80
المٓ | 80 | البقرۃ 2
قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللَّهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ﴿94﴾ وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ﴿95﴾ وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ۗ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ ﴿96﴾ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿97﴾(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیات 94 تا 97)
آپ (اُن سے) کہئے کہ: ’’اگر اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لئے مخصوص ہے (جیسا کہ تمہارا کہنا ہے) تو موت کی تمنا تو کر کے دکھاؤ، اگر واقعی سچے ہو۔‘‘ ﴿94﴾ اور (ہم بتائے دیتے ہیں کہ) انہوں نے اپنے جو کرتوت آگے بھیج رکھے ہیں، ان کی وجہ سے یہ کبھی ایسی تمنا نہیں کریں گے۔⁽63⁾ اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے ﴿95﴾ (بلکہ) یقیناً تم ان لوگوں کو پاؤ گے کہ انہیں زندہ رہنے کی حرص دوسرے تمام انسانوں سے زیادہ ہے، یہاں تک کہ مشرکین سے بھی زیادہ۔ ان میں کا ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک ہزار سال عمر پائے، حالانکہ کسی کا بڑی عمر پالینا اسے عذاب سے دُور نہیں کرسکتا۔ اور یہ جو عمل بھی کرتے ہیں ⁽65⁾ اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے ﴿96﴾ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اگر کوئی شخص جبریل کا دشمن ہے تو (ہوا کرے) انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے تمہارے دل پر اتارا ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کر رہا ہے، اور ایمان والوں کے لئے مجسم ہدایت اور خوشخبری ہے ﴿97﴾
(64) یہ بھی قرآن کریم کی طرف سے ایک چیلنج تھا جسے قبول کر لینا ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ وہ بآسانی کم از کم زبان سے علی الاعلان موت کی تمنا کر کے دکھا سکتے تھے، لیکن چونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ خدائی چیلنج ہے، اس لئے ایسی تمنا کا اظہار انہیں فوراً قبر میں پہنچا دے گا، اس لئے کسی نے ایسی جرأت نہیں کی۔(65) بعض یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام وحی لاتے ہیں
صفحہ 81
المٓ | 81 | البقرۃ 2
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ ﴿98﴾ وَلَقَدْ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ وَمَا يَكْفُرُ بِهَا إِلَّا الْفَاسِقُونَ ﴿99﴾ أَوَكُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِيقٌ مِنْهُمْ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ﴿100﴾ وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿101﴾(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیات 98 تا 101)
اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں اور رسولوں کا، اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہے تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ کافروں کا دشمن ہے ﴿98﴾ اور بیشک ہم نے آپ پر ایسی آیتیں اتاری ہیں جو حق کو آشکار کرنے والی ہیں، اور ان کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو نافرمان ہیں ﴿99﴾ یہ آخر کیا معاملہ ہے کہ ان لوگوں نے جب کوئی عہد کیا، ان کے ایک گروہ نے اسے ہمیشہ توڑ پھینکا؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان لاتے ہی نہیں ﴿100﴾ اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول آئے جو اس (تورات) کی تصدیق کر رہے تھے جو ان کے پاس ہے، تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات و انجیل) کو اس طرح پسِ پشت ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہ تھے (کہ اس میں نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا ہدایات دی گئی تھیں) ﴿101﴾
وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اور فرشتہ وحی لا رہا ہوتا تو ہم کچھ غور کر سکتے تھے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے، اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں۔ لہٰذا ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی وجہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کے کوئی معنی ہیں۔
صفحہ 82
المٓ | 82 | البقرۃ 2
وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُمْ بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنْفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿102﴾(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیت 102)
