اصلاحِ نفس، آدابِ شیخ و مرید اور اعتدالِ قویٰ

انفاس عیسی: (وصول کے معنی-طریق کار)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

حقیقتِ وصول اور طلب کا اختیاری ہونا

تصوف کا خلاصہ: علم مع العمل

سالک کے دو سفر اور احوال کا ارتقاء

تحصیلِ عدالت اور قویٰ کا اعتدال

طاعات و معاصی میں اختیار اور مجاہدۂ نفس کی حقیقت

آدابِ شیخ و مرید اور انتخابِ شیخ کے اصول

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج ہماری خانقاہ میں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے۔

وصول کے معنی:

ارشاد: وصول کا حاصل صرف یہ ہے کہ حق تعالیٰ اس شخص پر شفقت اور عنایت فرماتے ہیں یہ معنی نہیں کہ وہ نعوذ باللہ حق تعالیٰ کی گود میں جا بیٹھتا ہے یا قطرے کی طرح دریا میں مل جاتا ہے۔

مبالغہ آرائی یہ ہر جگہ پائی جاتی ہے، اور جس طرح accelerator کی ضرورت ہوتی ہے گاڑی میں، اس طرح brake کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ Accelerator رفتار کے بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور brake جو ہے یہ رفتار کے کم کرنے کے لیے یا روکنے کے لیے۔ تو جو صوفیاء ہوتے ہیں، ان کی مثال accelerator کی طرح ہے کہ وہ اعمال کی طرف لوگوں کو لاتے ہیں۔ اور علماء کا کام brake کی طرح ہوتا ہے کہ وہ حدود کی پابندی کرواتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مبالغہ آرائی یا غلو کی وجہ سے انسان کسی مطلب اس کا شکار ہو جائے۔

تو یہ یہاں پر بھی بعض لوگوں نے مبالغہ آرائی یا غلو سے کام لے کر وصول کے مختلف معنی لوگوں کو بتائے ہیں۔ مثلاً جیسے قطرہ دریا میں مل جاتا ہے، اس طرح وصول کے معنی لیتے ہیں۔ یا -نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِكَ- اللہ پاک سے مل جاتا ہے۔ تو یہ نہیں ہے بلکہ حضرت فرماتے ہیں کہ وصول کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ جل شانہ اس شخص پر شفقت اور عنایت فرماتے ہیں۔

اللہ تعالی ہم پر بھی فرمائے اور ہمیں بھی نصیب ہو جائے۔ یہی سب سے بڑی بات ہے، اللہ تعالی کی شفقت اور عنایت۔ کیونکہ اس کی نظرِ کرم پر ہی سارا کچھ ہے۔ پس اگر نظرِ کرم اللہ پاک کی ہو تو سارے ہمارے مرحلے آسان ہو جائیں گے۔

طلب مطلوب ہے نہ کہ وصول:

ارشاد: طلب مطلوب ہے، وصول مطلوب نہیں کیونکہ طلب تو اختیاری ہے اور وصول غیر اختیاری۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا: لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ اللہ پاک کسی ایسی چیز کا کسی کو مکلف نہیں بناتے، ذمہ دار نہیں بناتے جس کو وہ کر نہ سکتا ہو۔

تو چونکہ وصول، یعنی اللہ تعالی کا شفقت فرمانا اور عنایت فرمانا، یہ تو اللہ کا کام ہے ہمارا تو نہیں ہے۔ اور اللہ کا کام ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ غیر اختیاری ہے۔ لیکن وصول کی طلب، یہ مطلوب ہے۔

اس وجہ سے ہمارا کام ہے، وصول طلب کر لیں، اس کے لیے کوشش اور محنت کر لیں، اس کے لیے بھاگ دوڑ کر لیں، اس کے لیے اسباب اختیار کر لیں۔ باقی ہو نہ ہو یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو نصیب فرمائے۔

تصوف کا خلاصہ صرف علم مع العمل ہے:

ارشاد: تصوف کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہی نماز روزہ تصوف ہے اور یہی اعمال مقصود ہیں مجاہدہ کی ضرورت صرف نماز روزہ کو نماز روزہ بنانے کے لیے ہے، تصوف کا خلاصہ صرف علم مع العمل ہے۔

دیکھیں، اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ علم تو سب کو ہے۔ مثلاً ہر ایک کو پتہ ہے کہ نماز پڑھنی چاہیے مسلمان کو۔ ہر ایک کو پتہ ہے کہ قتل نہیں کرنا چاہیے، زنا نہیں کرنا چاہیے، چوری نہیں کرنی چاہیے، غیبت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ سب چیزیں لوگوں کو معلوم ہیں۔

مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس چونکہ دو چیزیں ہیں، ایک نفس ہے اور ایک شیطان۔ نفس کی خواہشات ہیں اور شیطان ان کو استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا شیطان ہم سے گناہ ہمارے نفس کی خواہشات کے مطابق کراتا ہے۔ پس ان دو چیزوں پر اگر قابو پایا جائے تو ہمارا ہمارا سارا نظام درست ہو جائے گا، ہماری عبادات بھی درست ہو جائیں گی، ہمارے معاملات بھی درست ہو جائیں گے، ہماری معاشرت بھی درست ہو جائے گی، ہمارے اخلاق بھی درست ہو جائیں گے۔ یہی دین ہے۔

لیکن اگر یہ دو چیزیں ہمارے قابو میں نہیں ہیں، یعنی نفس کی اصلاح نہیں ہوئی، اور شیطان، ظاہر ہے مطلب جب نفس کی اصلاح نہیں ہوئی تو شیطان اس کو استعمال کرے گا۔ تو ایسی صورت میں ظاہر ہے مطلب اعمال صحیح نہیں ہو سکیں گے۔ تو اس وجہ سے صحیح اعمال کرنے کے لیے ان دو چیزوں پر قابو پانا ضروری ہے۔

تو تصوف جو ہے، ان دو چیزوں کے قابو کرنے کا نام ہے۔ پس جب یہ دو چیزیں قابو ہو جائیں گی تو ہماری ساری چیزیں درست ہو جائیں گی، یہ نماز روزہ، یعنی جس کو ہم شریعت کہتے ہیں، اس پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس لیے اکثر میں عرض کرتا ہوں کہ تصوف کا مطلب شریعت پر دل سے چلنا ہے۔ شریعت پر دل سے چلنا ہے، تو یہی مطلب حضرت کا بھی ہے۔

سالک کے دو سفر ہیں ایک الی الاحوال دوسرا من الاحوال:

ارشاد: سالک کا ایک سفر تو الی الاحوال ہے کہ اس پر احوال طاری ہوتے ہیں اور دوسرا من الاحوال ہے جس میں وہ سب احوال سلب ہو جاتے ہیں پھر اس کے بعد دوسری نوع کے احوال عطا ہوتے ہیں اس کی ایسی مثال ہے جیسے باغ میں درختوں پر دو قسم کے پھول ہوتے ہیں ایک جھوٹا پھول ہوتا ہے وہ چند روز کے بعد جھڑ جاتا ہے پھر سچا پھول آتا ہے وہ باقی رہتا ہے اب اس پر پھل لگنے شروع ہوتے ہیں یا جیسے صبح صادق ہوتی ہے ایک کاذب جس کا نور جلدی زائل ہوجاتا ہے دوسری صادق جس کا نور بڑھتا ہے اسی طرح سالک پر دو حالتیں گزرتی ہیں ایک میں احوال ناقصہ عطا ہوتے ہیں اور دوسری میں ناقصہ سلب ہو کر احوال کاملہ عطا ہوتے ہیں۔ اب یہ شخص پختہ ہو گیا اب اس کو حق ہے کہ لذائذ بھی کھائے اور عمدہ لباس بھی پہنے کیونکہ یہ ہر شئے میں تجلی حق کا مشاہدہ کرتا اور اس کا حق بھی ادا کرتا ہے۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک بڑھیا اپنے بیٹے کو لے آئی کہ ان کی آپ تربیت کریں۔ حضرت نے ان کو خانقاہ میں داخل کیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد وہ اپنے بچے کے ساتھ ملنے کے لیے آئی تو دیکھا کہ وہ بچہ خشک روٹی کھا رہا ہے اور حضرت کے سامنے مرغ مسلم پڑا ہوا ہے۔ تو اس بڑھیا نے کہا کہ حضرت! میں نے آپ کو اپنے بچے کی تربیت کے لیے کہا ہے۔ تو آپ تو خود مرغ کھا رہے ہیں اور ان کو اس طرح خشک روٹی پہ لگایا ہوا ہے۔ حضرت نے فرمایا اسی مرغِ مسلم کے کھانے کے قابل بنا رہا ہوں۔

کیونکہ دیکھیں نا، یہ ہماری جو جتنی دنیا کی جتنی لذتیں ہیں۔ تو اس میں نفس کی خواہش بھی پوری ہوتی ہے اور وہ عیب ہے، نقصان ہے۔ مطلب ظاہر ہے اگر ہم نفس کے بندے بن جائیں، نفس کی اتباع کرنے لگیں، اللہ تعالی کے حکموں کو پورا نہ کریں تو نقصان ہے۔ لیکن اس کے لیے پھر ہم خدا کے حکم چھوڑیں گے، وہ نقصان کی بات ہے۔

اور انہی لذائذ سے جنت کے لذائذ کا بھی پتہ چلتا ہے جس سے جنت کی طرف توجہ ہو جاتی ہے، جس سے اللہ پاک کی نعمتوں کی طرف توجہ اور اللہ تعالی کا شکر نصیب ہو جاتا ہے، تو اس سے ماشاءاللہ اللہ پاک راضی ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، ترقی ہوتی ہے۔

اب یہ جو چیز ہے، جو delicate چیز ہے، یہ کیسے یعنی مطلب وہ پہلے والا نہ ہو اور دوسرا ہو، اس کے لیے تربیت کی ضرورت ہے۔ جب تربیت ہو جاتی ہے تو انسان کو پھر وہ دوسری چیز عطا ہونی ہو جاتی ہے، اس کے بعد پھر وہ جو بھی اچھی چیز کھاتا ہے تو اس سے وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ جیسے سلیمان علیہ السلام بھی بادشاہ تھے اور آج کل کے بھی حکمران ہیں۔ تو سلیمان علیہ السلام اپنی بادشاہت میں شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اور ہمارے بادشاہ جو ہیں نا، وہ ظلم کرتے رہتے ہیں۔

تو یہ والی بات ہوتی ہے کہ اگر تلوار بچے کے ہاتھ میں دی جائے تو وہ اپنے آپ کو زخمی کر لے گا۔ یا کسی بے گناہ کو۔ اور اگر بڑے اور اچھے نیک آدمی کے ہاتھ میں دے دی جائے تو اس سے وہ کام لے گا۔ اللہ کے دشمنوں کو ختم کرے گا۔

اسی طریقے سے یہ جو انسان ہے، اس کے اندر یہ چیزیں آ جائیں۔ تو پہلے احوالِ ناقصہ ہوتے ہیں، جس میں انسان مطلب سمجھتا ہے کہ جیسے بس میں تو بزرگ بن گیا۔ آدمی سمجھتا ہے کہ بس یہ ساری چیزیں ٹھیک ٹھاک ہیں۔ فرشتہ بن جاتا ہے، اپنے ذہن میں۔ پھر بعد میں وہ چیز سلب ہو جاتی ہے، پھر آدمی اپنے آپ کو مردود سمجھتا ہے۔ حالانکہ اس وقت اس کو اللہ تعالی ایک ذوق عطا فرما دیتے ہیں کہ پھر حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ برائی سے بچتے ہیں، نیکی کرتے ہیں۔ اور اس طریقے سے، برائی سے بچنے پر بھی اجر پاتا ہے، نیکی کرنے پر بھی اجر پاتا ہے۔ تو یہ کمال ہے۔

انسان کا کمال تحصیل عدالت ہے:

ارشاد: حکماء کا اس پر اتفاق ہے کہ انسان کا کمال یہ ہے کہ قوت عقلیہ اور قوت شہویہ و قوت غضبیہ میں اعتدال کا درجہ حاصل کرے اگر اس میں افراط کا درجہ ہو یا تفریط کا تو یہ کمال نہیں بلکہ نقص ہے، قوت عقلیہ میں تفریط کا درجہ حماقت ہے اور افراط کا درجہ جزیرہ (بہت تیزی) اور درجۂ اعتدال کا نام حکمت ہے قوت شہویہ سے مراد وہ قوت ہے جو منافع کو حاصل کرنا چاہتی ہے اور قوت غضبیہ سے وہ قوت مراد ہے جو مضرتوں کو دفع کرنا چاہتی ہے، اسی طرح قوۃ غضبیہ میں درجہ افراط کا نام تہور ہے، تفریط کا نام جبن ہے، اعتدال کا نام شجاعت اور قوۃ شہویہ درجہ افراط کا نام فجور ہے اور تفریط کا نام محمود ہے اور درجہ اعتدال کا نام عفت ہے اور حکمت و شجاعت اور عفت تینوں کے مجموعہ کا نام عدالت ہے۔

ہر انسان کے اندر یہ تین چیزیں پائی جاتی ہیں: قوتِ عقلیہ، قوتِ شہویہ اور قوتِ غضبیہ۔ عقل بہت بڑی نعمت ہے اگر اس کو صحیح چیز کے لیے استعمال کر لے۔ عقل پر کوئی قابو نہ ہو تو یہ جربزہ ہے، یہ غلط ہے، افراط۔ اور اتنی عقل بھی نہ ہو کہ انسان اپنے فائدے نقصان کو جان سکے، یہ حماقت ہے۔ لیکن اس کا جو اعتدال کا درجہ ہے، وہ حکمت ہے۔

اس طریقے سے جو شہوانی چیزیں ہوتی ہیں، اس میں اگر تفریط ہو تو انسان اس کا صحیح استعمال بھی نہ کر سکے۔ اور اگر افراط ہو تو وہ انسان سے گناہ کرواتی ہیں۔ اور ان کے درمیان جو عدالت ہے وہ عفت ہے۔

اس طریقے سے قوتِ غضبیہ ہے۔ اس میں اگر افراط کا درجہ ہو تو تہور ہے، یعنی ظلم انسان سے ہوتا ہے، اور تفریط کا نام جبن ہے، یعنی انسان جہاں پر طاقت دکھانی چاہیے، وہاں بھی نہیں دکھاتا۔ تو اس کا جو درمیان کا درجہ ہے وہ شجاعت ہے۔ پس انسان ان تینوں کا اعتدال حاصل کر لے تو یہ کمال کا درجہ ہے۔ پھر یہ ہر چیز کو اپنے اپنے درجے پر استعمال کر سکتا ہے۔

انسان کا کام طلب و فکر و سعی ہے:

ارشاد: کمال کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ انسان اس کا مکلّف ہے۔ انسان کا کام طلب و فکر اور سعی ہے اگر طلب کے ساتھ ساری عمر بھی ناقص رہے تو وہ ان شاء اللہ کاملین ہی کے برابر ہو گا۔ بلکہ ممکن ہے بعض باتوں میں ان سے بڑھ جائے یعنی مشقت کے ثواب میں کیونکہ کاملین کو نفس کی مخالفت گراں نہیں ہوتی اور دلیل اس کی یہ حدیث ہے۔

مقصد یہ ہے کہ کمال حاصل کرنا تو انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔ البتہ اس کے لیے کوشش کرنا انسان کے بس میں ہے۔ پس انسان طلب کرتا رہے۔ یعنی موقع جانے نہ دے، ہاتھ سے۔

فکر کرتا رہے، یعنی سوچتا رہے کہ کون سی چیز ٹھیک، کون سی چیز غلط ہے۔ اور سعی کرتا رہے، یعنی محنت کرے، سستی نہ کرے۔ مطلب یہ ہے کہ غفلت سے بچے۔ اور سوچتا رہے کہ صحیح چیز کیا ہے۔ اور یہ ہے کہ کوشش محنت کرتا رہے۔

پھر اس کے بعد اگر کمال حاصل ہو گیا تب بھی ٹھیک، نہیں حاصل ہوا تو جتنا حاصل ہے، اس کے ساتھ کام کرتا رہے۔ تو ان شاء اللہ ان کو کاملین کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

اس طریق میں فکر و دھن بڑی چیز ہے:

ارشاد: اس طریق میں فکر و دُھن بڑی چیز ہے اسی سے سب کام بن جاتے ہیں، چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے خواب میں دیکھا پوچھا کیا حال گزرا؟ فرمایا کہ مغفرت ہوگئی درجات ملے مگر ہمارا پڑوسی تھا جو ہم سے کم عمل کرتا تھا۔ وہ ہم سے بڑھا ہوا رہا کیونکہ صاحب عیال تھا، بال بچوں کی پرورش میں اس کو زیادہ عمل کا موقع نہ ملتا تھا مگر وہ ہمیشہ اس دُھن میں رہتا تھا کہ اگر مجھے فراغت نصیب ہو تو یادِ خدا میں مشغول ہو جاؤں وہ اپنی مشقت اور نیت کی وجہ سے ہم سے بڑھ گیا۔

یعنی انسان کو کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اللہ تعالی نیتوں کو جانتا ہے، اللہ تعالی ہماری قوتوں کو بھی جانتا ہے، اللہ تعالی ہمارے حالات کو بھی جانتا ہے۔ تو اگر ہمارے حالات میں وہ چیزیں ممکن نہ ہوئیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تو ان شاء اللہ اللہ پاک بغیر اس کے بھی ہمیں اس کا اجر عطا فرما دیں گے۔ لیکن سستی نہیں کرنی چاہیے۔ سستی کی گنجائش نہیں ہے۔ سستی نہیں کرنی چاہیے لیکن یہ ہے کہ اتنا وہ غم بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی سب کو دیکھ رہا ہے۔ جس کے جو حالات ہیں اس کو اس کا پتہ ہے۔

﴿الیمُّ فی السَّم﴾:

طاعات میں ترقی اور معاصی سے اجتناب میسر ہونے کا طریق:

ارشاد: طاعت اور معصیت دونوں اختیاری ہیں جن میں وظیفہ کو کچھ دخل نہیں۔ رہا طریقہ، سو طریقہ امور اختیاریہ کا بجز استعمال اختیار کے اور کچھ نہیں۔ ہاں سہولت اختیار کے لیے ضرورت ہے مجاہدہ کی جس کی حقیقت ہے مخالفت یعنی مقاومتِ نفس، اس کو ہمیشہ عمل میں لانے سے بتدریج سہولت حاصل ہو جاتی ہے اس میں تمام فن آگیا۔ آگے شیخ کے دو کام رہ جاتے ہیں ایک بعض امراض نفسانیہ کی تشخیص۔ دوسرے بعض طرق مجاہدہ کی تجویز جو ان امراض کا علاج ہے۔

یعنی جن کے کرنے کا حکم ہے اور جن سے بچنے کا حکم ہے، یہ دونوں اختیاری ہیں۔ پس اگر انسان اختیار استعمال کر لے تو ان طاعتوں کو کر بھی سکتا ہے اور معصیتوں سے بچ بھی سکتا ہے۔ البتہ نفس کی کشا کشی کی وجہ سے مسلسل لگا رہنا پڑے گا۔ تو اس سلسلے میں شیخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ان امراضِ نفسانیہ کی تشخیص کر لے جس کے جانے سے یہ سارے کام آسان ہو جائیں گے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ طریقِ مجاہدہ کی تجویز کرے جو ان امراض کا علاج ہے۔ پس شیخ کے ساتھ انسان تعلق رکھے اور ہمت سے کام لے، اختیار کے کاموں میں اختیار کو استعمال کر لے، تو ان شاءاللہ فائدہ ہی فائدہ ہے۔

﴿الطمّ فی السَّمّ﴾:

ارشاد: غیر اختیاری کے درپے نہ ہونا، اختیاری میں ہمت کرنا اس میں جو کوتاہی ہو جائے اس پر استغفار اور توفیق کی دعا کرنا یہی اصلاح ہے۔

مطلب یہ ہے کہ غیر اختیاری کے انسان درپے نہ ہو اور اختیاری میں سستی نہ کرے۔ تو ان شاءاللہ کام ہو جائے گا اور اگر پھر بھی کوتاہی ہو جائے تو اس پر استغفار کرے اور اللہ پاک سے آگے کی دعا کرے۔

آدابِ شیخ و مرید و متعلِّقات آں

ممانعت تعجیل فی اتخاذ الشیخ:

ارشاد: (1) اس طریق میں ہر صاحبِ طریق کا مذاق جدا ہے (2) شرطِ انتفاع تناسبِ مذاقین ہے۔ (3) تعجیل فی اتِّخَاذِ الشَّیْخ ممنوعات طریق سے ہے (4) بدون صحبتِ طویل کسی کے مذاق کا اِدْرَاک صحیح نہیں ہوتا اگر صحبتِ طویلہ میسّر نہ ہو مُکَاتَبَتِ طویلہ کی جائے کہ ملاقات حکمی ہے اس کے بعد جو رائے قائم کی جائے گی وہ مُعْتَدّ بِہٖ ہو گی ورنہ ممکن ہے کہ اپنی تجویز سے رجوع کا اظہار مُوجِبِ بدمذگی ہو اور اس کا اخفاء موجبِ تنگی و تلبیس ’’وَ کِلَا ھُمَا مُضِرُّ‘‘۔

فرمایا شیخ کو چننے کے لیے یہ طریقہ بتایا گیا ہے۔ فرمایا چونکہ اس میں ہر صاحب کا طریق جدا جدا ہے اور انسان کو فائدہ تب ہوتا ہے کہ جب آپس میں مناسبت ہو۔ تو اگر شیخ جلدی سے پکڑ لے تو اس سے ممکن ہے کہ وہ شیخ کا مزاج معلوم نہ کر سکے۔ تو اس وجہ سے ان کے ساتھ صحبت میسر ہونی چاہیے۔ صحبت کے ذریعے سے ان کا پتہ چلے گا، ورنہ پھر یہ ہے کہ کافی مکاتبت کرنی چاہیے، خطوط وغیرہ آپس میں لکھنے چاہیے۔ پھر اس کے بعد کوئی رائے ان شاء اللہ مناسب قائم ہو جائے گی۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ غلط فیصلہ کر لے۔

ظاہر ہے شیخ کو پکڑنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان کی اس شیخ کے ساتھ مناسبت بھی ہو۔ اور مناسبت جاننے کے لیے چاہیے کہ اپنے شیخ کے ساتھ کافی طویل مجالست کر لے۔ صحبت اس کی اٹھائے تو اس کو پتہ چل جائے کہ میرے مزاج کے ساتھ مناسبت ہے یا نہیں ہے۔ یا پھر یہ کہ لمبی خط و کتابت کی جائے۔

لیکن یہ ساری باتیں حضرت کے ہاں تھیں۔ آج کل کے دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو اس سے بھی بڑا ہے، وہ یہ ہے کہ آج کل، اللہ تعالی معاف فرمائے، حالات اتنے خراب ہو گئے کہ ایمان کو خطرہ ہو گیا ہے۔ تو لہٰذا صحیح شیخ جب تک نہ ملے تو اس وقت تک ایمان بھی خطرے میں مبتلا ہے، لہٰذا کسی اللہ والے کے ساتھ رابطہ بیعت کا ضرور ہو جاتا ہے۔

اس وجہ سے پہلے مشائخ اس قسم کی باتیں کرتے تھے یعنی انتظار کرواتے تھے، محنت کرواتے تھے اس میں۔ لیکن اب یہ ہے کہ بیعت کر لیتے ہیں کیونکہ ایسا نہ ہو کہ اس کو تو پتہ نہیں ہوگا لیکن عین ممکن ہے کہ بعد میں کسی غلط شیخ کے ہتھے چڑھ جائے اور اس کا ایمان خراب نہ ہو جائے۔ اس وجہ سے جو صحیح سلسلے کا شیخ ہو اور صحیح عقیدہ رکھتا ہو تو ان کو پھر ظاہر ہے وہ بیعت جلدی کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کسی۔۔۔ مطلب ان کو روکنے کی وجہ سے یا منع کرنے کی وجہ سے وہ کسی غلط شیخ کے پاس چلے جائیں۔ لیکن کسی طریقے سے اگر پہلے سے معلوم ہو جائے کہ ان کے ساتھ میری مناسبت ہے تو پھر فکر نہیں کرنی چاہیے۔

بعض جزئیات مذاقِ حضرت مولانا مدظله العالی:

ارشاد: (1) خوابات قابلِ التفات نہ ہونا (2) تصرّفات کو پسند نہ فرمایا (3) بتکلف سنجیدگی و متانت سے انقباض (4) رسوم کا پابند نہ ہونا گو وہ رسوم مُبَاحَہ ہی ہوں (5) غیر مطلوب کے درپے نہ ہونا (6) احوال کا اہتمام نہ ہونا، صرف اعمال کا مَطْمَحِ نظر ہونا (7) مُجَاَہَدہ نام ہے ترکِ معاصی اور تقلیلِ مُبَاحات کا، نہ کہ ترکِ مباحات کا (8) تعلیم کی مُلَازَمَت کا سب سے زیادہ پسند ہونا، بشرطیکہ تنخواہ میں تشویش نہ ہو۔ اور تحصیل چندہ کا سب سے زیادہ ناپسند ہونا۔ (9) مشورہ دینے کا معمول نہ ہونا۔ (10) ’’دَعْ مَا لَا یُتْعِبُکَ‘‘ پر عمل ہونا۔ (11) آزادی میں خَلَل نہ ڈالنا (12) قلب پر فضول بار نہ دینا۔ (13) خلوت کا زیادہ پسند کرنا جلوت کی پسندیدگی محض برائے افادۂ خواص و عوام ہونا۔ (14) اِنْضِبَاطِ اوقات (15) نفع رسانیٔ عام مخلوق (16) اُمَرَاء کا قصداً ممنون نہ بننا (17) اِضْرَار سے سخت اِجْتِنَاب رکھنا۔

یہ حضرت کے مطلب ظاہر ہے کچھ مزاج کی باتیں یہاں انہوں نے لکھی ہیں۔

ان میں جو فرمایا کہ خواب قابلِ التفات نہیں ہیں، تو حقیقتاً اصل تو اعمال ہیں جو قابلِ التفات ہیں۔ اور یہ تصرفات جو لوگ کرتے ہیں، کسی کے اوپر مطلب توجہ ڈالتے ہیں، یہ بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ اور تکلف سے رہنے کو بھی پسند نہیں کرتے تھے، ظاہر ہے تکلف میں تو پریشانی ہی پریشانی ہے۔ رسومات بھی تکلف ہیں، ان کو بھی پسند نہیں فرماتے تھے۔ اور جو طالب نہیں ہوتا تھا اس کے درپے نہیں ہوتے تھے، اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔

احوال کا اہتمام نہیں کرتے تھے، صرف اعمال کا اہتمام کرتے تھے۔ احوال دو قسم کے ہیں، ایک رُسُوخ فِي الْأَعْمَالِ ہے، وہ تو ضروری ہے۔ وہ تو حاصل کرنا چاہیے، اور ایک محض کیفیت کی تبدیلی ہے وہ مطلوب نہیں ہے۔ اور مجاہدہ اتنا کہ معاصی کو ترک کیا جائے اور مباحات میں زیادہ غلو نہ کیا جائے۔

حضرت تعلیم کی ملازمت کو پسند کرتے تھے۔ ٹھیک ہے، حضرت کا ذوق تھا۔ اور چندہ زیادہ ناپسند کرتے تھے۔ ی اس میں بھی مسائل ہو جاتے ہیں کیونکہ چندہ اگر غلط طریقے سے ہو تو کام میں برکت نہیں ہوتی۔

اور مشورہ بلا طلب نہیں دیتے تھے۔ اور جو متبع نہ ہو ان کو چھوڑ دیتے تھے۔ کسی کی آزادی میں خلل نہیں ڈالتے تھے، دل پر اپنا فضول بوجھ نہیں رکھتے تھے۔ اور خلوت کو جلوت سے زیادہ پسند کرتے تھے۔ ہاں جلوت کو عوام و خواص کے لئے فائدے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اوقات کی بہت سخت پابندی ہوتی تھی۔ اور یہ ہے کہ امراء کے ممنون نہیں بنتے تھے۔

اصلاح عمل مقدم ہے بیعت و ذکر و شغل پر:

’’تَہْذِیْبُ السَّالِکِیْن‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے اور بدون اس کے ذکر و شغل سب بے کار ہے، کام ترتیب سے اچھا ہوتا ہے ورنہ جس مکان کی بنیاد خام ہوگی۔ مکان جلد منہدم ہو جائے گا۔ اس پر نہ طالبوں کو نظر ہے نہ مشائخ کو، اس لئے نفع نہیں ہوتا۔

مطلب یہ ہے کہ ترتیب کے ساتھ کام ہو تاکہ بنیاد صحیح پڑ جائے، اس کے بعد آہستہ آہستہ ترقی ہوتی رہے گی۔ اور اگر بنیاد ٹھیک نہ ہو تو پھر اس کے بعد بے شک عمارت کتنی ہی اچھی ہو، جلدی منہدم ہو جائے گی۔

طریق کار:

ارشاد: کام کرنے کا طریق یہ ہے کہ کام شروع کر دے کسی امر کا انتظام نہ کرے اگر بعض حالات میں انتظام سے کام نہ بھی ہو بلا سے، بے انتظامی پھر بھی بیکاری سے اچھی ہے۔

یعنی کام انسان شروع کر لے، کیونکہ اکثر لوگوں کو فکر ہوتی ہے بلڈنگیں بنانے کی اور سارے وسائل پہلے جمع کرنے کی، پھر کام شروع کرتے ہیں تو یہ طریقہ غلط ہے۔

انبیاء کا طریقہ بھی یہی تھا اور اولیاء کا طریقہ بھی یہی ہے کہ جتنا میسر ہو اس سے کام شروع کر لیتے ہیں، بعد میں اللہ تعالی خود ہی برکت عطا فرماتے رہتے ہیں، کام چلتا رہتا ہے۔ اور انسان اتنے ہی کا مکلف ہے جتنا کہ وہ کر سکتا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ،

اصلاحِ نفس، آدابِ شیخ و مرید اور اعتدالِ قویٰ - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور