صفحہ 208
لن تنالوا 4 | 208 | ال عمران 3
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿91﴾ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ﴿92﴾ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕ
جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿91﴾
تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لئے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿92﴾ تورات (32) کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔
(32) پیچھے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گزرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لئے دو، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لئے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کر دیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو معارف القرآن جلد دوم ص: 107 اور 108۔
صفحہ 209
ال عمران 3 | 209 | لن تنالوا 4
قُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ﴿93﴾ فَمَنِ افْتَرٰی عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿94﴾ قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ ۗ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ﴿95﴾
(اے پیغمبر! یہودیوں سے) کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت (33) کرو۔" ﴿93﴾ پھر ان باتوں کے (واضح ہونے کے) بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں، تو ایسے لوگ بڑے ظالم ہیں ﴿94﴾ آپ کہئے کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا تم ابراہیم کے دین کی اتباع کرو جو پوری طرح سیدھے راستے پر تھے، اور ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کی خدائی میں کسی کو شریک مانتے ہیں ﴿95﴾
(33) بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں، جو تورات کی رُو سے حرام ہے۔ ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں حرام نہیں تھا، بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، جس کی وجہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی، اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑ دوں گا۔ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم بسند صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کر دیا گیا تھا یا نہیں، لیکن سورہ نساء (4:160) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کر دی گئی تھیں۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 50 میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ: "اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں۔" نیز یہاں "تورات نازل ہونے سے پہلے" کے الفاظ بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اونٹ...
صفحہ 210
لن تنالوا 4 | 210 | ال عمران 3
اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴿96﴾ فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ ە ۚ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ؕ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ﴿97﴾
حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہان کے لوگوں کے لئے ہدایت کا (34) سامان ہے۔ ﴿96﴾ اس میں روشن نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پا جاتا ہے۔ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔ ﴿97﴾
کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلا آتا ہے۔ اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے، اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے: "تم بنی اسرائیل سے کہو کہ... تم ان جانوروں کو نہ کھانا، یعنی اونٹ کو... سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔" (احبار 11: 1-4) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے، مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ان کی نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا۔ اب اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔
(34) یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنالیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشانی ہے۔ لہٰذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابلِ اعتراض نہیں۔
Page 211
لن تنالوا ۴ | ۲۱۱ | ال عمران ۳
قُلْ يٰأَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ﴿۹۸﴾ قُلْ يٰأَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّاَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿۹۹﴾ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ ﴿۱۰۰﴾ وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَيْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ﴿۱۰۱﴾
کہہ دو کہ: ”اے اہلِ کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب کا گواہ ہے“ ﴿98﴾ کہہ دو کہ: ”اے اہلِ کتاب! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مؤمن کے لئے اس میں کیوں رُکاوٹ ڈالتے ہو جبکہ تم خود حقیقتِ حال کے گواہ ہو؟ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے“ ﴿99﴾
اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بنا کر چھوڑیں گے ﴿100﴾ اور تم کیسے کفر اپناؤ گے جبکہ اللہ کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے؟ اور (اللہ کی سنت یہ ہے کہ) جو شخص اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لے، وہ سیدھے راستے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ ﴿101﴾
(35) یہاں سے آیت نمبر 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس اور خزرج کے نام سے آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی، اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں۔ جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہو گئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اسلام کے دامن میں آ کر وہ شیر و شکر ہو کر رہنے لگے۔ بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے،
Page 212
لن تنالوا ۴ | ۲۱۲ | ال عمران ۳
يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿۱۰۲﴾ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖ اِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿۱۰۳﴾
اے ایمان والو! اللہ میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو ﴿102﴾ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے؛ اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہِ راست پر آ جاؤ ﴿103﴾
ایک یہودی شاس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا، اور اس نے ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ ترکیب کی کہ ایک شخص سے کہا کہ اس مجلس میں وہ اشعار سناؤ جو زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج کے شاعروں نے ایک لمبی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے۔ اس شخص نے وہ اشعار سنانے شروع کر دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اشعار سے پرانی باتیں تازہ ہو گئیں، شروع میں دونوں قبیلوں کے لوگوں میں زبانی تکرار ہوئی، پھر بات بڑھ گئی اور آپس میں نئے سرے سے جنگ کی تاریخ اور وقت مقرر ہونے لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ کو سخت صدمہ ہوا، آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں تنبیہ فرمائی کہ یہ سب شیطانی حرکت تھی۔ بالآخر آپ کے سمجھانے سے یہ فتنہ ختم ہوا۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے تو یہودیوں سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اوّل تو تم کو خود ایمان لانا چاہئے، اور اگر خود اس سعادت سے محروم ہو تو کم از کم ان لوگوں کے راستے میں رُکاوٹ تو نہ ڈالو جو ایمان لا چکے ہیں۔ اس کے بعد بڑے مؤثر انداز میں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے، اور آخر میں باہمی جھگڑوں سے بچنے کا علاج یہ بتایا ہے کہ اپنے آپ کو دین کی تبلیغ اور دعوت میں مصروف کر لو تو اس سے اشاعت اسلام کے علاوہ یکجہتی بھی پیدا ہو گی۔
Page 213
لن تنالوا ۴ | ۲۱۳ | ال عمران ۳
وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿۱۰۴﴾ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ﴿۱۰۵﴾ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ اَكَفرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿۱۰۶﴾ وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِيْ رَحْمَةِ اللّٰهِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿۱۰۷﴾
اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ﴿104﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آ چکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے۔ ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی ﴿105﴾
اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے! چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اُن سے کہا جائے گا کہ: ”کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا؟ لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔“ ﴿106﴾ دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے۔ وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ﴿107﴾
(36) اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے، اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جو کسی بھی وقت اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔ پیچھے چونکہ مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خبردار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعہ مرتد ہو جائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہو گا۔
Page 214
لن تنالوا ۴ | ۲۱۴ | ال عمران ۳
