اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
آج ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے یعنی بزرگوں کے ملفوظات بیان کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل انفاسِ عیسیٰ جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله مجددِ ملت ان کے ملفوظات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس سے درس کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نماز سے جی چرانے کا علاج:
حال: نماز پڑھنے میں جی بہت چراتا ہے۔
ارشاد: اس کا تو کچھ حرج نہیں، مگر جی چرانے پر عمل نہ کیا جائے۔
کہ جی چاہنے کا مطلب اور ہے اور عمل کرنے کا مطلب اور ہے۔
نفس کی مخالفت کر کے نماز کو اہتمام سے پڑھا جائے اور کچھ نوافل بھی معمول کر لیا جائے جتنے میں کسی ضروری کام کا حرج نہ ہو۔
اس میں حضرت نے دو نکتے بتائے ہیں۔ ایک تو یہ نکتہ بتایا ہے کہ جی چاہنے کی پروا نہ کرو بلکہ عمل کر لیا کرو، چاہے جی چاہتا ہو یا نہیں چاہتا ہو۔ دوسرا یہ بتایا کہ نوافل سے چونکہ، دیکھیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں، ہمارے پشتو میں بلکہ اردو میں بھی ہے کہ اگر موت سر پر آ جائے تو پھر بیماری سے انسان نہیں ڈرتا، آدمی کہتا ہے بیماری سہی لیکن بچ جاؤں۔ تو اسی طریقے سے جب آپ زیادہ کریں گے تو نفس تھوڑے پہ مان جائے گا، یعنی اگر آپ اس کے لیے ٹارگٹ بڑا کر دیں گے تو تھوڑے پہ مان جائے گا، اس پہ Resist نہیں کرے گا۔ تو حضرت نے فرمایا کہ نوافل کچھ پڑھ لیا کرو۔ اب ان کا تو فرض نماز پڑھنے کو جی نہیں چاہتا، حضرت نے فرمایا نوافل پڑھ لیا کرو۔ تو اس لیے فرمایا کہ نوافل پڑھنے سے پھر فرائض آسان ہو جائیں گے۔ نوافل پڑھنے سے فرائض آسان ہو جائیں گے، اس کی حفاظت ہو جائے گی۔
جو تکبیر اولیٰ کا خیال رکھتا ہے تو جماعت تو اس کو مل ہی جاتی ہے، اور جو جماعت کا خیال رکھتا ہے اس کو نماز تو مل ہی جاتی ہے، اور جو صرف نماز کا خیال رکھتا ہے تو اس کی کبھی کبھی نماز قضا بھی ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ مطلب اپنا Level ذرا اوپر رکھنا چاہیے۔ تو اب یہ جو نوافل ہے اس لیے فرمایا کہ بڑھاؤ تاکہ فرائض پہ جمنا نصیب ہو جائے۔ کتنے نوافل پڑھیں؟ تو حضرت نے اس کی Limit بھی بتائی ہے کہ کچھ کام ہوتے ہیں فرض، واجب، کچھ ہوتے ہیں سنن اور مستحبات۔ تو سنن و مستحبات اتنے ہونے چاہئیں جتنے کہ فرائض و واجبات میں حرج نہ ہوتا ہو۔ فرائض و واجبات بہت سارے ہیں۔ فرائض و واجبات کچھ عبادات سے تعلق رکھتے ہیں کچھ معاملات سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً ڈیوٹی ہے آپ کی۔ اب جا کر آپ آفس میں نفل پڑھنا شروع کر دیں، کیا اجازت ہو گی؟ یہ معاملات کی بات ہے، آپ اپنا وقت بیچ چکے ہیں، تمہارا وقت ہے ہی نہیں وہ، فرض نماز سے وہ کوئی آپ کو نہیں روک سکتا، لیکن نفل تمہارا حق نہیں ہے۔
حلوائی کی دکان اور نانا جی کا فاتحہ
وقت کسی اور کا اور خرچ تم کر رہے ہو اس پر ثواب کما رہے ہو۔ تو اس وجہ سے اگر ملازمت ہے تو ملازمت میں پھر بغیر اجازت کے آپ نہیں کر سکتے نوافل وغیرہ، کیونکہ وہاں واجب والی بات آ گئی۔
اسی طرح آپ نفل پڑھ رہے ہیں اور گھر والی گر گئی، اس کو ہسپتال پہنچانا ہے، اب آپ کہتے ہیں جی میں اپنا معمول پورا کر لوں، اس وقت معمول پورا کرنا نہیں ہے اس وقت ان کو ہسپتال پہنچانا ہے۔ فرض نماز بے شک دوڑتے دوڑتے پڑھ لیں، لیکن یہ کہ اس کو پہنچانا ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے وہ آپ پہ Dependent ہے۔ تو یہ حقوق ہوتے ہیں، اولاد کے حقوق ہوتے ہیں، بیوی کے حقوق ہوتے ہیں۔
وَلِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ
یہ سب حدیث شریف میں موجود ہے۔ تو جب یہ والی بات ہے تو ہمیں اس کو ماننا پڑے گا۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ اگر کسی ضروری کام میں حرج نہ ہوتا ہو۔ نوافل اس وقت تک پڑھو جب تک کسی ضروری کام میں حرج نہ ہوتا ہو۔
دفعِ تشتّت کا طریقہ ذکر میں:
ارشاد: کتابوں میں بوقتِ ذکر نفی و اثبات ملاحظۂ مفہوم ''لَا مَعْبُوْدَ إِلَّا اللہُ، لَا مَحْبُوْبَ إِلَّا اللہُ'' یا ''لَا مَوْجُوْدَ إِلَّا اللہُ'' تحریر ہے، لیکن میں اس لیے نہیں بتلایا کرتا کہ اس سے اکثر تشتّت ہوتا ہے اور جو اس میں مصلحت رکھی گئی تھی وہ اس تشتّت کے مقابلے میں ضعیف ہے۔
حضرت ہی کی برکت سے ایک چیز اللہ تعالیٰ نے اس پہ کھولی ہے کہ ابتدا میں تو یہ نہ کہا جائے، یعنی جب کوئی بیعت کرتا ہے اور ابتدا میں ذکر شروع کرتا ہے تو ان کو ہم یہ چیز نہیں بتاتے۔ کیونکہ اس وقت وہ دو چیزوں کو بیک وقت نہیں شروع کر سکتا۔ تو پہلے ان سے صرف ذکر کرایا جائے اور ذکر کا طریقہ سکھا دیا جائے اس کو۔ جب ذکر کا طریقہ قابو میں آ جائے تو پھر اس کے ساتھ مراقبہ بھی ساتھ شروع کر دیا جائے۔ پھر اس وقت چونکہ اس طرف سے اطمینان ہو گا تو یہ چیز بھی حاصل ہو جائے گی۔ اور ابتدا میں اگر آپ دیں گے تو دو چیزوں پہ بیک وقت، وہ کہتے ہیں دو بیڑیوں پہ پاؤں رکھتے ہیں تو پھر کدھر جاتا ہے؟ تشتت اس کو کہتے ہیں نا۔ تو مبتدی کے لیے تو ٹھیک نہیں ہے لیکن جب کوئی شخص کچھ بڑھ جائے آگے اور سمجھنا شروع کر لے اور کچھ طریقہ قابو آ جائے تو اس کے بعد ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا چاہیے۔
بلکہ میں اس کو اکثر اس طرح عرض کرتا رہتا ہوں کہ دیکھو "لا الہ الا اللہ"، ایک ہے عجمیوں کی طرح پڑھنا اور ایک ہے عربوں کی طرح پڑھنا۔ عجمیوں کی طرح پڑھنے میں کہ اس کا ترجمہ ذہن میں آپ لائیں تو تشتت، دو چیزیں بیک وقت ہو گئیں، اور عربوں کی طرح پڑھنا کہ اب اس کو اچھی طرح سمجھ لو کہ "لا الہ الا اللہ" کیا ہے تاکہ آپ کے لیے اپنی زبان کی طرح ہو جائے۔ وہ ایک صاحب انگلینڈ گئے تھے تو واپسی میں کسی نے احوال پوچھے کہ کیا حال ہے؟ کہتا ہے بڑا عجیب زبان بولتے ہیں سمجھ نہیں آئی، البتہ اذان لوگ پشتو میں دیتے تھے۔ اب اذان پشتو میں تھوڑے دیتے تھے، اذان تو عربی میں ہے لیکن اس کے لیے وہ عربی پشتو کی طرح ہو گئی کیونکہ اتنا سن چکا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ پشتو میں اذان دے رہے ہیں، ٹھیک ہے نا؟ تو اس طریقے سے آپ
"لا الہ الا اللہ" ایسا پڑھیں جیسے پشتو میں ہو اگر پشتون ہیں اور اگر پنجابی ہوں تو پنجابی، اس کے لیے آپ کو بالکل اس طرح ہو جائے۔ پھر ماشاء اللہ اس کے الفاظ ذہن میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ کہ اس میں "لا الہ" نہیں ہے کوئی معبود، یہ دو پڑھیں گے تو بس گیا، پھر تو نہیں ہے۔ "لا الہ" آپ بالکل ایسا کر لیں اس کو Superimpose کر لیں اس طرح، لیکن کچھ عرصے کے بعد ہی ہو سکتا ہے نا، فوراً تو نہیں ہو سکتا۔ کچھ عرصے کے بعد الحمد للہ ہو جاتا ہے۔ اللہ اکبر۔
تصوّر بوقتِ ذکر:
ارشاد: تسبیح کے وقت اولیٰ تو تصوّرِ مذکور کا ہے یعنی حق تعالیٰ کا، لیکن اگر یہ خیال نہ جمے تو پھر ذکر کا تصور اس طرح سے کرے کہ یہ قلب سے ادا ہورہا ہے۔
حضرت نے آگے بتا ہی دیا، آگے جا کے یہی ہو گا، کہ اس کے ساتھ حضرات فرماتے ہیں کہ پہلے ذکر کا تصور کر لو، آپ اس پہ اپنا دل جمائیں یا دل پہ جم جائے۔ پھر ذاکر کا یعنی تصور کر لو کہ دل سے ادا ہو رہا ہے، یعنی میرا دل بھی ساتھ کہہ رہا ہے۔ پھر مذکور کا یعنی جس میں "لا الہ الا اللہ"، "الا اللہ" میں کون مذکور ہے؟ اللہ۔ تو یہ جو "الا اللہ" ہے اس میں اللہ، اللہ کا اسم ہے اللہ کی ذات۔ یہ اسم سے ذات کی طرف جانا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ سفر کافی لمبا ہے، یعنی اسم سے آپ ذات کی طرف چلے جائیں، آپ جب اللہ کہیں تو آپ کے لفظ اللہ ذہن میں نہ آئے، اللہ کی ذات آ جائے۔ ٹھیک ہے نا؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ ایک ہے اللہ کا نام ذہن میں آنا اور ایک ہے اللہ پاک کی ذات۔ جیسے میں کہتا ہوں عظیم صاحب، تو عظیم صاحب ذہن میں آ رہے ہیں یا عظیم صاحب کا نام ذہن میں آ رہا ہے؟ کیا خیال ہے؟ میں کہتا ہوں عظیم صاحب کو دے دو، تو میرے ذہن میں کیا ہوتا ہے؟ ہاں! وہی ذات۔ ٹھیک ہے نا؟ تو بس یہیں سے ٹرانسفر ہو جائے یہ۔ چونکہ عظیم صاحب کو میں دیکھ رہا ہوں میرے سامنے ہیں، لہٰذا عظیم صاحب کی ذات ذہن میں آنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ میں کسی کو بھی کہہ دوں تو مجھے کچھ تصور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کچھ محنت کرنے کی ضرورت نہیں میں سامنے دیکھ رہا ہوں میں جانتا ہوں اس کو۔ لہٰذا میں جیسے عظیم صاحب کہوں پورا چہرہ میرے ذہن میں آتا ہے، پورا ذات اس کی میرے ذہن میں آئے گی، لیکن اللہ کے بارے میں کہوں تو اللہ تو وراء الوراء ہے۔ اللہ تو وراء الوراء ہے، لہٰذا اس کا ذہن میں آنا یہ بڑی بات ہے۔ تو کیفیت احسان میں یہی تو حاصل کیا جاتا ہے:
أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ
کہ عبادت ایسے کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔
فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهٗ يَرَاكَ
اور اگر یہ مقام تجھے حاصل نہیں تو پھر یہ تو جان لو کہ بیشک وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ کیا اس وقت ہمیں یہ حاصل ہے؟ یہ والی بات۔ یہ دوسرے درجے کی بات کر رہا ہوں، پہلے درجے کی نہیں۔ دوسرے درجے کی بات یہ ہے کہ صحابہ کرام آپ ﷺ کے پاس آئے، یا رسول اللہ ہم حمام میں کپڑے کیسے اتاریں؟ اللہ کے سامنے۔ یہ وہ چیز ہے، اللہ دیکھ رہا ہے۔
ایک دفعہ ایک شیخ نے امتحان لیا، ہر ایک کو ایک ایک مرغا پکڑا دیا کہ جاؤ اس کو ایسی جگہ ذبح کر لو جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ تو باقی لوگ مرغا ذبح کر کے لے آئے، ایک ڈرتے ڈرتے ڈرتے ڈرتے کانپتے کانپتے آیا اور زندہ مرغا ہاتھ میں لیے، انہوں نے کہا کیا بات ہے بھئی آپ کیوں نہیں؟ غصہ بھی کیا، کیوں نہیں ذبح کیا؟ حضرت آپ نے فرمایا تھا جہاں کوئی نہ دیکھ رہا ہو، اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا بھئی یہی شخص پاس ہو گیا، اس کا سبق پکا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟
تو اب یہ جو چیز ہے یہ اللہ پاک کی ذات کے بارے میں، اس کے لیے بعض مشائخ نے ایک خاص ذکر ایجاد کیا ہے اور وہ "ھو" کا ذکر ہے۔ وہ "ھو" کا ذکر ہے۔ "ھو" میں نام نہیں ہے، "ھو" کیا ہے؟ اس میں اللہ جل شانہ کی ذات کی طرف ہی وہ جاتا ہے۔ تو ایک عالم تھے مکہ مکرمہ کے وہ ہمارے بہاولپور کے حضرت مولانا عبد الہادی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے ہیں، ان سے بیعت ہیں۔ تو مکہ میں رہ کر ظاہر ہے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کچھ اثرات تو ہو ہی جاتے ہیں۔ تو میرے ساتھ ملاقات ہو گئی تو مجھ سے فرمایا کہ حضرت نے مجھے "ھو" کا ذکر دیا ہے لیکن یہ مجھے کہیں منصوص نظر نہیں آ رہا تو میں ابھی تک یہ نہیں کر سکا۔ میں نے کہا اچھا؟ نہیں کہیں نظر نہیں آ رہا؟ کہتے ہیں نہیں۔ میں نے کہا: اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ کہتے ہیں اوہ! یہ تو ہے، میں نے کہا پھر کرو نا خدا کے بندے یہ تو قرآن میں ہے۔ اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۚ
اس کے صفات بیان ہو رہے ہیں۔ تو فوراً الحمدللہ سمجھ گیا، کہتے ہیں بھئی یہ تو ہے۔ تو "ھو" کا جو ذکر ہے وہ کافی تیز ذکر ہے مطلب یہ کہ جب کوئی کرتا ہے تو وہ پھر جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف۔ اس وجہ سے ان کے ہاں اس طرح ذکر ہوتا ہے: اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ ہو، اللہ کا لفظ دل سے نکال رہے ہوتے ہیں، "ہو" اندر داخل کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر کرتے ہیں ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ، ہو اللہ ۔ پھر اس کے بعد ہو، ہو، ہو، ہو، ہو، ہو، یہ قادری سلسلے میں بھی ہے اور یہ چشتیہ نظامیہ میں بھی ہے۔
مقصد یہ ہے کہ دیکھو بزرگوں نے ریسرچ کی ہے اور انہوں نے ان تمام جو مشکلات ہیں، جو نفسیاتی طور پر ہوتی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی۔
آپ لوگ اس کو شروع نہ کریں بھئی اپنی طرف سے جب تک بتایا نہ جائے، ہر ایک چیز کا اپنا اپنا موقع ہوتا ہے۔ آپ کہیں بھئی بڑا مفید ہے چلو جی میں شروع کر لیتا ہوں۔ تو ٹھیک ہے عمارت بنانے کے لیے پہلے بنیاد بنانی پڑتی ہے، ڈی پی سی لگانی پڑتی ہے وہ ساری چیزیں ہو سکتی ہیں لیکن یہ بات ہے کہ اپنے وقت پر سب چیزوں کو کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ علاجی ذکر ہے وہ نہیں ہے منصوص ذکر نہیں۔
ذکر بر وقتِ اذان:
ارشاد :اذان ہوتے ہوئے ذکر سے رُک جانا اولیٰ ہے۔
یعنی اذان کا جواب دینا بھی تو ذکر ہے نا، تو اس وجہ سے اس ذکر سے اس ذکر کی طرف متوجہ ہو جانا۔ ٹھیک ہے نا؟ یہ والی بات ہے۔ جیسے قرآن پاک کی تلاوت کوئی کر رہا ہے تو اللہ کا کلام ہے لیکن نماز کا وقت شروع ہو گیا تو پھر نماز۔
نماز سے بے رغبتی کا علاج:
حال: آج کل عبادات خصوصاً نماز سے بے رغبتی ہو جاتی ہے اور سخت آسکَت گھیرتی ہے، ایک آدھ بار قضا بھی ہو جاتی ہے۔
ارشاد: یہی صورت ہے کہ اولاً تکلّف سے اس کام کو کیا جائے، بعد چندے سہولت ہو جاتی ہے نیز اس کی اعانت کے لیے اپنے نفس پر کوئی جرمانہ نقد جو نہ بہت سہل ہو نہ گراں مقرر کیا جائے یا کچھ نوافل ایسی تعداد میں کہ نہ بہت سہل ہوں نہ بہت گراں اپنے ذمہ لازم کی جائیں۔
ہمارے ہاں اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو نماز فرض نماز چھوڑ دیتا ہے اس کو ہم تین دن روزہ رکھنے کا کہتے ہیں۔ تاکہ اس کے نفس کو اچھی طرح سرزنش ہو جائے اور اپنے نفس کو سمجھا دے کہ بھئی جب بھی نماز قضا ہو گی تو تین روزے رکھنے پڑیں گے۔ اس سے ماشاء اللہ اس کا اچھی طرح علاج ہو جاتا ہے، ورنہ نماز میں سستیاں ہوتی ہیں پھر۔ بالخصوص گرمیوں کے زمانے میں فجر کی نماز کی سستیاں پھر کافی ہونے لگتی ہیں لیکن اگر کوئی گرمیوں میں قضا کرے گا تو گرمیوں میں روزے بھی رکھے گا نا، تو اس کا علاج ہو جاتا ہے۔ سردیوں میں چانس کم ہے لیکن ہو گیا تو پھر سردیوں کے روزے رکھنے پڑیں گے۔
اس وجہ سے ہمارے ہاں یہ ترتیب ہے، اور کوئی بتائے ہی نہیں تو ظاہر ہے اس نے ہمیں ذمہ داری نہیں بنایا، جب ذمہ دار نہیں بنایا تو بس ٹھیک ہے خود ہی جواب دے دے گا خود ہی اپنا علاج کر دے گا، لیکن اگر کسی نے بتا دیا اور ہم نے پھر ان کو بتا دیا تو پھر پورا کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟ ایسے جیسے کوئی بد پرہیزی کر لے اور ڈاکٹر صاحب کو بتائے ہی نہیں۔ تو ٹھیک ہے نقصان کس کا کیا؟ ڈاکٹر صاحب کا کیا یا اپنا کیا؟ ہمارے پشتو میں کہتے ہیں "پهٔ بُسو کښې اوبه بوتلل" یعنی بھس کے اندر نیچے پانی لے جانا۔ یعنی اوپر تو نظر آتا ہے کہ پانی نہیں ہے اندر اندر پانی چل رہا ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے لوگ بعض دفعہ بتاتے نہیں ہیں نمازیں قضا ہو رہی ہوتی ہیں لیکن بتاتے نہیں۔ اسی لیے ہم معمولات کا چارٹ وغیرہ یہ ساری چیزیں منگواتے ہیں تاکہ عادت ہو جائے بتانے کی۔ تو اب ایسا شخص جو نہیں بتا رہا وہ سو سال بھی کسی شیخ کے ساتھ رہے تو کیا فائدہ؟ مطلب ظاہر ہے اس کا فائدہ تو نہیں ہو گا اس کو کہ اس نے شیخ کو ذمہ دار ہی نہیں بنایا۔ جو اپنی بیماریاں اور جو اپنی خطائیں شیخ کو بتا رہا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بتا نہیں رہا تو چلو ٹھیک ہے اس لحاظ سے تو کام نہیں کرنا پڑ رہا جو شیخ بتا رہے ہیں جیسے تین روزے کا میں نے ذکر کیا، تو تین روزے تو نہیں رکھنے پڑ رہے لیکن نقصان تو جو ہو رہا ہے وہ تو ہو رہا ہے۔ اچھا۔
ذکر نزدِ مصلّی کا حکم:
ارشاد: کوئی اگر پاس نماز پڑھتا ہو تو اتنا جہر نہ کرے کہ مصلّی کو تشویش ہو یا دوسری جگہ چلا جائے۔
ہمارے ہاں جو ذکرِ جہر ہے یہ ذکرِ خفی کے ساتھ بھی ہوتا ہے تو اس وجہ سے ہمیں مشکل نہیں پیش آتی جیسے کوئی سو رہا ہے تو (لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ، لا الہ الا اللہ) کام ہو رہا ہے۔ اس کو مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں اندرونی ضرب ہے تو اس کے ساتھ گزارا ہو جاتا ہے۔
طریقۂ ترتیل حافظ کے لئے:
حال: ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہوں تو اَزبر پڑھنا مشکل معلوم ہوتا ہے اور میں حافظ ہوں۔
ارشاد: معمول تو حسبِ عادت پڑھتے رہئے، کیونکہ اس قدر جلد تغیّر مشکل ہے اور تغیّر تک ناغہ نا مناسب ہے۔ البتہ روزانہ ایک پارہ یا کم خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھئے، اگر اَزبر نہ پڑھا جائے تو قرآن پاس رکھ لیا جائے اور اَزبر شروع کیا جائے اور جہاں شُبہ ہو دیکھ لیا جائے، امید ہے کہ پندرہ روز میں اصلاح ہوجائے گی۔
چونکہ حضرت خود بھی حافظ تھے لہٰذا حافظ حافظ کو جب سمجھا رہا ہو تو پھر ٹھیک ہی ہو گا نا ظاہر ہے تو اس میں حضرت نے بتا دیا، چلو ہم حافظ نہیں لیکن حضرت کی زبان سے اس کو سیکھ کر بتا رہے ہیں، تو اس طریقے سے ان شاء اللہ علاج ہو جائے گا۔
ذکر میں عدم لذّت انفع ہے:
ارشاد: ذکر میں لُطف و لذّت کا حاصل ہونا ایک نعمت ہے۔ اور نہ ہونا دوسری نعمت ہے۔ جس کا نام ”مجاہدہ“ ہے۔ یہ اوّل انفع ہے گو الذّ نہ ہو۔
یعنی ذکر میں لطف اور لذت یہ بھی ایک نعمت ہے، جیسے آپ کو کوئی دوائی اچھی لگے، نعمت ہے نا؟ آپ کے لیے علاج آسان ہو جائے گا، لیکن اگر آپ کو اس میں مزہ نہیں آ رہا تو مجاہدہ ہے تو اس مجاہدے سے خود نفس کا علاج ہو جاتا ہے۔ جب نفس کی بات آ گئی تو یہاں سے میڈیکل سے ہم علیحدہ ہو گئے، یہاں پر میڈیکل کا اصول نہیں چلے گا، یہ ذرا Typical کام ہے۔ لہٰذا مجاہدہ سے میڈیکل لائن میں تو فائدہ نہیں ہو گا البتہ اتنا فائدہ ہو گا کہ دوائی نہیں ٹوٹے گی، علاج جاری رہے گا، لیکن ہمارے ہاں تصوف میں ڈبل فائدہ ہو گا، یعنی ذکر سے دل کا علاج ہو گا اور مجاہدے سے نفس کا علاج ہو گا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ وہ Areas ہیں کیونکہ تشبیہ جو دی جاتی ہے تو تشبیہ میں ساری چیزیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ میں کہتا ہوں فلاں شیر کی طرح بہادر ہے، تو شیر کی طرح بہادر ہے نا بہادری میں ایک جیسا ہے، باقی چیر پھاڑنے میں تو ایک جیسا نہیں ہے نا؟ تو ہر چیز ایک جیسی ضروری نہیں ہے کہ ہو، البتہ یہ ہے کہ اس کی بعض چیزیں آپس میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی جتنا پڑھا ہے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
(ٹرانسکرپشن کا اختتام)
تجزیہ اور خلاصہ
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
مقرر: حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم
سب سے جامع عنوان: اصلاحِ نفس اور ذکرِ الٰہی کے آداب و ثمرات
متبادل عنوان: تربیتِ سالک: نماز میں استقامت اور کیفیاتِ ذکر کا بیان
اہم موضوعات:
نماز میں سستی اور جی چرانے کا نفسیاتی و روحانی علاج۔
نوافل کی اہمیت اور فرائض کی حفاظت میں ان کا کردار۔
ذکرِ الٰہی کے درجات: اسم (نام) سے ذات (مسمیٰ) تک کا سفر۔
ذکرِ "ہو" کی فضیلت اور قرآنی استدلال۔
حقوق العباد اور فرائض و واجبات کا نوافل پر مقدم ہونا۔
شیخ سے اپنی خطائیں اور سستیاں نہ چھپانے کی اہمیت۔
ذکر میں لذت کا ہونا اور نہ ہونا (مجاہدہ) اور ان کے روحانی فوائد۔
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سالکینِ راہِ حق کے لیے نہایت قیمتی اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں۔ حضرت شیخ نے واضح کیا کہ عبادت میں دل لگنا ضروری نہیں بلکہ حکم کی تعمیل اصل ہے۔ آپ دامت برکاتہم نے نماز میں سستی کے علاج کے لیے نوافل کی کثرت اور قضا ہونے کی صورت میں روزے جیسے جرمانے کی تجویز دی تاکہ نفس کی سرکوبی ہو سکے۔
ذکرِ الٰہی کے حوالے سے حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مبتدی اور منتہی کے فرق کو واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں صرف ذکر پر توجہ دینی چاہیے اور پختگی کے بعد "اسم سے ذات" کی طرف سفر کرنا چاہیے۔ آپ نے ذکرِ "ہو" کو قرآنی آیات سے ثابت کیا اور اسے ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی کا تیز ترین ذریعہ قرار دیا۔ آخر میں حضرت شیخ نے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ ذکر میں لذت کا نہ ملنا بھی ایک نعمت ہے کیونکہ اس سے "مجاہدہ" حاصل ہوتا ہے جو نفس کی اصلاح کے لیے لذت سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ مرید کو چاہیے کہ وہ اپنی ہر حالت اور کوتاہی سے شیخ کو باخبر رکھے تاکہ بروقت روحانی علاج ممکن ہو سکے۔