اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ،
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
امر بالمعروف میں فوت مصلحت عذر نہیں:
تہذیب: ترکِ تبلیغ کے لیے محض ناگواریٔ مخاطب عذر نہیں، حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ﴿أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ﴾ (الزخرف: 5) ’’کیا ہم تم کو نصیحت کرنے سے پہلو تہی کریں گے کہ تم لوگ حد سے نکلنے والے ہو۔‘‘ حالانکہ حق تعالیٰ کے ذمہ تو امر بالمعروف واجب نہیں، وہ اس سے پاک ہیں کہ ان پر کوئی بات واجب ہو۔ بس یاد رکھئے کہ امر بالمعروف کے لیے عذر صرف یہ ہے کہ لحوقِ ضرر کا اندیشہ ہو اور ضرر بھی جسمانی، محض فوتِ منفعت عذر نہیں۔ جو شخص خدا سے بیگانہ ہے اگر اس کو احکامِ الٰہی کی تبلیغ ناگوار ہے تو ہماری جوتی سے، ہم تبلیغ سے کیوں رکیں؟ بس ہم کو خدا پر نظر رکھنی چاہیے اور صرف اس کی رضا کا طالب ہونا چاہیے، چاہے تمام عالم ناراض ہو جائے۔ بس تمام عالم سے کہہ دو کہ ہم نے ایک ذات سے علاقہ جوڑ لیا ہے، جو اس سے ملے وہ ہمارا دوست ہے، جو اس سے الگ ہو وہ ہم سے الگ ہے۔
یہاں پر اصل میں ایک بات حضرت نے بتائی ہے کہ بہت سارے لوگ صرف دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے، جس میں صرف جلبِ منفعت نہیں ہوتی، مثلاً آدمی کہتا ہے جی یہ آدمی مجھ سے پھر سودا نہیں لے گا، میرا ACR خراب ہو جائے گا، میرا یہ ہو جائے گا، فلاں مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ ان وجوہات سے تبلیغ نہیں کرتے۔ تو یہ چیز ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں ایسا ہو کہ اس قسم کا ضرر ہو جس سے جسمانی ضرر ہوتا ہو، تو اس وقت تو اپنے ایمان کو چھپانا بھی کی بھی اجازت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آدمی pistol رکھ دے کنپٹی پر، اور کہے کہ تم نعوذ باللہ من ذالک ایسے الفاظ کہہ دو، تو اس وقت اگر کسی نے کہہ دیا تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ لیکن اگر نہیں کہا، تو عزیمت والی بات ہے، اگر شہید ہو گیا تو شہادت تو ہے۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ جو ہے نا مطلب ایسی صورت میں اگر کسی نے اپنی جان بچانے کے لیے اس قسم کی بات کی تو وہ مجرم نہیں ہوگا۔
تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اب یہ والی بات ہے کہ یہ جو ہے نا، یہ جسمانی ضرر بھی نہیں ہے، صرف ایک نفسیاتی ضرر ہے۔ نفسیاتی طور پر انسان کو تکلیف ہو جاتی ہے، بھئی اس کے لیے پھر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ لیکن میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اللہ بہت غیرتی ہے، بہت زیادہ غیرتی ہے۔ جس نے اللہ کے لیے اپنی ذات کی پرواہ کرنا چھوڑ دیا۔ تو جس چیز سے وہ ڈر رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس ڈر سے اس کو نکال لے گا۔
