عقل کا دائرہ کار اور دین میں اس کا کردار

اشاعت اول: 23 جنوری، 2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

 

·       اللہ کی پہچان میں عقل کا کردار اور عشقِ الٰہی کی منزل

·       دین کی خدمت کے لیے اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں (عقل) کا استعمال اور اہمیت

·       دین اور دنیاوی امور میں درست انتظام کی ناگزیر ضرورت

·       ترجیحات کا تعین اور اللہ کے گھر سے محبت

·       قیادت اور انتظام کے تین بنیادی اصول (موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی)

·       سلطنتِ مغلیہ (اور دورِ حاضر) کے زوال کا اصل سبب اور اغیار کی مداخلت

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


عقل کا کام اتنا ہے جتنا مشاطہ کا:

مشاطہ کس کو کہتے ہیں؟ مشاطہ اس کو کہتے ہیں جو میاں بیوی کے شادی کے وقت، ان کو آپس میں ملاتے ہیں۔ مثلاً دلہن کو اس کمرے میں پہنچاتے ہیں اس کو مشاطہ کہتے ہیں۔

ارشاد: عقل کا کام اتنا ہے جتنا مشّاطہ کا کام ہے کہ وہ دولہا دلہن میں وصال کراتی ہے اور دلہن کو بنا سنوار کر تیار کر دیتی ہے مگر وصال کے بعد الگ ہو جاتی ہے۔ اب اگر تانکے جھانکے تو جوتے کھائے گی۔ اسی طرح وصال کے ابتدائی مرحلے تک تو عقل ساتھ رہتی ہے مگر جب وصال شروع ہو گیا تو اس کے بعد عقل بے کار ہے، اب عشق ہی تنہا رہ جاتا ہے۔

مقصد یہ ہے کہ دیکھو، اللہ نے ہمیں عقل دی ہے الحمد للہ۔ اس عقل کے ذریعے سے ہم اللہ کو پہچان لیں۔ اس عقل کے ذریعے سے ہم اللہ کو پہچان لیں۔ اور اللہ کی صفات کو بھی جان لیں۔ پھر اللہ کی ان صفات سے متاثر ہو کر، اللہ پر عاشق ہو جائیں۔ دیکھ لیں، اگر عقل نہ ہوتی، جیسے بچے کو نہیں ہوتی، تو اللہ کو جان سکتے تھے؟ اس کے لیے تو والدہ ہی سب کچھ ہوتی ہے، جیسے ابھی گزرا ہے کہ اس کے لیے والدہ سب کچھ ہوتی ہے۔ لیکن جس وقت انسان بڑا ہو جاتا ہے، تو دنیا کو بھی پہچان لیتا ہے، اللہ کو بھی پہچان لیتا ہے، اگر وہ کوشش کرے تو عقل سے کام لے۔ دنیا کی بے ثباتی، یہ بھی عقل سے ہی سامنے آ سکتی ہے۔ دنیا تو بے ثبات ہے، مطلب کچھ بھی نہیں۔ آنی جانی چیز ہے، دنیا کی بے ثباتی۔ اور جو اللہ جل شانہ کی ذات کی پہچان، یہ بھی عقل سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ لہٰذا عقل جو ہے ان چیزوں میں استعمال ہو گی۔ نہ صرف ان چیزوں میں استعمال ہو گی، بلکہ دین کی خدمت میں بھی استعمال ہو گی۔ مثلاً فقہائے کرام جو تھے، یہ کون تھے؟ یہ بڑے عقل مند تھے۔ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرات جو تھے، اگر ان کو کسی دنیاوی کام میں لگا دیتے، تو دنیا حیران ہو جاتی۔ ایسے کام کرتے اگر وہ دنیا کے لیے استعمال ہو جاتی وہ عقل۔ لیکن انہوں نے وہ عقل دنیا کے لیے استعمال نہیں کی۔ انہوں نے وہ عقل دین کے لیے استعمال کی۔ تو تب اللہ پاک نے ان سے اتنا بڑا کام لے لیا۔ صلاحیتوں کو پہچاننا، یہ بہت بڑی بات ہے۔


حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک دفعہ ایک عجیب بات فرمائی۔ فرمایا: "دیکھو تم لوگ کہتے ہو کہ مولوی ایسے اور مولوی ایسے۔ اور یہ ایسے اور یہ ایسے۔" فرمایا، "دیکھو، جو کسی کام کا نہیں رہتا وہ ہمارے پاس بھیجتے ہو۔ جو تھوڑا بہت کسی کام کا ہوتا ہے اس کو دنیا کے کاموں میں بھیجتے ہو۔ تو فرمایا: جو کسی کام کا نہیں ہوتا، ان سے ہم کچھ بنا لیتے ہیں، اور پھر تم اس پر اعتراض کرتے ہو۔ تم ہمیں اپنے جیسے لوگ دو، پھر دیکھو نا کہ ہم ان سے کیا بناتے ہیں؟" بات بالکل صحیح ہے، حضرت کا شکوہ بالکل صحیح ہے۔ کیا یہ شکوہ صحیح نہیں ہے؟ کہ جو بھی ذرا کچھ کر سکتے ہیں، ان کو تو ۔۔جن کو سکول وغیرہ میں داخلہ نہیں ملتا اور ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہے، کہتے ہیں یار اس کو مدرسے میں بٹھا دو۔ چلو جی، کچھ نہ کچھ تو روٹیاں ادھر ادھر سے کما ہی لے گا۔ تو وہ بات نہیں ہے۔ کھاتے پیتے لوگوں کو لے آؤ نا، پھر دیکھو، جن میں عزتِ نفس موجود ہو۔ اور پھر وہ دین سیکھیں، پھر دیکھو کہ وہ کیسے بنتے ہیں۔ پھر ان کا دیندار ہونا کیسے ہوتا ہے، پھر پتہ چل جائے گا۔


ہم نے دیکھا ہے جو اچھے خاندانوں کے لوگ ہیں، جو سوچ سمجھ کر آتے ہیں دین کی محبت میں، ان سے اللہ پاک پھر بہت کام لیتے ہیں۔ پھر دنیا دیکھ لیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کیسے ان کو قبول فرماتے ہیں۔ باقی جگہوں پر بھی اچھی طرح چل سکتے ہوں۔ جس طرح وہ ابھی ہمارے مفتی ظہیر صاحب ہیں۔ یہ میڈیکل کالج جا سکتے تھے۔ پل سے واپس کر کے آگئے والد صاحب نے یہ ان کو ڈالا تھا درس میں۔ تو دیکھیں وہ بہت Caliberکے مفتی ہیں۔ تو اس طریقے سے جو لوگ دوسری جگہوں پر بھی چل سکتے ہوتے ہیں، پھر ان کو جب درس میں ڈالا جاتا ہے، پھر ان کی بات الگ ہوتی ہے۔ اور جہاں جو دوسری جگہوں پہ نہیں چل سکتے، مطلب یہ ہے کہ ان کا IQ level کم ہوتا ہے کافی۔ وہ اگر آ جاتے ہیں تو دین کی برکت سے پھر بھی دوسرے لوگوں کے ممتاز ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی یہ بات فرمائی کہ جو عقل ہے وہ اگر ایک انسان استعمال کر لے صحیح چیزوں میں تو پھر ما شاء اللہ اس سے اللہ پاک بہت کام لیتے ہیں۔ لیکن عقل کا کام صرف اتنا ہے کہ اللہ کی پہچان کرا دے۔ اور اللہ کی صفات کی پہچان کرائے۔ اس کے بعد پھر عقل کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اب عشق ہی ہوتا ہے۔ پھر جتنا جتنا اللہ تعالیٰ نے اس کو محبت سے نوازا ہے، اتنا اتنا اس کا مقام آگے بڑھتا جائے گا۔ پھر عقل درمیان میں گھسے گی تو پھر مار پڑے گی۔ پھر عقل کو گھسنے نہیں دیا جائے گا۔ یہ والی بات ہے۔



درستگئ انتظام کا طریقہ:

ارشاد: آزادئ مطلق سے کبھی انتظام نہیں ہو سکتا، نہ دنیا کا نہ دین کا، بلکہ تابعیت اور متبوعیت ہی سے ہمیشہ انتظام درست ہوتا ہے۔

دنیا کے کام اور دین کے کام دونوں انتظام سے چلتے ہیں۔ اگر انتظام نہ ہو تو کام خراب ہو جاتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی چیز کو لے لو۔ آپ دکانداری کو لے لو، کیا بے انتظامی کے ساتھ دکانداری ہو سکتی ہے؟ آپ ملازمت کو لے لو، کیا بے انتظامی سے ملازمت ہو سکتی ہے؟ آپ کسی اور اچھے کام کو لے لو، بے انتظامی سے کام خراب ہو جائے گا۔ یہ مولویوں کی تمام چیزوں پر اعتراض کرتے ہیں، میں کہتا ہوں بھئی ذرا دیکھ لو آرمی کے اندر جو لوگ ہوتے ہیں، کیسے وہ تمام protocols کو follow کرتے ہیں۔

وہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ہمارے دفتر میں discussion ہو رہی تھی، رفیق تارڑ صاحب آ رہے تھے، صدر صاحب۔ تو ان کو وہ دینا تھا شیلڈ ۔ اس کے اوپر جو لکھنا تھا نا اس کے اوپر بڑے بڑے لوگ، professor level کے لوگ، مسلسل discuss کر رہے تھے آدھا پونہ گھنٹہ کہ ایک point تھا، اس پر comma لگانا چاہیے یا نہیں لگانا چاہیے؟ comma کے اوپر discussion ہو رہی تھی۔ ہمارے یوسف صاحب ذرا تھوڑے سے مزاج میں تیز تھے۔ وہ پروا نہیں کرتے ان کی ۔ تو انہوں نے کہا جب ہم مستحب کی بات کرتے ہیں نا، تو تم ہمیں چھیڑتے ہو کہ یہ کیا بات ہے! اب یہ کیا چیز ہے؟ یہ فرض ہے؟ اس پر تم اتنے وقت سے لگے ہوئے ہو۔ اب اس کو دیکھو نا، comma کے اوپر تم اتنی ساری discussion کرتے ہو، بھئی کیا ہو گیا؟ انسان ہے نا، چلو غلطی ہو جائے۔ کوئی بات نہیں۔


تو یہ والی بات ہے کہ priorities اپنی اپنی ہوتی ہیں۔ تو انتظام تو ہر جگہ پر ہے۔ لیکن کہاں کا انتظام کوئی ٹھیک سمجھتا ہے اور کہاں کا انتظام ٹھیک نہیں سمجھتا۔ یہ اس کی priority ہوتی ہے۔ مجھے ایک آدمی کے ساتھ بہت زبردست ما شاء اللہ میرا تعلق، رشک ان پہ آیا۔ اس صاحب نے سوات میں ایک مسجد اور خانقاہ بنائی ہے۔ بہت پُرفضا مقام پہ بنائی ہے، ما شاء اللہ میرے پیچھے آ گیا اور کہا، آپ ہمارے پاس سوات میں آئیں۔ ہم نے آپ کے لیے گرمائی خانقاہ بنائی ہے، گرمیوں کے لیے، تو آپ آ کر اس کا افتتاح کریں۔ تو میں نے قاری نوراللہ صاحب سے عرض کیا کہ وہ سوات کے تھے، کہ بھئی چلتے ہیں ان کے پاس۔ تو ایک دن ہم ان کے پاس چلے گئے۔ چلے گئے، تو واقعی افتتاح ہو گیا، وہاں ذکر ہو گیا، نماز بھی پڑھائی، سب کچھ انتظام ہو گیا تھا۔ وہ بہت خوبصورت خانقاہ بنائی تھی اور بہت خوبصورت مسجد ہے۔ بہت خوبصورت مسجد۔ قیمتی لکڑی اس میں استعمال ہوئی ہے، دوسری بہت قیمتی چیزیں استعمال ہوئی ہیں۔


تو اس نے پھر اس کی وجہ بتائی۔ کہتے ہیں: مجھے گھر میں کوئی بھی چیز ایسی نظر آتی جس کے لیے میں کہتا کہ یہ بہت اچھی چیز ہے، ہمارے گھر میں ہونی چاہیے۔ تو مجھے غیرت آتی کہ اللہ کے گھر میں نہ ہو اور میرے گھر میں ہو؟ تو کہتے ہیں، میں اس کو مسجد لگا لیتا تھا۔ تو واقعاً، میں نے دیکھا کہ ان کا گھر بھی ان کا بڑا خوبصورت تھا ان کا، ظاہر ہے وہ بڑے بہت کھاتے پیتے لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ گھر بھی ان کا واقعاً بہت خوبصورت تھا بھئی، پرانا style جو نوابی خاندان جیسے ہوتے ہیں نا ان کے جیسے گھر ہوتے ہیں، اس طرح گھر تھا ان کا۔ لیکن انہوں نے مسجد بھی اس طرح بنائی ہوئی تھی۔ تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ واقعاً priorities کی بات ہے نا کہ کون کس چیز کو priority دیتا ہے۔ یعنی بعض دفعہ اگر آپ دیکھیں بعض گھروں میں جائیں، تو toilet اتنے زیادہ مزیدار، خوبصورت بنائے ہوتے ہیں، لگتا ہے جیسے ان کا bedroom ہے۔ یہاں سونا چاہتے ہوں گے۔ اتنا خوبصورت بنایا ہوتا ہے۔ اور باقی چیزوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں یہ کیا ہے، اس پر اتنا خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسا ہوتا ہے۔ تو یہ priorities کی بات ہے، جس کی priority جس چیز میں ہوتی ہے تو اس کے لحاظ سے پھر وہ اس پر خرچ کرتے ہیں۔ بہرحال انتظام جو ہے یہ دونوں چیزوں کے لیے ضروری ہے۔


انتظام۔ انتظام سے مراد یہ ہےکہ؛ چیزوں کو اس طرح رکھنا جس طرح اس سے کام بہترین، کم پیسے سے، کم وقت میں، کم کوشش سے زیادہ سے زیادہ کام لینا۔ یہ ہے انتظام۔ یہ انتظام ہے۔ کیونکہ کام تو پھر بھی ہو جاتا ہے اگر بے انتظامی سے ہو گا، لیکن late ہو جائے گا، کم ہو جائے گا یا خراب ہو جائے گا۔ یہی ہوتا ہے نا۔ تو کہتے ہیں کہ:


ہر چہ دانا کُنَد، کُنَد ناداں

لیک بعد از خرابیِ بسیار

"جو نادان کرتا ہے، وہی کرتا ہے جو دانا کرتا ہے لیکن بہت ساری خرابی کے بعد"۔

بہت سی خرابی جب ہو جائے گزر جائے، اس کے بعد پھر وہ وہی کام کرتا ہے۔ تو ظاہر ہے انتظام تو نہیں آنا۔ انتظام میں جو ہوتا ہے، وہ ما شاء اللہ چیزوں کا صحیح استعمال، لوگوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال۔ جیسے کہتے ہیں نا تین چیزیں ہوتی ہیں: موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔ موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔ یہ تین چیزیں ایک شخص کی کام کرنے کے لیے ضروری ہیں جو لیڈرز ہوتے ہیں ان کے لیے۔ یعنی وہ موقع جانتے ہوں کس موقع پہ کیا کرنا ہے۔ فوتگی ہو چکی ہے کسی کی وہاں لطیفہ سنائے۔کیا کہیں گے لوگ؟بہت ہی فضول ہے

اور خوشی کے موقع پر کوئی غم کی باتیں کرے۔

لوگ کیا کہیں گے؟

اس طریقے سے مسجد میں سودا سلف اور بازار کے اندر، درمیان میں کوئی مصلیٰ بچھائے۔ہر چیز کی اپنا اپنا اپنی اپنی جگہ ہے۔تو یہ ساری چیزیں جو ہیں نا موقع شناسی میں آتی ہیں۔ محل جگہ کی بات ہے کہ جگہ کو پہچانو، اورمردم شناسی؛ کس سے کیا بات کرنی ہے۔


مثلاً محبت ہی کو لے لو۔ بیوی کے ساتھ محبت اور ہے، ماں کے ساتھ محبت اور ہے، بیٹی کے ساتھ محبت اور ہے، بہن کے ساتھ محبت اور ہے۔ ہر ایک کے ساتھ محبت ہے۔ مثلا: آپ ﷺ کے بارے میں اکثر discussion ہوتی ہے نا کہ سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت تھی؟ تو ظاہر ہے اس پر فیصلہ کیسے آسان ہے؟ بھئی آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی تھیں، آپ ﷺ کی بیٹیاں بھی تھیں، آپ ﷺ کے اور،تو ہر شخص کے ساتھ ہر ایک کے ساتھ اپنی اپنی محبت تھی۔ تو یہ چیز یہ ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اپنی اپنی جو deal ہوتی ہے وہ ضروری ہوتی ہے۔ ایک دیہاتی شخص کے ساتھ اس طریقے سے بات کی جائے گی اور شہری آدمی کے ساتھ اس طریقے سے بات کی جائے گی۔


اور ایک دفعہ حضرت ڈاکٹر فدا صاحب کی جماعت چل رہی تھی۔ تو باہر چرسی بیٹھے ہوئے تھے۔ چرسی نہیں ہوتے جو جمع ہوتے ہیں آپس میں وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو حضرت گئے اور ان سے کہا کہ یہ تم ادھر کیوں بیٹھے ہو؟ جاؤ مسجد میں چلے جاؤ۔ لوگ آئے ہوئے ہیں وہاں پر ان کی باتیں سنو۔ تو وہ سارے اٹھے اور مسجد جانے لگے۔ کہتا ہےنہیں، پہلے، وضو کرو۔ وضو کروا دیا۔ کہتے ہیں: نماز پڑھو۔ نماز پڑھ لی۔ کہا: ادھر بیٹھ جاؤ۔ تو حضرت نے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ اس طرح بات کی جاتی ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ یہ بات کی نا کہ مہربانی کر کے آپ تشریف لائیں تو یہ نہیں آئیں گے۔ لیکن جو ذرا تھوڑا سا، وہاں کا بڑا ہو، ان سے اس طرح کے لہجے میں بات ہو سکتی ہے؟ ان کا اپنا style ہو گا۔

تو مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کے ساتھ اس طریقے سے بات کرنا جس طریقے سے بات کرنے سے کام زیادہ بہتر ہو سکتا ہے، یہ ہر ایک چیز کا اپنا اپنا معیار ہوتا ہے۔ تو موقع شناسی، محل شناسی، مردم شناسی۔


علامہ اقبال نے بھی کہا ہے:


نگاہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے


مطلب یہ ہے کہ broad planning، اور بہت صحیح طریقے سے convince کرنا۔ اور لوگوں کا خیال رکھنا، یہ تینوں چیزیں ہوں، پھر یہ ہے کہ اب مثال کے طور پر آپ محلے کے لیول پر کام کر رہے ہیں تو پھر محلے کا سوچیں گے۔ لیکن اگر آپ کو شہر کی ذمہ داری دی گئی ہے، پھر کیا سوچیں گے؟ پھر شہر کے لیے، پھر اپنے محلے کا نہیں سوچیں گے۔ پھر پورے شہر کا سوچیں گے۔ اور اگر آپ کو ملک کی ذمہ داری دی گئی ہے تو پھر آپ پورے ملک کا سوچیں گے، صرف اپنے شہر کا نہیں سوچیں گے۔ تو یہ ہر ایک چیز کا اپنا اپنا انتظام ہوتا ہے۔

زوال سلطنتِ مغلیہ کا سبب اکبر ہے:

ارشاد: سلطنت کا زوال عالمگیر سے نہیں ہوا، بلکہ اکبر نے اس کو زائل کیا ہے۔ اس نے غیر قوموں کو سلطنت میں دخیل کار بنا کر ان کے ہاتھوں میں سلطنت کی باگ دے دی۔

مقصد یہ ہے کہ حضرت یہ بات کرنا چاہتے ہیں کہ چونکہ عالمگیر کے بعد بہت بڑا زوال ہو گیا۔ یعنی بہت جلدی decline ہو گئی۔ اب دیکھ لیں، سوچنے کا اپنا اپنا انداز ہے۔ تو عام لوگ تو کہیں گے کہ عالمگیر کی وجہ سے زوال ہوا۔ حالانکہ عالمگیر کی وجہ سے زوال نہیں ہوا۔ زوال تو اکبر نے start کرایا تھا، کیونکہ انہوں نے ہندوؤں کو involve کر دیا۔ ان تمام چیزوں میں، اور عورتیں involve ہو گئیں۔ ہمایوں کی وجہ سے شیعہ involve ہو گئے۔ وہ آ گئے ایران والے involve ہو گئے۔ تو اب یہ جو سلسلہ چل پڑا، اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے تو مردانہ وار لڑ کر نوے سال کی عمر میں بھی ان تھک محنت کر کے اس چیز کو روکا۔ اس سیلاب کو جو خراب ہو گیا تھا سب کچھ۔ کیونکہ ہر طرف ریشہ دوانیاں تھیں۔ ان کے بھائی دوسروں کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ ان کے والد شکار ہو گئے تھے۔ ہر ایک کے ساتھ ان کو لڑنا پڑا۔ 92 سال کی عمر میں۔ اس وقت بھی جہاد میں لگا ہوا تھا۔ تو گویا کہ اس سلطنت پر 50 سال حکومت کی غالبًا دیکھا، اور اتنے بڑے علاقے پر وہ اتنے بڑے سیلاب کو روکے رکھا۔ یہ تو ان کی بات ہے۔ یعنی جیسے ہوتا ہے نا ایک بڑی دیوار گر جائے، تو پھر تو advance کرنا آسان ہوتا ہے نا۔ تو یہ اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ ہی تو بڑی دیوار تھی اس وقت۔ جب وہ گر گئی تو پھر جو تھا وہ تو سارا کچھ ہو گیا، جو ہونا تھا۔ تو یہی بہت بڑا ثبوت ہے کہ اس نے تو روکے رکھا تھا۔ اس نے تو روکے رکھا تھا۔ بعد میں چونکہ اس طرح کوئی نہیں آیا، نتیجتاً بس، پھر چونکہ خراب ہو گیا تھا، لہٰذا جیسے دیمک کوئی چیز کو کھا جائے۔ تو ایک آدمی گزارا کر لیتا ہے کر لیتا ہے، حساب کر لیتا ہے اس کے ساتھ، لیکن جب وہ شخص چلا جائے اور وہ اس کا پھر خیال نہ رکھ سکے تو پھر تو جو کچھ ہو چکا ہو، وہ تو ہو چکا ہوتا ہے۔


تو حضرت یہ فرما رہے ہیں کہ اصل میں زوال جو تھا سلطنت کا، اکبر نے لیکن باقی لوگ ایسی بات نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باقی لوگ ان چیزوں کو برا کہتے ہی نہیں جو اکبر کہہ رہا تھا۔ وہ secular ذہن کے لوگ ہوں گے، وہ تو کہیں گے اکبر was the best, great Mughal Emperor. وہ تو کہیں گے، کیونکہ ان کی سوچ اور اکبر کی سوچ ایک ہے۔ لہٰذا وہ تو کہیں گے کہ بھئی اکبر best تھا۔ لیکن اکبر کیسے best تھا؟


اب دیکھیں ہمارے دور میں پاکستان کے اندر جو زوال آیا ہے، کیسے آیا؟ یہی کہ دوسروں کو دخیل کر لیا نا۔ دوسرے آئے ہیں ہمارے فیصلے کرنے کے لیے۔ independence ہماری ختم ہو گئی۔ لہٰذا اب ہر فیصلہ جو کرتے ہیں، دوسروں کے کہنے پہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً وہ فیصلہ صحیح نہیں ہوتا۔ وہ تو ان کے interest کا ہوتا ہے، ہمارے interest کا تو نہیں ہوتا۔ تو پھر ایسے ہو گا، جیسے ہو رہا ہے۔ آزاد thinking تو ہے ہی نہیں۔ جو بھی آزاد thinking والے ہیں ان کو اڑا دیا جاتا ہے۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ جیسے اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ وہ لڑ رہا تھا، تو آج کل کے دور میں یہ ہے کہ جتنا ان کے ساتھ bluff کیا جا سکتا ہے، تو تب تک چیز رکی رہتی ہے۔ اور جو نہ کر سکے بس وہ۔ تو یہی معاملہ ہوتا ہے نا آج کل تو، کیونکہ ہر چیز میں دخیل ہو گئے ہیں، ہر چیز میں وہ دخیل ہو گئے۔ تو بلکل وہی بات ہے تو جس نے پہلے ابتدا کی ہے۔اس ظالم نے پاکستان کا کباڑہ کردیا ۔ جس نے پہلے ان کو داخل ہونے دیا ہے۔اس نے کیا ہے نا ۔ ابتدا تو اس نے کی ہے۔ اس کے بعد پھر یہ سارا سلسلہ شروع ہوگیاپھر اس کے بعد جو بھی آتا گیایہ سلسلہ چلتا گیا۔


عقل کا دائرہ کار اور دین میں اس کا کردار - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور