امراضِ باطن کی اصلاح: مدح، فرحِ بطر اور ریا کی باریکیاں و علاج

کتاب: انفاس عیسی، (فرح و مدح تا ترکِ عبادت میں تکبر اور ریا کی صورت) اشاعت اول: بدھ، 13 فروری، 2013، بمطابق: 3 ربیع الثانی، 1434 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

مدح و تعریف سے نفس کی حفاظت اور اس کا علاج

فرحِ شکر اور فرحِ بطر کے درمیان فرق و معیار

وساوسِ ریا کی حقیقت اور عمل پر استقامت

ریا کی تعریف اور کمالات کے اظہار کی شرعی حیثیت

دورانِ عمل تغیّر کی ممانعت اور تصحیحِ نیت کا اصول

مادۂ ریا کا نفس میں وجود اور "ریا مع اللہ" کی صورت

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے۔

فرح و مدح

فرح، خوشی۔ خوشی اس طرح کہ انسان مطلب اس پہ اترائے۔ لیکن دو قسم کی ہوتی ہے۔ فرحِ شکر جو ہوتا ہے ٹھیک ہے فرحِ بطر ٹھیک نہیں۔

مدح کا علاج:

فرمایا:

تہذیب: اگر مدح سے نفس خوش ہو تو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ مادحین جس امر کی مدح کر رہے ہیں، نہ اس کی حقیقت سے آگاہ ہیں نہ میرے دوسرے عیوب سے، حسنِ ظن رکھتے ہیں جو ان کی تو خوبی ہے مگر میرے لیے حجت نہیں۔

واقعتاً اگر کسی کو سمجھ آ جائے نا تو اس کو سمجھ آ رہی ہوتی ہے کہ جو میری تعریف کر رہے ہوتے ہیں تو تعریف اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ خود اچھے ہیں۔ وہ میرے ساتھ حسنِ ظن رکھ رہے ہیں۔ تو یہ ان کے لیے تو خوبی کی بات ہے لیکن میرے لیے تو مصیبت ہے۔ میں تو مارا جا رہا ہوں۔ تو اس لیے اگر روکنا چاہے تو روک سکے تو روک لے بھئی بس ٹھیک ہے. لیکن اگر روکا نہ جائے، تو چلو ٹھیک ہے کہتے جائیں ان کو فائدہ ہو رہا ہے لیکن میں تو اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھوں نا۔

ایک بزرگ کے پاس ہم گئے تھے سوات میں، کافی اونچائی پر پہاڑ میں تھے۔ تو میرے ساتھ جو گئے تھے وکیل صاحب، تو میرا تعارف اس نے کچھ زیادہ ہی جاندار الفاظ میں کیا نا کہ یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں، یہ تو ایسے ہیں، جیسے کرتے ہیں، حسنِ ظن والے کرتے ہیں۔ تو وہ بزرگ ذرا کافی، جس کو کہتے ہیں نا مطلب وہ کسی کی رعایت وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اٹھتے بھی کسی کے لیے نہیں تھے، ان میں یہ زبردست بات تھی۔ نہ کسی کے لیے اٹھتے تھے اور نہ کسی کی پروا کرتے تھے۔ بس جو آتے تھے ان کو صحیح کھری کھری باتیں سنا دیتے تھے، باتیں صحیح ہوتی تھیں، مطلب باتیں غلط نہیں ہوتی تھیں یعنی دین کی بات کرتے تھے اور کھری کھری سناتے تھے، کوئی مروت وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ تو وہ یہ ہے کہ وہ میرے ساتھی سے کہا بس کرو نا، بس کرو نا، اتنا نہ چڑھاؤ نا، بس کرو۔ مجھے بہت پسند آ گیا، میں نے کہا یہ صحیح آدمی ہے، ٹھیک ہے۔ تو یہ ہے کہ یہ بعض لوگ ہوتے ہیں۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ جو تعریف کر رہا ہوتا ہے تو تعریف تو اس کی تو اچھائی ہے کیونکہ وہ تعریف اس لیے کر رہا ہے کہ وہ مجھے اچھا سمجھ رہا ہے، حسنِ ظن ہے۔ لیکن کیا میں اس کی بات مان لوں؟

بعض دفعہ خود ہی انسان نا کوئی ناٹک رچا دیتا ہے، ذرا بزرگ سا بن جاتا ہے۔ اب جب لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ شاید میں واقعی بزرگ ہوں۔ بھئی حالانکہ خود کیا ہوتا ہے وہ کام اس کو پتا ہوتا ہے کہ بھئی میں نے تو یہ ناٹک رچایا ہوا ہے۔ لیکن پھر کیا؟ پھر پہلے ناٹک رچانے کے لیے یہ عذر تراش لیتے ہیں کہ اس طرح لوگ ذرا میری بات سن لیں گے۔ تو اس کے لیے تو یہ بہانہ کافی ہوتا ہے۔ چلو ٹھیک ہے، اچھی نیت سے آپ کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں نا کہ تم اس کو واقعی سمجھو۔ واقعی تو نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ نام میں نہیں لوں گا لیکن کہتے ہیں کہ ایک صاحب ایسے تھے جو خلیفہ نہیں تھے کسی کے لیکن خلیفہ بن گئے۔ اور بعد میں ایک دوسرے عالم نے کہا کہ ان کو تو ہم نے ویسے خلیفہ بنایا ہوا تھا تاکہ یہ لوگ گمراہی سے بچ جائیں، مطلب یہ ہے کہ غلط پیروں کے پاس نہ جائیں، تو اس نے واقعی اپنے آپ کو خلیفہ سمجھ لیا۔ اس نے بالکل باقاعدہ بیعت کرنا شروع کر لیا، سارا کچھ کرنا شروع کر لیا۔ تو اس کے دوسرے ساتھی کہہ رہے تھے کہ تو اس نے غلطی کی۔ بہرحال یہ ہے کہ اس طرح ناٹک بعض لوگ رچاتے ہیں۔ لیکن ناٹک چلو اگر آپ نے اچھی نیت سے بھی رچا لیا، تو اب کم از کم یاد تو رکھو نا اس کو کہ میں نے یہ ناٹک رچایا ہے، میں اصلی وہ تو نہیں ہوں، یہ تو صرف بس میرا پروپیگنڈا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اگر انسان یہ محسوس کر لے۔

اس پہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے بہت اچھا واقعہ فرمایا ہے۔ فرمایا کہ ایک طماع تھے، طماع، عربوں میں ایسی کہانیاں بہت زیادہ ہیں، طماع، طمع کرنے والے۔ بخیلوں کے بڑے واقعات ہیں، طماعوں کے بڑے واقعات ہیں۔ تو کہتے ہیں ایک طماع تھے تو بڑے مشہور تھے طمع کے لحاظ سے، تو بچے جب ان کو دیکھ لیتے تو ان کے پورے جلوس نکال لیتے تھے، اوہ فلاں آ گیا، فلاں آ گیا، فلاں آ گیا۔ وہ تو ظاہر ہے بچوں کو تو چاہیے شغل میلہ۔ تو وہ بیچارے گھبرا گئے کہ یہ مجھے مصیبت میں مبتلا کریں گے، تو انہوں نے بچوں کو اپنے سے ہٹانے کے لیے کہا کہ تمہیں پتا ہے فلاں محلے میں خیرات ہو رہی ہے! جو اپنے دل کی بات تھی بچوں سے کہہ دی۔ تو بچے تو بچے تھے انہوں نے کہا اچھا خیرات ہو رہی ہے انہوں نے about-turn لے لیا اور نعرے لگاتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ روانہ ہو گئے تو یہ بھی پیچھے بھاگنے لگا۔ تو کسی نے کہا کہ کیوں بھاگ رہے ہو؟ کہتے ہیں اتنے سارے بچے بھاگ رہے ہیں ممکن ہے واقعی سچ مچ خیرات ہو رہی ہو۔ تو اگر انسان تھوڑا سا پھول جانے والا ہو تو بہت جلدی بھول جاتا ہے کہ میں کیا ہوں، وہ پھر خوامخواہ اپنے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔

فرحِ شکر و فرحِ بطر کا فرق:

تہذیب: معیار ما بہ الفرق فرحِ شکر و فرحِ بطر میں یہ ہے کہ اول میں نعمت کو محض فضلِ الٰہی کا نتیجہ سمجھتا ہے اور اپنی نا قابلیت کا استحضار رہتا ہے، اور ثانی میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔

ثانی میں اس کو اپنا کمال سمجھا جاتا ہے۔ اور اللہ پاک سے گویا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ بعد میں اس پر شکوہ بھی ایک قسم کا قلبی ہونے لگتا ہے کہ مجھے کیوں یعنی وہ چیزیں نہیں اس پر ثمرات کیوں نہیں ہو رہے۔ جب بھی کوئی ثمرہ طلب کرے نا اعمال کا تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنے آپ کو بزرگ سمجھنا شروع کر لیا۔ آدمی سمجھے نا کہ بھئی یہ تو فلاں چیز مجھے کیوں حاصل نہیں ہوئی؟ فلاں چیز مجھے کیوں حاصل نہیں ہوئی؟ ایک نقشبندی بزرگ تھے۔ تو ان کا کوئی تھے ساتھی پیر بھائی وغیرہ ہوں گے، مراقبہ ان کو دیا تھا، مردوں کو مراقبہ ویسے بھی تھوڑا ذرا دیر سے ہوتا ہے۔ تو وہ آیا، کہتے ہیں جی مراقبہ نہیں ہو رہا۔ تو میں بیٹھتا ہوں لیکن نہیں ہو رہا تھا۔ تو اس صاحب نے کہا، اچھا مراقبہ نہیں ہو رہا؟ پتا بھی ہے، بارہ سال تک کنڈلی مار کر ہم بیٹھے رہے پھر اس کے بعد یہ چیز حاصل ہوئی ہے۔ تم ابھی ابھی جمعہ جمعہ داخل ہو گئے ہو اور کہتے ہو مراقبہ نہیں ہو رہا؟ تو یہ بات ہوتی ہے واقعی، کہ انسان بہت جلدی اس میں مچاتا ہے حالانکہ واقعتاً گزشتہ دور میں لوگ بہت اس کے لیے انتظار کیا کرتے تھے اور کافی وقت گزرتا تھا اس کے بعد پھر یہ چیزیں ملا کرتی تھیں۔ اب تو بس اللہ پاک کچھ جلدی عنایت فرما دیتے ہیں تو مستی آ گئی ہے لوگوں میں۔ اب کہتے ہیں بس ٹھیک ہے جی بس جلدی جلدی ہمارا سارا کچھ۔ بھئی یہ چیز ایسے نہیں ہے، اللہ پاک سب چیزوں کو جانتا ہے کہ کس کو کیا دینا چاہیے اور کس وقت دینا چاہیے۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر جلدی مل جائے تو انسان اپنے آپ کو بزرگ سمجھ کر اپنا کباڑا کرنے لگتا ہے۔ یہ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کہ کوئی غریب آدمی ہو۔ تو بے صبری کرنے لگے، مطلب آہ و جزع فزع کرنے لگے کہ ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیوں ہوا؟ یہ اس میں نقصان ہو جاتا ہے اس کو۔ اور جب مالدار ہو جائے تو پھر ناشکری کرنے لگے، یعنی دونوں صورتوں میں نقصان۔ جبکہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو کچھ جن کے پاس کچھ نہیں ہوتا وہ صبر کرتے رہتے ہیں تو اس میں صبر کا اجر ملتا ہے۔ اور کبھی جب ان کو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں تو اس پر شکر کرنے لگتے ہیں تو ان کو دونوں میں اجر مل رہا ہوتا ہے۔ پہلے والے کو دونوں میں نقصان مل رہا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے جو لوگ فرحِ بطر میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کو اگر کوئی چیز ملنے لگتی ہے تو اپنا سمجھنے لگتے ہیں۔ اور جب نہیں ملتی تو پھر اللہ پاک سے شکوہ کرنے لگتے ہیں کہ ہمیں کیوں نہیں دے رہے؟ پھر لے لو نا اگر تم خود کرتے ہو تو پھر کرو۔ ہاں پھر اللہ پاک سے شکایت کیوں کرتے ہو؟ اگر اپنی ہی چیز ہے اور اپنے ہی طور پر تمہیں کچھ مل رہا ہے تو پھر کرو نا۔ تو بالکل الٹی والی بات کہ جب ملنے لگتا ہے پھر اپنا کمال سمجھتے ہیں۔ اور جس وقت نہیں ملتی تو اللہ پاک سے شکوہ کرنے لگتے ہیں، دونوں صورتوں میں نقصان کر لیتے ہیں اپنا۔

ریا

عمل کے وقت وسوسات ریا کا علاج: تہذیب: اگر ابتداءً ریا کا خیال نہ ہو اور عمل کے وقت اس قسم کے وساوس پیدا ہو جائیں تو اپنے معمول کو ترک نہ کریں بلکہ ثبات اولیٰ ہے۔ ریا کو دل سے برا سمجھ کر حتی الامکان ان کو دفع کرنا کافی ہے۔

دیکھیں میں نماز ادھر پڑھ سکتا ہوں۔ لیکن میں قصداً ادھر کھڑا ہو جاؤں تاکہ لوگ مجھے دیکھیں تو یہ کیا ہے؟ Definitely ریا ہے نا، مطلب ظاہر ہے میں لوگوں کے دکھانے کی نیت سے ادھر کر رہا ہوں۔ لیکن میں ادھر پڑھ رہا ہوں، کوئی آ گیا۔ تو میں ادھر ان کے لیے تو کھڑا نہیں ہوا تھا نا۔ وہ تو اتفاقاً آ گیا کوئی۔ جب کوئی آ گیا اور دل خوش ہو گیا تو اس کی پروا نہ کرو، اپنا عمل جاری رکھو۔ بس اس کو بس دل سے سمجھو کہ اللہ کے لیے ہے۔ بس وسوسہ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ ابتداءً عمل کو اللہ کے لیے خالص کر کے اگر بعد میں کبھی اس کا وسوسہ آ جائے ریا کا تو اس کی پروا نہ کرو اپنا عمل جاری رکھو۔ اور اس کو ریا کو برا سمجھو، اور اپنے آپ کو اس سے بچائے رکھو۔ یہ کافی ہے۔

فرمایا:

وسوسہ تو کفر کا بھی آنا مضر نہیں:

تہذیب: ریا تو قصد سے پیدا ہوتا ہے اور جو بلا قصد ہو وہ ریا نہیں، صرف وسوسۂ ریا ہے اور وسوسہ تو کفر کا بھی مضر نہیں چہ جائیکہ ریا کا وسوسہ۔

