پارہ 4




صفحہ 208

لن تنالوا 4 | 208 | ال عمران 3

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿91﴾ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ ؕ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ﴿92﴾ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕ

جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿91﴾

تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لئے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿92﴾ تورات (32) کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔


(32) پیچھے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گزرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لئے دو، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لئے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کر دیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو معارف القرآن جلد دوم ص: 107 اور 108۔

صفحہ 209

ال عمران 3 | 209 | لن تنالوا 4

قُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ﴿93﴾ فَمَنِ افْتَرٰی عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿94﴾ قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ ۗ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ﴿95﴾

(اے پیغمبر! یہودیوں سے) کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت (33) کرو۔" ﴿93﴾ پھر ان باتوں کے (واضح ہونے کے) بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں، تو ایسے لوگ بڑے ظالم ہیں ﴿94﴾ آپ کہئے کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا تم ابراہیم کے دین کی اتباع کرو جو پوری طرح سیدھے راستے پر تھے، اور ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کی خدائی میں کسی کو شریک مانتے ہیں ﴿95﴾


(33) بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں، جو تورات کی رُو سے حرام ہے۔ ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں حرام نہیں تھا، بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، جس کی وجہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی، اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑ دوں گا۔ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم بسند صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کر دیا گیا تھا یا نہیں، لیکن سورہ نساء (4:160) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کر دی گئی تھیں۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 50 میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ: "اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں۔" نیز یہاں "تورات نازل ہونے سے پہلے" کے الفاظ بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اونٹ...

صفحہ 210

لن تنالوا 4 | 210 | ال عمران 3

اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴿96﴾ فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ ە ۚ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ؕ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ﴿97﴾

حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہان کے لوگوں کے لئے ہدایت کا (34) سامان ہے۔ ﴿96﴾ اس میں روشن نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے، اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پا جاتا ہے۔ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔ ﴿97﴾


کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلا آتا ہے۔ اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے، اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے: "تم بنی اسرائیل سے کہو کہ... تم ان جانوروں کو نہ کھانا، یعنی اونٹ کو... سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔" (احبار 11: 1-4) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے، مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ان کی نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا۔ اب اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔

(34) یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنالیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشانی ہے۔ لہٰذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابلِ اعتراض نہیں۔


Page 211

لن تنالوا ۴ | ۲۱۱ | ال عمران ۳

قُلْ يٰأَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ شَهِيْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ﴿۹۸﴾ قُلْ يٰأَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّاَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ﴿۹۹﴾ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تُطِيْعُوْا فَرِيْقًا مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ يَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ كٰفِرِيْنَ ﴿۱۰۰﴾ وَكَيْفَ تَكْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُتْلٰی عَلَيْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَفِيْكُمْ رَسُوْلُهٗ وَمَنْ يَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِيَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ﴿۱۰۱﴾

کہہ دو کہ: ”اے اہلِ کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب کا گواہ ہے“ ﴿98﴾ کہہ دو کہ: ”اے اہلِ کتاب! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مؤمن کے لئے اس میں کیوں رُکاوٹ ڈالتے ہو جبکہ تم خود حقیقتِ حال کے گواہ ہو؟ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے“ ﴿99﴾

اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب کے ایک گروہ کی بات مان لو گے تو وہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بنا کر چھوڑیں گے ﴿100﴾ اور تم کیسے کفر اپناؤ گے جبکہ اللہ کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے؟ اور (اللہ کی سنت یہ ہے کہ) جو شخص اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لے، وہ سیدھے راستے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ ﴿101﴾

(35) یہاں سے آیت نمبر 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس اور خزرج کے نام سے آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی، اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں۔ جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہو گئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اسلام کے دامن میں آ کر وہ شیر و شکر ہو کر رہنے لگے۔ بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے،

Page 212

لن تنالوا ۴ | ۲۱۲ | ال عمران ۳

يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿۱۰۲﴾ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖ اِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿۱۰۳﴾

اے ایمان والو! اللہ میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو ﴿102﴾ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے؛ اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہِ راست پر آ جاؤ ﴿103﴾

ایک یہودی شاس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا، اور اس نے ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ ترکیب کی کہ ایک شخص سے کہا کہ اس مجلس میں وہ اشعار سناؤ جو زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج کے شاعروں نے ایک لمبی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے۔ اس شخص نے وہ اشعار سنانے شروع کر دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اشعار سے پرانی باتیں تازہ ہو گئیں، شروع میں دونوں قبیلوں کے لوگوں میں زبانی تکرار ہوئی، پھر بات بڑھ گئی اور آپس میں نئے سرے سے جنگ کی تاریخ اور وقت مقرر ہونے لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ کو سخت صدمہ ہوا، آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں تنبیہ فرمائی کہ یہ سب شیطانی حرکت تھی۔ بالآخر آپ کے سمجھانے سے یہ فتنہ ختم ہوا۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے تو یہودیوں سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اوّل تو تم کو خود ایمان لانا چاہئے، اور اگر خود اس سعادت سے محروم ہو تو کم از کم ان لوگوں کے راستے میں رُکاوٹ تو نہ ڈالو جو ایمان لا چکے ہیں۔ اس کے بعد بڑے مؤثر انداز میں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے، اور آخر میں باہمی جھگڑوں سے بچنے کا علاج یہ بتایا ہے کہ اپنے آپ کو دین کی تبلیغ اور دعوت میں مصروف کر لو تو اس سے اشاعت اسلام کے علاوہ یکجہتی بھی پیدا ہو گی۔

Page 213

لن تنالوا ۴ | ۲۱۳ | ال عمران ۳

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿۱۰۴﴾ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ﴿۱۰۵﴾ يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ اَكَفرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿۱۰۶﴾ وَاَمَّا الَّذِيْنَ ابْيَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِيْ رَحْمَةِ اللّٰهِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿۱۰۷﴾

اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ﴿104﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آ چکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے۔ ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی ﴿105﴾

اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے! چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اُن سے کہا جائے گا کہ: ”کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا؟ لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔“ ﴿106﴾ دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے۔ وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ﴿107﴾

(36) اگر یہ یہودیوں کا ذکر ہے تو ایمان سے مراد ان کا تورات پر ایمان لانا ہے، اور اگر منافقین مراد ہیں تو ایمان کا مقصد ان کا زبانی اعلان ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔ تیسرا احتمال یہ بھی ہے کہ ان لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے جو کسی بھی وقت اسلام سے مرتد ہو گئے تھے۔ پیچھے چونکہ مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ خبردار اسلام کو چھوڑ نہ بیٹھنا، اس لئے یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ واقعہ مرتد ہو جائیں گے، ان کا آخرت میں کیا حال ہو گا۔

Page 214

لن تنالوا ۴ | ۲۱۴ | ال عمران ۳

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَمَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴿۱۰۸﴾ وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿۱۰۹﴾ كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿۱۱۰﴾ لَنْ يَّضُرُّوكُمْ اِلَّاۤ اَذًی وَاِنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ يُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ ﴿۱۱۱﴾ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُقِفُوْا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں، اور اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا ﴿108﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے ﴿109﴾ (مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ تو مؤمن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے ﴿110﴾ وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی ﴿111﴾ وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الّا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہو جائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دے دے؛ انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں، اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔

Page 215

لن تنالوا ۴ | ۲۱۵ | ال عمران ۳

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ ﴿۱۱۲﴾ لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَاۤئِمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰیٰتُ اللّٰهِ اٰنَاءَ الَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُوْنَ ﴿۱۱۳﴾ يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَاُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ ﴿۱۱۴﴾ وَمَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْهُ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ ﴿۱۱۵﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَلَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْئًا وَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿۱۱۶﴾

اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے ﴿112﴾ (لیکن) سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں۔ اہل کتاب ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو (راہ راست پر) قائم ہیں، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور جو (اللہ کے آگے) سجدہ ریز ہوتے ہیں ﴿113﴾ یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے ﴿114﴾ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ﴿115﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے، نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں؛ اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے ﴿116﴾

(37) اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔


آل عمران 3 | 216 | لن تنالوا 4

مَثَلُ مَا يُنْفِقُونَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿117﴾

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ ﴿118﴾

جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو، اور وہ اس کھیتی کو برباد کر دے (38)۔ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ ﴿117﴾

اے ایمان والو! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو راز دار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے (39)۔ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔ بغض ان کے منہ سے ظاہر ہو چکا ہے، اور جو کچھ (عداوت) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔ ہم نے پتے کی باتیں تمہیں کھول کھول کر بتا دی ہیں، بشرطیکہ تم سمجھ سے کام لو۔ ﴿118﴾

(38) کافر لوگ جو کچھ خیرات وغیرہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، ان کے کفر کی وجہ سے اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ لہٰذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی سی ہے، اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کر ڈالے۔

(39) مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہو گئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگ


آل عمران 3 | 217 | لن تنالوا 4

هَا أَنْتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿119﴾

إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴿120﴾

دیکھو! تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو، مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تو تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (قرآن پر) ایمان لے آئے، اور جب تنہائی میں جاتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ "اپنے غصے میں خود مر رہو۔ اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتیں خوب جانتا ہے"۔ ﴿119﴾ اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم صبر اور تقویٰ سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔ ﴿120﴾

یہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔


آل عمران 3 | 218 | لن تنالوا 4

وَإِذْ غَدَوْتَ مِنْ أَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِينَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿121﴾

إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿122﴾

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿123﴾

(اے پیغمبر! جنگِ اُحد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے، (40) اور اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے۔ ﴿121﴾ جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں (41)، حالانکہ اللہ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ﴿122﴾ اللہ نے تو (جنگِ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے۔ (42) لہٰذا (صرف) اللہ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔ ﴿123﴾

(40) جنگِ اُحد میں تین ہزار کفارِ مکہ کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقابلے کے لیے اُحد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی۔ آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

(41) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقابلے کے لیے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے، لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے۔ ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں، اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگا گئے، اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سو افراد بہت تھوڑے ہیں، اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہو جانا چاہئے، لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی، اور وہ جنگ میں شامل ہوئے۔ اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ ہے۔

(42) جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، اور ان کے پاس ستر اونٹ، دو گھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔


آل عمران 3 | 219 | لن تنالوا 4

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُنْزَلِينَ ﴿124﴾

بَلَىٰ ۚ إِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا وَيَأْتُوكُمْ مِنْ فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ آلَافٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُسَوِّمِينَ ﴿125﴾

وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ بِهِ ۗ وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿126﴾

لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ ﴿127﴾

جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ: "کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے؟ ﴿124﴾ ہاں! بلکہ اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ لوگ اپنے اسی ریلے میں اچانک تم تک پہنچ جائیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دے گا جنہوں نے اپنی پہچان نمایاں کی ہوگی" (43)۔ ﴿125﴾ اللہ نے یہ انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک ﴿126﴾ (اور جنگِ بدر میں یہ مدد اللہ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔ ﴿127﴾

(43) یہ سارا حوالہ جنگِ بدر کا ہے۔ اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی، لیکن بعد میں صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفارِ مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہا ہے۔ کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی، اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی۔ اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آ گیا تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے۔ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا، اس لئے پانچ ہزار فرشتے بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔


آل عمران 3 | 220 | لن تنالوا 4

لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ ﴿128﴾

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ﴿129﴾

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿130﴾

وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴿131﴾

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿132﴾

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿133﴾

(اے پیغمبر!) تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں (*)۔ ﴿128﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ﴿129﴾ اے ایمان والو! کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو (44)۔ ﴿130﴾ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿131﴾ اور اللہ اور رسول کی بات مانو، تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے ﴿132﴾ اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت اور وہ جنت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں۔ وہ ان پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے ﴿133﴾

(*) جنگِ اُحد کے موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ الفاظ آئے کہ ایسی قوم کیسے فلاح پائے گی جس کا نبی انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ اس سے جنگ کرے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(44) امام رازی نے تفسیرِ کبیر میں فرمایا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرضے لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لئے کسی مسلمان کے دل میں بھی یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کریں۔ اس آیت نے انہیں خبردار کر دیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔ یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے، بلکہ اس وقت چونکہ

صفحہ 221

ال عمران 3 | 221 | لن تنالوا 4

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۚ ۝١٣٤ وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ ۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ۪ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ ۝١٣٥ اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ؕ ۝١٣٦ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ ۝١٣٧ هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًی وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ۝١٣٨

جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لئے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿134﴾ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں — اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے؟ — اور یہ اپنے کئے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے ﴿135﴾ یہ ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے، اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے، جن میں انہیں دائمی زندگی حاصل ہوگی۔ کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے! ﴿136﴾ تم سے پہلے بہت سے واقعات گزر چکے ہیں۔ اب تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جنہوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟ ﴿137﴾ یہ تمام لوگوں کے لئے واضح اعلان ہے اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور نصیحت! ﴿138﴾


سودی قرضوں میں بکثرت یہی ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا اس لئے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے، ورنہ سورۂ بقرہ (آیت 277 اور 278) میں صاف واضح کر دیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنی بھی زیادتی ہو وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔


صفحہ 222

آلِ عمران 3 وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿۱۳۹﴾ (مسلمانو!) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو۔ اگر تم واقعی مؤمن ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔ ﴿139﴾ (45)

(45) جنگِ اُحد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آگئے، اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیرانداز صحابہ کا ایک دستہ میدانِ جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا، تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ جب دشمن پسپا ہوا اور میدانِ جنگ خالی ہو گیا تو صحابہ نے اس کا چھوڑا ہوا ساز و سامانِ مالِ غنیمت کے طور پر اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ تیراندازوں کے اس دستے نے جب یہ دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہو چکی ہے اور ہمیں بھی مالِ غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہئے۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے ٹیلہ چھوڑنے کی مخالفت کی، اور اپنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر حال میں یہاں جمے رہنے کی ہدایت فرمائی تھی، مگر ان میں سے اکثر نے وہاں ٹھہرنے کو بے مقصد سمجھ کر ٹیلہ چھوڑ دیا۔ دشمن نے جب دُور سے دیکھا کہ ٹیلہ خالی ہو گیا ہے اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے ہیں تو انہوں نے موقع پا کر ٹیلے پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ اور ان کے چند ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر وہ سب شہید ہو گئے، اور دشمن اس ٹیلے سے اُتر کر ان بے خبر مسلمانوں پر حملہ آور ہو گیا جو مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے۔ یہ حملہ اس قدر غیر متوقع اور ناگہانی تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اُکھڑنے لگے۔ اسی دوران کسی نے یہ افواہ اُڑا دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔ اس افواہ سے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔ ان میں سے بعض میدان چھوڑ گئے، بعض جنگ سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف کھڑے رہ گئے۔ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاں نثار صحابہ کی ایک جماعت آپ کے اردگرد ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی، کفار کا نرغہ اتنا سخت تھا کہ اس کشمکش میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک دانت شہید ہو گیا، اور چہرۂ مبارک لہولہان ہو گیا۔ بعد میں جب صحابہ کو پتہ چلا کہ آپ کی شہادت کی خبر غلط تھی اور ان کے حواس بجا ہوئے تو ان میں سے بیشتر میدان میں لوٹ آئے، اور پھر کفار کو بھاگنا پڑا، لیکن اس درمیانی عرصے میں ستر صحابۂ کرام شہید ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس واقعے سے تمام مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا۔ قرآنِ کریم ان آیتوں میں انہیں تسلی بھی دے رہا ہے کہ یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جن سے مایوس اور دل شکستہ نہ ہونا چاہئے، اور اس طرف بھی متوجہ کر رہا ہے کہ یہ شکست کچھ غلطیوں کا نتیجہ تھی جن سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔


صفحہ 223

آلِ عمران 3 اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ؕ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ ﴿۱۴۰﴾ وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ ﴿۱۴۱﴾ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ ﴿۱۴۲﴾ وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ ۖ فَقَدْ رَاَيْتُمُوْهُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ﴿۱۴۳﴾

اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے (46)۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ﴿140﴾ اور مقصد یہ (بھی) تھا کہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیا میٹ کر ڈالے ﴿141﴾ بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (یونہی) جنت کے اندر جا پہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں ﴿142﴾ اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے (شہادت کی) موت کی تمنا کیا کرتے تھے (47)۔ چنانچہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے ﴿143﴾

(46) جنگِ بدر کی طرف اشارہ ہے، جس میں کفارِ مکہ کے ستر سردار مارے گئے تھے اور ستر قید کئے گئے تھے۔ (47) جو لوگ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہو۔

صفحہ 224 ال عمران 3 | لن تنالوا 4

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۟يِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰى اَعْقَابِكُمْ ؕ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْـًٔا ؕ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ ﴿١٤٤﴾ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا ۚ وَمَنْ يُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا ؕ وَسَنَجْزِي الشّٰكِرِيْنَ ﴿١٤٥﴾ وَ كَاَيِّنْ مِّنْ نَّبِيٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ ﴿١٤٦﴾ (سورۃ آل عمران، آیات: 144-146)

اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک رسول ہی تو ہیں؛ ان سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں۔ بھلا اگر ان کا انتقال ہو جائے یا انہیں قتل کر دیا جائے تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا ﴿144﴾

اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دُنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ دے دیں گے(48)، اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ عطا کر دیں گے، اور جو لوگ شکر گزار ہیں ان کو ہم جلد ہی ان کا اجر عطا کریں گے ﴿145﴾

اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی! نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپ کو جھکایا۔ اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿146﴾

[حاشیہ] (48) اس سے اشارہ مالِ غنیمت کی طرف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف مالِ غنیمت حاصل۔ ۔ ۔


صفحہ 225

آلِ عمران 3 وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْۤ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿۱۴۷﴾ فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ﴿۱۴۸﴾ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِيْعُوا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَ ﴿۱۴۹﴾ بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ وَهُوَ خَيْرُ النّٰصِرِيْنَ ﴿۱۵۰﴾ سَنُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا ۚ وَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ ؕ وَبِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِيْنَ ﴿۱۵۱﴾

ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے: ”ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اس کو بھی معاف فرما دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے، اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما دے“ ﴿147﴾ چنانچہ اللہ نے انہیں دُنیا کا انعام بھی دیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی۔ اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے ﴿148﴾ اے ایمان والو! جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اگر تم ان کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اُلٹے پاؤں (کفر کی طرف) لوٹا دیں گے، اور تم پلٹ کر سخت نقصان اٹھاؤ گے ﴿149﴾ (یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں) بلکہ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہے، اور وہ بہترین مددگار ہے ﴿150﴾ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ہم عنقریب ان کے دلوں میں رُعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کی خدائی میں ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ ظالموں کا بدترین ٹھکانا ہے ﴿151﴾

کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوگا، اسے مالِ غنیمت میں سے حصہ تو مل جائے گا، لیکن آخرت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس کے برعکس اگر اصل نیت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی ہوگی تو آخرت کا ثواب حاصل ہوگا، اور مالِ غنیمت بھی ایک اضافی فائدے کے طور پر ملے گا (روح المعانی)۔



Page 226 لن تنالوا 4 226 آل عمران 3


وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ ۚ حَتّٰٓى اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ ﴿152﴾ اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓى اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْٓ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّاۢ بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ﴿153﴾


اور اللہ نے یقیناً اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کررہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز (49) تمہیں دکھائی تو تم نے (اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا۔ تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے ان سے تمہارا رخ پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے، اور اللہ مؤمنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے ﴿152﴾ (وہ وقت یاد کرو) جب تم منہ اٹھائے چلے جارہے تھے اور کسی کو مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہے تھے، چنانچہ اللہ نے تمہیں (رسول کو) غم (دینے) کے بدلے (شکست کا) غم دیا، تاکہ آئندہ تم زیادہ صدمہ نہ کیا کرو (50)، نہ اُس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے، اور نہ کسی اور مصیبت پر جو تمہیں پہنچ جائے۔ اور اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے ﴿153﴾


(49) ”پسندیدہ چیز“ سے یہاں مراد مالِ غنیمت ہے جسے دیکھ کر عقبی ٹیلے کے اکثر حضرات اپنے امیر کے حکم کے خلاف ٹیلہ چھوڑ گئے تھے۔ (50) یعنی اس قسم کے واقعات سے تمہارے اندر پختگی آئے گی، اور آئندہ جب کوئی تکلیف پیش آئے گی اس پر زیادہ پریشان اور مغموم رہنے کے بجائے تم صبر اور استقامت سے کام لوگے۔


Page 227 لن تنالوا 4 227 آل عمران 3


ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا ۭ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ ۚ


پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم پر طمانیت نازل کی، ایک اُونگھ جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھارہی تھی (51)! اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی۔ وہ لوگ اللہ کے بارے میں ناحق ایسے گمان کر رہے تھے جو جہالت کے خیالات تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : ”کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے؟“ کہہ دو کہ: ”اختیار تو تمام تر اللہ کا ہے۔“ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ : ”اگر ہمیں بھی کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے (52)۔“ کہہ دو کہ : ”اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی جن کا قتل ہونا مقدر میں لکھا جاچکا تھا وہ خود باہر نکل کر اپنی اپنی قتل گاہوں تک پہنچ جاتے۔


(51) جنگِ اُحد میں جو غیر متوقع شکست ہوئی، اس پر صحابہ صدمے سے مغلوب ہورہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے جانے کے بعد بہت سے صحابہ پر اُونگھ مسلط فرمادی جس سے غم غلط ہوگیا۔ (52) یہ منافقین کا ذکر ہے۔ وہ جو کہہ رہے تھے کہ ”کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے؟“ اس کا ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کا اختیار نہیں چلتا، اور یہ بات صحیح تھی، لیکن ان کا اصل مقصد وہ تھا جو آگے قرآن کریم نے دُہرایا ہے، یعنی یہ کہ اگر ہماری بات مانی جاتی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جاتا تو اتنے سارے آدمیوں کے قتل کی نوبت نہ آتی۔


Page 228 لن تنالوا 4 228 آل عمران 3


وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿154﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ۚ وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ ﴿155﴾ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِي الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْا ۚ لِيَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَاللّٰهُ يُحْيٖ وَيُمِيْتُ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ﴿156﴾


اور یہ سب اس لئے ہوا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے، اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کا میل کچیل دُور کردے (53)۔ اللہ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے ﴿154﴾ تم میں سے جن لوگوں نے اُس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا (54)۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿155﴾ اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کفر اختیار کرلیا ہے، اور جب ان کے بھائی کسی سرزمین میں سفر کرتے ہیں یا جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو یہ اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ”اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے، اور نہ مارے جاتے۔“ (ان کی اس بات کا) نتیجہ تو (صرف) یہ ہے کہ اللہ ایسی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت کا سبب بنادیتا ہے، (ورنہ) زندگی اور موت تو اللہ دیتا ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے ﴿156﴾


(53) اشارہ اس طرف ہے کہ اس طرح کے مصائب سے ایمان میں پختگی آتی ہے اور باطنی بیماریاں دُور ہوتی ہیں۔ (54) یعنی جنگ سے پہلے ان سے کچھ ایسے قصور ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر شیطان کو حوصلہ ہوا اور اس نے انہیں بہکا کر مزید غلطی میں مبتلا کردیا۔


Page 229 لن تنالوا 4 229 آل عمران 3


وَلَىِٕنْ قُتِلْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ ﴿157﴾ وَلَىِٕنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ ﴿158﴾ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ ﴿159﴾ اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۚ وَاِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ﴿160﴾ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّغُلَّ ۭ


اور اگر تم اللہ کے راستے میں قتل ہوجاؤ یا مرجاؤ، تب بھی اللہ کی طرف سے ملنے والی مغفرت اور رحمت اُن چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کررہے ہیں ﴿157﴾ اور اگر تم مرجاؤ یا قتل ہوجاؤ تو اللہ ہی کے پاس تو لے جاکر اکٹھے کئے جاؤ گے! ﴿158﴾ ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر (اے پیغمبر!) تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔ لہٰذا ان کو معاف کردو، ان کے لئے مغفرت کی دُعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کرکے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ﴿159﴾ اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑ دے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ﴿160﴾ اور کسی نبی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ مالِ غنیمت میں خیانت کرے (55)،


(55) شاید اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مالِ غنیمت اکٹھا کرنے کے لئے اتنی جلدی کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ جو مال بھی حاصل ہوتا، خواہ وہ کسی نے جمع کیا ہو، بالآخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی اسے شرعی قاعدے سے انصاف کے ساتھ تقسیم فرماتے، اور ہر شخص کو اس کا حصہ مل جاتا، کیونکہ کوئی نبی مالِ غنیمت میں خیانت نہیں کرسکتا۔


Page 230 لن تنالوا 4 230 آل عمران 3


وَمَنْ يَّغْلُلْ يَاْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ﴿161﴾ اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ﴿162﴾ هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ﴿163﴾ لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ﴿164﴾ اَوَلَمَّآ اَصَابَتْكُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا ۭ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿165﴾


اور جو کوئی خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے گا جو اس نے خیانت کر کے لی ہوگی، پھر ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ﴿161﴾ بھلا جو شخص اللہ کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرف سے ناراضی لے کر لوٹا ہو، اور جس کا ٹھکانا جہنم ہو؟ اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے! ﴿162﴾ اللہ کے نزدیک ان لوگوں کے درجات مختلف ہیں، اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اللہ اس کو خوب دیکھتا ہے ﴿163﴾ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، اُنہیں پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے ﴿164﴾ جب تمہیں ایک ایسی مصیبت پہنچی جس سے دُگنی تم (دشمن کو) پہنچا چکے تھے تو کیا تم ایسے موقع پر یہ کہتے ہو کہ ”یہ مصیبت کہاں سے آگئی؟“ کہہ دو کہ ”یہ خود تمہاری طرف سے آئی ہے (56)۔“ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿165﴾


صفحہ 231

آلِ عمران 3 | صفحہ: 231 | لن تنالوا 4

وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٦٦﴾ وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ﴿١٦٧﴾

اور تمہیں جو مصیبت اُس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مؤمنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے ﴿166﴾ اور منافقین کو بھی دیکھ لے۔ اور ان (منافقوں) سے کہا گیا تھا کہ "آؤ اللہ کے راستے میں جنگ کرو یا دفاع کرو" تو انہوں نے کہا تھا کہ: "اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے۔" اُس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کے دلوں میں نہیں ہوتی (58)۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿167﴾


جبکہ جنگِ اُحد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد ستر ضرور تھی مگر کوئی مسلمان گرفتار نہیں ہوا تھا۔ اس لحاظ سے بدر میں مسلمانوں نے کفار کو جو نقصان پہنچایا تھا وہ اس نقصان سے دُگنا تھا جو کافروں نے اُحد میں مسلمانوں کو پہنچایا۔

(57) ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا یہ جنگ نہیں، خودکشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہو سکتے۔

(58) یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔


صفحہ 232

آلِ عمران 3 | صفحہ: 232 | لن تنالوا 4

الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿١٦٨﴾ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿١٦٩﴾ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿١٧٠﴾ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٧١﴾ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿١٧٢﴾

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے (شہید) بھائیوں کے بارے میں بیٹھے بیٹھے یہ باتیں بناتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو خود اپنے آپ ہی سے موت کو ٹال دینا" ﴿168﴾ اور (اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے ﴿169﴾ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے، وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، اُن کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آ ملیں گے تو) نہ اُن پر کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿170﴾ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مؤمنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ﴿171﴾ وہ لوگ جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی پکار کا فرماں برداری سے جواب دیا، ایسے نیک اور متقی لوگوں کے لئے زبردست اجر ہے ﴿172﴾


(صفحہ ۲۴۳)

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ﴿١٧٣﴾

فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ﴿١٧٤﴾

إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ الشَّيْطَانُ يُخَوِّفُ أَوْلِيَاءَهُ فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ﴿١٧٥﴾

اردو ترجمہ

وہ لوگ جن سے کہنے والوں نے کہا تھا کہ: "یہ (مکہ کے کافر) لوگ تمہارے (مقابلے) کے لئے (پھر سے) جمع ہو گئے ہیں، لہٰذا ان سے ڈرتے رہنا۔ تو اس (خبر) نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا اور وہ بول اٹھے کہ: "ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔" ﴿۱۷۳﴾

نتیجہ یہ کہ یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی، اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے ﴿۱۷۴﴾

در حقیقت یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، لہٰذا اگر تم مؤمن ہو تو ان سے خوف نہ کھاؤ، اور بس میرا خوف رکھو ﴿۱۷۵﴾

تفسیر / حاشیہ (۵۹ - حصہ اول)

(۵۹) جب کفارِ مکہ اُحد کی جنگ سے واپس چلے گئے تو راستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آ جانے کے باوجود خواہ مخواہ واپس آ گئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید ان کے ارادے سے باخبر ہو کر یا اُحد کے نقصان کی تلافی کے لئے جنگِ اُحد کے اگلے دن سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگِ اُحد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابہ کرام اگرچہ اُحد کے واقعات سے زخم خوردہ تھے، اور تھکے ہوئے بھی تھے، مگر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت پر لبیک کہا جس کی تعریف اس آیت میں کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکل کر حمراء الأسد کے مقام پر پہنچے تو وہاں قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص معبد آپ سے ملا جو کافر ہونے کے باوجود آپ سے ہمدردی رکھتا تھا، اس نے مسلمانوں کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا اور جب وہاں سے نکلا تو اس کی ملاقات کفارِ مکہ کے سردار ابوسفیان سے ہوگئی، اس نے ابوسفیان کو مسلمانوں کے

صفحہ دوم (صفحہ ۲۴۴)

عربی آیات (سورۃ آل عمران: ۱۷۶ تا ۱۷۸)

وَلَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ ۚ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا ۗ يُرِيدُ اللَّهُ أَلَّا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿١٧٦﴾

إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٧﴾

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴿١٧٨﴾

اردو ترجمہ

اور (اے پیغمبر!) جو لوگ کفر میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھا رہے ہیں، وہ تمہیں صدمے میں نہ ڈالیں۔ یقین رکھو وہ اللہ کا ذرا بھی نقصان نہیں کر سکتے۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رکھے، اور ان کے لئے زبردست عذاب (تیار) ہے ﴿۱۷۶﴾

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر کو مول لے لیا ہے وہ اللہ کو ہرگز ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، اور ان کے لئے ایک دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے ﴿۱۷۷﴾

اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ اُن کے لئے کوئی اچھی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم تو انہیں صرف اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور آگے بڑھ جائیں، اور (آخرکار) ان کے لئے ایسا عذاب ہوگا جو انہیں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ ﴿۱۷۸﴾

تفسیر / حاشیہ (۵۹ - حصہ دوم / جاری)

لشکر اور اس کے حوصلوں کے بارے میں بتایا اور مشورہ دیا کہ وہ لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر کے واپس چلا جائے۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس تو چلے گئے لیکن عبد القیس کے ایک قافلے کے جو مدینہ منورہ جا رہا تھا یہ کہہ گئے کہ جب راستے میں ان کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو تو ان سے یہ کہیں کہ ابوسفیان بہت بڑا لشکر جمع کر چکا ہے اور مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لئے ان پر حملہ آور ہونے والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس خبر سے مسلمانوں پر رعب پڑے۔ چنانچہ یہ لوگ جب حمراء الأسد پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو یہی بات کہی، لیکن صحابہ کرام نے اس سے مرعوب ہونے کے بجائے وہ جملہ کہا جو اس آیت میں تعریف کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔

صفحہ 235

ال عمران 3 | لن تنالوا 4 | 235

مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ (179) (سورۃ آل عمران: 179)

اللہ ایسا نہیں کر سکتا کہ مؤمنوں کو اُس حالت پر چھوڑے رکھے جس پر تم لوگ اِس وقت ہو، جب تک وہ ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے۔ اور (دوسری طرف) وہ ایسا بھی نہیں کر سکتا کہ تم کو (براہِ راست) غیب کی باتیں بتا دے۔ ہاں! وہ (جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لئے) اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔

(60)

(60)

لہٰذا تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔ اور اگر ایمان رکھو گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو زبردست ثواب کے مستحق ہو گے۔ ﴿179﴾

(60) آیت 176 سے 178 تک اس شبہے کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو انہیں دنیا میں عیش و عشرت کی زندگی کیوں حاصل ہے؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آخرت میں تو کوئی حصہ ملنا نہیں ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں دنیا میں ڈھیل دیئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے یہ مزید گناہوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت آنا ہے جب یہ اکٹھے عذاب میں دھر لئے جائیں گے۔ آیت 179 میں اس کے مقابل اس شبہے کا جواب ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، اس کے باوجود ان پر مصیبتیں کیوں آ رہی ہیں؟ اس کا ایک جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ یہ آزمائشیں مسلمانوں پر اس لئے آ رہی ہیں تاکہ مسلمانوں پر واضح ہو جائے کہ ایمان کے دعوے میں کون کھرا ہے اور کون کھوٹا؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس وضاحت کے بغیر نہیں چھوڑ سکتا، اور مشکلات ہی کے وقت یہ پتہ چلتا ہے کہ کون ثابت قدم رہتا ہے اور کون پھسل جاتا ہے؟ اس پر یہ سوال ہو سکتا تھا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشکل میں ڈالے بغیر کیوں نہیں بتا دیتا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی باتیں ہر ایک شخص کو نہیں بتاتا، بلکہ جتنی باتیں چاہتا ہے اپنے پیغمبر کو بتا دیتا ہے۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان منافقین کی بد عملی آنکھوں سے دیکھ کر ان کے بارے میں رائے قائم کریں، اس لئے یہ آزمائشیں پیش آ رہی ہیں۔ آزمائشوں کی مزید حکمت آگے آیات 185 اور 186 میں بھی بیان فرمائی گئی ہے۔


صفحہ 236

ال عمران 3 | لن تنالوا 4 | 236

وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلِلَّهِ مِيراثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (180) لَقَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَقَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ (181) (سورۃ آل عمران: 180-181)

اور جو لوگ اس (مال) میں بخل سے کام لیتے ہیں جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے وہ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لئے کوئی اچھی بات ہے۔ اس کے برعکس یہ ان کے حق میں بہت بری بات ہے۔ جس مال میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہوگا، قیامت کے دن وہ ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔

(61)

(61)

اور سارے آسمان اور زمین کی میراث صرف اللہ ہی کے لئے ہے، اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ﴿180﴾

اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ”اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں“۔ ہم ان کی یہ بات بھی (ان کے اعمال نامے میں) لکھ لیتے ہیں، اور انہوں نے انبیاء کو جو ناحق قتل کیا ہے، اس کو بھی، اور (پھر) کہیں گے کہ: ”دہکتی آگ کا مزہ چکھو“ ﴿181﴾

(61) وہ بخل جسے حرام قرار دیا گیا ہے یہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ خرچ کرنے کا حکم دیں، انسان وہاں خرچ نہ کرے، مثلاً زکوٰۃ نہ دے۔ ایسی صورت میں جو مال انسان بچا کر رکھے گا، قیامت کے دن وہ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ حدیث میں اس کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمائی ہے کہ ایسا مال ایک زہریلے سانپ کی شکل میں منتقل کر کے اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا جو اس کی باچھیں پکڑ کر کہے گا کہ: ”میں ہوں تیرا مال! میں ہوں تیرا جمع کیا ہوا خزانہ!“۔ (62) جب زکوٰۃ وغیرہ کے احکام آئے تو بعض یہودیوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے اس قسم کے گستاخانہ جملے کہے تھے۔ ظاہر ہے کہ عقیدہ تو ان کا بھی یہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ معاذ اللہ فقیر ہے، لیکن انہوں نے زکوٰۃ کے حکم کا مذاق اس طرح اڑایا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بیہودہ جملے کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ اس پر عذاب کی وعید سنائی۔


صفحہ 237

ال عمران 3 | لن تنالوا 4 | 237

ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ (182) الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّىٰ يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (183) (سورۃ آل عمران: 182-183)

یہ سب تمہارے ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ ہے جو تم نے آگے بھیج رکھا تھا، ورنہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ﴿182﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ: ”اللہ نے ہم سے یہ وعدہ لیا ہے کہ کسی پیغمبر پر اُس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر نہ آئے جسے آگ کھا جائے۔“

(63)

(63)

تم کہو کہ: ”مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے پیغمبر کھلی نشانیاں بھی لے کر آئے اور وہ چیز بھی جس کے بارے میں تم نے (مجھ سے) کہا ہے۔ پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر تم واقعی سچے ہو؟“ ﴿183﴾

(63) پچھلے انبیائے کرام کے زمانے میں طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کوئی جانور قربان کرتا تو اس کو کھانا حلال نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ جانور ذبح کر کے کسی میدان میں یا ٹیلے پر رکھ دیتا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ قربانی قبول فرماتے تو آسمان سے ایک آگ آ کر اس قربانی کو کھا لیتی تھی۔ اس کو سوختنی قربانی کہا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں یہ طریقہ ختم کر دیا گیا اور قربانی کا گوشت انسانوں کے لئے حلال کر دیا گیا۔ یہودیوں نے کہا تھا کہ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قربانی لے کر نہیں آئے اس لئے ہم ان پر ایمان نہیں لاتے۔ چونکہ یہ محض وقت گزاری کا ایک بہانہ تھا اور حقیقت میں ایمان لانا پیشِ نظر نہیں تھا اس لئے انہیں یاد دلایا گیا کہ ماضی میں ایسے نشانات تمہارے سامنے آئے تب بھی تم ایمان لانے کے بجائے انبیائے کرام کو قتل کرتے رہے۔


صفحہ 238

ال عمران 3 | لن تنالوا 4 | 238

فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ (184) كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ (185) لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (186) وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ (سورۃ آل عمران: 184-187)

(اے پیغمبر!) اگر پھر بھی یہ لوگ تمہیں جھٹلائیں تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے جو کھلی کھلی نشانیاں بھی لائے تھے، لکھے ہوئے صحیفے بھی اور ایسی کتاب بھی جو (حق کو) روشن کر دینے والی تھی ﴿184﴾ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کسی کو دوزخ سے دُور ہٹا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہ صحیح معنٰی میں کامیاب ہو گیا، اور یہ دُنیوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں ﴿185﴾ (مسلمانو!) تمہیں اپنے مال و دولت اور جانوں کے معاملے میں (اور) آزمایا جائے گا، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین دونوں سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اور اگر تم نے صبر اور تقویٰ سے کام لیا تو یقیناً یہی کام بڑی ہمت کے ہیں (جو تمہیں اختیار کرنے ہیں) ﴿186﴾ اور (ان لوگوں کو وہ وقت نہ بھولنا چاہئے) جب اللہ نے اہلِ کتاب سے یہ عہد لیا تھا کہ: ”تم اس کتاب کو لوگوں کے سامنے ضرور کھول کھول کر بیان کرو گے، اور اس کو چھپاؤ گے نہیں“


صفحہ 239

ال عمران 3 | لن تنالوا 4 | 239

فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ (187) لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنْهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (188) وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (189) إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (190) الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191) (سورۃ آل عمران: 187-191)

پھر انہوں نے اس عہد کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کر لی۔ اس طرح کتنی بری ہے وہ چیز جو یہ مول لے رہے ہیں! ﴿187﴾ یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو لوگ اپنے کئے پر بڑے خوش ہیں، اور چاہتے ہیں کہ اُن کی تعریف ان کاموں پر بھی کی جائے جو انہوں نے کئے ہی نہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز یہ نہ سمجھنا کہ وہ عذاب سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کے لئے دردناک سزا (تیار) ہے ﴿188﴾ اور آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ کی ہے، اور اللہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے ﴿189﴾ بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے جانے میں اُن عقل والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں ﴿190﴾ جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے (ہر حال میں) اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق پر غور کرتے ہیں، (اور انہیں دیکھ کر بول اُٹھتے ہیں کہ) ”اے ہمارے پروردگار! آپ نے یہ سب کچھ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ آپ (ایسے فضول کام سے) پاک ہیں۔ پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے ﴿191﴾


Page 240

ال عمران ۳

لن تنالوا ۴

رَبَّنَآ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ ٱلنَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُۥ ۖ وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ﴿١٩٢﴾ رَّبَّنَآ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلْإِيمَـٰنِ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ فَـَٔامَنَّا ۚ رَبَّنَا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّـَٔاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ ٱلْأَبْرَارِ ﴿١٩٣﴾ رَبَّنَا وَءَاتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ ﴿١٩٤﴾ فَٱسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّى لَآ أُضِيعُ عَمَلَ عَـٰمِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّنۢ بَعْضٍ ۖ فَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ وَأُخْرِجُوا۟ مِن دِيَـٰرِهِمْ وَأُوذُوا۟ فِى سَبِيلِى وَقَـٰتَلُوا۟ وَقُتِلُوا۟ لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنَّـٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ

اے ہمارے رب! آپ جس کسی کو دوزخ میں داخل کر دیں، اسے آپ نے یقیناً رسوا ہی کر دیا۔ اور ظالموں کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہ ہوں گے۔ ﴿192﴾ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا کہ 'اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ' چنانچہ ہم ایمان لے آئے۔ لہٰذا اے ہمارے پروردگار! ہماری خاطر ہمارے گناہ بخش دیجئے، ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجئے، اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر کے اپنے پاس بلائیے ﴿193﴾ اور اے ہمارے پروردگار! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمائیے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے کیا ہے، اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجئے ۔ یقیناً آپ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے ۔ ﴿194﴾ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کی (اور کہا) کہ : 'میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت کی، اور انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا، اور میرے راستے میں تکلیفیں دی گئیں، اور جنہوں نے (دین کی خاطر) لڑائی لڑی اور قتل ہوئے، میں ان سب کی برائیوں کا ضرور کفارہ کر دوں گا، اور انہیں ضرور بالضرور ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی؛

(Reference: Surah Al-Imran, Ayats 192-195)

Page 241

ال عمران ۳

لن تنالوا ۴

ثَوَابًا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عِندَهُۥ حُسْنُ ٱلثَّوَابِ ﴿١٩٥﴾ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى ٱلْبِلَـٰدِ ﴿١٩٦﴾ مَتَـٰعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ ﴿١٩٧﴾ لَـٰكِنِ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّـٰتٌ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا نُزُلًا مِّنْ عِندِ ٱللَّهِ ۗ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيْرٌ لِّلْأَبْرَارِ ﴿١٩٨﴾ وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ لَمَن يُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَـٰشِعِينَ لِلَّهِ لَا يَشْتَرُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ ﴿١٩٩﴾

یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے انعام ہوگا، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہترین انعام ہے۔ ﴿195﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کا شہروں میں (خوشحالی کے ساتھ) چلنا پھرنا تمہیں ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے ﴿196﴾ یہ تو تھوڑا سا مزہ ہے (جو یہ اڑا رہے ہیں) پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ بدترین بچھونا ہے ﴿197﴾ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہوئے عمل کرتے ہیں، اُن کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اللہ کی طرف سے میزبانی کے طور پر وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے کہیں بہتر ہے ﴿198﴾ اور بیشک اہل کتاب میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کے آگے عجز و نیاز کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، اُس کتاب پر بھی جو تم پر نازل کی گئی ہے اور اُس پر بھی جو اُن پر نازل کی گئی تھی، اور اللہ کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت لے کر بیچ نہیں ڈالتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بیشک اللہ حساب جلد چکانے والا ہے۔ ﴿199﴾

(Reference: Surah Al-Imran, Ayats 195-199)

Page 242

ال عمران ۳

لن تنالوا ۴

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱصْبِرُوا۟ وَصَابِرُوا۟ وَرَابِطُوا۟ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٢٠٠﴾

اے ایمان والو! صبر اختیار کرو، مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے جمے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ ﴿200﴾

(62) قرآنی اصطلاح میں 'صبر' بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اس کی ایک قسم اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استقامت کا مظاہرہ ہے، دوسری قسم گناہوں سے بچنے کے لئے اپنی خواہشات کو دبانا ہے، اور تیسری قسم تکلیفوں کو برداشت کرنا ہے۔ یہاں ان تینوں قسموں کے صبر کا حکم دیا گیا ہے۔ اور سرحدوں کی حفاظت میں جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت بھی داخل ہے، اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت بھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام احکام پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

سورۃ آل عمران کا ترجمہ اور تشریحات بفضلہ تعالیٰ بروز بدھ مورخہ 18 رجب 1426ھ مطابق 24 اگست 2005ء کو مکمل ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ باقی حصے کو بھی اپنی رضا کے مطابق بآسانی مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

(Reference: Surah Al-Imran, Ayat 200)


سُورَةُ النِّسَآءِ


Page 244 النساء 4

تعارف

یہ سورت آنحضرت صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے مدینہ منورہ ہجرت فرمانے کے بعد کے ابتدائی سالوں میں نازل ہوئی، اور اس کا اکثر حصہ جنگِ بدر کے بعد نازل ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مدینہ منورہ کی نوزائیدہ مسلمان ریاست مختلف مسائل سے دوچار تھی۔ زندگی کا ایک نیا ڈھانچہ اُبھر رہا تھا جس کے لئے مسلمانوں کو اپنی عبادت کے طریقوں اور اخلاق و معاشرت سے متعلق تفصیلی ہدایات کی ضرورت تھی، دشمن طاقتیں اسلام کی پیش قدمی کا راستہ روکنے کے لئے سرتوڑ کوششیں کر رہی تھیں، اور مسلمانوں کو اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لئے نت نئے مسائل کا سامنا تھا۔

سورۂ نساء نے ان تمام معاملات میں تفصیلی ہدایات فراہم کی ہیں۔ چونکہ ایک مستحکم خاندانی ڈھانچہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اس لئے یہ سورت خاندانی معاملات کے بارے میں مفصل احکام سے شروع ہوئی ہے۔ چونکہ خاندانی نظام میں عورتوں کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے، اس لئے عورتوں کے بارے میں اس سورت نے تفصیلی احکام عطا فرمائے ہیں، اور اسی لئے اس کا نام سورۂ نساء ہے۔ جنگِ اُحد کے بعد بہت سی خواتین بیوہ اور بہت سے بچے یتیم ہو گئے تھے، اس لئے سورت نے شروع ہی میں یتیموں کے حقوق کے تحفظ کا انتظام فرمایا ہے، اور آیت نمبر 14 تک میراث کے احکام تفصیل سے بیان فرمائے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ طرح طرح کے ظلم ہوتے تھے، ان مظالم کی ایک ایک کر کے نشاندہی کی گئی ہے، اور معاشرے سے ان کا خاتمہ کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ نکاح و طلاق کے مفصل احکام بیان کئے گئے ہیں، اور میاں بیوی کے حقوق متعین فرمائے گئے ہیں۔ یہ مضمون آیت نمبر 35 تک چلا ہے جس کے بعد انسان کی باطنی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مسلمانوں کو عرب کے صحراؤں میں سفر کے دوران پانی کی قلت پیش آتی تھی، لہٰذا آیت 43 میں تیمم کا طریقہ اور آیت 101 میں سفر میں نماز قصر کرنے کی





صفحہ 245

النساء 4

سہولت عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز جہاد کے دوران نمازِ خوف کا طریقہ آیت 102 اور 103 میں بتایا گیا ہے۔ مدینہ منورہ میں بسنے والے یہودیوں نے آنحضرت ﷺ سے معاہدہ کرنے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر رکھا تھا، آیات 44 تا 58 اور 153 تا 157 میں ان کی بد اعمالیوں کو واضح فرمایا گیا ہے، اور انہیں راہِ راست پر آنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ آیات 171 تا 175 میں ان کے ساتھ عیسائیوں کو بھی خطاب میں شامل کر لیا گیا ہے، اور انہیں تثلیث کے عقیدے کے بجائے خالص توحید اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آیات 58 اور 59 میں سیاست اور حکمرانی سے متعلق ہدایات آئی ہیں۔ منافقین کی بد اعمالیاں آیات 60 تا 70 اور پھر آیات 71 تا 152 میں واضح کی گئی ہیں۔ آیات 71 تا 96 نے جہاد کے احکام بیان کر کے منافقین کی ریشہ دوانیوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ اسی سیاق میں آیات 92 اور 93 میں قتل کی سزائیں مقرر فرمائی گئی ہیں۔ جو مسلمان مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے اور کفار کے ہاتھوں مظالم جھیل رہے تھے، ان کی ہجرت کے مسائل آیات 97 تا 100 میں زیرِ بحث آئے ہیں۔ اسی دوران بہت سے تنازعات آنحضرت ﷺ کے سامنے فیصلے کے لئے لائے گئے۔ آیات 105 تا 115 میں ان کے فیصلے کا طریقہ آپ کو بتایا گیا ہے، اور مسلمانوں کو آپ کا فیصلہ دل و جان سے قبول کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ آیات 116 تا 126 میں توحید کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ خاندانی نظام اور میراث کے بارے میں صحابہ کرام نے آنحضرت ﷺ سے متعدد سوالات پوچھے تھے، آیات 7 تا 12، 129 اور پھر 176 میں ان سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ پوری سورت احکام اور تعلیمات سے بھری ہوئی ہے، اور شروع میں تقویٰ کا جو حکم دیا گیا تھا، کہا جا سکتا ہے کہ پوری سورت اس کی تفصیلات بیان کرتی ہے۔

صفحہ 246

لن تنالوا 4 — النساء 4

سُوْرَةُ النِّسَاءِ مَدَنِيَّةٌ 92 — اٰیَاتُهَا 176 — رُکُوْعَاتُهَا 24

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَآءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيْبًا ﴿1﴾ وَاٰتُوا الْيَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيْثَ بِالطَّيِّبِ ۪ وَلَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِيْرًا ﴿2﴾

سورہ نساء مدنی ہے اور اس میں ایک سو چھہتر آیات اور چوبیس رکوع ہیں

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے

اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کی بیوی پیدا کی، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق مانگتے ہو، اور رشتہ داریوں (کی حق تلفی سے) ڈرو۔ یقین رکھو کہ اللہ تمہاری نگرانی کر رہا ہے ﴿1﴾ اور یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور اچھے مال کو خراب مال سے تبدیل نہ کرو، اور ان (یتیموں) کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر مت کھاؤ۔ بیشک یہ بڑا گناہ ہے ﴿2﴾

(1) جب دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو بکثرت یہ کہتے ہیں کہ "خدا کے واسطے مجھے میرا حق دے دو" آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب تم اپنے حقوق کے لئے اللہ کا واسطہ دیتے ہو تو دوسروں کا حق ادا کرنے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور لوگوں کے حقوق پورے پورے ادا کرو۔

(2) کسی مرنے والے کے بچے جب یتیم ہو جاتے ہیں تو ان کے باپ کی میراث میں ان کا بھی حصہ ہوتا ہے، مگر ان کی کم عمری کی وجہ سے وہ مال ان کے سپرد نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے سرپرست، مثلاً چچا، بھائی وغیرہ اسے بچوں

صفحہ 247

لن تنالوا 4 — النساء 4

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰى اَلَّا تَعُوْلُوْا ؕ ﴿3﴾

اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو (ان سے نکاح کرنے کے بجائے) دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کر لو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہو گے ﴿3﴾

کے بالغ ہونے تک اپنے پاس امانت کے طور پر رکھتے ہیں۔ اس آیت میں ایسے سر پرستوں کو تین ہدایتیں دی گئی ہیں: ایک یہ کہ جب بچے بالغ اور سمجھ دار ہو جائیں تو ان کی امانت دیانت داری سے ان کے حوالے کر دو۔ دوسرے یہ کہ یہ بد دیانتی نہ کرو کہ ان کو ان کے باپ کی طرف سے تو میراث میں اچھی قسم کا مال ملا تھا، مگرتم وہ مال خود کھ کر گھٹیا قسم کی چیز اس کے بدلے میں دے دو۔ اور تیسرے ایسا نہ کرو کہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈمڈ کر کے اس کا کچھ حصہ جان بوجھ کر یا بے پروائی سے خود استعمال کر بیٹھو۔ (۳)

صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ نے اس ہدایت کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی، وہ خوبصورت بھی ہوتی اور اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا۔ اس صورت میں اس کا چچا زاد یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر وہ خود اس سے نکاح کرلے، تاکہ اس کا مال اس کے تصرف میں رہے، لیکن نکاح میں وہ اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اس جیسی لڑکی کو دینا چاہئے۔ دوسری طرف اگر لڑ کی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کی لالچ میں اس سے نکاح تو کر لیتا تھا، لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا مر کم رکھتا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا۔ اس آیت نے ایسے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر تمہیں یتیم لڑکیوں کے ساتھ اس قسم کی بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ان سے نکاح مت کرو، بلکہ دوسری عورتوں سے نکاح کرو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں۔ (۴) جاہلیت کے زمانے میں بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں تھی۔ ایک شخص بیک وقت دس دس ہیں ہیں عورتوں ،

وَاتُوا النِّسَاءَ صَدُ قُتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هنيئًا مَّرِيان وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيمًا وارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَ السُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دیا کرو۔ ہاں! اگر وہ خود اس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں تو اسے خوشگواری اور مزے سے کھا لو (۴) اور نا سمجھ (یتیموں) کو اپنے وہ مال حوالے نہ کرو جن کو اللہ نے تمہارے لئے زندگی کا سرمایہ بنایا ہے؛ ہاں! اُن کو ان میں سے کھلاؤ اور پہناؤ، اور ان سے مناسب انداز میں بات کر لو

کو نکاح میں رکھ لیتا تھا۔ اس آیت نے اس کی زیادہ سے زیادہ حد چار تک مقرر فرمادی، اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ انسان تمام بیویوں کے درمیان برابری کا سلوک کرے۔ اور اگر بے انصافی کا اندیشہ ہو تو ایک ہی بیوی پر

اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں ایک سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرما دیا گیا ہے۔

(۵) یتیموں کے سرپرستوں کی ذمہ داریاں بیان کی جارہی ہیں کہ ایک طرف تو انہیں ٹیموں کے مال کو امانت سمجھ کر انتہائی احتیاط سے کام لینا ہے، دوسری طرف یہ بھی خیال رکھنا ہے کہ یتیموں کا پیسہ ایسے وقت ان کے حوالے کیا جائے جب ان میں روپے پیسے کی ٹھیک ٹھاک دیکھ بھال کی سمجھ اور اسے صحیح مصرف پر خرچ کرنے کا سلیقہ آچکا ہو۔ جب تک وہ نا سمجھ ہیں، ان کا مال ان کی تحویل میں نہیں دینا چاہئے ، اور اگر وہ خود مطالبہ کریں کہ ان کا مال ان کے حوالے کر دیا جائے تو انہیں مناسب انداز میں سمجھا دینا چاہئے ۔

اگلی آیت میں اسی اُصول کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وقتا فوقتا ان یتیم بچوں کو آزماتے رہنا چاہئے کہ آیا وہ اتنے سمجھ دار ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنے مال کے صحیح استعمال کا سلیقہ آگیا ہے۔ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ صرف بالغ ہو جانا بھی کافی نہیں، بلوغ کے بعد بھی اگر وہ سمجھ دار نہ ہو پائے ہوں تو مال ان کے حوالے نہ کیا جائے، بلکہ جب یہ محسوس ہو جائے کہ ان میں سمجھ آگئی ہے تب مال ان کے حوالے کیا جائے۔

وَابْتَلُوا اليَتَى حَتَّى إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ انَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشُدّ ا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافَاوَ بِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفُ وَمَنْ كَانَ فَقِيرً ا فَليَا كُل بِالمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمُ الَيْهِمُ أمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُ وَاعَلَيْهِمْ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الوَالِدَنِ وَالْاَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَنِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا

اور یتیموں کو جانچتے رہو، یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے لائق عمر کو پہنچ جائیں، تو اگر تم یہ محسوس کرو کہ ان میں سمجھ داری آچکی ہے تو ان کے مال انہی کے حوالے کر دو۔ اور یہ مال فضول خرچی کر کے اور یہ سوچ کر جلدی جلدی نہ کھا بیٹھو کہ وہ کہیں بڑے نہ ہو جائیں۔ اور (یتیموں کے سر پرستوں میں سے ) جو خود مال دار ہو وہ تو اپنے آپ کو ( یتیم کا مال کھانے سے ) بالکل پاک رکھے، ہاں اگر وہ خود محتاج ہو تو معروف طریق کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے کھائے پھر جب تم ان کے مال انہیں دو تو ان پر گواہ بنالو۔ اور اللہ حساب لینے کے لئے کافی ہے کے مردوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریب ترین رشتہ داروں نے چھوڑا ہو،

چاہے وہ (ترکہ) تھوڑا ہو یا زیادہ ، یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے۔ )

(1) یتیموں کے سر پرست کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے بہت سی خدمات انجام دینی پڑتی ہیں۔ عام حالات میں جب سر پرست خود کھاتا پیتا شخص ہو، اس کے لئے ان خدمات کا کوئی معاوضہ لینا درست نہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک باپ اپنی اولاد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ خود تنگدست ہے اور یتیم کی ملکیت میں اچھا : خاصا مال ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنا ضروری خرچ بھی یتیم کے مال سے لے لے ۔ مگر پوری احتیاط سے اتنا ہی لے جتنا عرف اور رواج کے مطابق ضروری ہے، اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔ (۷) جاہلیت کے زمانے میں عورتوں کو میراث میں کوئی حصہ نہیں دیا جاتا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے


وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ﴿8﴾ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ﴿9﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا ﴿10﴾

(Reference: Surah An-Nisa, Ayat 8-10)

اور جب (میراث کی) تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار، یتیم اور مسکین لوگ آ جائیں، تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دو، اور ان سے مناسب انداز میں بات کرو۔ ﴿8﴾ (8) اور وہ لوگ (یتیموں کے مال میں خورد برد کرنے سے) ڈریں جو اگر اپنے پیچھے کمزور بچے چھوڑ کر جائیں تو ان کی طرف سے فکرمند رہیں گے۔ (9) لہٰذا وہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی سیدھی بات کہا کریں۔ ﴿9﴾ یقین رکھو کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، اور انہیں جلد ہی ایک دہکتی آگ میں داخل ہونا ہوگا۔ ﴿10﴾

سامنے بعض ایسے واقعات پیش آئے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ بیوی اور نابالغ بچے چھوڑ کر گیا، اور اس کے سارے ترکے پر اس کے بھائیوں نے قبضہ کر لیا، بیوی کو تو عورت ہونے کی وجہ سے میراث سے محروم رکھا گیا، اور بچوں کو نابالغ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ دیا گیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں واضح کر دیا گیا کہ عورتوں کو میراث سے محروم نہیں رکھا جا سکتا، اللہ تعالیٰ نے آگے آیت نمبر 11 سے شروع ہونے والے رکوع میں تمام رشتہ دار مردوں اور عورتوں کے حصے بھی مقرر فرمادیے۔

(8) جب میراث تقسیم ہو رہی ہو تو بعض ایسے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں، قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ ان کو بھی کچھ دے دینا بہتر ہے۔ مگر ایک تو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس ہدایت پر عمل کرنا مستحب یعنی پسندیدہ ہے، واجب نہیں ہے۔ دوسرے اس پر عمل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ورثاء ایسے لوگوں کو اپنے حصے میں سے دیں۔ نابالغ ورثاء کے حصے میں سے کسی اور کو دینا جائز نہیں ہے۔

(9) یعنی جس طرح تمہیں اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد ان کا کیا ہوگا، اسی طرح دوسروں کے بچوں کی بھی فکر کرو، اور یتیموں کے مال میں خرد برد کرنے سے ڈرو۔

صفحہ 251

آیت 11 کا ابتدائی حصہ:

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۗ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ

ترجمہ:

اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو حکم دیتا ہے کہ: مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اور اگر (صرف) عورتیں ہی ہوں، دو یا دو سے زیادہ، تو مرنے والے نے جو کچھ چھوڑا ہو، انہیں اس کا دو تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر صرف ایک عورت ہو تو اسے (ترکے کا) آدھا حصہ ملے گا۔ اور مرنے والے کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا، بشرطیکہ مرنے والے کی کوئی اولاد ہو، اور اگر اس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کو اس کا تہائی حصے کی حق دار ہے۔

تفسیر:

(10) آیات 11 اور 12 میں مختلف رشتہ داروں کے لیے میراث کے حصے بیان کیے گئے ہیں۔ جن رشتہ داروں کے حصے ان آیات میں مقرر فرمادیے گئے ہیں ان کو "ذوی الفروض" کہا جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ ان حصوں کی تقسیم کے بعد جو مال بچ جائے، وہ مرنے والے کے قریب ترین مذکر افراد میں تقسیم ہو گا جن کے حصے ان آیتوں میں متعین نہیں کیے گئے، جن کو "عصبات" کہا جاتا ہے۔ مثلاً بیٹے، اور اگرچہ بیٹیاں براہ راست عصبات میں شامل نہیں ہیں، لیکن بیٹوں کے ساتھ مل کر بیٹیاں بھی عصبات میں شامل ہو جاتی ہیں، اس صورت میں یہ قاعدہ اس آیت نے مقرر فرمایا ہے کہ ایک بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر حصہ ملے گا۔ یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور بہن بھائی ہوں تو بھائی کو بہن سے دوگنا حصہ دیا جائے گا۔

صفحہ 252

آیت 11 کا آخری حصہ:

فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١١﴾ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ

ترجمہ:

ہاں اگر اس کے کئی بھائی ہوں تو اس کی ماں کو چھٹا حصہ دیا جائے گا، (اور یہ ساری تقسیم) اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی جو مرنے والے نے کرنے کی ہو، یا اگر اس کے ذمے کوئی قرض ہے تو اس کی ادائیگی کے بعد۔ تمہیں اس بات کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے کہ تمہارے باپ بیٹوں میں سے کون سے فائدہ پہنچانے کے لحاظ سے تم سے زیادہ قریب ہے؟ یہ تو اللہ کے مقرر کیے ہوئے حصے ہیں؛ یقین رکھو کہ اللہ علم کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ کر جائیں، اس کا آدھا حصہ تمہارا ہے، بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔ اور اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو انہوں نے کی ہو، اور ان کے قرض کی ادائیگی کے بعد تمہیں ان کے ترکے کا چوتھائی حصہ ملے گا۔ اور تم جو کچھ چھوڑ کر جاؤ اس کا ایک چوتھائی ان (بیویوں) کا ہے، بشرطیکہ تمہاری کوئی اولاد (زندہ) نہ ہو۔

تفسیر:

(11) یہ قاعدہ ان آیات میں بار بار دہرایا گیا ہے کہ میراث کی تقسیم ہمیشہ میت کے قرضوں کی ادائیگی اور اس کی وصیت پر عمل کرنے کے بعد ہوگی، یعنی اگر مرنے والے کے ذمے کچھ قرض ہو تو اس کے ترکے کے سب سے پہلے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر اس نے کوئی وصیت کی ہو کہ فلاں شخص کو جو وارث نہیں ہے، میرے ترکے سے اتنا دیا جائے تو ایک تہائی ترکے کی حد تک اس پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد میراث وارثوں میں تقسیم ہوگی۔

(12) یہ تنبیہ اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کوئی شخص یہ سوچ سکتا تھا کہ فلاں وارث کو زیادہ حصہ ملتا تو اچھا ہوتا، یا فلاں کو کم ملنا مناسب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہیں مصلحت کا ٹھیک ٹھیک علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کا جو حصہ مقرر فرما دیا ہے، وہی مناسب ہے۔

صفحہ 253

آیت 12 کا بقیہ حصہ:

فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ۚ مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِن كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِن كَانُوا أَكْثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ ﴿١٢﴾

ترجمہ:

اور اگر تمہاری اولاد ہو تو اس وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو تم نے کی ہو، اور تمہارے قرض کی ادائیگی کے بعد انہیں تمہارے ترکے کا آٹھواں حصہ ملے گا۔ اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم ہونی ہے، ایسا ہو کہ نہ اس کے والدین زندہ ہوں نہ اس کی اولاد، اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہر ایک چھٹے حصے کا حق دار ہے۔ اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے، (مگر) جو وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کرنے کے بعد اور مرنے والے کے ذمے جو قرض ہو اس کی ادائیگی کے بعد، بشرطیکہ (وصیت یا قرض کے اقرار سے) اس نے کسی کو نقصان نہ پہنچایا ہو۔ یہ سب اللہ کا حکم ہے، اور اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا، بردبار ہے۔

تفسیر:

(13) اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ قرض کی ادائیگی اور وصیت پر عمل کرنا میراث کی تقسیم پر مقدم ہے، لیکن مرنے والے کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس کا مقصد اپنے جائز ورثاء کو نقصان پہنچانا ہو، مثلاً کوئی شخص اپنے وارثوں کو محروم کرنے یا ان کا حصہ کم کرنے کی خاطر اپنے کسی دوست کے لیے وصیت کر دے، یا اس کے حق میں قرضے کا جھوٹا اقرار کر لے، اور مقصد یہ ہو کہ اس کا پورا ترکہ یا اس کا کافی حصہ اس کے پاس چلا جائے اور ورثاء کو نہ ملے یا بہت کم ملے تو ایسا کرنا بالکل ناجائز ہے، اور اسی لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر فرما دیا ہے کہ کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت نہیں ہو سکتی، نیز غیر وارث کے حق میں بھی ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہیں کی جا سکتی۔


Page 254

Quranic Text:

تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (١٣) وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ (١٤) وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا (١٥)

Translation:

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اسے کو ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ایسے لوگ ہمیشہ ان (باغات) میں رہیں گے، اور یہ زبردست کامیابی ہے (۱۳) اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوز کرے گا، اسے اللہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا (۱۴) تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنالو۔ چنانچہ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں روک رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا لے جائے، یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے (۱۵)

Footnote (13):

(۱۳) عورت بدکاری کا ارتکاب کرنے تو شروع میں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اسے عمر بھر گھر میں مقید رکھا جائے، لیکن ساتھ ہی یہ اشارہ دے دیا گیا تھا کہ بعد میں ان کے لئے کوئی اور سزا مقرر کی جائے گی۔ یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے" کا یہی مطلب ہے۔ چنانچہ سورہ نور میں مرد اور عورت دونوں کے لئے زنا کی سزا کوڑے مقرر کر دی گئی، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راستہ پیدا کر دیا ہے، اور وہ یہ کہ غیر شادی شدہ مرد یا عورت کو سو کوڑے لگائے جائیں گے، اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے گا۔

Page 255

Quranic Text:

وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا (١٦) إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَٰئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا (١٧) وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (١٨) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا

Translation:

اور تم میں سے جو دو مرد بدکاری کا ارتکاب کریں، ان کو اذیت دو۔ پھر اگر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، بڑا مہربان ہے (۱۶) اللہ نے توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے کوئی برائی کر ڈالتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ اللہ ان کی توبہ قبول کر لیتا ہے، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا بھی ہے، حکمت والا بھی (۱۷) توبہ کی قبولیت ان کے لئے نہیں جو برے کام کئے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آ کھڑا ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے اب توبہ کر لی ہے، اور نہ ان کے لئے جو کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (۱۸)

اے ایمان والو! یہ بات تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ تم زبردستی عورتوں کے مالک بن بیٹھو،

Footnote (15):

(۱۵) یہ مردوں کے خلاف فطرت ہم جنس عملی کے عمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کی کوئی متعین سزا مقرر کرنے کے بجائے صرف یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے مردوں کو اذیت دی جائے جس کے مختلف طریقے فقہائے کرام نے تجویز کئے ہیں، مگر ان میں سے کوئی لازمی نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ اس کو حاکم کے صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

Page 256

Quranic Text:

وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (١٩) وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (٢٠)

Translation:

اور ان کو اس غرض سے مقید نہ کرو کہ تم نے کچھ ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ لے آؤ، الا یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو، اور اگر تم انہیں پسند نہ کرتے ہو تو یہ عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو (۱۹) اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہتے ہو، اور ان میں سے ایک کو ڈھیر سارا مہر دے چکے ہو، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اور کھلا گناہ کر کے (مہر) واپس لو گے؟ (۲۰)

Footnote (16):

(۱۶) زمانہ جاہلیت میں یہ ظالمانہ رسم چلی آتی تھی کہ جب کسی عورت کے شوہر کا انتقال ہو جاتا تو اس کے ورثاء اس عورت کو بھی میراث کا حصہ سمجھ کر اس کے معنی میں مالک بن بیٹھتے تھے کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر نہ دوسری شادی کر سکتی تھی، اور نہ زندگی کے دوسرے اہم فیصلے کرنے کا حق رکھتی تھی۔ اس آیت نے اس ظالمانہ رسم کو ختم فرمایا ہے۔ اسی طرح ایک اور ظالمانہ رواج یہ تھا کہ جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ جو مہر ان کو دے چکا ہے وہ اسے واپس مل جائے تو وہ اپنی بیوی کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر دیتا تھا، مثلاً اسے وہ گھر میں مقید رکھتا تھا کہ وہ اپنی جائز ضروریات کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔ اس طرح ستانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ وہ بیچاری مجبور ہو کر شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کے لئے اسے خود یہ پیشکش کرے کہ تم اپنا مہر واپس لے لو، اور مجھے طلاق دے کر میری جان چھوڑ دو۔ آیت کے دوسرے حصے میں اس رواج کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

(۱۷) اوپر آیت نمبر ۱۹ میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ عورتوں کو گلہ خلاصی کے لئے اپنا مہر واپس کرنے پر مجبور کرنا صرف... [truncated text]

Page 257

Quranic Text:

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا (٢١) وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا (٢٢) حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ

Translation:

اور آخر تم کیسے (وہ مہر) واپس لے سکتے ہو جبکہ تم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو چکے تھے، اور انہوں نے تم سے بڑا بھاری عہد لیا تھا؟ (۲۱) اور جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا (کسی وقت) نکاح کر چکے ہوں، تم انہیں نکاح میں نہ لاؤ۔ البتہ پہلے جو کچھ ہو چکا وہ ہو چکا۔ یہ بڑی بے حیائی ہے، گھناؤنا عمل ہے، اور بے راہ روی کی بات ہے (۲۲) تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائیں، اور بھتیجیاں اور بھانجیاں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے،

Footnote (18):

اس صورت میں جائز ہے جب انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم ان سے مہر واپس کرنے کا مطالبہ کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے ان پر بہتان باندھنے کے مرادف ہو گا کہ انہوں نے کھلی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ ان کو مہر کی واپسی پر مجبور کرنا اس صورت کے سوا کسی حالت میں جائز نہیں ہے

(۱۸) جاہلیت میں لوگ اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرنے کو کوئی عیب نہیں سمجھتے تھے۔ اس آیت نے اس بے شرمی کو ممنوع قرار دیا، البتہ جن لوگوں نے اسلام سے پہلے ایسا نکاح کیا تھا ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا کہ پچھلا گناہ معاف ہے، کیونکہ اسلام لانے سے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، بشرطیکہ اس آیت کے نزول کے بعد نکاح کا یہ تعلق ختم کر لیا جائے۔

Page 258

Quranic Text:

وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا (٢٣) وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ

Translation:

اور تمہاری دودھ شریک بہنیں، اور تمہاری بیویوں کی مائیں، اور تمہارے زیر پرورش تمہاری سوتیلی بیٹیاں جو تمہاری ان بیویوں (کے پیٹ) سے ہوں جن کے ساتھ تم نے خلوت کی ہو۔ ہاں اگر تم نے ان کے ساتھ خلوت نہ کی ہو (اور انہیں طلاق دے دی ہو یا ان کا انتقال ہو گیا ہو) تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی گناہ نہیں ہے، نیز تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تم پر حرام ہیں، اور یہ بات بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو، البتہ جو کچھ پہلے ہو چکا وہ ہو چکا۔ بیشک اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے (۲۳) نیز وہ عورتیں (تم پر حرام ہیں) جو دوسرے شوہروں کے نکاح میں ہوں، البتہ جو کنیزیں تمہاری ملکیت میں آ جائیں (وہ مستثنیٰ ہیں)۔

Footnote (19-20):

(۱۹) سوتیلی بیٹیاں عام طور پر انسان کے زیر پرورش ہوتی ہیں اس لئے یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، ورنہ اگر کوئی سوتیلی بیٹی زیر پرورش نہ بھی ہو تو وہ حرام ہی ہے۔

(۲۰) جو کنیزیں جہاد کے دوران گرفتار کر کے دارالاسلام لائی جاتی تھیں، اور ان کے شوہر دارالحرب میں رہ جاتے تھے، ان کا نکاح ان شوہروں سے ختم ہو جاتا تھا۔ لہذا جب وہ دارالاسلام میں آنے کے بعد ایک حیض کی مدت پوری کر لیتیں، اور ان کو پچھلے شوہر سے حمل نہ ہوتا تو ان کا نکاح دارالاسلام کے کسی مسلمان کے ساتھ جائز تھا۔ مگر یہ حکم انہی باندیوں کا ہے جو شرعی طور پر باندی بنائی گئی ہوں۔ آج کل ایسی کنیزوں یا باندیوں کا کہیں وجود نہیں ہے۔