اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ!
أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّجِيْمِ۔
ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات کا درس ہوتا ہے۔ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کے ملفوظات جو انفاسِ عیسیٰ کے نام سے چھپ گئے ہیں، اس میں بابِ سوم کا جو حصہِ اول ہے، جو رذائل کی اصلاح کے بارے میں ہے، وہ ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا اور اس کی مناسب تشریح بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تمکین کا نام توسّط و اعتدال ہے:
تمکین، مکان سے ہے۔ اس کو ہم لوگ انگریزی کے لفظ سے اگر ملانا چاہیں تو یہ establish کا لفظ اس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ "تمکین"۔ تو جب کوئی چیز establish ہو جائے، یعنی ہر چیز اپنی اپنی جگہ settle ہو جائے۔ جہاں جہاں پر پڑنی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں تمکین حاصل ہو گئی۔ جب تک وہ establish ہو رہا ہے تو اس وقت وہ تمکین نہیں، تلوین ہے۔ مثلاً: یہ خانقاہ بن رہی تھی، تو یہ تلوین تھی۔ کہیں cement آ رہا ہے، کہیں بجری آ رہی ہے، کبھی tiles آ رہے ہیں، کبھی کیا ہو رہا ہے، کبھی کیا ہو رہا ہے۔ اور shape بن رہی تھی، لیکن بہرحال وہ سب چیزیں ہو رہی تھیں، تو یہ تلوین تھی۔ جب ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ہو گئیں اور یہ چیز establish ہو گئی تو ہم نے کہا اب خانقاہ بن گئی۔ تمکین حاصل ہو گئی۔
تو اس طریقے سے جب procedure میں انسان پڑا ہوتا ہے اصلاح کے، تو یہ تلوین ہوتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنی جگہ پر جیسے ہونا چاہیے ہو جائے، تو اس کو ہم "تمکین" کہتے ہیں۔ اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ تمکین کہتے ہیں۔ حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے ایک دن فرمایا، کچھ میں نے اپنے احوال لکھے تھے، تو حضرت نے فرمایا: یہ تلوین ہے۔ یہ تبدیلی ہوتی رہے گی، ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ کسی ایک حال پر تم جم جاؤ گے۔ اور تمکین تجھے حاصل ہو جائے گی۔ یہ حضرت نے فرمایا۔
تو مقصد یہ ہے کہ انسان کو اپنے جس وقت یعنی وہ progress ہے، اس progress کو continue رکھنا ہوتا ہے۔ تلوین والی condition وہ چل رہا ہوتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد۔۔۔ اگر آپ کہتے ہیں بھئی مجھے تو تمکین چاہیے۔ اور تلوین تو آپ کو نہیں چاہیے۔ تو کیا خیال ہے؟ کیسا ہے آپ کا شوق؟ اس شوق کے بارے میں میں آپ کو بتاؤں ہمارے رشتہ داروں میں ایک بچہ تھا۔ اب فوت ہو گئے ہیں۔ اس نے اپنی والدہ سے کہا جب وہ بچہ تھا، کہتا ہے: "امی میں school نہیں پڑھوں گا، میں college پڑھوں گا۔"وہ ہنس پڑی کہ بچہ ہے نا بچے کو کیا۔ تو واقعتاً بات تو صحیح ہے، شوق تو انسان کو ہوتا ہے جی یونیورسٹی کالج سے اچھی ہے اور کالج سکول سے اچھا ہے۔ لیکن کیا خیال ہے، بیسویں سیڑھی تو پہلی سیڑھی سے بہت اچھی ہے۔ تو چلو بیسویں سیڑھی پہ پہلا قدم رکھ لو۔ اگر رکھ سکتے ہو تو رکھ لو۔ کوئی میرے خیال میں غبارہ ایجاد کر کے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ طریقہ کار نبھانا پڑتا ہے۔ پہلے ایک، پھر دوسرا، پھر تیسرا، پھر چوتھا، پھر پانچواں، چھٹا، ساتواں، یہ ساری چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔ ذکر، اذکار، پہلا ذکر، دوسرا ذکر، تیسرا ذکر، چوتھا ذکر، پانچواں ذکر، چھٹا ذکر، پھر آگے، پھر آگے، پھر آگے۔۔۔ یہ سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ بعض حضرات کہتے ہیں، "بھئی ایک ہی وقت میں سارے کیوں نہیں دیتے؟" ایک ہی وقت میں سارا کیوں نہیں دیتے؟ تو ایک ہی وقت میں پھر کیا خیال ہے وہ جو ڈاکٹر لوگ medicine دیتے ہیں، پانچ دن کی antibiotic، وہ دیتے ہیں۔ "چلو جی اکٹھا سارا ملا کے کھا لو۔" کیا ہو جائے گا؟ حبیب صاحب؟ کیا ہو جائے گا؟ (پار ہو جائے گا) پار ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے، بس یہاں پر بھی پار ہو سکتا ہے آدمی۔ یہاں پر بھی پار ہو سکتا ہے۔
ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے کوئی foreign جا رہے تھے، باہر ملک کسی جگہ جا رہے تھے۔ تو انہوں نے کہا حضرت سے کہ، حضرت! اللہ اللہ کرنے کی اجازت ہے؟ فرمایا کہ "ہاں"۔ "ہاں" تو کہہ دیا، لیکن ابھی دروازے سے باہر نکلے تھے کہ دوبارہ بلایا، "واپس آؤ"۔ فرمایا بھئی درود شریف پڑھا کرو۔ درود شریف پڑھا کرو۔ تو جب وہ چلے گئے، کہتے ہیں اگر میں اس کو نہ روکتا تو ممکن تھا کہ یہ لیونا ہو جاتا۔ لیونا پشتو میں "مجنون" کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پاگل ہو جاتا، ہر چیز کی اپنی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ body کے ساتھ کسی چیز کو ایڈجسٹ ہونا ہوتا ہے۔ جتنا آپ کی body کو سہارنے کی طاقت ہے، اتنا بوجھ اس کے اوپر ڈالا جا سکتا ہے۔
میں نے پہلی دفعہ جب exercise کی تو 20 دفعہ میں نے، وہ جو exercise میں کرتا ہوں، 20 دفعہ کیے تو میری جو Pulse ہے وہ 130 تک پہنچ گئی، 130 تک۔ اس کے بعد خطرہ ہے، کیوں کہ 150 سے تو خطرہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو میں نے مطلب 20 پر ہی رکھا۔
پھر اس کے بعد، کچھ عرصے کے بعد میں نے 30 کر دیا، پھر بھی کچھ 130 کے لگ بھگ۔ پھر میں نے کچھ اور بڑھایا 40 کر دیا، پھر بھی 130 تک۔ پھر 50 کر دیا پھر بھی 130۔ پھر میں نے 60 کر دیا پھر بھی 130، اور پھر میں نے 60 سے بڑھایا نہیں۔ تو 130، 120، 110، 100، اب 90، 95۔۔۔
بتاؤ! میجر صاحب! یہ تو آپ کا field ہے، کیوں ہوا اس طرح؟ مطلب یہ ہے کہ body ایڈجسٹ ہو گئی۔ body اس کے ساتھ ایڈجسٹ ہو گئی۔ یہ اگر میں پہلے ہی دن 60 کر لیتا نا، تو بس پار ہو جاتا۔ ٹھیک ہے نا؟
تو یہ چیز ہوتی ہے مطلب، ہر چیز کا اپنا ایک۔۔۔ تو یہ جو آپ اللہ اللہ کر رہے ہیں نا، تو یہ بھی اسی طرح ہے۔ ایک ہوتا ہے صرف زبان سے اللہ، اللہ، اللہ، normal جس میں ضرب اور جہر نہ ہو۔ تو وہ تو آپ بے شک لاکھوں کر لیں، اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ایک جو مخصوص طریقے سے ذکر کیا جاتا ہے،
اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ، اَللّٰهُ
یہ دل کے muscle کو آپ چھیڑ رہے ہیں۔ دل کا muscle اس کے اوپر، وہ پڑ رہا ہے tension پڑ رہا ہے۔ اب نہ کریں تو اصلاح نہ ہو۔ کیونکہ اصلاح ہی ذکر ہے۔ یعنی دل کو آپ نے یہ چیز پہنچانی ہے۔ تو یہ اگر نہ ہو تو آپ کی اصلاح نہ ہو۔ اور اگر کرو تو اس پر اثر پڑتا ہے۔ دل پہ اثر پڑتا ہے۔ تو اب تھوڑے سے start لینا ہوتا ہے۔ تھوڑے سے start لینا ہوتا ہے۔ تھوڑا کروا دیا، اس کے ساتھ آپ کا دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، پھر دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، پھر اس کے ساتھ دل عادی ہو گیا۔ پھر تھوڑا سا زیادہ کر لیا، اس کے ساتھ۔۔۔ اور سبحان اللہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ایک لاکھ چوبیس ہزار مرتبہ بھی کر لیتے ہیں۔ تو پھر کر لیتے ہیں نا۔ لیکن وہ ایک دن میں تو نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے نا؟ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا ایک طریقہ ہوتا ہے، ایک اٹھان ہوتی ہے، ایک میدان ہے ہر چیز کا۔ تو لہٰذا اسی وجہ سے اس کے ماہرین کے پاس جانا ہوتا ہے۔ اور ان کی مرضی کے مطابق کرنا ہوتا ہے۔
حسنِ اخلاق کی بھی ایک حد ہے:
تہذیب: حدیث میں ہے کہ جب تم سائل کو تین بار (عُذر سمجھا کر) جواب دے دو اور وہ پھر بھی نہ جائے، لپٹ کر جم ہی جائے (جس سے ایذا ہونے لگے) تو پھر اس کے جھڑک دینے میں کچھ ڈر نہیں، اس سے یہ معلوم ہوا کہ حسنِ اخلاق کی بھی ایک حد ہے اور بندہ اس کا مکلّف نہیں کہ اس حد سے آگے ایذا کا تحمّل کرے۔
یہ لوگ exploitation کرتے ہیں بعض دفعہ۔ exploitation سے مراد یہ ہے کہ ایک آدمی کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھانا۔ اب مثال کے طور پر ایک آدمی آپ کو لپٹ ہی جائے کہ بھئی مجھے یہ چیز دو، اور وہ دینے کی نہ ہو۔ تو اب اس کو کہہ دیں بھئی خدا کے بندے یہ آپ کو دینے کی نہیں ہے۔ وہ پھر بھی نہ مانے، "نہیں جی مجھے دے دیں جی۔" پھر کہیں جی، "بھئی آپ کو دینے کی نہیں ہے یہ۔" پھر بھی وہ چڑھ جائے۔ پھر وہ اس طرح تین چار دفعہ جب آپ اس کو سمجھا دیں اور پھر بھی نہ مانے تو پھر بے شک جھڑک دیں۔ "چلے جاؤ!" اور اگر آپ کے پاس کچھ خادم وغیرہ ہوں تو کہیں "بھئی کان سے پکڑ کے نکال دو اس کو۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ اس آدمی نے اپنا جو latitude تھا وہ ختم کر دیا۔
ایک دفعہ ایک صاحب آئے، ایک بزرگ تھے۔ اس کو لپٹ گئے۔ تو حضرت ان کو سمجھ رہے تھے کہ یہ تو مستحق نہیں ہے۔ بعض لوگ انتظامی ذہن رکھتے ہیں۔ تو یہ تو مستحق نہیں ہے۔ تو اس نے ظاہر ہے وہی جذبہ exploit کرنے کے لیے کہا کہ: "حضرت وہ قرآن پاک میں جو ہے کہ: وہ جو ایثار کرتے ہیں، جبکہ خود ان کو ضرورت ہوتی ہے، وہ لوگ کہاں چلے گئے؟" مطلب یہ ہے کہ آپ کیوں نہیں اس طرح، یعنی ایثار کیوں نہیں کرتے؟ تو حضرت نے جواب دیا: "وہ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا" کے ساتھ چلے گئے۔" کہ وہ لوگوں کے ساتھ لپٹ کے مانگتے نہیں ہیں۔ قرآن میں تو اس کا بھی ذکر ہے نا۔ تو اب چونکہ تم لپٹ کے مانگ رہے ہو، تو وہ اب نہیں ہیں، مانگے والے اس طرح نہیں ہیں تو وہ دینے والے بھی چلے گئے۔ وہ جو پہلے تھے۔ تو یہ حد ہوتی ہے ہر چیز کی۔ مطلب طریقہ ہوتا ہے ہر چیز کا۔ تو اگر کوئی اس طرح صورتحال ہو جو مستحق نہ ہو، کیونکہ اگر آپ غیر مستحق کو دیں گے، تو آپ نے مستحق کا حصہ مار دیا۔ پھر وہ ظاہر ہے مستحق کے پاس نہیں جائے گا نا۔ تو آپ کو دینا ہے تو طریقے سے دینا ہے۔ اور مستحق تک پہنچانا ہے۔ اور جب مستحق تک پہنچانا ہے، تو پھر اس کی یہ بات ہے کسی سے روکیں گے، کسی کو دیں گے۔ انتظامی امر تو آئے گا۔ تو یہ والی بات ہے۔
اصل میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ یہ تقریباً، تقریباً یہ چیزیں professional ہو گئی ہیں۔ یعنی یہیں پر مسجد صدیقِ اکبر، جب ہم قریب رہتے تھے، تو ادھر ہم نے ایک گھر لے لیا تھا، چونکہ گھر ہمارا تعمیر ہو رہا تھا تو ہم نے گھر کرائے پہ لیا تھا۔ وہ ذرا مسجد صدیق اکبر سے فاصلے پہ تھا۔ تو دو آدمی آئے اور وہ ساتھ رسید book بھی ہے۔ وہ جی مسجد صدیقِ اکبر کے قاری صاحب نے کہا ہے جی پنکھوں کی ضرورت ہے، تو پیسے چاہئیں۔ اب میرا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔ تو میں نے کہا، "بھئی یہ مشورے میں تو یہ بات نہیں آئی۔ یہ کس نے آپ کو بھیجا ہے؟" اب اس کو جو فوراً پتہ چلا کہ یہ تو غلط آدمی پہ چلے گئے ہم۔ کہنے لگا، "نہیں مدرسہ صدیقیہ۔" فوراً تبدیل کر دیا۔ مسجد صدیقِ اکبر سے مدرسہ صدیقیہ پہ چلے گئے۔ اب مدرسہ صدیقیہ کون سا ہے؟ وہ تو ظاہر ہے۔ بہرحال بچ گئے۔ کیونکہ میں نے تو ان کو پکڑنا تھا۔
اب ہوا یہ کہ غالباً مسجد صدیق اکبر کے قریب کسی کو کہا ہوگا۔ انہوں نے پکڑ لیا جی۔ انہوں نے پکڑ لیا، اور لے آئے جی۔ مسجد لے آئے۔ پکڑ کے لے آئے ان کو۔ کہ اس طرح پنکھوں کے لیے پیسے مانگ رہے تھے۔ قاری لطیف الرحمٰن صاحب، وہ ذرا ان چیزوں کے ماہر ہیں۔ تو ان کو کہا جی کمرے میں بٹھا دو۔ کمرے میں بٹھا کے دروازہ بند کر دیا۔ اور چٹخنی لگا دی۔ اور ان سے کہا، "اچھا! تم مسجد صدیق اکبر کے لیے چندہ مانگ رہے تھے؟" تو پھر تو منتوں پہ آ گئے۔ "معافی مانگیے۔" کہتے ہیں معافی نہیں مانگنی۔ وہ SHO فون کر دیا کہ اس طرح case ہے۔ کیا کریں؟ انہوں نے کہا جتنا مار سکتے ہو مارو۔ بس ان کو خون نہیں آنا چاہیے۔ باقی مارنے میں کمی نہ کرو۔ پھر انہوں نے مارنے کے لیے ظاہر ہے کچھ لوگوں کی خدمات حاصل کر لیں۔ تو اچھی طرح ان کو مارا۔ اور پھر وہ جیسے ان کو جانے کا اذن ملا، تو اپنے جوتے بھی چھوڑ کے بھاگ گئے۔
اچھا یہ ایک واقعہ۔ دوسرا ایک صاحب ادھر مسجد میں آئے اور اعلان ہو گیا، جیسے اعلان کرتے ہیں لوگ، تو اعلان کر لیا، کہا جی، "میں دمے کا مریض ہوں، یہ ہے، وہ ہے، فلاں، فلاں..." تو دوائیوں کی slip بھی ساتھ تھی۔ تو قاری صاحب تجربہ کار آدمی ہیں۔ تو انہوں نے کہا، "بھئی کیوں لوگوں سے مانگتے ہو؟ میں کسی ایک آدمی کو کہہ دوں، وہ سب آپ کو بہت کچھ دے دے گا۔ آپ آرام سے ادھر بیٹھ جائیں، میں پھر بات کروں گا۔" ان کو ادھر بٹھا دیا۔ جب بیٹھ گیا تو، پھر دروازے کو چٹخنی لگا دی۔ اس نے کہا، "جی حضرت کیا حال ہے آپ کا؟" اس نے فوراً کلمہ پڑھا: ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ ایسے۔۔۔ انہوں نے فوراً ایک گردن کے اوپر ایک زبردست زور دار لگا دی۔ کہتے ہیں، "صحیح بتاتے ہو یا نہیں بتاتے؟" تو اس نے کوئی acting کرنی کہ جیسے مجھ پہ دورہ سا آنے لگا ہے نا۔ تو اس نے پکڑ کے زمین کے اوپر مار دیا۔ بس فوراً اس کا ختم ہو گیا۔ وہ جو دورہ تھا، وہ ختم ہو گیا۔ بس پھر اس کے بعد معافیاں۔ کہتے ہیں، "نہیں وہ ناک رگڑو۔" ناک رگڑ لیا۔ اچھا اب سارا کچھ کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ کیونکہ scheme ناکام ہو گئی تھی نا۔ تو یہ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ یہ، اور اس نے کلمہ پڑھا تھا باقاعدہ، سب لوگوں کے سامنے کلمہ پڑھا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ! میں ایسے ہی مجبور ہوں۔پھر مسجد کے اندر سب۔۔۔ اور بوڑھا آدمی تھا۔ یہ سارا کچھ اس نے کیا اور یہ ہمارے سامنے ساری صورتحال پھر ظاہر ہو گئی کہ fraud تھا سارا۔ تو آج کل یہ چیزیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔ حرم میں بھی بہت مل جاتے ہیں۔ وہ عورتوں کو بھی ساتھ لیا ہوتا ہے اور پھر مانگتے ہیں جی ہم سے جیب کٹ گئی، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ جن کی واقعی جیب کٹ گئی ہوتی ہے ان کا معاملہ اور ہوتا ہے، ان کا پتہ چل جاتا ہے۔ لیکن جو اس قسم کے professional ہوتے ہیں نا تو ان کا بہت آسان test یہ ہے کہ وہ آپ کے پاس جس چہرے سے آتے ہیں نا، اور آپ اس کو انکار کر دیں۔ اور جب تک وہ دوسرے آدمی کے پاس جاتا ہے، درمیان میں اس کے چہرے کو note کر لیں۔ اگر اس کے چہرے میں فرق آ گیا تو fraud ہے۔ اور اگر اس کے چہرے میں فرق نہیں آیا، وہ اسی چہرے کے ساتھ آگے جا رہا ہے، تو پھر سمجھو کہ اس کے ساتھ مسئلہ ہے۔ کچھ میری بات سمجھ گئے یا نہیں سمجھے؟ کیونکہ جو professional ہوتے ہیں، یہ تو pose کر سکتے ہیں نا۔ بس فوراً کوئی acting وہ کر لیں گے۔ تو acting تو مسلسل نہیں ہو سکتی نا۔ acting تو تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ تو اب جب کسی کے سامنے آتے ہیں، acting۔ full acting۔ اور جس وقت وہ ہٹ کے دوسرے کے پاس جائے گا، تو درمیان میں relax کرتے ہیں۔ بس آپ relax mode میں اس کو دیکھیں، پتہ چل جائے گا کہ بھائی یہ معاملہ تو یہ ہے، یہ تو fraud ہے۔تو اس وجہ سے یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے کیونکہ اگر آپ نے اہل کو پہنچانا ہے تو اہل تو..
ریاضت سے اصلاحِ اَخلاق کے معنی:
تہذیب: حدیث میں ہے کہ جب تم سنو کہ اپنی جگہ سے پہاڑ ٹل گیا تو تصدیق کر لو (جب کوئی دلیل مکذّب نہ ہو) اور جب تم کسی شخص کی نسبت سنو کہ اپنے اخلاق سے ہٹ گیا ہے تو تصدیق مت کرو (کیونکہ اس کا مکذّب موجود ہے اور وہ مکذّب یہ ہے کہ وہ پھر اسی حالت پر آ جائے گا جس پر پیدا کیا گیا ہے) اس سے معلوم ہوا کہ ریاضت سے اخلاقِ جبلیہ زائل نہیں ہوتے، ہاں! مضمحل ہو جاتے ہیں۔
یہ اصل میں اللہ پاک کا اپنا ایک نظام ہے۔ جو اللہ پاک نے جس condition پہ پیدا کیا اس condition کے مطابق اس کے ساتھ حساب ہوتا ہے۔ پس اگر کسی کے اندر کچھ ایسی جبلتیں ہیں جن کی وجہ سے نقصان ہوتا ہے اور وہ زیادہ ہیں۔ اور اس کو روکتا ہے، تو اس کو اجر زیادہ ملتا ہے۔ اور جس کے اندر کم ہیں، تو اس کا خطرہ کم ہے، لیکن اجر بھی کم ہے۔ اس کی مثال میں آپ کو دیتا ہوں کہ جیسے اہلِ پنجاب ہیں، اہلِ سرحد ہیں، اہلِ بلوچستان ہیں، اور اہلِ سندھ ہیں۔ ان کی اپنی اپنی عادتیں ہیں۔ موٹی موٹی۔ مطلب ویسے تو ظاہر ہے فرق ایک گھر میں دو بھائیوں کا بھی ہوتا ہے، ایک جیسے نہیں ہوتے۔ لیکن نہیں broadly speaking، جس کو ہم کہتے ہیں، کہ علاقوں کا فرق ہوتا ہے۔ خاندانوں کا فرق ہوتا ہے۔
اب ان علاقوں میں جوش ہے اور بے انتہا اپنے کاز کے لیے پھر قربانی کا جذبہ اور یہ ساری چیزیں وہ ہیں۔ مہمان نوازی ہے۔ خلوص ہے۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ اپنے مسائل بھی ہیں۔ ان کے مسائل بری چیزیں وہ اپنی مثلاً دشمنیاں ہیں۔ اور معمولی بات پر بہت اخیر تک چلے جانا۔ یہ باتیں بھی ہیں۔ تو اب balance اللہ پاک نے کیا ہوا ہے۔ کچھ اچھی چیزیں دی ہیں، کچھ بری چیزیں، اور اسی میں امتحان ہے۔ اس طرح پنجاب والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ سندھ والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ بلوچستان والوں میں بھی کچھ اچھی چیزیں ہیں، کچھ بری چیزیں ہیں۔ اور یہ ہر ایک کی اچھی اور بری چیزیں مختلف ہیں۔
مثلاً پنجاب والوں میں مصلحت زیادہ ہے۔ وہاں جوش زیادہ ہے۔ اب مصلحت کا بھی اگر صحیح استعمال کیا جائے، تو بہت فائدہ ہے۔ جوش کا بھی اگر صحیح استعمال کیا جائے تو بہت فائدہ ہے۔ جوش کو بھی غلط استعمال کیا جا سکتا ہے، مصلحت کو بھی غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو ہر ایک کا امتحان الگ الگ ہے۔ ہر ایک کا پرچہ الگ الگ ہے۔ تو اب بے شک کسی کی کتنی ہی اصلاح کرو نا، وہ پٹھان ہی رہے گا۔ اگر پٹھان ہے۔ اور کسی کی کتنی اصلاح کرو، اگر پنجابی ہے تو پنجابی رہے گا۔ کسی کی کتنی اصلاح کرو نا وہ ہندوستانی، ہندوستانی رہے گا۔ کیوں؟ تبدیل ہو جائے گا؟
مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ تھے، لیکن تھے پٹھان۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے بزرگ تھے، لیکن تھے ہندوستانی۔ ٹھیک ہے؟ اس طرح اور حضرات اپنی اپنی جگہ پہ۔ بڑے بزرگ ہوں لیکن ان کی جبلتیں ختم نہیں کر سکتے آپ۔ مولانا عزیر گل صاحب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ان کے خادمِ خاص تھے۔ ایک بہت بڑے بزرگ تھے سندھ کے۔ غالباً امروٹی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ بڑے جلالی بزرگ تھے۔ بڑے جلالی۔ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے راستہ بھر ان کو نصیحتیں کیں، مولانا عزیر گل صاحب کو، کہ تو نے ٹھیک رہنا ہے، ہمیں خراب نہ کرو۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ وہ تھے نا حضرت تو وہی مزاج۔ تو پروا نہیں کرتے تھے کسی کی۔ تو انہوں نے کہا کہ وہ جگہ ایسی نہیں ہے، ہمیں خراب کر لو گے۔ ذرا دبا کے رہنا اپنے آپ کو جلدی نہیں مچانی، یہ کرنا، وہ کرنا۔ اب عزیر گل صاحب نے کہا جی، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک ہے۔
اچھا ہو گئی بات۔ وہاں پہنچ گئے، تو حضرت شاہ امروٹی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا انہی کو، طالب علم! -اس وقت طالب علم تھے- طالب علم، -مشکیزہ تھا نا- گھڑے کو بھر دو۔" تو انہوں نے گھڑا بھر دیا۔ تو انہوں نے کہا، "اور بھر دو۔" تو انہوں نے تھوڑا سا اور ڈالا۔ انہوں نے کہا، "اور بھر دو۔" تو بس دو تین دفعہ جب کہا، تو پورا مشکیزہ اس پر چھوڑ دیا۔
اب جو دیکھا، تو حضرت کا رنگ بالکل جلال سے سرخ، اور شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کا رنگ زرد، کہ جو ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ اب کیا کیا جائے گا؟ اب پتہ نہیں کیا ہوگا۔ تھوڑی دیر کے بعد، حضرت کا جلال ٹھنڈا ہو گیا۔ بیٹھ گئے۔ سید ہو نا اس لیے کرتے ہو اس طرح۔ کھل گیا حضرت کے اوپر، کشف ہو گیا جو بھی تھا، کہ سید ہے۔ تو بس اپنا سارا جلال بیٹھ گیا۔ سید ہو نا، اس لیے اس طرح کرتے ہو۔ چلو ٹھیک ہے۔
بیٹھ گیا تو بچت ہو گئی۔ مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھیں نا مزاج، مزاج تبدیل نہیں ہوا نا۔ مزاج وہی تھا۔ تو یہ جو ہے نا، یہ چیزیں، اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور اس کو ختم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کنٹرول کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پٹھانیت کے اندر جو غلط باتیں ہیں، ان کو نہ ہونے دینا۔ اور جو اچھی باتیں ہیں، ان کو ختم نہ ہونے دینا۔ پنجابیت کے اندر جو اچھی باتیں ہیں، ان کو ختم نہ ہونے دینا اور جو غلط باتیں ہیں، ان کو دبانا۔ ہر ہر قوم کی اپنی اپنی اصلاح کے طریقے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہر ہر قوم کے مسائل اپنے اپنے ہوتے ہیں۔
لہٰذا یہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا، یہ اصلاح نہیں ہے۔ بعض school کے لڑکے ایسے ہوتے ہیں، کہ ان کے سامنے دوسرے لڑکے کو مارا جائے تو ان کو تین دن بخار ہوتا ہے۔ ایسے ہوتے ہیں۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو مار مار کے مرغا بنایا جائے، school سے باہر نکلیں گے، وہ بالکل ویسے کے ویسے ہو گئے۔ کچھ بھی اثر نہیں ہوگا۔ اب کیا دونوں کو برابر کیا جا سکتا ہے؟ ہر شخص کا اپنا ایک طریقہ ہوگا نا۔ کسی کو relax کر کے آپ اس سے کام لیں گے۔ کسی کو tight کر کے اس سے کام لیں گے۔ کسی کو میٹھے بول سے، کسی کو تلخ بول سے، کسی کو تھپڑ سے، کسی کو عزت سے۔ مطلب ہر چیز، جو جس کے لیے مناسب ہو، اس طریقے سے کام کیا جائے گا، تو کام ہوگا۔ ورنہ نقصان ہوگا۔
جو پیار سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اس کو دھونک سے ٹھیک نہ کرو۔ اور جو دھونک سے ٹھیک ہو سکتا ہے، اس کو پیار نہ کرو۔ یہ مختلف معاملہ ہے۔ تو اس وجہ سے یہ شعبہ جو ہے، یہ اچھا خاصا مشکل شعبہ ہے۔ اگر اللہ جل شانہ کی مدد نہ ہو اس میں، تو واقعتاً یہ کرنا بہت مشکل کام ہے، کہ ہر شخص کو اس طرح handle کرنا جس طریقے سے اس کو handle کرنا چاہیے۔ یہ آسان نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں چاہیے۔