آثارِ ذکر کے تحفظ کی شرائط اور ذکر و نماز کے آداب

اشاعت اول: اتوار - 20 نومبر ،2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

  خلاصہ:

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ذکر کے ثمرات اور ان کے تحفظ کے اصولوں پر انتہائی بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ جس طرح دوا کے ساتھ پرہیز لازمی ہے، اسی طرح ذکر کا اثر تب ہی ظاہر اور محفوظ رہتا ہے جب انسان لوگوں سے غیر ضروری میل جول اور بری صحبت سے پرہیز کرے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے نفسانی فتنوں سے بچنے کے لیے مسنون دعاؤں کی برکات اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں بیان فرمائیں۔ مزید برآں، آپ نے ذکر کے دوران پیدا ہونے والی قلبی کیفیات (جیسے گدگدی یا رونا) کو بیان کیا اور ذکر اور نماز کا فرق واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز براہِ راست اللّٰہ کے دربار کی حاضری ہے، لہٰذا اس میں ذکرِ لسانی یا قلبی کی بجائے صرف اور صرف نماز کے اعمال اور آداب پر یکسوئی کے ساتھ توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔  

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

آج کے دن ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے یعنی بزرگوں کے ملفوظات بیان کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل انفاسِ عیسیٰ جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله مجددِ ملت ان کے ملفوظات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس سے درس کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تو آج بھی اس سے ان شاءاللہ ذکر سے متعلق ملفوظات بیان کیے جائیں گے۔

موقوف علیہ آثارِ ذکر

ارشاد:

ذکر کا اثر موقوف ہے تقلیلِ کلام، تقلیلِ اختلاط مع الانام و قلتِ التفات الی التعلقات پر ان چیزوں کے حصول کے لیے مواعظ کا مطالعہ اور مثنوی کا (گو سمجھ میں نہ آئے) کرنا چاہیے۔

 مطلب یہ ذکر کا جو اثر ہے وہ پرہیز پر ہے۔ یعنی علاج جیسے ہوتا ہے ہمارا، یہاں پھر Medical line کی طرف واپس آ گئے، کہ دوائی کھانا بھی ضروری ہے اور اس کے ساتھ پرہیز بھی ضروری ہے۔ اگر دوائی تو کھائی اور پرہیز نہیں کیا تو Medication خراب ہو سکتی ہے۔ تو اس وجہ سے یہ جو پرہیز ہیں، بتایا تقلیلِ کلام، تقلیلِ اختلاط مع الانام اور قلتِ التفات الی التعلقات۔ یہ چیزیں اگر ساتھ ہوں گی تو فائدہ ہو گا۔

مثلاً آپ نے ذکر سے ایک کیفیت حاصل کی۔ اور لوگوں کے ساتھ آپ مل جل رہے ہیں، آرام کے ساتھ، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو نتیجتاً ان کی جو قلبی کیفیت ہے وہ آپ کی کیفیت کو متاثر کرے گی۔ دل سے دل کو راہ ہوتی ہے۔ تو نتیجتاً ان کی جو غفلت ہے وہ آپ کو متاثر کر کے پھر دوبارہ غفلت میں لے آئے گی۔ ہاں، اگر اپنے سے اچھے اچھے سے لوگوں سے مل رہے ہیں تو پھر کوئی بات نہیں۔ اس لیے کہتے ہیں، حدیث شریف میں آتا ہے کہ

بری صحبت سے خلوت اچھی ہے۔ اور اچھی صحبت، خلوت سے اچھی ہے۔

لہٰذا اگر اپنے سے اچھی صحبت میں کوئی جاتا ہے تو وہ تو اور اچھا ہو رہا ہے۔ لیکن اگر بری صحبت میں جا رہا ہے تو وہ نقصان ہو رہا ہے۔ اور آپ کو پتہ ہے کہ ماحول میں خراب زیادہ ہیں، ٹھیک کم ہیں۔ تو اگر آپ کھلے ڈھلے لوگوں کے ساتھ ملیں گے تو خرابی زیادہ آئے گی یا اچھائی زیادہ آئے گی؟ خرابی زیادہ آئے گی۔ تو پتہ چلا کہ قلتِ خلط مع الانام، یہ تکبر نہیں ہے، بعض لوگ اس کو تکبر سمجھتے ہیں، کہتے ہیں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں لوگوں کے ساتھ نہیں ملتے۔ بھئی بڑا کیا سمجھنے کی بات ہے، اپنے آپ کو بچانا ہے۔

ایک دفعہ میں نے اپنی cousins سے پردہ کرنا شروع کیا۔ مجھ پر لوگوں نے بڑے الزام لگائے اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے، یہ برے خیالات اس کو آتے ہیں، دوسروں کو بھی ایسا سمجھتے ہیں، اور یہ کرتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔ کافی مجھے پھر لتاڑ پڑی۔ ظاہر ہے ہونی چاہیے، وہ تو اس طرح تو ہوتا ہے۔ ایک بزرگ تھے، ان کو بھی اشکالات تھے میرے بارے میں۔ تو انہوں نے مجھ سے straightaway پوچھا، کہ تم یہ کیوں اس طرح کر رہے ہو؟ میں نے کہا مجھے اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے۔ فرمایا پھر ٹھیک ہے۔ مجھے اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا پھر ٹھیک ہے پھر تم کر سکتے ہو۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعی بات تو یہی ہے نا، کہ کس کو اپنے اوپر اعتماد ہے؟ بتاؤ، ہے؟ تو جب نہیں ہے، تو پھر بچنا چاہیے۔ کیا مطلب دوسروں کو برا کہے؟ سب سے بڑا برا تو میں ہوں کہ میں خراب ہو سکتا ہوں۔

دیکھو ایک دفعہ میں جا رہا تھا، اللّٰہ تعالیٰ مشاہدے کرواتا ہے۔ یہ بھی اللّٰہ کا کرم ہے۔ پیاس میں Lunch کے لیے جا رہا تھا۔ تو میں نے قراقلی ٹوپی پہنی ہوئی تھی اس دن۔ اس کا رنگ ایسا تھا جیسے اوپر سے قیمہ سا نظر آتا ہے۔ اگر اوپر فضا سے کوئی دیکھے نا تو نظر آتا ہے جیسے قیمہ ہے۔ تو میں نے دیکھا کہ ایک سایہ میرے اوپر جھپٹ پڑا۔ دھوپ میں، میں نے دیکھا کہ ایک سایہ میری طرف جھپٹنے کے لیے آ رہا ہے۔ میں فوراً سمجھ گیا کہ چیل ہے۔ اور یہ اس کو گوشت سمجھ رہا ہے۔ تو میں نے فوراً قراقلی ٹوپی اس طرح ہاتھ پہ پکڑ لی، نیچے ہو گیا۔ تو وہ اس طرح Dive کر کے چلا گیا۔ مطلب اس نے Attempt کر لی لیکن اس کو پتہ چل گیا بھئی یہ تو گیا ہاتھ سے۔ تو Dive کر کے چلا گیا۔ اس سے اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سبق دے دیا کہ دیکھو چیل کی فطرت میں یہ بات ہے کہ وہ گوشت کو دیکھے گا تو اس پر جھپٹے گا۔ اس کی فطرت ہے۔ اب چونکہ ان پر شریعت لاگو نہیں ہے تو جو کر رہا ہے ٹھیک کر رہا ہے، اپنے مزاج اور فطرت کے مطابق کر رہا ہے، لہٰذا تم اپنے آپ کو بچاؤ۔ تو جیسے میں نے کیا، میں نے اپنی ٹوپی اپنے ہاتھ میں لے لی، تو اس سے وہ بچ گئی۔ ورنہ اس نے لے اڑنا تھا۔

تو اسی طریقے سے جو خواتین بے پردہ ہیں، یا غیر محرم ہیں۔ چاہے وہ رشتہ دار ہی غیر محرم ہیں۔ یعنی cousins ہیں یا دوسرے ہیں، غیر محرم ہیں۔ تو اگر میں کچھ نہیں کروں گا، یہ control معاشرے کا ہو گا، یا شریعت کے سمجھنے سے ہو گا، جس وجہ سے بھی ہو، لیکن اگر میں نہیں کر رہا ہوں، تو میرا نفس تو کر رہا ہو گا نا۔ بے شک میں اس نفس کے attempt کو برداشت کر لوں، نہ ہونے دوں اس کو۔ لیکن وہ تو کر تو رہا ہو گا نا۔ آپ نے اس کو راستہ تو دے دیا۔ تو کتنی دفعہ بچو گے؟ ممکن ہے کہ کسی وقت شیطان اس کے ساتھ مل کر کوئی وسوسہ ڈال کے کوئی ایسی طرف لے جائے۔ تو اب بچنا چاہیے، نہیں بچنا چاہیے؟ اب اس کے اوپر الزام لگانے کی بجائے میں اپنے اوپر کیوں نہ لگاؤں کہ میں کیوں ملتا ہوں ان کے ساتھ؟ تو بچ جاؤں گا۔ کہتے ہیں 

جن کو ہو جان و دل عزیز

اس کی گلی میں جائیں کیوں

مطلب اپنے آپ کو بچائے۔ تو یہ جو چیز ہے، وہ فطری ہے۔ ہمارا نفس جو ہے یہ جانور ہے۔ ہم نے اس کو پکڑ کے، کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔ الحمدللہ۔ ہم نے اس کو پکڑ کے Control کرنا ہے۔ میرے ہاتھ میں کتا ہے تو کتا تو مسلمان یا کافر نہیں ہوتا۔ تو کتے کی فطرت میں جو ہے وہ بھونکے گا، وہ کاٹے گا۔ تو میں نے اس کو پٹا ڈالنا ہے اور اسے اچھی طرح پکڑنا ہے تاکہ میرے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ کسی اور کو نقصان نہ پہنچائے۔ اور ظاہر ہے ان کو نقصان پہنچائے گا تو اپنے آپ کو نقصان پہنچانا ہو گا۔ تو ایسی صورت میں، میرا نفس جو ہے جب تک میرے Control میں نہیں ہے، اس وقت اس پہ کڑی نظر رکھنی ہے۔ تو یہ والی بات میں سمجھا رہا تھا کہ انسان کو اس کی خبر لینی چاہیے اور لوگوں سے کھلا ڈھلا نہیں ملنا چاہیے۔ کچھ پابندیوں کے ساتھ، طریقے کے ساتھ، اگر ملنا ضروری بھی ہے تو طریقہ ہو۔ اپنے آپ کی حفاظت کا انتظام ہو۔ وہ کرنا چاہیے۔

پھر اللّٰہ پاک بھی مدد فرماتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد کی عجیب عجیب صورتیں ہوتی ہیں، اللّٰہ پاک دکھاتے ہیں۔ ایک دعا ہے:

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ

مسنون دعا ہے۔ اللّٰہ کا شکر ہے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی کرامات دکھائی ہیں۔ ایک دفعہ میں کچھ رشتہ داروں کے ہاں کام تھا، گیا تھا۔ وہاں ظاہر ہے میرے لیے نامحرم Cousins تھیں۔ تو جانا تھا ادھر۔ اب جیسے میں داخل ہو رہا تھا تو مجھے ڈر تھا کہ کہیں گڑبڑ نہ ہو جائے۔ تو میں نے یہ شروع کر لیا، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۔ یہ پڑھنا شروع کیا۔ اور پڑھتے پڑھتے میں اندر داخل ہو گیا۔ اتنا میرے بس میں تھا۔ دیکھو! اللّٰہ تعالیٰ کا شکر، اب اللّٰہ کی مدد آ گئی۔ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد ایسے آ گئی کہ Practically مجھے الحمدللہ یاد ہے۔ ایسے جیسے چیونٹیاں لگ جائیں نا کسی کو، اس طرح مجھے لگنے لگیں اور مجھے آرام سے ادھر بیٹھنے نہیں دیا۔ ایک بے قراری کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اور وہ کہہ رہے ہیں بیٹھ جاؤ، یہ کرو، وہ تو کہتے ہیں رات ادھر رہو۔ ظاہر ہے رشتہ دار تھے، انہوں نے کہنا تو تھا۔ لیکن میری طبیعت ایسے بے حال ہو گئی تھی کہ بس میں نے کہا کہ بس مجھے پہنچنا ہے اور یہ بتایا نہیں اور ابھی اندھیرا ہو رہا ہے، لہٰذا بس جلدی جلدی، بس جلدی جلدی کام کر کے میں جیسے گھر سے باہر نکلا تو بس Set ہو گیا، کچھ مسئلہ نہیں تھا۔ اب یہ کیا چیز تھی؟ یہ اللّٰہ کی مدد تھی۔

لیکن جو آدمی بچنا چاہتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں۔ اس کے بعد کا واقعہ ہے، ہم لاہور جا رہے تھے، دو دوست میرے ساتھ تھے۔ ہم تین تھے۔ ایک میرے دائیں طرف بیٹھے تھے، دوسرے بائیں طرف بیٹھے تھے۔ اور وہ چھ گھنٹے میں وہ ٹرین پہنچاتا تھا ان دنوں، وہ دو ڈبے جو ہوتے تھے۔ اس میں ہم بیٹھ گئے۔ عورتیں الگ سیٹوں پہ بیٹھی ہوئی تھیں، مرد الگ بیٹھے ہوئے تھے، لیکن پتہ نہیں کوئی خاتون اندر داخل ہوئی اور پتہ نہیں اس کو کیا ہو گیا وہ عین ہمارے سامنے آ کے بیٹھ گئی۔ ہمارے سامنے خالی سیٹ تھی، ہم تین بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا اس کو جا کے عورتوں میں بیٹھنا چاہیے تھا، باقی سب عورتیں ادھر بیٹھیں۔ اب ٹرین میں تو انتظام نہیں ہوتا، لیکن خود ہی کر لیتے ہیں لوگ۔ میں نے فوراً دائیں طرف بھی، ایک دوست کے کان میں کہا اور بائیں طرف کے دوست میں بھی کان میں کہا، وہ دعا پڑھو، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ۔ تو دعا جیسے ہی ہم نے پڑھ لی، خدا کا شکر ہے کہ وہ خاتون خود ہی اٹھ کے خواتین میں چلی گئی۔ ذرہ بھر بھی دیر نہیں لگائی۔ تو یہ اللّٰہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ تو اللّٰہ کی مدد ضرور ہوتی ہے، لیکن جو مدد مانگے۔ اور یہ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ، مدد مانگنا ہے۔ مدد مانگنا ایک صرف ایک سرسری پڑھنا ہے اور ایک کیفیت کے ساتھ مانگنا، کہ ڈر رہا ہو آدمی۔ کہ اے اللّٰہ! تو اگر مجھے نہیں بچائے گا تو میں خراب ہو جاؤں گا۔ کیفیت کے ساتھ مانگ رہا ہو۔ تو پھر اللّٰہ تعالیٰ مدد فرماتے ہیں۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الرِّجَالِ۔

عورتوں کے لیے اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الرِّجَالِ ہے۔

اور مردوں کے لیے اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النِّسَاءِ ہے۔

یہ بچت کے لیے ہے۔

طریقۂ حصولِ جمعیّت

ارشاد:

اعمال کا انضباط اور ان پر مداومت چاہیے خواہ کچھ کیفیت ہو یا نہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ بیٹھ کر بھی کچھ معمول زیادہ مقدار میں رکھا جائے، یہی طریقہ جمعیّت حاصل ہونے کا ہے۔

 یعنی اعمال کا جو انضباط ہے، جس کو ہم کہتے ہیں، اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں، ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔ ناغہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ ناغے سے بے برکتیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شیطان کے پاس پورا ایک Channel ہوتا ہے، جس کو Operate کرتے ہیں۔ پہلے کیا کریں گے؟ پہلے ناغہ کروائیں گے۔ پھر وہ ناغے بڑھاتے جائیں گے۔ آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں گے۔ پھر شیخ سے توڑیں گے، کہیں گے اوہو کسی نے اگر پوچھ لیا تو پھر آپ کو کیا بتانا ہو گا؟ یہ اور وہ سارا۔ تو ایک حجاب سا Create کر لے گا۔ پھر شیخ سے ملنا مشکل کر دے گا۔ پھر جب ملنا بھی مشکل ہو جائے گا، تو پھر آہستہ آہستہ آہستہ، شیخ جو بات کرتا ہوتا ہے، تو اس کے خلاف اس کے ذہن میں لائے گا۔ کہ یہ تو یہ بھی ہوتا ہے، یہ تو یہ بھی ہوتا ہے۔ یعنی ایک ذہن بنائے گا اس کے خلاف۔ پھر اگر خدانخواستہ کوئی نہیں بچا، تو آگے جا کر اور خطرناک صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل Act کر رہا ہے ہمارے اوپر۔ تو ہمیں مسلسل کام کرنا چاہیے اس کے خلاف۔ اور اس کو انضباط کہتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟ دریا میں کوئی تیر رہا ہوتا ہے، تو تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ سکتا ہے؟  مسلسل تیرے گا نا۔ تو تب بچے گا۔ تو اسی طریقے سے مسلسل ایک Continuous effort ہوتا ہے۔ اس کو انضباط کہتے ہیں۔

ذکر و شغل میں تصوّر الی السماء کا حکم

ارشاد:

ذکر و شغل اور تلاوت میں تصوّرِ حق تعالیٰ کی جانب بلا تکَلّف آسمان کی جانب بند ہے، تو اس کے دفع کرنے کا قصد بالکل نہ کریں۔ یہ تصوّر فطری ہے دفع نہیں ہو سکتا اور کوئی اس سے خالی نہیں، لیکن بالقصد ایسا نہ کریں۔

 یعنی یہاں پر عقیدہ کی اور Procedure کی بات ہے اکٹھی ایک ملحوظ میں بیان ہے۔ عقیدہ ہمارا ہے کہ اللّٰہ ہر جگہ ہے۔ اور کیفیت دل کی یہ ہے کہ آسمان کی طرف۔ تو یہ حضرات سمجھانے کے لیے فرماتے ہیں کہ دعا میں ہاتھ اٹھاتا ہے انسان آسمان کی طرف۔ لیکن بعض لوگ تو کہہ بھی دیتے ہیں اوپر بیٹھا ہوا ہے، خدا کے بندے کیا کہہ رہے ہو؟ تو آپ دعا کر رہے ہیں، تو فرماتے ہیں دعا کا قبلہ آسمان ہے۔ جیسے خانہ کعبہ میں تو اللّٰہ نہیں ہے نا، اللّٰہ تو ہر جگہ ہے۔ تو خانہ کعبہ کی طرف ہم رخ کرتے ہیں تو کیا اللّٰہ تعالیٰ صرف ادھر ہے؟ تو قبلہ ہے نا بس ہمارا۔ تو اس طرح دعا کے لیے قبلہ آسمان ہے۔ بس بات ختم ہو گئی۔ اور اس طرح قلبی کیفیت میں یہ ہے کہ علو کی طرف جاتا ہے، اوپر کی طرف۔ اس وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، فرمایا یہ فطری ہے۔ لیکن یہ نہ سمجھو کہ اللّٰہ صرف ادھر ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو عقیدہ اپنا صحیح رکھنا چاہیے، باقی کیفیت اپنی بات ہے۔

ذکر و نماز میں گدگدی قلب کی، علامت بسط کی ہے

ارشاد:

ذکر و نماز میں اگر قلب میں گدگدی معلوم ہو تو یہ حالتِ بسط ہے۔ ذکر میں تو اگر ضبط نہ ہو سکے تو ضبط نہ کرے، لیکن نماز میں ضبط رکھے۔

 نماز، قانتین، کا وہ چاہتا ہے یعنی انسان یکسوئی کے ساتھ کھڑا رہے۔ لہٰذا اس میں کیفیات سے زیادہ اعمال پر توجہ، Minimum اعمال پر توجہ کرنی پڑتی ہے تاکہ نماز ٹوٹے نہیں۔ رونا بہت اچھی بات ہے لیکن نماز میں قصداً نہیں رونا چاہیے۔ اس سے نماز ٹوٹ سکتی ہے۔ لیکن دعا میں اگر آپ قصداً بھی روئے تو اس پر ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے۔ تو ہر چیز کا اپنا اپنا مقام ہے۔ تو اس طریقے سے قلب میں اگر گدگدی معلوم ہو تو فرمایا یہ تو بسط کی علامت ہے، اور کبھی کبھی نعرہ بھی لگ جاتا ہے، کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن نماز میں روکے نماز میں نعرے نہ لگائیں۔ یہ کچھ لوگ ہیں، نام میں نہیں لیتا کیونکہ Internet پہ جا رہا ہے، لیکن وہ نماز میں اللّٰہ ھُو... بابا جی... ہائے بابا جی... کچھ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، ان کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ ان کی نماز نہیں رہتی۔ لیکن وہ بچارے چل رہے ہیں۔ کیونکہ سمجھانے والا جو ہے وہی ان چیزوں میں مبتلا ہے۔ تو ایسے لوگوں کے پاس جانا ہی نہیں چاہیے جو شریعت پہ نہ رکھ سکیں۔

نماز کے اندر نہ ذکرِ لسانی چاہئے نہ قلبی

ارشاد:

نماز میں نہ ذکرِ لسانی کرے نہ قلبی، خود توجّہ الی الصلٰوة اس میں مطلوب ہے۔ قلب جاری ہونا کوئی اصطلاح فن کی نہیں۔ مطلوب ذکر میں ملکۂ یاد داشت ہے، خواہ اس کا کچھ ہی نام ہو۔

 نماز میں اللّٰہ پاک کا حضور ہونا چاہیے، توجہ ہونی چاہیے اللّٰہ کی طرف اور آدمی سمجھے کہ میں اللّٰہ کے سامنے کھڑا ہوں۔ اور اعمال میں باقاعدہ انسان اپنے ذہن کو حاضر رکھے، دل کو۔ تو یہ مطلوب ہے۔ باقی یہ ہے کہ جو قلب کا جاری ہونا، تو ہم نماز میں یہ نہ کریں۔ خودبخود اگر ہو تو روکنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اگر خود بخود ہوتا ہے، تو چونکہ زبان سے تو آپ نہیں کہہ رہے، لہٰذا اس پہ نماز میں فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر خود بخود نہیں ہو رہا، آپ قصداً کر رہے ہیں تو وہ ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ توجہ آپ کسی ایسی طرف لے جا رہے ہیں جو نماز میں مطلوب نہیں ہے۔ دیکھو السلام علیکم کا جواب، وعلیکم السلام کا اجر ملتا ہے یا نہیں؟ تو کیا نمازی کہہ سکتا ہے کسی کے السلام علیکم پہ وعلیکم السلام؟ تو اسی طریقے سے ہم نماز کے اندر صرف نماز والے اعمال کریں گے۔ جب ہم نے اللّٰہ اکبر کہہ دیا، تکبیرِ تحریمہ جس کو ہم کہتے ہیں، اب ہم ادھر نہیں رہے۔ اب ہم اللّٰہ کے پاس ہیں۔ ہمارے شیخ نے بڑی عجیب مثال دی۔ فرمایا دیکھو لوگ ساتھ بیٹھے ہوں اور اچانک کہہ دے السلام علیکم، تو کہیں گے کیا ہو گیا آپ کو؟ کیوں مطلب کیا بات ہو گئی؟ السلام علیکم کہہ رہے ہیں۔ لیکن نماز میں ہمارے پاس کوئی بیٹھا ہوتا ہے اور ہم کہتے ہیں السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ۔ تو پریشان نہیں ہوتا، کہتا ہے بھئی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ چونکہ وہ ادھر تھا ہی نہیں، تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا ادھر سے۔ تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا، اللّٰہ کے پاس چلا گیا اور السلام علیکم سے واپس آ گیا مخلوق میں۔ ٹھیک ہے نا؟ تکبیرِ تحریمہ سے غائب ہو گیا اور السلام علیکم سے پھر دوبارہ واپس آ گیا۔ تو نماز میں پھر اب جو نماز کے اعمال ہیں وہی، حتیٰ کہ آپ قیام والے، التحیات میں نہیں پڑھ سکتے، التحیات والے قیام میں نہیں پڑھ سکتے حالانکہ نماز ہی کے افعال ہیں۔ حتیٰ کہ آپ ایک حد سے زیادہ رک بھی نہیں سکتے، انتظار بھی نہیں کر سکتے، Continuous کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر انتظار آپ کا ایک رکن سے زیادہ ہو گیا، تو سجدہ سہو آ جائے گا۔ تو نماز یہ ہے اللّٰہ کے دربار کی حاضری کی بات۔ اللّٰہ کے دربار کی حاضری کے جو آداب ہیں وہ سارے چیزوں پر Dominating ہیں۔ تو آپ کے ساری چیزوں کے اوپر Dominating ہیں۔ تو جب کبھی کوئی ایوانِ صدر جاتا ہے یا کسی بڑے کے... تو اس کے تقاضے بھی ہوتے ہیں، سب چیزیں ہوتی ہیں لیکن وہ تمام تقاضوں کو Control کرتے ہیں نہیں کرتے؟ یہ فارن آفس والے جو ہیں نا ان سے ادب سیکھنا چاہیے۔ یہ چھینکنے کا طریقہ بھی جانتے ہیں کہ چھینک کو کیسے ختم کیا جاتا ہے۔ بڑے لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں نا، تو پتہ نہیں کس طرح Release کر دیتے ہیں، کوئی طریقہ ان کو پتہ نہیں سکھایا گیا ہوتا ہے، وہ چھینک جو ہوتی ہے اس کو خاموشی کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ آواز کو ختم کر دیتے ہیں، وہ باقاعدہ طریقہ آتا ہے۔ کیونکہ ان کو Maintain رکھنا ہوتا ہے سارا۔ تو یہ Protocol نماز کا جو ہے یہ ہمیں Maintain کرنا ہے۔ کھانسی ایک فطری چیز ہے، بیماری ہے۔ لیکن جب تک برداشت ہے تو وہاں کنٹرول رکھنا ہے۔ اب برداشت سے باہر ہو گیا تو پھر مجبوراً غیر اختیاری ہے، اس وجہ سے پھر نماز تو نہیں ٹوٹے گی۔ لیکن یہ ہے کہ برداشت کی Limit میں ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔

اللّٰہ تعالیٰ جتنا پڑھا ہے، اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ

آثارِ ذکر کے تحفظ کی شرائط اور ذکر و نماز کے آداب - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور