اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
توحید کی برکت
ارشاد: موحِّد کو ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ جیسا بچے کو ماں کی گود میں اطمینان ہوتا ہے۔ بچہ ماں کی گود میں جا کر بالکل بے فکر ہو جاتا ہے کہ بس اب کسی کا خوف نہیں۔
یہ بہت تسلی والا مضمون ہے۔ موحد کسے کہتے ہیں؟ موحد کہتے ہیں اللہ جل شانہ کے ایک اور یکتا ہونے کو۔ ایک اور یکتا میں فرق ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ اللہ ایک ہے ذات میں، ایک۔ یکتا یہ ہے کہ ان کی طرح کوئی ہے نہیں، بے مثال۔ تو اللہ جل شانہ کا ایک ہونا اور یکتا ہونا،یہ جس کو یقین ہوتا ہے، وہ پھر بے فکر ہو جاتا ہے۔
دیکھیں آپ اگر سو لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش کر لیں، وہ آسان ہے یا دس لوگوں کو راضی کرنا؟ دس لوگوں کو راضی کرنا سو کے مقابلے میں آسان ہے۔ اور دس کے مقابلے میں پانچ کو؟ پانچ کے مقابلے میں ایک کو؟ تو ایک کو راضی کرنا تو آسان ہے۔ پھر وہ ایک جو راضی کرنا ہے، وہ بے لوث ہے۔ باقی جو ہیں وہ بے لوث نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ والدین بھی بے لوث نہیں ہوتے، ان کو بھی طمع ہوتی ہے۔ جبکہ استادوں کو بھی طمع ہوتی ہے، دوستوں کو بھی طمع ہوتی ہے، بیوی کو بھی طمع ہوتی ہے، اولاد کو بھی طمع ہوتی ہے۔ یہ جتنے بھی قریبی رشتے ہیں، سب کو طمع ہوتی ہے، آپ سے کچھ چاہتے ہیں اگر آپ سے محبت کرتے ہیں۔لیکن اللہ جل شانہ کی ذات ایسی ہے جو محتاج نہیں ہے۔ لہٰذا وہ بے لوث محبت کرتا ہے۔ نتیجتاً اگر آپ اس کو راضی کرنا چاہیں تو وہ ظاہر ہے وہ تو محتاج تو ہے نہیں، وہ آپ سے کچھ مانگے گا تو نہیں، بلکہ کچھ دے گا۔ اور مانگے گا بھی تیرے لیے۔ کہ مجھے دے تاکہ میں تجھے دے دوں۔ سبحان اللہ۔ مثلاً یہ ایک مجھے دے دو تاکہ میں دس دے دوں۔تو اس کے بارے میں کون کہے گا کہ وہ مانگ رہا ہے؟ وہ تو دینے کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ لہٰذا اس ایک کو راضی کرنا بہت آسان ہے۔ ایک کی طرف ہونا بہت آسان ہے۔ ایک کا ہونا بہت آسان ہے۔ اور ایک پر بھروسہ کر کے باقی سب سے بے فکر ہو جانا بھی بہت آسان ہے۔ یہ مطلب ہے اس کا۔ کہ موحد کو ایسا اطمینان ہوتا ہے کہ جیسے بچہ جب ماں کی گود میں پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی ہے۔
بچے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ کیونکہ بچے کی سوچ اتنی ہے۔ بچہ جتنا سمجھ رکھتا ہے، اس کے حساب سے وہ کرتا ہے۔ بچے کی سمجھ میں ماں اس کی سب سے بڑا قلع ہے۔ وہ دوڑ لگائے گا تو ماں تک ہی لگائے گا۔ جب ماں تک پہنچ گیا اس کے بعد پھر اس کو فکر نہیں ہوتی۔ وہ کہتا ہے بس اب میرا کام ختم ہو گیا۔ یہ بات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم ایک دفعہ بیان فرما رہے تھے۔ فرمایا: ایک دن میں گھر چلا گیا تو میری نواسی جو ہے وہ اپنے بیٹے کو مار رہی تھیں۔ کسی وجہ سے مار رہی تھیں۔ تو بچہ رو رہا تھا لیکن پھر بھی ماں کی طرف ہی بھاگ رہا تھا۔ اس سے بھاگ نہیں رہا تھا۔ رو رہا تھا لیکن ماں کی طرف ہی آ رہا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ بچہ جو ہوتا ہے وہ ماں کو سب کچھ سمجھتا ہے، ماں کی گود کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ تو اسی طریقے سے اللہ جل شانہ کے اوپر جس کو بھروسہ آ جائے، جو اللہ کو پہچان لے، جو اللہ کو پہچان لے۔ اس کے بعد پھر اس کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ وہ بڑے سے بڑے step بھی لے سکتا ہے اگر اس کو یہ اطمینان ہو کہ اللہ مجھ سے راضی ہے۔
حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا واقعہ ہے۔ دیوبند میں، ظاہر ہے شیخ الحدیث تھے۔ مدرسے کا سودا سلف ایک مہاجن کے وہاں سے آتا تھا۔ تو ایک دن مہاجن کو کسی نے بہکایا پھسلایا،مخالفین تو ہر جگہ ہوتے ہیں کہ یہ تو کنگال ہو چکے ہیں، ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہ تمہارا پیسہ ڈوب رہا ہے۔ ان سے پیسہ لے لو ورنہ تمہارا پیسہ ڈوب جائے گا۔ اور بنیے کو پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کو بڑی فکر ہو گئی۔ وہ آ گیا۔ کہا کہ حضرت، میرے حساب بے باق کر لیں۔ کیونکہ آگے میں، پھر جب سارا سودا سلف ہو گا تو پھر پیسے ہوں گے تو سودا سلف آئے گا۔ تو آپ لوگ اپنا پچھلا بے باق کر لیں۔ ورنہ پھر میں معذور ہوں گا۔ حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ ساری بات سمجھ گئے کہ کیوں کہ رہا ہے تو حضرت نے فرمایا :اچھا، کل آ جانا۔ اچھا، وہ چلا گیا، چلو ٹھیک ہے جیسے کہا ہے کل آ جاؤں گا۔
وہ آدمی جب چلا گیا تو مدرسے کا خزانچی وہ آ گیا۔ کہتا ہے حضرت آپ نے کیسے وعدہ کر لیا؟ ہمارے account میں تو پیسہ نہیں ہے۔ وعدہ کیسے کر لیا؟ فرمایا تمہارا کام نہیں ہے،خاموش ہو جاؤ بیٹھ جاؤ،چلو وہ بیٹھ گیا۔ اب صبح اس کے آنے سے تھوڑی دیر پہلے ایک شخص آیا۔ اور اس نے خطیر رقم مدرسے کے لئے پیش فرمائی کہ حضرت یہ رقم ہے ، قبول فرمائیں حضرت نے لے لی اور ساتھ ہی خزانچی سے کہا بھئی اس کا حساب کرو۔ اس کے کتنے پیسے بنتے ہیں۔ تو جتنے پیسے اس کے بنتے تھے، تقریباً اتنے ہی پیسے آ گئے تھے۔ سبحان اللہ۔ اب وہ جو مہاجن آ گیا، اور اس کو اپنا پیسہ لے کے چلا بڑا خوش ہو گیا۔ اور شرمندہ بھی ہو گیا کہ میں نے بہت بدگمانی کی تھی۔ حالانکہ ان کا معاملہ اتنا کھرا کھرا تھا، لیکن میں نے بدگمانی کی۔لیکن اپنے جو جاننے والے ساتھی، بڑے حیران ہو گئے۔ کیونکہ وہ جو نووارد تھا، اس کو پہلے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ اور ظاہر ہے کہ کیسے اس کو کیسے پتا؟ وہ ہدیہ کر رہا ہے، وہ یہ بھی نہیں ہے کہ وہ کہ کوئی مانگا ہو حضرت نے ان سے۔ تو پھر ساتھیوں نے پوچھا کہ حضرت آپ کو کیسے یقین تھا کہ کل تک پیسے آ جائیں گے؟ فرمایا کہ: جب سے میں بالغ ہوا ہوں، الحمد للہ ابھی تک میں نے اللہ کو ناراض نہیں کیا۔ سبحان اللہ۔ اس وجہ سے مجھے اس بات پر یقین تھا کہ اللہ مجھے اس مہاجن کے سامنے رسوا نہیں کریں گے۔ یہ والی بات ہے۔
یہ ابھی گزشتہ درسوں میں، مثنوی کے غالباً second last درس میں، یہ قصہ آیا ہے۔ کہ حضرت خضرویہ رحمۃ اللہ علیہ، ایک شیخ گزرے ہیں۔ وہ بڑے متوکل تھے۔ اور قرض لے لے کر اپنا کام کراتے تھے۔ اور پھر ان کا قرض کوئی اس طرح کر لیتا بے باق کر لیتا۔ تو خیر ایسا ہوا کہ قرض کچھ زیادہ چڑھ گیا۔ ان کو تو فکر نہیں تھی۔ حضرت تو متوکل تھے۔ ان کو اس بات کا مسئلہ نہیں تھا کہ کیا ہو گا۔ لیکن وہ جو جن کا قرض تھا، ان کو فکر ہو گئی۔ اور حضرت بیمار بھی تھے۔ تو سب آ گئے، انہوں نے کہا حضرت پیسے؟ ان سے کہا کہ بیٹھو۔ جو جو آتے گئے، وہ بٹھاتے گئے، جو جو آتے گئے بٹھاتے گئے۔ جن لوگوں کو پتا چل گیا کہ ایسا معاملہ ہے وہ بھی آ گئے یہ کیا مطلب پہلے ان کا ارادہ نہیں تھا ان کا بھی ہو گیا کہ بھئی یہ کیا ! صورتحال ایسی ہے تو پھر تو ہمارے پیسے پتہ نہیں حضرت کو کچھ ہو جائے تو سارے پیسے ڈوب جائیں گے۔
آتے گئے، حضرت بٹھاتے گئے۔ اب لوگ بڑے حیران ہیں، بلکہ وہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں آپس میں کہ یہ کیسے شیخ ہیں؟ کیسے پیر ہیں؟ کیسے اللہ والے ہیں کہ لوگوں کے قرضے لے کر پروا ہی نہیں کرتے۔ ان کے اوپر کوئی اثر ہی نہیں ہے۔ لوگ اتنے پریشان ہیں، ان کو بالکل ہی پتا ہی نہیں، پروا ہی نہیں ہے۔ کیسے آدمی ہیں؟ وہ، اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے سو منہ سو باتیں۔ تو اتنے میں ایک لڑکے نےحلوہ کی آواز دی تو اس پرحضرت نے فرمایا کہ بھئی اس کو بلاؤ۔ انہوں نے کہا یہ سارا تھال کتنے کا دو گے؟ سارا تھال کتنے کا دو گے؟ اس نے کہا کہ ایک دینار کا نہیں نصف دینار کا، نصف دینار کا۔ حضرت نے سب کھلا دیا۔ مہمان تھے ان کو۔اب اس کے بعد انہوں نے نصف دینار مانگا۔ انہوں نے کہا اگر میرے پاس ہوتا تو یہ لوگ بیٹھے نہ ہوتے۔ تم بھی بیٹھ جاؤ۔ تو اس نے تو چیخنا شروع کر دیا۔ کہتا ہے مجھے کیا ضرورت پڑی تھی کہ میں ادھر آ گیا، اور ایسے کنگال لوگوں سے میرا واسطہ پڑا اور اب تو مجھے مالک زندہ نہیں چھوڑے گا، یہ تو یہ ہو گیا وہ ہو گیا اس نے چیخ و پکار سے آسمان سر پہ اٹھا لیا۔ تھال کو بھی اس طرح زور سے پھینکا، یہ کیاہے۔ بہت پریشان۔ لیکن حضرت پر کوئی اثر نہیں۔ وہ اطمینان سے لیٹے ہوئے ہیں، ان کو دیکھ رہے ہیں۔ اور لوگ اور بھی غصے ہو گئے، کہ یار پیسے نہیں تھے تو ان سے سودا کیوں لیا؟
تو اتنے میں کوئی صاحب آ گئے، اور انہوں نے کہا کہ حضرت یہ کچھ ہدیہ ہے آپ قبول فرمائیں۔ دیکھا تو پیسے تھے اس میں۔ اور اس میں ایک نصف دینار علیحدہ لپٹا ہوا تھا کاغذ میں۔ حضرت نے فرمایا بھئی جس کے جتنے جتنے پیسے وہ لیتے جائیں۔ سب کو دیا تو پیسے ختم ہو گئے اور نصف دینار جو بچ گیا وہ اٹھا کر وہ اس لڑکے کو دے دیا۔ اب جو لوگوں نے دیکھا تو بالکل برابر برابر کا معاملہ ہے۔ پتہ چل گیا کہ یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی special بات ہے بلکہ نصف دینار علیحدہ لپٹا ہوا ہے۔ یہ کیا بات ہے؟ تو قریبی حضرات نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ماجرا تھا؟ سمجھ نہیں آئی۔فرمایا اصل میں اللہ کا اور میرا ساتھ یہ معاملہ تھا۔ کہ جب بھی مجھے ضرورت ہوتی تو اللہ پاک بھیج دیتے۔ مجھے تو فکر نہیں تھی کہ اللہ پاک بھیجیں گے تو بھیجیں گے۔ لیکن لوگوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ تو میں نے اللہ پاک سے درخواست کی کہ اللہ، بھیجنے میں کیا مطلب وہ ہے؟ آپ کے خزانے میں تو کمی نہیں ہے، مجھے پتا ہے۔ ہماری طرف سے کس چیز کی کمی ہے؟ وہ بتا دیجیے۔ تو کہتے ہیں اللہ کی طرف سے الہامی طور پر جواب آیا، رونے والے کی کمی ہے۔ رونے والے کی کمی ہے۔ تو میں نے رونے والے کا بندوبست کر دیا۔ تو لڑکا جب رو پڑا، تو بس کام ہو گیا۔ پیسے آ گئے، سب کو اس کا بھی آ گیا، باقیوں کے پیسے بھی آ گئے۔ اب یہ والی باتیں ہیں۔ یہ میں آپ کو بتاؤں، یہ ویسے گپ شپ کی باتیں نہیں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کرتے ہیں۔
اللہ پاک کے ساتھ جو معاملہ ہوتا ہے جو گمان ہوتا ہے: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي۔ میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو وہ میرے ساتھ رکھتا ہے۔ تو جس کا بھی اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے، اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا طریقہ بھی یہی تھا۔ آپ ﷺ بے دریغ خرچ کرتے تھے، بے دریغ۔ اور گھر میں نہیں رکھتے تھے۔اور آتا رہتا تھا۔ اور دوسرے لوگوں سے قرض لے لے کر خرچ کرتے تھے۔ یہ ایسا بھی تھا آپ واقعاتِ سیرت کے پڑھ لیں۔ آپ ﷺ دوسرے لوگوں سے قرض لے لے کر بھی خرچ کرتے تھے۔ تو ایسا ہوتا ہے۔ لیکن وہی بات ہے کہ یقین کا بن جائے۔ یقین کا بن جائے۔ یہ البتہ ایک سوال ہے۔ جس کا یقین بن جائے تو اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اور جس کا یقین ابھی نہیں بنا تو اس کو اتنے نہیں لینے چاہئیں۔ ظاہر ہے۔
التزامِ کفر، کفر ہے اور لزومِ کفر، کفر نہیں
ارشاد: التزامِ کفر، کفر ہے، لزومِ کفر، کفر نہیں۔
یہ ایک فقرہ ہے۔ لیکن اس کے اندر پورا ایک قانون ہے۔ التزام کس کو کہتے ہیں؟ باقاعدہ ایک چیز کو produce کرنا۔ مثلاً میں کہوں کہ میں یہاں بیٹھنے کا التزام کروں گا۔ یعنی مطلب ہے باقاعدہ بیٹھنے کے لیے سوچوں گا، بیٹھنے کے لیے planning کروں گا، بیٹھنے کے لیے یہاں پر جگہ بناؤں گا، یہ التزام ہے۔ لزوم کہتے ہیں ہونے کو۔ ہے کہ کوئی ایسی چیز ہے جیسے مثال کے طور پر "انعمتَ علیہم کو انعمتُ "، کسی نے غلطی سے کہہ دیا، تو کافر تو نہیں۔ لیکن اگر باقاعدہ التزام کر کے پڑھا، تو پھر کافر ہو جائے گا۔ تو مطلب یہ ہے کہ ارادے کے ساتھ اگر کوئی چیز ہو جائے، تو پھر تو ٹھیک پھر تو کفر ہے۔ لیکن اگر غلطی سے ہو گیا، اس طرح کوئی بات زبان سے نکل گئی، تو اس سے انسان کافر نہیں ہوتا۔ اس سے انسان کافر نہیں ہوتا، البتہ احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔ احتیاط میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ بعض دفعہ ایسی باتیں زبان سے نکل جاتی ہیں، جو کہ انسان نکالنا نہیں چاہتا۔ لیکن غلطی سے زبان سے ایک بات نکل گئی۔ تو وہ ہے کہ وہ کفر والی بات نہیں ہے۔ کفر اس وقت ہو گا جب اس کا ارادہ بھی اس میں شامل ہو۔ اور وہ سمجھ رہا ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
اتباعِ نفس کی علامت
ارشاد: عارف کو موت کا اشتیاق ہوتا ہے، مگر وہ ڈینگیں نہیں مارا کرتا، اور ڈینگیں مارنا اتباعِ نفس کی علامت ہے۔
مطلب عارف جو ہوتا ہے، اس کو موت کا اشتیاق ہوتا ہے، کیونکہ وہ اللہ کے ساتھ ملنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتا بار بار کہ میں مطلب ایسا ہوں، میں ایسا ہوں۔ کیونکہ یہ تو پھر ظاہر ہے نفس والی بات آ جائے گی نا۔ نفس کی بڑائی۔ تو ایسی بات نہیں ہے۔ ہاں البتہ یہ ہے کہ دل کی خواہش اس کی یہی ہوتی ہے۔ اور آپ ﷺ کا طریقہ بھی یہی رہا کہ آپ ﷺ سے جب پوچھا گیا تو کیا جواب دیا آپ ﷺ نے؟ آپ ﷺ نے اخیر وقت میں، فرمایا تھا نا کہ ایک بندے کو اللہ نے کہا ہے، کہ چاہو جو میرے ساتھ ہے وہ تم قبول کرو، یا پھر جو ادھر ہے وہ لے لو۔ تو اس بندے نے اللہ کے ساتھ جو کچھ ہے وہ لے لیا۔ پوری مجلس میں سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہیں سمجھا اس کو کہ کیا فرمایا ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سمجھ گئے، مزاج شناس تھے ان کے۔ تو یہ والی بات ہے۔ کمال کی بات ہے۔ کہ اس وقت وہی رو پڑے تھے صرف۔ لیکن بعد میں نہیں روئے۔ جب وفات ہو گئی تو پھر بعد میں نہیں روئے۔ پھر باقی سب لوگ روتے رہے وہ نہیں روئے۔ یہ بالکل عجیب بات ہے۔ جب پھر بعد میں تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ ﷺ کے ماتھے کو بوسہ دیا۔ فرمایا کہ کیا سبحان اللہ کیا ہے کہ یہ اللہ پاک تجھ پر دو موتیں جمع نہ کریں گے۔ ایک تجھے وہ تو ہو گئی۔ دوسری اب نہیں ہو گی۔ کیونکہ ہر انسان کی دو موتیں ہیں، ایک تو یہاں سے چلا جاتا ہے، پھر وہ تھوڑی دیر کے لیے جو ان کو لایا جاتا ہے نا پھر اس کے بعد پھر موت میں چلا جاتا ہے۔ تو اس میں یہ بات ہے کہ آپ ﷺ کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ آپ ﷺ اپنی قبر میں حیات ہیں۔ حیاتِ النبی کا جو عقیدہ ہے وہ یہی ہے۔ کہ آپ ﷺ اپنی قبر شریف میں حیات ہیں۔ بلکہ سارے انبیاء کرام حیات ہیں۔ اور اللہ پاک نے قرآن پاک میں صاف وضاحت کے ساتھ فرمایا: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ۔ "اور جو اللہ کے راستے میں مارے جائیں، ان کو مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے"۔ اور اس کے علاوہ دوسری جگہ پر فرمایا کہ مبادا کوئی کہ دے کہ ہیں تو مرے ہوئے لیکن کہنا ٹھیک نہیں ان کے اعزاز یہ ہے اور فرمایا: وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیں، ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو۔ مردہ گمان بھی نہ کرو۔ تو حضرت قاری طیب قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب نکتہ نکالا اس سے۔ فرمایا کہ جو چار گروہ، "أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ" میں ہیں جن پر انعام کیا گیا ہے، وہ انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں، صالحین ہیں۔ تو انبیاء کا پہلا نمبر ہے۔ صدیقین کا دوسرا نمبر ہے۔ شہداء کا تیسرا نمبر ہے۔ اور صالحین کا چوتھا نمبر ہے۔ تو تیسرے نمبر کے لیے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کو مردہ گمان نہ کرو، اور دوسرے نمبر اور پہلے نمبر ان کے بارے میں ہم گمان کریں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ فرمایا 33 فیصد نمبر والا پاس ہے، اور 66 فیصد نمبر والا فیل؟ یہ کیسی عجیب بات ہے؟ تو انہوں نے اس کو نقل اور عقل دونوں سے ثابت کر دیا۔ یہ عقل کی بات ہے۔ نقل اور عقل دونوں سے ثابت کر لیا۔ نقل تو حدیث شریف ہے۔ نقل حدیث شریف ہے۔ اور عقل وہ اس کے ساتھ یہ نکتہ کہ قرآن کی بات کو logic کے ساتھ، ملا دیا۔ کہ قرآن میں اگر شہداء کے لیے، مردہ نہ کہنے کا فرمایا ہے، بلکہ مردہ گمان نہ کرنے کا فرمایا ہے۔ تو جو انبیاء ہیں جو ان سے دو درجے آگے ہیں، ان کو کیسے ہم لوگ مردہ گمان کریں گے؟
دینی کمال
ارشاد: دین کا کمال تو یہ ہے کہ جہاں خدا کہے وہاں خوشی سے جان دو، ورنہ اپنی جان کو آرام دو۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ کی، اللہ پاک کی بات کو آگے لائیں ۔اپنے نفس کی بات کو آگے نہ رکھو۔ تو جہاں اللہ چاہے، تو وہاں تو جان دینی چاہیے۔ مثلاً جہاد میں۔ لیکن فضول اپنے آپ کو riskمیں نہ ڈالو۔ خواہ مخواہ یہ wheeling وغیرہ جو کرتے ہیں بچے، یا اس قسم کے جو بہت جس کو کہتے ہیں risky کام لوگ کرتے ہیں، اس میں نہیں ڈرتے۔ تو یہ فضول ہے۔ یہ نہیں ہے شریعت کا طریقہ۔ وہاں پر بہادری یہ نہیں ہے کہ انسان اپنی جان کو۔۔۔ نہیں، وہاں وہ والی بات نہیں ہے۔ وہ تو اللہ پاک نے نہیں کہا نا اس کے بارے میں۔ اللہ پاک کی آپ کے پاس امانت ہے۔ مثلاً آپ کو بہترین گاڑی کسی نے دے دی، اور اس کو کچھ کاموں کا کہہ دیا کہ ان کاموں میں استعمال کرو۔ تو ان کاموں میں استعمال ہوتے ہوتے اگر ختم ہو جائے تو آپ سے کوئی نہیں پوچھے گا۔ کیونکہ وہ perform کر رہا ہے جو کچھ جس کے لیے وہ دی گئی ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو اپنے طور پر کسی چیز میں خراب کر دیں، تو پوچھیں گے، تم نے کیوں کیا؟ تو اس وجہ سے، جہاں پر کہا گیا ہے، وہاں پر جان دو۔ جہاں نہیں کہا گیا، وہاں پر اپنے آپ کو آرام بلکہ اس سے کام لو، جس کام کے لیے بنائے گئے ہیں، اس سے وہ کام لو۔