توکل علی اللہ، صحبتِ صالحین اور رجوع الی اللہ کی برکات

(انفاس عیسی، اشاعت اول: 28 جنوری، 2015 (حصہ سوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حسنِ نیت اور توکل کے ثمرات (حج اور سفر کے حیران کن واقعات)
  • زندگی میں برکت کا مفہوم اور اللہ کی غیبی کارسازیاں
  • مادی اسباب کی حقیقت اور ذکرِ الٰہی میں قلبی سکون
  • نیک ماحول اور اللہ والوں کی صحبت (شیخ) کے اثرات
  • حقیقی کامیابی کا معیار: دورِ حاضر اور صحابہ کرامؓ کی مثال
  • رجوع الی اللہ اور سچی توبہ کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات سنائے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ مناسب تشریح کی جاتی ہے۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات شریف کی جلد "انفاس عیسیٰ" کی تعلیم جاری ہے، آج بھی اسی سے ان شاء اللہ تعلیم ہو رہی ہے۔

میں خود مجبوراً اپنی بات بتا رہا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ Information تو اپنی ہوتی ہے باقی لوگوں کی Information تو سنی سنائی ہوتی ہے۔ 1980 میں میری تنخواہ چودہ سو چالیس روپے تھی۔ اور ہمارا گھر الحمد للہ پورا گھر تھا، اکثر ہماری تنخواہ دکاندار لے لیا کرتے تھے۔ دکاندار سے سارا سودا آتا، کیونکہ والد صاحب فوت ہو گئے تھے ایک سال ہوا تھا۔ تو سارا گھر کا خرچ آ رہا تھا۔ تو دکاندار لے لیتے۔

کسی سے سنا تھا، کہ دس بیس روپے بھی اگر کوئی جمع کرنا چاہے حج کے لیے، تو اللہ جل شانہ پورا کر لیتا ہے۔ تو اس نیت سے میں کچھ تھوڑے تھوڑے پیسے پس انداز کر لیتا تھا، اپنے خیال میں کہ حج کے لیے استعمال ہوں گے۔ 1984 کے جنوری تک الحمد للہ پچیس ہزار روپے جو حج کے لیے تھے وہ جمع ہو گئے۔ میرا Calculator تو اس کا جواب نہیں دے رہا اگر آپ کا دے رہا ہے تو بتا دیں۔ چار سال، آپ کو معلوم ہے، اتنے سال ہیں، اتنے مہینے ہیں، اتنی تنخواہ ہے، اخراجات اتنے ہیں، اب بتاؤ کیسے پورے ہوئے؟ یہ مجھے ابھی تک پتہ نہیں چلا، میرا Calculator نہیں کام کر رہا اس پہ۔ ہو گیا، پورا ہو گیا۔

مزید بتاتا ہوں، یہ تو برکت کی بات ہے نا، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، برکت کی بات ہے۔ آگے بتاتا ہوں، جو سنی تھی بات اس کو اللہ نے کیسے پورا کر دکھایا۔ جو سنی تھی بات، سنی یہ تھی، اللہ پاک اس کو کر لیتے ہیں۔

سنی یہ بات تھی کہ پیسے بن گئے پچیس ہزار روپے۔ اور اللہ کا شکر ہے ایک دن پہلے داخلہ ہو گیا۔ یعنی ختم Date ختم ہونے سے ایک دن پہلے چونکہ میں کراچی جا رہا تھا، اپنے ساتھ پیسے لے گیا تھا، وہیں پر کراچی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہو گیا۔ اب مطمئن ہو گیا کہ Letter بھی آ گیا، ٹھیک ہے جی مطلب یہ آپ کا ہو گیا، منظوری آ گئی۔

اب مجھ سے ایک مولانا صاحب ہیں ہمارے دوست ہیں، پوچھ رہے ہیں ایک دن۔ میں کراچی سے داخلہ کر کے آیا ہوں، جتنا کام تھا سرکاری وہ کر کے آ گیا۔ جب واپس پہنچ گیا تو یہاں پر ایک Letter پہنچا تھا گھر میں۔ یہ Letter ہے آپ کا آیا ہوا ہے آپ اس کو دیکھیں۔ Letter میں نے دیکھا تو اس میں لکھا کہ آپ کا دو ہفتے کے لیے امریکہ کا وہ کورس (Approve) ہو گیا ہے۔ اور آپ کو امریکہ جانا ہے۔ یکم جون کو آپ کو جانا ہے۔ دو ہفتے کے لیے۔

اب یہ بھی ہو گیا چلو جی ما شاء اللہ اچھا ہوا۔ منظوری کیسے ہوئی ہے وہ بھی بتاتا ہوں۔ ہمارے دفتر کے کچھ لوگ شاید بیٹھے بھی ہوں۔ منظوری اتنے عجیب طریقے سے ہوئی کہ ہمارا Director بھی حیران اور خود میں بھی حیران۔ میں نے اس کے لیے Note لکھا، ڈائریکٹر کے Office میں چلا گیا۔ اور بقول ان کے، گم ہو گیا۔ لیٹر گم ہو گیا۔ کدھر گیا؟ نہیں معلوم۔ اب جو PA ہے ڈائریکٹر کا وہ ڈھونڈ رہا ہے، دوسرے ڈھونڈ رہے ہیں۔ میں نے کہا بھئی لیٹر کدھر گیا؟ میں نے کہا چلو بس گم ہو گیا تو گم ہو گیا دوسرا لکھیں گے۔ اٹامک انرجی کمیشن کا جو lengthy process ہے جو لوگ جانتے ہیں۔ وہ منظور ہو کر پہنچ گیا واپس۔ پتہ نہیں کیسے گیا تھا ہیڈ کوارٹر، اور کن چینل سے گزرا ہے کیسے، کس سپیڈ سے، اور کس سپیڈ سے چیئرمین نے Sign کیا اور کس سپیڈ سے پھر واپس آ گیا۔ یہ دوسرے دن کی کارروائی تھی۔ اور وہ حیران، ڈائریکٹر بھی حیران، بھئی لیٹر کدھر گیا؟ اور لیٹر منظور ہو کر واپس آ گیا اگلے دن۔ ساری چیزیں دستخطیں موجود ہیں، فلاں نے کیا، فلاں نے مارک کیا، فلاں نے مارک کیا، یہ سارا ایک دن میں سارا کچھ ہو گیا۔ ہو گیا ما شاء اللہ۔

اب منظوری اس کی آ گئی۔ اس پر یہ ہوا کہ مجھے مولانا شریف صاحب نے مجھ سے پوچھا، شبیر صاحب کیا ارادہ ہے آپ کا؟ میں نے کہا ان شاء اللہ میں امریکہ سے واپس آؤں گا تو ان شاء اللہ پھر حج پہ جاؤں گا۔ کہتے پاگل نہیں ہو؟ میں نے کہا کیوں، کیا ہو گیا، کیا ہو گیا؟ کہتے ہیں آپ Apply کریں عمرے کے لیے۔ اور یہ کریں کہ واپسی میں آپ کو ان شاء اللہ جدہ میں، آپ Application دے دیں ان کو کہ میں چونکہ عمرے کے لیے آیا ہوں تو اس کو حج ویزہ میں Convert کر لیں۔ ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں آپ یوں کر لیں۔ میں نے کہا ہو جاتا ہے؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا وہ جو پیسے میرے جمع ہو چکے ہیں؟ کہتے ہیں وہ واپس مل جائیں گے۔ میں نے کہا پتہ نہیں ملتے، نہیں ملتے؟ کہتے ہیں آپ try تو کریں۔ اچھا دوسری بات اب یہ کہ میں نے جو سعودی ایمبیسی میں بھی Apply کرنا تھا امریکہ سے بھی ویزا لینا تھا۔ سعودی ایمبیسی میں چلا گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ آپ پہلے امریکہ کا ویزا لے آئیں تو ہم پھر آپ کو دے دیں گے۔ تو میں نے کہا اچھی بات ہے، Genuine ہے ظاہر ہے، جس بنیاد پر میں لے رہا ہوں ویزا تو وہ تو یہی ہے نا۔

اب میں چلا گیا امریکن ایمبیسی۔ وہ ان کا بڑا لمبا انٹرویو مجھ سے لے لیا، اس نے ان کا طریقہ کار جیسے ہوتا ہے، وہ تو مجھے پہلے پتہ تو نہیں تھا بڑا لمبا انٹرویو لے لیا۔ آخر کار ویزا دے دیا۔ ویزا دے دیا، لیکن وہ سعودی ایمبیسی کا جو ٹائم تھا وہ گزر گیا تھا۔ اب میں آ گیا ہوں وعدہ اس نے کر لیا تھا لیکن وعدہ بھئی، میرا Letter کوئی پہنچائے گا تو پھر اس کے بعد دے گا نا، اب پہنچ گیا تو کھڑکی بند، اب کیا کروں؟

تو میں ایک اور لائن میں کھڑا ہو گیا، جو ان چیزوں کے لیے نہیں تھا، وہ جو نہیں ہوتے مطلب جو Normal سعودی عرب جاتے ہیں، وہ جو اقامے والے ہوتے ہیں ان کی لائن میں کھڑا ہو گیا۔ میں نے کہا چلو try ہے۔

اب اخیر میں میں پہنچ گیا ہوں، تو انہوں نے کہا بھئی وہ تو ٹائم ختم ہو گیا ہے۔ میں نے کہا وہ تو مجھے بھی معلوم ہے لیکن میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے۔ تو آپ کم از کم میرے پاسپورٹ ادھر پہنچا دیں ان کو یہ میرا وعدہ یاد دلائیں۔ اگر وہ نہیں کیا تو No تو ہے ہی نا۔ کہتے ہیں ہم نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا میں آپ سے Request کرتا ہوں، آپ مہربانی کر کے پہنچا دیں اس کے بعد پھر جو مرضی ہے وہ کر لیں۔

خیر ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھا، دو لائنیں تھیں ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھا کہتے ہیں چلو یار پہنچا دو چلو کوئی بات نہیں۔ دیکھیں، کیا ہوتا ہے۔ خیر وہ بہرحال لے گئے، اور پانچ منٹ کے اندر اندر وہ ویزا لگا کے واپس۔ شاید موڈ اچھا ہوگا اس وقت، بہرحال ٹپہ لگ گیا اور ویزا میرے اس پہ لگ گیا۔

اب میں آ گیا ہوں ما شاء اللہ، ویزا میرے پاس ہے، امریکہ چلا گیا۔ امریکہ میں نے دو ہفتے کی جگہ چار ہفتے لگا دیے۔ کچھ دوستوں سے ملنا کچھ دینی کاموں کی مصروفیت وہ ذرا دو ہفتے میرے زیادہ لگ گئے۔ وہ دو ہفتے میرے لیے بڑے کام کے بن گئے۔

تو اس کے بعد پھر یہ ہوا کہ میں آ گیا واپس، سعودی عرب پہنچ گیا۔ اب جدہ کاؤنٹر پہ، میں نے پاسپورٹ دے دیا، طریقہ تو یہ تھا کہ وہ ٹھپہ لگنا تھا اس کے بعد تو میں نے جا کے Application تو میں نے بعد میں دینی تھی۔ انہوں نے میرا پاسپورٹ ایک طرف کر دیا۔ اب وہ تو وہ صم بکم والی بات ہوتی ہے نا، نہ کچھ بتاتے ہیں نہ کچھ، وہ بہرحال یہ کہ وہ میرا پاسپورٹ ایک طرف رکھ دیا اور باقی لوگوں پہ ٹھپے لگا رہے ہیں۔

میں نے کہا یا اللہ خیر پتہ نہیں پاسپورٹ میں کچھ گڑبڑ ہو گیا کیا بات ہو گئی ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی کو بھی میرے ساتھ کھڑا کر دیا۔ میں نے کہا اچھا پتہ نہیں شاید ہم لوگ کچھ مسئلہ ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد کچھ پولیس والے آ گئے، انہوں نے ان کو پاسپورٹ دے دیا۔ میں نے کہا یا اللہ خیر مسئلہ تو کچھ گہرا ہے۔

اچھا وہ پاسپورٹ جب لے گئے تو میں نے کہا بھئی کچھ معلوم تو کروں کہ ہوا کیا ہے۔ میں ان پولیس والوں کے پیچھے دوڑا۔ میں نے کہا یہ کیا کیوں لے جا رہے ہو؟ کہتے ہیں کیوں، تمہیں کیا ہے؟ میں نے کہا یہ میرا پاسپورٹ ہے نا۔ کہتے ہیں پھر صبح مطارِ قدیم سے لے لو۔ میں نے کہا اس وقت میں کیا کروں؟ کہتے ہیں تم جا کر عمرہ کرو۔ اب کمال کی بات ہے بھئی عمرہ کیسے کروں پاسپورٹ تو تم لے گئے ہو۔ اس وقت نہ میرے دماغ نے کام کیا نہ ان کے دماغ نے کام کیا۔ کہ بھئی اس کے پاس کیا Identification ہے؟ اس کو راستے میں کسی نے پکڑ لیا پھر یہ کیا جواب دے گا؟ نہ ان کو سمجھ آئی نہ مجھے سمجھ آئی۔

اور میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ اب یہ ہے کہ وہ تو چلے گئے اب میں رہ گیا۔ میں نے جانا تھا مدینہ منورہ پہلے۔ طریقہ تو یہ تھا، کیونکہ میں نے عمرے کا احرام تو نہیں باندھا تھا۔ اور اب میں نے چادریں لے لیں ادھر ہی Purchase کر لیں، اور پھر میں نہایا اور پھر میں نے عمرے کی نیت کر لی۔

ایک ٹیکسی سے بات کی جا کر میں چلا گیا۔ اگلے دن میں واپس آ رہا ہوں پاسپورٹ لینے کے لیے کوئی مجھے لے جائے نہیں، کہ آپ کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے۔ میں نے کہا بھئی پاسپورٹ میرے جدہ میں ہے میں کیسے جاؤں گا؟ کہتے ہیں ہمیں نہیں معلوم۔ میں نے کہا بھئی تمہارے لوگ کا کوئی بڑا بھی ہے یا نہیں ہے، بتاؤ اس سے میں بات کروں۔ ایک آدمی ادھر کھڑا تھا کہتے ہیں اس سے پوچھو۔ میں اس کے پاس گیا، میرے پاس امریکہ کا ٹکٹ تھا TWA کا۔ میں نے اس کو دکھایا، میں امریکہ سے آیا ہوں، میں میرا پاسپورٹ انہوں نے لے لیا ہے، میں ادھر سے لینا چاہتا ہوں، میں کیسے جاؤں اگر یہ مجھے بٹھاتے نہیں؟ غصے سے کہا میں نے۔ کہتے ہیں اچھا، میرا ٹکٹ دیکھا، ان سے کہا، یہ امریکہ سے آیا ہے جاؤ جاؤ بٹھا دو، بٹھا دو، بٹھا دو بٹھا دو۔ مجھے خوشی بھی ہو گئی اور افسوس بھی ہو گیا۔ خوشی تو اس لیے ہو گئی کہ پاسپورٹ مل رہا ہے۔ افسوس یہ ہو گیا کہ امریکہ کا سن کے کوئی قانون نہیں۔ سارے قانون ختم۔ بہرحال یہ کہ پھر میں بیٹھ گیا۔

وہاں پہنچ گیا، پہنچ گیا تو اب وہاں پر اس آفس میں پہنچ گیا، انہوں نے کہا جی آپ کا پاسپورٹ موجود ہے لیکن 525 ریال دے دو۔ میں نے کہا 525 ریال کس چیز کے دے دوں؟ اب وہ بتائیں نہیں۔ میں نے کہا پھر پاسپورٹ نہیں ملے گا۔ تقریبا گھنٹہ میں نے انتظار کیا میں 525 ریال کیسے دے دوں؟ بلاوجہ۔ اور وہ کہتے ہیں پاسپورٹ اس کے بغیر ملے گا نہیں۔ میں نے کہا چلو جی اب مرتا کیا نہیں کرتا۔ میں نے کہا اچھا 525 ریال میں نے پکڑا دیئے ان کو۔ میں نے کہا یہ لے لو۔

وہ میں نے ان کو دیے، انہوں نے پاسپورٹ دیا، پاسپورٹ کو دیکھا تو اس پہ حج کا ویزا لگا ہوا تھا۔ قانون یہ بن گیا تھا کہ اس تاریخ کے بعد جو آئیں گے، وہ Automatically حج ویزہ کے لیے Valid ہو جائیں گے، اس کا عمرے کا ویزا حج ویزہ میں convert ہو کر اس کو ملے گا۔

یہ بتاؤ۔ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے کہ حج کا ویزا مل گیا۔ 72 دن مجھے ملے۔ وہاں پر 72 دن مجھے ملے۔ اور وہاں ہمارے ایک ساتھی ہیں، ابھی تک الحمد للہ وہاں پر ہیں، حاجی عبد المنان صاحب، اس کے ساتھ ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کہا مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی آ رہے ہیں ہمارے شیخ۔ تو آپ ہمارے ساتھ ہی ٹھہر جائیں، ہمارے لیے تو عید ہو گئی۔ پورا حج اللہ پاک نے مہمانی میں کرایا، پیسے میرے سارے کے سارے بچ گئے۔ اور واپس جو آ گیا تو یہ سارے کے سارے پیسے مل گئے۔

اب بتاؤ یہ کون سا قانون ہے؟ کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ جب کرتے ہیں کچھ بھی پتہ نہیں چلتا۔ اسی کو برکت کہتے ہیں۔ اسی کو برکت کہتے ہیں۔

جب اللہ جل شانہ کرتے ہیں تو راستے بنتے جاتے ہیں، بنتے جاتے ہیں، بنتے جاتے ہیں۔ اور جب نہیں کرتے بند ہوتے جاتے ہیں، بند ہوتے جاتے ہیں، آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ اس وجہ سے میں کہتا ہوں اگر ایک انسان اللہ جل شانہ کے ساتھ معاملہ صاف رکھے۔ اور اس زندگی کو اس کے لیے مستعار سمجھے۔ بھئی یہ ہم نے مستعار لیا ہوا ہے۔ اور اس کے اوپر کچھ Checks ہیں۔ وہ ہمیں پورے کرنے پڑیں گے۔ جو جو طریقہ وہ بتائے گا اس طریقے سے زندگی گزاریں گے، تو یہ زندگی بھی اچھی گزرے گی۔ کیسے اچھی زندگی؟ جیسے میں نے مثالیں دیں۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے چیزوں میں کام کروائیں گے، کام ہوتا جائے گا ان شاء اللہ۔ اور ساتھ ساتھ ما شاء اللہ آخرت کی زندگی بنتی جائے گی۔

دنیا کی زندگی میں سب سے بڑی چیز جو ہے نا وہ اگر ہے تو وہ کیا ہے؟ وہ سکون ہے۔ Satisfaction۔ میں آپ کو بتاتا ہوں، اگر کوئی Air condition میں بیٹھا ہو۔ اور گاڑیاں اس کے پاس چار پانچ ہوں۔ اور گھر میں نو دس نوکر ہوں۔ اور وہ سارے۔۔۔ جگہ پہ اس کی عزت بھی ہو۔ لیکن اس کے دل کو سکون نہ ہو۔ وہ کیسا ہوگا؟ خوش ہوگا یا ناخوش ہوگا؟ ناخوش ہوگا، پریشان ہوگا۔

اس کے مقابلے میں جو شخص، اس کا آج ہے کل نہیں ہے۔ لیکن وہ مطمئن ہے خوش ہے، سکون ہے اس کو، تو اس کی زندگی کیسی ہے؟ خود Bradford گاڑیوں والے کا جو مالک جو تھا، یہ اپنے بالکونی پہ ایک دن کھڑا تھا، بیمار تھا بیچارہ۔ اس کو نیند نہیں آتی تھی۔

تو ایک دن ایک مزدور آیا، اور مزدور نے پتہ نہیں جیب سے کیا نکالا جو چھوٹی سی چیز تھی وہ کھا لی، وہ پانی پی لیا وہ جو نل تھا، اور تھوڑی دیر کے لیے ٹیک لگایا اور خراٹے لینے لگا۔ تو اپنے لوگوں سے کہا، اگر یہ میرے بس میں ہوتا کہ میں اس کو سارا کچھ دے دوں، اور یہ جو اس کے پاس ہے یہ مجھے دے دے تو میں تیار تھا۔ میں تیار تھا۔

اب بتاؤ یہ ہے ساری ہماری تمام چیزوں کی قیمت یہ ہے۔ اگر اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے سکون اللہ چھین لے نا، تو میں آپ کو بتا دوں دنیا اندھیر ہو جاتی ہے۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ سکون دے دے، وہ بادشاہ ہے۔ تو دنیا کی بادشاہی بھی اسی ذکر میں ہے۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ آگاہ ہو جاؤ، دلوں کو اطمینان اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہو جاتا ہے۔ تو دلوں کا اطمینان بھی ذکر میں ہے، اور آخرت میں بھی سب کچھ ذکر کے ذریعے سے مل رہا ہے۔ تو فائدہ ہے یا نہیں ہے؟

اس وجہ سے بڑی پاک زندگی انسان گزار سکتا ہے۔ بہت اچھی زندگی انسان گزار سکتا ہے۔ بس ذرا تھوڑا سا اپنے ماحول کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ میں آپ کو بتاؤں، اس کی وجہ یہ ہے کہ دیکھیں، ہم لوگ صرف ایک فرد کے طور پر دنیا میں نہیں رہتے۔ ہمارے ارد گرد لوگ ہوتے ہیں سارے۔ وہ ہمیں متاثر کرتے ہیں، ہم ان کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ دنیا میں چیزیں چل رہی ہوتی ہیں۔ نفسیاتی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ ہر شخص دوسرے سے چوری کر رہا ہوتا ہے۔ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر۔ کیسے؟

اگر دو شخص آپس میں بیٹھے ہیں، تو ان کی کچھ صلاحیتیں اس میں چلی جائیں گی، ان کی کچھ صلاحیتیں اس میں چلی جائیں گی۔ یہ ہوتا رہتا ہے۔ اس کو آدمی ختم نہیں کر سکتا۔

جب یہ صورتحال ہے تو مجھے بتاؤ برے لوگوں کے اندر جو رہے گا، تو وہ اچھا بننے کی کوشش کرے گا تو کیسے ہوگا؟ اور جو اچھے لوگوں کے اندر رہے گا وہ اگر یہ کوشش کرے گا تو کیسے ہوگا؟ اس وجہ سے ماحول کو تھوڑا تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ تو اس کے لیے پھر یہ ہے کہ ہم لوگوں کا اگر اللہ والوں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہو جائے۔ اور اس طریقے سے ہم لوگ ان سے لیتے رہیں، تو ایک دن وہ چیزیں سمجھ بھی آ جائیں گی، اور ان شاء اللہ العزیز ہم لوگ اس راستے پہ چلنا بھی شروع کر لیں گے۔

ہم خود جب پشاور یونیورسٹی گئے تھے، تو پشاور یونیورسٹی میں ہم تو Engineering کے لیے گئے تھے۔ ہم تو وہاں پر کسی مدرسے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ نہ ہم نے ظاہر ہے وہاں پر کوئی اور دینی ادارے میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہی انجینئرنگ کالج تھا۔ لیکن کچھ لوگوں نے ہمیں بتا دیا کہ یہاں پر ایک بزرگ ہیں۔ جن کے ہاں لوگ جاتے ہیں۔ تو ہم نے کہا چلو ہم بھی چلتے ہیں۔ جب ہم گئے وہاں پر تو الحمد للہ دل نے جواب دے دیا کہ ہاں یہ بالکل جگہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد وہاں پر بیٹھنا شروع کیا۔ عصر سے لے کے مغرب تک حضرت کی محفل ہوا کرتی تھی بس، عصر سے مغرب تک۔ اور باقاعدہ محفل بھی نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح ہوتا تھا کہ حضرت سے لوگ پوچھ لیتے تھے سوال، جب سوال پوچھ لیتے تو حضرت اس کا جواب دینا شروع فرما دیتے۔ اس جواب میں بعض دفعہ پورا بیان ہو جاتا۔ یعنی مغرب تک پورا بیان چلا جاتا اسی میں۔ بعض دفعہ ذرا ایک دو سوال بھی ہو جاتے، تین سوال بھی ہو جاتے تھے۔ تو یہ حضرت کا طریقہ تھا۔

تو وہاں پر جا کر ہم لوگ بس اسی کے ہو کے رہ گئے۔ اب عصر سے لے کے مغرب تک حضرت کے ساتھ بیٹھنے لگے۔ اس کا فوری اثر تو یہ ہوا، کہ جو یونیورسٹی کی جو قباحتیں تھیں، جہاں لڑکے جاتے تھے اور کچھ مسائل تھے، جو بعد میں ہمیں رسالوں سے پتہ چل گیا کہ یہ چیزیں ہوا کرتی ہیں۔ ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ان کا۔ بلکہ ہم حیران تھے کبھی کبھی آپس میں وہ ڈسکس کرتے تھے نا لڑکے تو ہم حیران ہوتے تھے کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ یہ کیوں یہ باتیں کر رہے ہیں؟ لیکن بہرحال وہ تو ایک پورا ایک کلچر تھا جو وہاں چل رہا تھا۔ تو اللہ کا شکر ہے کہ حضرت کی برکت سے اس کلچر سے اللہ پاک نے بچا دیا۔

اب ظاہر ہے دل میں چونکہ جگہ بن گئی تھی حضرت کے لیے، لہذا جب ہم یہاں پر بھی آ گئے، تو جب بھی کوئی چھٹی ملتی تو دوڑ کے حضرت کے پاس چلے جاتے۔ بس ہمارا کام یہ تھا۔ کہتے ہیں ملا کی دوڑ مسجد تک۔ تو ہماری دوڑ بس مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف۔ وہ چیز ہوتی۔ اچھا حیرت کی بات یہ ہے، تین چار سال تک پتہ نہیں چلا کہ حضرت بیعت کرتے ہیں۔ تین چار سال تک! آپ حیران ہوں گے کہ آپ کسی پیر کے ساتھ آپ تین چار سال رہیں اور آپ کو یہ پتہ نہ چلے کہ یہ پیر ہے۔ مجھے بتاؤ یہ کونسی چیز ہے؟ کم از کم ہمارے ساتھ تو ہوا ہے۔ باقیوں کا تو میں نہیں کہہ سکتا ہوں۔

مجھے تو حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھ سے ایک دن پوچھا۔ کہ کیا آپ حضرت سے بیعت ہیں؟ میں نے کہا کیا حضرت بیعت کرتے ہیں؟ اس نے بڑے حیرت سے کہا، کمال ہے۔ میں تو آپ پر حیران ہوں۔ آپ کو پتہ نہیں؟ میں نے کہا نہیں۔ کہتے آپ کو پتہ نہیں یونیورسٹی کس کی برکت سے آباد ہے؟ یہ آپ کو جو پگڑی والے نظر آ رہے ہیں آپ کو تسبیح والے نظر آرہے ہیں۔ آپ کو جو نمازوں والے نظر آ رہے ہیں، یہ ان کی برکت ہے۔ پہلے جو حالات تھے وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیسے تھے۔ بہرحال یہ ہے کہ پھر حضرت نے مجھے، پھر اللہ پاک کا شکر ہے اللہ پاک نے خوابوں کے ذریعے سے بھی راستہ بنا دیا۔ اور ایک دن ہم حضرت کے پاس گئے اور حضرت سے بیعت ہو گئے۔ تو یہ ہماری ساری کارگزاری تھی۔

تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ والوں کے ساتھ ویسے ہی ملنے سے بھی بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی۔ بہت بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی ڈگر پر کام دے جاتا ہے۔

وہاں جرمنی میں جب ہم گئے۔ یقین جانیے، جرمنی کافی Attractive جگہ ہے۔ بہت Attractive جگہ ہے۔ بہت ساری چیزوں کی بنیاد پر۔ بالخصوص وہاں اگر آپ کو Accept بھی کیا جا رہا ہو، اور آپ کی ذرا عزت بھی ہو، تو پھر تو واپس آنا بڑا مشکل بظاہر لگتا ہے نا۔ لیکن اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، جرمنوں نے ہمیں رکھنا چاہا لیکن ہم جرمنی میں تیار نہیں ہوئے مطلب ٹھہرنے کے لیے۔ ایک پروفیسر لیول کا آدمی بار بار مجھ سے کہتا ہے آپ نے رپورٹ لکھ دی آپ نے رپورٹ لکھ دی؟ مقصد یہ ہے کہ میں اس پہ لکھ دوں کہ تاکہ یہاں پر وہ رہ جائے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ وہاں جرمنی میں بھی ہمیں حضرت نظر آ رہے تھے۔ اور حضرت ہی کی باتیں ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کو دیکھ لیتے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا ہے، یہ ایسا ہے۔ میں نے کہا بھئی یہ بہت اچھے آدمی ہیں لیکن ہم نے جن کو دیکھا ہے وہ تو ظاہر ہے وہ تو الگ بات ہے۔

تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت بڑا Source ہوتا ہے۔ اطمینان کا بھی، اور ساتھ ساتھ Learning کا بھی۔ اور اللہ جل شانہ ان کے ذریعے سے بہت کچھ دیتے ہیں، لیکن ذرا تھوڑا سا مستقل مزاجی کے ساتھ آنا جانا انسان شروع کر لے ایسے لوگوں کے ساتھ۔

پھر ما شاء اللہ پھر کیا ہوتا ہے؟ دیتا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ وہ لوگ نہیں دیتے۔ اور نہ دے سکتا ہے کوئی۔ انسان کے بس میں یہ ہے ہی نہیں۔ ہاں البتہ اللہ جل شانہ جب مہربان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے اپنے طریقے ہیں۔ جس ذریعے سے بھی دینا چاہے تو دے دے، چاہے وہ خواب کے ذریعے سے دے، چاہے کتاب کے ذریعے سے دے۔ چاہے کسی بزرگ کی زبان کے ذریعے سے دے۔ بس وہ اللہ تعالیٰ نے جس کے لیے لکھا ہے، وہ ما شاء اللہ وہ ان بزرگوں حضرات کی زبانوں پہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اور انسان حیران ہوتا جاتا ہے کہ یہ کیا ہے؟ میرے دل میں بات آرہی ہے ادھر سے جواب آرہا ہے۔ میرے دل میں بات آرہی ہے ادھر سے جواب آرہا ہے۔ میرے دل میں بات آرہی ہے ادھر سے جواب آرہا ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ تو یہ اصل میں یہی چیز ہے، اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے۔

اس وجہ سے ہم سب کو، ایک تو یہ بات ہے جو اس مجلس کا نچوڑ ہے۔ وہ یہ میں عرض کر سکتا ہوں کہ ہم رُجُوع اِلَی اللّٰہ کر لیں۔ دنیا سے ہم لوگ اپنا رخ اللہ کی طرف موڑ دیں۔ اور اللہ جل شانہ کی طرف رخ موڑنے میں دنیا پیچھے نہیں رہتی، دنیا پیچھے بھاگتی ہے۔ ویسے انسان دنیا کے پیچھے بھاگتا ہے پھر دنیا پیچھے بھاگتی ہے۔ تو لیکن یہ بات ہے کہ دنیا کے لیے ہم یہ نہ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری جو نیت ہو، یہ نہ ہو کہ ہم دنیا کے لیے کریں، اچھا دنیا ہمارے پیچھے بھاگے۔ بھئی یہ تو پھر دنیا کی نیت ہو گئی پھر تو دنیا کے پیچھے بھاگنا ہوا نا۔ تم اللہ کے پیچھے، تم اللہ کے مطلب جو ہے نا اللہ کو راضی کرنے کے لیے کام کرو، اللہ جل شانہ پھر ان چیزوں کو آپ کی طرف لگا دے گا۔

مجھ سے ہمارے ایک دوست تھے، اب آج کل Vienna میں ہے۔ اس نے بڑے تیکھے انداز میں ایک سوال کیا۔ مجھ کہتے ہیں شبیر صاحب یار تم جو باتیں کرتے ہو نا، پتہ نہیں کونسی باتیں کر رہے ہو، آج کل یہ باتیں کہاں سنی جا سکتی ہیں؟ آج کل لوگ چاند پر پہنچ گئے ہیں اور تم وہی پرانی باتیں لیے بیٹھے ہو، یہ کیا کر رہے ہو تم؟ دوست ہیں ہمارے، ظاہر ہے بے تکلف۔

تو میں نے بھی پھر بے تکلفی سے جواب دیا۔ میں نے کہا یہ بتاؤ کہ صحابہ کرام، یہ دنیا دار لوگ تھے، یا دنیا کو چھوڑ چکے تھے؟ کہتے ہیں وہ تو دنیا کو چھوڑ چکے تھے۔ میں نے کہا ہم سے زیادہ دنیا دار تھے یا کم؟ کہتے یار کمال ہے، وہ تو دنیا دار تھے ہی نہیں۔ میں نے کہا اچھا چلو ٹھیک ہے مان لیا۔ ہم دنیا دار ہیں نا؟ کہتے ہیں ہاں۔ میں نے کہا اب بتاؤ کہ ہم دنیا میں (آخرت کی بات نہیں کر رہا ہوں)، دنیا میں وہ زیادہ کامیاب تھے یا ہم زیادہ کامیاب ہیں؟ سوال سمجھ گئے؟ دنیا میں ہم زیادہ کامیاب ہیں یا وہ زیادہ کامیاب تھے؟ اس شخص نے، جو مجھ سے ایسی بات کر رہا ہے، وہ مجھے کہہ رہا ہے وہ زیادہ کامیاب تھے۔ وہ زیادہ کامیاب تھے۔ میں نے کہا آپ کا فارمولا تو گیا۔ آپ جو مجھے کہتے ہیں دنیا چاند پہ پہنچ گئی اور تم یہ باتیں کر رہے ہو۔ تو میں تو پھر بھی دنیا دار ہوں نا آپ کے بقول۔ تو ظاہر ہے جب میں دنیا دار ہوں، تو میں کیسے ان سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہوں؟ بقول آپ کے۔ تو اس کا مطلب ہے مجھے ان کی طرف جانا پڑے گا نا؟ دنیا میں بھی کامیاب ہونے کے لیے۔ ہمارے پاس رستہ یہی ہے۔ ہمارے پاس رستہ یہی ہے۔

مسلمان تب ہی بن سکتا ہے، جب وہ اللہ کا بنتا ہے۔ یعنی مسلمان (دنیا کے لحاظ سے بھی عرض کرتا ہوں)، تب ہی بن سکتا ہے، جب وہ اللہ کا بنتا ہے۔ جب وہ اللہ کو چھوڑتا ہے، پھر وہ کسی چیز کا بھی نہیں بنتا۔ پھر وہ کیا بنتا ہے؟ وہ ایسا کتا بنتا ہے اللہ بچائے اللہ بچائے۔ جس کو ہر ایک دھتکارتا ہے۔ ادھر سے بھی دھتکارتا ہے، ادھر سے بھی دھتکارتا ہے، ادھر سے بھی دھتکارتا ہے۔ پھر وہ ایسا کتا بن جاتا ہے۔ بالکل یہی بات میں عرض کروں، یہ الفاظ میرے ذرا سخت ہیں، لیکن آپ ذرا تھوڑا سا غور کر لیں آگے پیچھے کیا یہ ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا۔

لیکن جب مسلمان اللہ کو پہچانتا ہے، اور اللہ کی طرف جاتا ہے، یہ ساری دنیا دار کتوں کی طرح سامنے آتے ہیں۔ اور اپنا منہ ان کے سامنے ڈال لیتے ہیں۔ یہ بات ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی اللہ کو نہ چھوڑو۔ اللہ کو کبھی نہ چھوڑو اس میں بہت بڑا نقصان ہے۔ دنیا کا بھی نقصان ہے، آخرت کا بھی نقصان ہے۔

اگر ہم نے کچھ کرنا ہے تو یہی کرنا ہے کہ ہم اپنا دل اللہ کو دے دیں۔ اللہ تعالیٰ کو مان لیں، اللہ تعالیٰ کی بات سنیں، اللہ جل شانہ کے لیے کام کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں پوری وہ کائنات کے اوپر ما شاء اللہ حکمرانی نصیب فرمائے گا۔

کائنات کے اوپر، آپ کہیں گے یہ مبالغہ کر رہا ہے۔ یہ مبالغہ کر رہا ہے۔ مبالغہ نہیں ہے۔ کائنات کے اوپر ہی ہوتا ہے۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ یعنی فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اعمال کی وجہ سے بر و بحر میں۔ تو اگر یہ اعمال ہمارے اچھے ہو گئے تو اس کا Opposite ہوگا نا؟ Opposite ہوگا نا؟ تو پوری کائنات کے اندر Favorable changes آتی ہیں۔ Favorable changes آتی ہیں اگر ہمارے اعمال صحیح ہو جائیں۔ اور اگر ہمارے اعمال خراب ہو گئے تو پھر یہ چیز ہو جاتی ہے۔

اس وجہ سے ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ تو ایک بات تو یہ ہے رجوع الی اللہ کا سب سے پہلا کام، کہ جو گزشتہ کیا ہے اس پر توبہ۔ جو گزشتہ کیا ہے اس پر توبہ۔ تو میں الفاظ دہرا دیتا ہوں، ظاہر ہے وہ تو موسیٰ علیہ السلام کے جو ساتھی تھے نا اس نے تو دل ہی میں سارا کچھ کہہ دیا تھا نا، تو چلیں ہم زبان پر ہی کم از کم کہہ دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو دل کا بھی کر دے۔ اے اللہ ہم توبہ کرتے ہیں۔ تمام گناہوں سے۔ چھوٹے گناہ ہیں یا بڑے گناہ ہیں۔ ہمیں معلوم ہیں یا نہیں ہیں۔ قصداً ہوئے ہیں یا خطا سے ہوئے ہیں۔ ظاہر کے ہیں یا باطن کے ہیں۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول فرما۔ ہم آئندہ کے لیے ان شاء اللہ گناہ نہیں کریں گے۔ اگر پھر بھی ہم سے گناہ ہو گیا، تو فوراً توبہ کریں گے۔ اے اللہ ہماری توبہ قبول فرما۔

توکل علی اللہ، صحبتِ صالحین اور رجوع الی اللہ کی برکات - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور