برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے

کتاب: نور بصیرت، کلام: برائے تربیت مسلم

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے

خدا سے فیصلے کروانے واسطے جو نکلی دل سے ہو ان آہوں کی ہے

نفس موٹا ہے دل کالا ہوا ہے عقل کو زنگ غفلت کی لگی ہے

دلوں کو موڑ دیں اب اس کی جانب ضرورت ان تربیت گاہوں کی ہے


برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے

خدا سے فیصلے کروانے واسطے جو نکلی دل سے ہو ان آہوں کی ہے

بہت بدنام خانقاہیں بھی ہوں گر کھرے کھوٹے کی پہچان ہو موجود

کرو پہچان اس سے جس سے درست ہوں ضرورت کیونکہ ایسی راہوں کی ہے


یہاں پر ایک بات clear کرنی ضروری ہے۔ باقی بہت سارے لوگوں کو کچھ confusions ہیں جن کا جواب شاید ان کو یا مل نہیں رہا یا اس پہ سوچ نہیں رہے۔ مدارس کا جو بنیادی کام ہے وہ علم پھیلانا ہے۔ اور خانقاہوں کا جو کام ہے بنیادی وہ تربیت کرنا ہے۔ تو تربیت کے لیے جتنے علم کی ضرورت ہے، یعنی فرضِ عین علم، جو اپنے طور پر ہر انسان کو ضرورت ہے، ان دو علوم کی ضرورت ان کو بھی ہے۔ یعنی ایک تو فرضِ عین علم جو کہ ہر مسلمان کی ضرورت ہے، ظاہر ہے اس میں کوئی مستثنیٰ نہیں۔ اور دوسرا یہ ہے کہ وہ علم جو کہ تربیت کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ خانقاہوں سے مطلوب ہے۔

باقی بخاری شریف کا ختم، منطق کی باتیں، علم کے لمبے چوڑے مباحث، یہ خانقاہوں کا کام نہیں ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں وہ آتے ہیں مثال کے طور پر علمی میدان سے۔ وہ یہاں پر بھی علمی مباحث تلاش کرتے ہیں۔ کوئی علمی بڑی بات ہوگی تو پھر ان کا دل ٹکے گا۔ تو ایسی بات کوئی نہیں ہے، دیکھیں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ الله عليہ اصطلاحی عالم بھی نہیں تھے۔ لیکن ان کے پاس کون گئے ہیں؟ مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ الله عليہ ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ الله عليہ ، حضرت گنگوہی رحمۃ الله عليہ ، اور پتہ نہیں کیا کیا... عجیب مطلب جو ہے نا وہ... اب یہ ان کے پاس کیوں گئے ہیں؟ کیا ان سے علم سیکھنے کے لیے گئے ہیں؟ علم تو ان کے پاس تھا۔ علم تو حاصل کر چکے تھے۔ ان کے پاس تربیت کے لیے گئے تھے۔

تو یہ جو چیز ہے یعنی ہم لوگوں کا یہ، اگر خیال ہو کہ یہاں پر بھی ہمیں وہ چیز ملے گی جس کی ہمیں تلاش ہے، وہ چیز ادھر تلاش کرو جو... اب میں Electrician کی دکان سے، نارمل جو سودا ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ چائے پتی... وہ مانگوں تو وہ کہے گا یہ جگہ نہیں ہے ، آپ دوسری جگہ چلے جائیں۔ وہ وہاں پر ملے گا۔ تو اسی طریقے سے ہر جگہ کی اپنی اپنی ہوتی ہے، ظاہر ہے اپنا اپنا میدان ہوتا ہے۔

تو یہ جو بذاتِ خود تربیت ہے، یوں سمجھ لیجیے کہ علم کو practically استعمال کرنا ہوتا ہے۔ میں اس کی مثال دیتا ہوں، آپ قرآن شریف کی بہت ساری آیات پڑھیں صبر کے بارے میں، احادیث شریفہ صبر کے بارے میں پڑھیں، لیکن اگر آپ میں صبر نہیں ہے، تو practically آپ کو وہ چیز حاصل نہیں ہے۔ اس کے لیے آپ کو صبر کے اوپر آیتیں نہیں پڑھنی، یا آپ نے صبر کے اوپر احادیث شریفہ نہیں سننی، وہ تو آپ سن چکے ہو یا نہیں سن چکے ہو، لیکن آپ صبر حاصل کر لیں۔ اس طرح آپ شکر حاصل کر لیں، اس طرح آپ تقویٰ حاصل کر لیں، اس طرح آپ ریا سے بچیں، اس طرح آپ اخلاص حاصل کر لیں۔ یہ چیزیں جو ہیں نا اس کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے بس وہ کافی ہے۔

آگے جا کر ظاہر ہے اس کے اوپر کوئی تقریریں تو نہیں کرنی۔ بہت سارے مشائخ ایسے ہیں جو بالکل ان پڑھ ہیں۔ اور تقریر کرتے بھی نہیں ہیں۔ بلکہ بعض علماء ہیں تقریر نہیں کرتے۔حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ الله عليہ ، وہ بیان بالکل نہیں کرتے تھے۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ الله عليہ بیان بالکل نہیں کرتے تھے۔ بلکہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ الله عليہ ایک دفعہ مدرسے میں گئے تھے کسی مدرسے میں بلائے گئے تھے۔ تو وہاں پر تشریف فرما تھے تو ایک طالبعلم نے کسی سے کہا کہ ہم تو یہاں آئے تھے کہ ہم کچھ سنیں گے حضرت سے، یہ تو بالکل ہی خاموش ہیں تو بات ہی نہیں کرتے۔ یہ بات حضرت تک پہنچائی گئی، کسی نے پہنچا دی۔ تو حضرت نے فرمایا جو ہماری خاموشی سے نہیں سیکھ سکتا، وہ ہماری تقریر سے بھی نہیں سیکھ سکتا۔ بس یہ بات بالکل صحیح تھی کہ بعض حضرات کا یہی کام ہوتا ہے۔ تو یہ بہت اہم ہے۔ اگر یہ انسان کو نہ سمجھ آئے تو سمجھ لو کہ اس کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔

اس کا میں آپ کو ایک واقعہ سنا دوں، لطیفہ سا ہے۔ کہ ایک کشتی میں ریاضی دان بھی جا رہے تھے، Physicists بھی جا رہے تھے، Chemist بھی جا رہے تھے۔ Chemistry کے جو جاننے والے تھے۔ وہ جا رہے تھے۔ ملاح کشتی چلا رہا تھا۔ تو ان کو شغل سا لگا تو انہوں نے کہا Physicist نے کہا بھئی آپ کو Physics آتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں مجھے تو نہیں آتا، ملاح کو Physics کہاں سے آتی ہے؟ تو اس نے کہا پھر تو آپ نے ایک تہائی زندگی ضائع کر دی۔ تو دوسرے Mathematician نے کہا کہ آپ کو ریاضی آتی ہے؟ اس نے کہا نہیں آتی۔ انہوں نے کہا پھر تو آپ نے دو تہائی زندگی ضائع کر دی۔ تو تیسرے نے کہا کہ آپ کو Chemistry آتی ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ تو اتنے میں کشتی گرداب میں پھنس گئی۔ تو ملاح نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو تیرنا آتا ہے؟ انہوں نے کہا تیرنا تو نہیں آتا۔ انہوں نے کہا چلو تم تو گئے! اب ظاہر ہے ہر چیز کا اپنا اپنا میدان ہوتا ہے۔ تو یہ میں نے اس لیے عرض کیا کہ اس قسم کی باتیں میں نے سنی ہیں۔ اس قسم کی باتیں میں نے سنی ہیں، تو میں نے کہا کہ چلو ظاہر ہے کم از کم یہ بات اپنی طرف سے ہم پہنچا دیں، باقی تو ہدایت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے

خدا سے فیصلے کروانے واسطے جو نکلی دل سے ہو ان آہوں کی ہے


جو بدخواہ ہیں بہت کثرت سے ہیں آج، مفادات سامنے ان کے اپنے اپنے

خدایا جو ہوں تیرے اور ہوں بے لوث، ضرورت مجھ کو ان خیر خواہوں کی ہے

برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے


رچی ہے ہر رگِ نفس میں ہے دنیا، بچانا دین کا پھر بھی ہے لازم

پناہ لے دین بچانے اس میں شبیر ضرورت ایسی بارگاہوں کی ہے


اگر کسی کو یہ شعر سمجھ نہیں آتا تو ترکی کا جو ابھی گزشتہ تقریباً 50، 60 سال کا عرصہ ہے نا اس کی History پڑھ لے تو ان کو سمجھ میں آ جائے گا۔ کہ ایمان وہاں کن چیزوں سے بچا ہے۔ انہی خانقاہوں سے بچا ہے۔ یعنی خانقاہوں کے ساتھ، موجودہ جو صدر ہیں یہ بھی خانقاہ کا تربیت یافتہ ہے۔ یہ سب لوگ خانقاہوں کے ساتھ وابستہ تھے۔ یہ جہانگیرہ میں گیا تھا تو وہاں پر جو چیئرمین ہیں وہ ملنے کے لیے آئے تھے۔ والدہ صاحبہ کی فاتحہ پڑھنے کے لیے۔ تو وہ ان کا تعلق جماعت اسلامی کے ساتھ ہے اور قاضی حسین احمد صاحب کے رشتہ دار بھی ہیں۔ تو اس نے کہا کہ مجھے قاضی صاحب نے بتایا تھا۔ کہ ترکی میں اسلام بچا ہے خانقاہوں کی وجہ سے۔ ترکی میں اسلام بچا ہے خانقاہوں کی وجہ سے۔ حالانکہ جماعت اسلامی والوں کا تو آپ کو پتہ ہے اتنا زیادہ اس کے ساتھ وہ نہیں ہے نا تعلق۔ لیکن ان کو بھی ماننا پڑا۔ کہ ترکی میں اسلام بچا ہے خانقاہوں کی وجہ سے۔

برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے

خدا سے فیصلے کروانے واسطے جو نکلی دل سے ہو ان آہوں کی ہے


برائے تربیت مسلم جواں کو ضرورت آج خانقاہوں کی ہے - عارفانہ کلام-دوسرا دور