اصلاحِ قلب، آدابِ طریقت اور دین کی عملی حکمتیں

انفاس عیسیٰ : حصہ 2، باب چہارم، اشاعت اول 23 جنوری، 2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

·       خلوت کی اہمیت: سالک کے لیے تنہائی میں ذکرِ الٰہی ضروری ہے تاکہ دل نورانی رہے اور اللہ کی مدد حاصل ہو۔

·       نیک صحبت کے آداب: بزرگوں کی صحبت صرف اصلاح کے لیے ہو۔ حد سے زیادہ آنا جانا اور مقاصد بدلنا نقصان دہ ہے۔

·       شیخ کے مزاج کی رعایت: مرشد کی مصروفیات کا خیال رکھیں۔ ان کے بتائے ہوئے مخصوص طریقوں اور ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہے۔

·       تعزیت کا مسنون طریقہ: تسلی کے لیے صرف خاص عزیزوں کے پاس جانا چاہیے، باقی لوگوں سے بذریعہ خط تعزیت کرنی چاہیے۔

·       مقامِ مصطفیٰﷺ:  آپ ﷺ بشر ہیں مگر عام انسانوں میں ایسے ممتاز ہیں جیسے عام پتھروں کے درمیان قیمتی یاقوت۔

·       تاخیرِ مقصود میں حکمت: منزل ملنے میں تاخیر حکمت ہے۔ جس کام میں جان، مال اور وقت لگے، انسان اس کی قدر کرتا ہے۔

·       تقویٰ میں غلو کی ممانعت: نیکی میں اعتدال ضروری ہے۔ گرے ہوئے معمولی دانے کی حد سے زیادہ تشہیر پرہیزگاری نہیں بلکہ غلو ہے۔

مقاصد اور ذرائع کا فرق: دین میں تبدیلی لانا بدعت اور ناجائز ہے، لیکن دین کی حفاظت کے لیے

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

خلوت کی ضرورت ہر سالک کو ہے

ارشاد:

ہر سالک کے لیے ایک وقت خلوت کا ہونا ضروری ہے جس میں وہ یکسوئی کے ساتھ ذکر و فکر میں مشغول ہو، حضور ﷺ سے زیادہ کون ہو گا؟ آپ نے بھی اپنے لیے ایک وقت خلوت کا مقرر کر رکھا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ رات کو جب سب سو جاتے تھے، اٹھ کر نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے تھے۔ جن لوگوں کا وقت خلوت کے لیے مخصوص نہیں ہوتا، رفتہ رفتہ ان کا قلب انوار سے بالکل خالی ہو جاتا ہے۔

یہ بہت ضروری ہے۔ خلوت جو ہے، خلوت کیا ہے؟ وہ اللہ کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ یعنی جو ذاکر ہوتا ہے، وہ جلیس ہوتا ہے اللہ کا۔ تو اس وجہ سے، جو خلوت میں بیٹھا ہو گا، تو ویسے تو خلوت نہیں ہے نا جوگیوں کی طرح ویسے بیٹھا ہو گا، وہ تو ذکر کر رہا ہو گا نا؟ تو ذکر کر رہا ہو گا، قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہو گا، مراقبہ کر رہا ہو گا، تو وہ اللہ کے ساتھ ہو گا۔ تو زیادہ دیر اللہ کے ساتھ بیٹھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تھوڑی دیر باقی لوگوں کے ساتھ۔ لیکن بہرحال اگر زیادہ دیر نہیں ہو سکتا تو چلو کچھ نہ کچھ وقت تو اس کے لیے انسان کو نکالنا چاہیے تاکہ اللہ جل شانہ کی طرف سے مدد مستقل بحال رہے اور اس کا دل بھی جو ہے انوارات سے بھرا رہے۔

"اَلْجَلِیْسُ الصَّالِحُ خَیْرٌ مِّنَ الْوَحْدَةِ" کے معنی

ارشاد:

بس ایک کو اپنا بزرگ بنا لو اور جم کر اس کے پاس رہو، اور اس کے پاس بھی زیادہ آمد و رفت نہ کرو، بلکہ ایک دفعہ بہت سا رہ لو پھر اپنے گھر بیٹھو، برس میں ایک دفعہ پھر مل لینا۔ اور ہر مہینہ بھی اس کے پاس نہ جاؤ۔ اس مشورہ کا راز یہ ہے کہ جلیسِ صالح سے ملنا اصلاح کے لیے مقصود ہے تو جب تک اس اختلاط سے اصلاح حاصل ہو اس وقت تک اس سے ملنا وحدت سے بہتر ہے۔ اگر کبھی بزرگوں کی زیارت سے اصلاح حاصل نہ ہو بلکہ فساد بڑھنے لگے تو اس وقت اختلاطِ صالح سے بھی منع کر دیا جائے گا۔ مثلاً زیارت نام کو ہو اور مقصود سیر و سیاحت ہو، یا عمدہ کھانے کا ملنا ہو، اوراد میں خلل پڑتا ہو تو اپنے سفر کی وجہ سے معذور سمجھتے ہوں۔ حالانکہ مسافر وہی معذور ہے جو ضرورت کی وجہ سے سفر کرے۔ بعض دفعہ بزرگوں کی بعض حالت دیکھنے سے قلب میں انکار پیدا ہو جاتا ہے، جو سخت وبال کا باعث ہے جس سے بعض دفعہ ایمان بھی سلب ہو جاتا ہے۔

یہ اصل میں حضرت نے ان لوگوں کے لیے فرمایا ہے جو دور دور سے آتے ہیں۔ جیسے دیکھیں نا اس میں بہت ساری باتیں اس کی آ گئیں۔ مثلاً کوئی کراچی سے آ رہا ہو، کوئی پشاور سے آ رہا ہو، یا کوئی فیصل آباد سے آ رہا ہو، جو دور دور جگہیں ہوتی ہیں۔ اب اگر وہ اس طرح آمد و رفت مسلسل کرنے لگے تو اس سے ان چیزوں کا حرج ہونے لگے گا۔ کیونکہ ہر وقت تو ان چیزوں کا حرج نہیں کیا جا سکتا نا۔ تو باقی اپنے شہر کی بات اپنی ہے۔ وہ علیحدہ بات ہے۔ وہ تو حضرت کے ساتھ لوگ ملا کرتے تھے۔ جو حضرت کے اپنے شہر کے ہوتے تھے، بلکہ مستقل طور پر حضرت کے ساتھ وہ بیٹھے ہوتے تھے جو حضرت کی مجلسیں ہوتی تھیں، اس میں شریک ہوتے تھے۔

تو یہ ہے کہ دور دور والوں کے لیے یہ بات ہے۔ مجھے ایک دفعہ ایک صاحب نے بڑی اچھی بات بتائی اپنے ساتھیوں میں کہ وہ کہتے ہیں فرمایا کہ میں انٹرنیٹ پر ایک دفعہ f-8 ان کا وہ ہے۔ تو میں وہ سن رہا تھا، آپ کا بیان۔ شاید ابھی سن رہا ہو۔ تو بہرحال یہ کہ وہ سن رہا تھا۔ تو کہتے ہیں مجھے پتا چل گیا کہ یہ انٹرنیٹ کا جو بیان ہے وہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ یہ دور والوں کے لیے ہے۔ کہتا ہے مجھے پتا چل گیا کہ اتنا نہیں مل رہا ہوتا جتنا کہ وہاں بیٹھ کر مل رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں جو طلب ہوتی ہے، اس کی وجہ سے۔

اس کی ایک آسان مثال، آسان طریقہ ہے سمجھنے کا۔ وہ یہ ہے کہ شیخ کے مزاج کو اپنایا جائے۔ کہ وہ کیا چاہتا ہے؟ اگر وہ بہت مصروف آدمی ہے جیسے مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔ اور وہ تو ان کے بہت سارے اور کام ہیں، مطلب کتابیں لکھنا اور دوسری چیزیں، ان کے بہت سارے کام ہیں۔ اب ان کے پاس آپ ہر وقت اور ان سے مجلس چاہیں گے نا تو ان کے دل پہ بوجھ ہو گا نتیجتاً نقصان ہو گا۔ تو ان کے ساتھ تو بالکل یہی طریقہ کار جیسا حضرت نے فرمایا۔ لیکن جن کا باقاعدہ ایک missionary کام ہو اور ایک جماعت تیار کرنا مقصود ہو، اس سے یہ ہے کہ لوگوں سے کام لینا مقصود ہو، تو وہ پھر ایک علیحدہ چیز ہوتی ہے۔

کیونکہ آج کل کے دور میں وہ باتیں تو ہیں نہیں کہ خانقاہ میں پورا وقت لگانے کے لیے کوئی دو سال لگا دے۔ وہ چیزیں تو اب نہیں ہیں نا؟ وہاں پہلے تو اس وقت یہ ہوتا تھا۔ لگا لیتے تھے۔ پھر اس کے بعد ان کو فارغ کر دیا کہ اچھا اب جاؤ اپنا کام کرو۔ ہمارے سامنے مثال حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ کہ حضرت کو اتنی زبردست صلاحیت حاصل تھی کہ 24 گھنٹے میں ان کو خلافت مل گئی تھی۔ اس کے باوجود 20 سال تک حضرت کے ساتھ رہے۔ تو اللہ پاک نے پھر اس level کا کام بھی لے لیا ان سے۔ 90 لاکھ لوگ ان کے ہاتھ کے ذریعے سے مسلمان ہو گئے اس دور میں۔ تو یہ معمولی بات تو نہیں ہے۔ تو یہ چیزیں ہیں، مطلب ان کو سمجھنا چاہیے کہ مزاج کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیا کرتا ہے کیوں؟ وجہ کیا ہے کہ تصوف میں، وقت کی جو حالت کا جو ہوتا ہے مطلب اتارا جاتا ہے، شیخ پر۔ تو اس وقت کیا کرنا چاہیے؟ یعنی جس شیخ سے جو کام لینا ہوتا ہے، اس کے دل پر وہ چیز اتاری جاتی ہے۔

تو اب ظاہر ہے کوئی کتاب میں دیکھے گا تو اس کا تو وہ تو اس کے لیے نہیں تھا نا۔ وہ تو کسی اور کے لیے تھا، جس کے لیے تھا اس کو پہنچ گیا۔ لیکن اس کے لیے جو کچھ ہے وہ وہیں ہے۔ اور اس پر سب الحمد للہ صوفیاء متفق ہیں۔ جتنے بھی مشائخ ہیں اس پر متفق ہیں کہ اپنے شیخ کی مانو۔ اپنے شیخ کی بات مانو۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ وہ آپ کے لیے بہتر بتا سکتا ہے۔ وہ آپ کو وہ چیز بتا سکتا ہے جو اللہ پاک نے اس کے دل پر آپ کے لیے بھیجی ہے۔ باقی لوگ تو آپ کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ ذمہ دار تو اللہ پاک نے اس کو بنایا ہے۔ تو جس کو اللہ پاک نے ذمہ دار بنایا ہوتا ہے، اس کی مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ پھر معاملے بھی اس طرح رکھتے ہیں۔

تو یہ بہت اہم بات ہوتی ہے سمجھنا۔ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ کتابوں کا پڑھنا جو ہوتا ہے وہ ہر وقت کام نہیں دیتا۔ اس کے اندر descriptions جو ہوتی ہیں وہ کچھ detail کی طالب ہوتی ہیں۔

تعزیت کا طریقہ

ارشاد:

تعزیت میں ان خاص خاص عزیزوں کو جانا چاہیے جن سے وارثوں کو تسلی ہو، باقی لوگوں کو خط سے تعزیت کرنا چاہیے۔

حضور ﷺ کی مثال

ارشاد:

حضور ﷺ بشر تو ہیں مگر ایسے جیسے ایک بزرگ نے کہا ہے کہ "بَشَرٌ کَالْبَشَرِ بَلْ ھُوَ کَالْیَاقُوْتِ بَیْنَ الْحَجَرِ"۔

یعنی پتھروں کے اندر جیسے یاقوت ہوتا ہے۔ وہ بھی تو پتھر ہی ہے، لیکن وہ پتھر تو اور ہے نا۔ اس کے لیے تو لوگ بہت کچھ چھوڑ دیتے ہیں، یعنی یاقوت۔ اسی طرح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ بشر تو ہیں لیکن وہ۔ ہر بشر دوسرے بشر سے مختلف ہوتا ہے۔ یعنی ایسا تو نہیں، بشر تو سارے ہیں لیکن ہر ایک جیسا تو نہیں ہوتا۔ تو اس طرح جو ان میں، پھر اولیاء اللہ جو ہوتے ہیں وہ ممتاز ہوتے ہیں۔ پھر اولیاء اللہ میں پھر صحابہ ممتاز ہیں۔ صحابہ میں پھر، انبیاء ممتاز ہیں۔ اور جو انبیاء ہیں ان میں پھر خاتم النبیین ﷺ۔ تو اگر دیکھا جائے تو اس طریقے سے، پھر کہاں بات پہنچتی ہے۔


تاخیر مقصودِ حکمت

ارشاد:

حکمت کا مقتضا یہی ہے کہ مقصود جلدی عطا نہ کیا جائے اور علوم میں شیئاً فشیئاً تزاید ہوتا رہے، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ مستقر پر پہنچنے کی قدر زیادہ اسی کو ہوتی ہے جس کو سفر میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔

مطلب یہ ہے کہ جو چیز مستقل، آسان بات ہے، جس چیز پہ جان، مال اور وقت زیادہ لگے، اس کے ساتھ زیادہ محبت ہوتی ہے۔ اس کی زیادہ قدر ہوتی ہے۔ جس پہ جان، مال اور وقت زیادہ لگے۔ یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو قیمتی ہیں۔ سب سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اور جس پر یہ لگ جائے تو وہ چیز قیمتی بن جاتی ہے اس کے لیے۔

اطاعت کی بھی ایک حد ہے

ارشاد:

اطاعت کی بھی ایک حد ہے، جب اس میں تجاوز ہو جائے تو وہ اطاعت باقی نہیں رہتی۔ اسی لیے فقہاء نے فرمایا ہے کہ جو شخص گیہوں کے ایک دانہ کی تشہیر کرے اس کو تعزیر کی جائے۔ کیونکہ اس تشہیر کا منشا غلو فی الورع و التقویٰ ہے۔

مطلب اس نے اس کو مذاق بنا لیا۔ اب ایک دانہ ہے، کہہ رہا ہے جی یہ کس کا ہے؟ یہ کس کا ہے؟ یہ کس کا ہے؟ کیا مطلب ہے؟ کوئی اس کی پرواہ کرے گا، کوئی اس کا پوچھے گا؟ آج کل تو میرے خیال میں کسی سے دس روپے بھی گم ہو جائیں تو پرواہ نہیں کرتے، کہ بھئی دس روپے گم ہو گئے ہیں۔ تو جو چیز کچھ ہو، تو اس کو مطلب یہ ہے کہ اس کو پھر کر لیں۔ ایسے لوگ جو کرتے ہیں، عموماً عوام میں جو اس قسم کے کرتے ہیں، وہ جب بڑی چیز ملتی ہے، اس کا نہیں کرتے۔ چھوٹی چیزوں کا ہی کرتے ہیں۔

احداث فی الدین و احداث للدین کی شرح

ارشاد:

احداث فی الدین اور شئ ہے، اور احداث للدین اور شئ ہے۔ یعنی ایک تو یہ صورت ہے کہ نئی بات کو دین میں داخل کیا جائے، جیسے مولود، فاتحہ وغیرہ، یہ تو بدعتِ محرَّمہ ہے۔ یعنی حرام ہے۔ اور ایک یہ صورت ہے کہ نئی بات دین کی حفاظت کے لیے ایجاد کی جائے، جیسے ہر زمانہ میں نئے نئے اسلحہ کی ایجاد۔ کیونکہ پرانے اسلحہ آج کل کار آمد نہیں، یا دین کی حفاظت کے لیے مدارس وغیرہ قائم کرنا یہ بدعت نہیں۔ کیونکہ ان کو دین میں داخل کر کے جزوِ دین نہیں بنا دیا گیا۔

یعنی اس کو دین سمجھا نہیں گیا۔ اس کو دین پر آنے کا یا دین پر قائم رہنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ تو یہ اصل میں بنیادی چیز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ ہے کہ گاڑی آپ کو مل جائے تو گاڑی میں آپ تبدیلی کر لیتے ہو، پھر تو یہ بڑی بات ہے، پھر تو وہ چیز نہیں رہے گی۔ لیکن آپ گاڑی تبدیل تو نہیں کر رہے، اس کی صفائی کے لیے آپ باقاعدہ تیل پانی اس کا صحیح کرتے ہیں، اور اس کے لیے کچھ انتظام بناتے ہیں، اور اس کو صاف کرتے ہیں، اس کے لیے راستہ بناتے ہیں۔ یہ تو گاڑی میں تبدیلی نہیں ہے نا۔ یہ تو گاڑی کے لیے ہے۔ تو جو گاڑی کے لیے ہے، اس کو تو نہیں ہم۔۔۔

اس طرح إِحْدَاثٌ فِي الدِّين، إِحْدَاثٌ لِلدِّين کو سمجھ لینا چاہیے۔ جو دین کے اندر تبدیلی لاتے ہیں، یعنی جو دین اللہ کی طرف سے آیا ہے آپ ﷺ پر، اس میں اگر کوئی چیز change ہو جائے تو وہ تو پھر دین میں تبدیلی ہے۔ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن دین پر آنے کے لیے یا قائم رہنے کے لیے جو چیز کیا جائے گا، وہ چیز نہیں ہے۔ مثلاً دیکھ لو، دین پر قائم رہنے کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ اس ذریعہ کو اگر آپ نے مطلب یوں سمجھ لیجیے کہ مقصد بنا لیا اس کو اگر آپ نے مقصد سمجھ لیا تو وہ پھر مقصد سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ اس بارے میں پوچھیں کہ کیا یہ ثابت ہے کیونکہ مقصد ثابت ہوتا ہے جب اس ذریعے کے بارے میں پوچھیں گے کہ یہ ثابت ہے تو آپ نے اس کو مقصد بنا لیا جب مقصد بنا لیا تو بدعتی تو آپ ہو گئے۔ کیونکہ وہی بدعت ہے کہ جو شامل نہ ہو اور اس کو آپ دین سمجھ لیں۔ تو یہ ہے کہ ذریعے جو ہوتے ہیں کبھی بھی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ ذریعے حالات کے مطابق آتے ہیں۔

مثلاً میں سب سے بڑی بات کرتا ہوں آسان سمجھنے کے لیے کہ جتنے لوگ ہیں سب کی اصلاح کے طریقے الگ الگ ہیں۔ تو کیا اتنے لوگوں کی اصلاح کے طریقے کتابوں میں لکھے جا سکتے ہیں؟ یا صحابہ میں اس کی example آ سکتی تھی؟ وہ تو آ ہی نہیں سکتی! اب مثال کے طور پر راولپنڈی تو آپ ﷺ کے وقت میں موجود نہیں تھی نا۔ تو راولپنڈی کے لوگوں کے جو اپنے خواص ہیں، وہ تو اپنے ہیں نا وقت کے ساتھ جو بنے ہیں، تو ان کی اصلاح کا تو اپنا ایک نظام ہو گا نا؟ تو اب اس کو بھی ثابت کر لو کہ نہیں، راولپنڈی کے لوگوں کی اصلاح کیسے ہو گی، کوئی بتا سکتا ہے؟ تو نہیں۔ تو اس چیز ان چیزوں کو آپ ثابت نہیں کر سکتے۔ ہاں، ان کا طریقہ کار آپ نظائر کو دیکھ دیکھ کے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ اچھا، یہ طریقہ بھی جائز ہو سکتا ہے، یہ بھی جائز ہو سکتا ہے، یہ بھی جائز ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ -نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِك- آپ وہ ان کو کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے چونکہ ایسا نہیں کیا، لہٰذا ہم بھی نہیں کر سکتے۔

شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا ہی اسے جواب دیا تھا مولانا منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو۔ جب انہوں نے کہا حضرت، آپ جو ذکر کرا رہے ہیں کیا یہ ثابت ہے؟ فرمایا، اچھا بتاؤ کہ آپ ﷺ کے وقت میں علم کا طریقہ کیا تھا حاصل کرنے کا؟ تو انہوں نے کہا حضرت وہ تو آپ ﷺ ہی تھے۔ تو پھر فرمایا، جب آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے، تو پھر کیا ہو گیا؟ فرمایا، پھر کسی اور جن کو یہ حاصل ہو تو ان سے فرمایا۔ تو اس کا مطلب ہے وہ چیز تو نہیں رہی جو آپ ﷺ کے وقت میں تھی۔ تو پھر فرمایا کہ آپ ﷺ کے وقت میں اصلاح کا طریقہ کیا تھا؟ فرمایا آپ ﷺ ہی تھے۔ فرمایا جب آپ ﷺ نہیں تھے، فرمایا پھر اور جنہوں نے۔۔ وہی وہ کر سکتا تھا۔ فرمایا، پھر وہ چیز تو نہیں رہی نا، تو دونوں ایک جیسے ہو گئے نا؟ تو اس طرح علم کے مختلف طریقے اب آ رہے ہیں۔ آپ ان کو غلط نہیں کہتے، تو ان چیزوں کو پھر غلط کیوں کہتے ہیں؟ انہوں نے فوراً ہاتھ بڑھا دیا حضرت مجھے بیعت کر لیں، عالم تو تھے۔ تو یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، بعض دفعہ کوتاہ نظری ہوتی ہے۔ کوتاہ نظری۔ کوتاہ نظری سے یہ مسائل بنتے ہیں۔ ورنہ یہ چیزیں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہیں۔ جو وسیع النظر لوگ ہوتے ہیں، ان کی بڑی گہری نظر ہوتی ہے۔ وہ بہت دور تک دیکھتے ہیں۔



وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ


اصلاحِ قلب، آدابِ طریقت اور دین کی عملی حکمتیں - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور