اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
فرمایا:
طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق
یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے راستے اتنے ہی ہیں جتنے کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک کے ساتھ اپنا مختلف معاملہ ہے۔ وہی اگر ہم دیکھیں وہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں وہ شبان تھے جو گڈریا تھے اور کہتے تھے: یا اللہ تو کدھر ہے؟ میں تیرے جوئیں نکالوں، میں تیرے پیر دبا دوں۔ یہ ہوگیا اور یہ کروں وہ کروں۔ موسیٰ علیہ السلام تو پیغمبر تھے اور وہ بھی جلالی، تو اس کو ایک تھپڑ مارا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو اللہ کے بارے میں؟ اللہ کے بارے میں کوئی اس طرح کہتا ہے؟ تو وہ تو روتا ہوا جنگل کی طرف چلا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی آگئی کہ موسیٰ ہم نے تو تجھے جوڑنے کے لیے بھیجا ہے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا۔ یہ تو میرا بندہ تھا مجھ سے اپنے فہم کے مطابق بات کر رہا تھا۔ تو نے اس کو کیوں مجھ سے جدا کیا؟ موسیٰ علیہ السلام کو احساس ہوگیا، توبہ کر لیا اور ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ یہ تو ولی اللہ ہے اللہ کا دوست ہے اس کے پیچھے پیچھے بھاگا۔ پہنچے ادھر ادھر، اس سے کہا جی مجھے معاف کردو میں نے آپ کو تھپڑ مارا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس نے کہا موسیٰ کیا کہہ رہے ہو؟ تو نے تو مجھے جانِ جاناں کے ساتھ ملا دیا۔ اس تھپڑ نے مجھے کہاں پہنچا دیا۔اس سے پتہ چلا ہے کہ جو اہل حال ہوتے ہیں، ان کو اہل قال کی قدر کرنی چاہیے اور اہل قال کو اہل حال کی قدر کرنی چاہیے۔
موسیٰ علیہ السلام اہل قال تھے، یعنی اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے اور شریعت نافذ کرنے والے تھے، تو انہوں نے تو قال کے مطابق فیصلہ کر دیا لیکن ظاہر ہے اللہ پاک نے اس کو اس طرف لے گیا کہ اس کا قدر کرو، جو میرا بندہ ہے۔ اور دوسری طرف اس اہل حال کو یہ جذبہ عطا فرمایا کہ یہ تو اہل قال ہیں، پیغمبر ہیں۔ لہٰذا مجھے اس کی بات ماننی چاہیے۔
یہی کمال کی بات ہے۔ تو اس لیے جو صوفیائے حق ہوتے ہیں، وہ علمائے حق کے تابع اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور جو علمائے حق ہوتے ہیں، وہ صوفیائے حق کے ارد گرد پھرتے رہتے ہیں۔ ان سے جدا اپنے آپ کو نہیں کرتے، جیسے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس، اس طرح جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ) کے پاس وغیرہ۔ اور اس طرح جو ہمارے جو تھے، حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ساتھ ہمارے علمائے کرام کا، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ جیسے بڑے حضرات ہیں۔ تو یہ اصل میں جب دونوں طرف معاملہ ٹھیک ہوتا ہے تو ان میں جوڑ ہوتا ہے۔ اور جب دونوں طرف معاملہ ٹھیک نہیں ہوتا تو ایک دوسرے کے مخالف ہوتے ہیں۔ خشک علماء صوفیاء کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور جو دنیا دار صوفی ہوتے ہیں وہ علماء کے خلاف ہوتے ہیں۔
لیکن جو اہل حق علماء ہوتے ہیں، وہ اہل حق صوفیاء کے ساتھ اپنے آپ کو رکھتے ہیں اور جو اہل حق صوفیاء ہوتے ہیں، وہ علمائے کرام کا اپنے آپ کو خادم سمجھتے ہیں، اس طریقے سے جوڑ آتا ہے۔
عطر تصوف:
ارشاد: (1) اختیاری امور میں کوتاہی کا علاج بجز ہمّت اور استعمال اختیار کے کچھ نہیں اسی پر مدار ہے تمام اصلاحات کا اور یہی ہے اصل علاج تمام کوتاہیوں کا سارے افعال شرعیہ اختیاری ہیں ورنہ نصوص کی تکذیب لازم آتی ہے پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہو گی۔ لیکن اس کا علاج بھی یہی ہے کہ باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بہ تکلف اور بجبر کام لیتا رہے رفتہ رفتہ وہ کلفت مبدل بسہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیار اوامر اور اجتناب نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔ اور اوّل اوّل تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے اور پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمّت ہار دی تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں۔
یہ ہر فن میں ہے صرف دینی امور میں نہیں ہے۔ اب کوئی بھی شخص، مثال کے طور پر، کوئی Study کرنا چاہتا ہے، تو Study کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یعنی اخبار پڑھنا بہت آسان ہے، لیکن یہ اخبار آپ کورس میں ڈال دو تو بہت مشکل ہے۔ پھر نہیں پڑھ سکتے۔ اگر آپ سے سوال کیا جائے کہ آج کے اخبار میں کیا ہے؟ اور فلاں چیز کے بارے میں کیا تھا؟ پھر؟ مشکل ہو جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو پھر اس پر قابو پانے کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے۔ تو جو دنیاوی چیزیں ہیں، اس کے بارے میں تو لوگوں کے اپنے اپنے Experiences ہیں۔ لوگوں نے اپنی اپنی ترتیبیں بنائی ہوئی ہوتی ہیں، ان گھاٹیوں کو کراس کرنے کے لیے۔ لیکن جو دینی کام ہے وہ ہمارے لیے آپشنل تو ہے نہیں، بلکہ اس کے لیے کوئی باقاعدہ انتظام ہونا چاہیے، تربیت کا۔ تاکہ ہم اپنے وقت کو ضائع نہ کریں۔ تو اس طریقے سے پہلے طریقہ یہ ہے کہ، بجبر اپنے آپ کو مجبور کیا جائے کہ یہ کام میں نے کرنا ہے۔ اور اس کے لیے سہولتاً کچھ اختیاری مجاہدات اگر سکھا دیے جائے، کروادیے جائے تو اس سے سہولت ہو جائے گی۔ اور پھر اس کا بعد آہستہ آہستہ آسانیاں آتی جائے گی۔ یہاں تک کہ ایسا ہو جائے گا تو اس کو چھوڑنا مشکل ہو جائے گا۔ وہ جو کام ہے، وہ چھوڑنا مشکل ہو جائے گا۔
مسئلہ اختیار
مسئلہ اختیار کا اس قدر ظاہر ہے ہر شخص اپنے اندر صفت اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت ہوتی ہے اگر وہ اپنے کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی۔ انسان تو انسان جانوروں تک کو اس اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو مارنے والے پر حملہ کرتا ہے نہ کہ لکڑی پر۔ اس کو بھی یہ امتیاز ہوتا ہے کہ کون مختار ہے اور کون مجبور۔ حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے۔
زارئی ما شد دلیل اضطرار
خجلت ما شد دلیل اختیار
"زارئی ما شد دلیل اضطرار" میری جو زاری ہے، میں جو اللہ کے سامنے رو رو کے زاری کرتا ہوں، یہ اضطرار، ثبوت ہے۔ کہ میں اپنے آپ کو مجبور پا رہا ہوں۔ اور میں جب کسی چیز کو غلط کرتا ہوں، اس پر مجھے خجلت ہوتی ہے۔ تو یہ اختیار کی علامت ہے کہ میں اپنے آپ کو مختار سمجھتا ہوں۔ ورنہ جو مجبور ہے، مجبوری میں تو انسان کچھ نہیں feel کرتا کہ یہ۔ کیونکہ ظاہر ہے اس کو وہ ہی نہیں۔
غرض نہ خالص جبر ہے نہ خالص اختیار ہے۔ اختیار خالص نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ماتحت ہے اختیار حق کے، مستقل اختیار نہیں ہے۔ غرض کہ سالک جب تک صفتِ اختیار کو استعمال نہ کرے گا۔ اصلاح ممکن نہ ہو گی، مثلًا کسی میں بخل ہے تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ و برکت سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہ ہو گا۔ بلکہ نفس کی مقاومت ہی سے زائل ہو گا گو ذکر و شغل وغیرہ معین ضرور ہو جائیں گے مگر کافی ہرگز نہیں ہو سکتے اس طریقہ میں تو کام ہی سے کام چلتا ہے نری تمناؤں یا نری دعاؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔
یہ حضرت نے بہت بڑا علم دیا ہے، لیکن اللہ کرے ہم سمجھ جائیں۔ بہت سارے لوگ اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی کف کرے۔ اور اس سے میرے سارے رزائل دور ہو جائیں، اور اشکالات ختم ہو جائیں اور بس ایک ٹھیک طریقے سے میں سب کچھ کرنے لگوں۔ اور گناہوں سے بچنے لگوں۔ تو بھئی اگر ایسا ہو جائے تو پھر کس کے لیے مشکل ہے۔ پھر تو ہر ایک آدمی کہے گا کہ بھائی جب تک مجھ پر کف نہیں ہوتا تو اس وقت تک میں مجبور ہوں۔
یہاں سہولت کے طریقے بتائے جاتے ہیں، ہمت دلائی جاتی ہے، ٹریننگ کروائی جاتی ہے۔ لیکن کرنا خود ہے۔ کرنا خود ہے۔ یہ نہیں کہ انسان چُف سے سیدھا ہو جائے گا۔ نہیں، چُف نہیں۔ چُف سے بھی کام نکلتے ہیں، لیکن طریقے سے، اس کے اپنے طریقے ہیں۔ مطلب اس میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جو صاحب اللہ تعالیٰ سے لینے کا ذریعہ ہے۔ کوئی اتنے مشقت و مجاہدہ کر لیں گے، کہ اس کو محبت ہو جائے گی اور اس محبت کے ذریعے سے کوئی تصرف اللہ تعالیٰ ان سے کروا دے گا اور آپ کا کام ہو جائے گا، لیکن وہ جو پہلے کوشش کی ہے، اس کی بنیاد بن گئی نا۔ وہ جو شابھیک رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ۔ تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔ ہمت کرتے رہنا چاہیے۔ سیکھنا چاہیے۔ اور اپنے آپ کی تربیت کروانی چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فضل فرما دے۔ ہو جائے گا کام۔
کار کن کار بگذر از گفتار
کاندریں راہ کار باید کار
اصل میں کہتے ہیں کام کرو، کام کرو، باتیں کرنا چھوڑ دو۔ اصل میں کام ہی سے کام ہوتا ہے۔
تصرف اور ہمت و اعمال کے اثر کا فرق
(3) اگرچہ خیال ہو کہ بعض بزرگ کی توجہ سے بڑے بڑے بدکاروں کی خود بخود اصلاح ہو گئی ہے تو یہ ایک قسم کا تصرف ہے اور ایسا تصرف نہ اختیاری ہے نہ بزرگی کے لیے لازم ہے بہت سے بزرگوں میں تصرف مطلق نہیں ہوتا، نیز تصرف کے اثر کو بقاء نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص تنور کے پاس بیٹھ گیا تو جب تک وہاں بیٹھا ہوا ہے تمام بدن گرم ہے۔ مگر جیسے ہی وہاں سے ہٹا پھر ٹھنڈا کا ٹھنڈا۔ بخلاف اس کے جو ہمت اور اعمال کے ذریعہ سے اثر ہوتا ہے وہ باقی رہتا ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے کشتہ طلا کھلا کر اپنے اندر حرارت غریزی پیدا کرلی ہو تو اگر وہ شملہ پہاڑ بھی چلا جائے گا تب بھی وہ حرارت بدستور باقی رہے گی۔
ایسے ہوتے ہیں، بعض لوگ توجہ ڈالتے ہیں۔ توجہ کا اثر فوری ہو جاتا ہے۔ فوری سے یہ ہے کہ مطلب آدمی سمجھتا ہے، بس، اب سب رزائل نکل گئے، سب ٹھیک ہوگیا، اور رونا دھونا شروع ہوتا ہے، اعمال۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد وہ زائل ہو جاتا ہے، Natural۔ اب اگر اس نے اس Momentum سے فائدہ اٹھایا ہوتا اور کام شروع کر لیا ہوتا، تو یہ سہولت تھی، جیسے گاڑی کھڈے میں پھنس جائے۔ تو آپ گاڑی کو کھڈے سے نکالنے کے لیے لوگ جمع کر لیتے ہیں، اور کہتے ہیں، اے ہوں! اے ہوں کرکے وہ گاڑی نکل جاتی ہے، پھر اس کے بعد گاڑی خود چلنا شروع کر لیتی ہے۔ تو یہ تو نہیں کہ ہر وقت "اے ہوں" سے معاملہ چلے گا۔ تو اگر آپ نے اس سے یہ فائدہ اٹھایا ہے، پھر تو ٹھیک ہے۔ اور اگر آپ نے کہا جی اب دوبارہ "اے ہوں" ہوجائیں تو یہ معاملہ ٹھیک نہیں چلے گا۔ بہت سارے لوگ اس وجہ سے روتے ہیں۔ ایک صاحب کسی اور سلسلے سے آئے تھے جہاں اس قسم کی توجہ سے کام لیا جاتا تھا۔ تو وہ مراقبات اور پتا نہیں کیا کیا بتا رہے تھے اپنی تفصیلات۔ لیکن پتا چلا کہ فجر کی نماز ندارد۔ میں نے اس سے کہا، "بھئی یہ کیا ہے؟ یہ تو فرض ہے۔ آپ کے مراقبوں کا کیا فائدہ جب آپ فرض چھوڑ دیں؟ اس کا مطلب ہےکہ مراقبہ سے آپ وقتی طور پر جو چیز آپ حاصل کر لیتے ہیں، واپس اس کو ضائع کر لیتے ہیں۔ تو آپ اپنے فرض نماز کو تو مکمل کر لیں پہلے۔ ساری چیزیں اس کے بعد ہیں۔ الحمدللہ اس نے مجاہدہ کیا اور اس نے پھر نماز شروع کر لی۔ اور بہت خوش تھا کہتے ہیں یہاں آکے مجھے یہ چیز مل گئی۔ مقصد یہ ہے کہ ہم لوگوں کو شریعت پر عمل کرنا چاہیے۔ اور اس پر عمل کرنے میں سہولت کو پیدا کرنے کے لیے طریقت سے کام لینا چاہیے، اپنی تربیت کروانا چاہیے۔ اور اس کے لیے شیخ کا ہونا ضروری ہے، کسی شیخ کامل کو تلاش کرنا چاہیے۔
ذکر میں ضرب کا حکم:
ارشاد:طریقِ خاص ضرب میں نہ مقصود ہے نہ موقوف علیہ برائے مقصود۔ جس طرح بے تکلّف بن جائے کافی ہے۔
ایک بات ہم لوگ اگر اچھی طرح سمجھ جائیں تو ساری بات سمجھ میں آ جائے گی۔ کچھ مقاصد ہوتے ہیں، کچھ ذرائع ہوتے ہیں، کچھ زوائد ہوتے ہیں۔ مقاصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے جس کا حکم شریعت دیتا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور اس کا حکم نہیں دے سکتا۔ یعنی مقاصد کا قرآن اور سنت سے ثابت ہونا ضروری ہے، یعنی ان کا منصوص ہونا ضروری ہے۔ جو ذرائع ہیں وہ مقاصد میں نہیں آتے، مقصود نہیں ہوتے، لیکن وہ مقصود ان ذرائع کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ چونکہ کسی مقصد کو کئی ذرائع سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً میں لاہور جانا چاہتا ہوں، تو میں موٹروے کے راستے سے بھی جا سکتا ہوں، جی ٹی روڈ کے ذریعے سے بھی جا سکتا ہوں ، By air بھی جا سکتا ہوں اور بھی راستے ہوں گے۔ تو یہاں اگر مقصد میں لاہور کو سمجھوں تو یہ جو راستے ہیں یہ ان کے ذرائع ہیں۔ اس کے علاوہ میں اپنی گاڑی پہ جا سکتا ہوں، بس پہ جا سکتا ہوں، پیدل جا سکتا ہوں، موٹر سائیکل پہ جا سکتا ہوں، یعنی جو بھی ان کے ذرائع بن سکتے ہیں، بن سکتے ہیں۔ آسان اور مشکل کی بات ہوتی ہے۔ مثلاً جہاز پہ جانے میں سہولت ہے اور پیدل جانے میں مشکل ہے اور باقی درمیان کے ہیں۔ لیکن مقصد ان تمام ذرائع کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ بس اگر میں کسی چیز کے بارے میں کہہ دوں کہ یہ ذریعہ ہے، تو اس کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ ذریعہ مقصد نہیں ہوتا، ذریعہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا جس جائز طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے تو حاصل کیا جائے۔
جائز طریقے سے کیا مراد ہے؟ جائز طریقے سے مراد ہے کہ اس کی شریعت میں ممانعت نہ ہو۔ مثلاً میں پانی کے ذریعے سے بھی کسی چیز کو دھو سکتا ہوں، عرقِ گلاب کے ذریعے سے بھی دھو سکتا ہوں، اور کسی اور پاک چیز، جو Solvent ہے اس کے ذریعے سے بھی دھو سکتا ہوں۔ لیکن پیشاب کے ذریعے سے نہیں دھو سکتا، الکوحل کے ذریعے سے نہیں دھو سکتا، کیونکہ شریعت میں اس کی ممانعت ہے۔ تو اس کے علاوہ جتنے طریقے ہیں وہ سارے کے سارے جائز ہیں، ضروری نہیں ہیں۔ جس طریقے سے بھی ہو جائے، ان کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن اس کا شریعت کے ساتھ مقابل ہونا نہیں ہونا چاہیے، یعنی شریعت میں اس کی ممانعت نہیں ہونی چاہیے۔ جب یہ بات سمجھ میں آ گئی تو اب ذکر کیا ہے؟ یہ اللہ کی یاد کو کہتے ہیں، یعنی اللہ پاک کو یاد کرنا۔ پھر اللہ کو یاد کرنا دو طریقے سے ہے۔ ایک اللہ کو یاد کرنا محض اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے جو طریقے، وہ اذکار جو مسنون ہیں، جو سنت سے ثابت ہیں وہ بھی ظاہر ہے مطلب اللہ کو یاد، جیسے سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْم اس کی فضیلت بیان کی، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ، استغفار، درود شریف، کلمہ طیبہ، قرآن پاک کی تلاوت؛ تو یہ سارے کے سارے منصوص اذکار ہیں۔ اور اس کے کرنے پر اجر ملتا ہے اور اس میں اجر کی نیت کرنی چاہیے۔ اس میں اجر کی نیت کرنی چاہیے کیونکہ یہ اجر کے لیے ہیں۔
اجر کی نیت کیوں کہا؟ مثلاً ایک شخص ہے وہ کہتا ہے قرآن میں شفا ہے اور قرآن کو شفا حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے، اس میں اس کی ثواب کی نیت نہیں ہے تو اس کو شفا مل جائے گی، ثواب نہیں ملے گا۔ اور اگر ثواب کی نیت کر لے گا تو شفا بھی مل جائے گی اور ثواب بھی مل جائے گا۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث شریف ہے کہ ایک شخص روشن دان بنا رہا تھا، پوچھا یہ کس لیے بنا رہے ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! اس میں سے روشنی آئے گی، اس میں ہوا آئے گی۔ فرمایا: ہاں! اگر اس میں یہ نیت کرتے کہ اس میں اذان کی آواز آئے گی تو ہوا اور روشنی تو آ ہی جاتی، لیکن ساتھ ثواب بھی ملتا۔ تو اس وجہ سے ان چیزوں میں ثواب کی نیت کو کرنا چاہیے۔ مثلاً وضو میں کرتا ہوں، تو وضو میں وضو کی نیت نہ کرے تب بھی اس کا وضو ہو جائے گا۔ اگر وہ اعضاء دھولیں، یا ویسے دھل جائیں، بس دریا میں گر گیا پھر اٹھا تو اس کا وضو ہو گیا۔ بارش ہو گئی، اس کا سارا جسم بھیگ گیا، جو اعضاء وضو میں ہوتے ہیں وہ بھیگ گئے، تو اب اس کا وضو ہو گیا۔ لیکن اس کو وضو کا ثواب نہیں ملے گا۔ اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے لیکن اس وضو سے اس کو وضو کا ثواب نہیں ملے گا۔ لیکن اگر اس نے وضو کی نیت کر لی، تو ثواب مل جائے گا وضو کا اور ساتھ ساتھ نماز بھی پڑھ لے گا اس سے۔ اس وجہ سے جو منصوص چیزیں ہیں، اس کے اندر نیت بھی منصوص ہونی چاہیے۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
لیکن اگر میں علاج کے لیے ذکر کرتا ہوں تو علاج کے لیے جو ذکر ہے، یہ منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ علاج کس چیز کا کیا جاتا ہے؟ دل کا۔ دل کا علاج منصوص ہے۔ ذکر سے ہو سکتا ہے، حدیث شریف میں آتا ہے۔ لیکن اس کا طریقہ منصوص نہیں ہے کہ کس طریقے سے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگ ہیں، اتنے طریقے ہیں۔ کوئی گرم طبیعت کا ہے، کوئی سرد طبیعت کا ہے، کوئی دیہاتی ہے، کوئی پہاڑی ہے، کوئی شہری ہے، کوئی تاجر ہے، کوئی ملازم ہے، مطلب ہر ایک کے حالات الگ الگ ہیں۔ حتی کہ بھائیوں کے حالات ملتے نہیں آپس میں، ایک بھائی دوسرے بھائی سے نہیں ملتا۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ہر ایک کے لیے الگ طریقہ ہو گا کیونکہ علاج الگ طریقے سے ہونا چاہیے۔ جنکا جونسا مزاج ہے، اس طریقے سے ہونا چاہیے۔ تو اس وجہ سے کوئی خاص طریقہ اس کا متعین نہیں کیا جا سکتا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ تو کر سکتے تھے، لیکن اس کے لیے پورا نظام، تو ایسا نہیں کیا۔ تو اس کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ البتہ یہ الگ بات ہے، مثال کے طور پر میں ویسے بیٹھوں اور سوچنے لگوں اللہ تعالیٰ کے بارے میں تو ٹھیک ہے اس سے بھی فائدہ ہوگا۔ لیکن میں اگر اللہ کا نام بھی ساتھ ساتھ لینے لگوں اور اللہ کا نام لینے کے لیے کوئی خاص طریقہ بھی وضع کر لوں۔ مثال کے طور پر ضرب ہے، ضرب سے مراد یہ ہے کہ میں ایک چیز کو راسخ کرنا چاہتا ہوں، اپنے دل میں، اپنے دل کو اس کے ذریعے سے جگانا چاہتا ہوں۔ تو اس صورت میں فائدہ زیادہ ہو جاتا ہے، تجربے سے پتا چلا ہے۔ تو ضرب اس لیے شروع ہو گیا۔ جہر اس لیے شروع ہو گیا کہ ویسے اگر میں کروں ذکر بغیر جہر کے، تو خیالات بہت سارے آتے ہیں۔ اکثر مجھ سے شکایت ہوتی ہے مراقبہ میں خیالات کے آنے کی۔ باقی دوسرے اذکار میں، شکایت بہت کم آتی ہے۔ یعنی لا الہ الا اللہ کا جو جہری ذکر ہم کرتے ہیں، الا اللہ کرتے، اس میں شکایت کم آتی ہے۔ لیکن جو مراقبہ میں بتاتا ہوں تو خواتین سے بھی شکایت آتی ہے اور مَردوں سے بھی شکایت آتی ہے کہ ہمارے خیالات اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں۔ تو اب یہ جو خیالات کو دور کرنے کے لیے جہر ایک ذریعہ بن سکتا ہے، تو ٹھیک ہے ایک علاج کا طریقہ ہو گیا۔ اس کے ذریعے سے یکسوئی حاصل ہو سکتی ہے، میں اس کی مثال دیتا ہوں، گرمیوں میں جب پنکھا چلتا ہے تو اس کے شور کے ساتھ جو شور کر رہا ہوتا ہے، چاہے وہ کتنا شور کر رہا ہو، اس کے ساتھ آدمی عادی ہوتا ہے اور اس شور کی وجہ سے بہت سارے باہر کے شور دب جاتے ہیں۔ جو اس سے کم لیول کے ہوتے ہیں، تو آدمی سمجھتا ہے کہ باہر شور نہیں ہو رہا، حالانکہ شور تو ہو رہا ہوتا ہے، لیکن وہ پنکھے نے اس شور کو کھا لیا۔ diamond cuts diamond لوہا لوہے کو کاٹتا ہے، تو شور شور کو کاٹتا ہے۔ تو پنکھے کا شور جیسے باہر کے شور کو کاٹ دیتا ہے اس سے کم لیول کا ہو، تو اس طرح جو ذکرِ جہر ہے یہ بھی خیالات کو بھٹکنے نہیں دیتا، یہ بھی اِدھر اُدھر کی چیزوں کو کھا جاتا ہے، تو اس کے ذریعے سے یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔ تو ذکر بالجہر سے یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور ضرب کے ساتھ دل متاثر ہوتا ہے۔ دل میں رقت پیدا ہوتی ہے، نرمی پیدا ہوتی ہے۔ اب یہ دو چیزیں مل کر یوں کہہ سکتے ہیں، اگر آواز بھی خوش آواز ہو، اچھی آواز ہو۔ اچھی آواز سے مراد یہ ہے کہ دل کو بھلا لگتا ہو۔ ویسے ہر ایک کا آواز خوش آواز تھوڑا ہوتا ہے، لیکن انسان جتنا وہ کر سکتا ہے دل کو بھلا لگتا ہو۔ تو اب وہ جو دل کو بھلا لگنے والی آواز ہے، یہ دل کے اوپر اثر کرتی ہے، Land کرتی ہے۔ تو اب جو اثر کرنے والی آواز کے ساتھ الفاظ وہ چلا دیں جو الفاظ آپ دل کے اندر پہنچانا چاہتے ہیں، تو دل ان الفاظ کو لے لے گا۔ نتیجتاً بعض دفعہ انسان جب ذکر بالجہر کافی عرصہ کر چکا ہوتا ہے تو وہ جب ذکر بالجہر نہیں بھی کر رہا ہوتا تو وہ چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں، محسوس ہو رہا ہوتا ہے۔ اس سے متاثر ہو گئے ہوتے ہیں۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اب یہ منصوص تو نہیں ہے، متأثر کن ہے، مؤثر ہے، منصوص نہیں ہے۔ چونکہ ان کا منصوص ہونا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا جس طریقے سے بھی فائدہ ہو تو یہاں یہ فرمایا:
خاص ضرب نہ مقصود ہے نہ موقوف علیہ مقصود۔
تو جب مقصود نہیں تو کیا ہے؟ ذریعہ ہے۔
جس طرح بے تکلف بن جائے کافی ہے۔
بے تکلف سے مراد یہ ہے کہ جب آپ خاص تکلف کرتے ہیں تو آپ کا ذہن تو اس طرف جائے گا، اس تکلف کی طرف جائے گا۔ آپ اس کو بنائیں گے، وہ تو آپ کو نہیں بنائے گا۔ لیکن جس وقت بے تکلف آپ ذکر کر رہے ہوتے ہیں، ذکر بالجہر، تو وہ آپ کے حالات تبدیل کرے گا۔ مثلاً لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ اس طرح بھی ہو سکتا ہے۔ کئی طریقے ہیں، کرتے ہیں مشائخ۔ اب یہ پھر شیخ کی بصیرت پر ہوتی ہے کہ وہ کس چیز کو زیادہ ان حالات میں مناسب سمجھتے ہیں۔ مثلاً ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ ضرب و جہر کے بارے میں ان کی جو تحقیق تھی وہ یہ تھی کہ ضرب میں یہ جو ہم باقاعدہ سر کو پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں، پھر زور سے ضرب لگاتے ہیں، فرمایا: آج کل یہ نہیں کرنا چاہیے۔ آج کل لوگ اس کا تحمل نہیں کر پا رہے۔ لہٰذا حضرت بغیر سر ہلائے ذکر کرواتے تھے۔
لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ۔
اب دیکھیں سر نہیں ہل رہا، اس میں ایک فائدہ جو ہم نے نوٹ کیا وہ یہ ہے کہ باہر حرکت نہیں ہے، اندر حرکت ہے، اندر حرکت ہے، باہر حرکت نہیں ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ظاہر ہے اندر زیادہ متاثر ہو، اور متاثر کرنا بھی اندر کو ہے۔ تو حضرت کی تحقیق تھی، اور الحمد اللہ اس سے حضرت کے مریدوں نے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔ بغیر کسی اور طریقے کو غلط کہے، ہم اس طریقے کو چلا سکتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی خاص طریقہ مقصود ہے نہیں۔ تو جس طریقے سے ہمیں فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے ہم اس طریقے سے کر رہے ہیں۔ تو یہ اس کے بارے میں حضرت نے فرمایا کہ نہ تو یہ مقصود ہے، نہ موقوف علیہ مقصود ہے، ہاں جس طرح بے تکلف بن جائے کافی ہے۔
جاری ہے ان شاء اللہ