تصوف میں نسبت و مقام کی حقیقت اور ذکر و طاعت کا رسوخ

انفاس عیسی: اشاعت اول: 26 فروری، 2014 بمطابق 26 ربیع الثانی 1435 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • رسوخ اور شرح صدر کا مفہوم
  • تصوف میں 'نسبت' اور 'مقام' کی تعریف
  • غلبۂ ذکر اور حقیقی ذاکر کی پہچان
  • دوامِ طاعت اور گناہوں سے اجتناب
  • مجاہدات، عبادات اور سالک کا طرزِ عمل
  • جلد بازی (تعجیل) کے نقصانات اور استقامت کا پھل

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

علامت رسوخ

آپ نے ایک لفظ رسوخ کا مطلب سنا ہوگا۔ لیکن۔ استعمال کا موقع شاید کم آیا ہو۔ ایک لفظ قرآن پاک میں بھی ہے، علمائے راسخین۔ تو۔ وہ علمائے راسخین وہ ہوتے ہیں جو اچھی طرح علم کے بارے میں، ان کو شرح صدر ہو جائے، کہ یہ باتیں ان کو مستحضر ہوں اور فیصلہ کرنے میں ان کو کوئی مشکل نہ ہو۔ تو۔ وہ صحیح بات تک جلدی پہنچتے ہیں۔

تو یہاں پر جو رسوخ کا مطلب ہے وہ عمل میں ہے۔ اور سمجھ میں ہے، دونوں مل کے۔ فرمایا:

صدور میں کشاکشی بھی نہ ہو تو یہ علامت ہے رسوخ کی۔

مطلب کسی چیز کے بارے میں کشاکشی نہ ہو کہ یہ، یہ تردد وغیرہ جس کو ہم کہتے ہیں۔ یہ نہ ہو۔ تو پھر یہ علامت ہے رسوخ کی۔ اس کے بارے میں اس کو شرح صدر ہو جاتا ہے، پوری بات کھل جاتی ہے۔ بات کا کھلنا یقیناً ایک نعمت ہے۔ جس پر بھی اللہ تعالیٰ دین کی بات کھول لیں۔ تو اس میں پھر ظاہر ہے، پھر عمل کی بات ہی رہ جاتی ہے۔ پھر اس میں کوئی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس کو تردد ہو کہ کروں نہ کروں۔

یہ جو شرح صدر ہے، یہ مختلف لوگوں کو مختلف چیزوں میں ہو سکتا ہے۔ مثلاً۔ ایک شخص ہے۔ اس کو اس بات کا شرح صدر ہو گیا کہ علم پھیلانا چاہیے، بہت زیادہ۔ تو مدارس کا قیام کرتے ہیں، اور مدارس۔ میں کام کرتے ہیں۔ یقیناً وہ بھی بہت اہم کام ہے۔ اس طرح کسی کو شرح صدر ہو جائے کہ اس وقت۔ جہاد کی بڑی ضرورت ہے۔ تو ٹھیک ہے، پھر وہ اپنے شرح صدر کے مطابق کام کرتا ہے۔ کسی کو یہ ہوتا ہے کہ خانقاہوں کی بڑی ضرورت ہے۔ تو وہ پھر اس سلسلے میں کام کرتا ہے۔ اور کسی کو کسی اور دینی شعبے کے ساتھ بھی شرح صدر ہو سکتا ہے، سیاسی ہے، جماعت کا کام ہے، مختلف۔ تو وہ اسی میں لگے رہتے ہیں۔

البتہ۔ ایک ہوتا ہے اپنے بارے میں کسی چیز کا شرح صدر ہونا، یہ اور بات ہے۔ اور دوسرا اس کام کی اہمیت کا احساس ہو جانا، یہ اور بات ہے۔ تو جو صاحب رسوخ ہوتے ہیں، ان کو تو ساری چیزوں کا پتہ چل جاتا ہے بحیثیت مجموعی، کہ کام سارے کے سارے اہم ہیں۔ البتہ کسی ایک کام میں وہ اپنے بارے میں شرح صدر ہوتا ہے کہ مجھے اس میں کام کرنا چاہیے۔

جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ "میرا دل چاہتا ہے کہ مجھ سے تصوف کے علاوہ کسی اور چیز میں نہ پوچھا جائے۔" وجہ اس کی یہ بیان فرمائی کہ باقی چیزوں کے لیے، باقی علوم کے لیے، باقی کاموں کے لیے لوگ ہیں۔ تو وہ کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس کے لیے مناسب تعداد میں لوگ نہیں ہیں۔ تو اگرچہ حضرت دین کے اکثر شعبوں میں کام کر سکتے تھے، قرآن کا درس دے سکتے تھے، احادیث شریف پڑھا سکتے تھے۔ اور اس طریقے سے کسی سیاسی جماعت کو چلا سکتے تھے۔ بہرحال مواعظ اور یہ حکمت، یہ تمام کام حضرت کے ساتھ تھے، کتابیں بڑی لکھیں۔ تو یہ سارے کام حضرت کے لیے مشکل نہیں تھے، اور اللہ پاک نے ان سے ان چیزوں میں کام بھی لیا۔ لیکن خود ان کا شرح صدر یہ ہو گیا تھا کہ اس چیز کی بڑی ضرورت ہے۔ یعنی۔ خانقاہوں کے قیام کی اور تصوف کی تشریحات کی۔ کہ علم کے ساتھ ساتھ عمل کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے۔ تو حضرت نے اپنے آپ کو اس کے لیے وقف کر دیا۔ یہ رسوخ کی بات ہے۔

اس طرح حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ، ان کا شرح صدر ہو گیا اس پر کہ تبلیغی جماعت کا جو کام ہے، اس پہ کام چلنا چاہیے۔ اور لوگوں تک یہ بات پہنچانی چاہیے، کیونکہ بہت سارے لوگ ہیں جو دین کی بنیاد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ طلب ان میں نہیں ہے، تو ان میں طلب پیدا کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ تو ہونا چاہیے۔ تو اس کے لیے ایک پورا نظام وضع فرما لیا۔

حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شرح صدر تھا کہ وہ انگریز ملک سے نکل جائے، ساری خباثتوں کی جڑ یہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے ہر چیز، گویا کہ ایک قسم کی، اس سے آگے بڑھ کر اس چیز کو گلے لگایا۔ اور اس کے لیے بڑی صعوبتیں برداشت کیں، اور علماء میں اس کی فکر پیدا کر لی۔ اس طرح حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا اپنا شرح صدر تھا۔

تو یہ جو شرح صدر ہوتا ہے، یہ ظاہر ہے اپنا اپنا بھی ہو سکتا ہے اور مختلف کاموں کا ہو سکتا ہے۔ اس بات کے ساتھ کہ میں ایک کام کر سکتا ہوں، لیکن بہرحال باقی کام بھی ضروری ہیں۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر اخیر وقت میں جو بات کھل گئی تھی یا رسوخ ہو گیا تھا، وہ تصوف کے کام کی، دینی مدارس میں پھیلانے کی۔ جس کے لیے انہوں نے بڑے بڑے سفر کیے۔ اعتکاف کے ذریعے سے خانقاہی معمولات کو فروغ دیا۔ اور اس سلسلے میں یہ حضرت ہی کی فکر تھی کہ یہ کام ہم تک پہنچ گیا۔ ورنہ اس کے لیے واقعی ایک بہت قدآور شخصیت کی ضرورت تھی، اس چیز کو آگے لانے کے لیے۔ اب دیکھیے، ان چیزوں کے باوجود بعض لوگوں کو اس کا شرح صدر نہیں ہوتا، اور وہ کہتے ہیں پتہ نہیں کیا چیز ہے، کچھ بھی نہیں۔ تو اگر حضرت نہ ہوتے تو پھر کیا حال ہوتا؟ ظاہر ہے، تو حضرت کو جتنا اللہ تعالیٰ نے بصیرت دی تھی اور تقویٰ دیا تھا، اور اور مشہوری دی تھی، شہرت دی تھی، وہ الحمد للہ اس کی برکت سے یہ کام آسان ہو گیا، اور ہم صرف حوالہ دیتے ہیں۔ تو یہ جو حوالہ ہے، ہمارے لئے کافی ہو جاتا ہے، ہم اگر کسی کو کہہ دیں کہ بھئی، کیا آپ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو صحیح مانتے ہیں؟ تو اگر وہ کہتے ہیں صحیح، ہاں بالکل مانتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں حضرت تو یہ فرماتے تھے۔ تو آسان ہو جاتا ہے سمجھانا۔

نسبت و مقام کی تعریف۔

فرمایا:

ایک غلبہ ذکر، کہ غفلت میں وقت کم گزرے۔ دوسرے دوام طاعت، کہ نافرمانی بالکل نہ ہو۔ اصل مامور بالتحصیل یہی دو چیزیں ہیں۔ اور اس کے لیے سب مجاہدات اور معالجات اختیار کیے جاتے ہیں، جن پر حسب سنت اللہ وہ مقصود مترتب ہو جاتا ہے۔ اولاً قدر تکلف ہوتا ہے، بعد چندے، جس کی مدت معین نہیں، استعداد پر ہے۔ مثل امر طبعی کے ہو جاتا ہے۔

گو احیاناً ضد کا تقاضا بھی ہوتا ہے، مگر ادنیٰ توجہ سے وہ ضد مغلوب ہو جاتی ہے۔ اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔ پس یہ فی نفسہ غیر اختیاری ہے، لیکن باعتبار اسباب کے اختیاری ہے۔ اور یہ رسوخ و ثبات اس حیثیت سے کہ غلبہ ذکر و دوام طاعت کا ملزوم ہے، نسبت کہلاتا ہے۔

یعنی حضرت حق سے ایسا تعلق قوی، جس پر غلبہ ذکر و دوام طاعت کا ترتب لازم ہو، اور اس نسبت مِنَ الْعَبْدِ پر ایک دوسری نسبت مِنَ الْحَقِّ موعود ہے، یعنی رضا و قرب۔ پس اہل طریق جب لفظ نسبت کا اطلاق کرتے، مراد ان سے ان دو نسبتوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ بلکہ ملکہ یادداشت، جس میں بہت سے غیر محقق دھوکے میں ہیں۔

یہ نسبت اور مقام کے الفاظ تصوف کے لٹریچر میں بہت زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بہت بڑے عالم سے میں نے سنا، فرماتے تھے، مبتدی کے لئے اصطلاحات، جس کو انگریزی میں terminology کہتے ہیں۔ یہ سیڑھی ہے اوپر جانے کے لئے۔ لیکن منتہی کے لیے یہ عیب ہے۔ منتہی ان چیزوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ وہ اپنی بات کو جن الفاظ میں بھی سمجھانا چاہے، تو سمجھا لیتے ہیں۔ ان کو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں میں ایک خاص قسم کی چیز کا غلبہ زیادہ ہو گیا، ان کو اس طریقے سے بات سمجھانے سے زیادہ فائدہ ہوگا، تو وہ اس طریقے سے بات سمجھا دیتے ہیں۔ لیکن بہرحال مبتدی کے لیے، ہم جیسے لوگوں کے لیے تو یہ terminology یہ بہت مفید ہوتی ہے۔

تو یہاں یہ دو الفاظ ہیں جو اصطلاحات ہیں۔ ایک لفظ نسبت ہے، مثلاً اگر ہم کہتے ہیں صاحب نسبت، تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ اور اگر مقام کی بات کوئی کرے تو اس سے ہمارا مطلب کیا ہوگا؟ حضرت ارشاد فرماتے ہیں کہ اس میں دو باتیں ہوتی ہیں، مقام میں۔ ایک ذکر کا غلبہ، کہ ہر وقت انسان ذکر کی حالت میں رہے، یعنی اس کو اللہ یاد رہے۔ زبان ہلانا یہ ذکر کی ایک صورت ہے، اور اس پر ثواب ملتا ہے۔ لیکن جو مقصود ذکر ہے وہ یہ ہے کہ اللہ یاد رہے۔ اللہ یاد رہے، یہ اصل بنیاد ہے۔ اگر اللہ یاد نہ رہے اور زبان ہلتی رہے، تو یقیناً ثواب تو ملے گا، لیکن اس کا وہ فائدہ جو کہ حقیقی ذکر کا ہوتا ہے کہ انسان گناہوں سے بچ جائے۔

مثلاً میں ایک مثال دیتا ہوں، بہت عجیب مثال ہے، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ ایک شخص ہے۔ اس کو غلبہ ذکر نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ ذکر جس کو کہتے ہیں نا وہ حقیقی حاصل نہیں ہے، لیکن لفظی ذکر کرتا ہے۔ یعنی زبان پہ ذکر اس کا ہے۔ لوگ اس کو ذاکر سمجھیں گے، کیونکہ ظاہری جو صورت ہے وہ تو ذکر کی ہے۔ لوگ اس کو ذاکر سمجھیں گے۔ لیکن اگر اس کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے ابھی، تو وہ کام کرتے وقت بھول جائے گا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے کام ہیں، یا ناراض کرنے والے کام ہیں۔

مثلاً وہ دکاندار ہے۔ اب وہ تسبیح بھی پرو رہا ہے اور ڈنڈی بھی مار رہا ہے۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ تول میں گڑبڑ کرتا ہے۔ مطلب جب لے رہا ہو تو اپنی طرف جھکا کے لیتا ہے، اور اگر دے رہا ہو تو، یہ مطلب ظاہر ہے، یہ معاملہ کرتا ہے تو صریح بددیانتی ہے۔ یا اپنے دفتر کے کام میں، دوسرے کاموں میں بددیانتی کرتا ہے۔ اس کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اس کو حقیقی ذکر حاصل ہوتا تو یہ ہرگز نہ کرتا۔ کیونکہ جس کو پتہ ہے کہ میرا مالک مجھے دیکھ رہا ہے، وہ کیسے حکم عدولی کر سکتا ہے؟

اب شریعت کیا چیز ہے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے نا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو پھر مجھے اگر اللہ یاد رہا ہوگا، تو پھر میں وہ غلطی کیسے کروں گا؟ پھر اس کا اندر باہر ایک ہو جاتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں صادق۔ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ۔ جن کا اندر باہر ایک ہو۔

تو یہ حقیقی ذکر جس کو بھی حاصل ہوتا ہے، ان کو تو یہ کیفیت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن جو ابتدائی ذکر ہے، صورتِ ذکر، اس کو آپ چھڑا نہیں سکتے کہ آپ کو حقیقی حاصل نہیں ہے، لہذا اس کو بھی چھوڑ دو۔ نہیں بھئی، وہ پہنچے گا تو اسی راستے سے ہی۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے شعر میں۔ کہ تو اس پر نہ جا کہ اس وقت تجھے یہ چیز حاصل نہیں ہے۔ تو ریا کر رہا ہے۔ فرمایا کام کرتے رہو چاہے ریا کے ساتھ ہو۔ یہ ریا آہستہ آہستہ، یہ جو ریائی اعمال ہیں آہستہ آہستہ اس کی عادت ہو جائے گی۔ اور اگر آپ اس کوشش کو جاری رکھیں گے، ان شاء اللہ تو آہستہ آہستہ پھر یہ جو عادت ہے یہ عبادت ہو جائے گی۔ یعنی آپ کو وہ چیز حاصل ہو جائے گی جو اس کا اصل ہے۔

مجھے بہت ساری خواتین فون کرتی ہیں، کیونکہ اکثر خواتین کو میں مراقبہ بتاتا ہوں، مردوں کو تو مراقبہ بہت اخیر میں بتایا جاتا ہے۔ مجھے فون کرتی ہیں کہ میں تو بیٹھی رہتی ہوں مراقبہ کے لئے، لیکن مراقبہ ہو تو نہیں رہا ہوتا۔ نہیں ہو رہا ہوتا۔ تو میں اسے کہتا ہوں تمہارا کام اس کے لئے اتنی دیر بیٹھنا ہے۔ تم اس کی پرواہ نہ کرو کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا۔ تم اپنی توجہ دل کی طرف رکھو، اور یہ نہ کہو کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، کیونکہ اگر یہ دیکھو گی کہ ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، مطلب اس کی طرف دھیان ہوگا، تو پھر آپ کا دھیان تو ادھر ہوگا، تو آپ دل کی طرف تو نہیں ہوگا۔ پھر تو نہیں چلے گا۔ تو اس وجہ سے آپ توجہ رکھیں دل کی طرف بس۔ باقی ہو رہا ہے نہیں ہو رہا، یہ اس کی فکر آپ چھوڑ دیں۔

تو الحمدللہ عورتوں میں چونکہ ذرا یہ صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، تو دو تین مہینے میں چل پڑتی ہیں۔ کوئی ذرا زیادہ دیر بھی لگا لیتی ہیں، کچھ سات آٹھ مہینے لگا لیتی ہیں، اس میں چل پڑتی ہیں۔ کچھ ذرا سال بھر بھی لگا لیتی ہیں، اس وقت چل دیتی ہیں۔ لیکن بہرحال چل پڑتی ہیں، الحمدللہ۔ اب اگر ابتدا سے ان کو یہ بات نہ بتائی جائے کہ اس کی پرواہ نہ کرو، تو کیا وہ اس پوزیشن تک آ سکیں گی؟ چھوڑ دیں گی۔ اور بس وہ جب چھوڑ دیں گی تو بس رہ جائے گی چیز۔ کیونکہ یہ چیز انسان کے کنٹرول میں تو نہیں ہے، غیر اختیاری ہے۔ اب دل تو خود بخود چلے گا، آپ کے چلانے سے تو نہیں چلے گا۔ تم تو صرف observer ہو۔ تم تو صرف observer ہو۔ لیکن چل پڑتا ہے جب تمہاری توجہ ہوگی، تو آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چل پڑے گا۔ اب یہ ایک بہت delicate قسم کا نظام ہے۔ اس پہ مطلب ظاہر ہے اس کو adjust کرنا، یہ delicate قسم کا نظام ہے، لیکن بہرحال چیزیں چلتی تو اس طرح ہیں۔

تو اب یہ ہے کہ جو لوگ ذکر کر رہے ہیں لسانی، اور ان کو حقیقی ذکر حاصل نہیں ہے، تو ہم ان کی ہمت بندھاتے ہیں۔ کہ کرتے رہو، کرتے رہو، کرتے رہو، ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ ہمارے حضرات نے اس کے لئے کچھ جملے بھی بنائے ہوئے ہیں، تاکہ ذرا لوگوں کو، جیسے ہوتے ہیں نا، مطلب مختلف قسم کی کمپنیوں کے بھی اپنے slogans ہوتے ہیں، جس سے وہ کام لیتے ہیں۔ کہ ہمارا slogan یہ ہے۔ mission یہ ہے، vision یہ ہے، اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ تو ہمارے حضرات فرماتے ہیں "لگے رہو، لگے رہو، لگ جائے گی"۔ مطلب یہ ہے کہ تمھاری کوشش مسلسل جاری رہے گی تو یہ چیز ہو جائے گی۔ اس طرح نہیں، ایک دن میں نہیں ہوتا۔ ایک دن میں نہیں ہوتا۔

مجھ سے اکثر بعض لوگ بیعت ہو جاتے ہیں، ایک ہفتے کے بعد فون کرتے ہیں۔ کہ وہ تو، میں نماز پڑھتا ہوں، بہت سارے خیالات نماز میں آتے ہیں اور یہ ہوتا ہے، وہ ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے معلوم ہے، آتے ہیں اس طرح۔ تو کہتے ہیں پھر یہ ختم کیسے ہوں گے؟ میں نے کہا TB کے علاج کا اگر پتہ چل جائے، اور آپ نے علاج شروع کر لیا، تو اگلے ہفتے پوچھو نا ڈاکٹر سے کہ یہ کیوں ٹھیک نہیں ہوتا وہ کیا کہیں گے؟ وہ کہیں گے کہ بھئی علاج جاری رکھو، ٹھیک ہو جائے گا۔ اپنے وقت پہ ٹھیک ہو جائے گا، اس طرح تو نہیں کہ مطلب بس آپ نے علاج شروع کر لیا اور فوراً ٹھیک ہو گیا۔ یہ معاملہ تقریباً تقریباً، جو دینی کام ہے اس کے ساتھ یہ معاملہ بہت زیادہ ہے، اور شیطان اس میں role play کرتا ہے، تعجیل مچاتا ہے، آدمی کے دل میں تعجیل ڈالتا ہے، جلدی مچاتا ہے۔ تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر لوگ، وہ بڑے حیران ہو جاتے ہیں کہ بھئی، میں نے تو یہ کام شروع کر لیا، ابھی تک ہوا ہی نہیں۔

تو صاف بات عرض کرتا ہوں، دین کی ساری باتیں بالکل واضح ہیں، کھلی ہوئی ہیں۔ لیکن ہر چیز کو حاصل کرنے کے لئے کچھ وقت چاہیے ہوتا ہے، مثال کے طور پر خوش خط لکھنا، مجھے آپ بتائیں، خوش خط لکھنا کیا معلوم نہیں ہے کسی کو؟ آپ ان کے سامنے رکھ لیں نا یہ خوش خط چیز، اور بچے سے کہہ دے اس طرح لکھو، لکھ لے گا؟ ظاہر ہے وہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑے گا، اس کو طریقہ سکھائے گا، آہستہ آہستہ کچھ اصول و فنون سکھائیں گے مشق کرے گا، پتہ نہیں کتنے عرصے میں وہ خطاط بنے گا۔ وہ اس کے اوپر منحصر ہے۔

تو مطلب یہ کسی چیز کا جاننا ضروری نہیں ہے کہ وہ چیز حاصل بھی جلدی اس طرح ہو جائے۔ لیکن طریقہ تو یہی ہوتا ہے۔ طریقہ تو یہی ہوتا ہے ہاں طریقے پہ چلتے رہو، اگر نہ بھی پہنچ سکے اور موت آ گئی، تو ان شاء اللہ ان میں اٹھائے جاؤ گے جو ان شاء اللہ وہاں پہنچ چکے ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ لیکن تم اپنی کوشش تو کرو نا، دنیا کے لئے تو کوشش کرتے ہو، اس کے لئے کوشش کیوں نہیں کرتے ہو؟ کوشش تو کم از کم کرو نا، کوشش کرنا تمہارا کام ہے، مدد کرنا اللہ کا کام ہے۔ یہ تو نہیں کہ بس آپ نے شروع کر لیا اور آپ سمجھے کہ بس ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ اس لئے جو موانع ہیں۔ موانع، جو تصوف کے موانع ہیں، طریقت کے، ان میں ایک تعجیل بھی ہے، جلدی مچانا۔ کیونکہ جلدی مچانے سے انسان شیخ پر بدگمان ہو جاتا ہے کہ میری طرف توجہ نہیں کر رہے۔ پھر آہستہ آہستہ سلسلے پہ بدگمان ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ معاملہ آگے تک چلا جاتا ہے، اللہ بچائے، بس پھر اس کا زبان پر نام بھی لانا مناسب نہیں ہے۔ تو یہ معاملہ اتنا دور تک چلا جاتا ہے۔ لہذا آدمی تعجیل نہ مچائے، رابطے میں رہے۔

پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

مطلب انسان رہے، کوشش جاری رکھے، ایک نہ ایک دن ان شاء اللہ اپنی منزل پہ پہنچ ہی جائے گا۔ بہرحال بات لمبی ہو گئی، لیکن اس کی بنیاد ضروری تھی، کیونکہ اس میں حضرت نے ایک بات فرمائی ہے اس کے سمجھانے کے لیے۔ وہ یہ ہے کہ غلبہ ذکر، کہ غفلت میں وقت کم گزرے۔ اور دوسرا ہمیشہ کی طاعت، کہ انسان سے نافرمانی نہ ہو۔ یہ چیزیں طریقت سے چاہیے کہ ہم طریقت کے ذریعے سے ان چیزوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بنیاد یہ ہے۔

باقی یہ جو مجاہدات ہیں یا معالجات ہیں، یہ سب اسی کے لیے ہیں۔ اس میں اجتہادی چیزیں بہت ہیں۔ یہ اجتہادی نہیں ہیں، جو دو چیزیں میں نے بتائیں، یہ اجتہادی نہیں ہیں، یہ منصوص ہیں۔ یہ منصوص ہیں، یہ targets ہیں، یہ ہمیں دی گئی ہیں کہ یہ کرنا ہے۔ لیکن اس کو حاصل کیسے کرنا ہے، یہ اجتہادی ہے۔

مثال کے طور پر نقشبندی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ چشتی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ قادری سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ سہروردی سلسلہ ہے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ طریقے سارے جدا جدا ہیں، لیکن حاصل کرنی کی یہی چیز ہے۔ وہ چاہے مجاہدات بتائے یا وہ ذکر بتائے، اپنے اپنے طریقے سے، وہ اپنے اپنے طریقے سے منزل تک پہنچا دیں گے۔ لیکن پہنچانا منزل یہی ہے، مقام جس کو ہم کہتے ہیں، یہ منزل ہے۔ اس تک پہنچنا ہے، تو مقام کیا چیز ہے، اس میں یہ ہے کہ دو چیزیں حاصل کرنی ہیں۔ ایک تو یہ کہ غفلت نہ ہو اور دوسرا یہ کہ نافرمانی نہ ہو، اور یہ دونوں آپس میں لازم ملزوم بھی ہیں، جب غفلت نہیں ہوگی تو نافرمانی بھی نہیں ہوگی۔ باقی یہ ہے کہ حسب سنت اللہ جو مقصود ہے ان تمام مجاہدات اور معالجات پر مرتب ہو جاتا ہے، یہ دو چیزیں؛ ہر وقت اللہ آپ کو یاد رہے اور نافرمانی بالکل نہ ہو۔ یہ اگرچہ target ہے، لیکن یہ جو چیز ہے، مطلب ان چیزوں کے ذریعے سے اس کیفیت کو حاصل کرنا، یہ انسان کے لیے چونکہ امرِ طبعی ہے، غیر اختیاری ہے۔ لیکن بہرحال یہ اس پر اگر انسان جاری رکھے کام، تو ما شاء اللہ یہ چیز حاصل ہو جاتی ہے۔

فرمایا پھر استعداد کا فرق ہوتا ہے، کہ کوئی ذرا جلدی پہنچ جاتا ہے، کوئی ذرا لیٹ پہنچ جاتا ہے، لیکن بہرحال پہنچ جاتا ہے۔

اب جو پہنچ گیا، تو کیا وہ بالکل کبھی بھی اس سے، مطلب یعنی اس قسم کی غلطی پھر نہیں ہوگی؟ فرمایا: ممکن ہے۔ کہ وہ کیفیت حاصل ہونے کے بعد بھی، کبھی بدپرہیزی کی وجہ سے، ماحول کی وجہ سے، کوئی غلطی ہو جائے، لیکن وہ غلطی میں ایسے اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر نظام بنایا ہوگا کہ فوراً اس کو پتہ بھی چلے گا، اس کو ظلمت کا ادراک بھی ہوگا، اور فوراً اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنی capability بھی دی ہوگی کہ فوراً وہ اس کو کنٹرول بھی کر لے گا۔ اس کو آگے بڑھنے نہیں دے گا۔

یعنی گویا کہ کہہ سکتے ہیں، مطلب جس کو ہم کہہ سکتے ہیں نا کہ جیسے مختلف سسٹمز ہیں، ان سسٹمز کے اندر وہ جب قسم کی کوئی مطلب جیسے refrigerator ہے۔ اب refrigerator میں thermostat لگا ہوتا ہے۔ اب thermostat، آپ نے گرم چیزیں رکھ لیں تو refrigerator cabinet گرم ہو گیا۔ اب گرم ہونے کے ساتھ ہی thermostat نے اس کو بتا دیا کہ یہ تو اتنا گرم ہو گیا۔ جب اتنا گرم ہو گیا، thermostat ہی اس کو control کر لیتا ہے، اور وہ fridge چلنے لگتا ہے۔ اس وقت تک چلتا رہے گا، چلتا رہے گا، کہ پھر دوبارہ اپنی حالت پہ آ نہ جائے۔ پھر رک جائے گا، کیونکہ بجلی بلاوجہ خرچ نہیں کرنی ہے اور حد سے زیادہ ٹھنڈک بھی پیدا نہیں کرنی۔ اچھا پھر اس کے بعد اگر پھر کوئی چیز آ گئی، او پھر دوبارہ چلنا شروع ہو جائے گا۔

تو یہ خود بخود یہ system انسان کے دل کے اندر بھی آ جائے گا کہ ظلمت کا ادراک ہو گا۔ جس وقت انسان ایک صفائی اور ستھرائی حاصل کر لیتا ہے، تو اس کی جو قلبی آنکھ ہے، وہ اس کو observe کر رہی ہوتی ہے۔ اگر وہ اس کے level سے کم ہو جائے، تو فوراً اس کے اوپر گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ اور اس وقت تک وہ استغفار کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، جب تک اس پہلے والی حالت ہے، اس کے اوپر آ نہ جائے۔ مزید مجاہدات اور ریاضتوں سے وہ چیز مزید improve ہو سکتی ہے۔ یعنی وہ جو level ہے جہاں پر آنا ہے، وہ اصل میں reset ہوتا رہتا ہے کہ آپ زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، پھر زیادہ بہتر، اس کے اوپر جاتے رہتے ہیں، لیکن یہ بات ہے کہ جب کبھی کوئی اس قسم کی غلطی ہو جائے، تو فوراً اس کے اندر ایک نظام جو لگا ہوتا ہے وہ چل پڑتا ہے۔

ہمارے حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک شعر ہے اس سلسلے میں۔

بر دلِ سالک ہزارا غم بود
گر ز باغ دل خلالی کم بود

کہ جو سالک ہوتا ہے، اس کے دل پر ہزاروں غم ٹوٹ پڑتے ہیں اگر اس کے دل کے باغ سے ذرا ایک تنکا بھی کم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو رخ پہ لاتی ہے، صحیح رخ پر لاتی ہے، اور شیطان اس کے اوپر attempts کرتا رہتا ہے۔ لیکن وہ attempts کامیاب نہیں ہوتے، کیونکہ جیسے جیسے وہ attempt کرتا ہے، وہ ماشاءاللہ اس کو اللہ تعالیٰ جو نے جو قلبی بصیرت دی ہوتی ہے، اس کے مطابق علاج بھی کر رہا ہوتا ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ شیطان نے تہجد کی نماز قضا کروائی۔ اگلے دن حضرت اتنا روئے، اتنا روئے، اتنا روئے، کہ مجھ سے تہجد کی نماز قضا ہو گئی۔ تو دوسرے دن کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی صاحب نے انگوٹھا ان کا ہلایا، اور ان کو جگا دیا، انہوں نے کہا، تہجد پڑھ لو۔ انہوں نے کہا، جی آپ کون مہربان تشریف لائے کہ آپ نے مجھے جگا دیا، ہم نے بڑا اچھا کیا، انہوں نے کہا، بس اب جاگ گئے، بس ٹھیک ہے نا، کافی اور کیا باتیں کرتے ہو، بس جاؤ نماز پڑھو۔ انہوں نے فوراً پکڑ لیا، کہتے ہیں، جانے نہیں دینا جب تک بتاؤ گے نہیں کہ تو کون ہے۔ اخیر میں جب مجبور ہو گیا تو اس نے کہا: میں شیطان ہوں۔ تو انہوں نے کہا، تو نے کب سے یہ کام شروع کر لیا۔ تہجد کے لیے جگانا کب سے شروع کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ تو آج اتنا رویا کہ اس سے زیادہ اجر تجھے مل گیا۔ تو مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوا، تو میں نے کہا، چلو جی یہ تہجد کا اجر تو لے لو، لیکن کم از کم دوبارہ وہ اجر تو نہ لو نا، جتنا زیادہ اجر ہے اس کی وجہ سے۔ اب دیکھ لو correction factor۔ واقعتاً جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ بعض دفعہ موہوم غلطیوں پر اتنا روتے ہیں کہ ہم لوگ حقیقی غلطیوں پر اتنا نہیں روتے۔ ان کو صرف وہم ہو چکا ہوتا ہے کہ میرا کام خراب ہو گیا۔ حالانکہ اس کی اجازت ہوتی ہے شرعاً۔ لیکن ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ تو یہ تو ایسا ہو گیا، اور چونکہ اپنے اوپر ہمیشہ بدگمانی ہوتی ہے۔ تو ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ تو غلط ہو گیا۔ تو اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جو ابرار کی جو سيئات ہیں، وہ عوام کی وہ حسنات ہیں۔ اصل میں ہم لوگ جس چیز پر شکر کرتے ہیں کہ یا اللہ تو نے اس عمل کی توفیق عطا فرمائی، وہ بزرگ اللہ والے، اس پر روتے رہتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا۔ ان کا معیار اونچا ہوتا ہے۔ اور واقعتاً دنیا میں ہم اس کو دیکھتے ہیں۔ دنیا میں ہمارے معیار بڑے اونچے اونچے ہوتے ہیں۔ اور اس وجہ سے ذرا برابر بھی تھوڑا سا فرق پڑ جائے نا، تو پھر روتے ہیں۔ دین والا معیار ذرا سمجھ میں نہیں آتا۔

ہمارے حضرت کے پاس دو آدمی آئے، تاجر تھے۔ تو ایک تاجر نے کہا کہ حضرت، میرے لیے دعا فرمائیں، نقصان ہو گیا تجارت میں۔ تو حضرت نے فوراً دعا کی، حضرت ہوتے تھے، دعا کر لیتے تھے۔ تو دوسرا تاجر مسکرایا، تو انہوں نے کہا، بھئی کیا بات ہے؟ کہتے ہیں ان سے پوچھو کیا نقصان ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کیا نقصان ہوا ہے؟ انہوں نے کہا 18 ہزار روپے کے نفع کی امید تھی، تو 12 ہزار روپے نفع ہوا ہے۔ تو ظاہر ہے ان کا تو نقصان یہ ہوا ہے۔ تو ایسا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہوتا ہے۔ کہ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے معیار بڑے ٹھیک ٹھاک ہیں۔ ذرا بھر کچھ ہمارے اس میں کمی آ جائے، تو ہم تو روتے رہتے ہیں کہ بھئی، یہ کیا ہو گیا اور یہ کیا ہو گیا۔ دوسری رکعت خدا کے بندے، آپ کے پاس جو اتنا کچھ ہے، اس کی طرف کیوں نہیں دیکھتے ہو؟ لیکن یہ بات سمجھ میں آ جائے تو پھر تو بات ہی بن جائے نا۔ اس طرح کیسے سمجھ میں آئے گا؟ تو یہ چیز جو ہے، لیکن دین کے معاملے میں اوہو۔

کہتے ہیں کسی نے کسی شرابی سے پوچھا کہ شراب کتنے پیتے ہو؟ کہتے ہیں کبھی صبح پیتا ہوں تو پھر کبھی شام میں پیتا ہوں۔ اچھا انہوں نے کہا، نماز بھی پڑھتے ہو؟ کہتے ہیں عیدین بعیدین، عیدین بعیدین، عیدین بعیدین۔ یعنی ہر عید کو نماز پڑھتا ہوں۔ مقصد یہ ہے کہ، اب ظاہر ہے، نماز کے لیے ان کے پاس وہ یہی تھا کہ ہر عید، ہر سال میں ایک دفعہ نماز پڑھنا، اس کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ اور شراب چونکہ اس کے لیے ہوتی ہے desire، تو اس وجہ سے اس کے لیے صبح سے لے کر شام تک انتظار یہ بھی بھاری تھا۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو دنیا کی چیز ہے، وہ تو ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ دین کی بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی۔

تو یہ بات میں عرض کر رہا تھا کہ اپنی اپنی استعداد پر ہے۔ پھر اس کے بعد اگر کوئی گڑبڑ ہو جائے تو فورا اس کو کنٹرول بھی کر لیتا ہے۔ اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