بخل، اسراف اور شرم و حیا: مال و اخلاق میں اعتدال کی اہمیت
کتاب: انفاس عیسی، تہذیبات، حصہ اول (بخل تا حیائے مُفرِط)
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہماری خانقاہ میں انفاس عیسیٰ کا درس آج کل ہو رہا ہے۔ انفاس عیسیٰ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک خلیفہ مولانا محمد عیسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کے جمع کردہ ملفوظات ہیں حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے۔ حضرت نے اس نسبت سے اس کا نام انفاس عیسیٰ رکھا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی سانسیں۔ یہ ایک لفظ ماشاءاللہ مترادف آگیا کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام بے جان چیزوں میں پھونک مارتے تھے تو وہ جاندار بن جاتا۔ تو گویا کہ ان ملفوظات کے ذریعے سے جو مردہ دل ہیں وہ جاندار بن جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اس نام کے ساتھ اس کی بڑی مناسبت ہے۔
آج انشاء اللہ کچھ بخل کے بارے میں انشاء اللہ العزیز ملفوظات کچھ بتائے جا رہے ہیں۔
بُخلِ مذموم کی حد:
حال:
کسی کا حال ہے
پیسہ اٹھاتے ہوئے قلب بہت تنگ ہو جاتا ہے۔
حضرت فرماتے ہیں:
اگر کوئی حقِ واجب فوت نہ ہو تو کچھ غم نہیں۔
اصل میں ہوتا یوں ہے کہ جو تقاضے ہوتے ہیں نفس کے اس پہ گرفت نہیں ہے۔ لیکن ان تقاضوں کے اوپر عمل کرنے سے گرفت ہو جاتی ہے۔ اگر وہ قابل گرفت ہو اور اگر قابل اجر ہو تو پھر اجر مل جاتا ہے۔ مثلاً ایک بہت اچھا شخص ہے جس کی طبیعت چاہتی ہے کہ میں سخاوت کروں۔ لیکن وہ سخاوت کرتا نہیں تو اس کو اجر نہیں مل رہا بس صرف اس شوق کی وجہ سے۔ لیکن اگر وہ سخاوت کرے گا تو اس کو اس کا اجر مل جائے گا۔ اس طرح ایک شخص ہے جس کا دل بخل کی طرف مائل ہے۔ وہ کوئی چیز خرچ نہیں کرنا چاہتا اللہ کے راستے میں۔ تو اس کو کوئی نقصان نہیں اس وقت تک جب تک اس پر عمل نہ کرے۔ مثلاً وہ فرض زکوٰۃ دیتا رہے اور جو واجب اعمال ہیں وہ ہوتے رہیں۔
اور اگر ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اپنی طبیعت پر جبر کر کے وہ وہاں پر بھی خرچ کر لے جس میں اللہ کی خوشنودی ہو اور اس کے اوپر واجب نہ ہو یعنی مستحب ہو تو اس کو اجر باقی لوگوں سے زیادہ ملے گا۔ کیونکہ وہ اپنے نفس کا مقابلہ کر رہا ہے۔ تو اس لحاظ سے حضرت نے فرمایا کہ اس میں کوئی غم نہیں اگر کوئی حق واجب فوت نہیں ہو رہا۔
کسی نے پوچھا ہے:
خرچ میں حبِ اعتدال کی علامت:
حال: خرچ کرنے میں فی الجملہ گرانی معلوم ہوتی ہے، ناداری اور قرض سے خوف رہتا ہے، گو حق واجبہ میں کوتاہی نہیں کرتا
تو حضرت نے فرمایا:
تہذیب: یہ حبِ مال نہیں، حبِ اعتدال ہے۔
کیونکہ اعتدال میں ان تمام حقوق کو آسانی کے ساتھ پورا کر لیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ:
ناداری اور قرض سے خوف رہتا ہے، گو حق واجبہ میں کوتاہی نہیں کرتا
تو اگر حق واجبہ میں کوتاہی نہیں کرتا تو پھر تو ٹھیک ہے۔ پھر تو قرض ایک ذلت کا جھن ہے۔ اس سے تو بچنا چاہیے۔ اور ناداری کے بارے میں ہے کہ بعض دفعہ فقر انسان کو کفر تک لے جاتا ہے۔ لہذا اپنے آپ کو اس کے حوالے تو نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی کوشش کرنی چاہیے کہ انسان مطلب ظاہر ہے کہ اپنے لیے کچھ کمائے خود بھی استعمال کرے دوسروں کو بھی دے۔
