روحِ سلوک اور مجاہدے کی حقیقت

انفاسِ عیسیٰ: حصہ 1، باب 1 (تعلیمات)، فصل 2 : روح سلوک (ملفوظ 1 اور 2)

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·    اختیاری اور غیر اختیاری اعمال کا فرق

·    طلب اور وصول: سالک کی اصل ذمہ داری

·    اعمال کی قبولیت: اللہ کے فضل پر بھروسہ اور حُسنِ ظن

·    مجاہدے کی اصل حقیقت اور نفس کی مخالفت

·    گناہوں کا لازمی ترک اور مباحات میں تقلیل

·    مجاہدے کا ثمرہ: نفسِ مطمئنہ کی کیفیات

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج جیسے کہ ہمارا معمول ہے، بزرگوں کے ملفوظات بیان کیے جا رہے ہیں۔

پہلا ملفوظ ہے؛

روحِ سلوک:

مقصود طلب ہے وصول مقصود نہیں۔

ارشاد: اہل طریق کے یہاں یہ مقرر ہے کہ طلب مقصود ہے وصول مقصود نہیں۔ شرح اس کی یہ ہے کہ مقصود کے حصول کا قلب میں تقاضہ نہ رکھے کہ یہ بھی حجاب ہے کیونکہ اس تقاضے سے تشویش ہوتی ہے اور تشویش برہم زن جمعیت و تفویض ہے اور جمعیت و تفویض ہی شرط وصول ہے اس کو خوب راسخ کرلیا جائے کہ روح سلوک ہے ﴿وَ ھُوَ مِنْ خَصَائِصِ الْمَوَاھِبِ الْاِمْدَادِیَۃِ قَلَّمَاتَنَبَّہَ لَہٗ شَیْخٌ مِنْ مَشَائِخِ الْوَقْتِ﴾۔


حضرت نے ایک بہت ہی اہم بات یہاں پر فرمائی ہے جس پر بہت سارے سالکین پریشان ہوتے ہیں۔ سلوک میں دو چیزیں پیش آتی ہیں، ایک یہ کہ اختیاری چیز کونسی ہے؟ انسان کے اختیار میں کیا ہے؟ مثلاً میں نماز پڑھ سکتا ہوں، روزہ رکھ سکتا ہوں، زکوٰۃ دے سکتا ہوں، حج کر سکتا ہوں، معاملات اچھے کر سکتا ہوں، ذکر کر سکتا ہوں، تلاوت کر سکتا ہوں، یہ سارے کام اختیاری ہیں۔ اور اختیاری باتوں پر ہی فیصلہ ہوگا۔ جو انسان کے اختیار میں نہیں ہے، اس پر فیصلہ نہیں ہوگا۔ مثلاً اچھے خوابوں کا نظر آنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے، ذکر میں مزے کا آنا یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، رونا، انسان کے اختیار میں نہیں ہے یعنی رونا آ جانا۔ یہ ساری چیزیں غیر اختیاری ہیں، لہٰذا ان پر اجر و ثواب ہے اور نہ اس کے نہ ہونے پر کوئی نقصان ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے اس کا مطالبہ ہی نہیں فرمایا۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں:

لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا


اللہ پاک کسی ایسی چیز کا انسان کو ذمہ دار نہیں بناتے جو وہ کر نہ سکتا ہو۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو جو انسان کر نہیں سکتا اللہ پاک اس کا مطالبہ بھی نہیں فرماتے۔ لہٰذا اس کے نہ ہونے پر نقصان نہیں ہے۔ اور جو کر سکتا ہے، اس کے چھوڑنے پر نقصان ہے اگر وہ مطلوب ہو۔ اس میں دونوں طرح باتیں ہیں، وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں ان کا نہ کرنا نقصان ہے، اور جو چیزیں چھوڑنے کی ہیں ان کا نہ چھوڑنا نقصان ہے۔ مثلاً بدنظری چھوڑنا، انسان کر سکتا ہے، تو اس کا چھوڑنا ضروری ہے، اور نہ چھوڑنا نقصان ہے۔ اور جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا معاملات یا دل کی صفائی، یہ انسان کر سکتا ہے تو اس کا نہ کرنا نقصان ہے۔

تو اب یہ، یہاں پر جو حضرت نے بات فرمائی یہ اصل میں یہی بات ہے لیکن ذرا تھوڑا سا مختصر الفاظ میں بات فرمائی ہے۔ فرمایا ہے کہ طلب مقصود ہے، طلب میں انسان اختیاری اعمال کرتا ہے۔ یعنی جس کو بھی کسی چیز کی طلب ہے، مثلاً ایک شخص Medical College میں داخلہ لیتا ہے۔ اب Medical College میں داخلہ لینا، اگر نمبر اچھے ہوں، پھر وہاں پڑھائی کرنا، فیسیں جمع کرنا، Classes regularly attend کرنا، Exam دینا، یہ انسان کے اختیار میں ہے۔ تیاری کرنا، محنت کرنا، یہ انسان کے اختیار میں ہے، لیکن Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے۔ پکی بات ہے Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے۔عین Exam کے دن اگر کوئی بیمار ہو جائے تو کیا کر لے گا؟ کچھ کر سکتا ہے؟ کچھ نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ یہ کہ Paper کے دوران آپ کے پاس Pen نہیں ہے، خراب ہو گیا اور آپ کے پاس دوسرا Pen نہیں ہے، تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کے پندرہ بیس منٹ تو لگ جائیں گے، وہ تو آپ کا Time گیا نا۔ مقصد یہ ہے کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو Pass ہونا اختیار میں نہیں ہے، لیکن محنت کرنا انسان کے اختیار میں ہے۔ تو اس چیز کو سب لوگ سمجھتے ہیں لیکن ظاہر ہے جو اختیاری چیز ہے وہ انسان کرتا ہے۔ مثلاً دکان پہ بیٹھنا اختیار میں ہے، گاہک کا آنا اختیار میں نہیں ہے۔ اب انسان کیا کر سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ گاہک نہیں آیا تو بس ٹھیک ہے، نہیں آئے گا آج۔ اسی طریقے سے بہت ساری باتیں ہیں جو ہم جانتے ہیں کہ جو ہمارے اختیار میں ہیں، ان کا کرنا تو ہے، لیکن جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں تو ہم چاہتے تو ہوں گے کہ ایسا ہو جائے، لیکن ضروری نہیں کہ ایسا ہو جائے دنیا کے کاموں میں۔

اسی طریقے سے سلوک کے کام میں جو اختیاری چیزیں ہیں، اس میں طلب کا مطلب یہ ہے کہ ان اختیاری چیزوں کو کر لے۔ اس کے بعد اس پر نتیجہ مرتب ہو جائے، یہ اختیار میں نہیں ہے۔ اس کو "وصول" کہتے ہیں۔ یعنی اس پر نتیجے کا مرتب ہو جانا، یہ اختیار میں نہیں ہے۔ بلکہ میں اس سے بھی بڑی بات عرض کرتا ہوں۔ دیکھیں، پورا قرآن عمل کی دعوت سے بھرا ہوا ہے یا نہیں بھرا ہوا؟ پورے قرآن کو دیکھو تو یا کسی چیز کے کرنے کا حکم ہے یا کسی چیز کے چھوڑنے کا حکم ہے۔ پورا قرآن عمل کی دعوت سے بھرا ہوا ہے۔ حدیث شریف بھی ساری تقریباً عمل کی دعوت سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی حدیث شریف ہے کہ انسان عمل پر جنت میں نہیں جائے گا، اللہ کے فضل پر جائے گا۔ اور اللہ کا فضل اختیار میں نہیں ہے۔ تو کیا سارے لوگ عمل چھوڑ دیں؟ پھر قرآن کس لیے اترا ہے؟ پھر حدیث شریف کس لیے آئی ہے؟ تو اس کا مطلب یہی ہوا کہ انسان صرف اور صرف طلب کا مکلف ہے، اس سے زیادہ کا نہیں۔ اور میں آپ کو ایک بات اور عرض کروں، بڑی اچھی بات عرض کروں۔ وہ یہ کہ اگر کوئی شریف آدمی ہو، اس کا کوئی نوکر ہو جائے، اور یہ شخص دل سے اپنی نوکری صحیح کرے، تو اگرچہ اس کا دل تو اس کے اختیار میں نہیں ہے نا، لیکن نتیجہ کیا ہوگا؟ وہ یہی ہوگا کہ وہ اچھی طرح پیش آئے گا، اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا، چونکہ اس کی شرافت مسلّمہ ہے۔ اسی طرح اللہ جل شانہ کا فضل تو مسلّمہ ہے۔ اللہ جل شانہ تو اپنا ہاتھ اوپر رکھتے ہیں۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو پھر کیسے ہم توقع کر سکتے ہیں کہ ہم کام کریں گے اور اللہ پاک اپنا فضل نہیں فرمائیں گے؟ یہ ممکن نہیں ہے۔ لیکن قانون یہی ہے۔ قانون کو یہی ماننا پڑے گا، البتہ اللہ کا فضل ہو جاتا ہے۔


حضرت تھانویؒ نے ایک شعر فرمایا ہے کسی کا شعر ہے، بڑے اچھے موقع پر، فرمایا:

ان کے الطاف شہیدی تو ہیں مائل سب پر

تجھ سے کیا بیر تھا اگر تو کسی قابل ہوتا


مطلب تجھ سے کوئی دشمنی تو نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ تو فرماتے ہیں: اللہ پاک مومنین کا دوست ہے۔ تو دوستوں کے ساتھ تو کوئی اس طرح نہیں کرتا۔ مقصد یہ ہے کہ ضرور ہم سے کوئی گڑبڑ ہو چکی ہوگی، ضرور ہم سے کوئی کمی ہو چکی ہوگی۔ ٹھیک ہے ہمیں نظر نہیں آ رہا، یہ الگ بات ہے، لیکن اگر غور کر لے تو نظر آ جائے گا۔ اگر غور کر لے تو نظر آ جائے گا، اس وجہ سے کہتے ہیں اپنے اوپر بدگمانی صحیح ہے۔ اپنے اوپر بدگمانی صحیح ہے، اور دوسرے کے اوپر نیک گمان صحیح ہے۔ تو کم از کم اللہ پر تو نیک گمان ہونا چاہیے نا۔ اس لیے کہتے ہیں کہ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، میں بندے کے اس گمان کے ساتھ ہوں جو میرا ساتھ رکھتا ہے۔ تو اگر اللہ کے ساتھ اچھے گمان ہیں تو اللہ پاک اس کے ساتھ اچھا معاملہ فرمائیں گے۔

بہرحال بات لمبی ہو گئی، لیکن اس میں پتے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی وہ رکھے کہ وصول مجھے ہو جائے، تو اس کا نقصان کیا ہوگا؟ یہ پھر اگر اس کو وصول میں دیر ہو رہی ہے اپنی وجہ سے، تو اس کو شیطان کہے گا دیکھو نا فلاں کے ساتھ یہ ہو گیا فلاں کے ساتھ یہ ہو گیا میرے ساتھ یہ نہیں ہوا، اللہ پاک سے بدگمان کرے گا۔ اس لیے کہتے ہیں تعجیل جو ہے یہ اس راستے کے مہلکات میں سے ہے، جلدی مچانا، یہ اس راستے کے مہلکات میں سے ہے۔ کہتے ہیں "نیکی کر دریا میں ڈال"۔ ہے نا بزرگوں کا ملفوظ ہے نا کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔ تو کم از کم اللہ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہونا چاہیے نا، کہ ہم اس کے ساتھ حساب نہ کریں ورنہ اگر ہمارے ساتھ وہ حساب کرے گا تو پھر کیا کرے گا؟ اللہ کے ساتھ ہم حساب نہ کریں، بلکہ ہم لوگ اللہ پر اچھا گمان کر کے نیک اعمال کرتے جائیں اور نتیجہ اس پر چھوڑتے جائیں۔ جس وقت اس نے فضل کا فیصلہ کر لیا ہوگا، اس وقت اپنے وقت پر ہو جائے گا۔ ہمیں اس بات کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ بہت کریم ہے۔


مجاہدے کی حقیقت

مجاہدہ کس کو کہتے ہیں؟

مجاہدے کی حقیقت یہ ہے کہ جو کام کرنے کا ہے اور اس میں نفس مزاحمت کر رہا ہے، تو اس مزاحمت کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ کام کر لے۔ اور جو کام چھوڑنے کا ہے اور اسے چھوڑنے میں نفس مزاحمت کر رہا ہے تو اس کی مزاحمت کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کام سے رہ جائے، اس کو چھوڑ دے۔ مثلاً، نماز پڑھنے کا ہے، فجر کی نماز کے لیے اٹھ رہا ہوں، بہت سخت Resistance ہے، بڑا مشکل ہے اٹھنا۔ اس صورت میں اس مشکل پر قابو پا کر میں اٹھ جاؤں، یہ مجاہدہ ہے۔ اور یہ مجاہدہ چند دن کا ہی ہوتا ہے، پھر اس کے بعد انسان کی عادت ہو جاتی ہے، پھر وہ مجاہدہ ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن ابتدا میں تو مجاہدہ ہوگا۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر ایک شعر کہا ہے۔ فرمایا:

کہا سمندر کے سفر کا شوق ہے، کہا کرو

کہا طوفان کا ڈر ہے، کہا طوفان تو ہوگا

کہا اونٹ پر سواری کا شوق ہے، کہا کرو

کہا کوہان کا ڈر ہے، کہا کوہان تو ہوگا


مطلب یہ ہے کہ مجاہدہ تو ہوگا، ابتدا میں ہوگا۔ اس سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ لیکن بعد میں نہیں ہوگا۔ آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ جو پہلے نمازی نہیں تھے، میرے خیال میں ہمیں ارد گرد ایسے بہت سارے لوگ مل جائیں گے جو پہلے نمازی نہیں تھے، ان کے لیے وہ ایک نماز پڑھنا بڑا مشکل تھا۔ اب اگر ان سے پوچھیں تو ایک نماز چھوڑنا بھی ان کے لیے مشکل ہوگا۔ بلکہ بعض لوگوں کو تو اللہ پاک نے تکبیرِ اولیٰ کی عادت ڈلوائی ہوتی ہے، وہ تکبیرِ اولیٰ نہیں چھوڑ سکتے، اگر تکبیرِ اولیٰ چھوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ کیا بات ہے؟ کیا وہ الگ انسان ہیں؟ کیا وہ اس دنیا میں نہیں ہیں؟ کیا ان کے بیوی بچے نہیں ہیں؟ کیا ان کے کاروبار نہیں ہیں؟ کیا ان کی ملازمتیں نہیں ہیں؟ کیا ان کے مزید مشاغل نہیں ہیں؟ ہیں، سب ہیں۔ لیکن یہ جو بات ہے ذرا ضرور سمجھنا چاہیے کہ ابتدا میں ان کو بھی تکلیف ہوتی ہوگی، ابتدا میں، لیکن بعد میں تکلیف آہستہ آہستہ کم ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو گئی، اور اب اس کے ساتھ ایسا تعلق ہو گیا کہ اس کا رہ جانا مشکل ہے، اس کا وہ مجاہدہ ہے۔ مثال کے طور پر ایک پکا نمازی آدمی ہے۔ وہ کسی ایسی جگہ میں پھنس جائے جہاں اس کو نماز پڑھنے میں مشکل ہو رہی ہو، تو اس کے اوپر کیا گزرتی ہے؟ اس وقت اس کے لیے وہ حالت مشکل ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟


مجھے ایک ساتھی نے اپنا واقعہ سنایا اس دفعہ، وہ ایک Multinational company میں ملازمت کرتے ہیں، وہ چلے سندھ میں اپنی Site پر گئے تھے۔ تو کہتے ہیں کہ وہاں جو Foreigners تھے وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اب Foreigners کا Protocol ہوتا ہے اس علاقے میں بالخصوص جہاں بدامنی ہو، وہاں پر روکا نہیں جاتا، گاڑیوں کو مسلسل وہ جا رہے ہوتے ہیں Cover میں ۔ تو کہتے ہیں Cover میں جا رہے تھے، جو ہمارے جو Security والے لوگ تھے، انہوں نے ہمیں کہا کہ رکنا نہیں ہے۔ کہتے ہیں میں نے انہیں کہا کہ میرا وضو ہے، میں نے نماز پڑھنی ہے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ : "نہیں جی یہ تو Possible نہیں ہے، یہ تو ہم لوگ رک نہیں سکتے"۔ تو خیر بہرحال یہ کہ وہ کہتے ہیں بس میرے اوپر یہ حالت تھی کہ بس وہ ایک ایک لمحہ بہت بھاری ہو رہا تھا، اور بڑا مشکل ہو رہا تھا کہ میں اب کیا کروں اور Time مسلسل، اور وہ نماز بھی مغرب کی۔ اب مغرب کی نماز میں Time بھی نسبتاً باقی نمازوں کے تھوڑا ہوتا ہے۔

اب کہتے ہیں پندرہ بیس منٹ جب رہ گئے نا وقت میں، کہ مطلب بس ختم ہونا چاہتا ہے، کہتے ہیں میری حالت بہت کمزور ہو گئی، تو میں نے اللہ پاک سے دعا کی، کہ اے اللہ! جتنا میں کر سکتا تھا میں نے کیا، میرے بس میں نہیں ہے اب میری مدد فرما۔ کہتے ہیں یہ دعا اللہ تعالیٰ سے میں نے کی۔ کہتے ہیں ساتھ ہی جو Foreigner بیٹھے ہوئے تھے، وہ میری حالت کو دیکھ رہے تھے۔ اس نے دیکھ لیا، کہتے ہیں میری زبان سے نکلا کہ

"What type of emergency is this?"

وہ فلاں جگہ پر رک گئے تھے آدھا گھنٹہ، اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، اب نماز کے لیے دو منٹ کے لیے نہیں رک سکتے؟ کہتے ہیں میری زبان سے الفاظ ذرا بڑے عجیب انداز میں نکلے۔ کہتے ہیں اس نے نوٹ کر لیے۔ تو کہتے ہیں جیسے میں نے یہ دعا کی، تو اس نے کہا کہ میرے پاس ایک Idea آیا ہے، ذہن میں، اس انگریز نے کہا، میرے ذہن میں ایک Idea آیا ہے۔ کہتے ہیں میں ایک Bio break کر لیتا ہوں اور آپ اس دوران نماز پڑھ لیں۔

کہتے ہیں اس نے ٹیلیفون کر لیا وہ جو Security والے کو، کہ میں Bio break کرنا چاہتا ہوں پانچ منٹ کے لیے، تو اس نے پھر تو کچھ نہیں کر سکتے۔ تو انہوں نے کہا چلو ٹھیک ہے، تو انہوں نے Break کر لی۔ اور کہتے ہیں مجھے، جلدی نماز پڑھو۔ کہتے ہیں کوئی اور جگہ نہیں تھی، سڑک پر ہی Coat ڈال دیا اور اس کے اوپر کھڑے ہو کر میں نے نماز پڑھی۔ یہ اس وقت اس کے لیے یہ مجاہدہ تھا۔ اس کے لیے یہ مجاہدہ تھا۔ تو ہر ایک کے لیے ایک جیسا مجاہدہ نہیں ہوتا۔


تو فرماتے ہیں:


ارشاد:

مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی کو تو مطلقاً ترک کرے اور یہ نفس کی مخالفت واجب ہے اور مباحات میں تقلیلاً مخالفت کرے اور یہ مخالفت مستحب ہے مگر ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اس مخالفتِ مستحبہ پر موقوف ہے جیسے بہت سونا، بہت کھانا، بہت عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا ملانا، سو ان میں تقلیل کرے۔

یہ مجاہدہ ہے۔

اب ذرا میرے خیال میں حضرت کا انداز ہے، مختصر انداز میں سب کچھ بتا دیتے ہیں، لیکن اس کی تشریح ضروری ہو جاتی ہے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ جو گناہ ہیں، ان کو تو بالکل چھوڑ دیا جائے۔ گناہ بالکل نہ کرے۔ اور یہ جو نفس کی مخالفت ہے گناہ نہ کرنے میں، یہ تو واجب ہے۔ اس کا تو کوئی اور حل ہے ہی نہیں، یہ تو کرنا پڑے گا۔ لیکن جو مباحات ہیں، مباح کس کو کہتے ہیں؟ مباح اس کو کہتے ہیں کہ جو نہ ثواب ہو اور نہ گناہ ہو۔ اس کو مباح کہتے ہیں۔ مثلاً میں بیٹھا ہوں، نہ میں ذکر کر رہا ہوں اور نہ میں کوئی زبان سے غلط الفاظ نکال رہا ہوں، تو یہ مباح ہے۔ تو فرمایا کہ مباحات کے اندر جو تقلیل ہے، مثلاً کوئی آدمی تفریح کر رہا ہے، تفریح کرنے سے مراد یہ ہے کہ کھیل رہا ہے، تو یہ مباح ہے۔ اس طریقے سے آدمی کھانا کھا رہا ہے اچھا، تو یہ مباح ہے۔ اس طریقے سے انسان آرام کر رہا ہے، تو یہ بھی مباح ہے۔ لیکن فرمایا کہ اس میں زیادہ انہماک نہ کرے، کیونکہ نفس انسان کے اوپر سوار ہو جائے گا۔ نفس کی جتنی بات مانتے جاؤ گے، اتنا یہ سر پر چڑھتا جائے گا۔ اور نفس کی جتنی مخالفت کرتے جاؤ گے، اتنی ہی یہ باتیں مانتا جائے گا۔ آسان سی بات ہے۔


جب یہ والی بات ہے تو اب یہ جو نفس کی مخالفت ہے جو مباح کی کمی ہے، یہ فرض اور واجب نہیں ہے۔ لیکن آپ کا فرض و واجب اس پر موقوف ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ نے یہ مخالفت اس کی نہیں کی، یہ تقلیل اس میں نہیں کی، یہ کمی اس میں نہیں کی، تو یہ آپ کے اوپر چڑھ بیٹھے گا، نتیجتاً آپ سے کسی وقت فرض بھی چھڑوا دے گا۔ آپ سے کسی وقت فرض بھی چھڑوا دے گا۔ اب اس فرض کو بچانے کے لیے آپ نے اس کی جس کو کہتے ہیں حفظِ ماتقدم کے طور پر باگیں کھینچنی ہیں بہت پہلے سے، تاکہ یہ بغاوت نہ کر سکے۔ یہ اصل میں مراد ہے۔

تو یہ جو صوفیائے کرام جو مجاہدات کراتے ہیں نا مثلاً جو چلے لگواتے ہیں، یہ لوگ اس کے اوپر بڑا مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ دیکھو رہبانیت ہے اور یہ ایسے ایسے ہے۔ وہ رہبانیت نہیں، رہبانیت تو اس کو کہتے ہیں جس پر ثواب سمجھا جائے۔ اس میں کوئی ثواب نہیں سمجھا جاتا، یہ صرف Training ہے۔ کاکول میں جیسے Training دی جاتی ہے آرمی والوں کو۔ تو کیا آرمی والے اس میں ثواب سمجھتے ہیں؟ ثواب تو نہیں سمجھتے، لیکن اس کے بغیر کیا وہ Training مکمل ہوتی ہے ان کی؟ اس کے بغیر کیا ان کو Commission دیتے ہیں؟ کمیشن دیتے ہی نہیں۔ وہ Commission کی Requirement ہے۔ اس لیے کہ ان کو اس قسم کی Toughness دینی ہوتی ہے، تاکہ ان کے اندر وہ چیزیں آ جائیں۔ اگر جنگ میں ان کو اس کی ضرورت پڑ جائے تو کم از کم اس سے گزر تو چکے ہوں، وہ اس چیز کو یعنی برداشت تو کر سکتے ہوں۔ جو آدمی بھوکا رہنا برداشت نہ کر سکے وہ جنگ کیا کرے گا؟ وہ کہتے ہیں: جنگ میں مٹھائی تو تقسیم نہیں ہوتی۔ وہ ظاہر ہے کہ وہاں پر تو بڑی Tough چیزیں ہوتی ہیں، کبھی کبھی ممکن ہے کھانا بھی نہ ملے، آپ کا محاصرہ ہو جائے Supply بند ہو جائے، کیا کریں گے آپ؟ اس طرح بہت ساری چیزیں ہو سکتی ہیں۔


تو اسی طریقے سے آپ کو اگر نفس کی مخالفت شریعت کے کاموں میں کرنی ہے، تو نفس کی مخالفت کو آپ نے سکھانا ہے اپنے آپ کو۔ اس کی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ جیسے ایک کاغذ ہے، آپ اس Plain کاغذ کو موڑ دیں، تو پھر اس کے بعد اگر اس کو سیدھا رکھنا چاہیں گے تو سیدھا نہیں بیٹھے گا، وہ مڑا رہے گا۔ اس کے سیدھا رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو مخالف سمت میں موڑو، پھر دوبارہ اتنا ہی، جیسے پہلے دوسری سمت میں موڑا تھا۔ جب مخالف سمت میں اتنا موڑو گے، پھر رکھ لو تو پھر سیدھا ہو جائے گا۔ یہ جو مخالف سمت میں موڑنا ہے، یہ اصل میں اس ٹیڑھ کو نکالنے کے لیے ہے۔ اس مخالف سمت میں موڑنا کیا ہے؟ وہ اس ٹیڑھ کو نکالنے کے لیے ہے۔ ٹیڑھ نکل جائے، پھر اس کی ضرورت نہیں ہے۔

اس لیے کہتے ہیں کہ جو مجاہدہ، مستحب مجاہدہ ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ وہ subject to condition ہوتا ہے، subject to requirement ہوتا ہے۔ جتنی اس کی ضرورت ہے، اتنے پر کرنا ہے بس، اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے جیسے کاکول والوں کو ایک دفعہ دو سال کروا دیا، تو پھر کبھی کبھی ان کو ریہرسل وغیرہ کراتے ہیں، لیکن مستقل تو اس طرح نہیں ہوتا نا۔ پھر اس کے بعد وہ Commission enjoy کرتے ہیں۔ تو اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مجاہدہ جو مستحبہ مجاہدہ کر لے، اس کے بعد اگر ان کو عادت ہو جائے اعمال کی، تو سبحان اللہ ان اعمال کے اندر ہی ان کی ساری ترقی ہوتی رہتی ہے، پھر ان کو عادت ہو جاتی ہے ان کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، پھر ان کے لیے مجاہدہ ہی نہیں رہتا۔

بلکہ آخر میں جس کو ہم کہتے ہیں "نفسِ مطمئنہ"،نفسِ مطمئنہ تو ان چیزوں کو خود چاہتا ہے۔ نفسِ مطمئنہ کی تو یہ خوراک ہو جاتی ہے۔ نفسِ مطمئنہ کی یہ خوراک ہو جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا أَرِحْنِي يَا بِلَالُ، مجھے اے بلال! اذان سے راحت دو۔

اب دیکھ لیں جو اللہ والے ہیں وہ اذان سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ ذکر سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ تلاوت سے کتنی فرحت پاتے ہیں، وہ اچھے کاموں سے کتنی فرحت پاتے ہیں، اور برے کاموں سے انتہائی سخت تکلیف ان کو ہوتی ہے۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ بعض بزرگوں کے سامنے کسی نے جھوٹ بولا اور جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کو قے آ گئی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے، ایسے ہوتے ہیں بعض حضرات۔ ان کی طبیعت اتنی سلیم ہو جاتی ہے فرشتوں کی طرح، فرشتے بھی تو اس سے تکلیف میں جاتے ہیں نا۔ تو فرشتے ان کے ساتھ اتنے زیادہ مختلط ہو جاتے ہیں کہ پھر وہ ان کی طبیعت فرشتوں جیسی ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ان کے سامنے اگر جھوٹ بولا جائے، اگر کوئی اس قسم کی بات کی جائے، ان کو سخت تکلیف ہوتی ہے، بے شک وہ برداشت کر لیں لیکن تکلیف تو ان کو ہوتی ہے نا۔ تو یہ جو چیز ہے کہ اگر نفسِ مطمئنہ نصیب ہو جائے، پھر تو سبحان اللہ، پھر تو خیر کے کاموں پر ایسی دلجمعی نصیب ہو جاتی ہے کہ پھر ان خیر کے کاموں کا چھوڑنا مجاہدہ ہو جاتا ہے۔ بڑا مشکل ہوتا ہے۔



وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ


روحِ سلوک اور مجاہدے کی حقیقت - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور