیاء (21:68 تا 71) سورۂ عنکبوت (29:24) اور سورۂ صافات (37:97) میں فرمایا ہے۔

(175) آیت نمبر 259 اور 260 میں اللہ تعالیٰ نے دو ایسے واقعے ذکر فرمائے ہیں جن میں اس نے اپنے دو خاص بندوں کو اس دنیا ہی میں مردوں کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرایا۔ پہلے واقعے میں ایک ایسی بستی کا ذکر ہے جو مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی، اس کے تمام باشندے مرکھپ چکے تھے، اور مکانات چھتوں سمیت گر کر مٹی میں مل گئے تھے۔ ایک صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس ساری بستی کو کس طرح زندہ کرے گا۔ بظاہر اس سوچ کا منشا خدانخواستہ کوئی شک کرنا نہیں تھا، بلکہ حیرت کا اظہار تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی

وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا ؕ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿259﴾ وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى ؕ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ؕ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِيْ ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا ؕ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿260﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 259-260)

اور (دوسری طرف) اپنے گدھے کو دیکھو (کہ گل سڑ کر اس کا کیا حال ہو گیا ہے) اور یہ ہم نے اس لئے کیا تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کا) ایک نشان بنا دیں۔ اور (اب اپنے گدھے کی) ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اُٹھاتے ہیں، پھر ان کو گوشت کا لباس پہناتے ہیں!“ چنانچہ جب حقیقت کھل کر اس کے سامنے آگئی تو وہ بول اُٹھا کہ ”مجھے یقین ہے اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے“ ﴿259﴾

اور (اس وقت کا تذکرہ سنو) جب ابراہیم نے کہا تھا کہ میرے پروردگار! مجھے دکھائیے کہ آپ مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں؟ اللہ نے کہا: ”کیا تمہیں یقین نہیں؟“ کہنے لگے: ”یقین کیوں نہ ہوتا؟ مگر (یہ خواہش اس لئے کی ہے) تاکہ میرے دل کو پورا اطمینان حاصل ہو جائے۔“ (176) اللہ نے کہا: ”اچھا! تو چار پرندے لو، اور انہیں اپنے سے مانوس کر لو، پھر (ان کو ذبح کر کے) ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دو، پھر ان کو بلاؤ، وہ چاروں تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ (177) اور جان رکھو کہ اللہ پوری طرح صاحب اقتدار بھی ہے، اعلیٰ درجے کی حکمت والا بھی۔“ ﴿260﴾

قدرت کا مشاہدہ اس طرح کرایا جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ یہ صاحب کون تھے؟ اور یہ بستی کونسی تھی؟ یہ بات قرآن کریم نے نہیں بتائی، اور کوئی مستند روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کے ذریعے یقینی طور پر ان باتوں کا تعین کیا جاسکے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ بستی بیت المقدس تھی، اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب بخت نصر نے اس پر حملہ کر کے اسے تباہ کر ڈالا تھا، اور یہ صاحب حضرت عزیر یا حضرت ارمیا علیہما السلام تھے۔ لیکن نہ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے، نہ اس کھوج میں پڑنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کا مقصد اس کے بغیر بھی واضح ہے۔ البتہ یہ بات تقریباً یقینی معلوم ہوتی ہے کہ یہ صاحب کوئی نبی تھے، کیونکہ اوّل تو اس آیت میں صراحت ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام ہوئے، نیز اس طرح کے واقعات انبیائے کرام ہی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دیکھئے نیچے حاشیہ 177۔

(176) اس سوال و جواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ بات صاف کردی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر پورا یقین تھا۔ لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں، دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ کر کہہ رہا ہوں۔

(177) یعنی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ ہر وقت مردے کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرا سکتی ہے، مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ایک کو یہ مشاہدہ نہ کرایا جائے۔ اور بات دراصل یہ ہے کہ یہ دُنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لئے یہاں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اور انسان سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ان حقائق پر آنکھوں سے دیکھے بغیر دلائل کی بنیاد پر ایمان لائے۔ البتہ انبیائے کرام کا معاملہ عام لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ جب غیب کے حقائق پر غیر متزلزل ایمان لاکر یہ ثابت کر چکے ہوتے ہیں کہ ان کا ایمان نہ کسی شک کی گنجائش رکھتا ہے اور نہ وہ آنکھ کے کسی مشاہدے پر موقوف ہے تو ان کے ایمان بالغیب کا امتحان اسی دُنیا میں پورا ہو جاتا ہے۔ پھر انہیں حکمتِ خداوندی کے تحت بعض غیبی حقائق آنکھوں سے بھی دکھا دیئے جاتے ہیں، تاکہ ان کے علم واطمینان کا معیار عام لوگوں سے زیادہ ہو، اور وہ ڈنکے کی چوٹ یہ کہہ سکیں کہ وہ جس بات کی دعوت دے رہے ہیں اس کی حقانیت انہوں نے آنکھوں سے بھی دیکھ رکھی ہے۔

بعض وہ لوگ جو خلافِ عادت باتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، انہوں نے اس آیت میں بھی ایسی کھینچ تان کی ہے جس سے یہ نہ ماننا پڑے کہ وہ پرندے واقعۃً مر کر زندہ ہو گئے تھے۔ لیکن قرآن کریم کا پورا سیاق اور جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان کا اُسلوب ایسی تاویلات کی تردید کرتا ہے۔ جو شخص عربی زبان کے محاورات اور اسالیب سے واقف ہو وہ ان آیات کا اس کے سوا کوئی مطلب نہیں نکالے گا جو ترجمے میں بیان کیا گیا ہے۔

البقرة 2 | 166 | تلك الرسل 3

مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿261﴾ اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًى ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿262﴾ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَاۤ اَذًى ؕ وَاللّٰهُ غَنِيٌّ حَلِيْمٌ ﴿263﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 261-263)

جو لوگ اللہ کے راستے میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ سات بالیں اُگائے (اور) ہر بال میں سو دانے ہوں۔ (178) اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (ثواب میں) کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔ اللہ بہت وسعت والا (اور) بڑے علم والا ہے ﴿261﴾ جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں، پھر خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتے ہیں اور نہ کوئی تکلیف پہنچاتے ہیں، وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے؛ نہ ان کو کوئی خوف لاحق ہوگا اور نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿262﴾ بھلی بات کہہ دینا اور درگزر کرنا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد کوئی تکلیف پہنچائی جائے۔ (179) اور اللہ بڑا بے نیاز، بہت بردبار ہے ﴿263﴾

(178) یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سو گنا ثواب ملتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ”اللہ کے راستے میں خرچ“ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے، اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے۔ اس میں زکوٰۃ، صدقات، خیرات سب داخل ہیں۔

(179) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور وہ کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تو اس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے، مگر بعد میں احسان جتلا کر یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔

Page 167

البقرة 2 | 167 | تلك الرسل 3

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿264﴾ وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَتَثْبِيْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ۚ فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ﴿265﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 264-265)

اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور تکلیف پہنچا کر اُس شخص کی طرح ضائع مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنی چٹان پر مٹی جمی ہو، پھر اس پر زور کی بارش پڑے اور اس (مٹی کو بہا کر چٹان) کو (دوبارہ) چکنی بنا چھوڑے۔ (180) ایسے لوگوں نے جو کمائی کی ہوتی ہے وہ ذرا بھی ان کے ہاتھ نہیں لگتی۔ اور اللہ (ایسے) کافروں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا ﴿264﴾ اور جو لوگ اپنے مال اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے لئے اور اپنے آپ میں پختگی پیدا کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک باغ کسی ٹیلے پر واقع ہو؛ اس پر زور کی بارش برسے تو وہ دگنا پھل لے کر آئے۔ اور اگر اس پر زور کی بارش نہ بھی برسے تو ہلکی پھوار بھی اس کے لئے کافی ہے۔ اور تم جو عمل بھی کرتے ہو اللہ اسے خوب اچھی طرح دیکھتا ہے ﴿265﴾

(180) چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ اُمید ہو سکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کرلی جائے، لیکن اگر بارش مٹی کو بہا لے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے۔ اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی اُمید ہوتی ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہا لے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی اُمید نہیں رہتی۔

Page 168

البقرة 2 | 168 | تلك الرسل 3

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۙ وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَآءُ ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِيْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ ﴿266﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِيْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِيْهِ ؕ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ حَمِيْدٌ ﴿267﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 266-267)

کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اس کا کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں (اور) اس کو اس باغ میں اور بھی ہر طرح کے پھل حاصل ہوں، اور بڑھاپے نے اسے آ پکڑا ہو، اور اس کے بچے ابھی کمزور ہوں؛ اتنے میں ایک آگ سے بھرا بگولا آکر اس کو اپنی زد میں لے لے اور پورا باغ جل کر رہ جائے؟ (181) اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور کرو ﴿266﴾ اے ایمان والو! جو کچھ تم نے کمایا ہو اور جو پیداوار ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالی ہو اس کی اچھی چیزوں کا ایک حصہ (اللہ کے راستے میں) خرچ کیا کرو؛ اور یہ نیت نہ رکھو کہ بس ایسی خراب قسم کی چیزیں (اللہ کے نام پر) دیا کرو گے جو (اگر کوئی دوسرا تمہیں دے تو نفرت کے مارے) تم اسے آنکھیں میچے بغیر نہ لے سکو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ ایسا بے نیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کی طرف لوٹتی ہے ﴿267﴾

(181) صدقات کو برباد کرنے کی یہ دوسری مثال ہے۔ جس طرح ایک آگ سے بھرا بگولا ہرے بھرے باغ کو یکا یک تباہ کر ڈالتا ہے، اسی طرح ریا کاری یا صدقہ دے کر احسان جتلانا یا کسی اور طرح غریب آدمی کو ستانا صدقے کے عظیم ثواب کو برباد کر ڈالتا ہے۔

Page 169

البقرة 2 | 169 | تلك الرسل 3


Page 169

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 169 | البقرة 2

اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ ۚ وَاللّٰهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿268﴾ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَمَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيْرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ ﴿269﴾ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ ۗ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ﴿270﴾ اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۚ وَاِنْ تُخْفُوْهَا وَتُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۗ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ ۗ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ ﴿271﴾ لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ ۗ

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 268-271)

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے؛ اور اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا، ہر بات جاننے والا ہے ﴿268﴾ وہ جس کو چاہتا ہے دانائی عطا کر دیتا ہے، اور جسے دانائی عطا ہو گئی اسے وافر مقدار میں بھلائی مل گئی۔ اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو سمجھ کے مالک ہیں ﴿269﴾ اور تم جو کوئی خرچ کرو یا کوئی منت مانو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور ظالموں کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿270﴾ اگر تم صدقات ظاہر کر کے دو تب بھی اچھا ہے؛ اور اگر ان کو چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے۔ اور اللہ تمہاری برائیوں کا کفارہ کر دے گا؛ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ﴿271﴾ (اے پیغمبر!) ان (کافروں) کو راہِ راست پر لے آنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے راہِ راست پر لے آتا ہے۔⁽¹⁸²⁾

(182) بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے، اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (روح المعانی) اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔

Page 170

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 170 | البقرة 2

وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ ﴿272﴾ لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰهُمْ ۚ لَا يَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ﴿273﴾ اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿274﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 272-274)

اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ خود تمہارے فائدے کے لئے ہوتا ہے جبکہ تم اللہ کی خوشنودی طلب کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا دیا جائے گا اور تم پر ذرا بھی ظلم نہیں ہو گا ﴿272﴾ (مالی امداد کے بطورِ خاص) مستحق وہ فقراء ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں اس طرح مقید کر رکھا ہے کہ وہ (معاش کی تلاش کے لئے) زمین میں چل پھر نہیں سکتے۔ چونکہ وہ اتنے پاک دامن ہیں کہ کسی سے سوال نہیں کرتے، اس لئے ناواقف آدمی انہیں مالدار سمجھتا ہے۔ تم ان کے چہرے کی علامتوں سے ان (کی اندرونی حالت) کو پہچان سکتے ہو (مگر) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔⁽¹⁸³⁾ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿273﴾ جو لوگ اپنے مال دن رات خاموشی سے بھی اور علانیہ بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے پروردگار کے پاس اپنا ثواب پائیں گے، اور نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا، نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿274﴾

(183) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحابِ صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علمِ دین حاصل کرنے کے لئے وقف کر دی تھی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آپڑے تھے، طلبِ علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کر سکتے تھے، مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے، کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا۔ اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔

Page 171

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 171 | البقرة 2

اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ۗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ۗ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ ۗ وَاَمْرُهٗ اِلَى اللّٰهِ ۗ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿275﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 275)

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت میں) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس لئے ہو گا کہ انہوں نے کہا تھا کہ: "بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے۔"⁽¹⁸⁴⁾ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آگئی اور وہ (سودی معاملات سے) باز آگیا تو ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسی کا ہے۔⁽¹⁸⁵⁾ اور اس (کی باطنی کیفیت) کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جس شخص نے لوٹ کر پھر وہی کام کیا⁽¹⁸⁶⁾ تو ایسے لوگ دوزخی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ ﴿275﴾

آیت نمبر 261 سے 274 تک صدقات کی فضیلت اور اس کے احکام بیان ہوئے تھے۔ آگے آیت نمبر 280 تک اس کی ضد یعنی سود کا بیان ہے۔ صدقات انسان کے جذبہ سخاوت کی نشانی ہیں، اور سود بخل اور مال کی محبت کی علامت ہے۔

(184) سود یا ربا ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کر کے وصول کی جائے۔ مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کر کے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے؟ ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامانِ تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامانِ تجارت بنا کر اس سے نفع کمایا جائے۔ وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے تاکہ اس کے ذریعے اشیاء ضرورت خریدی اور بیچی جا سکیں۔ نقدی کا نقدی سے تبادلہ کر کے اسے بذاتِ خود نفع کمانے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں۔ (اس کی تفصیل دیکھنی ہو تو ربا کے موضوع پر میرا وہ فیصلہ ملاحظہ فرمائیے جو میں نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لکھا تھا اور اس کا اردو ترجمہ بھی "سود پر تاریخی فیصلہ" کے نام سے شائع ہو چکا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آجائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آجائے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرنا چاہئے۔ اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطمینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مؤمن کا طرزِ عمل نہیں۔

Page 172

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 172 | البقرة 2

(185) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے سود وصول کیا ہے، چونکہ اس وقت تک سود کے حرام ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا اس لئے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں، اور ان کے ذریعے جو رقمیں وصول کی گئی ہیں وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ حرمت کے اعلان کے وقت جو سود کسی پر واجب الادا ہو وہ لینا جائز نہیں ہو گا بلکہ اسے چھوڑنا ہو گا، جیسا کہ آگے آیت نمبر 278 میں حکم دیا گیا ہے۔

(186) یعنی جن لوگوں نے حرمتِ سود کو تسلیم نہ کیا اور وہی اعتراض کرتے رہے کہ بیع اور سود میں کوئی فرق نہیں، وہ کافر ہونے کی وجہ سے ابدی عذاب کے مستحق ہوں گے۔ سود کے موضوع پر مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ان آیات کے تحت معارف القرآن اور مسئلہ سود از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور میرا مذکورہ بالا فیصلہ۔

Page 173

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 173 | البقرة 2

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۗ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ ﴿276﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ ﴿277﴾ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰوٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿278﴾ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ﴿279﴾ وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۗ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿280﴾ وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ﴿281﴾

(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 276-281)

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گنہگار ہو ﴿276﴾ (ہاں) وہ لوگ جو ایمان لائیں، نیک عمل کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں وہ اپنے رب کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہوں گے؛ نہ انہیں کوئی خوف لاحق ہو گا، نہ کوئی غم پہنچے گا ﴿277﴾ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مؤمن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ﴿278﴾ پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔ اور اگر تم (سود سے) توبہ کر لو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے ﴿279﴾ اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے۔ اور صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کچھ سمجھ ہو ﴿280﴾ اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا ﴿281﴾


صفحہ 174

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 174 | البقرة 2

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ؕ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ ۪ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ ۚ وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ ؕ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى ؕ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ؕ وَلَا تَسْـَٔمُوْٓا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ ؕ

(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 282 کا ابتدائی حصہ)

اے ایمان والو! جب تم کسی معین میعاد کے لئے اُدھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تم میں سے جو شخص لکھنا جانتا ہو انصاف کے ساتھ تحریر لکھے، اور جو شخص لکھنا جانتا ہو، لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جب اللہ نے اسے یہ علم دیا ہے تو اسے لکھنا چاہئے۔ اور تحریر وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق واجب ہو رہا ہو، اور اسے چاہئے کہ وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (حق) میں کوئی کمی نہ کرے۔⁽¹⁸⁷⁾ ہاں اگر وہ شخص جس کے ذمے حق واجب ہو رہا ہے ناسمجھ یا کمزور ہو یا (کسی اور وجہ سے) تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، ہاں اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے ہو جائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ اور جب گواہوں کو (گواہی دینے کے لئے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔ اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔

(187) یہ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت ہے، اور اس میں سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد اُدھار خرید و فروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں۔

صفحہ 175

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 175 | البقرة 2

ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰىٓ اَلَّا تَرْتَابُوْٓا اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا ؕ وَاَشْهِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ ۪ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۬ؕ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهَ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ﴿282﴾ وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ؕ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ؕ وَمَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ ﴿283﴾

(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 282 (بقیہ) تا 283)

یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑو گے۔ ہاں اگر تمہارے درمیان کوئی نقد لین دین کا سودا ہو تو اس کو نہ لکھنے میں تمہارے لئے کچھ حرج نہیں ہے۔ اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ لکھنے والے کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے، نہ گواہ کو۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے نافرمانی ہو گی۔ اور اللہ کا خوف دل میں رکھو۔ اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ﴿282﴾ اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو (ادائیگی کی ضمانت کے طور پر) رہن قبضے میں رکھ لئے جائیں۔ ہاں اگر تم ایک دوسرے پر بھروسہ کرو تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ۔ اور جو گواہی کو چھپائے وہ گنہگار دل کا حامل ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے ﴿283﴾

فروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ تمام معاملات صفائی کے ساتھ ہوں۔ اگر کوئی اُدھار کسی کے ذمے واجب ہو رہا ہو تو اسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہئے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کر دے۔ اس تحریر میں پوری بات لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنی چاہئے اور کسی کا حق مارنے کے لئے تحریر میں کتر بیونت سے پرہیز کرنا چاہئے۔

صفحہ 176

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 176 | البقرة 2

لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ؕ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ؕ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿284﴾ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۟ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ٭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ﴿285﴾

(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 284 تا 285)

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں، خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے ان کا حساب لے گا۔⁽¹⁸⁸⁾ پھر جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ﴿284﴾ یہ رسول (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی۔ یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ: "ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم آپ کی مغفرت کے طلب گار ہیں۔ اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔" ﴿285﴾

(188) آگے آیت نمبر 286 کے پہلے جملے نے واضح کر دیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آ جاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدہ دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کر لے تو اس کا حساب ہو گا۔

صفحہ 177

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 177 | البقرة 2

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ۪ وَاغْفِرْ لَنَا ۪ وَارْحَمْنَا ۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿286﴾

(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 286)

اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا۔ اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہو گا جو وہ اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہو گا جو اپنے ارادے سے کرے۔ (مسلمانو! اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ:) "اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو ہماری گرفت نہ فرمائیے۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالئے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالئے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔ اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائیے، ہمیں بخش دیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لئے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمائیے۔" ﴿286﴾

الحمد للہ آج بتاریخ 5 جمادی الثانیہ 1426 مطابق 13 جولائی 2005 کراچی میں سورہ بقرہ کے ترجمہ اور حواشی کی تکمیل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمائیں اور باقی سورتوں کے ترجمہ اور تفسیر کو بھی آسان فرما دیں۔ آمین ثم آمین۔


تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 181 | ال عِمران 3

اٰیَاتُہَا 200 | 3 سُوْرَةُ آلِ عِمْرَانَ مَدَنِيَّةٌ 89 | رُکُوْعَاتُہَا 20

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الٓمّٓ ۝1 اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۝2 نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ ۝3 مِنْ قَبْلُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۝4 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰی عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۝5

سورۂ آل عمران مدنی ہے اور اس میں 200 آیتیں اور 20 رکوع ہیں

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

الم ﴿1﴾ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے؛ ﴿2﴾ اس نے تم پر وہ کتاب نازل کی ہے جو حق پر مشتمل ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اسی نے تورات اور انجیل اتاریں ﴿3﴾ جو اس سے پہلے لوگوں کے لیے مجسم ہدایت بن کر آئی تھیں، اور اسی نے حق و باطل کو پرکھنے کا معیار نازل کیا۔(1) بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست اقتدار کا مالک اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے ﴿4﴾ یقین رکھو کہ اللہ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، نہ زمین میں نہ آسمان میں ﴿5﴾

(1) یہاں قرآن کریم نے لفظ "فرقان" استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو۔ قرآن کریم کا ایک نام "فرقان" بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے۔ چنانچه بعض مفسرین نے یہاں "فرقان" سے قرآن ہی مراد لیا ہے۔ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو انبیائے کرام کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا۔ نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔

Page 182

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 182 | ال عِمران 3

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ ؕ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۝6 هُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ؕ

وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی (2) ﴿6﴾ (اے رسول!) وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ (3)

(2) اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے، اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سو فیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہو رہا ہے۔ اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی۔ سورۂ آل عمران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کر رہی ہے۔ اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے۔ اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اس طریقے کا نہ پابند ہے نہ محتاج۔ لہٰذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔

(3) اس آیت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کا احساس ضروری ہے کہ اس کائنات کی بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی وحدانیت تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان اپنی عقل سے معلوم کر سکتا ہے، لیکن اس کی ذات اور صفات کی تفصیلات انسان کی محدود عقل سے ماورا ہیں۔ قرآن کریم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے، ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ ظاہر کی گئی ہے بالغہ ظاہر کی گئی ہے، لیکن کوئی شخص ان صفات کی حقیقت اور کنہ کی فلسفیانہ کھوج میں پڑ جائے تو حیرانی یا گمراہی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، کیونکہ وہ اپنی محدود عقل سے اللہ تعالیٰ کی ان لامحدود صفات کا احاطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کے ادراک سے باہر نہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک عرش ہے، اور یہ کہ وہ اس عرش پر مستوی ہوا۔ اب یہ بات کہ وہ عرش کیسا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ کے مستوی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب انسان کی عقل اور سمجھ سے بالاتر ہے، اور انسان کی زندگی کا کوئی عملی مسئلہ اس پر موقوف بھی نہیں۔ ایسی آیات جن میں اس قسم کے حقائق بیان کئے گئے ہیں متشابہات کہلاتی ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف الگ الگ نازل کئے گئے ہیں، (مثلاً اسی سورت کے شروع میں الف، لام، میم) اور جنہیں حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے وہ بھی متشابہات میں داخل ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن کریم نے اس آیت میں یہ ہدایت دی ہے کہ ان کی کھود کرید میں پڑنے کے بجائے ان پر اجمالی طور سے ایمان رکھ کر ان کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس قرآن کریم کی دوسری آیتیں ایسی ہیں جن کا مطلب واضح ہے، اور درحقیقت وہی آیات ہیں جو انسان کے لئے عملی ہدایات فراہم کرتی ہیں، انہی آیات کو "محکم" آیتیں کہا گیا ہے۔ ایک مؤمن کو انہی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

متشابہات کے بارے میں صحیح طرزِ عمل بتلانا یوں بھی ضروری تھا، لیکن اس سورت میں اس وضاحت کی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ نجران کے عیسائیوں کا جو وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور جس کا ذکر اوپر کے حاشیہ میں گزرا ہے، اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی تھی کہ خود قرآن نے انہیں "کلمۃ اللہ" (اللہ کا کلمہ) اور "روح من اللہ" فرمایا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی صفتِ کلام اور اللہ کی روح تھے۔ اس آیت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ قرآن کریم ہی نے جگہ جگہ صاف لفظوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہو سکتی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خدا قرار دینا شرک اور کفر ہے۔ ان واضح آیتوں کو چھوڑ کر "کلمۃ اللہ" کے لفظ کو پکڑ بیٹھنا اور اس کی بنیاد پر ایسی تاویلیں کرنا جو قرآن کریم کی محکم آیات کے بالکل برخلاف ہیں، دل کے ٹیڑھ کی علامت ہے۔ حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو "کلمۃ اللہ" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ باپ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلمہ "کن" سے پیدا ہوئے تھے (جیسا کہ قرآن کریم نے اسی سورت کی آیت: 59 میں بیان فرمایا ہے)۔ اور انہیں "روح من اللہ" اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی روح براہِ راست اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی تھی۔ اب یہ بات انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ "کُن" سے پیدا کرنے کی کیفیت کیا تھی؟ اور براہِ راست ان کی روح کس طرح پیدا کی گئی؟ یہ اُمور متشابہات میں سے ہیں، اس لئے ان کی کھود کرید بھی منع ہے، (کیونکہ یہ باتیں انسان کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتیں) اور ان کی من مانی تاویل کر کے ان سے خدا کے بیٹے کا تصور برآمد کرنا بھی کج فہمی ہے۔

(حوالہ تصحیح: قرآن مجید، سورہ آل عمران، آیت 59: اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۔)

Page 184

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 184 | ال عِمران 3

فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ ۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۝7 رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ ۝8 رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ۝9 اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ وَقُوْدُ النَّارِ ۝10

اب جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں، حالانکہ ان آیتوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جن لوگوں کا علم پختہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ: "ہم اس (مطلب) پر ایمان لاتے ہیں (جو اللہ کو معلوم ہے)۔ سب کچھ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے۔" اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں ﴿7﴾ (ایسے لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ:) "اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے ﴿8﴾ ہمارے پروردگار! تو تمام انسانوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔" بیشک اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ﴿9﴾ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کی دولت ان کے کچھ کام آئے گی، نہ ان کی اولاد، اور وہی ہیں جو آگ کا ایندھن بن کر رہیں گے ﴿10﴾

Page 185

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 185 | ال عِمران 3

كَـدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۝11 قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَهَنَّمَ ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ ۝12 قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰی كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ۝13

ان کا حال فرعون اور ان سے پہلے کے لوگوں کے معاملے جیسا ہے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، چنانچہ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لے لیا، اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿11﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان سے کہہ دو کہ تم مغلوب ہو گے (4) اور تمہیں جمع کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، اور وہ بہت برا بچھونا ہے ﴿12﴾ تمہارے لئے ان دو گروہوں (کے واقعے) میں بڑی نشانی ہے جو ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا، اور دوسرا کافروں کا گروہ تھا جو اپنے آپ کو کھلی آنکھوں ان سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہا تھا۔ (5) اور اللہ جس کی چاہتا ہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے۔ بیشک اس واقعے میں آنکھوں والوں کے لئے عبرت کا بڑا سامان ہے ﴿13﴾

(4) اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہو سکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔

(5) پیچھے یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ کفار مسلمانوں سے مغلوب ہوں گے۔ اب اس کی ایک مثال دینے کی غرض سے جنگِ بدر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کافروں کا لشکر ایک ہزار مسلح لوگوں پر مشتمل تھا، اور مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی۔ کافر کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔

Page 186

تِلْكَ الرُّسُلُ 3 | 186 | ال عِمران 3

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۝14 قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ ۝15 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ۝16 اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۝17

لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہیں، یعنی عورتیں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں۔ یہ سب دُنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ ﴿14﴾ کہہ دو! کیا میں تمہیں وہ چیزیں بتاؤں جو ان سب سے کہیں بہتر ہیں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رَبّ کے پاس وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور پاکیزہ بیویاں ہیں، اور اللہ کی طرف سے خوشنودی ہے۔ اور تمام بندوں کو اللہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے ﴿15﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ: "اے ہمارے پروردگار! ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہمارے گناہوں کو بخش دیجئے، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے" ﴿16﴾ یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں، (اللہ کی خوشنودی کے لئے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔ ﴿17﴾

187

تلک الرسل 3 | ۱۸۷ | ال عمرٰن 3

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ﴿18﴾ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًاۢ بَيْنَهُمْ ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ﴿19﴾ فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَقُلْ لِّـلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ؕ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿20﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی، کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انصاف کے ساتھ (کائنات کا) انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿18﴾ بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا، اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ﴿19﴾ پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ: ”میں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیا ہے، اور جنہوں نے میری اتباع کی ہے انہوں نے بھی۔“ اور اہل کتاب سے اور (عرب کے) ان پڑھ (مشرکین) سے کہہ دو کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پا جائیں گے، اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تمہاری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے، اور اللہ تمام بندوں کو خود دیکھ رہا ہے ﴿20﴾ جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں، اور انصاف کی تلقین کرنے والے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں،

Page 188

تلک الرسل 3 | ۱۸۸ | ال عمرٰن 3

فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ﴿21﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۖ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿22﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰی كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰی فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿23﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۪ وَّغَرَّهُمْ فِيْ دِيْنِهِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ﴿24﴾ فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۗ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ﴿25﴾ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ ۪ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ؕ

ان کو دردناک عذاب کی ”خوشخبری“ سنا دو۔ ﴿21﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہو چکے ہیں، اور ان کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہیں ہوں گے ﴿22﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا کہ انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے باوجود ان میں سے ایک گروہ منہ موڑ کر انحراف کر جاتا ہے ﴿23﴾ یہ سب اس لئے ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہوا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ اور انہوں نے جو جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں انہوں نے ان کے دین کے معاملے میں ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے ﴿24﴾ بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں ایک ایسے دن (کا سامنا کرنے) کے لئے جمع کر لائیں گے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے، اور ہر ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ اس کو پوری پوری دے دی جائے گی، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ﴿25﴾ کہو کہ: ”اے اللہ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔

Page 189

تلک الرسل 3 | ۱۸۹ | ال عمرٰن 3

اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ ﴿26﴾ تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۪ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۪ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿27﴾ لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهَ نَفْسَهٗ ؕ وَاِلَی اللّٰهِ الْمَصِيْرُ ﴿28﴾

یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے ﴿26﴾^(6) تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔^(7) اور تو ہی بے جان چیز میں سے جاندار کو برآمد کر لیتا ہے اور جاندار میں سے بے جان چیز نکال لاتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ﴿27﴾^(8) مؤمن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یار و مددگار نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو۔^(9) اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے۔ اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے ﴿28﴾

(6) جب غزوۂ احزاب کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑ رہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں، مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کر لیں گے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔

(7) سردیوں میں دن چھوٹا ہوتا ہے تو گرمیوں کے دن کا کچھ حصہ رات بن جاتا ہے، اور گرمیوں میں دن بڑا ہوتا ہے تو سردیوں کی رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہو جاتا ہے۔

(8) مثلاً بے جان انڈے سے جاندار چوزہ نکل آتا ہے اور جاندار پرندے سے بے جان انڈا۔

(9) ”یار و مددگار“ عربی لفظ ”ولی“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”ولی“ بنانے کو ”موالات“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصدِ زندگی اور ان کا نفع و نقصان ایک ہو جائے۔

Page 190

تلک الرسل 3 | ۱۹۰ | ال عمرٰن 3

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ يَعْلَمْهُ اللّٰهُ ؕ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ ﴿29﴾ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا ۚۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ ۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗ اَمَدًۢا بَعِيْدًا ؕ

(اے رسول!) لوگوں کو بتادو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اسے جان لے گا۔ اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، وہ سب جانتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿29﴾ وہ دن یاد رکھو جس دن کسی بھی شخص نے نیکی کا جو کام کیا ہوگا اسے اپنے سامنے موجود پائے گا، اور برائی کا جو کام کیا ہوگا اس کو بھی (اپنے سامنے دیکھ کر) یہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کی بدی کے درمیان بہت دُور کا فاصلہ ہوتا!

اس قسم کا تعلق مسلمان کا صرف مسلمان ہی سے ہو سکتا ہے، اور کسی غیر مسلم سے ایسا تعلق رکھنا سخت گناہ ہے، اور اس آیت میں اسے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ یہی حکم سورۂ نساء (139:4 و 144)، سورۂ مائدہ (5:51 و 5:81)، سورۂ توبہ (23:9)، سورۂ مجادلہ (22:58) اور سورۂ ممتحنہ (1:60) میں بھی دیا گیا ہے۔ البتہ جو غیر مسلم جنگ کی حالت میں نہ ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک، رواداری اور خیر خواہی کا معاملہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے، جیسا کہ خود قرآن کریم نے سورۂ ممتحنہ (8:60) میں واضح فرما دیا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پوری حیاتِ طیبہ میں یہ رہی ہے کہ آپ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ فرمایا۔ اسی طرح ان کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعاون کے وہ معاہدے اور تجارتی معاملات بھی کئے جا سکتے ہیں جن کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں دوستی کے معاہدے کہا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ معاہدے یا معاملات اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف نہ ہوں، اور ان میں کسی خلافِ شرع عمل کا ارتکاب لازم نہ آئے۔ چنانچہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے بعد صحابہ کرام نے ایسے معاہدات اور معاملات کئے ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ موالات کی ممانعت کرنے کے بعد قرآن کریم نے جو فرمایا ہے کہ: ”الّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار کے ظلم و تشدد سے بچاؤ کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا پڑے جس سے بظاہر موالات معلوم ہوتی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔

Page 191

ؕوَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ؕ وَاللّٰهُ رَؤُوفٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿30﴾

اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے، اور اللہ بندوں پر بہت شفقت رکھتا ہے ﴿30﴾ (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿31﴾ کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر بھی اگر منہ موڑو گے تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا ﴿32﴾ اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی ﴿33﴾^(10) یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔ اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ﴿34﴾ (چنانچہ اللہ کے دعا سننے کا وہ واقعہ یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا تھا کہ: ”یا رب! میں نے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے لئے وقف رکھوں گی۔ میری اس نذر کو قبول فرما۔

(10) آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہؒ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 172:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ آ رہا ہے، اس لئے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم علیہا السلام ہی کے والد مراد ہیں۔

Page 192

تلک الرسل 3 | ۱۹۲ | ال عمرٰن 3

اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ﴿35﴾ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰی ؕ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ؕ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰی ۚ وَاِنِّيْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَاِنِّيْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ﴿36﴾ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ؕ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۚ قَالَ يٰمَرْيَمُ اَنّٰی لَكِ هٰذَا ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿37﴾


بیشک تو سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“ ﴿35﴾ پھر جب ان سے لڑکی پیدا ہوئی تو وہ (حسرت سے) کہنے لگیں: ”یا رب! یہ تو مجھ سے لڑکی پیدا ہوگئی ہے“۔ حالانکہ اللہ کو خوب علم تھا کہ ان کے یہاں کیا پیدا ہوا ہے — ”اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا۔ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے حفاظت کے لئے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔“ ﴿36﴾ چنانچہ اس کے رب نے اس (مریم) کو بطریقِ احسن قبول کیا اور اسے بہترین طریقے سے پروان چڑھایا۔ اور زکریا اس کے سرپرست بنے۔^(11) جب بھی زکریا ان کے پاس ان کی عبادت گاہ میں جاتے، ان کے پاس کوئی رزق پاتے۔ انہوں نے پوچھا: ”مریم! تمہارے پاس یہ چیزیں کہاں سے آئیں؟“ وہ بولیں: ”اللہ کے پاس سے! اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“ ﴿37﴾

(11) حضرت عمران بیت المقدس کے امام تھے؛ ان کی اہلیہ کا نام حنہ تھا۔ ان کے کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کے کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دیں گی۔ جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو حضرت عمران کا انتقال ہو گیا، حضرت حنہ کے بہنوئی زکریا علیہ السلام تھے جو حضرت مریم کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا علیہ السلام کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آ رہا ہے۔

Page 193

تلک الرسل 3 | ۱۹۳ | ال عمرٰن 3

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۚ اِنَّكَ سَمِيْعُ الدُّعَآءِ ﴿38﴾ فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُّصَلِّيْ فِي الْمِحْرَابِ ۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيٰی مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ﴿39﴾

اس موقع پر زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہنے لگے: ”یا رب! مجھے خاص اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما دے۔ بیشک تو دعا کا سننے والا ہے“۔^(12) ﴿38﴾ چنانچہ (ایک دن) جب زکریا عبادت گاہ میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، فرشتوں نے انہیں آواز دی کہ: ”اللہ آپ کو یحییٰ کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جو اس شان سے پیدا ہوں گے کہ اللہ کے ایک کلمے کی تصدیق کریں گے،^(13) لوگوں کے پیشوا ہوں گے، اپنے آپ کو نفسانی خواہشات سے مکمل طور پر روکے ہوئے ہوں گے،^(14) اور نبی ہوں گے اور ان کا شمار راست بازوں میں ہوگا۔“ ﴿39﴾

(12) حضرت مریم علیہا السلام کے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بے موسم کے پھل آیا کرتے تھے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے یہ دیکھا تو انہیں توجہ ہوئی کہ جو خدا ان کو بے موسم کے پھل دیتا ہے وہ مجھے اس بڑھاپے میں اولاد بھی دے سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یہ دعا مانگی۔

(13) ”اللہ کے کلمے“ سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ جیسا کہ اس سورت کے شروع میں اوپر واضح کیا گیا ہے انہیں ”کلمۃ اللہ“ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر اللہ کے کلمہ ”کن“ سے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام ان سے پہلے پیدا ہوئے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی تصدیق فرمائی۔

(14) حضرت یحییٰ علیہ السلام کی یہ خاص صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشات پر پورا قابو رکھنے والے ہوں گے۔ یہ صفت اگرچہ تمام انبیاء علیہم السلام میں پائی جاتی ہے، لیکن ان کا خاص طور سے اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس درجہ مشغول رہتے تھے کہ ان کو نکاح کرنے کی طرف رغبت نہیں ہوئی۔ اگرچہ عام حالات میں نکاح سنت ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے لیکن اگر کوئی شخص اپنے نفس پر اتنا قابو یافتہ ہو جیسے حضرت یحییٰ علیہ السلام تھے تو اس کے لئے کنوارا رہنا بلا کراہت جائز ہے۔

Page 194

تلک الرسل 3 | ۱۹۴ | ال عمرٰن 3

قَالَ رَبِّ اَنّٰی يَكُوْنُ لِيْ غُلٰمٌ وَّقَدْ بَلَغَنِيَ الْكِبَرُ وَامْرَاَتِيْ عَاقِرٌ ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَآءُ ﴿40﴾ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّيْۤ اٰيَةً ؕ قَالَ اٰيَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَيَّامٍ اِلَّا رَمْزًا ؕ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِيْرًا وَّسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْاِبْكَارِ ﴿41﴾ وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِيْنَ ﴿42﴾

زکریا نے کہا: ”یا رب! میرے یہاں لڑکا کس طرح پیدا ہوگا جبکہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے؟“^(15) اللہ نے کہا: ”اسی طرح! اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے“۔ ﴿40﴾ انہوں نے کہا: ”پروردگار! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجئے“۔ اللہ نے کہا: ”تمہاری نشانی یہ ہوگی کہ تم تین دن تک اشاروں کے سوا کوئی بات نہیں کر سکو گے۔^(16) اور اپنے رب کا کثرت سے ذکر کرتے رہو، اور ڈھلے دن کے وقت بھی اور صبح سویرے بھی اللہ کی تسبیح کیا کرو۔“ ﴿41﴾ اور (اب اس وقت کا تذکرہ سنو) جب فرشتوں نے کہا تھا کہ: ”اے مریم! بیشک اللہ نے تمہیں چن لیا ہے، تمہیں پاکیزگی عطا کی ہے اور دنیا جہان کی ساری عورتوں میں تمہیں منتخب کر کے فضیلت بخشی ہے ﴿42﴾

(15) دُعا حضرت زکریا علیہ السلام نے خود مانگی تھی، اس لئے یہ سوال خدانخواستہ کسی بے یقینی کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ایک غیر معمولی نعمت کی خبر سن کر تعجب کا اظہار تھا جو درحقیقت شکر کا ایک انداز ہے۔ نیز سوال کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کیا بچہ اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہو جائے گا یا ہماری جوانی لوٹا دی جائے گی؟ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ”اسی طرح!“ یعنی لڑکا اسی بڑھاپے کی حالت میں پیدا ہوگا۔

(16) حضرت زکریا علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ کوئی ایسی نشانی معلوم ہو جائے جس سے یہ پتہ چل جائے کہ اب حمل قرار پا گیا ہے، تاکہ وہ اسی وقت سے شکر ادا کرنے میں لگ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نشانی بتلائی کہ جب حمل قرار پائے گا تو تم پر ایسی حالت طاری ہو جائے گی کہ تم اللہ کے ذکر اور تسبیح کے سوا کسی سے کوئی بات نہیں کر سکو گے، اور بات کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اشاروں سے کرنی ہوگی۔

Page 195

تلک الرسل 3 | ۱۹۵ | ال عمرٰن 3

يٰمَرْيَمُ اقْنُتِيْ لِرَبِّكِ وَاسْجُدِيْ وَارْكَعِيْ مَعَ الرَّاكِعِيْنَ ﴿43﴾ ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ؕ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۪ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ﴿44﴾ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ ۖ اسْمُهُ الْمَسِيْحُ عِيْسَی ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيْهًا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ﴿45﴾ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ﴿46﴾

اے مریم! تم اپنے رب کی عبادت میں لگی رہو، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع بھی کیا کرو۔“ ﴿43﴾ (اے پیغمبر!) یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعے تمہیں دے رہے ہیں۔ تم اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لئے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا،^(17) اور نہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ (اس مسئلے میں) ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے تھے ﴿44﴾ (وہ وقت بھی یاد کرو) جب فرشتوں نے مریم سے کہا تھا کہ: ”اے مریم! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے ایک کلمے کی (پیدائش) کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ہوگا،^(18) جو دنیا اور آخرت دونوں میں صاحبِ وجاہت ہوگا، اور (اللہ کے) مقرب بندوں میں سے ہوگا ﴿45﴾^(19) اور وہ گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرے گا اور بڑی عمر میں بھی، اور راست باز لوگوں میں سے ہوگا“۔ ﴿46﴾

(17) جیسا کہ اوپر آیت نمبر 37 میں ذکر کیا گیا، حضرت مریم علیہا السلام کے والد کی وفات کے بعد ان کی کفالت کے بارے میں اختلافِ رائے پیدا ہوا تو اس کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا۔ اس زمانے میں قرعہ قلموں کے ذریعے ڈالا جاتا تھا اس لئے یہاں قلم ڈالنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

(18) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہنے کی وجہ اوپر حاشیہ نمبر 13 میں گذر چکی ہے۔

(19) اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی پاک دامنی واضح کرنے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معجزے کے طور پر اس وقت بات کرنے کی قدرت عطا فرمائی تھی جب وہ دودھ پیتے بچے تھے۔ اس کا ذکر سورۂ مریم (آیت نمبر 29 تا 33) میں آیا ہے۔

Page 196

تلک الرسل 3 | ۱۹۶ | ال عمرٰن 3

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی يَكُوْنُ لِيْ وَلَدٌ وَّلَمْ يَمْسَسْنِيْ بَشَرٌ ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ﴿47﴾ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ﴿48﴾ وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ۬ۙ اَنِّيْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ۙ اَنِّيْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّيْنِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَاَنْفُخُ فِيْهِ فَيَكُوْنُ طَيْرًاۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْيِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰهِ ۚ وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙ فِيْ بُيُوْتِكُمْ ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿49﴾

مریم نے کہا: ”پروردگار! مجھ سے لڑکا کیسے پیدا ہو جائے گا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں؟“ اللہ نے فرمایا: ”اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جب وہ کوئی کام کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ ”ہو جا“ بس وہ ہو جاتا ہے ﴿47﴾ اور وہی (اللہ) اس کو (یعنی عیسیٰ ابنِ مریم کو) کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دے گا ﴿48﴾ اور اسے بنی اسرائیل کے پاس رسول بنا کر بھیجے گا (جو لوگوں سے یہ کہے گا) کہ: ”میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، (اور وہ نشانی یہ ہے) کہ میں تمہارے سامنے گارے سے پرندے جیسی ایک شکل بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں، تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے، اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دیتا ہوں، اور مردوں کو زندہ کر دیتا ہوں، اور تم لوگ جو کچھ اپنے گھروں میں کھاتے یا ذخیرہ کر کے رکھتے ہو میں وہ سب بتا دیتا ہوں۔^(20) اگر تم ایمان لانے والے ہو تو ان تمام باتوں میں تمہارے لئے (کافی) نشانی ہے ﴿49﴾

(20) یہ سب معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کی نبوت کے ثبوت کے طور پر عطا فرمائے تھے، اور آپ نے ان کا عملی مظاہرہ فرمایا




صفحہ 197

ال عمران ۳ | ۱۹۷ | تلك الرسل ۳

[عربی متن] وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿۵۰﴾ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿۵۱﴾ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿۵۲﴾ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿۵۳﴾

[اردو ترجمہ] اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کردوں (21)۔ اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو ﴿50﴾ بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یہی سیدھا راستہ ہے (کہ صرف اسی کی عبادت کرو) ﴿51﴾ پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں، تو انہوں نے (اپنے پیرووں سے) کہا: "کون کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں؟" حواریوں (22) نے کہا: "ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لا چکے ہیں، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں ﴿52﴾ اے ہمارے رب! آپ نے جو کچھ نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہٰذا ہمیں ان لوگوں میں لکھ لیجئے جو (حق کی) گواہی دینے والے ہیں۔" ﴿53﴾

[حواشی] (21) بنی اسرائیل کے لئے موسوی شریعت میں بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، بعض پرندے اور مچھلیوں کی بعض اقسام۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں انہیں جائز قرار دے دیا گیا۔ (22) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صحابہ کو حواری کہا جاتا ہے۔


صفحہ 198

ال عمران ۳ | ۱۹۸ | تلك الرسل ۳

[عربی متن] وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿۵٤﴾ إِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿55﴾

[اردو ترجمہ] اور ان کافروں نے (عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف) خفیہ تدبیر کی، اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے ﴿54﴾ (اس کی تدبیر اس وقت سامنے آئی) جب اللہ نے کہا تھا کہ: "اے عیسیٰ! میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا (23) اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان (کی ایذا) سے تمہیں پاک کر دوں گا۔ اور جن لوگوں نے تمہاری اتباع کی ہے، ان کو قیامت کے دن تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔ پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے ﴿55﴾"

[حواشی] (23) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مخالفین نے انہیں سولی پر چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے آئے تھے ان میں سے ایک شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا، اور مخالفین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دھوکے میں اسے سولی پر چڑھا دیا۔ آیت کا جو ترجمہ یہاں کیا گیا ہے وہ عربی لفظ "توفی" کے لغوی معنی پر مبنی ہے، اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت نے یہاں یہی معنی مراد لئے ہیں۔ اس لفظ کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے جو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے بھی مروی ہے۔ اس کے لئے ملاحظہ ہو معارف القرآن ص: 247 ج: 2۔ (24) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر مانتے ہوں جیسے مسلمان، یا غلو کے ساتھ مانتے ہوں جیسے عیسائی) ان کے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ چنانچہ تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے، البتہ صدیوں کی تاریخ میں اگر کچھ مختصر عرصے کے لئے جزوی طور پر کہیں ان کے مخالفین کا غلبہ ہوگیا ہو تو وہ اس کے منافی نہیں ہے۔


صفحہ 199

ال عمران ۳ | ۱۹۹ | تلك الرسل ۳

[عربی متن] فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ﴿56﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ﴿57﴾ ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ ﴿58﴾ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهٗ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُن فَيَكُونُ ﴿59﴾ اَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ الْمُمْتَرِينَ ﴿60﴾ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ﴿61﴾

[اردو ترجمہ] چنانچہ جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا، اور ان کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿56﴾ البتہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو اللہ ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ﴿57﴾ (اے پیغمبر!) یہ وہ آیتیں اور حکمت بھرا ذکر ہے جو ہم تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں ﴿58﴾ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم جیسی ہے؛ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا: "ہو جاؤ،" بس وہ ہو گئے ﴿59﴾ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو جانا ﴿60﴾ تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو کہ: "آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں (25)۔" ﴿61﴾

[حواشی] (25) اس عمل کو مباہلہ کہا جاتا ہے۔ جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل


صفحہ 200

ال عمران ۳ | ۲۰۰ | تلك الرسل ۳

[عربی متن] إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿۶۲﴾ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ ﴿۶۳﴾ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿۶٤﴾

[اردو ترجمہ] یقین جانو کہ واقعات کا سچا بیان یہی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور یقیناً اللہ ہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک ﴿62﴾ پھر بھی اگر یہ لوگ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو اچھی طرح جانتا ہے ﴿63﴾ (مسلمانو! یہودیوں و نصاریٰ سے) کہہ دو کہ: "اے اہل کتاب! ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہم تم میں مشترک ہو، (اور وہ یہ) کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔" پھر بھی اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: "گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں۔" ﴿64﴾

[حاشیہ نمبر 25 کا بقیہ حصہ] جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کریں کہ ہم میں سے جو جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہو جائے۔ جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا، اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی پر بحث کی جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا۔ جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعوت دی اور خود اس کے لئے تیار ہو کر اپنے اہل بیت کو بھی جمع فرما لیا، لیکن عیسائیوں کا وفد مباہلے سے فرار اختیار کر گیا۔


صفحہ 201

ال عمران ۳ | ۲۰۱ | تلك الرسل ۳

[عربی متن] يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿۶۵﴾ هَا أَنتُمْ هَؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿۶۶﴾ مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿۶۷﴾

[اردو ترجمہ] اے اہل کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں بحث کرتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد ہی تو نازل ہوئی تھیں؛ کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں ہے؟ ﴿65﴾ دیکھو! یہ تم ہی تو ہو جنہوں نے ان معاملات میں اپنی سی بحث کر لی ہے جن کا تمہیں کچھ نہ کچھ علم تھا۔ اب ان معاملات میں کیوں بحث کرتے ہو جن کا تمہیں سرے سے کوئی علم ہی نہیں ہے؟ اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے ﴿66﴾ ابراہیم نہ یہودی تھے، نہ نصرانی، بلکہ وہ تو سیدھے سادھے مسلمان تھے، اور شرک کرنے والوں میں کبھی شامل نہیں ہوئے ﴿67﴾

[حواشی] (26) یہودی کہا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے، اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ عیسائی تھے۔ اوّل تو قرآن کریم نے فرمایا کہ یہ دونوں مذہب تورات اور انجیل کے نزول کے بعد وجود میں آئے، جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت پہلے گذر چکے تھے، لہٰذا یہ انتہائی احمقانہ بات ہے کہ انہیں یہودی یا عیسائی کہا جائے۔ اس کے بعد قرآن کریم نے فرمایا کہ جب تمہارے وہ دلائل جو کسی نہ کسی صحیح حقیقت پر مبنی تھے، تمہارے دعووں کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ بے بنیاد اور جاہلانہ بات کیسے تمہارے دعوے کو ثابت کر سکتی ہے؟ مثلاً تمہیں یہ معلوم تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اور اس کی بنیاد پر تم نے ان کی خدائی کی دلیل پیش کر کے بحث کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کسی کی خدائی کی دلیل نہیں ہو سکتا۔ حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے، مگر ان کو تم بھی خدا یا خدا کا بیٹا نہیں مانتے۔ جب تمہاری وہ دلیلیں بھی کام نہ آ سکیں جو اس صحیح واقعے پر مبنی تھیں تو یہ سراسر جاہلانہ بات کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نصرانی یا یہودی تھے، کیسے تمہارے لئے کارآمد ہو سکتی ہے؟


صفحہ 202

آل عمران 3 | 202 | تلك الرسل 3

إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا ۗ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٦٨﴾ وَدَّت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ ﴿٦٩﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ ﴿٧٠﴾ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٧١﴾ وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٧٢﴾

ابراہیم کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم) اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے ﴿68﴾ (مسلمانو!) اہل کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کردے، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی اور کو گمراہ نہیں کررہے، اگرچہ انہیں اس کا احساس نہیں ہے ﴿69﴾ اے اہل کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود (ان کے من جانب اللہ ہونے کے) گواہ ہو؟ (27) ﴿70﴾ اے اہل کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈ مڈ کرتے ہو اور کیوں جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو؟ ﴿71﴾ اہل کتاب کے ایک گروہ نے (ایک دوسرے سے) کہا ہے کہ: "جو کلام مسلمانوں پر نازل کیا گیا ہے، اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آؤ، اور دن کے آخری حصے میں اس سے انکار کر دینا، شاید اس طرح مسلمان (بھی اپنے دین سے) پھر جائیں۔ (28) ﴿72﴾


(27) یہاں آیتوں سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔ (28) بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ


صفحہ 203

آل عمران 3 | 203 | تلك الرسل 3

وَلَا تُؤْمِنُوا إِلَّا لِمَن تَبِعَ دِينَكُمْ قُلْ إِنَّ الْهُدَىٰ هُدَى اللَّهِ أَن يُؤْتَىٰ أَحَدٌ مِّثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِندَ رَبِّكُمْ ۗ قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ﴿٧٣﴾ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿٧٤﴾ ۞ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لَّا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ۗ

مگر دل سے اُن لوگوں کے سوا کسی کی نہ ماننا جو تمہارے دین کے متبع ہیں۔" آپ ان سے کہہ دیجیئے کہ ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہو۔ یہ ساری باتیں تم اس ضد میں کر رہے ہو کہ کسی کو اُس جیسی چیز (یعنی نبوت اور آسمانی کتاب) کیوں مل گئی جیسی تمہیں دی گئی تھی یا یہ (مسلمان) تمہارے رب کے آگے تم پر غالب کیوں آگئے!" آپ کہہ دیجیئے کہ فضیلت تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ﴿73﴾ وہ اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے خاص طور پر منتخب کر لیتا ہے، اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے ﴿74﴾ اہل کتاب میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس دولت کا ایک ڈھیر بھی امانت کے طور پر رکھوا دو تو وہ تمہیں واپس کردیں گے، اور انہی میں سے کچھ ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار کی امانت بھی ان کے پاس رکھواؤ تو وہ تمہیں واپس نہیں دیں گے، الا یہ کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو۔


لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کر دیں، اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھر جائیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب سے جا کر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جو تورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔


صفحہ 204

آل عمران 3 | 204 | تلك الرسل 3

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٧٥﴾ بَلَىٰ مَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ وَاتَّقَىٰ فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ﴿٧٦﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٧٧﴾ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿٧٨﴾

ان کا یہ طرزِ عمل اس لئے ہے کہ انہوں نے یہ کہہ رکھا ہے کہ: "اُمّیوں (یعنی غیر یہودی عربوں) کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوگی۔" اور (اس طرح) وہ اللہ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھتے ہیں ﴿75﴾ بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے ﴿76﴾ (اس کے برخلاف) جو لوگ اللہ سے کئے ہوئے عہد اور اپنی کھائی ہوئی قسموں کا سودا کر کے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، اور قیامت کے دن نہ اللہ ان سے بات کرے گا، نہ انہیں (رعایت کی نظر سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کا حصہ تو بس عذاب ہو گا، انتہائی دردناک! ﴿77﴾ اور انہی میں سے ایک گروہ کے لوگ ایسے ہیں جو کتاب (یعنی تورات) پڑھتے وقت اپنی زبانوں کو مروڑتے ہیں تاکہ تم (ان کی مروڑ کر بنائی ہوئی) اس عبارت کو کتاب کا حصہ سمجھو، حالانکہ وہ کتاب کا حصہ نہیں ہوتی۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ (عبارت) اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ اور (اس طرح) وہ اللہ پر جانتے بوجھتے جھوٹ باندھتے ہیں ﴿78﴾


صفحہ 205

آل عمران 3 | 205 | تلك الرسل 3

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللَّهِ وَلَٰكِن كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَ ﴿٧٩﴾ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلَائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُم بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿٨٠﴾ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ ۚ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَىٰ ذَٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوا أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ ﴿٨١﴾

یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور وہ اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے (وہ تو یہی کہے گا کہ) اللہ والے بن جاؤ، کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے (29) ﴿79﴾ اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا قرار دے دو۔ جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اس کے بعد تمہیں کفر اختیار کرنے کا حکم دے گا؟ ﴿80﴾ اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ: "اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے، اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔" اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ: "کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟" انہوں نے کہا تھا: "ہم اقرار کرتے ہیں۔" اللہ نے کہا: "تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔" ﴿81﴾


(29) یہ عیسائیوں کی تردید ہو رہی ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ


صفحہ 206

آل عمران 3 | 206 | تلك الرسل 3

فَمَن تَوَلَّىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٨٢﴾ أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ﴿٨٣﴾ قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ﴿٨٤﴾ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾

اس کے بعد بھی جو لوگ (ہدایت سے) منہ موڑیں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ ﴿82﴾ اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، (کچھ نے) خوشی سے اور (کچھ نے) ناچار ہو کر (30)، اور اسی کی طرف وہ سب لوٹ کر جائیں گے ﴿83﴾ کہہ دو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اُس (ہدایت) پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور (ان کی) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک اللہ) کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔" ﴿84﴾ جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ﴿85﴾


خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہی ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔ (30) مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اہلِ ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل و جان سے (تسلیم کرتے ہیں)۔

صفحہ 207

تلك الرسل 3 | 207 | ال عمران 3

كَيْفَ يَهْدِي اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ﴿86﴾ اُولٰٓئِكَ جَزَاؤُهُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ ﴿87﴾ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ ۙ ﴿88﴾ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۗ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿89﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ ۚ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّالُّوْنَ ﴿90﴾

اللہ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا؟ حالانکہ وہ گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچے ہیں، اور ان کے پاس (اس کے) روشن دلائل بھی آ چکے تھے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ﴿86﴾ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے ﴿87﴾ اسی (پھٹکار) میں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان کے لئے عذاب ہلکا کیا جائے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائیگی ﴿88﴾ البتہ جو لوگ اس سب کے بعد بھی توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿89﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی (31)، ایسے لوگ راستے سے بالکل ہی بھٹک چکے ہیں ﴿90﴾


بخوشی قبول کرتے ہیں، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چاروناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند، بہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے، اور کوئی مؤمن ہو یا کافر، اسے فیصلے کے آگے سر جھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ (31) یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

صفحہ 208

لن تنالوا 4 | 208 | ال عمران 3

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿91﴾ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ﴿92﴾ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕ

جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿91﴾

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لئے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿92﴾ تورات (32) کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔


(32) پیچھے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گزرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لئے دو، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لئے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کر دیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو معارف القرآن جلد دوم ص: 107 اور 108۔