اور یہ (بنی اسرائیل) ان (منتروں) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان (علیہ السلام) کی سلطنت کے زمانے میں شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) نے کوئی کفر نہیں کیا تھا، البتہ شیاطین لوگوں کو جادو کی تعلیم دے کر کفر کا ارتکاب کرتے تھے۔⁽66⁾ نیز (یہ بنی اسرائیل) اس چیز کے پیچھے لگ گئے جو شہر بابل میں ہاروت اور ماروت نامی دو فرشتوں پر نازل کی گئی تھی۔⁽67⁾ یہ دو فرشتے کسی کو اس وقت تک کوئی تعلیم نہیں دیتے تھے جب تک اس سے یہ نہ کہہ دیں کہ: ’’ہم محض آزمائش کے لئے (بھیجے گئے) ہیں، لہٰذا تم (جادو کے پیچھے لگ کر) کفر اختیار نہ کرنا۔‘‘ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی پیدا کر دیں۔ (ویسے یہ واضح رہے کہ) وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔⁽68⁾ (مگر) وہ ایسی باتیں سیکھتے تھے جو ان کے لئے نقصان دہ تھیں، اور فائدہ مند نہ تھیں۔ اور وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ جو شخص ان چیزوں کا خریدار بنے گا، آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز بہت بُری تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا حقیقی) علم ہوتا۔⁽69⁾ ﴿102﴾
(66) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی ایک اور بدعملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اور وہ یہ کہ جادو ٹونے
صفحہ 83
المٓ | 83 | البقرۃ 2
کے پیچھے لگنا شرعاً ناجائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں تو ایسا جادو کفر کے مترادف ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہو سکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے، اور اگر تم جادو سیکھ لو گے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہوگا۔ چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے، حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف ناجائز تھا، بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں۔ دوسرا غضب یہودیوں نے یہ کیا کہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام کو جادوگر قرار دے کر ان کے بارے میں یہ مشہور کر دیا کہ انہوں نے آخری عمر میں بتوں کو پوجنا شروع کردیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ جھوٹی داستانیں انہوں نے اپنی مقدس کتابوں میں شامل کردیں جو آج تک بائبل میں درج چلی آتی ہیں۔ چنانچہ بائبل کی کتاب سلاطین اول 11-1 تا 21 میں ان کے معاذ اللہ مرتد ہونے کا بیان آج بھی موجود ہے۔ قرآن کریم نے اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر اس ناپاک بہتان کی تردید فرمائی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے ماخوذ ہے، وہ کتنا غلط الزام ہے۔ یہاں قرآن کریم صریح الفاظ میں یہود و نصاریٰ کی کتابوں کی تردید کر رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ یہ خود معلوم کرسکتے کہ یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ اس بات کا علم آپ کو وحی کے سوا کسی اور راستے سے نہیں ہو سکتا تھا۔ لہٰذا یہ آیت بذات خود آپ کے صاحبِ وحی رسول ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ بتلایا کہ یہودیوں کی کتابوں میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر کیا بہتان لگایا گیا ہے، بلکہ اس قدر جم کر اس کی تردید فرمائی ہے۔
(67) بابل عراق کا مشہور شہر تھا۔ ایک زمانے میں وہاں جادو کا بڑا چرچا ہو گیا تھا، اور یہودی بھی اس ناجائز کام میں بُری طرح ملوث ہو گئے تھے۔ انبیائے کرام اور دوسرے نیک لوگ انہیں جادو سے منع کرتے تو وہ بات نہ مانتے تھے۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ لوگوں نے جادوگروں کے شعبدوں کو معجزے سمجھ کر انہیں اپنا دینی مقتدا بنالیا تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دو فرشتے جن کا نام ہاروت اور ماروت تھا دنیا میں انسانی شکل میں بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کریں، اور یہ بتائیں کہ خدائی معجزات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ معجزہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس میں کسی ظاہری سبب کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جادو کے ذریعے جو کوئی شعبدہ دکھایا جاتا ہے وہ اسی عالمِ اسباب کا ایک حصہ ہے۔ یہ بات واضح کرنے کے لئے ان فرشتوں کو جادو کے مختلف طریقے بھی بتانے پڑتے تھے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ کس طرح وہ سبب اور مسبب کے رشتے سے منسلک ہیں، لیکن جب وہ ان طریقوں کی تشریح کرتے تو ساتھ ساتھ لوگوں کو متنبہ بھی کر دیتے تھے کہ
صفحہ 84
المٓ | 84 | البقرۃ 2
یاد رکھو! یہ طریقے ہم اس لئے نہیں بتا رہے ہیں کہ تم ان پر عمل شروع کردو، بلکہ اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر جادو اور معجزے کا فرق واضح ہو، اور تم جادو سے پرہیز کرو۔ اس لحاظ سے ہمارا وجود تمہارے لئے ایک امتحان ہے کہ ہماری باتوں کو سمجھ کر تم جادو سے پرہیز کرتے ہو یا ہم سے جادو کے طریقے سیکھ کر ان پر عمل شروع کر دیتے ہو۔ یہ کام انبیاء کے بجائے فرشتوں سے بظاہر اس بنا پر لیا گیا کہ جادو کے فارمولے بتانا، خواہ وہ صحیح مقصد سے کیوں نہ ہو، انبیائے کرام کو زیب نہیں دیتا تھا۔ اس کے برعکس فرشتے چونکہ غیر مکلف ہوتے ہیں، اس لئے ان سے بہت سے تکوینی کام لئے جا سکتے ہیں۔ بہرحال! نافرمان لوگوں نے ان فرشتوں کی طرف سے کہی ہوئی باتوں کو تو نظر انداز کر دیا، اور ان کے بتائے ہوئے فارمولوں کو جادو کرنے میں استعمال کیا اور وہ بھی ایسے گھناؤنے مقاصد کے لئے جو ویسے بھی حرام تھے، مثلاً میاں بیوی میں پھوٹ ڈال کر نوبت طلاق تک پہنچا دینا۔
(68) یہاں سے جملہ معترضہ کے طور پر ایک اور اصولی غلطی پر متنبہ کیا جا رہا ہے، اور وہ یہ کہ جادو پر ایمان رکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جادو میں بذاتِ خود ایسی تاثیر موجود ہے جس سے مطلوبہ نتیجہ خود بخود اللہ کے حکم کے بغیر ہی برآمد ہو جاتا ہے، گویا اللہ چاہے یا نہ چاہے، وہ نتیجہ پیدا ہو کر رہے گا۔ یہ عقیدہ بذاتِ خود کفر تھا۔ اس لئے یہ واضح کر دیا گیا کہ دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح جادو بھی محض ایک سبب ہے اور دُنیا میں کوئی سبب بھی اپنا مسبب یا نتیجہ اس وقت تک ظاہر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کی مشیت اس کے ساتھ متعلق نہ ہو۔ کائنات کی کسی چیز میں بذاتِ خود نہ کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت ہے نہ نقصان پہنچانے کی۔ لہٰذا اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ چونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے اس لئے یہاں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی گناہ کرنا چاہتا ہے یا کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو اگر اللہ تعالیٰ تکوینی مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے تو اپنی مشیت سے وہ کام کرا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ظالم کو گناہ اور مظلوم کو ثواب ملتا ہے، ورنہ اگر اللہ اسے اس کام کی قدرت ہی نہ دے تو امتحان کیسے ہو؟ لہٰذا جتنے گناہ کے کام دُنیا میں ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہوتے ہیں، اگرچہ اس کی رضامندی ان کو حاصل نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی رضامندی میں فرق یہی ہے کہ مشیت اچھے بُرے ہر کام سے متعلق ہو سکتی ہے، مگر رضامندی صرف جائز اور ثواب کے کاموں سے مخصوص ہے۔
(69) اس آیت کے شروع میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ جو مشرکانہ جادو کا خریدار ہوگا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، لیکن آیت کے آخری حصے میں فرمایا ہے کہ ’’کاش وہ علم رکھتے‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے۔ بظاہر دونوں باتیں متضاد لگتی ہیں، لیکن درحقیقت اس اندازِ بیان سے یہ عظیم
صفحہ 85
المٓ | 85 | البقرۃ 2
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللهِ خَيْرٌ ۗ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿103﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿104﴾ مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ﴿105﴾(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیات 103 تا 105)
اور (اس کے برعکس) اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو اللہ کے پاس سے ملنے والا ثواب یقیناً کہیں زیادہ بہتر ہوتا۔ کاش کہ ان کو (اس بات کا بھی حقیقی) علم ہوتا! ﴿103﴾ اے ایمان والو! (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر) ’’رَاعِنَا‘‘ نہ کہا کرو، اور ’’انظُرْنَا‘‘ کہہ دیا کرو۔⁽70⁾ اور سنا کرو۔ اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ﴿104﴾ کافر لوگ، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے، یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے کوئی بھلائی تم پر نازل ہو، حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص فرما لیتا ہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے ﴿105﴾
سبق دیا گیا ہے کہ وہ علم جس پر عمل نہ ہو حقیقت میں علم کہلانے کا مستحق نہیں، بلکہ وہ کالعدم ہے۔ لہٰذا اگر وہ یہ بات جانتے تو ہیں مگر ان کا عمل اس کے بر خلاف ہے تو وہ علم کس کام کا؟ کاش کہ وہ حقیقی علم رکھتے تو اس پر ان کا عمل بھی ہوتا۔
(70) مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے: رَاعِنَا۔ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ’’ہماری رعایت فرمائیے‘‘ اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے۔ لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی، اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بددعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا، نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ رَاعِیْنَا بن جاتا ہے۔ جس کے معنی ہیں: ’’ہمارے چرواہے!‘‘ غرض یہودیوں کی اصل نیت اس لفظ کو خراب معنی
صفحہ 86
المٓ | 86 | البقرۃ 2
مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿106﴾ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ﴿107﴾(حوالہ: سورۃ البقرہ، آیات 106 تا 107)
ہم جب بھی کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا اسے بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اسی جیسی (آیت) لے آتے ہیں۔⁽71⁾ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟ ﴿106﴾ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ اللہ وہ ذات ہے کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت تنہا اسی کی ہے، اور اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا رکھوالا ہے نہ مددگار؟ ﴿107﴾
میں استعمال کرنے کی تھی، لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا، اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کر دیا۔ یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتے اور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کو اس شرارت پر متنبہ بھی کر دیا، آئندہ اس لفظ کے استعمال پر پابندی بھی لگا دی اور یہ سبق بھی دے دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو، یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہو۔ نیز اگلی آیت میں اس سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتادی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کی نعمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں عطا فرما دی ہے۔ رَاعِنَا کے بجائے انْظُرْنَا کا لفظ سکھا دیا کیونکہ اس کے معنی ہیں ’’ہم پر (شفقت کی) نظر فرمائیے‘‘ اس میں کسی اور معنی کا احتمال نہیں۔
(71) اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ مختلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں۔ اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید، رسالت، آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں، لیکن جو عملی احکام حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیئے گئے تھے ان میں سے بعض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں تبدیل کر دیئے گئے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی۔ کسی وقت ایک حکم دیا گیا، بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آ گیا، جیسا کہ قبلے کے تعین میں احکام بدلے گئے جن کی کچھ تفصیل آگے آیت 115 میں آ رہی ہے۔ فروعی احکام میں ان حکیمانہ تبدیلیوں کو اصطلاح میں ’’نسخ‘‘ کہتے ہیں۔
صفحہ 87
أَمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَىٰ مِنْ قَبْلُ ۗ وَمَنْ يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ۞ وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۞ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۞(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 108-110)
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اُسی قسم کے سوال کرو جیسے پہلے موسیٰ سے کئے جا چکے ہیں؟ اور جو شخص ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا ﴿108﴾ (مسلمانو!) بہت سے اہل کتاب اپنے دلوں کے حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمہارے ایمان لانے کے بعد تمہیں پلٹا کر پھر کافر بنا دیں، باوجودیکہ حق اُن پر واضح ہو چکا ہے۔ چنانچہ تم معاف کرو اور درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ خود اپنا فیصلہ بھیج دے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے ﴿109﴾ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور (یاد رکھو کہ) جو بھلائی کا عمل بھی تم خود اپنے فائدے کے لئے آگے بھیج دو گے اُس کو اللہ کے پاس پاؤ گے۔ بیشک جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے ﴿110﴾
یہودیوں نے بالخصوص اور دوسرے کافروں نے بالعموم اس پر یہ اعتراض اٹھایا کہ اگر یہ سارے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ان میں یہ تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں؟ یہ آیت کریمہ اس سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بدلتے ہوئے حالات میں یہ تبدیلیاں کرتے ہیں، اور جو حکم بھی منسوخ کیا جاتا ہے اس کی جگہ ایسا حکم لایا جاتا ہے جو بدلے ہوئے حالات میں زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا ہے، یا کم از کم اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جتنا بہتر پہلا حکم تھا۔(72) یہ خطاب یہودیوں کو بھی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بجائے طرح طرح کے مطالبے پیش کرتے تھے، اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ
صفحہ 88
وَقَالُوا لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۞ بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۞ وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۞(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 111-113)
اور یہ (یعنی یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ: ”جنت میں سوائے یہودیوں یا عیسائیوں کے کوئی بھی ہرگز داخل نہیں ہوگا۔“ (73) یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم (اپنے اس دعوے میں) سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لے کر آؤ ﴿111﴾ کیوں نہیں؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو شخص بھی اپنا رخ اللہ کے آگے جھکا دے، اور وہ نیک عمل کرنے والا ہو، اسے اپنا اجر اپنے پروردگار کے پاس ملے گا۔ اور ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿112﴾ اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، حالانکہ یہ سب (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ (مشرکین) جن کے پاس کوئی (آسمانی) علم ہی سرے سے نہیں ہے، انہوں نے بھی ان (اہل کتاب) کی جیسی باتیں کہنی شروع کر دی ہیں۔ چنانچہ اللہ ہی قیامت کے دن ان کے درمیان اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں ﴿113﴾
پر ایمان لانے کے باوجود یہودی ان سے نامعقول اور غیر ضروری سوالات اور مطالبے کرتے رہے ہیں، تم ایسا نہ کرنا۔(73) یعنی یہودی کہتے ہیں کہ صرف یہودی جنت میں جائیں گے، اور عیسائی کہتے ہیں کہ صرف عیسائی۔
صفحہ 89
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَنْ يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۞(Reference: Surah Al-Baqarah, Ayat 114)
اور اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے، اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان (مسجدوں) میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ (74) ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی ہے، اور انہی کو آخرت میں زبردست عذاب ہوگا ﴿114﴾
(74) اوپر یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تینوں گروہوں کا ذکر آیا ہے۔ یہ تینوں گروہ کسی نہ کسی زمانے میں اور کسی نہ کسی شکل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ مثلاً عیسائیوں نے شاہ طیطوس کے زمانے میں بیت المقدس پر حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کیا۔ ابرہہ نے جو عیسائی ہونے کا مدعی تھا بیت اللہ پر حملہ کر کے اسے ویران کرنے کی کوشش کی۔ مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے رہے، اور یہودیوں نے بیت اللہ کے تقدس سے انکار کر کے عملاً لوگوں کو اس کی طرف رُخ کرنے سے روکا۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک طرف ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہے کہ تنہا وہی جنت کا حق دار ہے، اور دوسری طرف ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے یا عبادت گاہوں کو ویران کرنے کے درپے رہے ہیں۔ اسی آیت کا اگلا جملہ ذو معنی ہے۔ اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ حق تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا خوف لے کر داخل ہوتے، نہ یہ کہ متکبرانہ انداز میں انہیں ویران کریں، یا لوگوں کو وہاں اللہ کی عبادت سے روکیں۔ لیکن ساتھ ہی اس میں یہ لطیف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب یہ متکبر لوگ جو اللہ کی مسجدوں سے لوگوں کو روک رہے ہیں، حق پرستوں کے سامنے ایسے مغلوب ہوں گے کہ انہیں خود ان جگہوں پر ڈر ڈر کر داخل ہونا پڑے گا۔ چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔
یہ کتاب "سیرت النبی" کے صفحات کی ٹرانسکرپشن (Transcription) ہے:
صفحہ 90
وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴿115﴾ وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ۙ سُبْحٰنَهٗ ۖ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ﴿116﴾
اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کی ہیں۔ لہٰذا جس طرف بھی تم رُخ کرو گے، وہیں اللہ کا رُخ ہے۔ بیشک اللہ بہت وسعت والا، بڑا علم رکھنے والا ہے ﴿115﴾ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ نے کوئی بیٹا بنایا ہوا ہے، (حالانکہ) اس کی ذات (اس قسم کی چیزوں سے) پاک ہے، بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اُسی کا ہے۔ سب کے سب اس کے فرماں بردار ہیں ﴿116﴾
(75) اوپر جن تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ان کے درمیان ایک اختلاف قبلے کا بھی تھا۔ اہل کتاب بیت المقدس کی طرف رُخ کرتے تھے اور مشرکین بیت اللہ کو قبلہ سمجھتے تھے۔ مسلمان بھی اسی کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اور یہ بات یہودیوں کو ناگوار تھی۔ ایک مختصر عرصے کے لئے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہودیوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دیکھو! مسلمان ہماری بات ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ پھر دوبارہ بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنا دیا گیا۔ جس کی تفصیل ان شاء اللہ اگلے پارے کے شروع میں آنے والی ہے۔ یہ آیت بظاہر اُس موقع پر نازل ہوئی ہے جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ کوئی بھی سمت اپنی ذات میں کسی تقدس کی حامل نہیں۔ مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اسی کی تابع فرمان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی ایک جہت میں محدود نہیں، وہ ہر جگہ موجود ہے، چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیدے، بندوں کا کام یہ ہے کہ اس حکم کی تعمیل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ ہو جہاں قبلے کی صحیح سمت پتہ نہ چل رہی ہو تو وہاں وہ اپنے اندازے سے جس سمت کو قبلہ سمجھ کر نماز پڑھے گا اس کی نماز ہو جائے گی، یہاں تک کہ اگر بعد میں پتہ چلے کہ جس رُخ پر نماز پڑھی ہے وہ صحیح رُخ نہیں تھا تب بھی نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس شخص نے اپنی طاقت کے مطابق اللہ کے حکم کی تعمیل کر لی۔ دراصل کسی بھی جگہ یا کسی بھی سمت میں اگر کوئی تقدس آتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے آتا ہے۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ قبلے...
صفحہ 91
بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۖ وَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ﴿117﴾ وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰیَةٌ ۗ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ۘ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ ۗ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ﴿118﴾ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ۙ وَّلَا تُسْـَٔلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ ﴿119﴾
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جب وہ کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے بارے میں بس اتنا کہتا ہے کہ: ”ہو جا“ چنانچہ وہ ہو جاتی ہے ﴿117﴾ اور جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ: اللہ ہم سے (براہِ راست) کیوں بات نہیں کرتا؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں وہ بھی اسی طرح کی باتیں کہتے تھے جیسی یہ کہتے ہیں۔ ان سب کے دِل ایک جیسے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یقین کرنا چاہیں اُن کے لیے ہم نشانیاں پہلے ہی واضح کر چکے ہیں ﴿118﴾ (اے پیغمبر!) بیشک ہم نے تمہیں حق دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم (جنت کی) خوشخبری دو اور (جہنم سے) ڈراؤ۔ اور جو لوگ (اپنی مرضی سے) جہنم (کا راستہ) اختیار کر چکے ہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پُرس نہیں ہوگی ﴿119﴾
کے تعین میں اپنے احکام بدل رہا ہے تو اس میں کسی فریق کی ہار جیت کا سوال نہیں۔ یہ تبدیلی یہی دکھانے کے لئے آ رہی ہے کہ کوئی سمت اپنی ذات میں مقصود نہیں۔ مقصود اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی ہے۔ اگر آئندہ اللہ تعالیٰ دوبارہ بیت اللہ کی طرف رُخ کرنے کا حکم دیدے تو یہ بات نہ قابلِ تعجب ہونی چاہئے نہ قابلِ اعتراض۔(76) عیسائی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہی ہیں۔ بعض یہودی بھی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، اور مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ یہ آیت ان سب کی تردید کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اولاد کی ضرورت اسے ہو سکتی ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو، اللہ تعالیٰ تو پوری کائنات کا مالک ہے، اور اسے کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔ پھر وہ اولاد کا محتاج کیوں ہو؟ اسی دلیل کو اگر منطقی پیراے...
صفحہ 92
وَلَنْ تَرْضٰی عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰی ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ﴿120﴾ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ﴿121﴾
اور یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم اُن کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ کہہ دو کہ حقیقی ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اور تمہارے پاس (وحی کے ذریعے) جو علم آ گیا ہے، اگر کہیں تم نے اس کے بعد بھی ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کر لی تو تمہیں اللہ سے بچانے کے لیے نہ کوئی حمایتی ملے گا نہ کوئی مددگار ﴿120﴾ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی، جبکہ وہ اس کی تلاوت اس طرح کرتے ہوں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے، تو وہ لوگ ہی (در حقیقت) اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو اس کا انکار کرتے ہوں، تو ایسے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں ﴿121﴾
میں بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہو گی کہ اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے، اور ہر کُل اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر احتیاج سے پاک ہے اس لئے اس کی ذات بسیط ہے جسے کسی جزء کی حاجت نہیں۔ لہٰذا اس کی طرف اولاد منسوب کرنا اسے محتاج قرار دینے کے مرادف ہے۔(77) اگرچہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نا قابلِ تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرضِ محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اُصول یہ بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرماں بردار ہیں۔(78) بنی اسرائیل میں جہاں سرکش لوگ بڑی تعداد میں تھے وہاں بہت سے لوگ ایسے مخلص بھی تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو صرف پڑھا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے حق کی ہر بات کو قبول کرنے کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ رکھا تھا، چنانچہ جب ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچی تو...
صفحہ 93
يٰبَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ ﴿122﴾ وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ ﴿123﴾ وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ۖ قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِيْ ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ﴿124﴾
اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی، اور یہ بات (یاد کرو) کہ میں نے تم کو سارے جہانوں پر فضیلت دی تھی ﴿122﴾ اور اُس دن سے ڈرو جس دن سے کوئی شخص بھی کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا، نہ کسی سے کسی قسم کا فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ اُس کو کوئی سفارش فائدہ دے گی، اور نہ ان کو کوئی مدد پہنچے گی۔ ﴿123﴾ اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں پوری کیں۔ اللہ نے (اُن سے) کہا: ”میں تمہیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔“ ابراہیم نے پوچھا: ”اور میری اولاد میں سے؟“ اللہ نے فرمایا: ”میرا (یہ) عہد ظالموں کو شامل نہیں ہے۔“ ﴿124﴾
انہوں نے کسی عناد کے بغیر اسے قبول کیا۔ اس آیت میں ان حضرات کی تعریف کی گئی ہے اور سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے تمام احکام کو دل سے مان کر ان کی تعمیل کی جائے۔ در حقیقت تورات پر ایمان رکھنے والے وہی ہیں جو اس کے احکام کی تعمیل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں۔(79) بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور ان کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا جو ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے، اس کا آغاز آیت 47 اور 48 میں تقریباً انہی الفاظ سے کیا گیا تھا۔ اب سارے واقعات تفصیل سے یاد دلانے کے بعد پھر وہی بات ناصحانہ انداز میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ان سب باتوں کو یاد دلانے کا اصل مقصد تمہاری خیر خواہی ہے، اور تمہیں ان واقعات سے اس نتیجے تک پہنچ جانا چاہئے۔
صفحہ 94
(80) یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کچھ حالات و واقعات شروع ہو رہے ہیں، اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح گہرا تعلق ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی، عیسائی اور عرب کے بت پرست، یعنی تینوں وہ گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اُسی کے مذہب کے حامی تھے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں صحیح صورتِ حال واضح کی جائے۔ قرآن کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ اُن کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی، اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا جن میں وہ پورے اُترے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، حضرت اسحاق اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام)۔ حضرت اسحاق علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نبوت کا سلسلہ انہی کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں چلا آ رہا تھا۔ جس کی بنا پر وہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر کی پیشوائی کا حق صرف انہی کو حاصل ہے۔ کسی اور نسل میں کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا جو اُن کے لئے واجب الاتباع ہو۔ قرآن کریم نے یہاں یہ غلط فہمی دور کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا ہے کہ دینی پیشوائی کا منصب کسی خاندان کی لازمی میراث نہیں ہے، اور یہ بات خود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صریح لفظوں میں کہہ دی گئی تھی۔ انہیں جب اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے آزما لیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار ہے، انہیں توحید کے عقیدے کی پاداش میں آگ میں ڈالا گیا، انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، انہیں اپنی بیوی اور نوزائیدہ بچے کو مکہ کی خشک وادی میں تنہا چھوڑنے کا حکم ملا اور وہ بلا تامل یہ ساری قربانیاں دیتے چلے گئے، تب اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا بھر کی پیشوائی کا منصب دینے کا اعلان فرمایا۔ اُسی موقع پر جب انہوں نے اپنی اولاد کے بارے میں پوچھا تو صاف طور پر بتلا دیا گیا کہ ان میں جو لوگ ظالم ہوں گے یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کریں گے وہ اس منصب کے حق دار نہیں ہوں گے۔ بنی اسرائیل کو صدیوں آزمانے کے بعد ثابت یہ ہوا ہے کہ وہ اس لائق نہیں ہیں کہ قیامت تک پوری انسانیت کی دینی پیشوائی ان کو دی جائے۔ اس لئے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے صاحبزادے یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں بھیجے جا رہے ہیں جن کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دُعا کی تھی کہ وہ اہل مکہ میں سے بھیجے جائیں۔ اب چونکہ دینی پیشوائی منتقل کی جا رہی ہے، اس لئے اب قبلہ بھی اس بیت اللہ کو بنایا جانے والا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اس مناسبت سے آگے تعمیرِ کعبہ کا واقعہ بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ یہاں سے آیت نمبر 152 تک جو سلسلہ کلام آ رہا ہے اس کو اس پس منظر میں سمجھنا چاہئے۔