مثلاً اللہ پاک بچائے ہر ایک کو اگر کسی کو یہ خیال آنے لگے بار بار خود بخود کہ اللہ دو ہیں۔ تو کفر ہے نا؟ لیکن چونکہ وہ خود نہیں کر رہا۔ تو یہ اس کو کچھ نقصان نہیں ہو رہا بلکہ اجر مل رہا ہے۔ کیونکہ اس کو تکلیف ہو رہی ہے اس سے۔ تو اس کی پروا نہ کرے۔ تو یہ چیز یاد رکھیں ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ کہ اللہ پاک کسی کو کسی ایسی چیز کا ذمہ دار نہیں بناتے جو اس کے کنٹرول میں نہیں، جو اس کے بس میں نہیں۔ تو ریا کا وسوسہ تو کیا، کفر کا وسوسہ بھی برا نہیں اگر خود سے آئے۔ اور قصداً لائے تو پھر ظاہر ہے ریا کا وسوسہ پھر ریا ہے۔

کمالات کے اظہار کا اہتمام ریا ہے:

تہذیب: بجز مربِّی کے اپنے عیوب کسی دوسرے پر ظاہر ہونے کو پسند نہ کرنا یہ ریا نہیں ہے، بلکہ یہ تو مطابق سنت کے ہے۔ استتارِ عیوب کا خود حکم ہے، ہاں کمالات کے اظہار کا اہتمام یہ ریا ہے۔ اگر وہ کمالات غیر واقع ہوں تو خداع اور تلبیس ہے۔

اپنے کمالات کے اظہار کا اہتمام کرنا تاکہ لوگوں کو نظر آ جائے۔ یہ تو ریا ہے۔ یہ تو ریا ہے۔ لیکن اہتمام نہیں کیا، خود سے لوگوں کو نظر آئے۔ تو ریا نہیں ہے۔ اور اگر کمالات کا اہتمام کرنے کا انتظام کرے اور ہو واقع نہیں واقعتاً نہ ہو تو پھر دھوکا ہے اور تلبیس ہے ظاہر ہے مسلمان کے ساتھ دھوکا ہے

مربی کے لیے کچھ گنجائشیں ہیں وہ عملی گنجائشیں ہیں مثلاً کسی کی وہ تربیت کرنا چاہتا ہے اس تربیت کے لیے کوئی چیز اس پہ ظاہر کر دی اپنی تاکہ اس سے اس کو فائدہ ہو تو ایسی صورت میں یہ ریا نہیں ہوگا جب تک اس کی اس کا صرف مطلب اس سے تربیت ہو۔ اگر اپنے کمالات کا اظہار ہو تو پھر ریا بن جائے گا۔ پھر ریا بن جائے گا۔

محض دکھلانے کا خیال بلا اختیار آ جانا ریا نہیں جب تک کہ عامل اس کا قصد نہ کرے:

حال: ہر کارِ خیر میں، خصوصاً نماز میں یہ خیال ہوتا ہے کہ تجھے فلاں فلاں دیکھ رہا ہے اس لیے یہ فعل تیرا ریا اور سُمعہ میں داخل ہے۔ جو اکثر فرض نماز کے سوا باقی افعالِ حسنہ کے ترک پر مجبور کرتا ہے۔

مطلب کوئی اشراق کی نماز پڑھنا چاہتا ہے۔ اور دل میں آ جائے کہ یہ تو فلاں فلاں دیکھ رہے ہیں پھر تو کہیں گے یہ بڑا بزرگ ہے دیکھو اشراق کی نماز پڑھ رہا ہے۔ یا تہجد کی نماز پڑھ رہا ہے، تو کہتے ہیں یہ مجھے ترک پر مجبور کر لیتا ہے۔

تہذیب: محض کسی کے دیکھنے سے تو ریا ہوتی نہیں جب تک کہ عامل دکھلانے کا قصد نہ کرے، اور یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ قصد فعلِ اختیاری ہے، محض دکھلانے کا خیال بلا اختیار آجانا یہ قصد نہیں۔ اس علم کی تصحیح بھی اس خیال کا علاج ہے اور اس خیال کے مقتضا پر عمل نہ کرنا، یعنی طاعت کو ترک نہ کرنا اس کا مکمل علاج ہے۔

یعنی اس کی وجہ سے عمل کو نہ ترک کیا جائے۔ عمل کو ترک نہ کیا جائے۔ یعنی کسی کے لیے عمل تو شروع نہ کیا جائے۔ لیکن اگر عمل شروع ہے تو اس کو ترک بھی نہ کیا جائے۔ مثلاً اب اشراق پڑھنے کا موڈ نہیں تھا اور لوگ جمع ہیں اور کہتے ہیں یار یہ سب تو نماز پڑھ، چلو۔ یہ کیا ہے یہ بھی پڑھتا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن پڑھنے کا معمول ہے بس ٹھیک ہے بس کھڑے ہو گئے پڑھ لیا پروا نہیں۔ لوگ دیکھیں گے تو دیکھیں گے۔ وہ پھر ریا نہیں ہے۔

عمل اور خُلُق کی اصلاح کا طریقہ:

تہذیب: عبادات میں جو ریا ہو عقلاً اس کو دبانا اور روکنا یہ عمل کی اصلاح ہے۔ اور اس عادت سے اس خُلُق (ریا) کا تقاضا نہ ہونا یہ خُلُق کی اصلاح ہے۔

مطلب یہ ہے کہ انسان کو اگر عبادات میں ریا کا وہ ہوتا ہے مطلب دخل تو اس کو عقلاً دبا دیا جائے کہ یہ تو کیا کر رہا ہے؟ خدا سے لے گا یا لوگوں سے لے گا؟ اور پھر اس عادت سے اس چیز کا تقاضا پھر بعد میں ختم ہو جائے تو یہ ظاہر ہے اس کی اصلاح ہو گئی۔

ریا کی حقیقت:

تہذیب: (1) ریا کی حقیقت ہے "اِرَادَۃُ الْخَلْقِ لِغَرَضٍ دُنْیَوِیٍّ"، "اِرْضَاءُ خَلْقٍ لِلْحَقِّ" ریا نہیں۔

فرمایا کہ، مخلوق کی، دکھانے کی غرض، جو دنیا، وہ ریا ہے۔ باقی یہ ہے کہ إِرْضَاءُ خَلْقٍ لِلْحَقِّ، مطلب حق کے لیے لوگوں کو راضی کرنے کا خیال، وہ تو ریا نہیں ہے۔ اپنے نفس کے لیے لوگوں کو راضی کرنا کہ وہ مجھے کامل سمجھیں اور اچھا سمجھیں۔ وہ ریا ہے۔

تہذیب: (2) ریا کی حقیقت یہ ہے کہ عبادت کا اظہار کسی دنیاوی غرض سے کیا جائے، یا کسی فعلِ مباح کا اظہار کسی معصیت کی غرض سے کیا جائے۔

مطلب یہ ہے کہ عبادت ہے، نماز ہے جیسے نفل ہے، وہ اگر دنیاوی غرض سے کی جائے کہ لوگ مجھے اچھا سمجھیں اور، تو یہ کیا ہے، یہ ریا ہے۔ اور یا کوئی فعلِ مباح ہے، وہ کسی گناہ کی نیت سے کیا جائے، یعنی جس کا ویسے نہ گناہ ہے نہ ثواب ہے، لیکن اس میں گناہ کی نیت شامل کی جائے۔

ریا میں صرف تصحیحِ نیت کافی نہیں بلکہ عمل میں تغیُّر بھی نہ کرے:

حال: بعض مرتبہ کسی اچھے کام میں مصروف ہوتا ہوں اچانک کسی شخص پر نظر پڑ جاتی ہے تو اکثر و بیشتر یہ خیال ہوتا ہے کہ اس کام کو اور اچھی طرح پر کرو۔ مجھے اتنا تو یہ یقیناً معلوم ہے کہ یہ ریا ہے اور ایسے وقت میں یہ سمجھ کر کہ انسان کیا چیز ہے جو اس کو دکھلا کر کام کریں، اس کام کو کیے جاتا ہوں اور نیت حق تعالیٰ کی طرف پھیر لیتا ہوں، نیت پھیر لینے سے ریا جاتی رہے گی یا نہیں؟

