بزرگی

کتاب: کراماتِ قلب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھممسعود احمد صاحب
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

۔ کشف و کرامات کی طلب اور اس کے نقصانات۲۔ سادہ زندگی اور اتباعِ سنت کی اہمیت۳۔ بزرگی کے زعم سے بچاؤ اور خود کو مٹانا۴۔ دل کی صفائی اور غیر اللہ کے نقش و نگار سے دوری۵۔ ذکرِ الٰہی کی حقیقت: مقصود صرف اللہ۶۔ اصلاحِ نفس کی صحیح نیت اور شیخ بننے کی خواہش کا علاج۷۔ عبدیت (بندگی) اور معرفت کا باہمی تعلق۸۔ صحابہ کرام کا مثالی خوفِ خدا اور کمالِ تواضع۹۔ اپنی محنت کے بجائے اللہ کے فضل پر نظر رکھنا۱۰۔ عُجب (خود پسندی) کی تباہ کاریاں اور اخلاص کا خطرہ۱۱۔ خیر کو اللہ کی طرف اور کوتاہی کو اپنے نفس کی طرف منسوب کرنا

یہ کشف و کرامات کے شوقین بہت ہی پریشان ہوتے ہیں۔ بہت پریشان ہوتے ہیں۔ سادہ زندگی گزارو، سادہ زندگی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بھئی اپنے آپ کو بزرگوں میں نہ سمجھو، بزرگوں کا معاملہ تمہارے ساتھ کیا تو چِیں بولو گے۔ خود کو سادہ۔۔۔ ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے: ہم بزرگ نہیں ہیں، ہم بزرگ نہیں ہیں۔ اگر بزرگ ہوتے، بزرگوں میں پیدا کیے جاتے۔ بس اتنا کرو کہ گناہ نہ کرو۔

سبحان اللہ! آسان کر دی بات۔ ابھی گناہ نہیں ہے تو الحمدللہ، بس اس پہ اللہ کا شکر ادا کرو نا۔ اور کیا چاہتے ہو؟ ہوا میں اڑنا چاہتے ہو؟ دیکھنا چاہتے ہو کہ بھئی کس کے دل میں کیا ہے؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو باقاعدہ اس کے لیے دعا کرتے تھے مجھے کسی کا گناہ نظر نہ آئے، وہ ان کو کشف تو ہو رہا تھا دعا کی، بند ہو گیا۔ ان کو وضو کے پانی میں نظر آتا تھا۔ تو دعا کی اللہ یہ دوسروں کا، یہ کیا بات ہے۔

تو یہ جو کشفیات اور کرامات کی باتیں ہیں نا، یہ لوگوں کو بہت ہی پیچھے لے جاتے ہیں، اصل سے بہت دور لے جاتے ہیں۔ ذرا بھر کوئی خواب دیکھا، تو اس سے بھی کہ جی میں نے ایسا خواب دیکھا، میں نے ایسا خواب دیکھا، میں نے ایسا خواب دیکھا۔ خدا کے بندے کیا ہوا؟ وہ میں نے خواب میں دیکھا تھا مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو، مولانا تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے کہا کہ حضرت میں نے مفتی محمود صاحب کو خواب میں دیکھا، فرمایا میں نے جاگتے میں دیکھا ہے۔ تو صحیح ہے نا، ٹھیک ہے نا، مطلب کیا ہوا بھئی؟ یہ نہیں ہوتے لوگ تصویریں نکالتے ہیں، بھئی تم دیکھ رہے ہو نا تو اور کیا ہے؟ تصویر میں وہ کیا وہی چیز دوبارہ دیکھو گے نا، اور کیا چیز ہوگی؟ Actual چیز موجود ہے نا، اور کیا خواہ مخواہ مصنوعی چیزوں کے پیچھے پھرتے ہو۔

تو یہ دل صاف ہونا چاہیے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں فقہاء نے لکھا ہے کہ مسجد کا سامنے والا دیوار منقش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ لوگوں کا دل اس میں بٹتا ہے۔ اور جائے نماز بھی منقش نہیں ہونا چاہیے۔ فرمایا میں اس سے بھی آگے کی بات کرتا ہوں دل بھی منقش نہیں ہونا چاہیے۔ یہ جو دل میں کشف و کرامت کی جو خواہش ہے نا یہ یہ دل کے نقش و نگار ہیں۔ اس کے پیچھے انسان وہ پھرتا رہتا ہے، خدا کے بندو کیا کر رہے ہو؟ دل میں صرف ایک رکھو، کون؟ اللہ، بس۔ ادھر ادھر کی باتیں دل میں رکھو ہی نہ، اللہ ہی اللہ۔ یہ جو ہم ذکر کرتے ہیں نا، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہ، اس کے بزرگوں نے مختلف قسم کے معنی بتائے ہیں ذرا سمجھانے کے لیے، کہ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہ، لا معبود الا اللہ، لا مقصود الا اللہ، لا موجود الا اللہ۔ ترقی کرتا جاتا ہے انسان اوپر ترقی کرتا جاتا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ اگر یہ کشف و کرامات کی کسی کو خواہش ہے تو سمجھو کہ ابھی طفلِ طریقت بھی نہیں ہے۔ ابھی طفلِ طریقت بھی نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو اس کو نکالو نا۔

ایک دفعہ ایک صاحب تھے، وہ کسی صاحب سے بیعت ہو گئے، صحیح بزرگ تھے ان سے بیعت ہو گئے۔ ترقی نہیں ہو رہی تھی اس کو، حضرت کو حیرت ہو رہی تھی کیا بات ہے، محنت کرتا ہے ترقی نہیں ہو رہی۔ تو اس کو بلایا، اس کو بلایا انہوں نے کہا بھئی آپ جو خانقاہ آ رہے تھے تو کس نیت سے آ رہے تھے؟ تو اس نے کہا کہ حضرت میں نے دیکھا کہ آپ کا بہت بڑا فیض ہے، پوری دنیا میں چل رہا ہے، لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہے، تقسیم کر رہے ہیں آپ، اگر مجھے بھی ایسا فیض مل جائے نا تو میں بھی اس طرح تقسیم کرتا رہوں۔ فرمایا اچھا! ابھی سے شیخ بننے کی ٹھانی ہے۔ کتا یہاں پڑا ہوا ہے، نکالو اس کتے کو! اپنی اصلاح کی نیت سے یہاں رہو اور کوئی نیت تمہاری نہ ہو۔ یہ چیز چھوڑو۔ اب یہ چیز اللہ پاک کے فضل و کرم سے اس کے دل سے نکل گئی، پھر ترقی شروع ہو گئی۔ بہت سارے لوگوں کی یہ محنت ان چیزوں سے ضائع ہوئی ہیں۔ کبھی خلیفہ بننے کا شوق ہے، کبھی کرامات کا شوق ہے، کبھی کشفوں کا شوق ہے، کبھی دنیاوی چیزوں کا شوق ہے، مطلب دنیا کے بارے میں بھی وہ کرتے ہیں نا، جی اس طرح یہ ہو جائے اس طرح ہو جائے۔ بلکہ بزرگی کی باتیں ہوتی ہیں۔

یہ بزرگی ہے نا بزرگی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس کا نکالنا بڑا ضروری ہوتا ہے ورنہ انسان پھر اسی چیز کو تلاش کرتا رہتا ہے اور اصل چیز سے رہ جاتا ہے۔ اصل میں جو اللہ کو مطلوب ہے وہ کیا مطلوب ہے؟ عبدیت، بندگی۔ جب انسان کے اندر عبدیت آ جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ معرفت کے دروازے کھول لیتا ہے۔ عبدیت کو پیدا کرنا ہمارا کام، ہماری ذمہ داری، ہماری ڈیوٹی، اور معرفت نصیب کروانا یہ اللہ پاک کا کام ہے۔ تو جتنی جتنی عبدیت بڑھتی ہے اتنی اتنی معرفت بڑھتی ہے۔ اور مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عبدیت سے معرفت بڑھتی ہے، معرفت سے پھر عبدیت بڑھتی ہے۔ پھر عبدیت سے معرفت بڑھتی ہے پھر معرفت سے عبدیت بڑھتی ہے۔ اس طرح چلتا ہے سلسلہ موت تک۔ موت کے وقت عبادت تو ختم ہو جاتی ہے اور جس معرفت تک پہنچاہو تو اس معرفت کے ساتھ اللہ پاک سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ تو معرفت جو ہے یہ بھی عبدیت کے ذریعے سے ملتی ہے ان چیزوں سے نہیں ملا کرتی۔




بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے


دیکھیں کیا کہا، چاہے بزرگ ہو، قطب ہو، غوث ہو جو بھی ہو، یہ باتیں سچی بھی ہوں لیکن ایک بات آپ کو یاد رکھنی چاہیے۔ وہ کیا بات یاد رکھنی چاہیے؟



بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے


ہیں ظنی باتیں تو ان کو سن کر کہاں میں خطرے میں خود کو ڈالوں


یہاں جتنا بھی موت سے پہلے جتنی باتیں ہیں، کیا ہے یہ یقینی بات کوئی ہے؟ کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں وہاں پر کیسے ہوں گا؟ یقینی بات کوئی نہیں ہے، ظنی بات ہے نا۔ تو اس ظنی بات پر یقین میں کیسے کروں؟ مطلب یہ بات ہے۔



ہیں ظنی باتیں تو ان کو سن کر کہاں میں خطرے میں خود کو ڈالوں

صحابی سن کے یقینی باتیں حقیقت اپنی نہ بھول پائے


سبحان اللہ! صحابہ کرام حقیقی باتیں، یعنی آپ ﷺ کی زبانِ اطہر سے نکلی ہوئی باتیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کیا فرمایا، عمر رضی اللہ عنہ کو کیا فرمایا، عثمان رضی اللہ عنہ کو کیا فرمایا، علی کرم اللہ وجہہ کو کیا فرمایا، یہ سب یقینی باتیں تھیں نا۔ اس کے بدلے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کیا حالت تھی؟ یعنی افسوس کرتے تھے کاش میں ایک تنکا ہوتا جس کو کوئی جانور کھا جاتا۔ دیکھو نا یہ جانور آرام سے، کیونکہ اس کا کوئی حساب نہیں میرے ساتھ تو حساب ہوگا۔ کفن کے لیے بتا دیا مجھے پرانے کپڑے میں لپیٹ دینا، نیا کپڑا تو زندوں کا حق ہے۔ اگر اللہ نے مغفرت فرما دی، آج کل کسی کو کہیں نا اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے، تو کہتے ہیں یہ تو بزرگی کی بات نہیں ہوئی، یعنی کوئی اونچے الفاظ کیوں نہیں کہے جی، درجات اور یہ سب ساری چیزیں۔ مغفرت پہ ذرا تھوڑا سا چینج ہو جاتے ہیں۔ تو فرمایا کہ اگر میری مغفرت، تو اللہ پاک جنت سے کفن بھیج دے گا۔ اور اگر ایسے ہے تو پھر میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔

عمر رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ میں آپ سے نہیں کہتا ہوں کہ آپ مجھے آپ ﷺ کی راز کی باتیں بتائیں، اتنا بس بتا دیں کہ میرا نام منافقوں میں تو نہیں ہے۔ جبکہ آپ ﷺ نے ان کے بارے میں کیا فرمایا؟ شیطان بھی اس راستہ پہ نہیں جاتا جس پہ عمر ہو۔ ایسی حالت۔

عثمان رضی اللہ عنہ تین دفعہ جنت کی بشارت حاصل کر چکے، تین دفعہ! لیکن قبر کو دیکھ کر وہ ایسے روتے تھے بالکل۔

اور علی کرم اللہ وجہہ، میں آپ کو کیا بتاؤں؟ یعنی یہ آج کل ہم یہ باتیں کرتے ہیں یہ تو صوفیوں کی باتیں ہیں، بھئی یہ صحابہ کی باتیں ہیں۔ اس کو بھی اگر نہیں مانو گے تو کیا مانو گے؟ صحابہ کی باتیں ہیں۔



ہیں ظنی باتیں تو ان کو سن کر کہاں میں خطرے میں خود کو ڈالوں

صحابی سن کے یقینی باتیں حقیقت اپنی نہ بھول پائے


بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے



یہ زندگی تو ہے ایک امانت کہاں ہو نفس کا ہی اس پہ قبضہ

چھین لے یہ نفس سے بنا یہ اس کی تو تیری ہر چیز پھر اس کو بھائے


بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے



کرو وہ سب کچھ جو چاہے وہ اور فضل یہ اس کا ہی تو سمجھنا


سبحان اللہ! یہ طریقت کا بنیادی اصول ہے کہ جو حکم دیا جائے اس پر عمل کرو، اس میں ذرہ بھر سستی نہ کرو اور جو مل جائے اس کو اللہ کا فضل سمجھو، اپنی محنت کا ثمرہ نہ سمجھو۔ ورنہ کیلکولیشن ہو گئی تو کام خراب ہو جائے گا۔ ہمیشہ انسان کیلکولیشن میں مارا جاتا ہے۔ آدمی سمجھتا ہے نا میرے اس کا ثمرہ ہے، محنت کا ثمرہ ہے، تو یہ تو قارون کا سوچ ہے۔ یہ تو قارون کا سوچ ہے، تو کہاں جائے گا پھر؟ لہٰذا جتنی محنت ضروری ہے اس محنت کو کرو اور فضل اللہ پاک کا سمجھو۔



کرو وہ سب کچھ جو چاہے وہ اور فضل یہ اس کا ہی تو سمجھنا

کیا یہ میں نے کہیں نہ نفس کا تو مان کے اس میں یہ غل مچائے


کہیں یہ نہ کہہ دو کہ میں نے کیا ہے۔ ورنہ مارے جاؤ گے، کام خراب ہو جائے گا۔



بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے



یہی سمجھنا نہیں میں کچھ بھی یہی سمجھنا اسے پسند ہے


ایک دفعہ تین بزرگ تھے، اللہ والے تھے، صوفی اقبال صاحب رحمتہ اللہ علیہ، مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب رحمتہ اللہ علیہ، مولانا یحییٰ مدنی صاحب رحمتہ اللہ علیہ، تینوں مدینہ منورہ میں ایک جگہ تشریف فرما تھے۔ تو ایک علمی بحث ہوئی۔ تو اس میں میں نے بھی حصہ لے لیا، بات چیت ہو گئی۔ بعد میں مجھے بڑی پریشانی ہوئی کہ خواہ مخواہ تو درمیان میں دخل در معقولات کیوں دیا؟ بھئی بزرگ تھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تمہاری کیا حیثیت تھی ان سے آپ نے بات کی۔ تو اس پر میں کافی پریشان ہو گیا، تو میرا دل چاہا کہ میں ان حضرات سے معافی مانگوں۔ اب صبح میں جا رہا ہوں روضہ اقدس پہ سلام پڑھنے کے لیے، حضرت صوفی اقبال صاحب پہلے تشریف لے گئے تھے اور وہ واپس آ رہے تھے۔ ظاہر ہے دائیں طرف حضرت اس طرف تھے اور میں دائیں طرف اس طرف تھا، میں جانے والا میں تھا وہ آنے والے میں تھے۔ تو میں نے کراس کر کے وہاں پہنچ کے حضرت سے مصافحہ کیا اور میں نے کہا حضرت مجھے معاف کر دیں آپ لوگوں کی خدمت میں میں نے گستاخی کی ہے، میں نے باتوں میں مداخلت کی ہے، میں بزرگوں کا ادب نہیں کرنا جانتا تو میں نہیں کر پاتا تو آپ مجھے معاف کر دیں۔

تو حضرت بہت خوش ہوئے اور فرمایا جو کہتا ہے کہ ہمیں بزرگوں کا ادب آتا ہے ان کو نہیں آتا۔ جو کہتے ہیں کہ ہمیں بزرگوں کا ادب آتا ہے ان کو نہیں آتا، اور جو کہتے ہیں ہمیں نہیں آتا ان کو زیادہ ادب آتا ہے۔ یعنی تسلی دے دی۔ مطلب میرا یہ ہے کہ واقعتاً بات یہ ہے، یہ تو اللہ کے فضل سے سب کچھ ہوتا ہے، انسان کی اپنی حیثیت کیا ہے؟ اگر حساب ہو جائے تو معاملہ تو بہت خطرناک ہے۔



یہی سمجھنا نہیں میں کچھ بھی یہی سمجھنا اسے پسند ہے

قصور اپنے ہو سامنے ہر دم معاف تجھ کو یہی کرائے


بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے




بس اپنے دل میں ہو عظمت اُس کی، ہو جتنی زیادہ شبیر ہے اچھا

یہی دبائے اسے جو جس دم عُجب سے سر تو کبھی اٹھائے


بزرگ بن کے ہو آسماں پہ قطب و اقطاب بھی تو کہلائے

یہ ساری باتیں ہوں سچی بھی تو تیری سمجھ میں یہ بات آئے


ماشاءاللہ!

بہر حال ہمیں جو ہے نا یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ ہم لوگ ہر وقت خطرے میں ہیں۔ وہ فرماتے ہیں نا کہ سارے لوگ ہلاک ہو گئے مگر وہ جو علماء ہیں۔ سارے علماء ہلاک ہو گئے مگر وہ جو عمل کرتے ہیں۔ سارے عمل کرنے والے ہلاک ہو گئے مگر وہ جو اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ فرمایا اخلاص والے بھی خطرے میں ہیں۔ اب بتاؤ! کیسے خطرے میں ہیں؟ کہیں عجب نہ کر یں۔

مطلب یہ ہے کہ اپنے اوپر نظر کرنا یہ سب سے بڑا دھوکا ہے اپنے لیے، اپنے اوپر نظر کرنا۔ جو بھی دیکھو کہ اچھی چیز ہے سمجھو کہ اللہ کی طرف سے۔ اور جو بھی مسئلہ ہو سمجھو کہ میری طرف سے۔ آسان بات ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہی طریقہ تھا۔ کلالہ کے موضوع پہ بحث ہو رہی تھی، تو صحابہ کرام میں ایک علمی بات ہے۔ تو سب صحابہ کرام اپنی اپنی رائے دے رہے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی باری آئی، تو حضرت نے فرمایا میری بھی ایک رائے ہے، اگر صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے، اور اگر غلط ہے تو شیطان کی طرف سے اور میرے نفس کی طرف سے ہے۔ اب دیکھیں۔ اگر غلط ہے، اس وقت صورتحال کیا ہے الٹا ہے۔ الٹا اس طرح ہے کہ اگر ٹھیک نہ رہے تو بس اللہ کی مرضی اور اچھا ہو گیا تو میرا کام ہے یہ دیکھو نا میرا کمال ہے۔ ڈاکٹروں کا بھی یہ بات ہے کہ وہ بیمار درست ہو گیا تو ڈاکٹر کا کمال ہے اور مر گیا تو بس اللہ کی مرضی تھی۔ ٹھیک ہے نا! یہ ہم لوگ کی غلط سوچ ہے، ہمیں کہنا چاہیے کہ ہر کام جو اچھا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہر کام میں جو گڑبڑ ہے وہ ہماری طرف سے ہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے، اس میں کوئی وہ تو نہیں ہے، تواضع والی بات نہیں ہے، حقیقت یہی ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو صحیح بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


بزرگی - عارفانہ کلام-دوسرا دور