اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور سچی توبہ کے ثمرات

(حصہ دوم) ،انفاس عیسی، اشاعت اول: 28 جنوری، 2015

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور بندے کے عمل کی قدردانی
  • دنیا اور آخرت کے کاموں میں توازن (حضرت شاہ ولی اللہؒ کا فارمولا)
  • رحمتِ الٰہی سے مایوسی کی ممانعت اور خوفِ خدا (تقویٰ) کا درست مفہوم
  • حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ اور سچی (قلبی) توبہ کی قبولیت
  • راہِ خدا میں مال، جان اور عزت قربان کرنے کی فضیلت
  • سودی قرض کے نقصانات اور حلال آمدنی میں برکت کے حقیقی واقعات

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

ہاں بزرگوں کے ملفوظات سنائے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ مناسب تشریح کی جاتی ہے۔ عرصہ دراز سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات شریف کی جلد "انفاس عیسیٰ" کی تعلیم جاری ہے

گزشتہ سے پیوستہ تشریح

اس بات پہ نہ ڈرو کہ ہم عمل کریں گے اور قبول نہیں ہوگا۔ یہ نہ کرو، یہ بات نہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ اللہ جل شانہ، ہم ایک Step اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ دو Step بقدر ہمیں دے گا۔ وہ تو دیکھیں یہاں پر بھی جو شریف لوگ ہوتے ہیں، وہ اگر کسی کے ساتھ deal کرتے ہیں تو کچھ اوپر کا تول کے دیتے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے ان کی ایک عادت ہوتی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے تو سارے شریفوں کو پیدا کیا ہوا ہے۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں حدیث قدسی ہے، کہ جو میری طرف ایک بالشت آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دو بالشت چلتی ہے۔ جو میری طرف ایک ہاتھ آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دو ہاتھ جاتی ہے۔ جو میری طرف چل کے آتا ہے، میری رحمت اس کی طرف دوڑ کے جاتی ہے۔ تو یہ بات تو کبھی بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم عمل کریں گے اور اللہ قبول نہیں فرمائے گا۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ تم اپنی پوری کوشش کر لو، جتنی ہماری بس ہے، معیار کیا بناؤ؟ معیار دنیا کو ہی بنا لو۔ معیار دنیا کو ہی بنا لو، کیسے؟ دنیا کے لیے جیسے ہم کوشش کر رہے ہیں اس طرح ہم آخرت کے لیے کوشش کر لیں۔ ہونا تو چاہیے کہ زیادہ کریں، کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں: بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ بلکہ تم جو دنیا کی زندگی ہے اس کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت اچھی بھی ہے اور باقی رہنے والی بھی ہے۔ تو یہاں تو Message یہ ہے کہ زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بہرحال، اللہ تعالیٰ کی اس رحمتِ وسیع، رحمت کو دیکھ کر ہمیں پورا پورا امید ہے کہ ہم دنیا کو ہی معیار بنا دیں نا، اور دنیا کے لیے جتنی محنت کر رہے ہیں ان شاء اللہ کام ہو جائے گا۔

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عجیب فارمولا بتایا۔ فرمایا آٹھ گھنٹے کام کرو، کمانے کے لحاظ سے۔ کیا حرج ہے؟ آٹھ گھنٹے تو دنیا میں ویسے بھی ڈیوٹی ہے نا، genuine ہے یا نہیں genuine؟ genuine ہے۔ تقریباً ڈیوٹی آٹھ گھنٹے ہی ہوتی ہے نا عموماً۔ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کرو یعنی کمانے کے لیے، محنت کرو۔ آٹھ گھنٹے آرام کرو، اور آٹھ گھنٹے آخرت کو دو۔ پھر بھی اگر ہم نہیں سمجھے تو پھر کیا کریں؟ آٹھ گھنٹے آخرت کو دو۔

تو بس اس طریقے سے اگر ہم چلیں تو اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا بیڑا پار کرا دے گا ان شاء اللہ۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم لوگ ڈرتے بھی ہیں تو Abnormally ڈرتے ہیں۔ Abnormally ڈرنا کیا مطلب؟ جس میں تعطل ہو۔ ایک ڈرنا وہ ہوتا ہے جس میں Inspiring ہو، جس میں انسان مزید عمل کرے، یہ ڈرنا تو مبارک ڈرنا ہے، اس کو "تقویٰ" کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو تقویٰ کہتے ہیں۔ اور ایک ڈرنا ہے کہ انسان معطل ہو جائے، آدمی کچھ بھی نہ کر سکے، نہیں بھئی ایسا ڈرنا نہیں ہے۔ ایسے ڈرنے والوں کے لیے اللہ پاک نے ایک نوید سنائی ہے قرآن پاک میں۔ فرمایا: لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جانا۔ اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ کوئی توبہ کر کے تو دیکھے، کوئی توبہ کر کے تو دیکھے، اللہ سارے گناہوں کو معاف کرتے ہیں۔

ایک دفعہ موسیٰ علیہ السلام نماز استسقاء کے لیے گئے تھے۔ اپنی قوم کے ساتھ۔ وحی آ گئی: اے موسیٰ، تیری مجلس میں ایک ایسا شخص ہے جس نے مجھے 40 سال سے ناراض کیے رکھا ہے۔ جب تک یہ تیری مجلس میں ہوگا میں بارش نہیں دوں گا۔ اب موسیٰ علیہ السلام ڈر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اعلان کیا، میرے بھائیو! آپ میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے بارے میں اللہ پاک یہ فرماتے ہیں، اس سے میری درخواست ہے کہ چپکے سے ذرا کھسک جائے مجلس سے، کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہ لے، لیکن یہاں سے چلے جائیں تاکہ باقی لوگوں کو تو بارش مل جائے نا۔ یہ بات اعلان کر دی۔ ابھی سارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی اٹھا ہی نہیں، تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو گئی۔ اب موسیٰ علیہ السلام پھر ڈر گئے، کہ میں تو پیغمبر ہوں، پیغمبر کا تو بنیادی سچ ہوتا ہے۔ پیغمبر کا تو بنیادی سچ ہوتا ہے۔ تو اب کوئی مجھے جھوٹا نہ کہے کہ تو نے وحی کے حوالے سے بات کی تھی اور ابھی کوئی اٹھا نہیں ہے اور بارش ہو گئی ہے، یہ کیسے ہوا؟ تو اللہ تعالیٰ سے درخواست کی، دعا کی، اے اللہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا ہو رہا ہے۔ تیری وحی کے مطابق تو میں نے اعلان کر دیا، اب بغیر کسی کے نکلے بارش ہوئی ہے جس سے میری Position کمزور ہو گئی ہے، یہ کیا بات ہے؟ اللہ پاک کی طرف سے جواب آیا: موسیٰ! اس شخص نے میرے ساتھ صلح کر لی ہے۔ یعنی توبہ کر لی ہے۔ اب وہ میرا دوست ہے۔ اب میں اس کا نام کیسے بتاؤں؟

تو توبہ کی وجہ سے پوری صورتحال بدل گئی ہے لہٰذا میں نے بارش دے دی۔ تو موسیٰ علیہ السلام بھی بڑے خوش ہو گئے، یہ دیکھیں، اولیاء اللہ کے ساتھ محبت جو ہے نا یہ نبوی سنت ہے۔ نبوی سنت ہے۔ بعض لوگ ذرا تھوڑا سا اس میں ٹچی ہو جاتے ہیں نا، وہ کہتے ہیں پتہ نہیں شرک ہو گیا۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ پتہ نہیں شرک شرک کہاں کہاں سے رکھا ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود دعا کر رہے ہیں: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھتا ہے، اور ہر اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو تیری محبت تک مجھے پہنچائے۔

اب جب یہ صورتحال ہے تو موسیٰ علیہ السلام نے درخواست کی یا اللہ میں اس کا دیدار کرنا چاہتا ہوں، میں اس کو دیکھنا چاہتا ہوں، وہ تو تیرا دوست ہے۔ اللہ کی طرف سے پھر وحی آئی۔ موسیٰ! میں 40 سال سے اس نے مجھے ناراض کیے رکھا میں نے اس کا پردہ نہیں اٹھایا۔ اب میں اس کا پردہ اٹھاؤں گا؟ تو ظاہر ہے اس سے اب اندازہ کر لیں، کہ نہ تو اس نے ہونٹ ہلائے ہوں گے، نہ اس نے کوئی ظاہری حرکت کی ہے۔ دل کی بات تھی نا صرف، بس دل میں اللہ تعالیٰ سے Contact کر دیا، یا اللہ میں نہیں کروں گا۔ توبہ واقع ہو گئی، اللہ نے قبول کر دیا اور کام بن گیا۔ تو اس طرح توبہ کرنے کے لیے لمبی چوڑی باتیں نہیں ہوتیں۔ لمبی چوڑی باتیں نہیں ہوا کرتیں، یہ تو دل کی ایک صدا ہے جو بلند ہوتی ہے اللہ کی طرف، اور اللہ تعالیٰ دلوں کو دیکھتا ہے، اللہ کو پتہ ہوتا ہے کسی کے دل میں کیا ہے۔ دل میں نہ ہو زبان پر ہو، وہ توبہ نہیں ہے۔ دل میں نہ ہو زبان پر ہو وہ توبہ نہیں ہے۔ وہ توبہ کا ایک Rehearsal ہے، Practice ہے۔ ختم نہیں ہونا چاہیے، جاری رہنا چاہیے، ممکن ہے کسی وقت دل میں اتر جائے۔ لیکن ابھی وہ توبہ نہیں ہے۔ اور اگر دل میں ہے، اور زبان پر نہیں تو توبہ پورا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو دلوں کو دیکھتا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ اگر کوئی اپنے دل میں اللہ تعالیٰ سے، اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ کر لے تو اس کا کام بن جائے گا۔

تو اس وجہ سے میں نے عرض کیا کہ یہ کبھی بھی نہ سوچو کہ میں عمل کروں گا اور اللہ قبول نہیں فرمائیں گے۔ اللہ پاک کئی طریقوں سے سمجھاتے ہیں، فرماتے ہیں: "وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ"، بہت ساری چیزوں کو تو معاف کر لیتا ہے، ویسے ہی معاف کر لیتا ہے۔ اس کے پاس بہت زبردست قسم کے Discounts ہیں، وہ دیتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر انسان کچھ بھی نہ کرے تو پھر تو اس کا قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ پھر جو ہوتا ہے پھر ہوتا ہے۔ اس وجہ سے کبھی بھی مایوسی کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ یہ بھی شیطان کا ایک ہتھیار ہے کہ شیطان مایوس کر کے انسان کو معطل کر کے رکھ دیتا ہے اور آدمی وہ عمل سے رہ جاتا ہے۔

اس وجہ سے یہاں پر جو بات شروع ہوئی تھی، وہ یہ تھی کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے۔ اَلدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ۔ اور کافر کی جنت ہے۔ تو یہاں پر قید خانہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ہم اختیاری طور پر پابند ہیں اللہ تعالیٰ کے حکموں کے ماننے کی، اور ہم لوگوں کا پیسہ، ہم لوگوں کے جو باقی وسائل ہیں، ہم لوگوں کی جان، ہم لوگوں کی زندگی، ہم لوگوں کی ساری جتنے بھی وسائل ہیں، وہ سب کے سب اللہ کے لیے ہیں۔

آپ حضرات جانتے ہیں وہ جو نماز کی نیت ہے وہ کیا ہے؟ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔ مقصد یہ ہے کہ ہمارا سارا کچھ اللہ کے لیے ہے۔ بس یہ قلبی طور پر ادا ہو جائے، اور آدمی کہہ دے کہ واقعی میرا سارا کچھ اللہ کے لیے ہے، پھر میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ جب اللہ کے لیے ہوتا ہے نا، تو اللہ باقی ہے۔ تو وہ چیز بھی باقی ہو جاتی ہے۔ وہ چیز بھی باقی ہو جاتی ہے۔

میں آپ کو ایک بات بتاؤں، انسان جان دیتا ہے، تو ختم ہو جاتا ہے نا؟ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اللہ کے راستے میں جان دے دی، پھر کیا ہو جاتا ہے؟ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گیا۔ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ نہ کہو ان کو جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، مردہ۔ ہاں تم اس کو نہیں جانتے۔ اور آگے ایک اور جگہ فرماتے ہیں: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا جو اللہ کے راستے میں شہید ہو جائیں ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔ یہ آج کل تھوڑے سے ذرا ہوشیاری ہمارے پاس زیادہ آ گئی نا، تو بعض دفعہ کہتے ہیں اچھا ٹھیک ہے جی مردہ تو ہے لیکن کہتے نہیں ہیں، اللہ جب ناراض ہوتے ہیں تو نہیں کہتے، ویسے مردہ ہیں۔ تو اس ہوشیاری کو بھی ختم کیا کہ نہیں، مردہ گمان بھی نہ کرو۔

تو یہ تو ہے جان کے ساتھ۔ عزت اگر اللہ کے راستے میں کسی نے قربان کر دی۔ عزت کی پرواہ نہیں کی، اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے تواضع اختیار کیا، اپنے آپ کو اللہ کے لیے گرایا، اللہ تعالیٰ اس کو بلند کر دیتے ہیں، اس کی عزت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس کی عزت کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ بھی قانون ہے۔ اور کسی نے مال اللہ کے راستے میں دے دیا، تو اللہ پاک فرماتے ہیں: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے۔ سود کیا ہے؟ مال کے بدلے مال لینے کی، ایک System ہے، ایک Pump ہے، Money pump۔ اس کے ذریعے سے انسان مال کو کھینچتا ہے، ہر مالدار آدمی غریب کی جیب سے جو اس کے منہ کا نوالہ ہوتا ہے اس کو کھینچتا ہے سود کے ذریعے سے۔ یہ، یہ چیز ہے سود۔ تو اللہ فرماتے ہیں، اللہ اس کو مٹاتا ہے۔

اگر جاننا چاہتے ہو تو تاج کمپنی کا حال دیکھو۔ اور کئی بینک جو دیوالیہ ہو چکے ہیں ان کا حال دیکھو۔ سودی نظام، یہ بہت خبیث نظام ہے، انتہائی درجے کا مکروہ اور ظالم نظام ہے۔ اس کی بنیاد ہی ظلم پر ہے۔ کہ جو غریب کے پاس جو کچھ ہے اس کو کھینچ لو اپنے مال کے ذریعے سے۔ یہی مطلب اس کا وہ ہے۔ یہ جو سودی لوگ سود خور ہوتے ہیں، یہ دل کا سنگین ترین آدمی ہوتا ہے، اس کا دل پتھر ہوتا ہے۔ وہ انسان کا دل اپنے سینے میں نہیں رکھتا۔

دیکھیں میں آپ کو بتاؤں، جس کو دینے کی ضرورت ہے، اس سے آپ لینا چاہتے ہیں؟ تو اس کے مقابلے میں جو صدقات دیتے ہیں، وہ دے رہے ہیں۔ تو اللہ پاک فرماتے ہیں: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے، اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ بالکل نظر آتا ہے۔

میں آپ کو ایک لفظ کا بتا دیتا ہوں، آپ اس پہ خود Research کریں۔ اس لفظ کا نام ہے "برکت"۔ یہ برکت کا جو لفظ ہے، اس کو لوگ جانتے ہیں، مانتے ہیں، اور دیکھتے ہیں برکت کو کہ برکت ہوتی ہے۔ ہاں البتہ اس کی پیمائش نہیں ہو سکتی۔ اس کی پیمائش نہیں ہو سکتی، اور جب کوئی پیمائش کرے گا تو اٹھ جاتی ہے، یہ بھی بات بتا دوں۔ جو اس کی پیمائش کرتا ہے پھر یہ اٹھ جاتا ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے راستے میں کوئی دیتا ہے اور باقی مال میں اللہ تعالیٰ برکت دے دے، تو بتاؤ بڑھے گا یا نہیں بڑھے گا؟ مال بڑھے گا۔ وہ تو اللہ کے نظام میں ہے۔ جتنے میں اللہ تعالیٰ آپ کے سارے کام کرا دے۔

ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے دکھایا ہے، الحمد للہ کھل کے دکھایا ہے، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ ہمارا ایک ساتھی، وہ بینک میں مینیجر تھے۔ ظاہر ہے سن سن کے تیار ہو گئے چھوڑنے کے لیے، تو اسلامی بینک میں چلے گئے، تھوڑے سے Low rate پر۔ ویسے یہ بھی ایک بات ہے نا کہ لوگ جو سودی نظام میں پھنسے ہوتے ہیں، تو ان کا یہ مسئلہ ہوتا ہے وہ کہتے ہیں اس کے برابر جب تک نہیں ملتا تو میں معذور ہوں۔ تو بس ہمیشہ پھر سودی نظام میں لگے رہتے ہیں۔ کوشش ہی نہیں کرتے۔ کہتے ہیں بس ٹھیک ہے جی علماء کہتے ہیں کہ جب تک دوسری نوکری نہ ملے، دوسری نوکری سے مراد یہ ہے کہ اس کے برابر کم از کم ہو۔ ہاں تو ٹھیک ہے پھر تو، پتہ چلے گا ادھر۔ اس سے حلال تو نہیں ہو جاتا، صرف یہ بات ہے علماء اس لیے کہتے ہیں کہ آج کل لوگوں میں ایمان کی کمزوری ہے۔ اگر ان کو کہیں گے کہ چھوڑ دو، تو اس چھوڑنے کے بعد جب ان کے اوپر کوئی پریشانی یا آزمائش آئے گی، اس آزمائش سے ان کے کافر ہونے کا اندیشہ ہے۔ اور کافر سے گنہگار اچھا ہوتا ہے۔ علمائے کرام اس لیے کہتے ہیں، وہ حلال نہیں بن جاتا، وہ حلال نہیں بن جاتا، وہ صرف اور صرف ان کو کافر بننے سے بچانا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ٹھیک ہے جب تک آپ کو مطلب دوسرا جاب نہ ملے تو اس وقت تک آپ کرتے رہیں، مجبوری ہے۔ تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے ایک دفتر کے ساتھی تھے مجھ سے پوچھا کہ house building finance corporation سے میں سود پر قرض لے لوں مکان بنانے کے لیے؟ میں نے کہا بالکل نہ لیں، بالکل نہ لیں۔ یہ تو اپنے آپ کو پھنسا دو گے۔ نہ لو۔ خیر میرے ساتھ بات ہوگئی اور آئی گئی ہو گئی۔ تقریبا 12 سال بعد وہ مجھ سے ایک دن بات کر رہے ہیں، شبیر صاحب! آج کل میں بڑا پریشان ہوں۔ میں نے کہا کیا بات ہے بھئی کس بات پر پریشان ہیں؟ کہتے ہیں وہ loan جو لیا تھا نا نے مجھے پھنسایا ہوا ہے۔ میں نے کہا کون سا loan لیا تھا؟ کہتے ہیں وہ آپ سے میں نے پوچھا نہیں تھا!! تو میں نے کہا کہ آپ کو میں نے بتایا نہیں تھا؟ کہتے ہیں بتایا تو تھا۔ میں نے کہا پھر کیوں لیا تھا؟ کہتے ہیں ہمارے ایک پیر صاحب تھے ان سے میں نے پوچھا۔ تو انہوں نے کہا کہ مجبورا لے رہے ہو نا؟ میں نے کہا: ہاں مجبورا لے رہا ہوں۔ فرمایا اچھا پھر ٹھیک ہے، میں نے کہا پھر اس کو بتاؤ، اب اس کو بتاؤ، مجھے کیوں بتاتے ہو؟ اس کو بتاؤ کہ میں پریشان ہوں۔

یہ ہے انسان کی زندگی۔ یہ ویسے نہیں کہا جاتا، یہ ویسے نہیں کہا جاتا۔ اس کے پیچھے بہت۔۔۔ کچھ چیزیں ظاہر ہیں کچھ چیزیں چھپی ہوئی ہیں۔ لیکن حقیقت حقیقت ہے، حقیقت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ وہ ما شاء اللہ جیسے وہ Low rate پر آ گئے، اسلامی بینک میں آ گئے، وہ کہتے ہیں پہلے دس بارہ تاریخ تک ہمارے گھر میں کچھ نہیں ہوتا تھا تنخواہ ختم ہو چکی ہوتی تھی۔ کہتے ہیں اب الحمد للہ بچت ہو رہی ہے۔ اب الحمد للہ بچت ہو رہی ہے، پہلی دفعہ کہتے ہیں ہمیں بچت کا پتہ چل گیا کہ بچت بھی ہوتا ہے۔ ہمارے دفتر کی ایک بات ہے، تین Engineer تھے۔ ایک Engineer نے مجھے واقعہ خود سنایا۔

ایک Engineer نے، جو میرے Student تھے، اس نے مجھے واقعہ خود سنایا۔ مجھے کہتے ہیں سر ہم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے، تین Engineer تھے، آپس میں ڈسکس کر رہے تھے بڑی مہنگائی ہے۔ بڑے پریشان تھے۔ آپس میں تبادلہ خیال ہو رہا تھا جی تمہارا کیا ہو رہا ہے، میرا کیا ہو رہا ہے۔ یہ سارا سب چیزیں ڈسکس ہو رہی تھیں۔ کہتے ہیں ایک Attendant جس کو میں جانتا ہوں، وہ گزر رہے تھے۔ اس کو بلایا، او فلانے ادھر آ جاؤ۔ وہ آ گیا، Attendant Attendant ہوتا ہے ظاہر ہے Engineer بلائے تو کیوں نہیں آئے گا؟ آ گیا۔ بیٹھ جاؤ، بیٹھ گیا۔ بتاؤ تمہارا گزارہ ہوتا ہے آج کل؟ کہتے ہیں اس کی پہلی بات یہ تھی: الحمد للہ! ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اس نے اس طرح ٹھنڈے سینے سے کہہ دیا کہ ہم حیران ہو گئے بھئی یہ کیا ہمارے ساتھ مذاق کر رہا ہے یا کیا کر رہا ہے؟

تو کہتے ہیں ذرا اس کو ڈانٹا، کہ بھئی صحیح صحیح بات بتاؤ یہ کیا بات ہے، بتاؤ کس طرح تم، مطلب تمہارا گزارہ ہوتا ہے؟ اس نے کہا سر میری اتنی تنخواہ ہے۔ اتنا میرا کرایہ ہے۔ اتنا وہ ہمارے Kitchen کا خرچہ ہے۔ اتنے کپڑوں وپڑوں کے لیے لگ جاتا ہے، اتنا Schooling کا ہے۔ اتنا ذرا آگے شاید پیچھے کام ہو جاتے ہیں۔ اور الحمد للہ تقریباً ڈھائی سو روپے بچ جاتے ہیں۔

کہتے ہیں وہ تین Engineer اٹھے ہیں، ایک اس طرف گیا، ایک اس طرف گیا، ایک اس طرف گیا۔ آپس میں ایک دوسرے کو چہرہ نہیں دکھا سکتے تھے۔ یہ ہے برکت، یہ ہے برکت۔ تو برکت جب ہوتی ہے نا، اس میں پھر معاملہ الگ ہوتا ہے۔ اس کا نظام اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کا نظام اللہ کے ساتھ ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت اور سچی توبہ کے ثمرات - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور