مجاہدہ کی حقیقت، اقسام اور روحانی تربیت: اختیاری اور اضطراری کیفیات کا بیان

اشاعت اول: اتوار، 13 نومبر 2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اس بیان میں درج ذیل اہم علمی، روحانی اور اصلاحی موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے:

  • مجاہدہ کی شرعی و اصطلاحی حقیقت: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات (انفاسِ عیسیٰ) کی روشنی میں نفس کی مخالفت کے اصول۔
    • مخالفتِ واجبہ اور مخالفتِ مستحبہ: گناہوں کو ترک کرنے کی فرضیت (واجب مخالفت) اور مباحات (کھانے، سونے، بولنے) میں کمی کرنے کی اہمیت (مستحب مخالفت)۔
      • رہبانیت اور تصوف کا فرق: اس غلط فہمی کا ازالہ کہ تصوف دنیا ترک کرنے کا نام ہے۔ واضح کیا گیا کہ صوفیاء کا مباحات کو چھوڑنا دائمی نہیں بلکہ محض "مجاہدۂ تربیتیہ" (Spiritual Training) ہے۔
        • نگاہوں کی حفاظت کا عملی طریقہ: بدنگاہی جیسی عادت سے نکلنے کے لیے صوفیائے کرام کے بتائے گئے نفسیاتی اور عملی طریقے (آہستہ آہستہ وقت کا دورانیہ بڑھانا)۔
          • مجاہدۂ اختیاریہ اور مجاہدۂ اضطراریہ: اپنی مرضی سے کی گئی مشقت (اختیاریہ) اور اللہ کی طرف سے آنے والی بیماری یا مجبوری (اضطراریہ) کے درمیان فرق اور ان کے روحانی ثمرات۔
            • اضطراری کیفیات میں عاجزی کا پیدا ہونا: اختیاری عبادات میں بڑائی یا تکبر آ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، جبکہ مجبوری و بیماری (مجاہدۂ اضطراریہ) میں انسان کی قابلیت بڑھتی ہے اور وہ مسکینی و انفعال کی کیفیت میں آ جاتا ہے۔
              • اکابرین کی آزمائشیں: حضرت تھانویؒ کی گھریلو اور نفسیاتی آزمائشوں کا تذکرہ اور ان حالات میں بھی ان کی استقامت اور بشاشت۔
                • بارگاہِ الٰہی میں عاجزی کی قبولیت: مسجدِ نبوی میں تکبیرِ اولیٰ چھوٹ جانے کے واقعے پر متکلم کی جانب سے پیش کی گئی غزل، جس کا پیغام ہے کہ تکبر والے کمال سے اللہ کو بندے کا ٹوٹا ہوا دل (شکستگی) زیادہ پسند ہے۔
                  • خالق تک پہنچنے کے راستے: ﴿طَرِیْقُ الوُصُوْلِ اِلَی اللہِ بِعَدِدِ اَنْفَاسِ الَخَلائِقِ﴾ کے تحت اللہ کے ہر بندے کے ساتھ مختلف معاملے کا بیان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور گڈریے کے واقعے سے اس کی بہترین تفہیم۔

                    الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔

                    أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

                    آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارا معمول ہے بزرگوں کے ملفوظات بیان کرنے کا اور آج کل ہمارا "انفاسِ عیسیٰ" جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ کے ملفوظات پر مشتمل کتاب ہے، اس سے تعلیم جاری ہے۔

                    حضرت فرماتے ہیں:

                    مجاہدہ کی حقیقت:

                    ارشاد: مجاہدہ کی حقیقت یہ ہے کہ معاصی کو تو مطلقاً ترک کرے اور یہ نفس کی مخالفت واجب ہے اور مباحات میں تقلیلاً مخالفت کرے اور یہ مخالفت مستحب ہے مگر ایسا مستحب ہے کہ مخالفت واجبہ کا حصول کامل اس مخالفت مستحبہ پر موقوف ہے جیسے بہت سونا، بہت کھانا، بہت عمدہ کپڑے پہننا، بہت باتیں کرنا، لوگوں سے زیادہ ملنا ملانا، سو ان میں تقلیل کرے۔

                    مجاہدہ کس سے نکلا ہے؟ یہ "جہد" سے نکلا ہے، کوشش۔ کوشش کس چیز میں؟ جو کام کرنے کا ہے اس میں اگر نفس مخالفت کرتا ہے تو نفس کی مخالفت کو چھوڑ کر، اس کی پرواہ کیے بغیر، اس کام کو کرے۔ مثلاً نماز پڑھنا، اس کے لیے نفس مخالفت کرتا ہے، تو بہرحال یہ جو نفس کی مخالفت ہے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے اعمال میں۔

                    یا کسی گناہ کا تقاضا ہے، تو اس تقاضے کی مخالفت کر کے اس گناہ سے بچا جائے۔ یہ جو نفس کی مخالفت ہے واجب ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی سرحد گناہ کے ساتھ لگی ہوئی ہے، اگر اس کی مخالفت نہ کی جائے تو گناہ ہو جائے گا، یا فرض چھوڑنے کا گناہ ہو جائے گا جو حرام ہے، یا حرام میں مبتلا ہونے کا گناہ ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے یہ نفس کی مخالفت واجب ہے۔

                    اور کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو مباح ہوتی ہیں، مثال کے طور پر اگر ایک آدمی نماز کے علاوہ سو رہا ہے تو مباح ہے، یعنی اگر نماز اس کی نہیں جا رہی تو اس کا سونا مباح ہے، اس پر پابندی تو شریعت نے نہیں لگائی۔ انسان حلال کھانا کھا رہا ہے تو مباح ہے، اس پر شریعت نے تو پابندی نہیں لگائی۔ یا اس طرح لوگوں کے ساتھ جائز باتیں کر رہا ہے تو مباح ہے، اس طرح لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ رہا ہے جائز، تو مباح ہے۔ تو یہ ساری چیزیں مباحات ہیں۔

                    اب ان مباحات میں انسان پڑ جائے اور کوئی روک ٹوک نہ ہو تو اس کے اپنے مسائل ہیں۔ تو اس سے بچنے کے لیے اس میں تقلیل کرنا مستحب ہے، یعنی ان کے پیچھے نہ پڑے بس ضرورت کے درجے میں رکھے، خواہ مخواہ اس میں منہمک نہ ہو جائے۔ اس لیے اس کی تقلیل کرنے کی بات ہے۔ بہت زیادہ کھانے سے صحت کے مسائل بھی ہیں اور روحانی مشکلات بھی آ جاتی ہیں، مثال کے طور پر نماز میں بددلی اور سستی چھا جانا۔ تو مطلب اس کی سرحدیں پھر ان چیزوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں، لہٰذا اس میں تقلیل کرنی چاہیے۔

                    اب اگر کوئی شخص تقلیل نہیں کرتا اور ان چیزوں میں ادھر مجاہدہ کرتا ہے تو بچ تو جائے گا لیکن ہمیشہ ایک مشکل میں پڑے گا۔ تو لہٰذا اس کی انہماک سے بچیں، اس کو ہم کہتے ہیں یہ مستحب ہے۔

                    لیکن حضرت نے فرمایا یہ ایسا مستحب ہے کہ مخالفتِ واجبہ، یعنی جو نفس کی مخالفت ہے گناہ سے بچنے کے لیے اور فرض اور واجب کے کرنے کے لیے جو ہمت ہے، یہ اس پر موقوف ہے، اس مخالفتِ مستحبہ پر۔ کیونکہ اگر اس کی مخالفت نہیں کرے گا اور تقلیل نہیں کرے گا تو وہ چیزیں کبھی ٹھیک نہیں ہو سکیں گی۔

                    تو لہٰذا یہ جو مجاہدہ کرایا جاتا ہے مستحب، یہ اصل میں مجاہدہِ واجبہ کے لیے آسانی فراہم کرنے کے لیے ہے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ اگر کاغذ کو کوئی ایک طرف موڑ دے، اس کو اگر کوئی سیدھا کرنا چاہے گا تو نہیں سیدھا کر سکتا۔ اس کے لیے اس کو مخالف سمت میں اس طرح ہی موڑنا پڑتا ہے، پھر اس کے بعد وہ سیدھا ہوتا ہے۔ اب یہ مخالف سمت جو موڑنا ہے، تو لوگ کہیں گے "کمال ہے! آپ کو سیدھا کرنا مطلوب ہے یا موڑنا مطلوب ہے؟" تو کہے گا "اچھا اگر آپ بغیر اس کے سیدھا کر سکتے ہیں تو کر کے دکھائیں۔" بغیر اس کے سیدھا نہیں ہو رہا۔ مخالفت... تو یہ جو مخالفت میں موڑنا ہے، یہ اگرچہ Required نہیں ہے، یہ آپ کا Target نہیں ہے، یہ آپ کے ٹارگٹ کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

                    تو وہ "مجاہدہِ اختیاریہ" جو آپ اپنے مقاصدِ دینیہ کو حاصل کرنے کے لیے آپ وقتی طور پر کرتے ہیں، ہمیشہ کے لیے نہیں، وقتی طور پر کرتے ہیں اور جس وقت اس چیز کی اصلاح ہو جائے پھر چھوڑ دیتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جو تصوف کے زمرے میں آتا ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ مجاہدہِ اختیاریہ کی ضرورت جو ان مباحات میں تقلیل کی ہے، وہ اصل میں اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے ہے، بنیادی ٹارگٹ آپ کا وہ ہے کہ آپ جو نفس کی مخالفتِ واجبہ ہے وہ آپ کر سکیں۔

                    یہاں سے ہمیں ایک بہت اچھا Clue)مل گیا ایک بہت بڑے اشکال کو دور کرنے کا، کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ صوفی لوگ یہ رہبانیت میں مبتلا ہیں، جن چیزوں کی شریعت نے اجازت دی ہے یہ اس سے منع کرتے ہیں۔ تو حدیث شریف میں آتا ہے "لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسْلَامِ" اسلام میں رہبانیت نہیں ہے، تو یہ تصوف تو اسلام کے ساتھ ٹکراؤ ہو گیا۔ یہ اشکال ہوتا ہے بعض کو۔

                    صوفیائے کرام اس کا جواب دیتے ہیں کہ یہ رہبانیت نہیں ہے، کیونکہ رہبانیت وہ چیز ہوتی ہے جب انسان کچھ لذائز کو ترک کرتے ہیں ثواب کی نیت سے، اس کو دین سمجھ کر۔ وہ رہبانیت ہے۔ صوفی اس کو ثواب کی نیت سے نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ کے لیے نہیں چھوڑتا۔ اس کو وقتی طور پر چھوڑتا ہے، تربیتی طور پر چھوڑتا ہے اور اپنے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جس کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ تو تین چیزیں مختلف ہو گئیں رہبانیت سے۔ لہٰذا اس کو ہم رہبانیت نہیں کہیں گے، یہ تو "مجاہدہِ تربیتیہ" ہے۔

                    مجاہدہِ تربیتیہ ہے تو یہ مجاہدہِ تربیتیہ ہے، یہ تصوف کے اندر ہے۔ اس سے بڑے بڑے ماشاء اللہ مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔ حکم ہے شریعت کا کہ غیر محرم کو نہ دیکھو۔ حکم ہے، چاہے تمہارے دل کے اوپر کچھ بھی حالت ہو، چاہے چھاتی پہ مونگ دل لے لیکن ماننا پڑے گا۔ ہاں، حکم ہے اللہ تعالیٰ کا، چھوڑ نہیں سکتے۔ توڑو گے تو سزا ہے۔ اب نفس بڑا شریر، پُر زور۔ ہمیں معلوم ہے حکم کہ نہیں دیکھنا، اور یاد بھی ہوتا ہے اس وقت، لیکن آنکھ اٹھ جاتی ہے، غلطی ہو جاتی ہے، پھر آدمی کہتا ہے جی بس غلطی ہو گئی، اس کو لائٹ سمجھتا ہے اور ہمیشہ کے لیے اس میں مبتلا رہتا ہے۔ دل گندا ہو رہا ہوتا ہے، دل کی صلاحیت کم ہو رہی ہوتی ہے، نتیجتاً خیر کی طرف رجہان کم ہوتا ہے۔ تو یہ سارے مسائل ہیں، عوام کو ہیں، ظاہر ہے وہ خود بتاتے ہیں۔

                    اب صوفی اس کو بتاتا ہے کہ تجھے تھوڑا سا مجاہدہِ تربیتیہ کرنا پڑے گا اس چیز سے نکلنے کے لیے، یعنی Loop سے نکلنے کے لیے جو Loop ہے۔ اس سے نکلنے کے لیے آپ کو مجاہدہِ تربیتیہ کرنا پڑے گا۔ وہ کہتا ہے "کیسے؟" کہتے ہیں "اچھا اس طرح کر لو کہ تم کمرے کے اندر یوں کرو کہ نیچے دیکھنا شروع کر دو، کمرے کے اندر نیچے دیکھنا شروع کر دو، کوئی آپ کو دیکھ نہیں رہا سوائے اللہ کے۔ پانچ منٹ تک روزانہ، پانچ منٹ سے شروع کر لو۔ اگلے دن چھ منٹ کر لو، اگلے دن سات منٹ کر لو، اگلے دن آٹھ منٹ کر لو۔ اب چونکہ پانچ منٹ والے کے لیے چھ منٹ پہ جانا مشکل نہیں ہے، چھ منٹ کے لیے سات منٹ پر جانا مشکل نہیں ہے، جیسے سیڑھی آدمی چڑھ رہا ہے۔ اور اس کو بیس منٹ تک پہنچا دو، یہ پندرہ دن میں ہو جائے گا۔"

                    پھر بتایا جائے کہ "اچھا باہر آؤ اور لوگوں کے سامنے پانچ منٹ نیچے دیکھو، لوگوں کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے بھی پانچ منٹ نیچے دیکھو۔ اب چونکہ وہ تجربہ کر چکا ہے، وہ مجاہدہ کر چکا ہے، لہٰذا اب یہ آسان ہو گیا۔ تو لوگوں کے درمیان پانچ منٹ کے لیے، پھر چھ منٹ کر لو، پھر سات منٹ کر لو اگلے دن، پھر آٹھ منٹ، یہ بھی پندرہ دن میں بیس منٹ تک پہنچ جائے گا۔"

                    اب آپ کو اتنی Experience حاصل ہو گئی اپنے مجاہدہ، گویا کہ نفس کو قابو کرنا بیس منٹ کے لیے آپ کی ٹریننگ ہو گئی۔ اب لوگوں کے درمیان رہ کر آپ بیس منٹ کے لیے اگر نیچے دیکھ سکتے ہیں تو آپ نے ایک بہت بڑی بلا سے نجات پائی۔ کیونکہ بیس منٹ سے زیادہ تو نہیں ہوتا، بیس منٹ میں آپ Planning کر سکتے ہیں نکلنے کی۔ وہ تو انسان کا وقتی ہیجان ہوتا ہے جس میں انسان گر کے خراب ہو جاتا ہے۔ تو اگر بیس منٹ کے لیے اس کے پاس Margin ہے تو بیس منٹ میں تو بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ارادہ اگر ہو اور بیس منٹ کا آپ کے پاس مارجن بھی ہے، تو بیس منٹ نیچے دیکھتے دیکھتے ضروری بات کر کے چلا گیا۔ بچ گیا۔

                    اب کتنا بڑا مقصد حاصل ہو گیا۔ لیکن اس کو کہا جائے کہ "دیکھو! یہاں جو مجاہدہِ تربیتی تھا ایک مہینے کے لیے، آپ نے کتنا بڑا فائدہ اس سے حاصل کر لیا۔ کیا قرآن میں لکھا ہے اس طرح؟ کیا حدیث شریف میں لکھا ہے اس طرح؟" نہ قرآن میں لکھا ہے، نہ حدیث شریف میں لکھا ہے۔ لیکن قرآن میں اور حدیث شریف میں ہے کہ "نہ دیکھو"۔ تو جو چیز فرض ہے تو اس کے اسباب اختیار کرنا اپنے اوپر فرض ہے، لازم ہے، لازم ہے۔ تو اب جب یہ والی بات ہے تو آپ اس طریقے سے مجاہدہِ تربیتیہ کے ذریعے سے آپ وہ مجاہدہ آپ کے لیے آسان ہو گیا جو مجاہدہِ شرعیہ ہے۔

                    تو تصوف میں مجاہدہِ تربیتیہ کے ذریعے سے مجاہدہِ شریعہ کو آسان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ پھر شیخ کے صوابدید پر ہوتا ہے اور مرید کی حالت پر، کہ اس کے لیے کون سا مجاہدہِ تربیتیہ، جیسے مریض کی حالت پر اور ڈاکٹر کی صوابدید پر، اس کے علم اور تجربے کی بنیاد پر فیصلہ مختلف چیزوں میں کیا جاتا ہے۔ تو یہاں پر بھی شیخ ڈاکٹر کے طور پر ہوتا ہے اور سالک جو ہے نا وہ مریض کے طور پر ہوتا ہے، تو اس کے لیے مجاہدہِ تربیتیہ وہ ارینج (Arrange) کر لیتے ہیں۔ تو یہ اصل میں بنیادی چیز ہے نفس کے بارے میں۔

                    مجاہدہ اختیاریہ و اضطراریہ کا فرق اور دونوں کی ضرورت:

                    یہ اب دو قسمیں آگئی ہیں۔ مجاہدہ دو قسموں پر ہے: ایک اختیاریہ ہوتا ہے اور ایک اضطراریہ ہوتا ہے۔ اختیاریہ سے مراد یہ ہے کہ آپ اپنے اختیار سے، جس مجاہدۂ تربیتی کی میں نے ابھی مثالیں دی ہیں، یہ اختیاریہ ہے۔ اور مجاہدۂ اضطراریہ یہ ہے کہ آپ نے چاہا تو نہیں، لیکن کوئی تکلیف ہوگئی۔ اب اس تکلیف کو برداشت کرکے اللہ جل شانہٗ کی ناراضگی سے اپنے آپ کو بچانا، یہ مجاہدۂ اضطراریہ ہے۔

                    ارشاد: مجاہدہ اختیاریہ میں تو فعل کا غلبہ ہے اس لیے اس میں انوار زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ انوار کا ترتب عمل پر ہوتا ہے اور مجاہدہ اضطراریہ میں فعل کم ہوتا ہے اس میں نورانیت کم ہوتی ہے۔ لیکن انفعال کا غلبہ ہوتا ہے اس سے قابلیت میں قوت بڑھتی ہے اور اس انفعال و قابلیت کی خود اعمال اختیاریہ کے راسخ ہونے کے لیے سخت ضرورت ہے اسی لیے بزرگوں نے ایسے مجاہدات بہت زیادہ کرائے ہیں۔