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴿۱۰۸﴾ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿۱۰۹﴾ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿۱۱۰﴾ لَنْ يَّضُرُّوكُمْ اِلَّاۤ اَذًی وَاِنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ يُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ ﴿۱۱۱﴾ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُقِفُوْا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں، اور اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا ﴿108﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے ﴿109﴾ (مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ تو مؤمن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے ﴿110﴾ وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی ﴿111﴾ وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الّا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہو جائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دے دے؛ انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں، اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔
Page 215
لن تنالوا ۴ | ۲۱۵ | ال عمران ۳
ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ﴿۱۱۲﴾ لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۤئِمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰیٰتُ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُوْنَ ﴿۱۱۳﴾ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَاُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ ﴿۱۱۴﴾ وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْهُ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ ﴿۱۱۵﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْئًا وَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿۱۱۶﴾
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے ﴿112﴾ (لیکن) سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں۔ اہل کتاب ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو (راہ راست پر) قائم ہیں، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور جو (اللہ کے آگے) سجدہ ریز ہوتے ہیں ﴿113﴾ یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے ﴿114﴾ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ﴿115﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے، نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں؛ اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے ﴿116﴾
(37) اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔
آل عمران 3 | 216 | لن تنالوا 4
مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿117﴾
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ ﴿118﴾
جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو، اور وہ اس کھیتی کو برباد کر دے (38)۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ ﴿117﴾
اے ایمان والو! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو راز دار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے (39)۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔ بغض ان کے منہ سے ظاہر ہو چکا ہے، اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتا دی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔ ﴿118﴾
(38) کافر لوگ جو کچھ خیرات وغیرہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، ان کے کفر کی وجہ سے اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ لہٰذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی سی ہے، اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کر ڈالے۔
(39) مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہو گئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ
آل عمران 3 | 217 | لن تنالوا 4
هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿119﴾
إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴿120﴾
دیکھو! تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو، مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تو تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (قرآن پر) ایمان لے آئے، اور جب تنہائی میں جاتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ "اپنے غصے میں خود مر رہو۔ اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتیں خوب جانتا ہے"۔ ﴿119﴾ اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم صبر اور تقویٰ سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔ ﴿120﴾
یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔
آل عمران 3 | 218 | لن تنالوا 4
وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿121﴾
إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿122﴾
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿123﴾
(اے پیغمبر! جنگِ اُحد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے، (40) اور اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے۔ ﴿121﴾ جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں (41)، حالانکہ اللہ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ﴿122﴾ اللہ نے تو (جنگِ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے۔ (42) لہٰذا (صرف) اللہ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔ ﴿123﴾
(40) جنگِ اُحد میں تین ہزار کفارِ مکہ کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقابلے کے لیے اُحد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی۔ آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
(41) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقابلے کے لیے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے، لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے۔ ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں، اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگا گئے، اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سو افراد بہت تھوڑے ہیں، اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہو جانا چاہئے، لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی، اور وہ جنگ میں شامل ہوئے۔ اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ ہے۔
(42) جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، اور ان کے پاس ستر اونٹ، دو گھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔
آل عمران 3 | 219 | لن تنالوا 4
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُنْزَلِينَ ﴿124﴾
بَلَىٰ ۚ إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ ﴿125﴾
وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿126﴾
لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ ﴿127﴾
جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ: "کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے؟ ﴿124﴾ ہاں! بلکہ اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ لوگ اپنے اسی ریلے میں اچانک تم تک پہنچ جائیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دے گا جنہوں نے اپنی پہچان نمایاں کی ہوگی" (43)۔ ﴿125﴾ اللہ نے یہ انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک ﴿126﴾ (اور جنگِ بدر میں یہ مدد اللہ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔ ﴿127﴾
(43) یہ سارا حوالہ جنگِ بدر کا ہے۔ اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی، لیکن بعد میں صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفارِ مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہا ہے۔ کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی، اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی۔ اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آ گیا تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے۔ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا، اس لئے پانچ ہزار فرشتے بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔
آل عمران 3 | 220 | لن تنالوا 4
لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ﴿128﴾
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴿129﴾
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿130﴾
وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴿131﴾
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿132﴾
وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿133﴾
(اے پیغمبر!) تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں (*)۔ ﴿128﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ﴿129﴾ اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو (44)۔ ﴿130﴾ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿131﴾ اور اللہ اور رسول کی بات مانو، تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے ﴿132﴾ اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿133﴾
(*) جنگِ اُحد کے موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ آئے کہ ایسی قوم کیسے فلاح پائے گی جس کا نبی انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس سے جنگ کرے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
(44) امام رازی نے تفسیرِ کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرضے لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں۔ اس آیت نے انہیں خبردار کر دیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔ یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے، بلکہ اس وقت چونکہ