اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ.
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
علامتِ رسوخ۔
فرمایا: صدور میں کشاکشی بھی نہ ہو تو یہ علامت ہے رسوخ کی۔
کسی بھی چیز کے بارے میں جب کشاکشی ختم ہو جائے یعنی جس کو کہتے ہیں نا، مطلب، میں کروں نہ کروں؟ کیا کروں؟ کتنا کروں؟ یہ ساری چیزیں جب تو یہ علامت ہے رسوخ کی۔ مثلاً نماز کے بارے میں بعض لوگوں کو رسوخ ہو جاتا ہے۔ وہ اس میں راسخ ہوتے ہیں لہذا نماز کے بارے میں ان کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بس وہ جیسے نماز کا وقت آ گیا تو Automatically بس وہ سارا System اس کے ساتھ Tune ہوتا ہے۔ لہذا وہ چاہے وہ گاڑی میں جا رہا ہو، چاہے سفر میں ہو، چاہے کدھر بھی ہو، لیکن بس وہ نماز
بعض لوگوں کا معاملات میں بڑا رسوخ ہوتا ہے۔ ایک پیسے کے لین دین میں گڑبڑ بھی نہیں ہوتی۔ حساب کتاب بالکل ٹھیک ٹھاک رکھتے ہیں۔ وہ ذرہ بھر بھی کسی کا حق اپنے اوپر نہیں رکھتے۔ بعض لوگ بڑے عجیب لوگ ہوتے ہیں مثلاً وہ دن کا حساب کرتے ہیں پورا اور جس کا جو جو ہوتا ہے بس ان کو بھیج دیتے ہیں، اپنے آپ کو بالکل فارغ کر دیتے ہیں۔ یہ ان کا ذوق ہوتا ہے۔ یہ رسوخ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعض لوگوں کا اس کا رسوخ ہوتا ہے، بعض لوگ معاشرت میں بڑے ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں۔ ہر چیز کو اس طرح کرتے ہیں جس طریقے سے ایک مومن کو کرنا چاہیے۔ بس اس میں ان کو رسوخ ہوتا ہے۔ بعض لوگ اخلاق کے کسی مسئلے میں یعنی شکر کے مرحلے میں یا کسی صبر کے مرحلے میں مطلب ان کو رسوخ ہوتا ہے۔
تو نفسِ مطمئنہ جس کو ہم کہتے ہیں وہ یہی ہے۔ البتہ یہ ہے کہ پورا نفسِ مطمئنہ کہ ساری چیزوں میں انسان شریعت پہ مطمئن ہو یہ کسی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ اور مطلوب یہی ہے۔ مثلاً عقائد میں بھی ہو شرح صدر ہو بالکل Clear، کوئی Confusion نہیں۔ اور عبادات میں بھی ہو معاملات میں بھی ہو، معاشرت میں بھی ہو، اخلاق میں بھی ہو۔ پھر تو سبحان اللہ! پھر صحیح بات ایسے کہتے ہیں راسخ فی الدین ایسے لوگوں کو۔ لیکن یہ جزوی نفسِ مطمئنہ یا جزوی رسوخ یہ بہت سارے لوگوں کو ہوتا ہے۔
کسی کو عبادات میں ہے، کسی کو معاملات میں ہے۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا جو سلسلہ ہے اس میں معاملات میں بہت زبردست رسوخ ہو جاتا ہے۔ اس میں معاملات ذیادہ اور عبادات میں وہ Normal رہتے ہیں۔ یعنی جو Normal ہوتا ہے لیکن معاملات میں بہت زیادہ۔ حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں عبادات میں بہت زیادہ ہے۔ معاملات میں یعنی Normal ہوتے ہیں۔ تو ہمارا سلسلہ تو دونوں کا ہے نا تو ہمیں تو دونوں میں ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ تو یہ شانیں ہوتی ہیں ہر ایک کی اپنی اپنی ان کو وہ ہوتی ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ رسوخ حاصل کرنا چاہیے اتنا کہ کم از کم اللہ کی نافرمانی نہ ہو۔ اتنا رسوخ ہونا چاہیے۔ مثلاً جو چیز نافرمانی سے بچائے اس کے معاملے میں اس کے دل میں تو دو باتیں نہ آئیں۔ بس ایک ہی بات ہو کہ میں نے کرنا ہے۔