                    مجاہدۂ اضطراریہ، یہ اللہ کی تشکیل ہے۔ مثلاً آپ کو بخار آجائے، ہاتھ ٹوٹ جائے۔۔۔ میرا ہاتھ ٹوٹ گیا تھا پچھلے سال اعتکاف کے بالکل ابتدائی 15 منٹ میں۔ تو اس وقت میرے ذہن میں بھی یہ آیا کہ اس دفعہ اعتکاف مجاہدۂ اضطراریہ والا ہے۔ تشکیل ہوگئی کہ اب تو یہی ہوگا۔ تو جب میں ڈاکٹر کے پاس جا رہا تھا، تو تین ڈاکٹر تھے اس وقت ہمارے ساتھ۔۔۔ وہ تو سوچ میں لگے تھے کہ کس ڈاکٹر کے پاس چلا جائے اور کیا کیا جائے اور میں سوچ میں لگا رہا تھا کہ اب میں نماز کیسے پڑھوں گا، اب میں وضو کیسے کروں گا۔۔۔ میں اس کو ڈیزائن کر رہا تھا وضو کے طریقے کو کہ میں وضو کیسے کروں گا۔

                    تو اس وقت وضو واقعی مجاہدۂ اضطراریہ تھا کہ مطلب لیکن اللہ پاک نے بڑی مدد فرمائی اور اس کو آسان کروا دیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ الحمدللہ کوئی نماز ضائع نہیں ہوئی، حتیٰ کہ الحمدللہ تراویح بھی ضائع نہیں ہوئی، اللہ کا شکر ہے الحمدللہ تراویح بھی اللہ پاک نے توفیق عطا فرمائی۔ تو اب قابلیت بڑھ گئی نا! وہ جو چیزیں میرے سامنے تھی نہیں، وہ آگئیں اب اس میں کیا کرنا ہے؟ انفعال ہے۔اس طریقے سے مجاہدۂ اضطراریہ جو ہوتا ہے گویا کہ آپ کو مختلف Areas کے اندر اللہ کی مرضی کے مطابق کام کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اور کیونکہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے لہٰذا اس کے فوائد بے شمار ہیں۔ جو آگے ان شاء اللہ آرہا ہے۔

                    مجاہدہ اضطراریہ کا نفع:

                    تہذیب: مجاہدۂ اضطراریہ سے عمل میں قلت بھی ہو جائے اور محض فرائض و واجبات ہی پر اکتفا ہوتا رہے تب بھی مجاہدہ کاملہ کا ثواب ملتا ہے۔

                    کیونکہ اب دیکھیں ایک شخص ہے اس کو بیماری ہوگئی، وہ کھڑے نہیں ہوسکتے نماز میں، تو بغیر کھڑے اسے کھڑے ہونے کا ثواب مل رہا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو آدمی جو اعمال کر رہا ہو اور بیماری کی وجہ سے یا سفر کی وجہ سے وہ رہ جائیں تو ان کو پورا ثواب ملتا ہے۔

                    اس وجہ سے مجاہدۂ اضطراریہ۔۔۔ اس سے اگر عمل میں قلت بھی ہوجائے اور محض فرائض اور واجبات پر اکتفا ہوتا رہے تب بھی مجاہدۂ کامل کا ثواب ملتا ہے۔ اور ویسے حضرات نے فرمایا ہے کہ ایک دن کا جو مجاہدۂ اضطراریہ ہے وہ برسوں کے مجاہدۂ اختیاریہ سے بڑھ کر ہوتا ہے، فائدے کے لحاظ سے۔ برسوں کے مجاہدہ۔۔۔ ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمة اللہ علیہ کو کسی سالک نے خط لکھا: کہ حضرت! اس دفعہ تو میرا اعتکاف سارا بیماری میں گزر گیا۔ لوگ اعمال کر رہے تھے اور میں پڑا رہا اور ان کو ترستا رہا، کچھ بھی نہیں کر سکا، تو حضرت نے بڑا جلالی جواب دیا۔ فرمایا: تمہیں کیا اختیار ہے کہ اللہ تجھے بیماری کے ذریعے سے دینا چاہے اور تو کہے کہ نہیں میں نے مستحبات اور ان کے ذریعے سے لینا ہے۔ بس جو اللہ پاک تجھے جس طریقے سے دے رہا ہے اس پر خوش رہو۔

                    تو مطلب یہ ہے کہ اس میں بہت کچھ ملتا ہے۔ اور سب سے بڑا فائدہ مجاہدۂ اضطراریہ کا یہ ہے کہ اس میں انسان اپنے آپ کو بزرگ نہیں سمجھتا۔ جبکہ مجاہدہ اختیاریہ میں بزرگ سمجھنا شروع کر لیتا ہے۔ آدمی کہتا ہے میں اتنی محنت کر رہا ہوں، یہ کر رہا ہوں، وہ کر رہا ہوں۔ اختیار سے کر رہا ہوتا ہے نا؟ تو شیطان تو موجود ہے۔ تو وہ جو ہے نا اس کے دل میں ڈالتا ہے کہ دیکھو تو تو یہ بن گیا، تو تو یہ بن گیا، جبکہ مجاہدہ اضطراریہ میں وہ کچھ نہیں کر رہا ہوتا مطلب ظاہر ہے مجبور ہوتا ہے۔ تو وہ کڑھ رہا ہوتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں، جیسے اس صاحب نے حضرت کو خط لکھا۔ اس میں بزرگ کیا بنتا ہے؟ وہ آدمی اپنے آپ کو سمجھنے لگتا ہے کہ بھئی میں تو کچھ بھی نہیں کر رہا، مجھ سے تو کچھ بھی نہیں ہو رہا۔

                    یہ جتنے بھی اللہ والے ہیں اخیر میں ان کی حالت ہو جاتی ہے زیادہ تر کہ ظاہر ہے عوارض اور بیماریاں، مشکلات اور یہ تمام۔۔۔ وہ اپنے آپ کو جو ہے نا وہ ہمارے حضرت مولانا اشرف صاحب رحمة اللہ علیہ بیماریوں کے خزانہ تھے۔۔۔ تو وہ ایک صاحب سے کہنے لگے کوئی آیا تھا، کہتے ہیں بھئی ہماری کیا حالت ہے؟ ہم تو ایک گھنٹہ ٹوائلٹ میں گزار دیتے ہیں اور وضو کرنے کے لیے تو ہماری کونسی حالت ہے؟

                    اب دیکھیں اس پر حضرت کو کتنا اجر مل رہا ہوگا۔ ایک دفعہ کسی نے کہا کہ حضرت کے گھر کے اوپر ٹی وی کا انٹینا لگا ہوا ہے۔ تو ان کو تو نقصان ہو رہا تھا کہ وہ حضرت کو کم سمجھ رہے تھے۔ میں نے تحقیق کی، ظاہر ہے ہمارے شیخ تھے، لازم تھا کوئی بولے تو ہم اس کو بتا سکیں۔ تحقیق کی تو پتہ چلا کہ حضرت کی ایک بھانجی تھی جو پاگل تھی۔ اور ان کی بہن جو ہے نا حضرت کی وہ بیوہ تھی۔ تو وہ حضرت کے ساتھ رہ رہی تھی۔ اب اس پاگل بھانجی کو گھر کے اندر Trap کرنے کے لیے ان کی بہن نے ان کو ٹی وی لگایا ہوا تھا۔ تو اب ظاہر ہے پاگل تو ان پر شریعت ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ تو ان کو ظاہر ہے کیونکہ گھر سے باہر چلی جائے تو اور مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو گھر کے اندر باقی رکھنے کے لیے انہوں نے اس کا انتظام کیا تھا، تو حضرت کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی؟ بیوہ بہن تھی ان پر سختی بھی نہیں کر سکتے تھے اور پھر مسئلہ بھی عذر کا تھا۔ تو میں نے کہا دیکھو حضرت کے دل پر کیا گزر رہا ہوگا اور کتنا اجر مل رہا ہوگا اور لوگ کیا سمجھ رہے ہیں۔ تو ایسا ہوتا ہے مجاہدۂ اضطراریہ۔ حضرت کے پاس مجاہدہ اضطراریہ کی بڑی قسمیں تھیں۔ بیماری الگ، نفسیاتی عوامل الگ، لوگوں کے الزامات الگ، عجیب و غریب حالات تھے۔ ہم حضرت کے حوصلے کو دیکھ کر حیران ہوتے تھے کہ حضرت زندہ کیسے ہیں۔ یعنی وہ والی بات اور اس میں بھی اتنی بذلہ سنجی اور خود ہنسنا دوسروں کو ہنسانا اور یہ وہ۔۔۔ یہ کرامت تھی حضرت کی اور لوگ جو ہے نا حیران تھے کہ بھئی حضرت جو ہے نا اس طرح لطیفے سنتے ہیں سناتے ہیں۔ یہ حضرت کی کرامت تھی ان حالات میں مسکرانا۔۔۔ یہ کرامت نہیں ہے؟

                    تو یہ بہرحال لوگوں کے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔

                    ایک دفعہ حضرت ہمارے گھر تشریف لائے تھے تین دن کے لیے۔ ظاہر ہے ہماری عید تھی۔ پ تو اگلے سال میں نے عرض کیا حضرت اس دفعہ پھر نہ ہوجائے آپ کا آنا۔ تو حضرت مسکرائے فرمایا: آپ میرے ظاہر کو دیکھ رہے ہیں، یعنی میں آپ کو اچھا نظر آرہا ہوں تو اس طرح کہہ رہے ہو ورنہ میرے اندر کی حالت تو آپ نہیں جانتے کیسی ہے۔۔۔ مطلب عوارض، تو میرے لیے آنا تو آسان نہیں ہے۔ تو دیکھیں یعنی یہ والی بات کہ انسان کے اوپر کتنے مشکلات ہوتے ہیں اور حالات آتے ہیں لیکن عام لوگ اس کو اپنے اوپر محمول کرکے سمجھتے ہیں کہ بھئی گویا کہ یہ کام کرو، یہ کرو یہ کرو۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو دیکھتے ہیں، دلوں کے حال کو دیکھتے ہیں۔

                    مجاہدہ کی دو قسمیں:

                    ارشاد: مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں، مجاہدہ حقیقیہ یعنی ارتکاب اعمال و اجتناب عن المعاصی۔ مجاہدہ حکمیہ یعنی ان مباحات کو ترک کرنا جو معاصی کی طرف مفضی ہیں۔

                    یعنی مجاہدۂ حقیقیہ سے مراد شرعی مجاہدہ ہے اور مجاہدہ حکمیہ یہ تربیتی مجاہدہ ہے۔

                    طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق:

                    ارشاد: ﴿طَرِیْقُ الوُصُوْلِ اِلَی اللہِ بِعَدِدِ اَنْفَاسِ الَخَلائِقِ جس طرح وصول کی ایک صورت یہ ہے کہ حرم میں نماز پڑھو، یہ بھی ایک صورت ہے کہ کسی عذر سے گھر میں نماز پڑھو اور حرم کو ترستے رہو۔

                    کتاب دے دو یہ شاہرائے محبت۔ پچھلی دفعہ ہم آئے تھے حج پہ تو مدینہ منورہ میں 40 نمازیں پڑھتے ہیں اور اگرچہ وہ 40 نمازیں اس میں تکبیرِ اولیٰ کا وہ نہیں ہے چلہ۔۔۔ تکبیر اولیٰ کی Requirement نہیں ہے۔ وہ محض نماز ہے مسجد نبوی میں۔ لیکن ظاہر ہے جب ایک انسان کو کرنا ہے تو کیوں نہ اچھی طرح کیا جائے۔ ہمارے کچھ ساتھی ہیں جو تکبیرِ اولیٰ کے بہت زیادہ ماشاء اللہ وہ ہیں عادی ہیں اور تکبیر اولیٰ کے بغیر نماز نہیں پڑھتے۔ تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ اس وجہ سے مجھے بھی جب میرے ساتھ وہ ہوتے ہیں تو میں ان کا بڑا خیال رکھتا ہوں کہ ان کا تکبیرِ اولیٰ فوت نہ ہوجائے۔ کیونکہ ظاہر ہے ایک اچھی عادت ہے اس کو میری وجہ سے کیوں وہ خراب ہوجائے۔ تو میرا خود بھی تکبیر اولیٰ کا ہوتا ہے الحمدللہ جب بھی یہاں پر آتا ہوں کوشش کرتا ہوں کہ ساری نمازیں حرم میں، دونوں حرم میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ ہو جائیں۔ لیکن اللہ پاک کا فیصلہ تو اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے۔

                    تو یہاں معمول کا تو یہ تھا کہ 10 منٹ اذان کے بعد امام کھڑے ہوتے تھے۔ ابھی بھی اس طرح ہوتا ہے 10 منٹ۔۔۔ پتہ نہیں اس دن کیا بات ہوئی ہمارے امام صاحب جو تھے وہ 5 منٹ کے بعد انہوں نے نماز کھڑی کر دی۔ اور ہم چونکہ راستے میں تھے لہٰذا نماز ہم سے تکبیرِ اولیٰ چھوٹ گئی، دوسری رکعت میں ہم پہنچے۔ یقیناً ہمارے دل پر بھی اثر تھا لیکن جو بالکل ہی تکبیر اولیٰ کو نہیں چھوڑنے والے تھے ان کے اوپر تو بہت اثر تھا۔ تو ان کے اثر کو جو دور کرنے کے لیے کیونکہ مجھے تو پتہ تھا کہ اللہ کی تشکیل ہے تو لہٰذا اللہ اس کو بہتر جانتا ہے تو مجھے وہ والا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ جیسے اللہ چاہے بس وہی چیز لیکن ان کے لیے پھر میں نے یہ غزل لکھی:

                    مستحب کے چھوٹنے سے ٹوٹا دل مسجد ِنبوی کی نماز میں

                    یہ نہ ہوتا یہ بھی تھا ممکن کہ گرے اس سے تو قعرِناز میں

                    یعنی اگر یہ نہ ٹوٹتا تو ممکن ہے تو اس وجہ سے نقصان اٹھاتا کہ تو ناز کرتا کہ میں نے دیکھو تکبیر اولیٰ کے ساتھ ساری نمازیں پڑھیں، ناز کی کیفیت آجاتی کیونکہ مجاہدہ اختیاریہ ہے۔ مجاہدہ اختیاریہ میں بزرگی کا Concept آتا ہے۔

                    ترے دل کا آئینہ ٹوٹا ہے تو قبول کرلے بشارت اک

                    کہ شکستگی ہے عزیز تر یاں نگاہِ آئینہ ساز میں

                    کہ جو آئینہ بنانے والے ہیں دل کا، اس کی نگاہ میں ٹوٹا ہوا دل زیادہ اہم ہے۔

                    کہ شکستگی ہے عزیز تر یا نگاہِ آئینہ ساز میں

                    جو ہو بس میں اس کو نہ چھوڑو تو جو پسند اس کو ہو لینا تو

                    اپنی طرف سے کوشش میں کمی نہ کرو۔

                    جو ہو بس میں اس کو نہ چھوڑو تو جو پسند اس کو ہو لے نہ تو

                    ترے بس میں گر نہ رہا کوئی تو ہے پانا اس کو نیاز میں

                    اگر وہ تیرے بس میں نہیں رہا تو پھر اس کو نیاز میں پا لو۔ عاجزی میں پا لو، مسکینی میں پا لو۔

                    ترا کڑھنا اس کو قبول ہے اس کے پیار کے رنگ جو ہیں مختلف

                    جب پسند اس کو ہے عاجزی نہ رہی چیز کوئی راز میں

                    جب اس کو عاجزی پسند ہے تو پھر راز راز نہیں رہا۔ تیرا کڑھنا عاجزی کے لیے ہے لہٰذا یہ اس کو قبول ہے۔ اب آگے بہت زبردست شعر ہے۔

                    تہی دامنی کو تو آگے کر تہی دامنی ہی تو دامن ہے

                    وہ غنی شبیؔر جو دے لمحوں میں نہ ملے وہ عمر دراز میں


                    اپنی تہی دامنی کو آگے کرلو، اپنی عاجزی کو آگے کرلو۔ نیاز و مسکینی کو آگے کرلو یہ سب سے بڑا دامن ہے۔ اس کے اندر بہت کچھ آجاتا ہے۔ اور وہ غنی ہے اس کو آپ کے اعمال کی کیا ضرورت؟ وہ اگر کچھ مسئلہ ہوگیا تو وہ جو لمحوں میں دے گا وہ تو عمرِ دراز میں حاصل نہیں کرسکے گا۔

                    وہ غنی شبیؔر جو دے لمحوں میں نہ ملے وہ عمر دراز میں


                    تو یہ اصل میں مجاہدہ اضطراریہ، اس میں یہ چیز ہوتی ہے۔

                    فرمایا طریق الوصول الی اللہ بعدد انفاس الخلائق۔ یعنی اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے راستے اتنے ہی ہیں جتنے کے لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک کے ساتھ اپنا مختلف معاملہ ہے۔ وہی اگر ہم دیکھیں وہ موسیٰ علیہ السلام کے واقعے میں وہ شبان تھے جو گڈریا تھے اور کہتے تھے: یا اللہ تو کدھر ہے؟ میں تیرے جوئیں نکالوں، میں تیرے پیر دبا دوں۔ یہ ہوگیا اور یہ کروں وہ کروں۔ موسیٰ علیہ السلام تو پیغمبر تھے اور وہ بھی جلالی، تو اس کو ایک تھپڑ مارا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو اللہ کے بارے میں؟ اللہ کے بارے میں کوئی اس طرح کہتا ہے؟ تو وہ تو روتا ہوا جنگل کی طرف چلا گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی آگئی کہ موسیٰ ہم نے تو تجھے جوڑنے کے لیے بھیجا ہے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا۔ یہ تو میرا بندہ تھا مجھ سے اپنے فہم کے مطابق بات کر رہا تھا۔ تو تو نے اس کو کیوں مجھ سے جدا کیا؟ موسیٰ علیہ السلام کو احساس ہوگیا، توبہ کر لیا اور ساتھ ساتھ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ تو ولی اللہ ہے اللہ کا دوست ہے اس کے پیچھے پیچھے بھاگا۔ پہنچے ادھر ادھر، اس سے کہا جی مجھے معاف کردو میں نے آپ کو تھپڑ مارا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس نے کہا موسیٰ کیا کہہ رہے ہو؟ تو نے تو مجھے جانِ جاناں کے ساتھ ملا دیا۔ اس تھپڑ نے مجھے کہاں پہنچا دیا۔

                    مجاہدہ کی حقیقت، اقسام اور روحانی تربیت: اختیاری اور اضطراری کیفیات کا بیان - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور