اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
ہمارے ہاں بزرگوں کے ملفوظات کا درس ہوتا ہے۔ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ الله علیہ کے ملفوظات جو انفاسِ عیسیٰ کے نام سے چھپ گئے ہیں، اس میں بابِ سوم کا جو حصہِ اول ہے، جو رذائل کی اصلاح کے بارے میں ہے، وہ ان شاء اللہ بیان کیا جائے گا اور اس کی مناسب تشریح بھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ریاضت و مجاہدہ کا فرق
تہذیب: ایک درجہ تو ہے تقاضائے معصیت کا، اس کی مخالفت کرنا تو مجاہدہ ہے اور ایک اس تقاضے کا منشا ہے ’’خُلقِ رذیل‘‘ اس کے ازالہ بمعنی اضمحلال کو ریاضت کہتے ہیں۔
یعنی اچھی طرح اس کی محنت کر کے اس کو اچھی طرح دبایا جائے۔
تجدیدِ معالجہ کی ضرورت:
تہذیب: مادّہ کا استیصال جب تک نہ ہو تجدیدِ معالجہ کی ضرورت رہے گی اور استیصال کی تدبیر نہیں۔ موسمی بخار کا نسخہ پینے کے بعد کیا پھر آئندہ فصل میں بخار نہ ہو گا، وہ کونسی تدبیر ہے کہ صفراء ہی پیدا نہ ہو، اور اگر ایسا کیا جائے گا تو بہت منافع جو خلطِ صفراء سے متعلق ہیں وہ فوت ہوجائیں گے، اسی طرح مادۂ شہوانی میں بہت منافع ہیں۔
جب تک یہ مادہ بالکل دب نہ جائے اس وقت تک معالجے کی ضرورت رہے گی۔ البتہ معالجے کی ضرورت ہر ایک کے لیے مختلف ہوگی۔ جس درجے میں کسی کو problem ہے اس درجے میں اس کا استیصال کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی ٹھیک بھی ہو جائے پھر بھی اگر دوبارہ اس کو کسی وقت مرض اٹھ کے آ جائے گا تو پھر ظاہر ہے مطلب اس کو یعنی وہ کرنا پڑے گا۔ البتہ یہ والی بات ہے کہ ایک ہوتا ہے صحت کا بالکل نہ ہونا۔ اور ایک ہوتا ہے صحت کا ہو جانا لیکن پھر دوبارہ صحت کا کچھ دیر کے لیے بگڑ جانا۔ کچھ دیر کے لیے بگڑنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ صحت کے اندر چونکہ وہ مدافعت کی قوت ہوتی ہے انسان کے جسم میں۔ تو لہذا کچھ وہ مدافعتی نظام کام کر لیتا ہے، کچھ دوائی کام کر جاتی ہے تو جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایسا نہیں، بہت بیمار ہو تو ان کا سارا معاملہ دوائیوں پہ چلتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جسم تو مدافعت کر ہی نہیں رہا۔ تو ایسی صورت میں علاج زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ اور پہلے case میں جب پہلی دفعہ ٹھیک ہو چکا ہو اور اچھی طرح صحت حاصل ہو چکی ہو، اب اگر کبھی گڑبڑ ہو گئی تو بس اس گڑبڑ کو cover کرنے کے لیے کچھ کر لے گا اور ٹھیک ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے نا۔
تمام اخلاقِ رزیلہ کا علاج:
تہذیب: تمام اخلاق رذیلہ کا علاج تأمّل اور تحمّل ہے یعنی جو کام کرے سوچ کر کرے، شرعاً جائز ہے یا نہیں اور جلدی نہ کرے بلکہ تحمّل سے کیا کرے۔
مطلب یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کرے تو ذرا سوچے کہ اس میں میرا کوئی رذیلہ تو involve نہیں ہے۔ اور اگر ہے تو تحمل کرے، اس کو روک دے۔ جب clear signal مل جائے کہ نہیں، مسئلہ نہیں ہے، تو پھر کر لے ورنہ نہ کرے۔
اصلاحِ اعمال و باطن کا طریقہ:
تہذیب: اعمال کی اصلاح اور باطن کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ نفس کے جذبات کی مخالفت کی جائے۔ اور اس کو مشقّت کا عادی بنایا جائے۔
یعنی اعمال کی اصلاح اور باطن کی اصلاح کا طریقہ یہ ہے کہ نفس کے جذبات کی مخالفت کی جائے اور اس کو مشقت کا عادی بنایا جائے۔ مشقت کا عادی بنانا۔ ظاہر ہے مشقت مختلف ہوتی ہے، مختلف چیزوں کے لیے مختلف مشقت ہوتی ہے۔ ذہنی کاموں کے لیے ذہنی مشقت ہوتی ہے۔ اور physical کاموں کے لیے physical مشقت ہوتی ہے۔
اور کام کچھ کرنے ہوتے ہیں اس سے نفس رکاوٹ ڈالتا ہے۔ اور کام کچھ نہ کرنے ہوتے ہیں اس کے لیے نفس للچاتا ہے۔ نماز میں حرکت کرنے کو جی چاہتا ہے آدمی کا، اس حرکت کو روکنا ہوتا ہے۔ اور روزے میں انسان کا کھانے کو جی چاہتا ہے، یعنی کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے، اس، کچھ کرنے کو روکا جاتا ہے۔ یعنی وہ جو جذبات ہوتے ہیں نا اس طرح۔ اور زکوٰۃ میں انسان کا نہ دینے کو دل کرتا ہے۔ تو اس نہ دینے کو روکا جاتا ہے۔ یعنی ہر چیز کی اپنی ضد ہے۔ جس کو علاج بالضد کہتے ہیں۔ تو یہ علاج بالضد انسان کو کرنا پڑتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ تو اس کے لیے یہ ہے کہ مادے کے اضمحلال تک اس کا علاج کرنا ہوتا ہے۔
مقاماتِ سلوک کی تعریف
تہذیب: مقاماتِ سلوک سے مراد اعمال باطنیہ ہیں یعنی خوف و رجا، محبت و انس، توکل و رضا، شکر و صبر وغیرہ جن کی تحصیل کا شریعت نے امر کیا ہے اور ہر مسلمان خصوصاً سالک ہمیشہ ان کے طے کرنے میں مشغول ہے، کسی وقت توقّف نہیں ہوتا، یہ دنیا کا سفر نہیں کہ ایک حد پر ختم ہو جائے، بلکہ اس سفر کی کہیں انتہا نہیں۔
اعمال دو قسم کے ہیں: ظاہری، باطنی۔ اور جو اعمال کا جو repetition ہے وہ ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ایک نماز پڑھ لی، دوسری نماز کا وقت آ گیا، وہ فرض ہو گئی۔ اب وہ پڑھنی پڑے گی۔ ایک رمضان شریف کے روزے رکھے، دوسرا رمضان شریف آ گیا، وہ رکھنے پڑیں گے۔ ایک دفعہ زکوٰۃ دے دی، اب اگلا سال آ گیا پھر زکوٰۃ دینی پڑے گی اگر مالدار ہے۔ یہ تو ہے معاملات کی جو بات ہے۔ اب جو بھی معاملہ ہو گا اس کے اندر fair رہنا ہوگا۔ اب دل کی بات ہے، جب کبھی کوئی واقعہ ہو گیا جس میں صبر ضروری ہے، صبر کرنا پڑے گا۔ جس میں شکر ضروری ہے، شکر کرنا پڑے گا۔ جس میں تواضع ضروری ہے، تواضع اختیار کرنی پڑے گی۔ جس میں وہ اخلاص، اس میں اخلاص ہونا پڑے گا۔ یہ مسلسل اعمال تو ہمارے سامنے ہیں۔ اس میں ہمیں چھوٹ نہیں ہے۔ توقف نہیں ہے۔
کیا خیال ہے اگر انسان کسی چیز سے، بیسویں منزل سے گر رہا ہو، اور کسی چیز کو پکڑ لے، اور اس کے ذریعے سے بچ جائے، تو کتنی دیر کے لیے اپنے آپ کو آرام دے دے تاکہ مزید کچھ وہ آگے کر سکے کام؟ کتنا آرام کرنا ہوتا ہے اس میں؟ چلیں پانچ سیکنڈ تو آرام کر ہی لے نا۔ پانچ سیکنڈ آرام بھی نہیں، مسلسل اس کے اوپر اتنا tension ہے اتنا load ہے، اور وہ پانچ سیکنڈ بھی آرام نہ کرے؟ کیا کرے؟ ایک سیکنڈ بھی آرام نہیں کر سکتا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس ہمارا بھی یہی معاملہ ہے۔ جب تک زندگی ہے، بے آرامی ہے۔ کام ہے، نظام ہے، چلنا ہے، کرنا ہے، رکنا ہے، بچنا ہے، کیا کیا کچھ ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ تو چلتا رہے گا معاملہ۔ یہ تو چلتا رہے گا معاملہ۔ تھکنا نہیں ہے۔
مجھے بتاؤ دل ہمارا چل رہا ہے نا، کیا خیال ہے اس کو آرام کی ضرورت ہے؟ یار کمال ہے، ایک منٹ میں 72 دفعہ وہ چلتا ہے۔ آپ ذرا 72 دفعہ اچھل کے دکھائیں نا ایک منٹ میں۔ تو دل کو دیکھیں نا آپ، آپ دس دفعہ اچھلیں تو، آرام، اب ظاہر ہے کچھ نہ کچھ تھوڑی دیر کے لیے سستا لو پھر اس کے بعد کریں گے۔ تو دل مسلسل اچھل رہا ہے۔ اور آرام کی ضرورت ہی نہیں اس کو۔ کیا بات ہے؟ ڈاکٹر نہیں ہے نا ورنہ آپ کو سمجھا دیتا کہ میں کیا بات کر رہا ہوں۔
حضرت دل کا جو نظام ہے، اللہ نے بنایا ایسا ہے کہ یہ اچھلتا رہتا ہے اور اس اچھلنے کے اندر ہی اس کی شکست و ریخت کا بندوبست بھی ہے۔ کہ یہ ساتھ ساتھ recover کرتا جاتا ہے۔ زرافہ جو ہے نا زرافہ، یہ عجیب جانور ہے۔ یہ بھی جب دوڑتا ہے نا، تو اس کے جو muscles ہیں، وہ دوڑنے کے ساتھ ساتھ set ہو رہے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ تھکتا نہیں ہے۔ ہمارے muscles تو tension میں آ جاتے ہیں نا، لہذا وہ تھک جاتے ہیں۔ تو پھر relax کرنا پڑتا ہے۔ تو لیکن یہ ہے کہ ظرافہ کے muscles کچھ بالکل مختلف ہیں۔ تو یہ ہمارا دل، اس کا muscle بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کہ یہ تھکتا نہیں ہے۔ بلکہ ساتھ ساتھ اس کی repair and maintenance اس کے ساتھ ساتھ ہی ہو رہی ہوتی ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ مسلسل جو مشینیں چل رہی ہوں، تو اس کے اندر oiling ساتھ ساتھ ہی کرنی ہوتی ہے۔ اس میں آپ کو روکنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
کیا خیال ہے، جہاز اڑ جائے وہ پنڈی سے، اور جدہ جا رہا ہو۔ تھوڑا سا راستے میں رکنا تو چاہیے نا؟ کہاں اتارے؟ کہاں روکے؟ تو اس کے لیے پھر نظام ہی ایسا بنایا ہوتا ہے۔ تو اب جو ہمارے سلوک کا مقام ہے نا، اس میں بھی اس قسم کی maintenance کا نظام ہوتا ہے۔ کہ اس میں رکنا نہیں ہوتا لیکن ساتھ ساتھ جو ہم لوگ ذکر و اذکار کرتے رہتے ہیں، صحبتِ صالحین میں جاتے ہیں، اس کی repair and maintenance ہوتی رہتی ہے۔ repair اور maintenance ہوتی رہتی ہے۔
صبح walk میں ہم آ رہے تھے نا، تو ہمارے درمیان میں بات چلی تھی۔ کہ جماعت کے ساتھیوں کو ابھی تک یہ سمجھانے میں ہم قابل نہیں ہو سکے، کہ یہ جو ذکر و اذکار ہے، اس کی ہمیں ضرورت ہے۔ بہت سارے لوگ جماعت کے جو جانتے ہیں وہ تو جانتے ہیں نا، کہ جو ذکر و اذکار ہے یہ ہماری ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں جب ہم گشت کرتے ہیں تو گشت سے اصلاح ہو جاتی ہے نا۔ گشت اس مقصد کے لیے ہے کہ بس اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔ تو گشت سے اصلاح نہیں ہوتی، گشت سے تو اصلاح خراب ہوتی ہے۔
اس کی مثال ایسی ہے، مثال کے طور پر گرم چیز ہے۔ اس کو آپ رکھ لیں ٹھنڈے environment میں۔ تو تھوڑی دیر کے بعد وہ ٹھنڈے environment میں تھوڑا سا گرم ہو جائے گا اور جو گرم چیز ہے وہ ٹھنڈی ہو جائے گی۔ وہ برابر ہو جائیں گے۔ برابر ہو جائیں گے۔ گویا کہ ٹھنڈی کو گرمی نے فائدہ دیا اور گرمی نےٹھنڈ سے اثر لے کر ٹھنڈی ہو گئی۔ ایک دوسرے کو متاثر کر لیا۔ یہ ہوتا ہے۔
اب گشت میں ہم جاتے ہیں لوگوں کے ساتھ ملنے۔ دین کے لیے ملتے ہیں، لیکن ان کے قلب کا ایک اثر ہوتا ہے۔ اب ہمارا قلب ان کو متاثر کرتا ہے، وہ ہمارے قلب کو متاثر کرتے ہیں۔ لہذا اگر ہم ذکر و اذکار کیے ہوئے ہوتے ہیں، تو ہم نے ان کو متاثر کیا اور وہ اچھے ہو گئے۔ اور وہ جو دنیا سے اٹھ کے آئے ہوتے ہیں انہوں نے ہمارے دل کو متاثر کر کے خراب کر دیا۔ تو جب ایک خاص وقت تک یہ ہو جاتا ہے، برابر جب ہو جاتا ہے، پھر دوبارہ محنت کر کے ذکر و اذکار کر کے، تمام چیزیں کر کے پھر دوبارہ اس دل کو اس حالت پہ لانا ہوتا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ ایک وقت میں آ کر سر برابر ہو جائے گا معاملہ۔ کام خراب ہو جائے گا۔ وہ دنیا داری ہم میں، مختلف رنگ میں آ جائے گی۔ جو ان میں دنیا داری ہے وہ دنیا داری ہمارے اندر بھی آ جائے گی۔ بے شک وہ صورت اس طرح نہیں ہوگی جس طرح ان کی ہے، ہماری اپنی دنیا داری، ان کی اپنی دنیا داری ہے۔ لیکن دنیا داری آ جائے گی۔
تو اب یہ ہے کہ یہ جو ذکر و اذکار کی جو ضرورت ہے یہ اصلاح کی، دل کی حالت کو درست کرنے کا نظام ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ کسی چیز کو گرم کرتے ہیں۔ اب گرم کرنے کے بعد آ کے، لوگوں میں مل گئے۔ تو ماشاء اللہ لوگوں کو اس کا فائدہ ملنے لگا۔ اور لوگوں کے اثر کی وجہ سے اس کا اثر کم ہونے لگا، بلکہ بعض دفعہ پھر ختم ہو جاتا ہے۔ پھر دوبارہ انہیں نئے سرے سے کرنا پڑتا ہے۔ یہی حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے اس ملفوظ کا مطلب تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ: میں صلحاء کی جماعت کے ساتھ جب گشت کے لیے جاتا ہوں، جاتا ہوں، اس کے باوجود میرے دل پر لوگوں کے قلوب کا اثر ہو جاتا ہے۔ اس کو دور کرنے کے لیے میں رائے پور شریف جاتا ہوں، یا سہارنپور شریف جاتا ہوں، یا مسجد میں اعتکاف کرتا ہوں۔ اب دیکھ لو! کیا فرمایا حضرت نے؟ اب گشت پہ گئے تھے نا؟ تو گشت پہ گئے تھے تو پھر وہاں رائے پور شریف جانے کی کیا ضرورت تھی؟ سہارنپور شریف جانے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ تو خانقاہیں تھیں۔ یا مسجد میں اعتکاف کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بھئی گشت جیسا عمل کیا، دین کا بڑا عمل کیا۔ تو اس کے بعد کیا ضرورت تھی کوئی اور کام کرنے کی؟ یہ تو چھوٹے اعمال ہیں۔ یہ تو ندی نالے ہیں، وہ تو سمندر ہے۔ اب سمندر کو چھوڑ کے، ندی نالوں میں چلے گئے؟ یہ آج کل ان لوگوں نے وہ بنائی ہوئی ہے، کیا بولتے ہیں یعنی terminology بنائی ہوئی ہے۔ یہ تو ندی نالے ہیں، یہ تو کیا کچھ بھی نہیں۔ یہ کام سمندر ہے۔
خدا کے بندو، جو بھی ہے، کام سمندر ہے جو بھی ہے، چیز تو وہی دل کا معاملہ تو اس کے اندر ہے نا۔ قلب تو نہیں نکال سکتے۔ اور نفس کو تو نہیں نکال سکتے، نفس بھی ہو گا قلب بھی ہو گا۔ لہذا اس کے اوپر کام تو اس طرح ہی ہو گا۔ جس طریقے سے ہمارے اکابر نے کام کیا، اس طرح ہی کام ہو گا۔ یہ کام ان سے مختلف نہیں ہے۔ یہ کام سارا ہے۔ اس طرح مدرسے والے اگر اس سے غافل ہو جائیں، ان کے ساتھ بھی یہی ہو جائے گا۔ اگر جہاد والے اس سے غافل ہو جائیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے گا۔ اگر جو سیاست والے ہیں وہ اگر ایسے ہو جائیں تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہو جائے گا۔ وجہ کیا ہے؟ سب کو ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی۔ اللہ کے ساتھ تعلق نہیں ہوگا تو دنیا آ جائے گی دل میں۔ پھر دنیا کے لیے کام ہوگا، دنیا کے لیے کام ہوگا۔ بے شک دین کی صورت میں ہوگا لیکن ہوگا دنیا کے لیے کام۔
مجھے بتائیں اگر کسی کو شوق ہو کہ میں شیخ الحدیث بن جاؤں، تو یہ دنیا ہے یا دین ہے؟ اب بظاہر تو دین ہے۔ اس طرح اگر کسی کو شوق ہو کہ میں امیر بن جاؤں، اسلم خالد صاحب، یہ دنیا ہے یا دین ہے؟
تو بس یہی چیزیں ہوتی ہیں نا۔ اب ان چیزوں کو دل سے نکالنا، یہ آسان تو نہیں ہے۔ اس کے لیے تو محنت کی ضرورت ہے۔ اور وہ محنت یہی ہے، اپنے دل پر محنت کرنا۔ اور یہ سارے کام ایک دوسرے کو support کرتے ہیں۔ یہ صرف روحانیت والی بات نہیں ہے، میں عرض کرتا ہوں کہ ہر کام دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے، اور اس کا اپنا فائدہ ہے۔ مثلاً: اتنا علم کہ جس سے میں جو کام کر رہا ہوں، وہ صحیح شریعت کے مطابق ہو، یہ ہر شخص کے اوپر فرض ہے۔ چاہے وہ مدرسے میں ہے، چاہے باہر ہے۔ چاہے وہ خانقاہ میں ہے، چاہے وہ جہاد میں ہے، چاہے تبلیغ میں ہے۔ چاہے کسی بھی جگہ پر ہے، دینی کام میں، سیاست میں۔ وہ اتنا علم تو فرض ہے، وہ تو کرنا پڑے گا۔ تو مدرسوں کا role اتنا سب میں ہے۔ اس طرح ہوگا سب چیزوں کو اخلاص کے ساتھ کرایا جائے، یہ خانقاہوں کا role ہے، اور یہ سب میں ہے۔ اب دین کو پہنچانے کا جو جذبہ ہے پورے ملک دنیا میں، یہ تبلیغ کا کام ہے۔ تو یہ سب میں ہے۔ اب خانقاہ میں کوئی بیٹھا ہوگا اور وہ کہے گا بھئی یہ جو ہے نا یہ حق کی بات امریکہ پہنچ جائے، برطانیہ پہنچ جائے، ہر جگہ پہنچ جائے، تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ تبلیغ ہے نا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے یہ تبلیغ کا role بھی سب جگہ پر آ گیا۔ اس طرح سیاست، آپ جو بھی مثال کے طور مدرسہ کوئی چلا رہے ہیں، لیکن اس کو اچھی طرح چلانے کے لیے جو انتظامی صلاحیت ہے وہ کیا چیز ہے؟ سیاست ہے۔ اب سیاست میں صرف یہ تو نہیں کہ MNA بننا سیاست ہے، MPA بننا سیاست ہے۔ سیاست تو ہر جگہ گھسی ہوئی ہے۔ یعنی دین کی جو سیاست ہے۔
تو اس وجہ سے میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ جو بھی دین کے جتنے شعبے ہیں، ہر ہر شعبے کو دوسرے شعبے کی ضرورت ہے۔ اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے قلب، دماغ، پھیپھڑے، آنتیں، گردے۔ یہ سب جو ہے نا، کیا خیال ہے گردوں کو دل کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ اور دل کو گردوں کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ پھیپھڑوں کو مثانے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ دماغ کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ تو ہر ایک کو ہر ایک کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟ تو اس طرح ہر ہر دینی کام کے لیے دوسرے دینی کاموں کی ضرورت ہے۔
اس لیے کوئی دینی کام جو یہ دعویٰ کر لے کہ ہم ہی سب کچھ ہیں، وہی غلطی پر ہے۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ جو بھی دینی کام یہ دعویٰ کر لے کہ ہم ٹھیک ہیں، ہم حق پر ہیں اور باقی غلطی پر ہیں، وہ غلطی پر ہے۔ وہی غلطی پر ہے۔ یہ خوارج کا راستہ ہے۔ یہ خوارج کا راستہ ہے۔ خوارج نے یہی کہا تھا، اور تباہ و برباد ہو گئے۔ دین سے نکل گئے۔ تو کبھی بھی اپنے آپ کو مکمل نہیں سمجھنا چاہیے۔
یہاں پر ہم جوڑوں میں کچھ مسنون اعمال سکھاتے ہیں نا۔ یہ کیا چیز ہے؟ سیکھنا سکھانا، فرضِ عین علم ہے نا۔ ضرورت ہے نا اس کی۔ یہ جو مختلف بیانات ہم کرتے ہیں یہ کیا چیز ہے؟ تبلیغ ہے نا، کہ نہیں اس کو تبلیغ سے نکال دو گے؟ یہ تبلیغ ہے۔ اس طریقے سے ظاہر ہے مطلب ہے کہ انتظام رکھنے کے لیے ہمیں کچھ فیصلے کرنے ہوتے ہیں آگے پیچھے کہ بھئی یہ کام ایسا ہونا چاہیے، یہ کام ایسا ہونا چاہیے۔ یہ سیاست ہے۔ اور خدانخواستہ اگر اغیار کا حملہ ہو جائے اور کسی چیز کو خراب کرنے کی کوشش کر لے اور اس کے سامنے ڈٹ کر اس کو ٹھیک کرنا، یہ جہاد ہے یا نہیں ہے؟ کیا خیال ہے یہاں اس خانقاہ پر حملہ ہو جائے تو آپ لوگ کیا کریں گے؟ ذکر میں مشغول ہو جائیں گے؟ اس وقت کیا کریں گے؟ بس تو جہاد ہے نا پھر۔ تو ہر ہر دین کا شعبہ، ہر ہر جگہ پر موجود ہونا چاہیے۔ ہر ہر دین کا شعبہ ہر جگہ پر موجود ہونا چاہیے۔ تب دین کا کام ہوگا۔ ورنہ پھر دین کا کام نہیں رہے گا۔ یہ بنیادی چیز ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
کمال یہ ہے کہ سب مَلَکات کامل ہوں:
تہذیب: بعض مَلَکات کے کامل ہونے کا نام کمال نہیں، بلکہ کمال یہ ہے کہ سب مَلَکات کامل ہوں۔
ملکہ، ملکہ؛ کس چیز کو کہتے ہیں؟ کسی چیز کی practice اور اس کے اوپر control۔ یعنی اس کو اچھی طرح کرنے کا یعنی تجربہ ہو جائے۔ Experience۔ تو اس کو "ملکہ" کہتے ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ لکھنے کا ملکہ فلاں کو بڑا حاصل ہے۔ یعنی وہ لکھتا ہے تو بہت زبردست ستھرا لکھتا ہے۔ یہ ملکہ ہے۔ اور اس طریقے سے کوئی بولنے کا ملکہ کسی کو حاصل ہو جائے۔ کسی کو سننے کا ملکہ حاصل ہو جائے۔ کسی کو لکھنے کا ملکہ حاصل ہو جائے۔ تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا ملکات ہیں۔ تو فرمایا کہ بعض ملکات کے کامل ہونے کا نام کمال نہیں، بلکہ کمال یہ ہے کہ سب ملکات کامل ہوں۔