حضرت فرماتے ہیں:
تہذیب: "مَنْ أَعْطٰی لِلہِ وَ مَنَعَ لِلہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْإِیْمَانَ" اس میں اعطاء و منع دونوں کے ساتھ ''لِلہِ'' کی قید ہے، جس سے معلوم ہوا کہ سخاوت مطلقاً محمود نہیں، نہ بخل مطلقاً مذموم، بلکہ اگر خدا کے لیے ہو تو دونوں محمود ورنہ مذموم، غرض اخلاق سب فطری و جبلّی ہیں، اور درجہ فطرت میں کوئی خُلق نہ مذموم ہے نہ محمود، بلکہ مواقعِ استعمال سے ان میں مدح و ذم آ جاتی ہے۔
حدیث شریف میں بتایا گیا مَنْ أَعْطَى لِلّٰهِ وَمَنَعَ لِلّٰهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ جس نے اللہ کے لیے دیا اور جس نے اللہ کے لیے روکا اس نے اپنے ایمان کو کامل کر دیا۔ تو اس میں دیکھو دونوں میں یعنی قید ہے لِلّٰهِ کی یعنی اللہ کے لیے۔ پس اگر کوئی ویسے فطرتاً سخی ہے لیکن اللہ کے لیے اس کو نہیں کر رہا تو اس کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اور اگر ویسے بخیل ہے اور لیکن اللہ کے لیے منع نہیں کر رہا روک نہیں رہا تو اس کو کوئی فائدہ نہیں۔ دونوں کو تب فائدہ ہو گا جب اس میں نیت صحیح آ جائے گی إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
فرماتے ہیں:
اذنِ بخیل مشکوک ہے:
تہذیب: اگر دل گواہی دے کہ میرا بدوں اذن کے کھانا اس شخص کو نا گوار نہ ہو گا بلکہ خوش ہو گا، وہاں بدوں اذن کے بھی کھانا جائز ہے۔ بلکہ چھین کر بھی کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ دوست سخی ہو بخیل نہ ہو، کیونکہ بخیل کو کسی سے محبت نہیں ہوتی، اور اگر ہوتی بھی ہے تو مال کے برابر نہیں، اس لیے بخیلوں کی اجازت بھی مشکوک ہے۔ ہاں سخی دوستوں سے اگر پوری بے تکلفی ہو تو چھین کر بھی کھانا جائز ہے۔
مطلب یہاں پر یہ والی بات ہے کہ انسان طیب خاطر کے بغیر نہ لیں۔ یعنی انسان دوسروں کی اِذن کے بغیر اس کی چیز کو استعمال نہ کرے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی شخص ہے اور اس کو پتا ہے کہ اس آدمی کو اتنی محبت ہے مجھ سے یا اتنا سخی ہے کہ اگر میں اس کے اجازت کے بغیر کھاؤں گا تو خوش ہو جائے گا۔ کہ دیکھو مجھے اپنا سمجھتا ہے۔ تو ایسی صورت میں تو پھر۔
حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ بہت سارا غلہ جمع کر لیا۔ تو گودام میں پڑا تھا۔ صبح کسی نے اطلاع کر دی کہ وہ گودام تو لوٹ لیا گیا۔ لوگ لے گئے۔ تو حضرت مسکرائے، فرمایا میں نے اسی لیے تو رکھا تھا۔ میں نے اسی لیے تو رکھا تھا کہ لوگ لے جائیں۔ تو آپ دیکھیں مطلب اگر کسی کے ساتھ یا کسی کا یہ معاملہ ہو کہ وہ اسی لیے رکھتے ہوں پاس۔
ہمارے ڈاکٹر جمال خان ایک پروفیسر صاحب تھے۔ ان کا یہ طریقہ تھا کہ وہ اپنی جیب میں چلغوزے اور پستے اور اس قسم کی چیزیں رکھتے تھے۔ اور ان کی خواہش ہوتی کہ یہ میرے شاگرد مجھ سے میری جیبوں سے زبردستی نکال کے کھائیں۔ تو ٹھیک ہے جی وہ شاگرد ان کے ساتھ ایسے کرتے تھے ان کی یہ کہ یہاں تک کہ بعض دفعہ جیب بھی پھٹ جاتی۔ دیکھو اس پہ خوش ہوتے ہیں، بس ہوتے ہیں بعض لوگ اس قسم کا مزاج ہوتا ہے۔
ایک دفعہ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ان کی خانقاہ پر ایک نیا آدمی آئے تھے تو اس نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں جس کو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے گریبان سے پکڑا، اس کو اٹھایا گرایا، اس کی جیب سے زبردستی پیسے نکالے اور اپنے کسی ساتھی کو کہا جاؤ اس کی مٹھائی لے آؤ۔ وہ جا کر مٹھائی لے آیا اور حضرت نے اس کو سب میں تقسیم کر دیا۔ تو یہ صاحب جو نیا تھا اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آدمی تو بڑا شریف لگتا ہے لیکن کام تو انہوں نے ایسا کیا کہ جو شریفوں کا نہیں ہے۔ تو انہوں نے کہا آپ ذرا اس شخص سے پوچھ لیں نا جس کے ساتھ ایسے کیا ہے پھر آپ کچھ بات کریں۔ تو اس کے پاس گیا، اور کہا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ اس نے کہا میں تو آتا ہی اس لیے ہوں کہ میرے ساتھ ایسا کیا جائے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ نے طبیعتیں بھی مختلف بنائی ہیں، مزاج مختلف ہیں۔ لیکن نیت والی بات چلتی ہے۔ تو یہاں پر بھی نیت کی بات ہے۔
سود لینے سے بخل بڑھتا ہے:
تہذیب: سود لینے سے بخل بڑھتا ہے کیونکہ سود لینے کا سبب ہی بخل ہے۔ جتنا سود لیتا ہے بخل اتنا ہی بڑھتا ہے، یہاں تک کہ اپنے تن پر بھی خرچ نہیں کر سکتا۔
یہ ہم نے دیکھے ہیں واقعی جو سود خور ہوتے ہیں وہ اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ان کا انیس بیس کا چکر لگا رہتا ہے۔ کہ میں انیس سے بیس بنا سکتا ہوں۔ اب اگر کسی کے پاس دو ہزار روپے ہیں تو اس کو دو ہزار روپے سے اگر انٹرسٹ آتا ہے دو سو روپیہ تو چار ہزار روپے سے چار سو روپے انٹرسٹ آئے گا۔ اب چھ ہزار پر وہ چھ سو روپے انٹرسٹ آئے گا۔ تو اب یہ ہے کہ اس کو اس کے پاس پیسے جتنا بڑھتے جاتے ہیں تو اس کو اس کا وہ جو سود کا جو output ہے وہ بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ تو کہتا ہے کہ میں سارے کا سارا لگا دوں۔
مثلاً ایک دفعہ ایسے ہوا کہ ہمارے گاؤں میں ایک ظالم آیا اور اس نے ایک سودی کاروبار شروع کیا۔ اور چھ مہینے میں وہ بتاتے تھے کہ میں ڈبل کروں گا۔ مطلب جتنے پیسے کسی نے دیے تھے چھ مہینے میں ڈبل، ڈبل ہو جائیں گے۔ تو اس کو جس جیسے کسی نے دو لاکھ روپے دے دیے۔ تو چھ مہینے کے بعد وہ کہتے ہیں چار لاکھ روپے لے لو۔ پھر کہتے ہیں اگر چاہیں تو آپ لگا دیں پھر یہ ڈبل ہو جائیں گے۔ اب لوگ اس خوشی میں کہ پھر یہ ڈبل ہو جائیں گے تو چار لاکھ پھر واپس کر دیتے۔ اور پھر وہ ہے کہ اگلی دفعہ پھر آٹھ لاکھ۔ کہتے ہیں اگر چاہے تو ان کو بھی ڈبل کر دو۔ تو اس طرح کوئی پیسہ ان سے لینے کا نہیں ہو رہا تھا مطلب ظاہر ہے وہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اور زیادہ ہو اور زیادہ ہو۔ حتیٰ کہ وہ شخص پتا نہیں اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا جو بھی ہے لیکن بہرحال اس کا دیوالیہ ہو گیا۔ پھر کوئی اس کے صوفے لے گیا، کوئی اس کی چارپائی لے گیا، کوئی اس کا وہ پنکھا لے گیا، کوئی اس کا جو بھی لے گیا۔ جس کے ہاتھ جو لگا اور اکثر لوگوں کے پیسے ڈوب گئے۔
اب یہ والی بات میں اصل میں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھو وہ شیطانی نظام کہ اس کو دکھا دیتے ہیں کہ دیکھو یہ تمہارے دو لاکھ کے چار لاکھ روپے ہیں۔ لیکن اگر آپ اس کو ڈبل کرنا چاہیں تو۔ اب ان کو وہ چار لاکھ کا ڈبل تو آٹھ لاکھ ہوتا ہے نا، دو لاکھ کا چار لاکھ ہوتا ہے تو آٹھ لاکھ تو زیادہ انٹرسٹ ہے زیادہ مطلب ہے دلچسپی ہے اس کے ساتھ۔ تو کیوں اس کو لیتا؟ تو اس طرح شیطانی چکر چلتے رہتے ہیں۔ جس میں ہر وقت انسان مزید مزید مزید مزید، ھل من مزید۔ اس کے چکر میں لگے رہتے ہیں نتیجتاً خود بھی تباہ ہو جاتے ہیں دوسروں کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ سود لینے والا جو ہوتا ہے وہ اپنے اوپر بھی خرچ نہیں کرتا وہ کہتا ہے بھئی اتنے پیسے میں پھر لائن میں لگا دوں۔ تاکہ اس پہ مزید پیسہ آ جائے۔ منی پمپ ہے۔
اسراف
اسراف سے بچنے کا طریقہ تأمّل و مشورہ ہے:
تہذیب: خرچ کرنے سے قبل دو امر کا التزام کر لیں: ایک یہ کہ پہلے سوچا کریں کہ اگر اس جگہ خرچ نہ کروں تو آیا کچھ ضرر ہے یا نہیں؟ اگر ضرر نہ ہو اس کو ترک کر دیں۔ اور اگر ضرر معلوم ہوتا ہو تو پھر کسی منتظم سے مشورہ کریں کہ یہ خرچ خلافِ مصلحت اور نامناسب تو نہیں؟ وہ جو بتلائے اس پر عمل کریں۔ ضرر سے مراد ضررِ واقعی اور حقیقی ہے، جس کا معیار شریعت ہے، وہمی و خیالی ضرر مراد نہیں۔
مطلب یہ ہے کہ انسان بعض دفعہ خرچ کرتا ہے تو ضرورت سے زیادہ خرچ کر لیتا ہے، اس کو اسراف کہتے ہیں۔ تو اس کا یہ ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اس میں دو امر کا التزام کر لے۔ ایک تو یہ کہ پہلے سوچ لیا جائے کہ میں اس جگہ خرچ کروں یا نہ کروں؟ پس اگر کچھ ضرر مطلب اس کے نہ خرچ کرنے میں آتا ہو تو پھر تو خرچ کر لے۔ اور اگر ضرر نہ ہو تو چھوڑ دے۔ اور اگر ضرر معلوم ہو تو پھر کسی منتظم سے مشورہ کر لے کہ یہ خرچ خلاف مصلحت یا نامناسب تو نہیں ہے۔ اگر وہ کچھ بتائے تو اس کے اوپر پھر عمل کر سکتے ہیں۔
ضرورتِ واقعہ کے معلوم کرنے کا طریقہ اور بقدرِ وسعت تطییبِ قلبِ زوجہ بھی ضرورت میں داخل ہے:
حضرت فرماتے ہیں:
تہذیب: اسراف کے متعلق یہ کہتا ہوں کہ جب کوئی چیز خریدنا چاہو تو سوچ لو کہ ضرورت ہے یا نہیں؟ اور اگر ذہن میں ضرورت فوراً آ جائے تو خرید لو، اور اگر فوراً ضرورت ذہن میں نہ آئے تو نہ خریدو، کیونکہ جس ضرورت کو آدھ گھنٹہ تک سوچ سوچ کر پیدا کیا جائے وہ ضرورت نہیں۔ اور اگر دل میں بہت تقاضا ہو اور ضرورت معتد بہا سمجھ میں نہ آئے تو ایسی صورت میں چیز خرید لو اور اطمینان سے بیٹھ کر سوچتے رہو۔ اور اگر اسراف نہ ہونا متحقق ہو جائے کھا لو ورنہ خیرات کر دو اور بیوی کو کھلا دینا بھی خیرات ہی ہے۔ اور اگر بیوی کا جی خوش کرنے کو بلا ضرورت بھی کوئی چیز خرید لو تو وہ بھی اسراف نہیں کیونکہ تطییبِ قلبِ زوجہ بھی مطلوب ہے بشرطیکہ اس میں طاقت سے زیادہ قرض نہ کرے۔
اصل میں واقعۃً ہم لوگوں نے ذرا تھوڑا سا یہ جو معاشرت کی جو چیزیں ہیں نا وہ ہم لوگ رواجی چیزوں میں پڑ جاتے ہیں اور دینی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں۔ رواجی چیزوں میں بہت بہت خرچ بھی آسان ہو جاتے ہیں بڑے بڑے خرچ بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ اور جس وقت دینی خرچ کا موقع آتا ہے تو انسان سوچنے لگتا ہے کہ مطلب میں کروں یا نہ کروں۔ تو اس میں یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہے کوئی چیز خریدنا چاہے مثلاً کوئی کپڑا اس کو اچھا مل گیا۔ کوئی کھانے کی چیز اس کو مل گئی۔ تو وہ پھر سوچے کہ ضرورت ہے یا نہیں ہے۔ میں اس کو اگر نہ لوں تو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اگر ضرورت فوراً ذہن میں آ جائے کہ اس وجہ سے خرید لو۔
مثلاً ٹیبل لیمپ ہے۔ میں ٹیبل لیمپ خریدنا چاہتا ہوں اچھا مجھے study کرنی ہے، بعض لوگ چونکہ اگر میں بڑا بلب جلا لوں تو سب لوگوں کو سونا مشکل ہو گا تو یہ ٹیبل لیمپ ذرا تھوڑا سا limited روشنی ہوتی ہے اس وجہ سے مجھے اس میں فائدہ ہے کہ میں بھی study کر سکوں گا باقی لوگ مطلب میں ان کو تکلیف نہیں دوں گا۔ تو ضرورت فوراً آ گئی تو بس ٹھیک ہے جی لے لیا۔ لیکن اگر میں کوئی لمبی چوڑی پلاننگ شروع کر لوں کہ اچھا یہ اور چاہیے یہ اور چاہیے اچھا یہ تو اس کا مطلب ہے کہ اصل ضرورت نہیں ہے۔ ویسے ہی بس بہانہ سازی ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر نہیں خریدنا چاہیے۔ فرمایا اگر تقاضا بہت ہو اور ضرورت ذہن میں نہ آئے۔ تو ٹھیک ہے خرید تو لے لیکن استعمال نہ کرے۔ اس وقت تک جب تک کہ اس کا ذہن میں کوئی باقاعدہ وہ نہ ہو۔ تو اگر کوئی ایسی چیز نہ ہو تو پھر کیا کرے۔ کہ اگر اسراف نہ ہو تو پھر تو کھا لے۔ اور اگر اسراف ہو تو خیرات کر دے۔ اور اگر بیوی کو دے دیا تو پھر بھی ٹھیک ہے کیونکہ ظاہر ہے بیوی کا دل خوش کرنا یہ بھی شریعت مطہرہ کا ایک طریقہ ہے۔
اصل میں بات یہ ہے کہ کیوں اس چیز پر اتنا زور ہے بیوی کو خوش کرنے پر۔ جس نے بھی پاک زندگی گزارنی ہو نا تو وہ بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ اور آپ نے دیکھا جن کے بیوی کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں ہوتے ان کی زندگی پاک نہیں رہتی۔ ان کی زندگی خراب ہو جاتی ہے۔ شادی جو ہے یہ ہوتی ہی اس لیے ہے۔ کہ انسان کی عصمت کی حفاظت ہو جائے دونوں طرف کی۔ ہوتی ہی اس لیے ہے۔ تو اگر انسان کو اپنے گھر میں آرام ہو۔ اور مطلب یہ ہے کہ اس سے وہ پورے ہوتے ہوں تمام تقاضے۔ تو پھر باہر کیوں دیکھے گا۔ لیکن اگر گھر سے مسائل ہوں۔ تو پھر تو ادھر ادھر ہی نظر جائے گی۔ تو ادھر ادھر نظر جانا ظاہر ہے وہ گناہ ہی ہے۔ اس گناہ میں انسان پھنسا رہے گا۔
تو ایسی صورت میں جو میاں بیوی کا جو تعلق ہے اس کو اللہ تعالیٰ بہتر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی کہتے ہیں کہ طلاق جو ہے یہ جائز چیزوں میں اللہ پاک کو بہت ناپسند چیز ہے۔ جائز چیزوں میں۔ جائز تو ہے۔ لیکن ناپسند ہے بہت حتیٰ کہ عرش تک ہل جاتا ہے۔ اگر طلاق ہو جائے۔
اور میاں بیوی کی خوشی جو ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی خوشی پنہاں ہے۔ میاں بیوی اگر آپس میں خوش ہوں تو اس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں۔ میاں بیوی اگر ناراض ہوں آپس میں تو اس سے اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔ اللہ پاک کو یہ پسند نہیں ہے بلکہ شیطان کی اسپیشل چیزوں میں جس پہ شیطان کو بہت بڑی شاباش ملتی ہے اپنے شیطانی نظام میں وہ وہ یہی ہے کہ میاں بیوی کو جدا کرنا۔ اور یا کسی طالب علم کو علم سے برگشتہ کرنا۔ یہ دو کام اس کے اسپیشل ہیں۔ تو اس وجہ سے ہمیں اس مسئلے میں خیال رکھنا چاہیے تو حضرت نے فرمایا کہ اگر بیوی کے لیے خرید لیا تو کوئی بات نہیں ہے۔ وہ بھی اس میں ہے۔
اسراف سے بچنے کی ترکیب:
تہذیب: (1) اہل اللہ کا مذہب رکھو، وضع دار لوگوں کا مت رکھو،
وضع دار سے مراد یہ ہے کہ جو اپنی تراش خراش کو دیکھتے رہتے ہیں۔ میری کیپ کیسی ہونی چاہیے، اچکن کیسی ہونی چاہیے، عینک کیسی ہونی چاہیے، اور جوتے کیسے ہونے چاہئیں، یہ وضع داری ہے۔ اللہ والے جو ہوتے ہیں وہ ان کا سب سے بڑا کام یہ ہوتا ہے کہ اللہ مجھ سے راضی رہے۔ ان کی کوئی اور سوچ اس کے مقابلے کی نہیں ہوتی۔ وہ اگر جمال بھی کرتے ہیں تو اللہ کے لیے کرتے ہیں۔ وہ سارے کام اللہ کے لیے کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں:
اہل اللہ کا مذہب رکھو، وضع دار لوگوں کا مت رکھو، رسم و رواج کے ذرا بھی مقیَّد نہ بنو۔
رسم و رواج سے مقید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عقل کا رونا رو لے۔ رسم و رواج کس چیز کو کہتے ہیں؟ اس کو کہتے ہیں کہ میرے اندر کوئی عقل نہیں ہے۔ جو مجھے جس طریقے سے چلائے میں اس طریقے پہ چلنے کے لیے تیار ہوں۔ یعنی کیونکہ اس میں عقل کو نہیں استعمال کیا جاتا رسم و رواج میں۔ بس وہ بھیڑ کی چال ہوتی ہے۔ اگر پہلی بھیڑ وہ کنویں میں گر گئی تو باقی بھیڑیں سر نہیں اوپر اٹھائیں گی، وہ بھی بس گرتی جائیں گی، گرتی جائیں گی، گرتی جائیں گی۔ یہ بھیڑ کی چال ہوتی ہے۔ اور جو ذرا سمجھداری کی بات ہوتی ہے تو وہ ذرا دیکھتے ہیں اگر کسی کو نقصان ہو گیا تو اس چیز کو پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس چیز کو نہیں کرتے۔ تو رسم و رواج کے ذرا برابر بھی مقید نہ ہو۔
(2) بلا ضرورت ہرگز مقروض مت بنو، گو رسم و رواج کے خلاف کرنا پڑے۔ مقروض ہونے سے بڑی پریشانی ہوتی ہے، جس کا انجام بہت بُرا ہے۔
واقعۃً جب انسان مقروض ہو جاتا ہے اس کے لیے زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ آنکھیں ملانے کی جرأت وہ نہیں کر سکتا۔ اس کی آواز بڑی کمزور ہو جاتی ہے۔ وہ کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی اس کو گلے سے پکڑ سکتا ہے کہ تو میرا قرض دے دے۔ تو یہ چیز یہ ہے کہ ذلت کا جھنڈا ہے۔ لہذا انسان بلاوجہ کیوں مقروض ہو اور بالخصوص ایسا مقروض جس میں دینے کی نیت ہی نہ ہو۔ وہ تو ڈاکہ ہے۔ اور ڈاکہ بھی شرفاء پر ہے۔ کیونکہ قرض شریف لوگ ہی دیتے ہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ڈاکہ بھی شرفاء پر ہے، آپ نے ان کو exploit کیا۔ آپ نے ان کے تعلق کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔ تو بہت نقصان کی بات ہے۔ تو یہ یہ ہے کہ قرض میں اس قسم کی پریشانیاں ہیں کہ انسان قرض نہ لے، قرض سے بچے۔
ہر مسلمان کو وہی مذہب رکھنا چاہیے جو اہل اللہ کا ہے۔ (3) سب سے پہلے انتخاب گھر کا کرو، جتنی چیزیں کام میں آتی ہوں رہنے دو اور جتنی چیزیں کام میں نہ آئیں خارج کر دو، یا بیچ دو، یا مساکین کو دیدو نفلی صدقہ دینے کی ہمت نہ ہو تو زکوٰة ہی میں دے دو۔ (4) گھر کا معائنہ کیا کرو، گھر میں بہت سی چیزیں ایسی دیکھو گے جو سڑ رہی ہیں، کسی کو دیمک لگ رہی ہے، پس ایسی چیزوں کو اپنی مِلک سے الگ کردو تاکہ گھر میں رونق ہو۔
بعض لوگوں کو اس کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم لوگوں سے زائد پڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم لوگ ضرورت مند کو دے دیں تو ان کا کام بن جائے گا۔ اور ہماری کوئی ہم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ہماری ضرورت کی تو نہیں ہوتی۔ تو ایسی صورت میں ہمارے گھر میں بھی رونق ہو جائے گی۔ اور ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس میں ہمارے اوپر اثر بھی نہیں پڑے گا۔
(5) روز مرہ معاشرت میں یہ مقرر کر لو، جو کام کرو سوچ کر کرو، بے تأمّل مت کر ڈالو کہتے ہیں پہلے تولو پھر بولو۔ Think before you leap. تو یہ چیز یہ ہے کہ ہمیں باقی اعمال میں بھی کرنی چاہیے کہ جو عمل کرے تو پہلے سوچے کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، consequences کیا ہوں گے۔ کہیں ایسی چیز تو نہیں بنے گی جس سے مجھے پھر بعد میں پریشانی ہو جائے، پشیمانی ہو جائے۔ تو اس وجہ سے کوئی کام بے تأمل نہیں کرنا چاہیے، سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
کسی کے کہنے سے کوئی کام مت کرو بس اپنی رائے پر عمل کرو۔
واقعۃً کسی کے کہنے پہ اس لیے عمل نہ کرو کہ اس کو تمہارے تمام حالات کا پتا نہیں ہے۔
تمہیں اپنے معاملات کا خوب پتا ہے۔
تو اگر آپ کا کوئی مربی ہو تو اس کو تو بتانا چاہیے۔
وہ تو آپ کو سمجھائے گا۔
لیکن عام ہر کس و ناکس کو تو آپ نہ پوری سٹوری سنا سکتے ہیں اور نہ وہ پورے سمجھ سکتے ہیں۔
لہذا آپ کو جو بھی بتائے گا وہ کچھ آگے پیچھے ہی بات ہو گی۔
تو اس وجہ سے جو تمہیں کچھ کہے تو اس کی قدر تو کر لو کہ آپ اس کا انکار نہ کرو لیکن عمل وہ کرو جس کو تم اچھا سمجھتے ہو۔
سُن لاکھ کوئی تجھے سنا دے
کیجیو وہی جو سمجھ میں آئے
حیا و خجلت
حیا۔ اَلْحَيَاءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ۔ بے شک حیا جو ہے وہ نصف ایمان ہے۔ تو یہ حیا اور خجلت کیا چیز ہے؟
کِبر و خجلت کا فرق اور اس کی شناخت کا معیار:
تہذیب: مجمع کے سامنے جو پانی کا گھڑا یا آم کی ٹوکری وغیرہ اٹھا کر لے چلنے میں عار آتی ہے، متوسّط کے لئے اس کا منشا کِبر ہوتا ہے۔ اس کو بتکلّف اٹھانا علاجاً ضروری ہے۔ خلافِ عادت فعل کرنے میں جو طبیعت شرماتی ہے اس کو ’’خجلت‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن تکبّر و خجلت کا فرق یوں ظاہر ہو سکتا ہے کہ اگر مثلاً کسی شخص کو اس بات سے گرانی ہو کہ وہ سر پر ٹوکرا رکھ کر سرِ بازار نکلے اور اس سے شُبہ کبر (تکبر کا شبہ) کا ہو تو دیکھنا یہ چاہیے کہ مثلاً اگر خلافِ عادت اس کو ہاتھی پر بٹھا کر جلوس کے ساتھ بڑی شان و شوکت سے بازار میں نکالا جائے تو اس کو آیا اس سے بھی انقباض ہو گا اور شرم آئے گی یا نہیں؟ اگر اس سے بھی انقباض ہو تو ایسے شخص کو ٹوکرا اٹھانے سے جو انقباض ہے اس کو تکبّر نہ کہیں گے، بلکہ خَجلت کہیں گے۔
خجالت شرم کو کہتے ہیں جیسے کسی کو شرم آتی ہے کسی چیز سے۔ تو ضروری نہیں ہے کہ انسان جو ہر کام نہ کرے تو شرم کی وجہ سے ہو۔ عین ممکن ہے تکبر کی وجہ سے ہو۔ تو تکبر کی وجہ سے نہ کرنا تو تکبر تو بہت بڑی بیماری ہے اس سے تو بچنا چاہیے۔ تو فرمایا کہ فرق کیسے کریں گے کہ یہ تکبر ہے یا خجالت ہے۔ تو شرم جو آتی ہے وہ دونوں صورتوں میں بھی آتی ہے۔ مطلب آپ کو جس چیز میں مزہ آتا ہے اس میں بھی شرم آتی ہے اور جس چیز میں نہیں آتا اس میں بھی شرم آتی ہے۔ مثلاً ایک یہ ہے کہ آپ اپنے لیے بھی سودا خرید نہ سکیں، مطلب اس کے لیے بھی شرم اور دوسرے کے لیے بھی نہ کر سکیں۔ تو ٹھیک ہے۔
لیکن صرف دوسرے کے لیے تو شرم آتی ہو اور اپنے لیے شرم نہیں آتی ہو تو پھر یہ۔۔۔ اس طریقے سے یہ ہے کہ ایک آدمی ہے اس کو بہت اچھی جگہ پر بٹھایا جائے۔ مثلاً وہ ہوتے ہیں نا بعض لوگ کہتے ہیں بھئی آؤ، بزرگ کہہ دیتے ہیں آ جاؤ۔ ان کو شرم آتی ہے وہ نہیں بیٹھتے ان کے ساتھ۔ شرم آتی ہے۔ تو اگرچہ وہ تو ان کے لیے سٹیٹس ہے۔ وہ بزرگ ان کو بلاتے ہیں یا کوئی بڑا ان کو بلا دے۔ گورنر کہہ دے کہ میرے پاس آ کر بیٹھ جاؤ۔ تو اس کو شرم آتی ہے اس سے۔ تو اگر وہ کسی کمزور جگہ پہ جانے سے شرم کرے تو یہ اس کی وہ عادت ہے خجلت کی وجہ سے۔ لیکن اگر ایسے نہیں کہ وہاں تو بہت آرام سے جائے بہت شوق سے جائے اور جو ایسے low level کے کام ہوں اس میں اس طرح اس کو خجلت ہو تو اس کا مطلب ہے وہ تکبر ہے۔
امامت بھی اسبابِ صلاحیت سے ہے بشرطیکہ تعیّن دوسروں کی طرف سے ہو:
حال: امامت کرتے ہوئے شرم آتی ہے خصوصاً ایسے مقدّس و با برکت مجمع میں۔
کبھی کسی کو حضرت نے فرمایا ہوگا کہ امامت کرو۔ کہا کہ حضرت مجھے تو بہت شرم آتی ہے۔ فرمایا:
تہذیب: طبعًا ایسا ہی کرنا چاہیے۔ مگر عقلاً یہ سمجھا جائے کہ آپ نے از خود ایسا کام نہیں کیا بلکہ دوسروں کی طرف سے سپرد کیا گیا ہے۔ اور بروئے حدیث اس میں آپ کی منجانب اللہ اِعانت ہو گی، بلکہ اِعانتِ خداوندی سے اہلیت کو تخلّف نہیں ہو سکتا۔ پس یہ بھی اسبابِ صلاحیت سے ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو اس سے شرم آتی ہو مثلاً کوئی امام بن جائے یا کوئی استاد بن جائے۔ تو اگر خود بن جائے تو پھر تو مسئلہ ہے۔ لیکن اگر کوئی لوگ ان کو بنا لیں اور ان کی مجبوری بن جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے۔
حیائے مُفرِط:
یعنی زیادہ حیا جو مناسب نہ ہو۔
تہذیب: حیا وغیرہ اسی وقت تک مطلوب ہیں جب تک مُوجبِ قُرب ہوں۔ اور اگر مُوجبِ بُعد ہونے لگیں تو اب ان کی ضد مطلوب ہو گی۔ بعض لوگ غلبۂ حیا کی وجہ سے عورت پر قادر نہیں ہوتے، ان کو چاہیے کہ بہ تکلّفِ حیا کو کم کریں اور دل لگی، مذاق اور بے تکلّفی اختیار کریں۔ اسی طرح طریقِ باطن میں جس شخص کو غلبۂ حیا ’’استغفار‘‘ سے مانع ہو اس کا علاج یہی ہے کہ وہ بے حیا بن کر ''اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ'' کہے اور بار بار کہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات ہے حیا اچھی چیز ہے لیکن ہمارے ہاں آپ نے سنا ہوگا۔ په شرع کې شرم نشته کہتے ہیں شرع میں شرم نہیں ہے۔ شرع میں شرم اس لیے نہیں ہے کہ جب مثال کے طور پر ایک عورت ہے جا رہی ہے۔ راستے میں جیسے مدینہ منورہ ہم جائیں گے ان شاء اللہ۔ اب راستے میں بس رک جائے نماز کے لیے۔ اب یہ کہے کہ افوہ میں تو میں نہیں کر سکتی اتنے لوگوں کے سامنے جانا یہ اور وہ۔ تو اس وقت اس کو کہنا پڑے گا کہ نہیں، اس کی پروا نہ کرو۔ جا کر نماز پڑھو۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس وقت مطلب چونکہ شریعت کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو حیا تو شریعت کے لیے ہے۔ شریعت کے خلاف تو نہیں ہے۔ ایسی صورت میں پھر یا طواف سے مانع ہو۔ طواف کے لیے بھی ظاہر ہے مطلب جائے گی کیونکہ طواف تو کرنا پڑے گا۔ تو حیا یہ ایسی چیز ہے جو انسان کو بری چیزوں سے روکتی ہے، وہ حیا ہے۔ جو اچھی چیزوں سے روکے وہ خجالت ہے، اس کو روکنا چاہیے، اس کو ختم کرنا چاہیے، پھر اس کی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ میرے خیال میں یہ کافی ہے۔