کہتے ہیں ایک دفعہ انگریز army تھی۔ تو ایک major تھے، وہ جو یہ parade، exercise وغیرہ ہوتی ہے اس میں... exercise، اس پہ لگایا ہوا تھا army والوں کو۔ تو روزے تھے، رمضان شریف تھا۔ کچھ لوگوں نے روزے رکھے تھے، کچھ نے نہیں رکھے تھے۔ تو اس انگریز major نے پوچھا کہ کن کن کا روزہ ہے؟ تو جن کا نہیں تھا، مسلمان تھے، تو بڑے شوق سے اٹھ کھڑے ہو گئے کہ چلو جی ہم مان ہی گئے، کہ ہمیں تو برا نہیں کہیں گے۔ تو انہوں نے کہا جی ہمارا روزہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا آپ اس طرف کھڑے ہو جائیں۔ بھئی جن کا روزہ ہے؟ جی آپ اس طرف کھڑے ہو جائیں۔ تو پھر جب سب مکمل ہو گیا، تو انہوں نے کہا بھئی جن کا روزہ ہے وہ بیرکوں میں چلے جائیں ارام کر لیں، اور باقی جن کا روزہ نہیں وہ کام کریں۔ ان کے لیے سہولت کیوں؟ ظاہر ہے ان کے تو روزے نہیں ہیں۔ تو الٹا پڑ گیا ان کو۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے ایک نظام ہے۔ یعنی جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ بھئی اس سے نقصان ہو جائے گا، اس سے اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچا دیتے ہیں۔ تو ہوتا یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی، حالانکہ بہت گیا گزرا معاشرہ ہے، اس کے باوجود بھی جو لوگ اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں اور کام شروع کر لیتے ہیں، ابتداء میں تکلیف ہوتی ہے، ابتداء میں مخالفت ہوتی ہے، اور ڈٹ کے مخالفت ہوتی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگوں پہ کھلنے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ دلوں کو موڑنے لگتا ہے، تو آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ ان کے دل سمجھنے لگتے ہیں کہ بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ تو پھر آہستہ آہستہ اپنے دل میں پہلے چھپا ہوا محبت کا رکھ لیتے ہیں کہ بھئی یہ واقعی آدمی یہ ٹھیک ہے۔ اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ کبھی بولنے بھی لگتے ہیں کہ بھئی بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ تو یہ جو چیز ہے آہستہ آہستہ پھر اللہ تعالیٰ ان کو بالکل کھول لیتے ہیں، اور پھر وہی لوگ جو مخالفت کرتے ہیں، وہ پھر پانی لاتے ہیں جی دم کر لیں میرے لیے، یہ دعا کر لیں میرے لیے یہ... ساری چیزیں پھر وہی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی پہلے جو مخالفت، ڈٹ کے مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں، وہ اپ کے پاس ائیں گے جی اپ میرے لیے دعا کریں اور اپ جو ہے نا مطلب یہ کریں۔ گویا انہوں نے دل سے مان لیا تھا نا کہ اچھا تو یہ ہے۔ وہ صرف ظاہراً اپنے بعض مفادات کی وجہ سے ٹکراؤ تھا، تو اس کی وجہ سے نہیں مان رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہو گیا، پتہ چل گیا کہ بھئی اصل میں تو مان یہی رہے تھے۔
ابتدا میں تبلیغِ اعمال اخلاق کے پیرایہ میں ہونا چاہیے:
تہذیب: نصیحت کا قاعدہ ہے کہ مصلح اپنے اوپر مشقت ڈالے اور مخاطب کو آسان طریقہ سے سمجھائے، اور ابتدا میں تو تالیفِ قلب کرے اور انتہاء میں صفائی سے کام لے۔ یعنی مسئلہ کو صاف صاف بیان کر دے، گول مول نہ بیان کرے۔ ابتدا میں ترغیبِ اعمال اخلاق کے پیرایہ میں دینا چاہیے تاکہ مخاطب کو گرانی اور وحشت نہ ہو۔ مثلاً اس طرح کہ نفس کو پابند کرنا اور آزادی سے روکنا اور اس میں استقلال اور پختگی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے، ورنہ انسان اور جانور میں کیا فرق۔ مردانگی اس میں ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو یافتہ ہو، نفس کا تابع فرمان نہ ہو، اور نفس کو تباہ کرنے والی چیز تکبر ہے، انسان کو تواضع اور عاجزی اختیاری کرنا چاہیے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی سب سے بڑی عظمت والے کی عظمت اس کے پیش نظر رہے۔ اسلام نے اس کے لیے پانچ وقت کی نماز مقرر کی ہے جس کو باقاعدہ ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا نقش اس کے دل پر جم جاتا ہے۔ دوسری تباہ کرنے والی چیز نفسانی خواہشوں کی حرص ہے، مثلاً کھانے پینے اور عورتوں سے مخالطت کرنے کی حرص۔ اس کے لیے اسلام نے روزہ فرض کیا ہے۔ تیسری مہلک شئ حبِ مال ہے۔ اس کے لیے اسلام نے زکوٰة کو فرض کیا ہے۔
مطلب ذرا logical انداز میں، شفقت کے پیرائے میں، بہتر طریقے سے لوگوں کو وہ چیز بتا دیا جائے، تو ٹھیک ہے، اگر مانیں گے نہیں تو کم از کم کسی نہ کسی درجے پہ غور کر لیں گے، یاد رہیں گی، اور مخالفت سے بچیں گے۔ بلکہ سمجھیں گے کہ بھئی ہم لوگ کمزور ہیں کہ ہم اس پہ عمل نہیں کر رہے۔ تو اس طرح ہو جائے گا۔ تو بہتر طریقے سے انسان بات کر لے۔
اخلاق کے پیرایہ میں نصیحت کرنا ایسا ہے جیسے مٹھائی میں کونین دینا:
تہذیب: اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کے واسطے بھی یہی تدبیر کرتے ہیں کہ مٹھائی میں کونین لپیٹ کر دیتے ہیں، اسی لیے حکم ہے حکمت کے ساتھ دعوت کرنے کا اور اخلاق کے پیرایہ میں اعمال کی ترغیب دینے کا۔
مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ کوئی سخت بات ہوتی ہے اس کے لیے۔ مثلاً سود چھوڑنا۔ سخت بات ہے۔ اب جو سود میں مبتلا ہے اس کو سود سے ہٹانا آسان بات تو نہیں ہے۔ اب اس کے لیے اپ اس کے لیے جتنا بھی کام کریں گے وہ اس کے لیے کونین کی طرح ہے۔ یعنی اس کو اگر react نہیں کرتا، تو یہ اس کی ہمت ہے، کیونکہ کونین سے تو منہ تو کڑوا ہوتا ہے نا، شکل تو بگڑتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو اپ ایسی باتیں بتائیں گے تو طبیعت پہ تو بوجھ آئے گا، باتیں تو کریں گے۔ لیکن پہلے سے اپ base بنا لیں۔ یعنی اس کو میٹھا کر لے، اس کے ساتھ کچھ ارد گرد کوئی چیز لپیٹ لے میٹھی میٹھی۔ تاکہ اس کے لیے وہ کونین (Quinine) کی گولی نگلنا آسان ہو جائے۔ اور پانی اس کے بعد فوراً دے دے، تاکہ وہ منہ کے اندر زیادہ ٹھہرے نہیں۔ لیکن یہ ہے کہ ابتدا میں تو اس قسم کی بات ہو گی، تو ایسی چیز کو وہ کرنے کے لیے انسان کو Base بنانا ہو گا، تو جیسے حضرت نے یہ Base بنایا کہ دیکھو نماز کے لیے یہ Base ہے، روزے کے لیے یہ Base ہے، حج کے لیے، مطلب زکوٰۃ کے لیے یہ Base ہے۔ اب یہ واقعتاً ایک اخلاقی انداز میں ترتیب سے ایک چیز کو سمجھانا تاکہ لوگوں کو شوق ہو جائے عمل کا، کم از کم مخالفت کو چھوڑ دے، تو اس کے لیے ذرا بہتر طریقے سے بات کو سمجھانا ہوتا ہے۔
تبلیغ کا ضابطہ مبلغ خاص و عام کے لیے:
تہذیب: تبلیغ کی دو قسمیں ہیں: خاص و عام، تبلیغِ خاص انفرادی طور سے ہر شخص کے ذمہ ہے اور تبلیغ عام علما کے ساتھ خاص ہے۔ مگر عوام مسلمین کے ذمہ سفر خرچ و دیگر اسباب کا مہیا کرنا ہے۔ اسی طرح خطاب بغیر المنصوص علما کا کام ہے، اور خطاب بالمنصوص کے ساتھ ہر مسلمان تبلیغ کا کام کر سکتا ہے۔
سبحان اللہ!
مقصد یہ ہوا کہ ایک ہوتا ہے مثلاً میں کسی کو کہہ دوں، بھئی! یہ آپ نے کیسی نماز پڑھی ہے؟ یہ تو ٹھیک نہیں پڑھی، اس میں تو فلاں فلاں چیز غلط ہے۔ یہ خاص ہے۔ اس شخص کو مخاطب کر کے بات کرنا ہے۔ یہ ہر ایک نہیں ہضم کر سکتا، لڑائی ہو جاتی ہے۔ لیکن میں اگر بیٹھ جاؤں میں کہتا ہوں: یار! کیا ہو گیا لوگوں کو؟ کمال کی بات ہے، نماز اتنی بڑی چیز ہے اس کو بھی لوگ ضائع کر دیتے ہیں۔ دیکھو! کبھی سجدہ ٹھیک نہیں کرتے، کبھی رکوع صحیح نہیں کرتے، کبھی قومہ صحیح نہیں کرتے، کبھی جلسہ صحیح نہیں کرتے۔ اب اس میں مشکل کیا ہے؟ اب دیکھو نا اگر انسان تھوڑا سا وقت اس میں سے بچا بھی لے، تو ہم نے حساب کیا ہے ایک منٹ سے زیادہ وقت نہیں بچتا پوری نماز میں، تو ایک منٹ کے لیے انسان اتنی بڑی چیز کو خراب کر لے! تو کیا خیال ہے اس پہ کوئی ناراض ہو گا؟ ناراضگی کی جرأت بھی نہیں کرے گا، کیوں؟ ناراضگی کا اظہار کرے لوگ کہیں گے اس میں گڑبڑ ہے، چکر اِس میں ہے، اس کو اس لیے مسئلہ ہوا کیونکہ اس کے اندر یہ مسئلہ ہے۔ تو اس ڈر سے کچھ کہے گا نہیں۔ بس بات ہو گئی اور پہنچ گئی اور اس کے بعد جس نے ماننا ہے مان لیا اور جس نے نہیں ماننا نہیں مانا، لیکن بہرحال یہ کہ بات کو اچھی طرح پہنچا دیا۔
میں اکثر دیکھتا ہوں، اکثر، واللہ اعلم بالصواب، کہ اس میں بھی شیطان کا کام ہوتا ہے۔ اول تو فکر نہیں بننے دیتا کہ کسی کو دین کا فکر ہو جائے، اپنی یا دوسرے کی۔ اور جب فکر ہو جائے تو پھر اس میں اتنا (Short-hearted) بنا لیتا ہے اس کو، اتنا تنگ دل بنا لیتا ہے کہ ان کی باتوں کے اندر ہی ذرا چبھن چبھن چبھن سی ہوتی ہے، اور جیسے خنجر چل رہے ہوں! او بھئی! یہ تم کیوں کر رہے ہو؟ یہ کیوں کر رہے ہو؟ خدا کے بندے! بھئی آپ کی چبھن سے کام خراب ہو رہا ہو تو آپ جس کام کو کر رہے ہیں اس کو خراب کر رہے ہو۔ بھئی آپ کا ضرر ہوتا ہے نہیں ہوتا وہ علیحدہ بات ہے، لیکن اس کا ضرر ہو رہا ہے۔ اس کو نقصان ہو رہا ہے، کیونکہ ظاہر ہے اس کو صحیح طریقے سے بات نہیں پہنچی۔ تو آپ کم از کم اس کا خیال رکھیں۔ بھئی! آپ اپنے ذمے پر اگر ذمہ داری لے ہی رہے ہیں، تو جس چیز کی آپ ذمہ داری لیں اسے صحیح طریقے سے کرو نا۔