عجب (خود پسندی) کی حقیقت اور توفیقِ الٰہی پر شکر

کتاب: انفاس عیسی، عجب:

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • عجب (خود پسندی) کی تعریف اور اس کی حقیقت
  • نیکی کو کمالِ ذاتی کے بجائے اللہ کا فضل سمجھنا
  • اہلیت و قابلیت کا محض عطیہِ خداوندی ہونا
  • شکر اور کبر (تکبر) کے درمیان باریک فرق
  • گناہ گاروں کو حقیر جاننے کی ممانعت اور توبہ کی اہمیت
  • عجب: نسبتِ مع اللہ اور روحانیت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے۔ آج ان شاء اللہ عجب کے بارے میں کچھ باتیں ہوں گی۔

عجب

عجب کہتے ہیں اپنے کسی عمل کو اچھا سمجھنا۔ تو ایک تو ہوتا ہے اچھا سمجھنا اس لحاظ سے کہ اللہ پاک کی طرف سے اس کو اچھا کہا گیا ہے، مثلاً: نماز ایک اچھا عمل ہے، تو اس لحاظ سے تو ہر مومن کو اس کو اچھا کہنا پڑے گا کیونکہ اللہ پاک نے اس کو اچھا کہا ہے۔ ایک میری نماز اچھی ہے، میں نے جو نماز پڑھی ہے وہ اچھی ہے۔ یہ پھر اگر میں اس کو اچھا سمجھنے لگوں گا تو پھر کیا ہے؟ یہ عجب ہے۔ کیونکہ عجب کی جو انتہا ہے وہ ناز کے ساتھ لگی ہوئی ہے، پھر انسان ناز کرنے لگتا ہے، اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتا ہے، یہ بزرگی انسان میں آ جاتی ہے، یہ اصل میں عجب کا اثر ہوتا ہے۔

تو اگر اس کو ابتدائی سے پکڑا جائے تو پھر کافی فائدہ ہوتا ہے، آسانی ہو جاتی ہے اس سے بچنے میں۔

ہر عمل میں دو حیثیت ہیں:

تہذیب: عمل میں دو حثییت ہیں: ایک اپنا کمال، اس اعتبار سے (یعنی اپنا کمال سمجھ کر) اس پر نظر نہ کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ یہ خدا کی رحمت ہے، اس اعتبار سے اس پر مسرت مامور بہ ہے: ﴿قُلْ بِفَضْلِ اللهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا...﴾ (يونس: 58)

مطلب یہ ہے کہ اس کو اللہ پاک کا عطیہ سمجھ کر، اللہ جل شأنہ کا فضل سمجھ کر اس پر شکر کرنا کہ اے اللہ میں تو اس قابل نہیں تھا لیکن تو نے اس کی ایک توفیق عطا فرمائی، تو اس لحاظ سے یہ شکر ایک اور عمل بھی اس کے ساتھ ہو گیا، اچھا عمل۔ لیکن یہ بات ہے کہ اس کو خود مطلب یہ ہے کہ اس طرح سمجھنا کہ میں نے اس کو اچھا کر لیا ہے، یعنی اپنے نفس کی طرف اس کی نسبت کر لی۔ تو پھر یہ گڑبڑ ہے، پھر مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے پھر نقصان ہونے لگتا ہے۔ جب تک انسان اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھتا ہے تو وہ ٹھیک ہے۔

آج کل یہ ایک بیماری بہت عام ہے کہ سمجھتے تو ہیں اس کو اپنا عمل، یعنی اپنا کمال سمجھتے ہیں، لیکن زبان سے کہتے ہیں بس جی اللہ کا بڑا فضل ہے جی۔ اللہ کا بڑا احسان ہے۔ اللہ کا بڑا کرم ہے۔ یہ مطلب ایسا ہوتا ہے۔ تو یہ پھر ظاہر ہے معاملہ چونکہ اللہ کے ساتھ ہے، اللہ پاک تو دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ تو اگر اس کو اپنے اوپر نظر کر کے کہہ رہا ہے تو پھر تو بہت مصیبت ہے۔ اور اگر اس کو اللہ پاک کا واقعی فضل سمجھ رہا ہے، کیونکہ جب اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھے گا تو بزرگی کا شائبہ بھی نہیں آئے گا۔ بزرگی کیا، جو اللہ پاک دے سکتا ہے وہ لے بھی سکتا ہے۔ اور وہ اللہ پاک کا کرم ہے تو پھر درمیان میں ہم کیا اس پر اترائیں؟ تو اس وجہ سے جب انسان اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھتا ہے پھر مسئلہ نہیں ہوتا، پھر خطرہ نہیں ہوتا۔ خطرہ اس وقت ہے جب انسان اس کو اپنا کمال سمجھنے لگے۔

اہلیت و قابلیت کی شرط عطیۂ خداوندی ہے:

حال: بعض حضرات میرے سامنے استخلاف وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو مجھے بالکل یہ معلوم ہوتا ہے کہ میرا مذاق کر رہے ہیں، قلب میں بجائے خوشی کے ایک رنج پیدا ہوتا ہے۔

استخلاف سے مراد ہے کسی نے ظاہر ہے کسی بزرگ نے ان کو خلیفہ بنایا ہوگا یا حضرت ہی کا ہوگا۔ تو فرمایا کہ جو میرے سامنے کہتے ہیں کہ آپ تو فلاں کے خلیفہ ہیں تو مجھے پریشانی ہو جاتی ہے۔ اور واقعتاً جس کو اللہ تعالیٰ نے کچھ دیا ہوتا ہے تو اس کو اس کے اس سے پریشانی ہوتی ہے۔ حضرت مولانا سعید احمد خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کو جب یہ ہے کہ خلافت دی گئی تو حضرت فرماتے ہیں کہ میرے ایسے جیسے کہ میرے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی، مجھے ایسی حالت ہو گئی۔ تو یہ اصل تو یہی ہے کہ انسان اس کو اپنا کمال نہ سمجھے، اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھے۔

اور ظاہر ہے بنیادی بات تو یہ ہے کہ اس پہ نہیں ہوگا کہ کون کس کا خلیفہ ہے۔ اس پر ہوگا کہ کس نے اللہ پاک کو راضی کتنا کیا ہے۔ اگر اللہ پاک اس سے اس پر راضی ہو رہا ہے کہ یہ خلیفہ نہ ہو تو پھر یہی بات ٹھیک ہے۔ ظاہر ہے مطلب خلافت تو مقصود نہیں ہے نا۔

جیسے ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کے پڑوسی والا واقعہ ہے۔ یہ حضرت کو کسی نے خواب میں دیکھا۔ یہ پوچھا کہ کیا حال ہے آپ کا؟ فرمایا الحمد لله اللہ پاک نے بہت کرم فرمایا، بہت فضل فرمایا، بہت نعمتیں عطا فرمائیں، بہت میرے تصور میں بھی نہیں تھا۔ لیکن میرا پڑوسی مجھ سے آگے نکل گیا۔ پوچھا آپ کا پڑوسی کیا کہتا تھا؟ فرمایا عیال دار آدمی تھا، مجھے دیکھ کر افسوس کرتا تھا، کاش میرے پاس بھی وقت ہوتا تو میں ابراہیم بن ادھم جیسا عمل کرتا۔ اس کو موقع نہیں ملتا تھا، ہر وقت لگا رہتا تھا۔ اپنے بیوی بچوں کے لیے پیسہ کچھ کمانے کی فکر میں لگا رہتا تھا۔ تو وہ جو ہے نا اس وجہ سے وہ مجھ سے آگے نکل گیا۔ اب وہ کوئی کسی کا خلیفہ بھی نہیں ہو گا لیکن مقصود خلیفہ ہونا تو نہیں ہے، مقصود تو اللہ کو راضی کرنا ہے۔ تو جس پہ یہ بات کھلی ہوتی ہے، وہ اس کو ان چیزوں کا چکر نہیں ہوتا۔ اور جن کو ان چیزوں کا چکر ہوتا ہے، فکر ہوتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ان کو ابھی حق راستے کی ہوا نہیں لگی۔ ابھی وہ راستے میں ہے، ابھی وہ ذرا مسئلہ ہے اس کے ساتھ۔

تہذیب: ''اَلْحَمْدُ لِلہِ'' یہ علامت ہے عدمِ عجب کی، حق تعالیٰ اس میں ترقی عطا فرماویں کہ اپنے کو کبھی اہل نہ سمجھیں، لیکن اس حالت میں یہ مزید شکر کا سبب ہونا چاہیے کہ باوجود نااہلی کے حق تعالیٰ نے یہ نعمت دی اور اس کو فال نیک سمجھنا چاہیے عطائے اہلیت کی ''وَ لَنِعْمَ مَا قِیْلَ'':

داد او را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرط قابلیت داد اوست

ہمارے حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جب کتاب چھپ رہی تھی سلوک سلیمانی تو اس پر پیشانی پر یہ لکھا تھا۔

داد او را شرط قابلیت نیست
بلکہ شرط قابلیت داد اوست

یعنی اس کے دینے کے لیے قابلیت شرط نہیں ہے، بلکہ قابلیت کے لیے شرط ہے کہ وہ دے دے۔

توفیق الٰہی پر شکر چاہیے:

تہذیب: کام کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اپنا کمال نہ سمجھیں، بلکہ خدا تعالیٰ کا احسان سمجھ کر شکر کریں کہ انہوں نے ہم سے کام لے لیا ورنہ ہماری کیا طاقت تھی۔

اور یہ بات بالکل صحیح ہے۔ اللہ پاک اگر کام لے تو کام لے۔ راستے بنا دیتے ہیں، حالات بنا دیتے ہیں۔ ورنہ انسان کچھ نہیں کر سکتا۔ راستے اللہ بند کر دے تو کھول ہی نہیں سکتا۔ بہت سارے مسائل ہونے لگتے ہیں، اب ہمت ہی جواب دے جاتی ہے۔ آدمی کو سب کچھ نظر آ رہا ہوتا ہے لیکن کر کچھ نہیں سکتا۔ تو اس کا ہی فضل اور اس کا احسان ہے۔

منت منہ کہ خدمتِ سلطاں ہمی کنی
منت شناس ازو کہ بخدمت بداشتت

مطلب یہ ہے کہ تم اس پر خوشی کر لو کہ تجھے سلطان نے نوکری کے لیے رکھ لیا ہے، یہ نہیں کہ مطلب میں اس کی خدمت کر رہا ہوں۔ اللہ پاک کا فضل سمجھو کہ مجھے اللہ پاک نے اس کے لیے قبول فرما لیا۔ ورنہ کہاں ہم اور کہاں۔۔۔

اظہارِ عمل کب نقص ہے اور کب کمال:

تہذیب: اظہارِ عمل مطلقاً نقص نہیں اور نہ اِخفائے عمل مطلقاً کمال ہے، بلکہ نقص جب ہے کہ اپنے اوپر نظر ہو، اور کمال جب ہے کہ اپنے اوپر نظر نہ ہو، بلکہ صرف خالق جلَّ و علا پر نظر ہو۔

قرآن پاک میں آیا ہے ایک جگہ پہ ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾۔ ﴿وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ﴾، اور جو اللہ پاک نے تجھے نعمت عطا فرمائی ہے، تیرے رب نے، اس پر اس کو بیان کر لے، مطلب اس کا تذکرہ کر۔ جیسے میں نے عرض کیا نا کہ دل میں ہمارا اور کچھ ہوتا ہے، زبان پر ہمارا اور کچھ ہوتا ہے۔ تو اگر انسان کی اپنے اوپر کمال پر نظر نہیں ہے اور اس کو اللہ پاک کا کمال سمجھ رہا ہے اور اللہ پاک کے کمال کو بیان کرنا چاہتا ہے یعنی اللہ پاک کی گویا کہ بڑائی بیان کر رہا ہے کہ اس نے مجھے یہ توفیق عطا فرمائی ہے، تو یہ اس حکم پر عمل ہے۔ اور اگر دل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھیں کہ میرے پاس کیا ہے، تو یہ پھر وہی چیز ہے، یہ پھر اس پر عمل نہیں ہے۔ تو نہ ہر چیز چھپائی جا رہی ہے، وہ کمال ہے کیونکہ عین ممکن ہے کسی وقت اللہ کے حکم کے مطابق کر رہا ہو۔ اور نہ ہر چیز کا اظہار وہ مفید ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ اپنے نفس کے لیے اس کا اظہار کر رہا ہو۔ تو دونوں چیزوں میں دونوں خطرے ہو سکتے ہیں۔ لہذا چاہے چپ رہے، چاہے بات کرے دونوں صورتوں میں نظر اللہ پہ ہونی چاہیے۔ تو پھر دونوں صورتوں میں فائدہ ہو گا۔ پھر دونوں صورتوں میں فائدہ ہو گا۔ کیونکہ مقصود اللہ کو راضی کرنا ہے، مقصود لوگوں کو دکھانا نہیں ہے، لوگوں کو خوش نہیں کرنا بلکہ اپنے نفس کو خوش نہیں کرنا۔

شکر و کبر کا فرق:

تہذیب: ذکر کر کے جو نفس خوش ہو تو اگر اس کو اپنی فضیلت سمجھو تو کبر ہے، اور اگر عطائے حق سمجھو اور اپنے کو اس کا مستحق نہ سمجھو تو شکر ہے۔

مطلب یہ ہے کہ ذکر کر لیا تو اللہ پاک نے توفیق عطا فرما دی۔

ایک دفعہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس کوئی شخص آیا کہ حضرت میں نے سوا لاکھ مرتبہ آیتِ کریمہ پڑھ لی ہے، مجھے تو کچھ بھی نہیں حاصل ہوا۔ تو فرمایا یہ کیا کم حاصل ہوا کہ سوا لاکھ مرتبہ کی توفیق عطا فرمائی کہ تو خود کر سکتا تھا۔ اس پر تو شکر کیوں نہیں ادا کرتا؟

تو جو اس کے لیے مطلب انتظار میں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو اپنا کمال سمجھتا ہے کہ میں نے تو اتنی بڑی محنت کی لیکن اللہ پاک اس کو دیکھ نہیں رہے۔ یعنی میں تو کچھ ہوں لیکن مجھے کچھ سمجھا نہیں جا رہا۔ تو کتنا بڑا مسئلہ ہے نفس کی قید ہے۔ تو اگر انسان کی نظر میں اپنے آپ کا ہیچ ہونا ثابت ہو جائے۔ اس کے بعد پھر وہ کہے گا کہ یہ میں نے جو کیا ہے پتا نہیں اس پر وہ جوتے نہ پڑ جائیں کہ میں نے اس کام کو خراب کیا ہے۔ اس پر وہ کسی چیز کا طالب تو نہیں ہو گا نا۔ وہ کہے گا کہ یہ تو اس کی توفیق ہے اور میں نے اس کو خراب کر دیا۔ تو واقعتاً جو اللہ والے ہوتے ہیں ان کو اپنے اوپر نظر نہیں ہوتی۔ وہ اپنے بارے میں بہت بدگمانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لوگ بیشک ان کے بارے میں کتنے ہی نیک گمان میں مبتلا ہوں لیکن وہ اپنے بارے میں بدگمانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو تو حسن ظن کا ثواب ملے گا اور ہمارے اندر کیا ہے ہمیں تو پتا ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہے۔ تو یہ ہے کہ انسان کو اللہ پاک کی عظمت پر جب نظر ہو جائے اور اپنے نفس کے مکائد پر جب نظر ہو جائے تو پھر وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔ جب اپنے نفس کے مکائد پر نظر نہ ہو اور اللہ پاک کی عظمت اس کے سامنے نہ ہو تو پھر اپنا نفس اس کے سامنے آتا ہے کہ میں تو کچھ ہوں میں تو کچھ ہوں میں تو کچھ ہوں۔ اپنی نمازوں کو دیکھتا ہے اپنی تہجد کو دیکھتا ہے۔ اپنے علم کو دیکھتا ہے یا یہ ہے کہ اپنے ذکر کو دیکھتا ہے کہ میں نے یہ کر دیا میں نے یہ کر دیا میں نے یہ کر دیا۔ وہ موقع تلاش کرتا ہے کسی کو بتاؤں۔ مطلب وہ اس کے لیے حالانکہ یہ چیزیں تو اللہ اور اللہ کے ساتھ بس وہ ہونی چاہییں۔ اس کا کسی اور کے ساتھ کیا تعلق؟ مطلب اس کے لیے، حالانکہ یہ چیزیں تو اللہ کے ساتھ بس وہ ہونی چاہییں۔ اس کا کسی اور کے ساتھ کیا تعلق؟

استحقاقِ اجر کے دعوٰی کا منشا عظمتِ خداوندی پر نظر نہ ہونا چاہیے:

تہذیب: ہم اپنے اعمال کو اسی وقت تک کچھ سمجھتے ہیں جب تک اپنے اوپر نظر ہو، اور جب حق تعالیٰ کی عظمت پر نظر ہو گی تو ہر شخص اقرار کرے گا کہ میں نے خدا تعالیٰ کا کچھ بھی حق ادا نہیں کیا پھر استحقاق اجر کے دعوٰی کا کیا منہ۔

بندہ ہماں بہ کہ ز تقصیر خویش
عذر بدرگاہِ خدای آورد
ورنہ سزاوار خداوندیش
کس نتواند کہ بجای آورد

بندہ تو ہر وقت تقصیر ہی کر رہا ہے، کمزوری دکھا رہا ہے جب تک کوئی چیز اس کے سامنے لا رہا ہے۔ اور وہ تو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں پوچھے نہیں۔ مطلب اگر اللہ توفیق نہ دے تو انسان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

اعمالِ صالحہ خود سراپا انعامات ہیں:

تہذیب: حضرت! جتنے کام حق تعالیٰ ہم سے لے رہے ہیں، یہ خود انعام ہے، پھر انعام پر طلبِ انعام کیسا؟ انعام تو عمل پر ہوا کرتا ہے اور یہاں خود یہ اعمال ہی سراپا انعامات ہیں۔ ورنہ ہم کس قابل تھے کہ حق تعالٰی کی عبادت کر سکیں۔

اس کی توفیق ہے کہ اس نے ہمیں مثال کے طور پر ہم یہاں پر جو جمع ہو جاتے ہیں یہ بھی اللہ کا فضل ہے۔ ورنہ اللہ نہ چاہتے تو کون کر سکتا ہے؟

کہتے ہیں ایک دفعہ ایک غلام تھے اپنے آقا کے ساتھ جا رہے تھے۔ تو انہوں نے اس سے اجازت مانگی۔ کہ حضرت نماز کا وقت آ گیا اگر نماز پڑھوں۔ تجھے کیا دیر ہوئی؟ تو ان کے خیال میں ذرا دیر ہوئی ہوگی۔ جو باہر کھڑا ہوتا ہے اس کو زیادہ احساس ہوتا ہے نا کہ زیادہ دیر لگ گئی۔ تو اس نے اندر منہ کر کے کہا کہ کون تجھے باہر نہیں آنے دے رہا۔ تو انہوں نے کہا کہ جو آپ کو اندر نہیں آنے دے رہا۔ مطلب یہ ہے کہ واقعتاً جس وقت توفیق نہ ہو تو سب کچھ ہوتا ہے لیکن کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ اس کی توفیق سے ہے۔ توفیق سلب ہو جائے تو کچھ نہیں کر سکتا آدمی۔

کبھی کبھی دکھا بھی دیا جاتا ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ کا بیان ہے آج آپ کا تو اس کے لیے کچھ تیاری کی ہے؟ کہتے ہیں میں نے کہا نہیں مجھے تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی، جب ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت کچھ کہہ لیتا ہوں۔ کہتے ہیں یہ بات اللہ کو پسند نہیں آئی۔ تو بس کہتے ہیں منبر پر بیٹھ گیا، خطبہ مسنونہ پڑھا اور اس کے بعد مضامین ختم۔ مضامین نہیں آ رہے تھے۔ بہت غور کیا لیکن کوئی مضمون نہیں آ رہا تھا ذہن میں۔ تو کہتے ہیں کافی جب دیر گزری، لوگ بھی پریشان تھے کہ کیوں حضرت کیوں خاموش ہیں؟ تو حضرت نے سب سے کہا کہ آپ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک مضامین بھیجنا شروع کر دے، مضامین بند ہو گئے ہیں۔ پھر سب نے واقعی دعا کی حضرت کے فرمانے پر۔ اور پھر جب سب کی دعا ہو گئی تو اللہ پاک نے مضامین بھیجنے شروع کر دیے۔ اور ایسے کہ وہی دو تین گھنٹے کا بیان اسی معمول کے مطابق ہی ہوا۔ لیکن پہلے نہیں تھا۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے آدمی، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ جیسی ہستی، سراپا علم۔ ان کے ساتھ ایسا ہو گیا، نہیں کر سکتے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو سورۃ والضحیٰ جو آئی ہے اس کی شان نزول یہی ہے نا کہ ان شاء اللہ نہیں ہوا تھا تو بس وہ وحی آنی بند ہو گئی۔ تو یہ ہے کہ پھر بہت پریشانی رہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی، کہیں مجھے چھوڑ تو نہیں دیا گیا؟ تو اس میں یہ تسلی دی گئی ﴿وَالضُّحَىٰ ۝ وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ ۝ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ۝ وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ﴾۔ تو یہ تسلی پھر دے دی گئی۔ تو یہ ہے کہ انسان کی نظر اللہ پر ہونی چاہیے، اپنے اوپر نہیں ہونی چاہیے۔ آئے ہائے۔

کمال پر ناز کرنا دلیل ہے کمال سے عاری ہونے کی:

تہذیب: کمال پر ناز کرنا خود اس کی دلیل ہے کہ یہ شخص کمال سے عاری ہے، ورنہ اہلِ کمال ناز نہیں کیا کرتے، کیونکہ ان کو کمال کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے جس سے اپنے کو عاجز پا کر وہ کبھی ناز نہیں کر سکتے۔

اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ جب کبھی آپ کو یہ خیال آ جائے کہ میں اچھا ہوں، تو سمجھو کہ اگر پہلے اچھے بھی تھے اب تو اچھے نہیں ہو نا۔ یہی سوچو کہ اب چونکہ میں اپنے آپ کو اچھا سمجھ رہا ہوں اور اپنے آپ کو اچھا سمجھنا اچھا نہیں ہے۔ تو لہذا اگر میں پہلے اچھا بھی تھا تو اب تو اچھا نہیں رہا نا۔ لہذا اس وقت پھر آدمی اپنے آپ کو ٹھیک کر دے۔

عملِ صالح کی توفیق محض حق تعالیٰ کے فضل سے ہے:

تہذیب: عمل صالح کی توفیق محض حق تعالیٰ کے فضل سے ہے۔ یہ جو آپ کو نماز کا شوق اور رات کو تہجد میں اٹھتے ہیں، یہ آپ کا کام نہیں بلکہ کوئی اور ہی اٹھا رہا ہے۔

بعض کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ انگوٹھے سے بھی اگر کبھی دیر ہو جائے۔ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہر ایک کے ساتھ اپنے اپنے معاملات۔ کوئی فرشتہ یا کوئی جو بھی ہے جو اس پر مقرر ہوتا ہے وہ اس کو ہلا دیتا ہے، اٹھا دیتا ہے۔ تو پھر تو ظاہر ہے فضل ہی ہے نا۔ ورنہ آدمی خود کیا کر سکتا ہے؟

الارم۔ کسی نے کہا کہ حضرت اب تو بے حسی ایسی حالت ہے کہ الارم کے بغیر آنکھ اٹھتی نہیں ہے۔ یہ کب تک ہم ان چیزوں کے محتاج رہیں گے؟ تو حضرت نے ان کو جواب دیا کہ کس کس چیز کی محتاجی سے بچو گے؟ شکر کرو کہ الارم دے دیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ اگر الارم پہ اٹھ سکتے ہو تو یہ بھی تو اس کا فضل ہے۔ یہ بھی تو وہی اٹھا رہا ہے۔ ورنہ الارم سے بھی نہ اٹھ سکو۔ اور الارم نہ دے تو پھر کیا کرے؟ تو یہ تو اس کا احسان ہے۔

عجب کا علاج:

تہذیب: اگر حق تعالیٰ ہم سے کچھ کام لے لیں، اس کو ان کی عنایت سمجھو۔ کام لینا اس لیے کہتا ہوں کہ سب باگیں ان کے ہی قبضے میں ہیں، بس اپنا کچھ کمال نہ سمجھو، نہ کسی گنہگار کو حقیر جانو۔

گنہگار کو حقیر جاننا بھی کبھی کبھی بڑا مہنگا پڑتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک اس پر قادر ہے کہ اس کو معاف کر دے توبہ کی توفیق دے دے اور تجھے اس کے لیول پہ لا کے کھڑا کر دے۔ اور اس میں سیکنڈ بھی نہیں لگتے۔ اللہ پاک کے لیے کچھ بھی اس میں وہ نہیں ہے۔ مشکل نہیں ہے۔ آن کی آن میں۔ کایا پلٹ۔ جو بزرگ بنا بیٹھا ہو فاسق و فاجر بن جائے جو فاسق و فاجر ہے توبہ کر کے بزرگ بن جائے۔ اس کے لیے کیا ہے؟

میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں نا کہ ایک ٹیکسلا میں ایک نوجوان تھے۔ بڑی مطلب بے پروا زندگی گزاری تھی۔ پتا نہیں کس طرح تنبیہ ہو گئی واللہ اعلم۔ تو ارادہ کر لیا کہ بس نماز پڑھتا ہوں۔ تو صاف کپڑے پہن لیے نہایا اور مسجد چلے گئے۔ اتنا بھی پتا نہیں تھا کہ مغرب کے اندر کتنی رکعات ہوتی ہیں۔ راستے میں ایک مائی بیٹھی ہوئی تھی اس نے کہا مائی مغرب میں کتنی رکعات ہیں مغرب کی نماز میں۔ اس نے کہا تین ہوتی ہیں۔ جا کے مسجد میں اس نے رکعات نماز پڑھی۔ اور نماز کے بعد جو رونا شروع ہو گیا کہ اے اللہ میں تو بڑا گناہ گار ہوں میں نے تو بہت زندگی ضائع کر دی۔ میرا کیا ہو گا؟ وہ جو رونا شروع کیا روتے روتے روتے فوت ہو گئے۔ اب بتاؤ۔ اب کیا حالت ہے ولی اللہ بن کر فوت ہو گیا۔ اب کل تک اس کو جو لوگ سمجھ رہے ہوں گے وہ کیسے ہوں گے؟ کہ یہ کیسا آدمی ہے یہ تو ایسے ہے یہ تو ایسے ہے یہ تو ایسے ہے۔ اور کل پھر وہ کیسا تھا؟ تو یہ تو کچھ پتا نہیں ہوتا نا کہ اللہ پاک کس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ اگر کوئی آپ کو برا نظر آئے تو اس کے اس عمل کو تو برا کہو۔ اس کو برا نہ کہو اس کو فی المآل اچھا کہو ممکن ہے توبہ کر لے اور آپ سے اچھا ہو جائے۔ اگر وہ فی الحال آپ کو اچھا نظر نظر نہیں آ رہا تو فی المآل تو ہو سکتا ہے نا۔ بھائی ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت مسلمانوں کی طرف سے لڑیں گے۔ اور ایسا ہو گا ویسا ہو گا۔ بس ٹھیک ہے جی بس۔ وہ وقت گیا، توبہ کر لی انہوں نے۔ نئی زندگی مل گئی۔ اب اس کے بعد پھر وہ مختلف۔ تو اس طرح سب کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ اگر کافر گبرو توبہ کر کے مسلمان ہو کر سارا گناہ معاف کر کے اس میں شامل ہو سکتے ہیں ایسے لوگوں میں تو گناہ گار کیوں نہیں شامل ہو سکتا؟ گناہ گار کے لیے تو فاصلہ کم ہے۔ ایمان تو اس کو حاصل ہی ہے۔

عمل نسبت مع اللہ کے منافی ہے:

تہذیب: صاحبِ نسبت عمل کرے تو نسبت سلب ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عامل کو خدا پر توکُّل نہیں رہتا اور عجب پیدا ہو جاتا ہے، اور یہ منافی ہے نسبت مع اللہ کے۔

یہ عملیات کو جو ہمارے مشائخ روکتے ہیں اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس میں انسان کی اپنے اوپر نظر ہو جاتی ہے۔ میں نے یہ کیا میں نے یہ کیا میں نے یہ کیا۔ ایک عامل صاحب آئے تھے میرے پاس ملنے کے لیے۔ کوئی لایا تھا۔ تو وہ کہانیاں مجھے سنا رہا تھا مطلب یہ کہ فلاں کے اوپر میں نے یہ کر دیا تھا پھر یہ ہے کہ اس نے وہ بکرے کو آگے کر دیا مطلب ایک صدقہ کر دیا۔ تو بچ گیا پھر فلاں پھر ایسا ہو گیا تو پھر میں نے کر لیا تو پھر اس نے فلاں کام کر دیا تو بچ گیا۔ اخیر میں میں نے فلانا عمل کیا تھا بس اس کے ساتھ ختم ہو گیا بس۔ اب میرا اس کے ساتھ کیا مسئلہ تھا مطلب میں نے اس سے کیا کب کہا تھا کہ مجھے یہ واقعات بتاؤ؟ تو بس اس کو تھا۔ شوق تھا ایسے لوگوں کو شوق ہوا کرتا ہے۔ تو شوق تھا وہ بتانے کا کہ مجھے بتا دے۔ خیر میں تو اس میں دلچسپی نہیں لیتا۔ لہذا چپ ہو گیا اس پر۔ تو بعد میں وہ جو ساتھی لایا تھا وہ بھی ظاہر ہے اس کے ساتھ شاگرد رہ چکا تھا تو جانتا تھا ان چیزوں کو۔ تو مجھے کہتے ہیں کہ وہ آپ کے موکلوں کے ساتھ اپنے موکلوں کو لڑا رہا تھا۔ میں نے کہا میرے تو موکل نہیں ہیں کہتے آپ کو پتا نہیں۔ بہرحال یہ کہ وہ۔

تو میں نے کہا میرے موکلوں کے ساتھ موکل کیوں لڑا رہے، کہتے ان کو ویسے ہی عادت ہوتی ہے۔ یہ پنجہ آزمائی جو کرتے ہیں۔ کہ آخر یہ کتنے پانی میں ہے یہ وہ ہے۔ تو بس کرتے ہیں بس یہ وہ ان کی علت ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ عملیات میں یہ چکر ہے۔ انسان کے اندر ایک ہوتا ہے کہ میں فلاں ہوں۔ میں فلاں سے آگے ہوں میں فلاں سے آگے ہوں میں فلاں سے آگے ہوں۔ بھائی کیا ہو گیا؟ فلاں سے آگے ہوں۔ تو یہ جو توجہ کے میدان میں لوگ آتے ہیں جو توجہ ڈالتے ہیں ان میں بھی یہ چیز آ جاتی ہے زیادہ تر کہ میں نے فلاں کو توجہ سے گرا دیا اور میں نے فلاں کے اوپر توجہ کی تو اس کے ساتھ یہ ہو گیا میں نے فلاں کے ساتھ توجہ کی تو اس کے ساتھ۔ بھئی کیا توجہ کر دی؟ تو اس پر وہ یہی بات ہے کہ جس چیز میں انسان کی اپنے اوپر نظر پڑے وہ گڑبڑ ہے۔ وہ گڑبڑ ہے۔