تزکیۂ نفس کے بنیادی اصول، روحانی وساوس کا علاج اور خدمتِ شیخ کے ثمرات

اشاعت اول: اتوار - 26 نومبر ،2014

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

وعات کے عنوانات:

  1. دینی کتب (جیسے اربعین) کے مطالعے میں نفس کا دھوکہ اور ماہر مصلح (شیخ) کی ضرورت
    1. اخلاص کی حقیقت اور اپنے محاسن (اچھائیوں) کو پرکھنے کا درست معیار
      1. غیر اختیاری خیالات اور گناہوں کی کشش سے بچنے کے لیے مباح کاموں میں دھیان لگانے کی تدبیر
        1. شیطانی وساوس اور نفسانی خواہشات کو نظر انداز کرنے کا طریقہ (مقناطیس اور ٹریفک کی مثال)
          1. رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اپنے شیخ (مرشد) کی نظر میں ممدوح اور مقبول بننے کی کوشش
            1. خدمتِ شیخ میں اخلاص اور للہیت کی اہمیت (مولانا فقیر محمدؒ کے پنکھا جھلنے کا واقعہ)
              1. مرشد کی خدمت کے مواقع تلاش کرنا اور ان کی دلی دعائیں لینے کے روحانی اثرات (سلوکِ سلیمانی کی ٹائپنگ کا واقعہ)
                1. بے لوث خدمت کا صلہ اور نسبتِ شیخ کا کمال (حضرت خواجہ باقی باللہؒ اور نانبائی کا ایمان افروز واقعہ

                  اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ.

                  أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

                  انفاسِ عیسیٰ حصہ دوم

                  عیوب و مفاسد و خبائثِ نفس پر مطلع ہونے کی تدبیر:

                  یعنی اپنے نفس کی وہ چیزیں جن سے نقصان ہوتے ہیں، جو عیوب ہیں، جو اس میں مفسدات ہیں یا خباثتیں ہیں، ان کے بارے میں ہمیں کیسے پتا چلے گا؟

                  فرماتے ہیں اس کے لیے اکثر "اربعین" کے مطالعہ کا مشورہ دیا کرتا ہوں یہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف ہے، چھوٹی سی کتاب ہے۔لیکن صرف مطالعہ کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ عیوب پر مطلع ہو کر اپنے مصلح سے مشورہ لیا جائے۔ اس کے ساتھ اس کی بھی ضرورت ہے کہ اپنے جن محاسن پر نظر پڑے ان کے متعلق غور کیا جائے کہ جس ہیئت سے یہ محمود یا مامور بہ ہیں، آیا اس ہیئت سے مجھ میں پائی جاتی ہیں؟ اگر ہیئتِ موجودہ و ہیئتِ مطلوبہ کی تحقیق کی جائے گی تو اس وقت منکشف ہوگا کہ محاسنِ مزعومہ، محاسنِ حقیقی کی نقل بھی نہیں، تو وہ نظر بھی کالعدم ہو جائے گی۔


                  اربعین اس میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے، انسان کے اندر جو روحانی بیماریاں ہوتی ہیں یا جن چیزوں کو حاصل کرنا چاہیے، ان کے بارے میں لکھا ہے۔ ایک البتہ بات ہے جس پر حضرت نے تنبیہ بھی فرمائی۔ ہمارا دنیا کے ساتھ اور دین کے ساتھ جو معاملہ ہے، مختلف ہوتا ہے۔ جیسے ہم دنیا میں اپنے سے آگے کو دیکھتے ہیں، اپنے سے پیچھے کو نہیں دیکھتے۔ اور دین میں ہم اپنے سے پیچھے کو دیکھتے ہیں، اپنے سے آگے کو نہیں دیکھتے۔ یہ ایک بہت واضح صورت ہے جو تقریباً ہر جگہ پائی جاتی ہے۔

                  اس طرح Medical کی جو Books ہیں، جن میں بیماریوں کے بارے میں تفصیلات ہوتی ہیں، یا حکمت کی جو کتابیں ہیں جن میں بیماریوں کی تفصیلات ہوتی ہیں، اگر ان کو کوئی غیر ڈاکٹر یا غیر حکیم پڑھے، تو اکثر یہ ہوتا ہے کہ جو بیماریاں کتابوں میں لکھی ہوتی ہیں وہ انسان کو اپنے آپ میں نظر آتی ہیں۔ آدمی کہتا ہے یہ تو مجھ میں بھی ہے، یہ تو مجھ میں بھی ہے۔ پھر ذرا تھوڑے سے سودائی یا شکی طبیعت کے لوگ ہوں وہ ڈاکٹروں کے پاس پھر Visit کرنے لگتے ہیں کہ مجھے تو اس چیز کا شک ہو گیا کہ مجھ میں تو یہ بیماری ہے۔ وہ ڈاکٹر اس کو تسلی دیتے دیتے تھک جاتا ہے لیکن وہ اس کے ذہن سے یہ بات نکلتی نہیں ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ مجھ میں واقعی بیماری ہے۔

                  لیکن دین کی جب ہم یہ چیزیں، جیسے تبلیغِ دین ہے، یا اربعین ہے۔ اس کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس میں جو اچھی چیزیں لوگوں میں ہونی چاہییں، مثلاً اخلاص ہو، تقویٰ ہو، اللہ کی رضا ہو، اور تواضع ہو۔ ان چیزوں کی جتنی بھی تفصیلات دی ہوتی ہیں، انسان سمجھتا ہے یہ تو مجھ میں بھی ہے، یہ تو مجھ میں بھی ہے، یہ تو مجھ میں بھی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ میں تو بزرگ بن گیا ہوں۔ اور وہ جو بیماریاں اس میں دی ہوتی ہیں ان سے صرفِ نظر کرتا ہے۔ گویا کہ وہ اس کے لیے نہیں لکھیں، وہ کسی اور کے لیے لکھی گئی ہیں۔ یہ معاملہ ہوتا ہے، دینی کتابوں کے ساتھ۔ تو حضرت نے پھر اس پر تنبیہ فرمائی گویا کہ، اگر آپ کو اندر کچھ اچھی باتیں نظر آ رہی ہیں اس کی وجہ سے، تو دیکھ لو کہ وہ واقعی اسی طریقے سے ہیں جس طرح مطلوبہ ہیں، یا ہم نے اپنی کوئی اس کے اندر کوئی چیز تراش لی ہے، اور اس کے مطابق ہم اس کو سمجھتے ہیں۔

                  مثلاً موٹی سی بات ہے، اخلاص کے بارے میں۔ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی دین کا کام کر رہا ہو، اور کوئی اور آ جائے وہ بھی اس کام کو کر رہا ہو، اور وہ اس سے اچھا کر رہا ہو۔ اگر اس کو خوشی ہو جائے اس پر اور اپنا سب کچھ اس کے سامنے رکھ دے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، ہم ماشاءاللہ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں اور میں بھی آپ کے ساتھ ہوں، چلو مل کر کرتے ہیں۔ تو یہ اخلاص ہے۔ اور اگر فکر ہو جائے کہ یہ کہاں سے آ گیا؟ اس کے بارے میں تھوڑے سے منصوبے بنانے لگے کہ بھئی کس طریقے سے اس کے اثر کو کم کیا جائے تو یہ اخلاص نہیں ہے۔ یہ اخلاص نہیں ہے۔ یہ اخلاص کے نہ ہونے کی علامت ہے۔ اب جب یہ چیز سامنے آ گئی، تو اب دیکھو کتنے لوگ اس پر Fit ہوں گے؟ کتنے لوگ ہوں گے جو اس کو Qualify کریں گے؟ تو پتا چلا کہ ہم نے جو چیزیں تراشی ہوتی ہیں، وہ اور ہوتی ہیں اور ہوتی کچھ اور ہیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ دیکھ لو کہ وہ اسی ہیئتِ مطلوبہ کے ساتھ ہیں، یا اپنی طرف سے آپ نے اس کی کوئی شکل تراشی ہے اور پھر اس کے ساتھ اپنے آپ کو Compare کر رہے ہو۔ یہ حضرت نے اس کی بات کی۔

                  اتفاقی استماعِ غنا کا اختیاری و غیر اختیاری درجہ:

                  غناء سے مراد یہ گانے وغیرہ ہیں۔ مثلاً ایک شخص راستے پر جا رہا ہے اور کہیں گانا لگا ہوا ہے، بالخصوص اس کی زبان کا گانا ہو، اپنی زبان سے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں نا۔ تو اس کی اپنی زبان میں گانا لگا ہو، تو پھر اس کے ساتھ کیا کیا جائے؟ کیونکہ اس سے واقعی اس کی طرف دل کھینچتا ہے۔

                  عبد جتنے کا مکلّف ہے وہ چنداں دشوار نہیں یعنی اس وقت بہ تکلف قلب کو دوسری طرف متوجہ کر دیا جائے۔ اس توجہ کے ساتھ جو التفات إلی الغنا ہو گا وہ غیر اختیاری ہو گا۔

                  مثلاً میں اپنے آپ کو کسی اچھی چیز، مباح، اس کی طرف متوجہ کر لوں۔ مباح بہت ساری چیزیں ہیں۔

                  مثلاً بازار میں جا رہا ہوں، تو بازار میں اس چیز کا امکان زیادہ ہوتا ہے مطلب گانوں وانوں کا۔ تو میں پھر سوچنا شروع کر لوں کہ اچھا بازار میں میں نے کیا کیا چیزیں خریدنی تھیں؟ تو میں بھول نہ جاؤں۔ اس کی ترتیب اپنے ذہن میں بنانا شروع کر لوں۔ پھر دیکھوں کہاں کہاں سے مل سکتی ہیں؟ اس میں کیا کیا چیزیں ہمیں چاہییں؟ اب یہ ایک بازار کی Requirement بھی ہے اور مباح بھی ہے۔ لیکن یہ آپ کو اس گناہ سے ہٹا دے گا۔ میں نے صرف ایک مثال دی ہے۔ بہت ساری مثالیں ہو سکتی ہیں۔ Student اپنی Study کے بارے میں ذرا سوچ سکتا ہے۔ ملازم اپنی ملازمت کی تفصیلات کے بارے میں کچھ اندازہ لگا سکتا ہے۔ الغرض یہ کہ کسی مباح سوچ کی طرف اپنے ذہن کو Divert کیا جائے، اختیاری طور پر۔ اس کے بعد بھی اگر کچھ التفات باقی ہے تو غیر اختیاری ہے، اس کی پروا نہ کی جائے۔

                  اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ مثال کے طور پر مقناطیس ہے، اور آپ کے پاس کوئی لوہے کی چیز ہے، اور وہ مقناطیس اس کو کھینچ رہا ہے۔ تو اس کی تھرتھراہٹ آپ کو محسوس ہوگی اگر اس کے قریب ہے۔ لیکن آپ نے اس کو مضبوطی کے ساتھ گرفت کیا ہوا ہے، اور آپ اس کو اس سے دور لے جا رہے ہیں، تو تھرتھراہٹ تو پھر بھی محسوس ہوگی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جائے گی۔ لیکن وہ تھرتھراہٹ اس کی فطری ہے، اس کو آپ رہنے دیں، چھوڑ دیں۔ کیونکہ اس کو آپ چھوڑ نہیں رہے اس، مطلب کہ آپ اس کو اپنی طرف رکھے ہوئے ہیں۔

                  تو اس طرح جو ہماری خواہشاتِ نفس ہیں ان کی ان چیزوں کی طرف توجہ تو ہوگی نا، وہ تو ہے۔ اس کو تو آپ ختم نہیں کر سکتے۔ لیکن آپ اس کو قابو کر لیں اس کی طرف جانے نہ دیں۔ تو اس کے باوجود بھی اگر اس کے اندر کچھ Attractions ہیں اور آپ اس کو Feel کر رہے ہیں تو چھوڑیں اس کو، Don't bother it۔ بس ٹھیک ہے جی، بہت ساری اچھی اچھی مثالیں موجود ہیں، جس سے انسان Help لے سکتا ہے۔ مثلاً Traffic رش ہے۔ تو اس رش کے اندر ہم راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ اس وقت رش کی طرف صرف اتنا خیال ہوتا ہے کہ اس میں سے ہم راستہ ڈھونڈیں۔ باقی رش کی طرف ہمارا خیال نہیں ہوتا۔ بس ہم صرف اس کے اندر راستہ (ڈھونڈتے ہیں) تو اب وہ جو چیخ و پکار، شور، ہٹو، بچو، یہ ساری چیزیں جو آ رہی ہیں، ہارن آ رہے ہیں، تو سن تو رہے ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے۔

                  تو اسی طریقے سے یہ جو انسان کا جس کو کہتے ہیں خیالات آتے ہیں، بھئی آنے، آ رہے ہیں تو آئیں! ہمیں اس سے کیا؟ یہ تو بالکل Traffic کی طرح ہے۔ آ رہی ہوں گی چیزیں۔ ہم نے اس کے اندر اپنی چیز کی طرف دیکھنا ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے؟ مثلاً میں نے نماز پڑھنی ہے تو نماز کی طرف دیکھوں۔ میں نے تلاوت کرنی ہے تو تلاوت کی طرف دیکھوں، میں نے ذکر کرنا ہے تو ذکر کی طرف دیکھوں۔ میں کسی اور چیز کی طرف کیوں ذہن لگاؤں؟ ہاں اگر وہ محسوس ہو تو ٹھیک ہے پروا نہ کریں، جیسے Traffic محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس کی طرف انسان توجہ نہیں کرتا۔ اختیاری توجہ نہیں کرتا۔ غیر اختیاری طور پر جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اس کی پروا نہ کی جائے۔

                  شیخ کی نظر میں محمود و ممدوح ہونے کی کوشش:

                  یہ بھی ملحق بالإصلاح ہے کہ وہ خوش ہو کر اصلاح کی طرف توجہ زیادہ کرے گا۔

                  اس کا حضرت نے رد نہیں فرمایا۔ کیونکہ وہ اللہ کے لیے ہے۔ تو جب اللہ کے لیے ہے تو جیسے اللہ کی نظر میں کوئی ممدوح بننا چاہتا ہے، تو اس کے لیے وہ تو اچھی بات ہے۔ تو اس طرح شیخ کی نظر میں کوئی ممدوح بننا چاہتا ہے تو اللہ کے لیے چاہے گا، کہ میں اللہ تعالیٰ کا تعلق زیادہ بہتر حاصل کر سکوں گا، اگر شیخ مجھے اپنے قریب فرمائیں گے، اور اس کے ذریعے سے اگر میں قریب ہو جاؤں تو اچھی بات ہے۔

                  ہاں اس میں دھوکا نہ ہو۔ کسی کا حق نہ مار رہا ہو۔ مثلاً حضرت مولانا عبدالکریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے مجازِ صحبت تھے، اور حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت کے مجازِ بیعت تھے۔ تو مولانا عبدالکریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ یہ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بڑے سادہ تھے۔ بہت سادہ تھے۔ تو یہ حضرت کی خدمت کرتے تھے، اس طرح کہ حضرت کو گرمیوں میں پنکھا جھلتے تھے۔ یعنی جو وہ ہوتا ہے نا بوری والا پنکھا پتا نہیں آپ لوگوں نے دیکھا ہے یا نہیں یہ ہوتا ہے گرمیوں والے علاقوں میں جہاں بجلی وغیرہ نہ ہو۔ تو وہ بوری سی ہوتی ہے اور اس کا بڑا پھر اس کے اس کے ساتھ رسی لگی ہوتی ہے۔ اور کوئی اس کو اس طرح چلا رہا ہوتا ہے، تو نیچے جو سو رہے ہوتے ہیں وہ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہے، بڑے بڑے خوانین کے ہاں ہوتا تھا جب بجلی نہیں ہوتی تھی۔ اور علمائے کرام کی خدمت کے لیے بھی لوگوں نے لگائے ہوتے تھے۔

                  تو حضرت کا جو پنکھا ہے وہ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ جھلتے تھے۔ جس وقت حضرت کے جاگنے کا وقت ہوتا تھا، باہر آنے کا، کہتے اس وقت پنکھا ہم ان سے لے لیتے تھے۔ تو کہتے حضرت چھوڑ دیتے تھے، بالکل پروا ہی نہیں کرتے تھے۔ ہم جب ان سے لیتے بالکل چھوڑ دیتے۔ یعنی گویا پورا وقت وہی جھلتے رہے، اور جس وقت ان کے اٹھنے کا وقت ہوتا، ہم ان سے لے لیتے تھے۔ فرمایا لیکن اللہ تو دیکھ رہے تھے، لہذا نتیجہ صاف ظاہر ہے۔ تو اس طرح ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات تو نہیں ہونی چاہیے۔

                  البتہ یہ ہے کہ ویسے اچھا کام کرنا، شیخ کی نگاہ میں اچھا بننے کی کوشش، ان کو جو Assignment دیا ہے اس کو بہت شوق سے کرنا اور یہ ہے کہ اس کو دل سے کرنا یہ بڑی بات ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے، علمی کام کے لیے۔ چونکہ ان کے شیخ تو مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ تو حضرت حدیث پر کام کر رہے تھے، حدیث شریف پر، کیونکہ دونوں شیخ الحدیث تھے۔ مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ بھی شیخ الحدیث تھے اور حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی شیخ الحدیث تھے۔ تو حدیث کی کتاب پر کام کر رہے تھے غالباً بذل المجہود شرح ابو داود کی غالباً یہی کتاب تھی۔

                  تو حضرت اپنے کام میں اتنے منہمک ہوتے تھے، جب کبھی جو حضرت کی جو کتابیں ہوتی تھیں، ان میں سے کوئی کتاب لے رہے ہیں، اپنا کونے میں بیٹھے ہوئے ہیں لگے ہوئے ہیں۔ تو ایک دن حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بڑے افسوس سے کہا، کہ حضرت دیکھیں! کتنے دور دور سے لوگ آتے ہیں، آپ سے مستفید ہوتے ہیں، آپ کی خدمت میں بیٹھے ہوتے ہیں، اور میں اتنا محروم ہوں کہ آپ کے اتنا قریب ہوں، پھر بھی آپ کی مجلس میں بیٹھنے کی توفیق نہیں ہو رہی۔ یہ حضرت کا رنگ تھا۔ اپنے آپ کو ہر چیز میں کم سمجھتے تھے۔ یہ ہوتا تھا بعض بزرگوں کا بڑا رنگ ہوتا تھا۔ مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فوراً فرمایا، نہیں بھئی، ایسا نہیں ہے۔ لوگ میری مجلس میں ہوتے ہیں اور میں تمہاری مجلس میں ہوتا ہوں۔ اس طرح کہ آپ جو اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل میں اتنے اہتمام کے ساتھ لگے ہوئے ہیں، تو مجھے آپ پر رشک آتا ہے۔ تو میں بار بار آپ کی طرف شوقیہ نظروں سے دیکھتا ہوں، کہ یہ دیکھو، اپنے شیخ کے حکم کی تعمیل میں کتنے لگے ہوئے ہیں۔

                  سبحان اللہ! کیسی عجیب بات فرمائی۔ تو پھر مل بھی گیا نا۔ دیکھ لیں، اللہ تعالیٰ تو دیکھتا ہے نا مطلب وہ تو چونکہ اللہ کے لیے تھا، سارا کچھ، تو اللہ پاک نے نواز بھی دیا۔ تو یہ ہوتا ہے۔ یہ ہوتا ہے اپنے شیخ کے ساتھ معاملہ بڑا Clear رکھنا چاہیے۔ بہت Clear رکھنا چاہیے۔ اللہ کے لیے۔ تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ چونکہ دیکھتا تو اللہ ہے۔ مطلب اللہ تعالیٰ کو تو ہر چیز کا پتا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، الحمد للہ اللہ پاک نے کرم کیا۔ ہمیں تو اس کا وہ نہیں ہے۔ حضرت کی ایک کتاب ہے، یہ "سلوکِ سلیمانی" بہت اچھی کتاب ہے۔ تین جلدوں میں۔ دو جلدیں چھپ گئی تھیں اور تیسری جلد ابھی چھپنی تھی۔

                  وہ جو تیسری جلد تھی وہ اتنی طویل ہو گئی، مطلب کام طویل ہو گیا کہ وہ جو جس کاتب نے لیا تھا، یہ کاتبوں کے اندر بڑے عجیب مسائل ہوتے ہیں۔ اب تو الحمد للہ وہ نہیں رہے کہ اب تو Composing والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس کے اپنے مسائل ہیں۔ بہرحال یہ کہ وہ کام لے لیتے تھے مختلف لوگوں سے، جیسے ٹھیکیدار لوگ جیسے لیتے ہیں۔ کام لے لیتے ہیں مختلف لوگوں سے اور پھر بس وہ آپ کو ایک دفعہ لٹکا دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد دوسرے کام لیتے تھے، جس کی Top priority ہوتی تھی اس کو جلدی کر لیتے تھے، باقی چیزیں رہتی تھیں۔ اب مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، اب آپ کو پتا ہے مولویوں بالخصوص مشائخ، ان کے ساتھ اگر دنیاوی معاملہ ہو تو اس میں تو لوگ ان کو-نعوذ باللہ من ذلک-سادہ سمجھ کر Ignore کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان میں غصہ نہیں ہوتا ہے، دوسری چیزیں نہیں کرتے تو لوگ سمجھتے ہیں بھئی ٹھیک ہے یہ تو سادہ ہیں ان کے ساتھ جو مرضی کرو۔

                  تو حضرت کی اس کتاب کے وہ کام، گویا کہ جس طرح کرنے چاہیے تھے نہیں کیا اس نے۔ چودہ سال تک معاملہ لٹک گیا۔ ایک کتاب چودہ سال میں، کتابت اس کی نہ ہو۔ تو اندازہ کر لو کیا صورتحال ہے وہ؟ تو ایک دفعہ بہت حسرت سے حضرت نے کہہ دیا، فرمایا کمال ہے چودہ سال میں تو بچہ بھی جوان ہوتا ہے۔ میری کتاب ابھی تک اس کی کتابت نہیں ہو سکی۔ اچھا حضرت کاغذ بھی خرید چکے تھے۔ کاغذ ان کے پاس پڑا ہوا تھا۔ اور بس کتابت کے لیے، آج کل، آج کل، آج کل میں چودہ سال ہو گئے۔ اب بعض دفعہ خوش قسمتی کے لیے اللہ پاک راستہ بنا لیتے ہیں۔ تو مجھے باوجود وسائل اتنے نہ ہونے کے بس شوق ہو گیا۔ تو میں نے حضرت سے کہا، میں نے کہا حضرت میں کروں؟

                  تو پوچھا کس طرح کرو گے؟ تو ان دنوں وہ ایک کتابت کا "کاتب" نامی Software آیا تھا جو اردو کو نستعلیق میں ٹائپ کرتا تھا۔ اس پر ہم نے کچھ تھوڑا بہت کام کیا تھا اپنی ایک کتاب کے لیے۔ تو میں نے کہا حضرت اس طرح Computer پر آج کل یہ ہو سکتا ہے۔ اچھا، مجھے نمونہ دکھا سکتے ہو؟ تو میں آ گیا جو میرے پاس Computer ہوتا، اور اس پر یہ میں نے کچھ Type کر کے حضرت کا کچھ اور وہ میں لے گیا۔ حضرت کے پاس۔ وہ حضرت کا مشہور جو جو سلام آیا تھا نا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر جو نعت لکھی تھی۔ وہ میں Type کر کے لے گیا۔ تو حضرت نے دیکھا فرمایا یہ تو بہت اچھا خط ہے۔ اچھا، ایسے بھی ہوتا ہے؟ میں نے کہا جی ایسا بھی ہوتا ہے۔ اچھا تو پھر کرو۔ میں نے کہا حضرت پھر وہ مسودہ مل جائے تو۔

                  تو وہ مسودہ اللہ کا شکر ہے مل گیا۔ وہ لے آئے ہم۔ اب ظاہر ہے دفتر کے کاموں کے ساتھ ساتھ کرنے میں تکلیف تو ہوتی ہے۔ یعنی وہ یہ کہ اب دفتر کے کام بھی کرنا اور ساتھ ساتھ مطلب یہ لیکن اللہ کا شکر ہے اس کے ذریعے سے ہمیں بڑا فائدہ ہوا۔ وہ ہم ٹائپ کرتے رہے، پروف ریڈنگ کرتے رہے۔ حضرت کو دکھاتے رہے۔ بلکہ ایک دفعہ تو حضرت کے پاس ہم پورا کمپیوٹر گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ حضرت کے سامنے ٹائپنگ ہم نے کی۔ حضرت بہت خوش ہوئے، دکھایا ان کو کہ کس طریقے سے ٹائپنگ کرتے ہیں، کیونکہ حضرت اس پر حیران تھے، کبھی پہلے دیکھا نہیں تھا۔ تو کہ کس طرح ہوتا ہے تو میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ اس کی گاڑی میں پورا کمپیوٹر ڈال کر لے گیا اور حضرت کے سامنے ٹائپنگ ہم نے کی۔ خیر بہرحال ایسا ہوا کہ الحمدللہ ٹائپنگ ہوتی رہی۔

                  اللہ کا شکر ہے کہ وہ کتاب حضرت کی وفات ہونے سے دو ہفتے پہلے چھپ گئی۔ اور حضرت نے دیکھ لی کتاب۔ بہت خوش ہوئے۔ بہت زیادہ خوش ہوئے۔ مولانا عبدالکریم حقانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ آپ کے لیے بڑی دعائیں کیں حضرت نے۔ ایسے ہوتے ہیں، کام اس طرح ہوتا ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے ہمارا تو کوئی یہ تو نہیں تھا کہ ہم لوگ اس قابل تھے۔ لیکن بس اللہ پاک نے موقع دے دیا اور اللہ پاک نے کروا بھی دیا۔ اللہ جل شانہ نے سارا مکمل کر دیا۔ تو بہت الحمدللہ حضرت کی دل کی دعائیں ملیں۔ اب یہ جو چیزیں ہوتی ہیں یہ اصل میں موقع کی بات ہوتی ہے۔

                  وہ مشہور واقعہ ہے نا حضرت باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ کہ وہ جو ان کے مہمان آئے تھے ذرا بے وقت جیسے گرمیوں میں تین چار بجے کے لگ بھگ اگر مہمان آ جائیں۔

                  تو لوگ کھانا کھا چکے ہوتے ہیں اور سو رہے ہوتے ہیں۔ تو اس وقت تو کھانا پینا ہو چکا ہوتا ہے۔ تو یہ ہے کہ بے وقت مہمان آ گئے، اب حضرت کے خانقاہ، اس کے سامنے جو نانبائی تھا، اس نے سارا کچھ دیکھ لیا کہ اتنے بیس آدمی ایک وقت میں آ جائیں اور ظاہر ہے وہ گاؤں وغیرہ تھے۔ تو کیا کریں گے حضرت؟ تو جیسے انہوں نے دیکھا تو اس نے روٹیاں لگانی شروع کیں۔ بغیر حضرت کے کہے۔ روٹیاں لگانی شروع کیں۔ جب روٹیاں تیار ہو گئیں تو حضرت کے پاس لے گیا، دروازہ کھٹکھٹایا، خادم آیا، کیا ہے؟ تو جی میں روٹیاں لایا ہوں۔ کیونکہ میں نے دیکھا کہ حضرت کے مہمان آئے تھے تو اس وقت تو کوئی انتظام بظاہر نظر نہیں آتا، تو میں نے کہا حضرت کو روٹیوں کی ضرورت ہوگی تو میں نے روٹیاں لگا دیں۔ اس وقت تو حضرت نے لے لیں اور مہمانوں کی تواضع میں لگ گئے۔

                  جب مہمان رخصت ہو گئے تو پھر اس نانبائی کو بلایا۔ اچھا تو بہت خوش ہوئے فرمایا مانگو کیا مانگتے ہو؟ اب وہ اس کا ذوق بھی کچھ بہت ہی اعلیٰ تھا نانبائی کا۔ اس نے کہا حضرت اپنا جیسا بنا دیں۔ انہوں نے کہا یہ تو بڑا مشکل ہے، برداشت نہیں کر سکو گے، کوئی اور چیز مانگ لو۔ کہا بس کوئی اور چیز مانگ لو یہ برداشت نہیں کر سکو گے۔ اس نے کہا حضرت میں نے اس کے لیے نہیں کیا کہ آپ مجھے کچھ دیں گے۔ اگر آپ نے مجھے کچھ دینا ہے تو یہ دے دو ورنہ میرا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ اب ایسے حضرات دل کے بڑے کھلے۔ تو خیر بہت سمجھایا کہ دیکھو یہ تمہاری برداشت کی نہیں ہے۔ لیکن جب وہ اس نے بالکل ہی کسی اور چیز سے عذر کر لیا تو اس کے بعد پھر انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے آ جاؤ۔ تو اس کو لے گئے کمرے میں کواڑ بند کر دیے۔ پتا نہیں کیا کیا وہ تو کسی کو معلوم نہیں ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

                  لیکن جب دروازہ کھولا تو دونوں باہر آئے تو دونوں بالکل ایک جیسے تھے۔ اللہ نے ان کی شکل بھی بدل دی تھی۔ دونوں بالکل ایک جیسے، بس فرق صرف یہ تھا کہ ایک ہوش میں تھے اور دوسرے ہوش میں نہیں تھے۔ تین دن تک اس حالت میں رہے۔ بے ہوش۔ اور اسی میں انتقال کر گئے۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے مواعظ میں، حضرت کے مواعظ میں یہ قصہ پڑھا ہے۔ فرمایا او ہو! نانبائی مر گیا لیکن باقی باللہ بن کر مر گیا۔ باقی باللہ بن کر مر گیا۔ تو یہ بات صحیح ہے کہ مطلب یہ ہے کہ ایسے لمحات ہوتے ہیں جو دل کی دعائیں ہوتی ہیں اس طرح لے لیتے ہیں لوگ۔ تو اس کا برعکس بھی ہوتا ہے۔ جو بالکل برعکس ہوتا ہے کہ مثلاً کوئی کام دے دیا جائے اور وہ اس میں عام لوگوں کی طرح کام کیا جائے، نظر انداز کرنے یا دوسری چیز تو برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو اس لحاظ سے ایسے مواقع اگر آتے ہیں تو حضرت نے فرمایا کہ یہ بھی ملحق بالاصلاح ہے کہ وہ خوش ہو کر اصلاح کی طرف توجہ زیادہ کرے گا۔


                  فیض کا ربانی نظام: مرید، شیخ اور اللہ کے درمیان تعلق کا دائرہ

                  آج کے درس کی مناسبت سے حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اس روحانی تعلق کے حوالے سے واضح فرمایا کہ درحقیقت دینے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے۔ شیخ اپنی ذات سے کسی کو کچھ عطا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ خدا ہے، وہ تو محض ایک انسان اور ایک ذریعہ ہے۔ خود شیخ بھی مرید کی رہنمائی اسی جانب کرتا ہے کہ فیض کا اصل منبع اور دینے والی ذات اللہ ہی کی ہے۔


                  لیکن اس راہِ سلوک کا حسن یہ ہے کہ شیخ کے ساتھ قائم کیا گیا تعلق خالصتاً اللہ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ جب مرید کی کوئی ضرورت یا روحانی طلب ہوتی ہے، تو وہ اس اللہ والے تعلق کی بدولت اسے بواسطہ شیخ عطا کی جاتی ہے۔ جب کوئی مرید اپنے شیخ کے بتائے ہوئے کسی کام کو محض اللہ کی رضا کی خاطر انجام دیتا ہے، تو بظاہر وہ کام شیخ کا معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اللہ کے تعلق کی نسبت سے ہوتا ہے۔ اس خالص نیت اور اخلاص کے نتیجے میں، اللہ رب العزت پھر اسی شیخ کے واسطے سے اس مرید کو بے پناہ عروج اور روحانی ترقی سے نوازتے ہیں۔


                  یہ دراصل ایک مکمل اور نورانی دائرہ (Circle) ہے:

                  مرید ➔ شیخ ➔ اللہ ➔ شیخ ➔ مرید


                  اس روحانی دائرے اور اخلاص کی برکات کو سمجھانے کے لیے حضرت شیخ دامت برکاتہم نے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ایک نانبائی کا ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا۔ ایک مرتبہ سخت گرمیوں کی دوپہر میں، جب آرام کا وقت تھا اور لنگر خانے کا کام ختم ہو چکا تھا، حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں اچانک بیس کے قریب مہمان آ گئے۔ خانقاہ کے سامنے موجود ایک نانبائی نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس نے بغیر کسی فرمائش اور طلب کے، اپنی طرف سے فوراً روٹیاں لگا کر حضرت کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اس کا مقصد صرف حضرت کی پریشانی دور کرنا اور مہمانوں کی تواضع میں حصہ ڈالنا تھا۔ جب مہمان رخصت ہو گئے تو حضرت خواجہ صاحب نے اس نانبائی کو طلب فرمایا۔ وہ اس کے اس بے لوث عمل پر اس قدر خوش تھے کہ فرمایا، "مانگو، کیا مانگتے ہو؟" اس نانبائی کا ذوق اور اخلاص دیکھیے، اس نے دنیاوی مال و متاع کے بجائے عرض کیا، "حضرت! مجھے اپنے جیسا بنا دیں۔"


                  حضرت نے اسے سمجھایا کہ یہ بہت کٹھن مقام ہے، تم اس کی تاب نہیں لا سکو گے، کچھ اور مانگ لو۔ لیکن نانبائی اپنے مطالبے پر ڈٹا رہا کہ اس نے یہ خدمت کسی لالچ میں نہیں کی تھی، اور اگر کچھ دینا ہی ہے تو بس یہی عطا فرمائیں۔ بالآخر حضرت اسے ایک کمرے میں لے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ جب دوبارہ دروازہ کھلا تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دونوں کی شکلیں بالکل ایک جیسی ہو چکی تھیں یعنی ایک کی بجائے دو باقی باللہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس نانبائی کی ظاہری اور باطنی کیفیت کو شیخ کے رنگ میں رنگ دیا تھا۔ بس فرق اتنا تھا کہ اصل حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ ہوش میں تھے، اور وہ نانبائی اس تجلی کو برداشت نہ کر سکنے کے باعث بے ہوش تھا۔ وہ تین دن اسی طاری حالت میں رہا اور پھر اسی کیفیت میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اس واقعے کو بیان کر کے فرماتے تھے: "نانبائی مر گیا، لیکن باقی باللہ بن کر مرا۔"


                  حضرت شیخ دامت برکاتہم نے فرمایا کہ یہ سب اس کے بے لوث اخلاص کی برکت تھی۔ جب بندے کا اللہ کے ساتھ ایسا خالص معاملہ ہو جائے، تو اس پر عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔ یہ وہ روحانی حقائق ہیں جو انسانی عقل کے پیمانوں میں نہیں سماتے، لیکن جب اللہ کی عطا کا وقت آتا ہے تو ایسے ہی حیرت انگیز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔


                  علمِ نافع اور ذکر اللہ کی ان مجالس تک رسائی، اور حقانی مشائخ کی صحبت نصیب ہونا درحقیقت ایک عظیم توفیقِ خداوندی اور روحانی سعادت ہے۔ دین کی حقیقی سمجھ، نفس کی پوشیدہ بیماریوں کا ادراک اور قلب کا تزکیہ صرف کتابوں کے مطالعے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اہلِ اللہ کے انفاسِ قدسیہ اور ان کی مجالسِ علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ نفوس جو اپنے باطن کی پیاس بجھانے اور اپنی روحانی بقا کی خاطر ان نورانی حلقوں کا حصہ بنتے ہیں اور براہِ راست ان چشموں سے سیراب ہوتے ہیں۔ علم کی سچی طلب اور اپنی آخرت سنوارنے کا درد رکھنے والا ہر انسان بجا طور پر یہ محسوس کرتا ہے کہ ان بابرکت مجالس میں حاضری اور لائیو دروس سے استفادہ اس کی اپنی ذات کی اولین ضرورت اور فلاح کا واحد راستہ ہے۔


                  خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی

                  www.tazkia.org