میرے ایک بھائی ہیں وہ کسی چیز پر Convince نہیں ہوتے، جب Convince ہو جاتے ہیں پھر اس میں کوئی دوسری بات رہتی نہیں ہے۔ بس پھر وہی ہوتا ہے۔ پھر اس کے بارے میں چاہے دنیا ادھر سے ہو جائے، ادھر سے ہو جائے۔ مثلاً کوئی معمول اپنا بنا لے نا تو بس اس کا پھر وہ معمول رہے گا، پھر اس میں یہ دوسری بات نہیں ہوتی۔ البتہ اپنے معمول کم ہی Change کرتے ہیں۔ تو یہ چیز ہوتی ہے بعض دفعہ یعنی بعض لوگوں میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ تو رسوخ جو ہے فرمایا صدور میں کشاکشی بھی نہ ہو تو یہ علامت ہے رسوخ کی۔
نسبت اور مقام کی تعریف۔
فرمایا: ایک غلبۂ ذکر کہ غفلت میں وقت کم گذرے۔
غفلت کا مطلب یہ نہیں کہ تسبیح لیے ہو اور ہر وقت ذکر کر رہا ہو تو یہ غفلت نہیں ہے۔ نہیں نہیں! بعض لوگوں کے ہاتھ میں تسبیح آپ دیکھیں گے ہی نہیں۔ لیکن وہ ہر وقت Alert رہیں گے۔ کہ اللہ پاک کی نافرمانی نہ ہو اس میں Alert رہیں گے۔ اس وقت کس کام کرنے کا تقاضا ہے اس کی طرف متوجہ رہیں گے۔ وہ اپنا وقت خالی نہیں رکھیں گے بلکہ کسی نہ کسی Useful کام میں لگائیں گے۔ یہ بھی غفلت نہیں ہے۔ بلکہ وہ سب کچھ جو کراتے ہیں اسی کے لیے کراتے ہیں۔
مثلاً ان کو وہ محسوس ذکر کی کیفیت میں لوگ کم ہی دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ جو ان کا اندر ہر وقت اللہ کے ساتھ Connection لگا ہوا ہے وہ ان کا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو ہر وقت گویا کہ بس اللہ کے سامنے جیسے ہوتے ہیں اور اس کے لیے کر رہے ہوتے ہیں۔ تو یہی تو کیفیتِ احسان ہے۔ کیفیتِ احسان یہی ہے نا کہ ہر وقت انسان اپنے آپ کو اللہ کے سامنے رکھے۔ ایسا محسوس کرے جیسے میں اللہ کے سامنے ہوں۔ تو یہ کیفیت ہے غفلت سے باہر۔
ایک دفعہ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ مرنجان مرنج طبیعت کے بزرگ تھے اور شعر و شاعری بھی کرتے تھے اور محافل گرما لیتے تھے۔ یہ طبیعت تھی حضرت کی۔ تو ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے جماعت تھی ساتھ تو لطیفوں پر لطیفے سنائے جا رہے تھے اور مطلب شعروں پر شعر ہو رہے ہیں اور یہ اور وہ۔ جب اپنی جگہ پہنچے تو حضرت نے پوچھا، بھئی آپ میں سے کوئی غافل ہو گیا تھا؟ اس دوران؟ تو سب نے کہا حضرت ہم سب غافل ہو گئے تھے۔ فرمایا الحمدللہ میں غافل نہیں ہوا تھا۔ اب بتاؤ! کیا بات ہے۔
مثلاً آپ students کو لے جا رہے ہیں۔اور آپ ایک تشکیل آپ کی ہوچکی ہے students کی طرف اور students کو آپ نے busy رکھنا ہے کہ گناہ کی طرف ان کا ذہن نہ جائے۔ اور مباح میں مشغول رہیں تاکہ گناہ سے بچ جائیں۔ اور آپ ان کو کبھی لطیفوں پہ لگائیں، کبھی اچھی باتوں پہ لگا دیں، کبھی ان سے ادھر ادھر پوچھیں، سوالات کر لیں، جوابات یہ سارا کچھ۔ تو یہ بظاہر تو ذکر کی چیزیں نہیں ہیں۔ بظاہر تو لوگ سمجھ رہے ہوں گے بھئی یہ کیا کر رہے ہیں؟ لیکن وہ کتنی بڑی duty پر ہے کہ اتنے سارے لوگوں کو تھامے ہوئے ہیں ان کو گناہ سے بچایا ہوا ہے۔ تو حضرت نے جب فرمایا کہ میں غافل نہیں تھا تو اپنے آپ کو duty پہ سمجھ رہا تھا نا۔ اپنے آپ کو duty پہ سمجھ رہا تھا، لہٰذا غافل تو نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ duty ایسی تھی۔ duty ایسی تھی۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمة الله عليه چونکہ University میں تھے۔ تو University میں ہونے کی وجہ سے حضرت کے ساتھ اکثر students ہوتے تھے۔ اور students بھی ظاہر ہے ایسے طبقوں کے جو آپ کو پتہ ہے ذرا آوارہ طبقے ہوتے ہیں۔ تو وہ ان کے students تھے۔ تو حضرت کبھی ایک کے اوپر چوٹ کر رہے ہیں، کبھی دوسرے کے ساتھ، کبھی تیسرے کے ساتھ، کبھی لطیفہ ہے، کبھی واقعہ ہے، کبھی کیا ہے۔ تو جو ذرا تھوڑے سے تنقیدی مزاج کے لوگ ہوتے تھے، وہ آ کے کہتے تھے یہ کیا ہو رہا ہے؟ کہتے یہ تو خود بھی ہنس رہا ہے، دوسروں کو بھی ہنسا رہے ہیں۔ یہ کون سی پیری مریدی ہے؟ لیکن بعد میں نتائج سامنے آ جاتے تھے، اور وہ آدمی جب اپنے غلط track سے صحیح track پہ آ جاتا تھا اور پھر ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ ان سے کام، پھر بعد میں پتہ چلتا تھا کہ اس میں کیا چیز تھی۔
ابھی حاجی عبد المنان صاحب بات کر رہے تھے نا ابھی، لوگوں کو بتا رہے تھے کہ حضرت مٹھائیاں کھلاتے تھے اور اس طرح وہ مختلف باتیں۔ تو فرماتے ہیں ہمارے students میں مشہور تھا کہ حضرت نے مٹھائی دم کی ہوتی ہے۔ یہ مٹھائی دم کی ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ اس لیے ہوتی ہے کہ ذرا اس طرف آ جائیں۔ تو دم تو دم تو تھا نا، ظاہر ہے وہ دم یہی تھا نا کہ دل کی توجہ تو یہی ہوتی تھی نا۔ یعنی دیتے تو بظاہر مٹھائی تھے، لیکن دل کی توجہ تو یہی تھی۔
یہ ہمارے اہل حدیث علماء بزرگوں میں سے بھی ایک صوفی تھے۔ لاہور میں، حضرت ابوبکر غزنوی رحمة الله عليه۔ مولانا احمد علی لاہوری رحمة الله عليه کے ساتھ بہت قریبی تعلق تھا۔ صوفی تھے پکے صوفی تھے، تھے اہل حدیث۔ تو یہ مجھے خود ہی I-8/4 میں ایک صاحب جو ان کی خدمت میں رہ چکے تھے، انہوں نے خود یہ واقعہ سنایا ہے۔ کہتے ہیں ایک شاعر تھے جو پیتے پلاتے تھے۔ کہتے ہیں اس نے کہا میں ان کی مجلس میں تب جاؤں گا کہ مجھے whiskey پلائیں گے۔ تو انہوں نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت اس طرح کہا ہے۔ فرمایا ٹھیک ہے لے آؤ، whiskey پلا دیں گے۔ کہتے ہیں وہ آ گیا۔ آ گیا تو ان کے لیے حضرت نے whiskey منگوائی۔ ان کے سامنے رکھی، کافی دیر ہوئی اس نے وہ نہیں اٹھایا۔ تو بعد میں اخیر میں جب حضرت نے کہا بھئی آپ نے whiskey منگوائی تھی، پی نہیں۔ تو اس نے کہا حضرت آپ پینے جو نہیں دے رہے۔ کہتے ہیں منگوائی تو ہے لیکن پینے تو نہیں دے رہے۔ یعنی قلبی توجہ یہ تھی کہ نہ پیئے۔ اور ظاہری طور پر یہ تھا کہ پی لے۔ تو لوگ تو ظاہر کو دیکھ رہے تھے، وہ اندر کا تو نظر نہیں آ رہا تھا، اندر کو تو صرف اس کو نظر آ رہا تھا۔ تو اس نے کہا حضرت آپ پینے جو نہیں دے رہے، آپ نے منگوائی تو ہے لیکن پینے نہیں دے رہے۔
تو ایسے ہی ہوتا ہے بعض دفعہ مطلب، تو اب مٹھائی دے رہے ہیں لیکن ساتھ کیا چیز دے رہے ہیں؟ وہ تو پھر اور چیز ہے نا۔ تو بظاہر تو گپ شپ ہے، بظاہر تو بے تکلفی کی باتیں ہیں۔ وہ مجھے خود یاد ہے کہ جب ہم مغرب کے بعد کبھی کبھی عشاء کے بعد نماز پڑھنے کے بعد حضرت سے رخصت ہوتے تھے تو جا کر مصافحہ ہم کرتے ہیں۔ تو مصافحہ میں کہتے ہیں، چھٹی؟ جی حضرت۔ ہاں چھٹی۔ مل گئی گھٹی؟ ہم نے کہا جی مل گئی، اچھا ٹھیک ہے جاؤ۔ اللہ کے حوالے! بس ظاہر ہے اسی طریقے سے لگایا ہوا تھا۔ تو میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ ذکر والی جو بات شروع ہوئی تھی، کہ اصل میں غفلت جس کو ہم کہتے ہیں، غفلت انسان جس وقت اللہ جل شانہٗ کے موجودگی کے ادراک سے غافل ہو جائے وہ غفلت ہے، وہ غفلت ہے۔ ایک آدمی بے شک زبان سے ذکر کر رہا ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا ادراک اس کو حاصل نہ ہو، تو غافل ہے۔ ٹھیک ہے اگرچہ نہ ہونے سے پھر بھی بہتر ہے کیونکہ اس طرح بھی ہو سکتا تھا کہ غافل بھی ہو اور ذکر بھی نہ کر رہا ہو۔ یہ بھی تو ہو سکتا تھا، تو اس سے تو کم درجہ ہے۔ اس لیے حضرت نے جو فرمایا تھا، حضرت گنگوہی رحمة الله عليه نے کہ چاہے ذکر کتنی غفلت سے کیوں نہ کیا جائے، پھر بھی اثر کرتا ہے۔ تو غفلت تو ساتھ بتا دیا نا، تو ذکر کے ساتھ غفلت کیسے ہو؟ عام لوگ تو نہیں سمجھتے۔ لیکن یہ بھی تو بات ہے نا کہ بعض دفعہ انسان زبان سے ذکر کر رہا ہوتا ہے، لیکن اس کا دل کہیں اور ہوتا ہے۔ تو ہے تو غافل، کیونکہ اصل تو دل ہے۔ لیکن بہرحال زبان ذکر کر رہا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کی غفلت کم ہے۔ بمقابلہ اس شخص کے جس کا دل بھی غافل ہو، زبان بھی غافل ہو۔
تو جس شخص کا دل غافل نہیں ہے، زبان رکا ہوا ہے، تو وہ غافل نہیں ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی زبان بھی ذکر کر رہا ہوتا ہے اور دل بھی کر رہا ہوتا ہے، اور یہی زیادہ recommended ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان پر ذکر جب کر رہا ہوتا ہے تو وہ زبان سے دل پہ شفٹ ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ زبان والا ذکر بھول جاتا ہے۔ خیال ہی نہیں رہتا کہ میں زبان سے ذکر نہیں کر رہا ہوں۔ کچھ دیر کے بعد اس کو یاد آتا ہے اچھا! میرے نے تو زبان کا ذکر روکا ہوا تھا۔ اس وقت پھر اس کو یاد آتا ہے پھر شروع کرتا ہے۔ پھر جس وقت تھوڑی دیر کے بعد وہ خیال نہیں رہتا، پھر وہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ اس طرف چلا گیا ہوتا ہے۔ تو یہ مزاجوں کا فرق ہوتا ہے۔ مزاجوں کا فرق ہوتا ہے۔
میں نے حضرت سے ایک دفعہ ذکر کیا اس طرح کہ حضرت میں تو ذکر شروع کر لیتا ہوں پھر زبان بند ہو جاتی ہے، پتہ ہی نہیں چلتا۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ زبان بند ہو گئی۔ ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے، بس وہ پھر جب یاد آ جائے تو پھر کرو۔ جب یاد آ جائے تو پھر کرو۔ تو خیر بہرحال یہ ہے کہ لیکن اخیر میں حضرت نے فرمایا مجھے پہلے بھی لگتا تھا کہ آپ کا ذوق نقشبندی ہے، اب تو یقین ہو گیا۔ تو اصل میں یہی ذوق کی بات تھی۔ کہ وہ جو نقشبندی حضرات ہوتے ہیں، ان کا یہ ہوتا ہے کہ ان کی زبان والی بات نہیں چلتی۔ اب ظاہر ہے میں نقشبندی طریقے سے تو نہیں کیا ہوا تھا میں نے کام۔ طریقہ تو ہمارا چشتی تھا۔ یہی جیسے بارہ تسبیح کا ذکر ہوتا ہے۔ لیکن مزاج کو تو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا تھا۔ مزاج تو مزاج ہوتا ہے، اور جس کا مزاج جو اللہ نے بنایا ہوا ہے، تو وہ تو ہوگا۔ تو بہرحال یہ ہے کہ میں اس ذکر میں بھی، یعنی مطلب change ہو گیا۔ change ہو گیا تو میں نے حضرت کو پھر میں نے بتایا، میں نے کہا کہ اس طرح یعنی مطلب، حضرت فرماتے ہیں اچھا ٹھیک ہے جب یاد ہے پھر کر لیا کرو۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ والی بات غفلت اور ذکر۔ اس میں یہ بات ہے کہ غافل ہونے سے مطلب اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا جو ادراک ہے، وہ نہ ہونا۔ یہ غفلت ہے۔
صورتیں ذکر کی کئی ہو سکتی ہیں، مختلف ہیں۔ کوئی خیال سے ذکر کرتا ہے، کوئی دل سے کرتا ہے، کوئی زبان سے کرتا ہے۔ کوئی دونوں سے کرتا ہے، کوئی سانس سے کرتا ہے۔ وہ صورتیں مختلف ہیں۔
دوسری دوامِ طاعت کہ نافرمانی بالکل نہ ہو۔
دوامِ طاعت، وہی والی بات کہ attentive رہے آدمی، کوئی درمیان میں نافرمانی کی صورت پیدا نہ ہو۔
اصل مامور بالتحصیل یہی چیزیں ہیں اور اسی کے لیے سب مجاہدات اور معالجات اختیار کیے جاتے ہیں جن پر حسبِ سنتِ اللہ وہ مقصود مترتب ہو جاتا ہے۔ اولاً قدرے تکلف ہوتا ہے، بعد چندے (جس کی مدت معین نہیں، استعداد پر ہے) مثل امر طبعی کے ہو جاتا ہے۔ گو احیاناً ضد کا تقاضا بھی ہوتا ہے مگر ادنیٰ توجہ سے وہ ضد مغلوب ہو جاتی ہے، اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔
وہی پہلے رسوخ کی کشاکشی والی بات کی نا؟
اس رسوخ و ثبات کو مقام کہتے ہیں۔ پس یہ فی نفسہٖ غیر اختیاری ہے لیکن باعتبار اسباب کے اختیاری ہے۔ اور یہی رسوخ و ثبات اس حیثیت سے کہ غلبۂ ذکر و دوامِ طاعت کا ملزوم ہے، نسبت کہلاتا ہے
یعنی مطلب یہ ہے کہ صاحبِ مقام بن جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد اس مقام میں البتہ پھر تفصیلات ہیں۔ کہ بعض کا جو بعض چیزیں زیادہ واضح ہوتی ہیں دوسروں کے مقابلے میں۔ یعنی ان میں superiority ہوتی ہے۔ جیسے ابوبکر صدیق رضی الله عنه کی صداقت ہے اور عمر رضی الله عنه کی فراست ہے اور علی رضی الله عنه کی شجاعت ہے اور عثمان رضي الله عنه کی حیا ہے، سخا ہے۔ تو ایسے ہی ہوتا ہے کہ بعض کا مقام بعض چیزوں میں ممتاز ہوتا ہے۔ تو ان کے ساتھ پھر یہی ہوتا ہے یہ ان کے لون ہوتے ہیں، رنگ ہوتے ہیں۔
کسی کے اندر انتظام زیادہ پایا جاتا ہے۔ کسی کے اندر سخاوت زیادہ پایا جاتا ہے۔ کسی کے اندر جو ہے نا وہ تعلیم زیادہ پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ بزرگوں کے اپنے رنگ ہوتے ہیں مختلف۔ کسی کے اندر شفقت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔ تو کسی کے اندر قانون، اس کا مطلب زیادہ ہوتا ہے۔ تو یہ سارے رنگ ہیں، لیکن بہر حال سب صاحبِ مقام ہوتے ہیں۔ ان کا اپنا اپنا مقام ہوتا ہے۔ تو یہی مقامات ہوتے ہیں جو بزرگوں کے ہوتے ہیں۔ تو اس پر جو ہے نا وہ حضرت ہمارے کاکا صاحب رحمة الله عليه سے، اپنے بیٹے نے پوچھا، مولانا عبد الحلیم صاحب رحمة الله عليه نے، کہ بابا ہر بزرگ کا اپنا مقام ہوتا ہے، آپ کا کون سا مقام ہے؟ تو ظاہر ہے وہ پوچھنا چاہتے تھے۔ فرمایا بیٹا میں نے بزرگی بزرگوں کے لیے چھوڑی ہے، اور علم علماء کے لیے چھوڑا ہوا ہے، درویشی درویشوں کے لیے چھوڑی ہے۔ میری گردن کے اندر اللہ نے جو طوق ڈالا ہوا ہے شریعت کا، میرا دل چاہتا ہے کہ بس موت تک اسی میں رہوں۔ یہی میرا مقام ہے۔
اسی مقام کو عبدیت کہتے ہیں۔ یہ سب سے اونچا مقام ہے۔ عبدیت۔ لیکن جاننے والے ہو نا کوئی۔ پھر پتہ چلتا ہے نا۔ یعنی اتنا اونچا مقام ہے کہ آپ ﷺ کے لیے، جب ہم شہادت دیتے ہیں تو اس کا ذکر پہلے ہوتا ہے، رسالت کا بعد میں ہوتا ہے۔
أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
یعنی پہلے ہم آپ ﷺ کی عبدیت کی شہادت دیتے ہیں، پھر اس کے بعد رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ کتنا اونچا مقام ہے۔ لیکن عموماً لوگ کے ذہن میں اس کا اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ لوگ وہ بزرگی والی لائنیں جو ہے نا وہ زیادہ prefer کرتے ہیں، استغراق کی، اور استغنا کی اور وہ جو کتابوں میں واقعات لکھے ہوتے ہیں، کشف، کشفِ اسرار کی، اور مختلف چیزوں کی تو لوگ اس پہ عاشق زیادہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بس یہ سب سے اونچا مقام ہے جی۔ کوئی ہوا میں اڑتے ہوئے کو بزرگ سمجھ رہے ہیں کوئی۔کسی کے اوپر جو تصرف کر رہے ہوتے ہیں تو ان کو بڑا بزرگ سمجھتے ہیں۔ تو یہ چیز نہیں ہے۔ وہ حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کا قول ہے کہ اگر کوئی پانی کے اوپر چلتا ہے، تو مچھلی پانی کے اندر چلتی ہے۔ اور اگر کوئی ہوا کے اوپر چلتا ہے تو مکھی بھی ہوا میں چلتی ہے۔ تو آپ غیر انسانی چیزوں کو کیوں ثابت کرتے ہو انسانوں کے لیے؟ ان کی نظروں میں یہ چیزیں ایسی تھیں۔ لیکن لوگوں کی نظروں میں تو یہ بہت اونچی چیز ہے نا۔ واقعی اگر کوئی آپ کے سامنے ہوا میں اڑے، تو آپ کیا کہیں گے؟ آپ کہیں گے واہ جی واہ! کیا بات ہے۔ تو خیر یہ تو ہوا میں اڑنے کی تو دوسری باتیں ہیں۔ تو ذرا تھوڑا سا کشف ہونے لگے نا کسی کو بتا دے کہ بھئی وہ فلاں آپ کے گھر میں آپ نے فلاں چیز رکھی ہوئی ہے کیا ہے۔ تو بس پھر تو ایسا معتقد ہو جائے گا کہ اس کے عقیدے کا بھی پرواہ نہیں کرے گا کہ اس کا عقیدہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ بس اس پہ فدا ہو جائے گا۔ تو یہ اصل میں عوامی وہ ہے، جس کو کہتے ہیں ادراک ہے۔ عوام ان چیزوں کو ایسا سمجھتے ہیں۔ لیکن جو بزرگ ہوتے ہیں، جو اللہ والے ہوتے ہیں جو صحیح معنوں میں، ان کی نظر ان چیزوں پہ ہوتی ہے۔ وہ اس چیز کو ڈھونڈتے ہیں کہ آیا ان کو یہ چیز حاصل ہے یا نہیں ہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ۔
(یعنی حضرتِ حق سے ایسا تعلق قوی جس پر غلبۂ ذکر اور دوامِ طاعت کا ترتب لازم ہو)، نسبت کہلاتا ہے۔۔۔ اور اس نسبت من العبد پر ایک دوسری نسبت من الحق موعود ہے، یعنی رضا و قرب۔ پس اہل طریق جب لفظ نسبت کا اطلاق کرتے ہیں، مراد ان ہی دو نسبتوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ صرف ملکۂ یاد داشت جس میں بہت سے غیر محقق دھوکہ میں ہیں۔
صرف ملکہ یاداشت نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ دونوں چیزیں ہوں۔ ایک یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کی موجودگی کا ادراک ہو، تاکہ غفلت نہ ہو۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کا فرمانبردار ہو۔ اس وقت کا تقاضا جو بھی ہے۔ وقت کے تقاضے کی پہچان ہو اس کو، اور پھر اس کے مطابق چلتا ہو۔ اب ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے، سامنے کوئی شخص کنویں میں گر رہا ہے۔ اس وقت وہ کوئی زیادہ بزرگی کرے گا تو نماز تو نہیں توڑے گا۔ وہ کہے گا ظاہر ہے مطلب یہ کہ نماز... لیکن اس وقت حکم کیا ہے؟ نماز توڑ کر اس کو بچا لو، پھر اس کے بعد دوبارہ نماز دہرا لو۔ نماز وقت کے اندر اندر، ہو سکتا ہے۔ تو ہر چیز کا اپنا ایک مطلب ہوتا ہے، وقت ہوتا ہے، اور حکم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی پہچان۔
جیسے میں نے خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمة الله عليه کا واقعہ بتایا، کہ وہ جس جماعت کے ساتھ جا رہے تھے تو ان کو گپ شپ میں لگایا ہوا تھا، اور ان کو جو ہے نا کبھی شعر سنا رہے ہیں کبھی لطیفے سنا رہے ہیں۔ لیکن اخیر میں پوچھ رہے ہیں کہ آپ میں سے کوئی غافل ہو گیا تھا؟ تو سب نے کہا جی ہم غافل ہو گئے تھے۔ فرمایا الحمد للہ میں غافل نہیں ہوا تھا۔ یہ کون سی بات ہے؟ تو یہ اصل میں ادراک ہے اس بات کا کہ اس وقت اللہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اس وقت اللہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ تو یہ چیز جو ہے نا یہ معرفت ہے۔ یہ جو درمیان میں مسئلہ ہو گیا نا مطلب، نسبت حاصل ہو گیا۔ اب اس وقت اس کو احساس ہو جانا، ادراک ہو جانا کہ اس وقت اللہ مجھ سے یہ چاہتے ہیں اس مسئلے میں، یہ معرفت ہے۔ اور ایسے شخص کو کہتے ہیں عارف۔ اللہ کی منشا کو جاننے والے شخص کو عارف باللہ کہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی بنا دے۔