حضرت فرماتے ہیں:

تہذیب: میرا مذاق اس میں یہ ہے کہ صرف تصحیحِ نیت اس میں کافی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ خطرہ کے بعد عمل میں تغیُّر بھی نہ کرے، کیونکہ تصحیحِ نیت اس کا مقصود بالذات نہیں، بلکہ مقصود بالذات (اس کا) تحسینِ عمل للحق ہے اور تصحیحِ نیت اس تحسین کا آلہ، تاکہ غائلۂ ریا سے بھی بچا رہے اور مقصودِ نفس بھی حاصل ہو جائے۔ تو جس اخلاق سے تحصیلِ ریا مقصود ہو وہ مقدمۂ ریا ہونے کے سببِ ریا ہی ہے۔ اگر دوسرے اطباء کی تحقیق اس کے خلاف بھی ہو تب بھی اپنی رائے پر قائم ہوں، ذوقیات میں ایک کا اجتہاد دوسرے پر حجت نہیں۔

ذرا علمی اور گہری بات ہے۔ فرمایا: کسی نے کہا کہ میں کسی اچھے کام میں مصروف ہوتا ہوں اور کوئی شخص آ جائے۔ تو میں اس کام کو اور بھی اچھی طرح کرنے لگتا ہوں۔ تو اب چونکہ یہ اور بھی اچھی طرح کرنا یہ تو ریا ہے، یہ تو مجھے معلوم ہے۔ لیکن میں پھر دل کو سمجھا دیتا ہوں کہ تو کیا چیز ہے کہ لوگوں سے کچھ لے گا؟ لہذا میں اس کو کیے جاتا ہوں اور اپنی نیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر لیتا ہوں۔ پھر کیا یہ ریا ہو گی یا نہیں؟

حضرت چونکہ حکیم الامت تھے تو انہوں نے علاج جو فرمایا وہ یہ کہ بس تم جس طرح کر رہے تھے اسی طرح کرو کیونکہ اس وقت اگر تم اس پہ اس change پر وہ رہے تو وہ change اصل میں تمہارا اپنے نفس کے لیے تھا۔ بیشک تو نے اپنی نیت بظاہر تو اس کی طرف پھیر دی لیکن تو صرف یہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ یعنی یہ چیز حاصل رہے کہ لوگ مجھے اچھا کہہ دیں، تو نے صرف اپنی نیت کو سرسری طور پر change کر لیا۔ لہذا جیسے تو کر رہا تھا اسی طریقے کرتا رہ۔ فرمایا کہ کسی کو اگر اس سے اختلاف ہو تو میں اس کو غلط نہیں کہتا لیکن میں اپنی رائے پر قائم رہوں گا۔

عبادت کو کسی کے دیکھنے پر طبیعت میں فرحت کا ہونا علامت وجود مادہ ریا کی ہے:

حال: اثناءِ عبادت یا عبادت سے فراغ کے بعد اگر کوئی شخص اس عبادت پر مطلع ہو جائے تو اس عابد کے دل میں ایک قسم کی فرحت و خوشی پیدا ہو جاتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ دل کے اندر ریا اس طرح چھپا ہوا ہے، جس طرح راکھ کے اندر آگ کہ دوسروں کے مطلع ہونے پر اسی لیے تو سرور ہوتا ہے۔

تہذیب: اس عبارت میں اس فرحت کو ریا نہیں کہا، اس کو علامت ریا کہا اور علامت بھی مادۂ ریا کی کہا، جس پر مؤاخذہ نہیں۔

مادہ تو بہت ساری چیزوں کا ہو سکتا ہے۔ مثلاً کسی میں شہوت بہت زیادہ ہے مادہ اس کا۔ لیکن وہ بچا ہوا ہے تو اس پر اجر مل رہا ہے اس کو۔ مادہ تو موجود ہے۔ لیکن ظاہر ہے وہ اگر وہ ہمت کر کے وہ بچا رہتا ہے تو وہ تو پہلوان ہے۔ وہ تو ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ اس پہ مسلسل اجر دے رہا ہے۔ تو مادے کا موجود ہونا یہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں مادے کی یہ بات ہے کہ اس میں انسان۔۔۔ جیسے کوئی جانور کسی کا بہت زیادہ طاقتور ہو۔ تو مفید بھی بہت ہوتا ہے لیکن اگر اس کو کھلا چھوڑ دیا تو نقصان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کیا خیال ہے Heavy bike کتنا سی سی کا ہوتا ہے؟ بارہ تیرہ سو سی سی کا۔ بڑی اچھی بائیک ہے نا؟ تو کیا خیال ہے اگر بے قابو ہو جائے؟ کنٹرول میں رہے تو بڑی زبردست چیز ہے۔ یہ بے قابو ہو جائے تو بس پھر سر پیر ایک ہو جائیں گے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب یہی اسی طرح نفس بھی ہے۔ تو اگر کسی کا مادہ ہے جس میں اس میں شدید مادہ موجود ہے کسی چیز کا تو وہ قابلِ گرفت نہیں ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ تو اس پہ اس کے اجر کے لیے وہ ذریعہ بنا ہو۔ تو وہ ٹھیک مسئلہ نہیں ہے ہاں البتہ اگر وہ کمزور ہے اس کو کنٹرول کرنے میں۔ تو یہ بات ہے کہ اس کو نقصان تو ہو گا پھر۔ تو اس کو اپنے آپ کو طاقت ور کرنا چاہیے۔ اور اپنی اس گاڑی کو صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ تو نفس جو ہے نفس بھی اگر اس کے اندر اس قسم کی چیزیں ہوں تو اس کے صحیح استعمال کے موقع پر روکا نہیں جائے اور غلط استعمال کے لیے جانے نہ دیا جائے۔ یہ اس کی بات ہے کہ مادہ وہ کوئی بری چیز نہیں ہے۔ مادہ جو ہے وہ تو اجر کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ لیکن خطرے کی بات تو ہے اس میں خطرہ تو ہے۔

ریا مع اللہ کی صورت:

اللہ اکبر، اللہ سے ریا کرنا

تہذیب: خلوت میں نماز اس خیال و نیت سے پڑھنا کہ مخلوق کے سامنے بھی طویل نماز پڑھ سکے، اور حق تعالیٰ کا یہ اعتراض لازم نہ آئے کہ مخلوق کے سامنے تو لمبی نماز پڑھتا ہے اور میرے سامنے مختصر پڑھتا ہے، تو یہ لمبی نماز خلوت کی خدا کے لیے نہیں ہے، بلکہ مخلوق کے سامنے ریا باقی رکھنے کے لیے ہے۔ یہ ریا مع اللہ ہے۔

مطلب یہ ہے کہ مقصود تو یہ ہے کہ میں لوگوں کے سامنے لمبی نماز پڑھوں۔ اب اس کے لیے وہ حیلہ کر رہا ہے۔ اور حیلہ یہ کر رہا ہے کہ میں خلوت کی نماز بھی بہت لمبی پڑھوں۔ تاکہ مجھے اس میں پھر خلش نہ ہو۔ تو اس میں بنیادی مقصد چونکہ وہ غلط ہے۔ لہذا یہ اللہ کے ساتھ ریا ہے۔ یعنی اللہ کے لیے عمل کو خالص نہیں کیا۔ اپنے نفس کے لیے عمل کو خالص کر لیا۔

ترکِ عبادت میں تکبر اور ریا کی صورت:

تہذیب: مخلوق کے لیے عملِ عبادت کو ترک کرنا جس طرح تکبر ہے اسی طرح ریا بھی ہے۔