ذکرِ الٰہی کے مراتب، سالکین کی اقسام اور شیخِ کامل کی رہنمائی

انفس عیسی، اشاعت اول: اتوار، 20 نومبر ،2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• انفاسِ عیسیٰ (ملفوظاتِ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ) کا درس

• ذکر کی ضرورت، اہمیت اور اس پر استقامت

• طبی مثالوں (مثلاً ٹی بی کے علاج) کے ذریعے روحانی علاج کی وضاحت

• سالکین کی تین اقسام (مبتدی، متوسط، منتہی) اور ان کے احوال

• ذکر میں قوی اور ضعیف افراد کی استعداد کا فرق (ضرب، جہر اور انفعال)

• شیخِ کامل اور اناڑی شیخ کے طریقۂ علاج میں نمایاں فرق

• غذائی ذکر اور علاجی ذکر کا فرق اور معمولات میں اضافے کے اصول

• ذکر میں مشقت محسوس ہونا اور اس کے ذریعے نفس کا مجاہدہ (ڈبل فائدہ)

• ندامت کی اقسام اور رحمت و فرحت کا تعلق

• باوضو اور بے وضو ذکر کرنے کے نور اور اثرات میں فرق

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے یعنی بزرگوں کے ملفوظات بیان کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں آج کل انفاسِ عیسیٰ جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله مجددِ ملت ان کے ملفوظات کا ایک مجموعہ ہے۔ اس سے درس کا اہتمام ہو رہا ہے۔ تو آج بھی اس سے ان شاء اللہ ذکر کے متعلق ملفوظات بیان کیے جائیں گے۔

گزشتہ سے پیوستہ

فکر سے اُنس ہو جانا ذکر ہی کی برکت ہے:

حال: دل چاہتا ہے کہ ذکر چھوڑ دوں اور بیٹھ کر سوچتا رہوں اور ذکر میں طبیعت کم لگتی ہے۔

ارشاد: یہ جو لکھا ہے کہ "ذکر چھوڑ دوں اور بیٹھ کر سوچتا رہوں"، سو یہ برکت ذکر ہی کی ہے کہ فکر سے اُنس ہو گیا ہے، ذکر کرنا ہرگز نہ چھوڑنا ورنہ بِنَاء کے انعدام سے مبنیٰ کا انعدام ہو جائے گا۔ خواہ دل لگے یا نہ لگے، معمولات پر استقامت رکھیں۔

حضرت نے اصل میں ایک بڑے نکتے کی بات بتائی ہے اس میں۔ مثال کے طور پر ایک شخص بیمار ہے، کھانے کو جی نہیں چاہتا، مفید چیزیں کھانے کو جی نہیں چاہتا، جو اس کے لیے مفید ہیں۔ اب ڈاکٹر اس کو دوائی دے رہا ہے۔ اب اس سے اس مفید چیز کو کھانے کو جی چاہا۔ تو کہتا ہے ڈاکٹر صاحب اب تو ماشاءاللہ میرے دل میں اس میں لگ رہا ہے، میں مفید چیز یہ جو اچھی چیزیں ہیں اس کو کھانے کو جی چاہتا ہے۔ تو بس یہ دوائی کھانے کو اب جی نہیں چاہتا۔ تو ڈاکٹر کیا کہے گا؟

خبر بھی ہے یہ کس طریقے سے ہوا ہے؟ یہ اسی دوائی کھانے سے تو ہوا ہے۔ اگر دوائی چھوڑ دی نامکمل علاج کے ساتھ، تو پھر دوبارہ اسی حالت پہ چلے جاؤ گے۔ جب تک ذکر کی، خارجی ذکر کی تمہیں ضرورت ہے، داخلی ذکر اگر آپ کا ابھی شروع نہیں ہوا۔ جب تک خارجی ذکر کی ضرورت ہے اس کو چلائے رکھنا اور اس کا فیصلہ شیخ کرتا ہے کہ اب آپ کو ضرورت ہے یا نہیں، جس طرح ڈاکٹر فیصلہ کرتا ہے۔

تو اس کا فیصلہ شیخ کرے گا، کب آپ کو اس کی اب ضرورت نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں آپ اس کو، ذکر کو جاری رکھیں۔ تو چونکہ اس کو ضرورت تھی ابھی اس وقت تک، حضرت نے اس کو ذکر چھوڑنے سے منع فرمایا۔ فرمایا نہیں بھئی، اس کو چلائے رکھو، یہ جو فکر تجھے نصیب ہوئی ہے اسی برکت سے نصیب ہوئی ہے۔

غالباً ایک شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ حضرت مجھے اب قرآن کے ساتھ بہت زیادہ، قرآن کی تلاوت کا بڑا شوق ہو گیا ہے۔ تو قرآن تو ظاہر ہے اللہ کا کلام ہے، میں اس کو ہی پڑھتا رہوں۔ تو حضرت نے ان کو بھی فرمایا خبر بھی ہے یہ کس وجہ سے حاصل ہوا ہے؟ فرمایا یہ اسی ذکر کے ذریعے سے حاصل ہوا ہے۔ لہٰذا اس کو نہ چھوڑیں، قرآن کی تلاوت بھی کرو لیکن اس کو نہ چھوڑیں۔

تو اس طریقے سے جو لوگ محققین ہوتے ہیں، وہ غذا کا بھی خیال رکھتے ہیں اور دوا کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ اور جو غیر محققین ہوتے ہیں، وہ وقتی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں، وہ مبنٰی اور بنا کا خیال نہیں رکھتے۔ اس وجہ سے ان میں گڑبڑ ہو جاتی ہے، اور بعد میں نقصان ہو جاتا ہے۔

ہمارے Medical Knowledge میں یہ بات ہے کہ TB کا جو علاج ہوتا ہے تقریباً نو مہینے ہوتا ہے۔ آج کل نو مہینے؟ زیادہ ہے؟ اب کم ہے؟ چھ مہینے تک آ گیا چلو ماشاءاللہ۔ Normal جو ہے۔ فیصلہ تو ڈاکٹر کرے گا نا ظاہر ہے۔ تو اب چھ مہینے اگر اس کی مدت ہے، تو یہ کتنے ہفتے میں اس کے Symptoms ختم ہو جاتے ہیں؟ چار سے چھ ہفتے میں اس کے Symptoms ختم ہو جاتے ہیں، لہٰذا مریض اپنے آپ کو صحت مند مان لیتا ہے کہ میں اب صحت مند ہو گیا۔

لیکن ڈاکٹر کہتا ہے یہ دوائی نہ چھوڑو۔ کیونکہ اگر یہ دوائی چھوڑ دی تو Recurrence ہو جائے گا، واپس ہو جائے گا۔ اور وہ زیادہ Dangerous ہے۔ کیوں اس سے اس Medicine کے لیے وہ Resistant ہو جائے گا۔ پھر اس سے High Level پہ جانا پڑے گا۔ پھر زیادہ دیر کے لیے علاج کرنا پڑے گا۔

تو اس طریقے سے یہ جو ہمارے Incomplete حالت میں چھوڑ دیتے ہیں، ذکر اذکار اور اپنے آپ کو کامل سمجھنے لگتے ہیں، یہ بن جاتے ہیں "مټکور"۔ جس کو Medical Knowledge میں Resistant کہتے ہیں، اور ہم لوگ اس کو "مټکور" کہتے ہیں۔ پشتو میں، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ چکنا گھڑا، چکنا گھڑا اس کو کہتے ہیں نا۔ چکنے گھڑے پہ پانی نہیں ٹھہرتا۔ چکنا گھڑا بن جاتا ہے۔ اس کے اوپر پھر اثر کوئی نہیں کرتا۔

واقعتاً ہم نے دیکھا ہے، خدانخواستہ خدانخواستہ اگر کوئی کسی گستاخی کی وجہ سے، بے ادبی کی وجہ سے، یا بے انتظامی کی وجہ سے، یا کسی جس کو کہتے ہیں نا خود رائی کے ذریعے سے ایک دفعہ چکنا گھڑا بن گیا، اس بیچارے کا حشر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کہیں سے بھی اس کا علاج نہیں ہوتا۔ وہ ایسا ہو جاتا ہے کہ پھر اس کے بعد راستہ نہیں ملتا اس کو۔

تو اس وجہ سے ہمارے مشائخ نے چونکہ ان چیزوں کو دیکھا ہوتا ہے، یا پڑھا ہوتا ہے، یا سنا ہوتا ہے، لہٰذا وہ اس چیز سے روکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھئی خود رائی نہ کرو۔ حضرت فرماتے ہیں خود رائی نہ کرو خود کو رائی سمجھو۔ خود کو رائی کر لو، خود رائی نہ کرو۔ مقصد یہ ہے کہ انسان جب تک اپنے مقصد پہ نظر رکھے گا۔ اور مقصد کو پورا کرنے کے ذرائع کو، ذرائع بتانے والے کے مطابق اس وقت تک استعمال کرتا رہے جب تک بتانے والا اس کو ضروری سمجھتا ہے، تو اس وقت تک پھر وہ، فائدہ نہیں ہو گا، کچھ مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ لہٰذا ان چیزوں میں فیصلہ اپنے معالج پر چھوڑنا چاہیے۔

ضُعف خود مُقتضِی تقلیلِ قیود ہے:

ارشاد: مبتدی کو اجازت ہے کہ خواہ آنکھ کھولے ہوئے نماز پڑھے یا بند کر کے، اکثر صفراوی یا سوداوی قیود سے متوحِّش ہوتے ہیں، خصوصاً جبکہ اس کے ساتھ ضُعف بھی منضم ہوجائے اور ضُعف مُقتضِی تکثیرِ قیود کو نہیں، بلکہ مقتضِی تقلیلِ قیود کو ہے۔ قیود سے جو اصل مقصود ہے تاثر، خود وہی کام ضُعف دیتا ہے۔

یہ بہت گہری بات فرمائی ہے۔ تین قسمیں ہوتی ہیں سالکین کی۔ ایک ہوتا ہے مبتدی جس نے ابھی شروع کیا ہے۔ ایک ہوتا ہے متوسط جس نے ابھی تکمیل تو اس کی نہیں ہوئی، لیکن وہ مبتدی بھی نہیں ہے آگے چڑھ چکا ہے، کچھ دیکھ چکا ہے، کچھ سمجھ چکا ہے، کچھ آگے بڑھ چکا ہے، وہ متوسط ہے۔ لیکن ابھی تکمیل اس کی نہیں ہوئی۔ اور ایک منتہی جس کی تکمیل بھی ہو جاتی ہے۔

Medical Knowledge میں اگر میں اس کو بتاؤں TB کی بیماری کے سلسلے میں، تو مبتدی وہ ہے جس نے ابھی ہی ابھی بس Medicine start کر لیا۔ اور متوسط وہ ہے جو چار چھ ہفتے کے بعد والی condition ہے۔ اور منتہی وہ ہے جو جب علاج ہو جائے۔

تو متوسط کو دھوکہ لگتا ہے۔ نہ مبتدی کو دھوکہ لگتا ہے، نہ منتہی کو دھوکہ لگتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں آ رہی؟ نہ مبتدی کو دھوکہ لگتا ہے نہ منتہی کو دھوکہ لگتا ہے، متوسط کو دھوکہ لگتا ہے۔ لہٰذا وہ زیادہ Dangerous condition ہے۔ اور عوام بھی انہی سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ عوام بھی متوسط لوگوں سے دھوکہ کھاتے ہیں۔ نہ منتہی سے دھوکہ کھاتے ہیں نہ مبتدی سے دھوکہ کھاتے ہیں۔

متوسط میں یوں کہہ سکتے ہیں، صحت کے آثار پائے جاتے ہیں لیکن وہ صحت مند نہیں ہوتا۔ مبتدی میں صحت کے آثار نہیں پائے جاتے لیکن وہ صحت مند نہیں کہلایا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے، اس کو خود بھی معلوم ہوتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور دوسرے لوگ بھی اس کو بیمار سمجھتے ہیں۔ اور منتہی، یہ ظاہر ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے نکال لیتے ہیں۔

تو جب یہی بات ہے، تو اب ظاہر ہے ہم لوگ، جو ضعف والی بات ہے، ایک ضعیف شخص بڑا زور شور سے ذکر نہیں کر سکتا۔ تو اگر وہ آہستہ آہستہ ذکر کر رہا ہے اس کے لیے وہ کافی ہو جاتا ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ جتنا زیادہ آدمی قوی ہے، اس میں انفعال کم ہوتا ہے۔ مثلاً موٹی تار ہے، تو اس میں آواز کس وقت آئے گی؟ اگر آپ اس کو بجانا چاہیں، تو آواز کس وقت آئے گی؟ خوب بڑے stroke دیں گے تو پھر اس میں آواز آئے گی۔ اور باریک تار میں تھوڑے سے بس تھوڑا سا ہلائیں گے تو اس میں آواز آ جائے گی۔

تو اب جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ جو ضعف ہے، وہ چیزوں کو یعنی تأثر کو بڑھا دیتا ہے۔ انفعال جس کو ہم کہتے ہیں۔ تأثر کو بڑھا دیتا ہے۔ لہٰذا ضعیف کو اتنا دینا چاہیے جتنا وہ سنبھال سکتا ہے۔ اب میں باریک تار کو اتنے بڑے stroke سے مار دوں، تو نتیجہ کیا ہو گا؟ وہ تو ٹوٹ جائے گا۔ آواز کیا آئے گی؟ ٹوٹ ہی جائے گا۔ اور موٹی تار کو میں اگر چھوٹے سے مارنا شروع کر لوں اس کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔

تو اس وجہ سے جو قوی لوگ تھے پہلے، وہ بڑے زبردست طریقے سے ضرب لگاتے تھے۔ اِلَّا اللہ اس طرح بالکل ان کی آواز دور دور تک جاتی تھی۔ حضرت گنگوہی رحمة الله عليه کی خانقاہ میں جو ذاکرین ہوتے تھے، ان کے حالات میں بتاتے ہیں۔ اتنا زور و شور کے ساتھ ذکر کرتے تھے، کہ پاس دھوبی گھاٹ تھا۔ تو دھوبی گھاٹ میں دھوبی کپڑے دھوتے تھے، تو وہ کپڑے کو مارتے، مار مار کے کپڑے کو صاف کرتے ہیں۔

تو اس پر یہ بات ہوئی کہ، ان حضرات کو جو ذکر کرتے تھے، دھوبی بھی اس سے متاثر ہوئے۔ اتنے دور! تو دھوبیوں نے بھی ذکر شروع کیا۔ اور دھوبی جب کپڑے مارتے تھے تو کہتے تھے اَللّٰهُ، اَللّٰه، اَللّٰهُ، اَللّٰه! اس سے کپڑے مارتے تھے۔ تو ان کے کپڑے بھی صاف ہو جاتے تھے، ان کی آواز بھی۔۔۔

تو مقصد یہ ہے کہ وہ حضرات چونکہ قوی تھے، ان کا بغیر اس کے نہیں کام بنتا تھا۔ وہ تھوڑے تھوڑے stroke سے کام نہیں ہوتا تھا ان کا۔ تو ان کو خوب زور سے کام کروانا ہوتا تھا۔

جبکہ جو ضعیف لوگ ہوتے ہیں، ان کو ہم کہتے ہیں حوصلہ۔ جیسے خواتین کو ہم ذکر جہر کراتے ہی نہیں۔ ابھی تک میں نے صرف تین خواتین کو ذکرِ جہر کرایا ہے، اور وہ بھی بڑے control انداز میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مزاج میں اتنا انتشار تھا، ان کے مزاج میں، جیسے مردوں کے ذہن میں ہوتا ہے۔ کہ وہ مراقبہ کی طرف آ ہی نہیں سکتی تھی۔ لہٰذا انہوں نے جب مجھے بار بار کہا کہ نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا، نہیں ہو رہا... تو پھر اس کے بعد میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے، کمرے میں بند، دروازہ بند کر کے دھیمی آواز کے ساتھ ضرب و جہر کا طریقہ بتا دیا۔

اور کچھ عرصہ جب انہوں نے ضرب و جہر کا ذکر کیا تو ان کا مراقبہ چل پڑا۔ جب چل پڑا میں نے کہا اب چھوڑ دو۔ کیونکہ مقصود حاصل ہو گیا، اس کے بعد پھر ہم نے کیا کرنا تھا؟ تو اس کے بعد پھر شروع ہو گیا۔ لیکن اکثر خواتین کو چالیس دن کے لسانی ذکر کے بعد مراقبہ دے دیں تو ان کا مراقبہ شروع ہو جاتا ہے، اکثر۔ ورنہ کچھ ہی عرصے میں شروع ہو جاتا ہے۔

تو یہ والی بات سمجھ میں آ گئی کہ ضعف جو ہے بذاتِ خود ایک factor ہے۔ اور یہ متاثر کرتا ہے، تأثر پیدا کرتا ہے۔ ایک 78 year کا بوڑھا آدمی مجھ سے بیعت ہوا تھا۔ تو اس کو میں نے کہا کہ آپ کی عمر زیادہ ہے، آپ کو میں ذکر بالجہر نہیں دیتا۔ اس کو میں نے قلبی ذکر بتایا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس کو تین مہینے میں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں عنایت فرمائیں جو باقی لوگوں کو سالوں میں... براہ راست مطلب انہوں نے مراقبہ شروع کر لیا۔

اور اتنا متاثر ہوا کہ مجھے کہنے لگے شاہ صاحب! میں دوسروں کو تو نہیں convince کر سکتا، خود convince ہو گیا ہوں کہ ذکر میں کتنی قوت ہے۔ اور ایک بات انہوں نے یہ بتائی کہ شاہ صاحب میرا مطالعہ ہی نہیں چھوٹتا تھا، اب میں کہتا ہوں تنہائی ہو اور یادِ الٰہی ہو۔ تیسری انہوں نے یہ بات کی کہ شاہ صاحب میں (سر پہ ہاتھ رکھا) ادھر تھا، پھر دل پہ ہاتھ رکھا فرمایا اب ادھر آ گیا ہوں۔

مطلب یہ ہے کہ دیکھو ذکر نے اپنا اثر کر دکھایا ہے۔ تو یہ جو چیز ہے مطلب ضعف، یہ بذات خود ہی کچھ قیود کو کم کر لیتا ہے کیونکہ تاثر بڑھ جاتا ہے، Effectivity زیادہ ہو جاتی ہے۔

اب ایک ہوتے ہیں اناڑی شیخ۔ تو اناڑی شیخ جو ہوتا ہے، وہ دیکھ کر وہ دیتا ہے کہ کس میں کتنی قوت ہے اس طرح ذکر دیتا ہے اور جو صحیح ہوتا ہے شیخ، کامل... تو وہ باقاعدہ سوچ سمجھ کر دیکھتا ہے کہ وہ ذکر یہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ جو اناڑی ہوتا ہے وہ تو دے دیتا ہے، وہ کہتا ہے جاؤ بھئی کام کرو، کتابوں سے پڑھ پڑھ کر بتاتا رہتا ہے۔

بھئی کتابوں میں ساری چیزیں تھوڑی آتی ہیں؟ کتابوں میں ساری چیزیں تو نہیں آ سکتیں، وہ تو ہر شخص کا اپنا mind ہے، اپنا level ہے، اپنی برداشت ہے۔ لہٰذا اس لیے میں کہتا ہوں بھئی کتابوں سے پڑھ پڑھ کے ذکر نہ کیا کرو علاجی۔ کتابوں سے پڑھ پڑھ کے نہ کیا کرو، کیونکہ اس سے پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب مسائل پیدا ہو جائیں، تو پھر اس کو control کرنا پھر زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

معمول سے زائد ذکر کا حکم:

ارشاد: اگر معمول سے زیادہ ذکر کو طبیعت چاہے تو کرے، لیکن اس زائد کو لازم نہ سمجھے اور جب بعد چندے امیدِ دوام ہو جائے التزام کرلے۔

یہ وہ ذکر ہے جو اس کو ہم کہتے ہیں غذائی ذکر۔ مثال کے طور پر 300 دفعہ، تیسرا کلمہ 100 دفعہ، درود شریف 100 دفعہ، استغفار میرا معمول ہے۔ کسی دن میرا زیادہ دل چاہتا ہے کہ میں زیادہ کر لوں، تو کر لو۔ 200 دفعہ کر لو۔ زیادہ ذکر کرنا چاہے تو 300 دفعہ کر لو، لیکن وہ معمول اتنا ہی سو سو دفعہ سمجھو۔

اب میں تہجد پڑھتا ہوں مثلاً، اور اوابین پڑھتا ہوں، اشراق معمول نہیں ہے، Duty کی وجہ سے یا اور مسائل ہیں۔ تو اگر کسی دن چھٹی ہو، اور دل چاہے کہ میں اشراق پڑھ لوں، تو پڑھ لو۔ لیکن اس وقت اشراق کو معمول میں داخل نہ کریں کہ یہ میرا معمول نہیں ہے لیکن آج موقع ہے لہٰذا میں پڑھ لیتا ہوں۔

علاجی ذکر میں مشورے سے ہی بڑھا سکتے ہیں۔ مشورے سے ہی بڑھا سکتے ہیں، کیونکہ اس میں ہر شخص کی استعداد مختلف ہے۔ مجھے یاد ہے الحمدللہ حضرت نے مجھے بیعت کے ساتھ سو سو دفعہ تین تسبیحیں بتائی تھیں، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، اَللّٰهُ اَللّٰه اور اَللّٰه کی۔ سو سو دفعہ بتائی تھیں۔ اور پھر کچھ عرصے کے بعد چار تسبیحیں کر لیں۔ پھر چار تسبیحیں سالوں رکھیں۔ میں خود کہتا تھا حضرت سے حضرت بڑھا لوں؟ فرمایا کیا ہے تمہارے پاس ٹائم؟ بس یہ کافی ہے نا۔

حالانکہ خود باقی لوگوں سے ناراض ہوتے تھے کہ دیکھو ذکر دیتا ہوں ذکر نہیں کرتے۔ اس کا اظہار فرماتے تھے۔ آج کل لوگوں کو ذکر دیتے ہیں، کہتے ہیں جی ہمارے پاس وقت نہیں ہے اور یہ نہیں وہ نہیں۔ اور میں خود کہتا تھا کہ حضرت کر لوں؟ حضرت فرماتے تمہارے پاس ٹائم ہے؟ بس یہ کافی ہے۔

مقصد یہ ہے کہ ذکرِ علاجی تو مقصود نہیں ہے نا، یہ تو ذریعہ ہے۔ اب وہی والی بات ہے کہ مجھ میں اتنی برداشت نہیں تھی۔ حضرت کے اس کے مطابق۔ تو لہٰذا مجھے بہت کم ذکر دیا اور مجھے بعد میں پتا چلا، واقعتاً اگر میں حضرت کے پاس نہ جاتا اور کوئی اناڑی شخص کے پاس چلا جاتا میں مجذوب ہو جاتا۔ اڑ جاتا۔ لیکن حضرت نے بڑا سنبھال کے رکھا، سالوں۔ تو یہ ہوتا ہے، مطلب ہر شخص کا اپنا معیار ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ استعداد ہوتا ہے۔ لہٰذا استعداد کے مطابق شیخ دیکھ کر وہ دیتا ہے، اسی کو ہی لینا چاہیے۔ باقی چیزیں جو ہے نا وہ زائد ہیں۔

ذکر میں بار و مشقت خود نافع ہے:

حال: ذکر طبیعت پر بہت بار معلوم ہوتا ہے

یہ حال کوئی بتا رہا ہے

ذکر طبیعت پر بہت بار معلوم ہوتا ہے جب کرنے بیٹھتا ہوں جی گھبرا اٹھتا ہے۔

ارشاد: بار ایک مشقت ہے، مشقت میں اگر جی نہ لگے تو سمجھ لو کہ خود مشقت بھی نفع میں جی لگنے سے کم نہیں۔ جس طرح سے بھی ہو حَتَّی الْوُسْع پورا کر لیا کیجئے۔ شُدہ شُدہ سب دشواری مبدّل بآسانی ہو جائے گی۔

حضرت ہی کی برکت سے الحمدللہ اللہ پاک نے میرے اوپر یہ بات کھولی ہے۔ کہ اگر ذکر میں جی لگتا ہے تو اس سے دل کا علاج ہوتا ہے۔ جیسے حدیث شریف میں آتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دل کا صاف کرنے کا آلہ ذکر اللہ ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ لہٰذا اس سے دل کی اصلاح ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس میں مشقت ہو، دل نہ چاہتا ہو، اور زبردستی آپ کروا رہے ہو، تو چونکہ ذکر تو ہو ہی رہا ہے، تو دل کا تو علاج ہو ہی رہا ہے، ساتھ ساتھ نفس کا بھی علاج ہو جائے گا۔ ساتھ ساتھ نفس کا بھی، کیونکہ نفس کا علاج مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔ نفس کا علاج مجاہدہ ہے اور یہ مجاہدہ ہے۔

میں آپ کو بتاؤں، یہ جو چوکیدار حضرات ہوتے ہیں، کچھ نہیں کر رہے ہوتے، بس کھڑے ہوتے ہیں نا۔ لیکن یہ کھڑا ہونا کوئی کم مجاہدہ ہے؟ کچھ نہ کرنا بھی تو مجاہدہ ہے۔ کیونکہ دیکھیں، یکسانیت سے انسان گھبراتا ہے۔ مسلسل کھڑا ہونا بھی تھکاتا ہے۔ مسلسل بیٹھنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل لیٹنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل بولنا بھی تھکاتا ہے، مسلسل خاموش رہنا بھی تھکاتا ہے۔ یعنی جو چیز بھی مسلسل ہو رہی ہے، اس سے انسان تھک جاتا ہے۔ اس حالت کو بدلنے کو جی چاہتا ہے۔ جب انسان کار میں لاہور سے آ رہا ہوتا ہے، تو درمیان میں Stay کیوں کرتا ہے؟ کیا خیال ہے باہر جا کر بیٹھ جاتا ہے؟ تھوڑا سا چل پھر لیتا ہے پاؤں کو چلا دیتا ہے، حالت بدل لیتا ہے، یہی Relaxation ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔

تو یہ جو چیز ہے مجاہدہ، تو مجاہدہ نفس کا علاج ہے۔ اس وجہ سے اگر مشقت ہو رہا ہے تو مجاہدہ ہو رہا ہے۔ مجاہدے سے نفع ہو رہا ہے، اور ساتھ ساتھ ذکر کا نفع بھی الگ ہے۔ اس وجہ سے میں کہتا ہوں کہ جس کا جی ذکر کرنے کو نہ چاہے اس کو double فائدہ ہے اگر وہ ذکر کر رہا ہے۔ اس کو double فائدہ ہے۔ ایک دل کا علاج ہے اور دوسرا نفس کا علاج ہے۔ کام دونوں ہو رہے ہیں۔

ندامتِ مَافَات بھی مانعِ حِرمان ہے:

حال: ایک مرض جو کہ سب سے بڑھ کر ہے وہ ”کم ہمتی“ ہے کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہوتا۔

ارشاد: جتنا بھی ہو جائے وہ بھی بغیر کئے ہوئے نِدامت سے مل کر محروم نہ رہنے دے گا۔

مطلب یہ ہے کہ ندامت جو ہے، اگر انسان یہ کرتا ہے کہ مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایک ہوتا ہے بغیر کچھ کرنے کے ندامت، وہ اور ہے۔ اور ایک کوشش کر کے ندامت ہے۔ مطلب کوشش تو کر رہا ہے لیکن پورا نہیں ہو رہا، تو یہ ندامت ہے۔ تو ایسی ندامت پہ ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے۔

فرحت خود رحمت کی لونڈی ہے:

حال: کچھ ذکر و تلاوت تو کرنے لگا ہوں، تہجّد بھی بعدِ عشاء جاری ہے، لیکن ہنوز قلب میں فرحت پیدا نہیں ہوئی۔

ارشاد: رحمت تو پیدا ہو گئی ہے جو رہبری کر رہی ہے۔ فرحت خود اس کی لونڈی ہے، اپنی باری میں وہ بھی حاضر ہو جائے گی۔

رحمت سے مراد یہ کہ اللہ توفیق دے رہا ہے۔ کام ہو رہا ہے۔ ٹھیک ہے؟

ذکر میں وضو کا حکم:

ارشاد: با وضو ذکر کرنے سے برکت زیادہ ضرور ہوتی ہے، لیکن وضو رکھنا ضروری نہیں۔ اس لئے اگر کسی کا وضو نہ ٹھہرتا ہو اور بار بار وضو کرنے سے تکلیف ہو تو تیمّم کرلیا کرے، مگر اس تیمّم سے نماز و مسِ مُصْحَف جائز نہیں۔

یہ بات فرمائی کہ باوضو ذکر کرنے سے برکت زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ وضو سلاحِ مومن ہے۔ یعنی مومن کا اسلحہ ہے۔ شیطان کے خلاف۔ لہٰذا اگر کوئی باوضو ذکر کرتا ہے، باوضو مثال کے طور پر قرآن پاک کی بغیر touch کیے تلاوت کر رہا ہے، تو اس میں نور زیادہ ہو گا۔ حافظِ قرآن تو بغیر وضو کے بھی تلاوت کر سکتا ہے نا۔ لیکن بغیر وضو کرنے میں نور کم ہو گا۔ وضو کر کے کرنے میں نور زیادہ ہو گا۔ اسی طرح ذکر بھی بغیر وضو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بغیر وضو کے کرنے میں نور کم ہو گا اور وضو کے ساتھ کرنے میں نور زیادہ ہو گا۔

مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں جی، میں ٹیک لگا کر کر لوں مراقبہ؟ تو اگر وہ کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر میرے خیال میں، تو اس کو میں Diplomatic جواب دیتا ہوں۔ ان سے میں کہتا ہوں کہ ہاں کر سکتے ہو، کیونکہ ظاہر ہے شریعت کی تو پابندی نہیں ہے۔ لیکن اس کے اثر میں کمی آ جائے گی۔ اگر آپ زیادہ موثر ذکر کرنا چاہیں تو بیٹھ کر باقاعدہ طریقے سے کر لو، وضو کے ساتھ۔ ورنہ ویسے تو ذکر بغیر وضو کے بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن بغیر وضو کے ساتھ ذکر کا پھر اتنا ہی فائدہ ہو گا۔

لیٹ کر ذکر کرنے سے اتنا ہی۔۔۔ ہاں اگر آدمی بیمار ہے، اٹھ ہی نہیں سکتا، تو اس کا لیٹے لیٹے سارا کام ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کو بیٹھ کر کرنے کا پابند نہیں بنایا جاتا۔ کیونکہ وہ اٹھ ہی نہیں سکتا۔ تو یہی اصل میں بات ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں نا جتنا گڑ ڈالو گے اتنا شربت میٹھا ہو گا۔ تو اتنا جتنا کہ انسان Dedication کرتا ہے، اور زیادہ توجہ کے ساتھ تو ظاہر ہے اس کے فوائد بڑھ جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ جتنا پڑھا ہے اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جاری ہے ان شاء اللہ

تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: ذکرِ الٰہی کے مراتب، سالکین کی اقسام اور شیخِ کامل کی رہنمائی

متبادل عنوان: روحانی و جسمانی بیماریوں کا علاج: ذکر اور مجاہدہ کی اہمیت

اہم موضوعات:

• انفاسِ عیسیٰ (ملفوظاتِ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ) کا درس

• ذکر کی ضرورت، اہمیت اور اس پر استقامت

• طبی مثالوں (مثلاً ٹی بی کے علاج) کے ذریعے روحانی علاج کی وضاحت

• سالکین کی تین اقسام (مبتدی، متوسط، منتہی) اور ان کے احوال

• ذکر میں قوی اور ضعیف افراد کی استعداد کا فرق (ضرب، جہر اور انفعال)

• شیخِ کامل اور اناڑی شیخ کے طریقۂ علاج میں نمایاں فرق

• غذائی ذکر اور علاجی ذکر کا فرق اور معمولات میں اضافے کے اصول

• ذکر میں مشقت محسوس ہونا اور اس کے ذریعے نفس کا مجاہدہ (ڈبل فائدہ)

• ندامت کی اقسام اور رحمت و فرحت کا تعلق

• باوضو اور بے وضو ذکر کرنے کے نور اور اثرات میں فرق

خلاصہ:

ذکرِ الٰہی کے مراتب، سالکین کی اقسام اور شیخِ کامل کی رہنمائی - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور