دنیا: مومن کا قید خانہ اور آخرت کی تیاری کی اہمیت

انفاس عیسی، اشاعت اول: 28 جنوری، 2015

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • عارفین کے نزدیک دنیا کی حیثیت
  • دنیا: ایک اختیاری قید خانہ
  • مومن کا اللہ کے ساتھ عہد
  • عقلِ نفسانی بمقابلہ عقلِ ایمانی
  • انبیاء اور عام انسانوں کی دنیا اور آخرت کے حوالے سے سوچ کا موازنہ
  • اعمال کی جوابدہی اور اللہ کا Monitoring System

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات سنائے جاتے ہیں۔ ان کی کچھ مناسب تشریح کی جاتی ہے۔ عرصہ دراز سے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات شریف کی جلد "انفاس عیسیٰ" کی تعلیم جاری ہے، آج بھی اسی سے ان شاء اللہ تعلیم ہو رہی ہے۔

"اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ": ارشاد: عارفین رحمۃ اللہ علیہم دنیا کو قید خانہ سمجھتے ہیں اور ان کو یہاں سے نکلتے ہوئے وہی خوشی ہوتی ہے جو جیل خانہ سے نکلتے ہوئے ہوتی ہے۔

عجب کیا مگر مجھے عالم بہ ایں مقصود زنداں ہو
میں وحشی بھی تو وہ ہوں لامکاں جس کا بیاباں ہے

خرم آں روز کزیں. ویراں بردم
راحت جاں طلبم و زپئے جاناں بردم

نذر کر دم کہ گوآید بسر ایں غم روزے
تا در میکدہ شاداں و غزل خواں بردم

مفلسا نیم آمدہ در کوئے تو
''شَیْئًا للہِ'' از جمال روئے تو

دستِ بکشا جانب زنبیل ما
آفریں بردست و بر بازوئے تو

اصل میں یہاں پر حضرت نے جو پہلی بات فرمائی ہے، اسی میں سب کچھ ہے۔ فرمایا: "عارفین دنیا کو قید خانہ سمجھتے ہیں"۔ عارفین کون لوگ ہیں؟ عارفین وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو بھی پہچان لیں اور اپنے رب کو بھی پہچان لیں۔ "مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ"۔ (جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا)۔ پس جو اپنے آپ کو بھی سمجھتے ہیں، جانتے ہیں، اور اپنے رب کو بھی جانتے ہیں، تو پھر وہ دنیا کو بھی جانتے ہیں کہ دنیا کیا چیز ہے۔

دنیا اصل میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ہم لوگ آئے ہیں امتحان کے لیے۔ اور ہم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ آزاد نہیں ہیں۔ ہمارا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا، سونا، جاگنا، سوچنا، دینا، لینا، سب کچھ ایک خاص ضابطے کا پابند ہے۔ ہمیں ہر ایک چیز پوچھ پوچھ کے کرنی ہے۔ اگر ایسا ہم نہیں کرتے تو نقصان اپنا کرتے ہیں۔

فرق صرف یہ ہے کہ قید خانہ میں، جو عام قید خانہ ہے دنیا کا، اس میں غیر اختیاری طور پر انسان بند ہوتا ہے۔ غیر اختیاری طور پر انسان وہ کچھ نہیں کر سکتا جو کرنا چاہتا ہے۔ لیکن جو دنیا کا قید خانہ ہے یعنی دنیا جس کو ہم کہتے ہیں موت سے پہلے پہلے کا زمان و مکاں، وہ اختیاری طور پر قید خانہ ہے۔ یعنی ہمیں اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ہم لوگ یہاں جتنے عرصہ ہم یہاں پر ہیں، اگر ہم وہ کریں جو اللہ چاہتا ہے، وہ کریں جو اللہ چاہتا ہے، تو یہاں سے جانے کے بعد اللہ وہ کریں گے جو ہم چاہیں گے۔ بس اتنا فرق ہے۔

باقاعدہ Bargaining ہو چکی ہے۔ میں اپنے آپ سے نہیں کہہ رہا، باقاعدہ قرآن بتاتا ہے۔ اللہ پاک نے مومنین سے ان کا جسم و جان یہ سب کچھ خرید لیا ہے۔ اب وہ اس کا اپنا نہیں ہے، جنت کے بدلے میں۔ لہٰذا اختیاری طور پر ہم لوگ اگر اس کے ساتھ مخلص ہوں گے، اور وہ کریں گے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس Contract کو ہم لوگ دل سے مانیں گے تو اس کے بعد پھر اس کا جو مظاہرہ ہے جس چیز کا میں عرض کر رہا ہوں، موت کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے۔

اللہ جل شانہ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ جن لوگوں نے کہا رب ہمارا اللہ ہے، یہ وہ Contract ہے۔ اس Contract کے بارے میں بات ہو گئی: إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا رب ہمارے اللہ ہیں۔ ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر اس Contract پر قائم رہے۔ دو لفظ ہیں۔ ایک ہے "رب، اللہ کو سمجھنا"، اور دوسرا پھر "اس پر قائم رہنا"۔ پھر کیا ہوگا؟ قرآن میں آگے آتا ہے: تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ

فرشتے موت کے وقت آئیں گے ملاقات کرنے، اور یہ خبر دینے کے لیے کہ کوئی خوف نہ کرو، کوئی غم نہ کرو۔ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا۔ تمہیں نہ کوئی غم ہونا چاہیے نہ کوئی خوف ہونا چاہیے، یہ پیغام دینے کے لیے فرشتے آئیں گے۔ وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اور جنت کی بشارت حاصل کر لو جس کا تمہارے ساتھ وعدہ تھا۔

کونسی جنت؟ آگے فرماتے ہیں: نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ہم تمہارے ساتھی رہے ہیں یہاں پر، اس دنیا میں۔ اس دنیا کی زندگانی میں ہم تمہارے ساتھی رہے ہیں اور ابھی تمہارے ساتھ جا رہے ہیں، چھوڑیں گے نہیں تمہیں۔ ہم تمہارے ساتھ جا رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلا کہ نیک لوگوں کے ساتھ فرشتے ہوتے ہیں۔ ان کا دل مضبوط کرنے کے لیے، اور ان کی حفاظت کے لیے یہ فرشتے ہوا کرتے ہیں، قرآن بتاتا ہے: "نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ" اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جو تمہارا جی چاہے گا۔ "وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ" اور تمہارے لیے اس جنت میں ہر وہ چیز ہوگی جس کو تم منہ سے مانگو گے۔

مطلب یہ ہوا کہ من چاہی زندگی اور منہ مانگی چیزیں یہ جنت میں ہوں گی۔ اب جب اس قسم کی بات ہے تو آپ بتائیں کہ یہاں کی جو محدود زندگی ہے اس میں اپنے آپ کو قیدی ماننا، اپنے آپ کو یہاں اللہ کے حکم کا مکمل پابند کرنا یہ سستا سودا ہے یا نہیں ہے؟

اصل میں میں آپ سے بات عرض کروں، اس وقت ہم لوگ دنیا کے اسیر ہیں۔ دنیا کی چیزیں اتنی چاہتے ہیں کہ آخرت کی چیزیں بھی دنیا کی چیزوں کے ذریعے سے ہم سمجھتے ہیں۔ جب تک دنیا کی مثال نہیں دی جائے اس وقت تک یہ ساری باتیں سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، اور عام آدمی سمجھتا ہے کہ کیا کہہ دیا، کچھ پتہ نہیں چلتا۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ موٹی موٹی باتیں، بڑی بڑی باتیں جو اللہ جل شانہ فرماتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچاتے ہیں، اس کو جیسے ہم عالمِ خواب میں سنتے ہیں۔ جیسے ہمیں نہیں کہا جا رہا ہو۔ جیسے کوئی کہانی سن رہے ہوں، جیسے کوئی کسی اور کی بات ہو رہی ہو۔ اس قسم کا حال ہے ہمارا اس کے ساتھ، اس سے متاثر نہیں ہوتے۔

یہی وہ نقطہ ہے جس پر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کو بدلنے کا آغاز کیا تھا۔ یہی وہ نقطہ ہے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے عالم تھے، بہت بڑے عالم تھے، اتنے بڑے عالم تھے کہ وقت کا جو بادشاہ تھا اس کو اپنی سواری پہ، اپنی مسند تک لاتا تھا۔ ان کے شاگردوں کا ایک پورا جال بچھا ہوا تھا۔ جس طرف بھی نکلتے وہاں ہزاروں لاکھوں لوگ استقبال کے لیے موجود ہوتے تھے۔ ہر شخص کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ میں کچھ خدمت کروں۔ یہ تھے امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ۔

لیکن ایک روز ان کو یہی خیال ہوا، ابھی جو میں عرض کر چکا ہوں، یہی خیال ہوا کہ جو دنیا کی چیزیں ہیں، جو دنیا کے وعدے ہیں، جو دنیا کی باتیں ہیں، یہ دنیا کی راحتیں ہیں، یہ دنیا کی جو تکلیفیں ہیں، وہ تو ہم لوگ بہت اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک آدمی کی Promotion نہیں ہوئی، اُف ہو! جان پہ بن جاتی ہے۔ کسی Paper میں کوئی فیل ہو گیا، خودکشی کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ کسی جگہ بے عزتی ہوئی، عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ ذرا سا نقصان ہوا، زندگی اجیرن ہو گئی۔ حالانکہ عقلا کہتے ہیں بھئی جو نقصان ہو گیا وہ تو ہو گیا، لیکن اب مزید نقصان اس کی وجہ سے کیوں اٹھا رہے ہو؟ کہ تم جو مزید نقصان اٹھا رہے ہو یہ تو تمہارا مزید نقصان ہے، ایسے کیوں کر رہے ہو؟ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔

Doctor لوگ کیا کرتے ہیں، جو نفسیاتی ماہرین ہوتے ہیں، وہ انہی چیزوں کا علاج کرتے ہیں، بیچارے پاگل ہوئے جاتے ہیں دنیا کی چیزوں کے لیے۔ تو دنیا سے تو اتنا تأثر ہم لیتے ہیں، اور آخرت کی بڑی بڑی باتوں کو ہم بھول جاتے ہیں، پی جاتے ہیں۔ جیسے حدیث شریف ہے، فرماتے ہیں جس کی نماز ایک وقت کی ضائع ہو گئی وہ ایسا ہے جیسا کہ اس کا سارا مال سارا اہل و عیال تباہ ہو گیا۔ اب بتاؤ کیا ہم اتنا اثر لیتے ہیں؟ نماز کے رہ جانے سے؟ ہوں گے، لیکن ہم نہیں۔ صحابہ کرام آپس میں تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے پر تعزیت کیا کرتے تھے کہ آپ کی تکبیر اولیٰ چھوٹ گئی ہے۔ اس طرح زندگی تھی ان کی۔

تو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی علمی بصیرت سے ادراک کر رہے ہیں کہ میرا حال یہ نہیں ہے۔ میں دنیا کی چیزوں سے اثر لے رہا ہوں، وہ جو آخرت کے وعدے ہیں اس پر میں ٹس سے مس نہیں ہو رہا، یہ تو مجھ میں گڑبڑ ہے۔ اس کی اگر آج کل کے دور میں تشریح ہو سکتی ہے تو یہ ہو سکتی ہے کہ ایک وہ عقل ہے جو ہم نفس کو خوش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، نفسانی خواہشات جو ہمارے ہیں اس کے لیے جو عقل ہم استعمال کرتے ہیں، ایک تو یہ عقل ہے جس کو عقلِ نفسانی کہتے ہیں۔ ایک وہ عقل ہے جو کہ ہم ایمان کے راستے سے، غیب کے جو مطلب جو اخبار ہیں ان کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً جنت ہے، دوزخ ہے، قبر کی زندگی ہے، اس کے بارے میں حالات کا تذکرہ ہے۔ اس سے جو ہمیں بصیرت حاصل ہوتی ہے پھر اس کے بارے میں جو ہم سوچتے ہیں کہ اب ہمیں یہ کرنا چاہیے، یہ کرنا چاہیے، یہ عقلِ ایمانی ہے۔ اور اسی عقلِ ایمانی میں اور عقلِ نفسانی میں مقابلہ ہوتا ہے۔

اگر کسی کی عقلِ ایمانی زیادہ ہے تو اس کی دینی زندگی زیادہ اچھی ہوگی، دنیاوی زندگی Normal سی ہوگی۔ اس کے بارے میں اس کو اتنا زیادہ فکر نہیں ہوگا۔ یہ نہیں کہ خراب ہوگی۔ کبھی بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو عقل ایمانی سے کام لے گا اس کی دنیاوی زندگی خراب ہوگی، لیکن وہ دنیاوی زندگی کے بارے میں اتنے متفکر نہیں ہوں گے۔ مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب و غریب انداز میں اس چیز کو سمجھایا ہے۔ سبحان اللہ! کیا عجیب و غریب انداز ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضرت کو بہت اعلیٰ ذوق ان چیزوں میں عطا فرمایا تھا۔ فرمایا:

انبیا در کار عقبی قدری اند
انبیا جو آخرت کے امور ہیں، ان میں وہ قدری ہیں۔

و انبیا در کار دنیا جبری اند
اور دنیا کے جو امور ہیں، ان کے بارے میں انبیاء جبری ہوتے ہیں۔

مقصد کیا؟ دنیا میں جو مل گیا، مل گیا، اس پہ خوش ہیں۔ پروا نہیں ہے کہ مجھے زیادہ مل جائے، بس جو اللہ دے رہا ہے اس پہ راضی ہیں۔ کہتے ہیں بس قسمت میں یہی تھا۔ لیکن آخرت کے بارے میں ایک چیز بھی miss نہیں کرنا چاہتے۔ ایک چیز بھی miss نہیں کرنا چاہتے۔ اس کے بارے میں اتنے Particular ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی زندگی میں اگر ہم دیکھیں تو یہ حال تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ آخری وقت کی جو نماز ہے، آخری نماز، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حالت میں پڑھی ہے؟ آپ حضرات نے سیرت کے واقعات میں پڑھا ہوگا۔ قدم پورا اٹھا بھی نہیں جاتا تھا، ایسی حالت میں ان کو اٹھا اٹھا کے وہاں پر لے گئے ہیں۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے امور میں کبھی جب مل جاتا تھا کھانا، آپ حیران ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے اعلان سے پہلے تو دنیا کا کام کیا ہے۔ یعنی بھیڑیں بھی چرائی ہیں، تجارت بھی کی ہے، مزدوری بھی کی ہے، یہ سب ثابت ہے، لیکن نبوت کے اعلان سے پہلے۔ نبوت کے اعلان کے بعد کوئی کام ثابت نہیں ہے دنیاوی، کوئی ثابت کر کے دکھائے۔ نہیں ہے کوئی ثابت۔ پھر کیا حال تھا؟ یہ حال ہوتا تھا، جو مل گیا اس پہ خوش ہیں، کھانے کو مل گیا تو کھا لیا، نہیں ملا فرما دیا، میں نے روزہ رکھ دیا، میں نے روزہ رکھ دیا۔

اتنا مال آتا تھا، تقسیم کرتے کرتے تھک جاتے تھے۔ ایک دن بہت سارا مال آ گیا تھا غنیمت کا اور بہت ساری چیزوں کا ہدایا، وہ تقسیم کر رہے ہیں، تقسیم کر رہے ہیں، تقسیم کر رہے ہیں، ختم ہو گیا۔ اب جب افطار کا وقت ہوا، روزے سے تھے، افطار کے وقت میں کچھ مانگا کھانے کو، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! گھر میں تو کچھ نہیں ہے، اور آپ تو آج تو اگر آپ کچھ بچا کے رکھ لیتے تو روزہ بھی افطار کر لیتے۔ فرمایا: اس وقت کہہ دیتیں، اس وقت کہہ دیتیں، اب بس ٹھیک ہے۔ یہ حال ہے۔

ایسے مطلب یہ ہے کہ۔۔۔ ایک دفعہ نماز جلدی پڑھ کے اٹھ کے گئے، اور پوچھا کہ وہ جو مال تقسیم ہونا تھا وہ تقسیم ہو گیا ہے؟ تو انہوں نے کہا جی اتنا تقسیم ہو گیا اتنا باقی بچا ہوا ہے۔ فرمایا "نہیں"، جو تقسیم ہوا ہے وہ باقی ہے، اور یہ ابھی تقسیم کرنا ہے، وہ باقی ہے۔ یہ ہے اصل میں سوچ، نبی کی سوچ یہ ہے۔

یہی حال صحابہ کا بھی تھا۔ مقصد یہ ہے انہوں نے آخرت کی زندگی کو اصل سمجھا، اور ہے بھی یہی، اور دنیا کی زندگی کو گزارے کے لیے لیا ہے، کہ گزارہ ہو گیا تو ہو گیا، بس سبحان اللہ، اس پر خوش ہیں۔ تو یہ جو حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

انبیا در کار عقبی قدری اند انبیا جو آخرت کا کام ہے اس کے اندر تو قدری ہیں،

کوشش کرتے ہیں "لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ" کا اطلاق اس پہ کر لیتے ہیں، کہ جو کچھ کوشش ہم کریں گے وہی ملے گا۔ اور اس کے لیے محنت کر رہے ہیں۔ اور دنیا کے معاملے میں اللہ نے جو دے دیا، -سبحان اللہ- اس پہ خوش ہیں۔ یہ بات ہے۔

اور دنیا کے جو لوگ ہیں اخریٰ، جو ان کے دوسرے لوگ ہیں جو ہمارے، فرمایا وہ

درکار عقبی جبری اند۔ وہ اپنے آخرت کے کام میں جبری ہیں،

کہتے ہیں بس قسمت ہی ہوتی ہے، قسمت ہی ہوتی ہے۔ نماز نہیں پڑھی بس جی قسمت نہیں تھی جی بس۔ حج، پیسے ہوں گے سب کچھ ہے، جی جب بلائیں گے تو پھر جائیں گے۔ بھئی کیسے بلائیں گے؟ کیا Letter بھیجیں گے آپ کے پاس؟ حکم بھیج دیا ہے، توفیق دے دی، پیسے دے دیئے ہیں، آپ کے پاس سارے وسائل موجود ہیں، اب کونسا Letter بھیجیں گے؟ جب جی بلاوا آئے گا پھر جائیں گے۔ یہ لوگوں نے باتیں بنائی ہوئی ہیں۔ حکم موجود ہے، قرآن میں موجود ہے، حدیث میں موجود ہے، اب کس طرح بلاوا آئے؟ تو اس کے لیے لوگ بلاوے کے انتظار میں ہیں۔ کچھ لوگ تو باقاعدہ نماز کے لیے بھی کہتے ہیں، صحیح بات کرتا ہوں، چونکہ ہمارا تو روزمرہ کا معاملہ ہے، نماز کے بارے میں بھی کہتے ہیں، بس جب اللہ پاک پڑھوائیں گے تو پھر پڑھ لیں گے۔ (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)۔ اللہ تعالیٰ اگر قہری طور پر پڑھانا چاہے، کوئی ہل بھی نہیں سکے گا۔ لیکن اللہ پاک کا طریقہ ہی نہیں ہے، وہ قہری طور پہ نہیں پڑھانا چاہتے۔ قہری طور پہ اگر پڑھانا ہوتا تو سارے کفار کو ایک آن کی آن میں مسلمان کر دیتے۔ اس کے لیے کیا مشکل ہے؟

لیکن یہ سارا کا سارا جو ہے، یہ امتحان ہے، اختیار ہے۔ اختیار دے دیا ہے، اب اس اختیار کو ہم کس چیز کے لیے استعمال کریں؟ عقل دے دی ہے، اب اس عقل کو ہم کس چیز کے لیے استعمال کرتے ہیں؟ پیسہ دے دیا ہے، اب اس پیسے کو کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ جان دے دی ہے، اب اس جان کو ہم کس لیے استعمال کرتے ہیں؟ یہ ساری چیزیں دیکھی جا رہی ہیں۔ کئی قسم کے Monitoring system لگے ہوئے ہیں، کئی قسم کے۔ فرشتوں کا نظام موجود ہے، اللہ جل شانہ براہ راست دیکھ رہے ہیں، پورا نظامِ کائنات ہمیں دیکھ رہا ہے۔ ہم لوگ تو ترقی کر رہے ہیں نا، ہم تو کہتے ہیں جی فلاں قسم کی Information devices آ گئیں، IT نے ترقی کی۔ بھئی جتنی ترقی آپ کرتے کرتے کرتے کرتے کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔

اللہ جل شانہ کے جو Monitoring systems ہیں ان کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے اور تھوڑا تصور کر لیں۔ قرآن میں ہے، جب کچھ لوگ انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم نے تو یہ نہیں کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے، اور پھر اعضاء کو حکم دیں گے کہ بتاؤ، خود بتاؤ، اب بتاؤ۔ اب کا Science کہاں تک جائے گا؟ آنکھیں بول پڑیں گی، فلاں فلاں کو دیکھا ہے میرے ذریعے سے۔ یہ کیا ہے، یہ کیا ہے، یہ کیا ہے، یہ کیا ہے؟ کان گواہی دیں گے فلاں فلاں گانے سنے ہیں، یا فلاں نعت سنی ہے، یا قرآن سنا ہے۔ جو جو بھی ہوگا وہ سب بتا دیں گے، ایک ایک کر کے چیزیں بتائیں گے۔ ہاتھ پاؤں گواہی دیں گے۔ ذہن گواہی دے گا، یہ یہ چیز سوچی ہے۔ دل گواہی دے گا، میرے اندر یہ یہ چیزیں تھیں۔ ساری چیزیں جب گواہی دینے لگیں گی، یہ پٹ پڑے گا اور جب اس کا منہ آزاد ہوگا کہے گا تمہیں کس نے یہ بات کرنے کو بتایا ہے؟ یہ تو نے کیوں یہ باتیں کیں؟ تو وہ جواب دیں گے کہ اس اللہ نے ہمیں گویائی دی جس نے سب کو گویائی دی تھی۔ تو یہ سارے کے سارے Monitoring systems موجود ہیں، اب ہم لوگ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ یہ ہمارے اپنے اپنی پرواز کی بات ہے، سوچ کی بات ہے۔ لیکن بہرحال وہاں پتہ چلے گا، بلکہ موت کے وقت سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔

موت کے وقت سے ہی سارا علم ہو جاتا ہے کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ وہ ایک بزرگ فوت ہو رہے تھے تو رو رہے تھے، تو کسی نے کہا کہ کیوں رو رہے ہیں؟ فرمایا اب پردہ اٹھنے والا ہے، اب مجھے نظر آئے گا کہ میں کدھر جا رہا ہوں۔ میں کدھر جا رہا ہوں۔ ایک اور بزرگ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک بھٹیارن ان کے محلے میں رہتی تھی، کسی مسئلے پہ ان سے، ظاہر ہے بعض لوگ ویسے ہی عجیب و غریب طبیعت کے ہوتے ہیں، اچھے لوگ ان کو پسند نہیں آتے۔ تو اس سے کہا کہ میرے کتے کی دم یا تمہاری داڑھی اچھی۔ انہوں نے کہا اب تو مجھے پتہ نہیں ہے، جس وقت مجھے پتہ چل جائے گا پھر میں ان شاء اللہ بتا دوں گا۔ اب مجھے پتہ نہیں ہے۔ اور جس وقت فوت ہو رہے تھے، وصیت کی کہ میرا جنازہ اس کی دکان کے سامنے سے گزارا جائے، ان کو بتایا جائے کہ میری داڑھی اچھی ہے۔ ان کو پتہ چل گیا اس وقت، مطلب اس وقت تک اس لیے روکا تھا کہ مجھے خود نہیں پتہ تو میرا حال کیا ہے۔ تو ان کو بتا دیا کہ میری داڑھی اچھی تھی۔

مطلب یہ ہے، ہم لوگ اس وقت کچھ بھی نہیں جانتے، پتہ نہیں ہم کس طرف جا رہے ہیں، لیکن ہمارے اعمال ایسے ہونے چاہیے جو ہمیں اچھی چیز کی طرف لے جائیں۔ یہ جو اعمال کی Direction ہے، یہ اس کا اختیار اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