اب اسی کا ایک رنگ اور ہے، وہ یہ ہے:
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب ا پنا بنا ہی لے رب مجھے
تھوڑا سا غور کر لیں، یہ راستے کے بعض رکاوٹیں ہوتی ہیں جس کو نورانی حجابات کہتے ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان پھنس جاتا ہے۔ تو ایک یہ بھی ہے کہ انسان منزلوں کی تلاش میں ہو، کہ میں فلاں منزل پہ پہنچ گیا، فلاں منزل پہ پہنچ گیا، یہ ہو گیا، فلاں مقام میرا ہو گیا، فلاں مقام میرا ہو گیا، خلیفہ بن گیا، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ یہ سارے کے سارے مقصد سے ہٹی ہوئی چیزیں ہیں۔ یہ فنائیت کے خلاف باتیں ہیں۔ جو چیزیں آپ کی فنائیت کے لیے رکاوٹ بن جائیں، تو آپ کو تو اصل مل ہی نہیں رہا۔
تو حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے جو تو فرمایا تھا کہ: ”میں نے بزرگی بزرگوں کے لیے چھوڑی ہے۔ میں نے درویشی درویشوں کے لیے چھوڑی ہے۔ میں نے علم علماء کے لیے چھوڑا ہے۔ میرے گلے کے اندر ایک طوق اللہ نے بندگی کا ڈالا ہوا ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ طوق میں موت تک اپنے ساتھ رکھوں۔ یہ میرا مقام ہے۔“ یہ اپنے بیٹے کے سوال کا جواب دیا تھا، انہوں نے پوچھا: ”بابا! لوگوں کے اپنے مقامات ہوتے ہیں، آپ کا کون سا مقام ہے؟“ تو حضرت نے یہ بات فرمائی۔ اب اندازہ کر لو، یہ چیز کیسے آئے گی؟ جب انسان واقعتاً اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے آپ کو مٹا دے، پھر ان کو نہ درجوں کی طلب ہوتی ہے، نہ ان کو منزلوں کی تلاش۔
یہ دیوانگی ہی کی تو بات ہے کہ حجاب اب نہ ہو درمیاں
مرا مانگنا اِس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
علامہ اقبال مرحوم نے کہا تھا:
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
ہاں مطلب یہ ہے کہ انسان جب عاشق ہوتا ہے، وہ اپنے محبوب کے قریب ہونا چاہتا ہے۔ قریب ہونا چاہتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ایسا ہے کہ محبوب ایسا ہے کہ اس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا اس دنیا میں۔ موسیٰ علیہ السلام نہ دیکھ سکے۔ موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا گیا: لَن تَرَانِي۔ ان سے فرمایا گیا۔ فرمایا اچھا ٹھیک ہے اس پہاڑ کو دیکھو، اس پر میں تجلی ڈالتا ہوں، پھر دیکھو کیا ہوتا ہے۔ اب تجلی ڈالی تو بس موسیٰ علیہ السلام بیہوش ہو گئے، پہاڑ جل گیا۔
مقصد یہ ہے کہ دیکھو اللہ جل شانہ کا جو شان ہے وہ تو ہمارے تصور سے بالا بالا ہے۔ لیکن جو محبت کا تقاضا ہے وہ انسان چاہتا ہے کہ میں... بہت زیادہ آگے چلے جاؤں اور کوئی حجاب نہ ہو۔ لیکن بہرحال یہ ہوتا تو ہے، بغیر حجاب کے اس جہاں تو وہ نہیں ہو سکتا۔
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
میری خلوت و جلوت بھی اس کی ہو مرا دل و دماغ بھی اس کا ہو
میں دیوانہ ہوں ہاں دیوانہ ہوں کہیں یہ کہیں لوگ سب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
یعنی کوئی مجھے اگر دیوانہ کہے تو اس پر میں پریشان نہیں ہوتا۔ سارے لوگ مجھے کہہ دیں۔ اس سے پہلے والا کیا تھا؟ ”میری خلوت و جلوت جو ہے، اس کی ہو۔“ یعنی خلوت میں بھی اللہ کے ساتھ تعلق ہو اور جلوت میں بھی اللہ کے ساتھ تعلق ہو۔ مجھے ہر حالت میں اللہ پاک کی طرف... اب ایسے لوگوں کو لوگ پاگل تو کہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو لوگ پاگل تو کہتے ہیں۔ فرمایا ٹھیک ہے کہنے دیں۔ بے شک مجھے سارے لوگ پاگل کہہ دیں۔
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
یہ اصل میں ”اسباب“ جو ہیں، دنیا چونکہ دَارُ الْأَسْبَاب ہے، تو یہ کہہ رہا ہے شاعر کہ میں سبب تو میں پورا کروں گا کیونکہ اللہ کا حکم ہے۔ اس کو تو میں انکار نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ پاک کا جو حکم ہے، لیکن اس سے کیا ہو گا؟
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
سبحان اللہ! بہت عظیم شعر ہے یہ، بہت عظیم شعر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو معنی کے لحاظ سے دیکھو تو اللہ پاک مُسَبِّبُ الْأَسْبَاب ہے اور اسباب کو اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے، اسباب اللہ تعالیٰ کے حکم ہیں۔ لہٰذا اللہ کے اس حکم کے مطابق میں سبب کو پورا کروں گا۔ لیکن ان اسباب میں کہیں میں ایسے گم نہ ہو جاؤں کہ مُسَبِّبُ الْأَسْبَاب مجھ سے چھوٹ جائے، مجھ سے رہ جائے۔ یہ نہیں، اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔ اسباب میں اختیار کروں گا لیکن مُسَبِّبُ الْأَسْبَاب کے حکم سے۔ اس میں گم ہونا نہیں، اسباب کے اندر گم ہونا نہیں، بلکہ اسباب کو صرف اللہ کا امر سمجھ کر میں نے اسباب کو اختیار کرنا ہے۔ یہ واقعتاً یوں سمجھ لیجیے یہ انتہائی درجہ کی جس کو کہتے ہیں عقلمندی ہے کہ انسان جو امرِ الٰہی ہے اس کو بھی نہ چھوڑے اور جو حبِ الٰہی ہے اس کو بھی نہ چھوڑے۔ دونوں باتیں ہوں۔
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
نہ ہو لمحہ بھر کی بھی غفلت اب مجھے کیا پتہ کہ ہوجائے کیا
کہیں بے خبر رہوں میں یوں اور کرم سے دیکھے وہ کب مجھے
یہ ایک اور شعر ہے فارسی کا شاید اسی کا ترجمہ لگتا ہے، اور وہ شعر یہ ہے:
یک لحظہ زدن غافل ازاں شاہ نباشی
شاید کہ نگاہے کند آگاہ نباشی
یعنی ایک لمحے کے لیے اللہ جل شانہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے، عین ممکن ہے اسی وقت نظرِ کرم فرمائے اور ہم غافل ہوں، ادھر ادھر ہوں۔ تو ایک لحظہ بھی غافل نہیں ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر بھی یہ بتایا گیا ہے کہ اب مجھے غفلت سے نکلنا چاہیے، مجھے ایک لحظے کے لیے بھی غافل نہیں ہونا چاہیے، عین ممکن ہے اللہ پاک میری طرف رحمت کی نگاہ کر رہے ہوں اور میں کسی اور چیز میں لگوں۔
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
مرے سجدے عبادتیں اس کا حق، مرا حق تو اس پہ کوئی نہیں
یہ کرم ہے اس کا کرے قبول سنو خود سے کھینچے وہ جب مجھے
یہ بہت اہم شعر ہے اور جتنے بھی سالکین ہیں ان کو اس کا مفہوم سمجھ میں آنا چاہیے ورنہ بہت خسارے کی بات ہو جائے گی۔ وہ یہ ہے کہ: ”میرے سجدے، عبادتیں اس کا حق... اور میرا حق تو اس پہ کوئی نہیں۔“ یعنی جو عبادت میں کرتا ہوں یہ اس کا حق ہے کیونکہ میں اللہ کا بندہ ہوں، یہ اس کا حق ہے۔ لیکن میرا تو اس کے اوپر کوئی حق نہیں۔ ہمارے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی ہے نا کہ اللہ تعالیٰ پر بندے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یعنی غلام کا تو حق ہے، نوکر کا اس سے زیادہ ہے، لیکن بندے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔
اچھا! جب یہ والی بات انسان کی ہو جائے کہ خالصتاً اللہ پاک کے لیے عبادت ہو جس میں انسان اپنے لیے کچھ وصول نہ کرے۔ اس وقت اللہ پاک کے کرم کی نظر ہو جاتی ہے۔ اور اللہ پاک کے کرم کی نظر اتنی ہو جاتی ہے کہ پھر اس کے لیے پھر حساب نہیں ہے کہ وہ کتنا کھینچتا ہے۔ یہ جذب کی جو حالت ہے، پھر وہ کتنا کھینچتا ہے اس کا کوئی حساب نہیں۔
تو اصل میں یہاں والی بات ہے کہ جو تجارت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ خسارے میں رہتا ہے۔ بھئی اللہ کے ساتھ تجارت کیسے کر سکتے ہو؟ سب کچھ جو دیا ہے وہ تو اللہ نے دیا ہے، تیرے پاس کیا تھا؟ جن پیروں سے چلتے ہو وہ اللہ کے دیے ہوئے ہیں، جس زبان سے بولتے ہو اللہ کا دیا ہوا، جو ذہن سے کام لیتے ہو وہ اللہ پاک کا دیا ہوا ہے۔ ہے تیرے پاس کیا؟ تو نے کر کیا لیا؟ تم شکر کرو کہ اس نے توفیق دی ہے۔ شکر کر لو کہ اس نے توفیق دی ہے۔ وہ فارسی کا جو شعر ہے اس میں یہی کہتے ہیں نا کہ یہ نہ کرو کہ ”من خدمتِ سلطان می کنم“ کہ میں سلطان کی خدمت کر رہا ہوں، بلکہ اس پر شکر کرو کہ مجھے خدمت کے لیے رکھا ہے۔ وہ تو کسی اور کو بھی رکھ سکتا ہے، تجھے ہٹا دے اور تیری جگہ کسی اور کو رکھ دے۔
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
مجھ پہ فضل رب کا ہے اے شبیر ؔ مجھے اہل ِ حق سے ملا دیا
اب خدا کے کرم سے نصیب ہو ان ہی اہل ِ حق کا ادب مجھے
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب ا پنا بنا ہی لے رب مجھے
اس میں یہ ہے کہ واقعتاً اللہ پاک کا فضل جن پر ہو جاتا ہے، ان کو اہل حق سے ملا دیتے ہیں۔ اور پھر اہل حق کی برکت سے وہ حق تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور جن کو اللہ پاک ذریعہ بنا لیتے ہیں، ان کا ادب بھی اللہ ہی کرواتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کرواتے ہیں وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔
تو اس وجہ سے جن کو اللہ پاک ذریعہ بناتے ہیں ہمارے ہدایت کے لیے، تو ان سب کا ادب ہے ہمارے اوپر۔ پیغمبر ہیں، صحابہ ہیں، اور اس طرح اولیاء کرام ہیں، تو ہمارے مشائخ ہیں، یہ سب جو استاد ہیں، ان سب کا ہمارے اوپر حق ہے اور ہمیں ان کا ادب کرنا پڑے گا، تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی ادب نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