دینی کاموں میں اخلاص، توکل اور اصولِ صحیحہ کی اہمیت

اشاعت اول:ہفتہ17 مارچ ،2007، بمطابق 27 صفر 1428 ہجری - حصہ دوم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        دینی اداروں اور خانقاہوں کو دنیاوی طریقوں کے بجائے خالص دینی اصولوں اور للہیت پر چلائیں۔

•        اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔ دینی کام مالی مفاد کے بجائے خالص توکل پر کریں۔

•        معاشرتی سکون کیلیے رشتوں اور معاملات میں اسلامی اصولوں اور حد بندیوں کی پابندی لازمی ہے۔

•        علماء اور مصلحین دنیاوی جھگڑوں میں گواہ یا منصف بننے سے گریز کریں تاکہ فیض رہے۔

•        ذاتی تعلقات اور اقربا پروری کے بجائے ہمیشہ عدل و انصاف اور رضائے الٰہی کو اپنائیں۔

•        عبادات کے مقابلے میں معاملات، معاشرت اور حسنِ اخلاق کے لیے اعلیٰ ترین ایمان درکار ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


گذشتہ سے پیوستہ

مشورہ حضرت والا برائے مدرسہ دیوبند:

فرمایا کہ میں نے مشورہ یہ دیا تھا کہ مدرسہ کو ایک دم مقفّل کر دیا جائے، اور ملک میں اعلان کر دیا جائے کہ ان وجوہ سے مدرسہ کو بند کئے دیتے ہیں۔ فضا خوش گوار ہونے پر کھول دیں گے اور سب مفسدوں کو نکال باہر کر دیا جاتا۔ اور پھر جو داخل ہوتا وہ ایک تحریری معاہدہ کے ساتھ داخل کیا جاتا کہ اگر ان شرائط کے خلاف کیا تو مدرسہ سے خارج کر دیئے جاؤ گے، اور یہی شرائط مدرّسین کے ساتھ ہوں، باقی اب تو مدرسہ کو اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔ میں نے مہتمم صاحب سے صاف کہہ دیا تھا کہ مدرسہ کی حالت یہ ہے کہ جیسے بے روح کے جسم ہوتا ہے، اب اگر اس صورت میں مدرسہ کو ترقّی بھی ہوئی تو یہ ترقّی ایسی ہو گی جیسے مر جانے کے بعد لاش پھول جاتی ہے۔

یہ دیوبند کے مدرسے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ وہ درمیان میں مسائل ہو گئے تھے نا۔

اور اندیشہ ہوتا ہے کہ اس صورت میں پھول کر جب پھٹے گی تو محلّہ، بستی کو بھی مارے بدبو کے سڑا دے گی۔ اس پر مہتمم صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اب سنا جاتا ہے کہ طلبہ کا تو بالکل ہی طرز بدل گیا، یہی پتہ نہیں چلتا دیکھنے سے کہ یہ علی گڑھ کالج ہے یا دینی مدرسہ۔ اپنے بزرگوں کا طرز چھوڑ دیا۔ پھر نور و برکت کہاں۔ یہ سب اسی کمبخت نیچریت کی نحوست ہے۔ طلبہ کے لباس میں، طرزِ معاشرت میں، نیچریت کی جھلک پیدا ہو گئی۔ منتظمین، اساتذہ سب کے سب طلباء سے مغلوب ہیں۔ محض اس وجہ سے کہ اگر یہ نہ رہے تو ہماری مدرّسی بھی جاتی رہے گی۔

اصل میں جو چیز فاسد ہوتی ہے نا تو وہ جس چیز میں بھی پڑے گی تو اس چیز کو فاسد کرے گی۔ تو إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ تو حدیث شریف ہے۔ کہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ اب نیت اگر اللہ کی رضا کی نہ ہو، اپنی مدرسی کی ہو جائے۔ یا اپنے جاہ کی ہو جائے۔ تو مجھے بتاؤ پھر وہ چیز دین کی کہاں رہی؟ وہ تو پھر دین کی نہیں رہی، وہ تو دنیا بن گئی نا۔ تو اب دنیا کے ساتھ تو معاملہ اللہ کا ایسا نہیں ہے نا پھر۔ وہ تو پھر دنیاوی طریقے ہوں گے نا۔ تو اصل بات یہی ہے کہ اگر ہم لوگ جو ہے نا اس کو دیکھیں تو ہمارے دینی کام جتنے بھی ہیں وہ دین کے طریقے پر ہی ہوں گے۔ ہمیں بھی لوگ مشورہ دیتے ہیں تھوڑا سا ماڈرن ہو جائیں، ایسے کریں، وہ کریں۔ ہم کہتے ہیں خدا کے بندوں ہر چیز کا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ وہ کر لیتے ہیں مثلاً ادھر ہم چلے گئے کالج میں، جب اپنی یونیورسٹی میں، تو وہاں ہم ان کے ساتھ وہ طریقے کرتے ہیں نا کیونکہ وہ تو دنیاوی چیز ہے نا، وہ دینی چیز تو نہیں ہے نا دنیاوی چیز ہے۔ تو وہاں اگر ہم کریں گے تو نقصان نہیں ہوتا۔ لیکن یہاں خانقاہ میں اگر کریں گے تو نقصان ہوگا۔ کیونکہ خانقاہ کا مزاج دینی ہے۔ خانقاہ جو ہے نا یہ دنیاوی طریقے سے نہیں چلائی جا سکتی۔ خانقاہ کا تو بنیاد ہی دین ہے نا۔ اور بلکہ یوں سمجھ لیں کہ جو دین کی روح ہے وہ خانقاہ کا مقصد ہے۔ وہ چیز ہی بالکل الگ ہے۔ تو اس وجہ سے ان کو تو اس طریقے سے نہیں کیا جا سکتا نا۔ یہاں پر اگر ہم ذرا سی بھی وہاں کی بھنک بھی ڈال دیں گے تو مسئلہ ہو جائے گا۔

اور میں نے ڈاکٹر سے کہا تھا نا، جب اس نے مجھ سے کہا آپکی فیس کتنی ہے؟ ڈاکٹر یونس صاحب نے، آپکی فیس کتنی ہے؟ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ فیس لیں۔ آپ کو کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ آپ نے اسی کے لیے محنت کی ہے۔ آپ فیس لے لیں۔ ہم اگر فیس کا سوچیں گے بھی تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اگر سوچیں گے بھی تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ ایک عامل تھے، اس کو میں نے روکا تھا۔ تو رک گیا بیچارہ، مطلب یہ ہے کہ میں نے کہا اصلاح میں آپ کو تب داخل کروں گا جب آپ عملیات کو چھوڑیں گے۔ کیونکہ یہ عملیات میں تعلی ہوتی ہے انسان سمجھتا ہے میں ہی کرتا ہوں۔ تو اسی کو تو نکالنا ہوتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ بھئی یہ نہیں چھوڑو گے تو پھر میرے پاس نہیں آ سکتے ہو۔ تو الحمدللہ اس نے مان لی بات۔ جب مان لی بات تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ معاملہ منقطع ہو گیا۔ پھر بعد میں جب ان کی اس چیز کی اصلاح ہو گئی تو پھر میں نے اجازت دے دی کہ میں نے کہا آپ کر سکتے ہو۔ ظاہر ہے وہ تو غلط چیز تو نہیں ہے، مقصود یہ ہے کہ وہ غلط نیت کے ساتھ نہ ہو۔ تو وہ جب اس نے کیے تو اس کو کچھ فائدہ ہو گیا۔ کچھ فائدہ ہو گیا تو مجھے کہا کہ مجھے اتنا فائدہ ہوا تو اس میں میں اتنے پیسے آپ کو دینا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، مجھے اپنے ساتھ خراب نہ کرو۔ جو خود خراب ہو رہا ہے کافی نہیں ہے؟ آپ کو جو اجازت دی کافی ہے نا؟

تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ ہمارا جو کام ہے مزاج بالکل مختلف ہے۔ اس میں دنیا داری چلتی ہی نہیں۔ یہ دنیا داری کی لائن ہے ہی نہیں۔ یہ لائن تو خالصتاً لِلّٰہ فِی اللّٰہ ہے۔ اور یہاں پر اگر ہم اس کے نمائندے رہیں گے تو پھر اسی طریقے سے مدد ہو گی۔ یہ آپ حضرات کے لیے بھی ہے یہ بات۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر یہ معاملہ بالکل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیکھیں، مثال کے طور پر اگر ہماری خانقاہ جو ہے نا وہ دنیا کے اندر سب سے زیادہ اونچا خانقاہ بن جائے۔ عمارت کے لحاظ سے۔ لیکن اس کی روح نکل جائے۔ تو کیا فائدہ ہے؟ یعنی اگر ہم لوگوں کی جیبوں پہ نظر رکھیں، اور اس طرح عمل کریں نا تو وہ تو مسئلہ ہو جائے گا نا۔ اس میں توکل، لِلّٰہیت یہ ساری چیزیں چلتی ہیں۔ آپ توکل کر لیں اللہ پاک خود ہی بنا دے گا۔

یہ جتنے لوگ آئے ہیں تو کیا ہم نے ان کو بلایا ہے؟ کم از کم میں نے تو نہیں بلایا الحمدللہ۔ یہ جو آ رہے ہیں خود ہی آ رہے ہیں، اور وہ انہی کا وہ ہو رہا ہے اللہ پاک ہی کر رہے ہیں۔ ہم نے تو کچھ نہیں کیا۔ یہ جو آپ کو خانقاہ یہاں پر نظر آ رہی ہے، ادھر جو خانقاہ تھی۔ ہمارا تو یہ حالت تھی کہ ہم نے گھر کے ڈرائنگ روم کو خانقاہ کہنا شروع کر لیا۔ یہ کام تھا ہمارا، یہی تھا نا؟ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم کو ہم نے خانقاہ کہنا شروع کر دیا۔ وہ چلتے چلتے چلتے چلتے چلتے خانقاہ بن گیا۔ اس کے لیے باقاعدہ پھر گھر بھی آ گیا اور خانقاہ بن گیا، پھر اس کے بعد وہ سلسلہ بھی وہ ماشاءاللہ ہو گیا۔ اب الحمدللہ ترقی کر کے یہاں پر اللہ پاک نے جو ہے نا بھیج دیا۔ پھر اللہ پاک ان شاءاللہ ادھر۔ مطلب وہ کرنے والا ہے، وہ کرتے ہیں۔ وہ دیتے ہیں، اور زیادہ دیتے ہیں۔ بھئی دونوں کو دیں گے تو آپ کو نہیں دیں گے؟ سب ہی کو تو دے رہے ہیں۔ تو اس کے اوپر کیوں نہیں چھوڑتے ہم لوگ؟ بس جب وہ کرتے ہیں تو کرتے ہیں نا، وہ ان کا سب کچھ ہے۔ اور ہے بھی اسی کا۔ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے لیے تھوڑی کر رہے ہیں۔


اصولِ صحیحہ:

فرمایا کہ لوگوں نے اصولِ صحیحہ کو چھوڑ دیا ہے، جس سے ایک عالَم کا عالَم پریشانی میں مبتلا ہے۔ حتّٰی کہ حکومت اپنی رعایا سے، باپ اپنے بیٹے سے، استاد اپنے شاگرد سے، پیر اپنے مرید سے، خاوند اپنی بیوی سے، آقا اپنے نوکر سے۔ اور اگر اصولِ صحیحہ کا اتّباع کیا جائے اور ہر چیز کو اپنی حد پر رکھا جائے، تو کوئی پریشانی یا تکلیف نہیں ہو سکتی۔


خادمانِ دین کے لیے چند تجربہ کی باتیں:

جو دین کے خادم ہیں ان کے لیے تجربے کی باتیں

فرمایا کہ خادمانِ دین یعنی جن کے متعلق افتاء و تبلیغ و تعلیم و تربیّت کا کام سپرد ہو، وہ کسی کی گواہی نہ دیں۔ نیز کسی کے معاملہ میں حَکَم یعنی فیصلہ کنندہ بھی نہ بنیں۔ کیونکہ ایسے کرنے سے وہ ایک جماعت سے شمار کر لیا جائے گا، اور دوسری جماعتوں کے مسلمان اس کے فیوض اور برکات سے محروم رہ جائیں گے۔ غرض ایسے خادمانِ دین کو ہرگز ایسے معاملات میں نہ پڑنا چاہیے۔ اس میں بڑی مضرّت کا اندیشہ ہے، خصوصاً دین کا ضرر۔ کیونکہ اس زمانہ میں ہر شخص آزاد ہے۔ نہ کسی کا کسی پر اثر، نہ کسی کے اعتقاد اور محبّت کا اعتماد، صرف مطلب اور اغراض تک سب کچھ ہے، اور ان کے خلاف کوئی بات پیش آ جائے اسی وقت اثر اور اعتقاد و محبّت سب ختم ہو جائے۔ یہ تجربہ کی باتیں ہیں۔

حضرت تو گواہی دیں گے اس بات کی، ایسے ہی ہے نا حضرت؟

فرمایا کہ اکثر جھگڑے کے جب استفتاء آتے ہیں تو یہاں سے یہ جواب آتا ہے کہ دونوں فریق جمع ہو کر آؤ، اور دونوں زبانی واقعہ بیان کرو، سننے کے بعد حکمِ شرعی ظاہر کر دیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے کون خوش رہ سکتا ہے۔

لوگ عموماً توقع رکھتے ہیں اپنے حق میں بات کرنے کی۔ اور جب بھی انسان کسی شرعی کی بات کرتا ہے کہ شرعی فیصلہ میں کروں گا، تب جب دونوں کی تو بات آئے گی۔ تو اس وقت پھر دونوں جو اپنے آپ کو تعلق والے ظاہر کر رہے تھے دونوں ناراض ہو جاتے ہیں۔ کہ دیکھو نا انہوں نے تو میرا اتنا خیال نہیں کیا۔ انہوں نے تو میرا اتنا خیال نہیں کیا۔ حالانکہ اس میں خیال رکھنے کی کیا بات ہے؟ اس میں تو خیال کی بات ہے نہیں۔

ایک دفعہ Recruitment پہ میری ڈیوٹی تھی تو وہ ایک صاحب کو پتہ چل گیا وہ پرانے دوست تھے، وہ آئے۔ مجھے کہتے ہیں کہ جی وہ ہمیں پتہ چل گیا شبیر صاحب اس کے وہ ہیں، تو بس پھر ہم نے کہا کام ہو گیا، ان کو تو صرف کہنے کی دیر ہے اور یہ اور وہ جیسے ہی وہ باتیں لوگ جانتے ہیں۔ وہ کرنی شروع کر دیں۔ میں نے ان کی خیر خیریت دریافت کی، چائے وائے پلائی اور اس طرح بات چیت کی تاکہ خوش رہے۔ پھر جب وہ اصل بات پہ دوبارہ آ گئے تو میں نے کہا کہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہے کہ میں انصاف کروں گا؟ کہتے ہیں ہاں، میں نے کہا پھر آپ کو فکر کی کیا ضرورت ہے؟ جو بھی انصاف ہوگا میں کر لوں گا نا۔ اور آپ کو مجھ پر اعتماد ہے کہ میں انصاف کروں گا تو بس پھر تو جو بھی ہوگا۔ اب وہ اس سے اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تھا۔ تو ادھر ادھر آئیں بائیں شائیں کر کے پھر اسی موقع پہ جی وہ یہ مسئلہ ہے اور یہ ادھر ہے اور یہ اور وہ ہے۔ میں نے کہا یہ مسائل تو سب کے ساتھ ہیں، جتنے بھی آئے ہیں سب کے ساتھ یہ مسائل ہیں، تبھی تو آئے ہیں۔ اب صرف آپ کے مسئلے کو دیکھیں دوسروں کے مسئلے کو نہ دیکھیں تو پھر تو جائز نہیں ہوگا نا۔ تو کیا خیال ہے مطلب؟

بہرحال کوئی گھنٹہ اس نے میرا لے لیا۔ تو جب وہ بالکل نہیں ٹل رہے تھے تو میں نے کہا بس اب صاف صاف پکی ٹھکی بات کر لینی چاہیے۔ میں نے کہا حضرت! میں آپ کے ہر کام کرنے کے لیے حاضر ہوں۔ بس صرف میرا ایک کام کر لیں۔ وہ سمجھے یہ تو بڑا آسان ہو گیا بھئی ایک کام کرے تو سارے کام ہو گئے۔ وہ کام کیا ہے؟ میں نے کہا کوئی ایسا طریقہ بتاؤ کہ آپ بھی راضی ہو جائیں اور خدا بھی راضی ہو جائے۔ بس! اتنا آپ کر لیں باقی میں آپ کے ساتھ ہر بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔ تو میرا اصول یہ ہے کہ میں کسی کے لیے خدا کو ناراض نہیں کر سکتا۔ اب مجھ میں یہ بات ہے اب میں کیا کروں؟ اس کو تو میں چھوڑ نہیں سکتا کسی کے لیے۔ تو اگر آپ اس بات سے راضی ہوتے ہیں جس سے اللہ راضی ہو رہا ہے، تو ماشاءاللہ پھر تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اور اگر آپ اس بات سے راضی نہیں ہوتے جس سے اللہ راضی ہوتا ہے تو پھر مجھے آپ کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ آپ خوش ہوتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں، آپ کی اپنی مرضی۔ ہاں میں خفا ہو جاؤں گا کہ میرا دوست ایسا ہے کہ جو اس بات پہ راضی نہیں ہوتا۔ اتنی بات ہو جائے گی۔ اس سے زیادہ میں کیا کر سکتا ہوں؟ تبھی میری جان چھوٹی۔

ٹھیک ہے نا؟ تو اصل بات یہی ہے کہ آج کل معاملہ اس طرح ہے کہ لوگ اپنے اغراض کو سب سے آگے رکھتے ہیں۔ باقی باتیں ساری کی ساری پیچھے ہیں۔ شریعت کو سب لوگ چاہتے ہیں، لیکن اپنے لیے نہیں۔ اچھی بات سب لوگ مانتے ہیں لیکن اپنے لیے نہیں۔ تو سارے اغراض کے سودے ہیں۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ عبادت کے لیے تو بہت کم درجے کا ایمان بھی کافی ہے۔ معاملات کے لیے اس سے اعلیٰ درجے کے ایمان کی ضرورت ہے۔ اور معاشرت کے لیے اس سے بھی اعلیٰ درجے کے ایمان کی ضرورت ہے۔ اور اخلاق کے لیے تو بہت زیادہ ایمان کی ضرورت ہے۔ تو آپ ﷺ نے جو فرمایا کہ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ تو لوگ حیران ہوتے ہیں بھئی اخلاق یہ تو پھر بڑی آسان بات ہو گئی۔ بھئی اخلاق کس کو کہتے ہیں؟ ذرا سمجھیں بھی تو سہی، اخلاق کس کو کہتے ہیں؟ اخلاق؛ اس کے پیچھے تو پوری دنیا ہے۔ تو اصل بات یہی ہے کہ اگر ہم لوگ ان چیزوں کو سمجھ لیں فی الواقع کیا ہے، پھر کبھی پریشانی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے۔

دینی کاموں میں اخلاص، توکل اور اصولِ صحیحہ کی اہمیت - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور