حقیقتِ طریقت: اصلاحِ نفس کے اصول، ارکانِ سلوک اور حقوقِ مرشد(حصہ اول)
درس 1، حصہ 1 باب 1 ملفوظ 1: حقیقت طریقت، اشاعت اول: بدھ، 14 جولائی، 2004 بمطابق: 26 جمادی الاول، 1425 ھ
- اصلاحِ نفس کی فرضیت اور علاج و صحت کی تمثیل
- طریقت میں اصولِ موضوعہ اور مبادی (علوم) کی حیثیت
- مقاصد، مبادی اور زوائد و توابع کا باہمی فرق
- مقاصد کا دائرہ کار: افعالِ اختیاریہ اور رذائل کے ازالے کی اہمیت
- کشف و کرامات اور غیر اختیاری امور کی غیر مقصود حیثیت
- احوال و کیفیات (قبض و بسط) کی حقیقت اور مقامات و احوال کا فرق
الحمد للہ رب العالمین الصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا
صدق اللہ العلی العظیم۔
برکت کے لیے میں نے یہ دو آیتیں تلاوت کی ہیں۔ اور ان دو آیتوں سے جو طریقت کی حقیقت ہے وہ کھل جاتی ہے۔ طریقت کسے کہتے ہیں؟ اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یقینا کامیاب ہو گیا وہ شخص جس نے اس نفس کی اصلاح کی۔ اور یقینا ناکام اور برباد ہو گیا وہ شخص جس نے اس کو اسی طرح چھوڑا اس کی اصلاح نہیں کی۔ تو اس کا یہ ہوا کہ نفس کی جو اصلاح ہے یہ بنیادی چیز ہے۔ اور اس کا ہونا ضروری ہے موت سے پہلے پہلے نفس کی اصلاح ضروری ہے، فرض عین ہے۔ اگر نہ کیا جائے تو کوئی اس کا متبادل نہیں ہے، کہ ہم کسی اور طریقے سے بچ جائیں گے ایسی کوئی بات نہیں متبادل راستہ نہیں ہے۔ ایک ہی طریقہ ہے، کہ ہم لوگ اپنے نفس کی اصلاح کر لیں۔ اس سے ہو گا یہ کہ اللہ جل شانہ کے حکموں کو ماننا آسان ہو جائے گا ممکن ہو جائے گا۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اللہ جل شانہ کی نافرمانی ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً انسان اعمال سے دور ہو جاتا ہے اور اعمالِ سیٔہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اس وجہ سے نفس کی اصلاح ضروری ہے لیکن اب نفس کی اصلاح ہو کیسے؟ تو ظاہر ہے یہ تو علاج ہے۔ اور علاج جو ہوتا ہے یہ محض ذریعہ ہوتا ہے۔ کچھ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اور وہ مقصد صحت ہوتا ہے۔ اب صحت وہ ایک چیز ہے لیکن جو علاج ہے جو ذریعہ ہے وہ ایک چیز نہیں ہے۔ وہ کئی ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے مرد ہے بیمار ہو گیا اس کا علاج الگ طریقے سے ہو گا عورت بیمار ہو گئی تو اس کا علاج دوسرے طریقے سے ہو گا۔ دیہاتی ہے اس کا علاج الگ ہو سکتا ہے شہری کا علاج الگ طریقے سے ہو سکتا ہے۔ اور مختلف قسم کی چیزیں ہوتی ہیں لوگوں کے مزاجوں میں فرق ہوتا ہے لوگوں کے حالات میں فرق ہوتا ہے۔ اس وجہ سے علاج مختلف ہو سکتے ہیں لیکن جو صحت ہے وہ ایک ہے۔ اب نظر 6x6 ظاہر ہے سب اس کو standard مانتے ہیں کہ اس طریقے سے نظر ہونی چاہیے۔ لیکن اگر گڑبڑ ہو گئی تو مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں پھر اس کا علاج بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اب دل کا ایک نارمل standard format ہے، اس کے مطابق دل کو کام کرنا چاہیے۔ لیکن اگر نہیں کر رہا تو پھر اس کی وجوہات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں اور اس کے علاج بھی بہت سارے ہو سکتے ہیں۔ اور ظاہر ہے ڈاکٹروں کی فیلڈ ہے وہ اسی کو جانتے ہیں۔ اس لحاظ سے ظاہر ہے ہم اس مسئلے میں انہی کے اوپر depend کرتے ہیں، انہی سے ہم پوچھتے ہیں، انہی کے پاس جاتے ہیں۔
اسی طریقے سے جو جو روحانی بیماریاں ہیں ان کے علاج کے لیے بھی ہم روحانی ڈاکٹروں کے پاس جاتے ہیں پھر یہ انہی کی فیلڈ ہے۔ وہی اس چیز کو جانتے ہیں۔ تو اب یہ ایک روحانی ڈاکٹر ہیں۔ ان سے ہم پوچھتے ہیں۔ یہ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ یہ ایک روحانی ڈاکٹر تھے اور بلکہ یہ طریق کے مجدد بتاتے ہیں مجدد ملت ان کو کہا جاتا تھا۔ تو اب ظاہر ہے انہوں نے جو اپنی تحقیق دی ہے۔ اس سے ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، الحمد للہ۔ تو ہمارے سامنے یہ ہے۔ اس وجہ سے آج ارادہ یہ تھا کہ اس کے بارے میں کچھ روشنی ڈالی جائے کہ یہ چیز ہے کیا؟ طریقت کیا چیز ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ جب تک حقیقت معلوم نہیں ہو گا تو پھر حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ معلوم ہی نہیں کہ وہ چیز کیا ہے تو آپ کیسے ڈھونڈیں گے؟ اور اس کے label میں آپ کو لوگ دھوکہ بھی دے سکتے ہیں کہ جب حقیقت معلوم نہیں ہے تو کوئی بھی آپ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ تو کم از کم حقیقت تو معلوم ہو نا۔ کہ میں لینا کیا چیز چاہتا ہوں؟ میں لینا کیا چیز چاہتا ہوں تو جب لینا طے ہو جائے گا کہ میں لینا یہ چیز چاہتا ہوں تو پھر جگہیں بھی طے ہو جائیں گی کہ کہاں سے وہ چیز اچھی مل سکتی ہے۔ اس کے بارے میں پھر انسان زیادہ بہتر فیصلہ کر سکے گا۔ تو یہاں پر یہ باتیں ضروری ضروری ان شاء اللہ عرض کی جا رہی ہیں۔
حقیقت طریقت:
ارشاد: اس طریق کے متعلق چند ضروری امور مثل اصول موضوعہ کے ہیں اگر تحقیقاً یا تقلیداً ان کا اعتقاد اور ان پر عمل رکھا جائے تو ہمیشہ کی پریشانی اور غلط فہمی و کج روی سے بچ جائے۔
حضرت نے بھی اس کے بارے میں یہی فرمایا: کہ یہ جو طریقت ہے اس کے بارے میں کچھ ایسی باتیں ہیں جو کہ اصول موضوعہ کی طرح ہوتے ہیں اصول موضوعہ وہ ہوتے ہیں: کہ جو کہ انسان وضع کرتا ہے خاص مقاصد کے لیے کہ مجھے یہ مقصد زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو جائے۔ اصول متعارفہ ہم لوگ ان کو کہتے ہیں کہ جو کہ پہلے سے معلوم ہو، اس کے علاوہ کوئی اور بات کہی نہیں جا سکے گی۔ لیکن اصول موضوعہ ایک چیز کو حاصل کرنے کے لیے کچھ اصول وضع کیے جاتے ہیں۔ جو ہم لوگ خود وضع کرتے ہیں۔ لیکن تجربہ کار لوگ جو وضع کرتے ہیں تو اس سے وہ چیزیں مقاصد زیادہ بہتر طریقے سے حاصل ہو جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ جیسے اب چند ڈاکٹر مل کے صحت کو حاصل کرنے کے اصولی موضوعہ بنا لیں کہ آپ کس طریقے سے رہن سہن کریں۔ جیسے ڈائٹنگ کے بارے میں۔ اب کھانا کیسے کھایا جائے، کھانا کیسے کھایا جائے، اس کے اندر کیا کیا ہونی چاہیے۔ اب ڈاکٹر لوگ ہمیں اپنی ریسرچ دے دیں تو ہم لوگ کہیں گے یہ بڑا اچھا ہے، مطلب ظاہر ہے اس سے فائدہ مل رہا ہے۔
اول: ہر مطلوب میں کچھ مبادی ہوتے ہیں،
یعنی کچھ بنیادی چیزیں ہوتی ہیں۔
کچھ مقاصد، کچھ زوائد و توابع،
یعنی مقاصد جس چیز کو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں، جو ہمارا مقصد ہے۔ اور کچھ زوائد، جو اس کے ساتھ ویسے ہی شامل ہو جاتے ہیں، جس کو ہم side effects کہتے ہیں۔ اب جیسے کہ دوائی کھاتے ہیں نا، تو دوائی آپ کھاتے ہیں ایک مقصد کے لیے۔ وہ اس کا main effect ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ side effect بھی ہوتا ہے۔ اب diazepam ہے، اس کا جو main effect ہے وہ ذہن کو سکون دینا ہے، side effect اس کا یہ ہے کہ اس کے ساتھ نیند بھی آ جاتی ہے۔ اب بعض لوگ اس کو side effect کے لیے استعمال کرتے ہیں نا۔ تو ظاہر ہے مریض ہو جاتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے یہ ہے کہ کوئی بھی دوائی ہوتی ہے، اس کا ایک main effect ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ side effects بھی ہوتے ہیں۔ تو جو زوائد ہیں، اس کی مثال side effect کی طرح ہے۔ اور توابع، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اس کے ساتھ ساتھ خود بخود وہ آتی ہیں، توابع ہوتی ہیں اس کی۔ یعنی زوائد اور توابع۔
اصل مقاصد ہوتے ہیں
یعنی اصل ہم نے حاصل کرنا کن چیزوں کو ہے؟ مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔
اور مبادی اس سے مقدم
اور اس کی جو بنیاد ہوتی ہے وہ اس سے پہلے آتی ہے۔
مگر مقصود بالغرض ہوتی ہے
کہ وہ خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی بنیاد تو ہو گی نا۔ تو اگرچہ وہ اس سے مقدم ہے لیکن وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہے۔ بذات خود مقصود نہیں ہے۔ بذات خود مقصود نہیں ہوتی۔ تو اسی طریقے سے اب یہ ہے کہ بذات خود مقصود تو نہیں بعض چیزیں ہوتی ہیں، لیکن وہ اس کا پہلے سے خیال رکھنا ہوتا ہے تاکہ مجھے وہ مقصد حاصل ہو جائے۔
اور زوائد اس سے مؤخر
اور زوائد اس کے بعد آتی ہیں، خود بخود آتی ہیں
مگر غیر مقصود، اسی طرح اس طریقہ میں بھی بعض مبادی ہیں
یعنی بعض بنیادی باتیں ہیں، بعض اس کی یوں سمجھ لیں اس سے شروع ہوتا ہے، اس سے ابتدا ہوتی ہے۔ اس سے start ہوتا ہے۔ اگر آپ اس کو نہ کریں تو پھر آپ کو وہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، ٹھیک ہے نا۔
اور وہ چند علوم و مسائل ہیں جو موقوف علیہ ہیں بصیرت فی المقصود کے اور بعض مقاصد ہیں کہ وہی مقصود بالتحصیل ہیں اور ان ہی پر مدار ہے کامیابی اور ناکامی کا اور بعض زوائد ہیں کہ ان کا نہ وجود معیار کامیابی ہے نہ فقدان معیار ناکامی۔
یہ حضرت نے تین چیزوں کے بارے میں فرمایا۔ اب اس طریقت کے ساتھ متعلقہ کچھ بنیادی مسائل ہیں جن کا جاننا ضروری ہے تو وہ مبادی ہوئے۔ وہ مبادی ہوئے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس کے ابتدا میں جاننا ضروری ہے ورنہ آپ کو مقصد ہی حاصل نہیں ہو گا۔ جب تک اس چیز کا پتہ نہیں ہو گا تو کیسے آپ کو وہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے؟ ٹھیک ہے نا۔ تو وہ کچھ بنیادی علمی باتیں ہیں، علوم و مسائل ہیں، جن کا جاننا ضروری ہے۔ بغیر اس کے وہ چیزیں حاصل نہیں ہو سکتی ہیں۔ اور یہ اس کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ یہ موقوف علیہ ہیں بصیرت فی المقصود کے، یعنی آپ کو مقصود کا پتہ چل جائے۔ مقصود کے بارے میں آپ کو آگاہی ہو جائے۔
اور بعض مقاصد ہیں کہ وہی مقصود بالتحصیل ہیں،
اور بعض اس میں بنیادی مقاصد ہیں جو کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو حاصل ہو جائیں۔ مثلاً صحت کے بارے میں آپ کو کچھ معلومات حاصل ہو جائیں تو یہ مبادی ہیں۔ اور صحت آپ کا مقصود ہے۔ اور صحت کو حاصل کرنے کے ساتھ جو چیزیں مزید آتی ہیں، دوائیوں کے ساتھ وہ سائیڈ ایفیکٹس ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کا یہ ہے کہ ہم لوگ مقاصد کو بھی جان لیں، اور اس کے جو مبادی ہیں ان کو بھی جان لیں۔ پھر اس کے ساتھ جو زوائد خود بخود آتے ہیں وہ بھی ہم جان لیں تاکہ ہر چیز کا ہم حق ادا کر سکیں۔
ثانی: منجملہ مبادی کے امر اوّل مذکورہ بالا ہے۔ غالباً اعظم المبادی و اجمع المبادی ہے اور دوسرے مبادی پر اثنائے سلوک میں وقتاً فوقتاً تنبیہ و اطلاع کی جاتی رہتی ہے اور مقاصد اعمالِ خاصہ ہیں جو افعال اختیاریہ ہیں۔ جن میں ایک حصہ اعمالِ صالحہ متعلق بجوارح ہیں جن کو سب جانتے ہیں۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰة و دیگر طاعات واجبہ و مندوبہ اور دوسرا حصہ اعمال صالحہ متعلق بقلب و نفس ہیں۔ مثل اخلاص و تواضع و حُبّ حق و شکر و صبر و رضا و تفویض و توکل و خوف و رجاء وامثالہا اور ان کے اضداد کا ازالہ اور ان کے اعمال اختیاریہ کو مقامات کہتے ہیں۔ اور یہی نصوص میں مامور بالتحصیل ہیں اور ان کے اضداد مامور بالازالہ و الردع۔ اور ان اعمال کی غایت تعلق بحق (یعنی نسبت، و رضائے حق) ہے کہ روح اعظم سلوک کی یہی ہے اور زوائد احوال خاصہ ہیں مثل ذوق و شوق و قبض و بسط و صحو و سکر و غیبت و وجد و استغراق و اشباہہا۔ اور یہ امور غیر اختیاریہ ہیں، اعمال مذکورہ پر ان کا اکثر ترتب ہوتا ہے اور گاہ نہیں ہوتا یہ احوال نہ مامور بہا ہیں اور نہ ان کے اضداد مامور بالازالہ۔ اگر ترتب ہو جائے محمود ہے اگر نہ ہو تو مقصود میں کچھ خلل نہیں اسی لیے کہا گیا ہے: ﴿اَلْمَقَامَاتُ مُکَاسَبٌ وَ الْاَحْوَالُ مَوَاھِبُ﴾ پس خلاصہ یہ ہوا کہ طریقہ میں تین امر مبحوث عنہ ہیں۔ "علوم" جن سے مقصود میں بصیرت ہوتی ہے۔ اور "اعمال" جو کہ مقصود ہیں اور ان ہی کا اہتمام ضروری ہے۔اور "احوال" جو کہ مقصود نہیں گو محمود ہیں، ان کے درپے ہر گز نہ ہونا چاہیے۔
یہ بات بالکل واضح ہے لیکن زبان ذرا علمی ہے۔ زبان علمی ہے۔ تو آپ حضرات خود پڑھیں گے تو آپ کہیں گے یہ کیا ہم پڑھ رہے ہیں۔ سمجھ میں آئی کوئی جو ابھی میں نے سنائی آپ کو بات؟۔ نہیں آئی۔ حالانکہ حضرت نے اس میں سب کچھ لکھا ہے۔ لیکن یہی ہوتا ہے کہ استاد کی ضرورت پڑتی ہے، ٹھیک ہے نا۔ اب کیا کریں، اگر آپ اس کو نہیں پڑھنا چاہتے تو کسی اور نے اس پہ لکھا نہیں، اور پڑھنا چاہتے ہیں تو سمجھ نہیں آتی، تو اس کا حل کیسا ہو؟ اس کا حل وہی ہے جو اس کو پڑھ سکتا ہے سمجھ سکتا ہے وہ آپ کو سمجھا دے، یہی طریقہ ہو گیا نا۔ ٹھیک ہے، پھر اس کے علاوہ اور کیا طریقہ ہے، اسی طرح اس مثال کی بہت ساری چیزیں ہیں۔ تو جب لوگ کہتے ہیں ہم کتابوں سے سب کچھ کر لیں گے تو پھر دیکھ لیں کتاب تو ہمارے سامنے ہے نا، تو سب کچھ کر لیں۔ سب کچھ کیسے کیا جا سکتا ہے؟
فرمایا کہ، جو مبادی ہیں، وہ تو یوں سمجھ لیجیے کہ لازمی ہیں۔ اس کے بغیر آپ کو مقصد کی آگاہی نہیں ہو سکتی۔ مقصد کا آپ کو پتہ نہیں چل سکتا۔ لہذا وہ علوم اور معارف جو اس سے متعلق ہیں ان کا جاننا ضروری ہے بغیر اس کے آپ اس کو سمجھیں گے نہیں لہذا آپ کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔ تو یہ چیز تو لازم ہے۔ اس وجہ سے اس کے بارے میں تھوڑا بہت بتایا جاتا ہے۔ یہ جو ہم نے جوڑ کیا ہے کس مقصد کے لیے کیا ہے؟ آخر اس جوڑ کا مقصد کیا ہے؟ کام تو آپ اپنی اپنی جگہوں پہ کریں گے نا، لیکن اس جوڑ کا مقصد کیا ہے؟ اس جوڑ کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کو جان لیں جن کا جاننا اس میں ضروری ہے۔ یہی ہے نا۔ اور پھر آپ وہ کام کر لیں جس سے اس کا ماننا آسان ہو جائے۔ ٹھیک ہے نا، یہی آپ کر رہے ہیں تو جوڑ ہمارا اسی مقصد کے لیے ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ جو اعظم المبادی ہیں وہ یہی جو سلوک کے جو علوم ہیں اور معارف ہیں ان کو ہم نے حاصل کرنا ہے تاکہ ہم لوگ کم از کم اپنے جو مقصودہ چیزیں ہیں اس کے بارے میں معلوم کر لیں۔
پھر ہمارا مقصود کیا ہے؟ وہ کچھ اعمال ہیں جو اختیاری اعمال ہیں، جو ہمارے اختیار میں ہیں۔ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ جو چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہو، اس کا اللہ پاک نے ہمیں حکم ہی نہیں دیا۔ اللہ پاک نے کسی کو بھی مکلف نہیں کیا ان اعمال کا جن کو پورا نہیں کر سکتا۔ مثلا میں آسمان پہ نہیں چڑھ سکتا تو کہیں پر بھی حکم نہیں ہے کہ تم آسمان پہ چڑھ جاؤ۔ ہوا میں نہیں اڑ سکتا، تو کسی نے بھی نہیں کہا کہ آپ ہوا پہ اڑیں۔ ٹھیک ہے نا، کرامت میرے قبضے میں نہیں ہے، لہذا کسی بھی کتاب میں نہیں ہے کہ آپ ضرور صاحب کرامت ہو جائیں۔ کہیں پر ہے؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چیزیں مقصود ہیں وہ تو اختیاری ہیں۔ جو چیزیں اختیاری نہیں ہیں اس کا مطالبہ نہیں۔ جو چیزیں مقصود ہیں وہ تو اختیاری ہیں۔ اور جو چیزیں، جو چیزیں غیر اختیاری ہیں اس کا مطالبہ نہیں۔
اب شیطان کیا کرتا ہے؟ شیطان یہ کرتا ہے کہ جو چیزیں آپ کے اختیار میں ہیں اس میں آپ کو سست کر دیتے ہیں۔ جو آپ کے اختیار میں ہیں آپ حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن وہ وہ آپ سے چھپا دیتا ہے۔ اور اس کا وزن آپ کی نگاہوں میں کم کر دیتا ہے۔ بھئی یہ نماز تو پر ایک پڑھتا ہے روزہ رکھنا، حج کرنا، یہ تو ہر ایک کرتا ہے بھئی کام تو ایسا ہو جس کو ذرا تھوڑا سا پتہ تو چلے نا کہ کچھ کام کیا ہے۔ اب وہ آپ کے اختیار ہی میں نہ ہو تو پھر کیا کریں آپ۔ اللہ پاک کا تو مطالبہ نہیں ہے۔ تو کسی اور کا مطالبہ کیوں ہے پھر؟ جب اللہ کا مطالبہ نہیں تو آپ سے دوسرا کون مطالبہ کر سکتا ہے؟ ٹھیک ہے نا۔
تو اب یہی والی بات ہے کہ ہم لوگوں کو، ہم لوگوں کو اس بات کا علم چونکہ نہیں ہوتا نتیجتا گمراہی میں پڑ جاتے ہیں اور ہم ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جن کا مطالبہ نہیں اور ان چیزوں کو چھوڑ رہے ہوتے ہیں جن کا مطالبہ ہے۔ ٹھیک ہے نا، مجھے آپ بتا دیں کہ تکبر کو دور کرنے کا مطالبہ ہے یا نہیں ہے؟ مطالبہ ہے نا؟ تو یہ جب مطالبہ ہے تو اس کا ہے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی تکبر کو نکالا جا سکتا ہے کیوں مطالبہ ہے؟ جب مطالبہ ہے تو ظاہر ہے دور بھی کیا جا سکتا ہے۔
جب لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا آپ کو سمجھ آ گیا کہ اللہ پاک نے کسی ایسی چیز کا ہمیں وہ نہیں بنایا مکلف جو ہم نہیں کر سکتے ہوں، تو اس سے پتہ چل گیا کہ جن کا مطالبہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی ایسی چیز نہیں ہو گی پھر وہ جس کو کیا نہ جا سکتا ہو۔ تو تکبر کو دور کرنا ممکن، حسد کو دور کرنا ممکن، ریا کو دور کرنا ممکن، خشوع کو حاصل کرنا ممکن، اخلاص کو حاصل کرنا ممکن، تواضع کو حاصل کرنا ممکن، یہ ساری چیزیں ممکن ہیں تبھی تو اس کا مطالبہ ہے۔ اور مطالبے بھی بڑے شدید ہیں۔ مطالبہ بھی کوئی معمولی مطالبہ نہیں ہے کہ چلو ہو گیا تو ہو گیا نہیں ہوا تو نہیں ہوا۔ آپ آجائیں، چلو کوئی بات نہیں۔ آپ آجائیں، آپ کو مل جائے گا۔ نہیں! ایسی بات نہیں، مطالبہ بڑا شدید ہے۔
مثلا تکبر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی اس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتا جب تک اس کے دل میں رائی بھر تکبر بھی ہو۔ اب اندازہ کریں۔ حسد کے بارے میں فرمایا کہ یہ حسد ایسے نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے کہ لکڑی کو آگ کھاتی ہے۔ اب دیکھیں مطالبہ بڑا شدید ہے۔ ریا کے بارے میں تین بڑے بڑے لوگوں کو جہنم رسید کیا جائے گا، اللہ پاک معاف فرمائے۔ عالم کو، سخی کو اور شہید کو۔ اب اندازہ کریں۔ ان سے بڑا مقام کوئی لا سکتا ہے عالم سے بڑا مقام یا سخی سے بڑا مقام یا شہید سے بڑا مقام کوئی لا سکتا ہے؟ اگر ان کو جہنم رسید کیا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ ان کے اندر اخلاص نہیں تھا تو ہم لوگ کس شمار و قطار میں ہیں؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ جل شانہ نے اس کا ہمیں مکلف بھی کر دیا، مطالبہ بھی ہے اور مطالبہ بڑا شدید بھی ہے۔ تو اس سے پتا چلا کہ اس کا حل بھی ہوگا اور اس کو حاصل بھی کیا جا سکتا ہوگا۔ تبھی تو اللہ پاک نے اس کا ہمیں مکلف بنایا ہے۔
تو اس کا پتا چل گیا کہ افعال جو ہیں، اختیاریہ، افعال اختیاریہ جو ہیں کیا ہیں، وہ ہمارے مقاصد ہیں۔ کبھی بھی ہمارے مقاصد افعال غیر اختیاریہ نہیں ہوں گے۔ کبھی بھی افعال غیر اختیاریہ، مثلاً کسی کو اچھا خواب آ جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو کشف ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو اچھل کود ہونے لگے، یہ مطلوب نہیں ہے۔ کسی کو دیکھتے ہی سب کچھ اس کو معلوم ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے، جس کو ہم لوگ عرف عام میں روشن ضمیر کہتے ہیں۔ ٹھیک ہے نا، کم از کم اپنا راستہ تو دیکھ لے نا۔ اتنا تو معلوم ہے، اتنا تو ہے، لیکن یہ بات ہے کہ اس کے دل میں کیا ہے، یہ مجھے معلوم ہو جائے، یہ مطلوب نہیں ہے۔
تو جب اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن کے ہم مکلف ہیں اور وہ مطلوب ہیں اور وہ ممکن الحصول ہیں، ان کو حاصل بھی کیا جاتا ہے، تو پھر اس طریقے کو ڈھونڈنا نہیں چاہیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس کے ذریعے اس کو حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ طریقہ اہم نہیں ہوگا؟ جتنا اس سے روکا جاتا ہے سختی کے ساتھ، اتنا ہی اس طریقے پہ آنا زیادہ سختی کے ساتھ ضروری ہوگا۔ ٹھیک ہے نا؟ اب Heartکی ایسی کنڈیشن ہو جائے کہ بس وہ تھوڑی دیر میں گیا چاہتا ہو۔ اس وقت ICU میں پہنچانا کتنا ضروری ہوگا؟ مطلب جتنا زیادہ مسئلہ ہو، اتنا زیادہ اس کے اوپر ایکشن کرنا زیادہ ضروری ہوگا نا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ تو جب یہ والی بات ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ جن چیزوں کا اتنی شدید طریقے سے مطالبہ ہے، تو اتنے شدید طریقے سے اس طریقے کا حصول کا مطالبہ بھی ہو گیا۔ تو بذات خود تو مقصود نہیں ہوا وہ چیز۔ وہ طریقہ تو بذات خود مقصود نہیں ہے۔ لیکن مقصود للغرض ہے یا نہیں ہے؟ اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے مقصود ہے یا نہیں ہے؟ اب چونکہ وہ چیز آپ اس کے بغیر حاصل کر نہیں سکتے، اور اس کا حاصل کرنا ضروری ہے، لہذا اس طریقے کو حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟
ابھی صرف دو باتیں طے ہوئی ہیں۔ دو باتیں طے ہوئی ہیں اور دو بڑی اہم باتیں طے ہوئی ہیں۔ اب تیسری بات بھی ان شاء اللہ طے کرتے ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ احوال۔ یہ ابھی ہم نے افعال کی بات کی ہے، اب احوال کی بات کرتے ہیں۔ احوال کیا چیز ہے؟ یہ احوال غیر اختیاری ہوتے ہیں۔ مثلاً وجد، اور مثال کے طور پر وہ جو دوسری اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں، شوق و قبض و، بسط و، سکر، صحو، یہ سب اصطلاحات ہیں جن کا بعد میں ان شاء اللہ تفصیل سے بات ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ کیفیات ہیں۔ مثلاً کسی کو قبض ہو جائے، اور ایسا قبض ہو جائے کسی چیز کو بھی جی نہیں چاہتا۔ نہ نماز پڑھنے کو جی چاہتا ہے، نہ روزہ رکھنے کو جی چاہتا ہے، نہ تلاوت کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ٹھیک ہے، ایک حال ہے، ایک حال ہے۔ اب آ گیا تو اب ظاہر ہے اس کے ساتھ تو آپ نے، مثال کے طور پر آپ کا کھانے کو جی نہیں چاہتا، لیکن آپ کے جسم کو ضرورت ہے۔ تو آپ یہ تو کر سکتے ہیں کہ اس کے لیے علاج کر لیں کہ آپ کا وہ اشتہا کھل جائے۔ لیکن بہرحال یہ تو نہیں ہے کہ بس ٹھیک ہے جی نہیں چاہتا تو نہ کھاؤ۔ یہ تو نہیں ہو سکتا نا؟ آپ اس کے لیے کوشش تو کریں گے نا۔
تو اسی طریقے سے قبض میں یہ والی بات ہے کہ آپ قبض کو دور کرنے کی کوشش ضرور کریں، لیکن اعمال میں کمی نہیں کر سکتے۔ اعمال کرنے پڑیں گے چاہے جی چاہے یا نہ چاہے۔ میرا جی نہ چاہا، بعض لوگ اس طرح ہوتے ہیں جی بس ٹھیک ہے جی ابھی ایک نماز چل رہی ہے، جب دوسرے کے لیے ہو جائے گا تو پھر دوسری نماز بھی پڑھیں گے۔ بلکہ بعض لوگ تو کہتے ہیں بلاوا آئے گا تو ہم پڑھیں گے۔ پتا چل جائے گا، بلاوا تو ایک آنا ہے نا۔ وہ بلاوا تو final ہے نا۔ اس وقت وہ بلاوا پہلے آ گیا تو پھر کیا کرو گے؟ ؟ یہ کوئی optional چیزیں تھوڑی ہیں کہ ہو گیا تو ہو گیا، نہیں ہوا تو نہیں ہوا۔ ایسی باتیں نہیں ہیں، نانی یاد آ جائے گی۔ پتا چل جائے گا۔ یہ ساری چیزیں final ہیں۔ اس کے اندر درمیان میں گڑبڑ نہیں ہو سکتی۔ اللہ پاک نے جو فرمایا نا کہ ہم نے تمھارا دین مکمل کردیا، الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا، وہ چیزیں final ہو گئی ہیں۔ اب اس کے بعد تم درمیان میں کہاں سے آ ٹپکے ہو چلو ٹھیک ہے کوئی بات نہیں، میں تو فی الحال ایک نماز پڑھ رہا ہوں، اب ٹھیک ہے جی جب میرا تجربہ ہو جائے گا میں دوسری نماز بھی پڑھنا شروع کر دوں گا۔ یہ والی بات نہیں ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو یہ میں عرض کر رہا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جیسے قبض ہے۔ اس کے مقابلے میں بسط۔ بس جی انسان کا جی چاہتا ہے کہ میں نماز ہی پڑھتا رہوں، میں ذکر ہی کرتا رہوں، میں اچھے لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا رہوں۔ اس وقت انسان اپنے آپ کو بزرگ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تو بڑا بزرگ بن گیا دیکھیں نا میرے اتنے اچھے احوال ہو گئے۔ تو نہ قبض اختیار میں ہے، نہ بسط اختیار میں ہے۔ اور میرے لیے تو یہ اتنا زیادہ واضح ہے الحمد للہ، اتنا زیادہ واضح ہے کہ میں تو الحمد للہ اس پہ ذرہ بھر شک نہیں کر سکتا۔ جب سب لوگ رو رہے ہوتے ہیں، مجھے رونا نہیں آتا۔ اور جب کوئی بھی نہیں رو رہا ہوتا، اس وقت آتا ہے۔ اب مجھے پتا ہے کہ بھئی نہ میرا رونا قبضے میں ہے، نہ نہ رونا قبضے میں ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پتا چل گیا نا غیر اختیاری ہے، پتا چل گیا کہ غیر اختیاری ہے، بس غیر اختیاری تو مطالبہ بھی نہیں۔ جب غیر اختیاری ہے تو مطالبہ بھی نہیں۔
مطالبہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ مانگنا۔ اب چاہے وہ رونے کے ساتھ ہو، چاہے بغیر رونے۔ رونے کی شکل بنانا تو آپ کے اختیار میں ہے، وہ بنا لو۔ فليتباكوا، اس کی رونے کی شکل بنا لو، وہ تو آپ کے اختیار میں ہے۔ رونا آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، وہ آپ کے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے۔ آنسو آپ زبردستی نکال سکتے ہیں؟ کوئی زبردستی انسان آنسو نکال سکتا ہے؟ بھئی وہ یہ تو ایک غیر اختیاری چیز ہے جس کو اللہ پاک نے چالو کر دیا تو ہو گیا، نہیں تو نہیں ہوا۔ اس وجہ سے یہ قبض، اور بسط، اور شوق، اور انس، اور یہ تمام چیزیں جو ہیں، کیا ہیں؟ یہ احوال ہیں۔
احوال جو ہوتے ہیں، یہ کیا ہوتے ہیں؟ مواہب۔ الاحوال مواهب والمقامات مكاسب۔ احوال جو ہیں، کیا ہیں؟ یہ مواہب ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہبی طور پہ دے دیتے ہیں۔ اور جو مقامات ہیں، جیسے صبر ہے، شکر ہے، توکل ہے، رضا ہے، یہ مقامات ہیں۔ ان کا باقاعدہ حکم ہے، ان کو حاصل کرنا پڑے گا۔ صبر کا حکم ہے، چاہے آپ کا جی چاہے نہ چاہے۔ صبر کا حکم ہے۔ شکر کا بھی حکم ہے۔ توکل کا بھی حکم ہے۔ رضا کا بھی حکم ہے۔ اخلاص کا بھی حکم ہے، ان چیزوں کو حاصل کرنا پڑے گا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ مقامات جو ہیں وہ مقاصد ہیں۔
پس خلاصہ اس کا یہ ہوا کہ تین چیزیں آ گئیں، ساری کی ساری تین چیزیں ہو گئیں۔ کچھ علوم ہیں، وہ مبادی ہیں۔ basics جس کو ہم کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ basics۔ یہ مبادی ہیں، علوم۔ اور دوسری طرف کچھ افعالِ اختیاریہ ہیں، جو objectives ہیں، مقاصد ہیں۔ ان کو حاصل کرنا۔ اور تیسری چیز وہ ایسی چیز، جو ساتھ associated ہے۔ جو ساتھ ہی آ جاتی ہیں۔ جس کے اوپر ہمارا اختیار نہیں، آنے پر بھی اختیار نہیں، اور بھگانے پر بھی اختیار نہیں ہے۔ دونوں چیزوں پہ اختیار نہیں ہے۔ لہٰذا، ہمارا کام یہ ہے کہ جو اختیاری چیزیں ہیں، اس میں کام کریں، ان کو حاصل کر لیں۔ اس کے لیے جو basics ہیں، ان کو بھی حاصل کر لیں، کیونکہ ان basics کے بغیر پتہ ہی نہیں چلے کہ حاصل کیا کرنا ہے۔ تو پھر اس کے procedure کو تلاش کرنا پڑے گا۔ procedure جو لوگ بتائیں گے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس جانا پڑے گا۔ اور ان کے ساتھ، اس مقصد کے لیے تعلق بنانا پڑے گا۔ پھر اس کے بعد انشاءاللہ گاڑی چل پڑے گی۔