اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
ضرورتِ بیعت۔ ارشاد: یہ یقینی صحیح ہے کہ بیعت طریقت کی ضرورت عام نہیں لیکن باوجود اس کے پھر بھی نفس میں بعض امراض خفیہ ہوتے ہیں کہ وہ بدون تنبیہِ شیخ مُحَقِّق عارف کے سمجھ میں نہیں آتے اور اگر سمجھ میں آ جاتے ہیں تو ان کا علاج سمجھ میں نہیں آتا اس لئے تعلق شیخ سے ضروری ہوتا ہے۔ حضرت نے اصل میں چونکہ مجدد ہیں، تو مجدد ہونے کی وجہ سے بہت محتاط گفتگو کرتے ہیں، کیونکہ آگے بہت ساری چیزیں حضرت نے پہلے سے بھی کہی ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ ٹکراؤ نہ آ جائے۔
تو حضرت نے تین چیزیں بتائی ہیں: اخیار، ابرار، اور شطاریہ۔ اخیار کے بارے میں یہ ہے کہ جو لوگ علمِ نافع حاصل کر لیں، خود، اور پھر نے Will power سے، نی Determination سے جو شخص یہ رسوخ حاصل کر لے۔ اور اعمال کرے، صحیح طریقے سے، اس کے اندر تین چیزیں پائی جاتی ہوں: فضائل، مسائل اور احوال کیفیت۔ یہ تینوں چیزیں اگر وہ نی ہمت اور Determination سے حاصل کر لیں تو کافی ہے۔ ان کو اخیار کہتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ چیز مشکل ہے بغیر اس کے، جیسے حضرت اس میں فرما رہے ہیں، یہ بغیر اس کے مشکل ہے کہ کسی مرشد کے ہاتھ میں ہو، کیونکہ جیسے فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسے امراضِ خفیہ ہوتے ہیں کہ جب تک کسی شیخ محقق عارف کے ہاتھ میں انسان نہ ہو، تو ان چیزوں کا پتا نہیں چلتا۔ اور جب پتہ چل بھی جائے تو پھر اس کا علاج سمجھ میں نہیں آتا۔ تو شیخ کی وجہ سے یہ کام بہت آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک تو اس کا Experience ہوتا ہے اس کو، اور دوسرا اس کو برکت حاصل ہوتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کے لیے عمل کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے، تشخیص بھی آسان ہو جاتی ہے، علاج بھی آسان ہو جاتا ہے۔
باقی صرف ایک کام کرنا ہوتا ہے، کہ وہ نے آپ کو Determination صرف اس کی باقی رہ جاتی ہے کہ وہ نے شیخ کے ساتھ، وحدتِ مطلب کے اصول کے مطابق لگا رہے، ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اور ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ شیخ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر لے۔ یہ جو ہے نا یہ Determination کرنی ہوتی ہے۔
شطاریہ میں اس کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کو شیخ کے ساتھ ایسی محبت ہو جاتی ہے کہ پھر وہ خود بخود ہی ان کے پیچھے لگے رہتے ہیں، کوئی ہٹائے بھی تو ہٹتے نہیں۔ تو یہ جو ہے نا، اس وجہ سے آپ دیکھیں Step by step ہر چیز سمجھ میں آ جاتی ہے۔ تو بیعت کی ضرورت اس لیے فرمائی حضرت نے اس طرح فرمائی۔
رسوخِ احوال کے اسباب۔ رسوخ سے مراد یہ ہے جیسے کہ کوئی چیز راسخ ہو جائے، مطلب اس کے بعد اس کے اندر کوئی Confusion نہیں رہتی، Concepts بھی صحیح ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی جو تمام چیزیں ہیں وہ، مشکلات سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً جو ہے نا وہ کافی یعنی اس کے اوپر عمل، صحیح عمل آسان ہو جاتا ہے۔ اس کو کہتے ہیں رسوخ۔
ارشاد: اعمال سے جو احوال حاصل ہوتے ہیں جیسے: محبت، خشیت و غیر ہما، کبھی غیر راسخ ہوتے ہیں کبھی راسخ اور راسخ ہونے کے اسباب مختلف ہوتے ہیں، کبھی تعلیم، کبھی دعا، کبھی صحبت گو صاحب صحبت کا قصد بھی نہ ہو جیسے آگ کی مصاحبت سے پانی گرم ہو جاتا ہے، اور یہ صحبت احیاء کی نافع ہوتی ہے اسی طرح اموات کی بھی جب کہ دونوں کی روح میں مناسبت ہو جو کہ شرطِ فیض ہے۔
حضرت نے ماشاءاللہ اس کے اندر تو بہت ساری چیزیں بیان فرمائیں۔ اول تو یہ بات ہے کہ جو محبت اور خشیت، جو حالات ہیں انسان کے دل کے، وہ کبھی راسخ ہوتے ہیں، کبھی غیر راسخ ہوتے ہیں۔ یعنی کبھی کبھی ہوتے ہیں۔ راسخ اور غیر راسخ کا میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، بہت آسانی سے انشاءاللہ سمجھ میں آ جائے گی۔ قاری صاحبان جو قرات سیکھتے ہیں، تو بعض دفعہ ایک عام آدمی بھی سن سن کے، ایسی بہترین قرات کر لیں گے، دو تین آیتوں کی کہ آپ کہیں گے تو بہت بڑا قاری ہے۔ لیکن اگر آپ اس کو کہیں کہ اور سناؤ، تو آگے جا کر معاملہ پنکچر ہو جائے گا۔ اب یہ راسخ نہیں ہے۔ یعنی کبھی کبھی ٹھیک ہو گیا، بہت اچھا ہو گیا، لیکن یہ ہے کہ اس کو پھر اس پہ قدرت نہیں ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ ایک رکعت جس طریقے سے پڑھی، دوسری رکعت اس کے اس طرح پڑھانے کا اہل ہی نہ ہو۔ مطلب یہ ہوتا ہے، یہ بعض لوگ نقل کرتے ہیں نا، کبھی کسی سدیس کی نقل کرتے ہیں، کوئی شریم کی نقل کرتے ہیں، کوئی کس کی کوئی کس کی۔ تو وہ نقل ایسا ہوتا ہے کہ کبھی کام دیتا ہے، کبھی کام نہیں دیتا، مطلب اس میں مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ تو اس طریقے سے راسخ جو ہوتا ہے اس کے ساتھ یہ مسائل نہیں ہوتے۔
رسوخ فی الاعمال اس کو کہتے ہیں۔ بس اب کوئی عمل آپ نے کر لیا، جس طرح آپ نے کر لیا مثلاً خشوع، آپ نے ایک رکعت کے اندر خشوع کر لیا اگلی رکعت میں نہیں۔ تو یہ غیر راسخ ہے۔ لیکن اگر راسخ ہو تو پھر مسلسل پوری نماز کے اندر خشوع ہوگا۔ ذکر آپ کا کچھ وقت اچھا ہو رہا ہے کچھ وقت بالکل نہیں ہو رہا، تو مطلب وہ راسخ نہیں ہے۔ تو اس طرح رسوخ جو ہوتا ہے، کبھی ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ اور فرمایا: ان چیزوں کے راسخ کرنے کے اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی تعلیم، کبھی دعا، کبھی صحبت۔
یعنی کبھی تعلیم سے مراد یہ ہے جو چیز تعلیم سے متعلق ہو، مثلاً کوئی Concept ہو۔ عام طور پر ایک شخص ذکر کر رہا تھا، وہ جو ہے نا وہ بار بار لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا کلمہ یا اللہ کا کلمہ، وہ پڑھوا رہا تھا نے دل سے۔ تو بڑا پریشان ہو جاتا تھا، تنگ ہو جاتا تھا۔ تو اس وجہ سے ان سے نہیں ہو رہا تھا۔ مجھے کہہ دیا، تو میں نے کہا بھائی اس طرح نہیں کرنا ہوتا، آپ نے صرف یہ تصور کرنا ہے کہ میرا دل اللہ اللہ کر رہا ہے اور میں اس کو سن رہا ہوں۔ آپ نے تو کچھ کرنا نہیں ہے، آپ نے تو صرف اس کو سماعت پہ لگانا ہے، نے آپ کو سماعت پہ لگانا ہے اور تو کچھ نہیں کرنا۔ تو کہتے ہیں پھر تو بہت آسان ہو گیا۔
اب یہاں صرف تعلیم سے فائدہ ہوا جہاں تعلیم سے فائدہ ہو کیونکہ اس کو Concept کلیئر ہو گیا۔ بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں Conceptual ہوتی ہیں۔ اگر ان کو صحیح Concept دے دیا جائے تو وہ چیز آسان ہو جاتی ہے۔ ہمارے Practical life میں بھی اس طرح ہوتے ہیں، Engineering میں بعض چیزیں Conceptual ہوتی ہیں۔ آپ کسی کو Concept دے دیں کہ بھئی یہ تو اس طرح کرنا ہوتا ہے، بس ٹھیک ہے اس کو وہ صحیح کر لے گا۔ لیکن بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں، Conceptual نہیں، Practical ہوتی ہیں۔ تو اس کے ساتھ کچھ اور بھی مطلب ہوتا ہے۔ تو اس میں یہ ہوتا ہے جیسے صحبت کے ذریعے سے باقاعدہ Training کوئی لے لے، کوئی اس طرح۔ اور کبھی اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے دعا کر لی، اللہ پاک نے اس کے لیے اسباب بنا دیئے اور وہ کام حاصل ہو گیا۔
تو فرمایا کبھی تعلیم سے، کبھی دعا سے، کبھی صحبت سے۔ فرمایا بعض دفعہ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کو نیت بھی نہیں ہوتی دینے کی۔ مطلب یہ ان کو پتا بھی نہیں ہوتا، ان سے لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے۔ جیسے سورج سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اب سورج کی نیت ہوتی ہے لوگوں کو دینے کی، روشنی؟ بس اللہ پاک نے اس کو بنایا ایسا ہے۔ لہذا بعض لوگ کے فیوض سورج کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ ان سے پھیلتے رہتے ہیں، ہر ایک کو ملتے رہتے ہیں، ہر ایک نے نے استعداد کے مطابق ان سے جذب کر رہا ہوتا ہے۔ تو فرمایا جیسے آگ کی مصاحبت سے پانی گرم ہو جاتا ہے۔ اور یہ صحبت احیاء کی نافع ہوتی ہے، اس طرح اموات کی بھی ہوتی ہے۔
یہ بہت بڑا نکتہ فرمایا۔ فرمایا جو صحبت جس طرح احیاء کی نافع ہوتی ہے زندہ لوگوں کی، اس طرح بعض حضرات جو صاحبِ قبور ہوتے ہیں، جن کو اللہ تعالی نے ایک بڑی نسبت عطا فرمائی ہوتی ہے، ان کے قریب رہنے سے ان کی وہ چیزیں آ جاتی ہیں چاہے وہ فوت شدہ ہوں۔ مطلب یہ بھی ہو جاتا ہے۔ اب اس دوران میں یہ بات کر رہا ہوں کہ اگر یہ چیز سمجھ میں آ گئی تو پھر مدینہ منورہ میں کیا ہوگا؟ مطلب کسی کو اگر مناسبت ہو آپ ﷺ کے ساتھ، وہ محبت اور اس کا تعلق ہو، اور وہ مدینہ منورہ میں رہیں گے تو کیا ہوگا پھر؟ ظاہر ہے مطلب یہ ہے جیسے بھی آپ ﷺ کے سامنے ائیں گے تو کچھ نہ کچھ تو پاتے رہیں گے، اور ظاہر ہے کہ ان کی اصلاح ہوتی جائے گی۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے۔
اسی وجہ سے بعض حضرات ساری چیزوں سے گزر کے پھر ادھر آ جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کی اصلاح پھر کسی اور جگہ پھر مزید نہیں ہو سکتی بس وہ یہاں ہی مطلب اتنے اونچے مقام پہ ہوتے ہیں کہ بعض دوسرے حضرات ان کو کچھ دینے کے اہل ہی نہیں ہوتے۔ تو ان کا معاملہ پھر یہیں چلتا ہے، یا خانہ کعبہ کے پاس ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے مطلب براہ راست۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ فرمایا کہ اس طرح صحبت احیاء کی نافع ہوتی ہے، اس طرح اموات کی بھی ہوتی ہے، جبکہ دونوں کی روح میں مناسبت ہو جو کہ شرطِ فیض ہے۔
طریق تقویت نسبت از مزار صاحب نسبت:
پس جب کہ صاحبِ مزار صاحبِ نسبت ہو اور زائر بھی صاحبِ نسبت ہو اور دونوں کی نسبت میں تناسب ہو اور اس سے زائر کے احوال حاصل میں رسوخ و استحکام ہو جائے تو اسی کو ترقی و قوت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور نسبت کا رسوخ وِجْدَانی ہونے کے سبب سے وجدان سے مدرک بھی ہوجاتا ہے۔
طریقۂ اِسْتِفَاضَہ یہ ہے کہ اول کچھ پڑھ کر بخشے، پھر آنکھیں بند کر کے تصور کرے کہ میری روح اس بزرگ کی روح سے متصل ہو گئی ہے اور اس سے احوالِ خاصّہ منتقل ہو کر پہنچ رہے ہیں
لیکن یہاں پر یہ والی بات ہے کہ جو لینے والے ہیں، وہ بھی یعنی صاحبِ نسبت ہوں۔ تو پھر مطلب یہ چیز حاصل ہوتی ہے۔ ہاں البتہ اس طریقے سے چیزیں تو مل رہی ہوتی ہیں، جیسے سورج سے مل رہی ہوتی ہیں، وہ تو بغیر نیت کے بھی مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ والی بات ہے، کہ کسی خاص چیز کا، تو وہ پھر یہ ہوتا ہے کہ جب صاحبِ نسبت ہوتا ہے، تو وہ پھر یہ ہے کہ وہ ماشاءاللہ وہاں پر جا کر بیٹھ جاتا ہے تو اس نسبت کے لحاظ سے ملتا ہے۔ اس نسبت کے لحاظ سے ملتا ہے۔ تو یہ جو ہے نا، چونکہ آپ ﷺ کا روح پرفتوح، یہ تو ان میں تو ساری نسبتیں شامل ہیں۔ لہذا سارے لوگوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
لیکن بعض مزاروں پہ سارے لوگ نہیں فائدہ اٹھا سکتے۔ جن کی نسبت چشتیہ کی ہوتی ہے، تو ظاہر ہے وہ چشتیہ کے مزار پہ جاتے ہیں تو ان کو وہ نسبت مل جاتی ہے، وہ چیز مل جاتی ہے۔ جن کی نسبت نقشبندیہ ہوتی ہے، کسی نقشبندی بزرگ کے اس پہ جائیں، مناسبت ہوتی ہے تو ان کو وہ مل جاتی ہے۔ تو یہ جو ہے نا یہ والی بات ہے۔ ہمارے سلسلے میں یہ فائدہ ہے الحمدللہ، کہ چونکہ اس میں سب سلسلوں کا وہ ہے، یعنی شاخیں ہیں۔ لہذا جس مزار کے پاس بھی جاتے ہیں تو مطلب ظاہر ہے کہ وہاں الحمدللہ اللہ کا شکر ہے کہ جو ہے نا وہ الحمدللہ مل سکتی ہے۔ تو اس لحاظ سے یہ بات ہوتی ہے کہ اگر کوئی یعنی اس طرح کر لے، تو ان کو ان چیزوں سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔ لہذا جو صاحبِ نسبت حضرات ہیں، وہ کرتے ہیں۔
لیکن جو غیر صاحبِ نسبت ہیں، وہ ان کو عام طریقے پر کام کرنا چاہیے۔ ورنہ وہ کہتے ہیں کوا چلا ہنس کی چال، نی بھی بھول گیا، والی بات ہو جائے گی۔ وہ جیسے وہ ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے، کہ حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان کے ساتھ کچھ طالبِ علم تھے۔ تو حضرت بھی ساتھ تھے، تو حضرت تو بہت صاحبِ کرامت و صاحبِ کشف تھے وہ جو شاہ رفیع الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں سے تھے۔ تو وہ مراقبہ ہو گئے۔ یعنی یہ وہ صاحب تھے جن کی بتانے سے وہ Line draw کی گئی تھی دیوبند کی۔ کہ یہ حدود ہیں، یہ زمین ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا۔ تو یہ، مظاہر ہے وہ تو بہت بڑی نسبت والے تھے۔ تو وہ بیٹھ گئے اور مراقبہ شروع کیا۔ تو ان دو طالبِ علموں نے بھی آنکھیں بند کر دیں۔ تو حضرت نے پیچھے سے ایک دھول لگائی کہ وہ آنکھیں تو تمہاری بند ہیں، یہ کیوں بند کر دیں؟ تو خوامخواہ نمائش کے لیے کر رہے ہو۔ بس تم نا ایصالِ ثواب کر لو اور نے اللہ تعالی سے دعا کر لو، بس تمہارے لیے یہی طریقہ ٹھیک ہے۔ اب کیا خوامخواہ تم جو لوگوں نے تماشا بنایا ہوا ہے۔
تو یہی چیز ہے، مطلب یہ کہ جو مطلب اللہ تعالی جن کو استقامت نصیب فرما دے تو پھر، ویسے ان بزرگوں کو نسبت کا پتا چل جاتا ہے۔ تو وہ بے شک صاحبِ نسبت پہنچ جائے نا تو وہ تصور نہ بھی کرے، وہ چیزیں دینے شروع کر دیتے ہیں۔ ان کو Connection مل جاتی ہے۔ تو اس وجہ سے ایسے حضرات کے پاس جانا چاہیے۔ یہ ہمارے بعض بزرگ مزار ہیں جو جن پہ اہلِ بدعت اور اہلِ تشیع کا قبضہ ہوتا ہے۔ تو ہمارے بعض لوگ اس کی وجہ سے نہیں جاتے وہاں پر، کہ وہ جو ہے نا وہ تو ایسے وہ ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو ظاہر ہے وہ تو تنگ ہوتے ہیں ان لوگوں سے نا، جو ان کے اوپر قابض ہوتے ہیں۔ تو جب کبھی صحیح العقیدہ، بالخصوص ان کی نسبت والے، کوئی شخص ادھر چلا جائے، تو وہ تو بہت خوش ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں، بہت زیادہ پھر نوازتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے پاس تو ضرور جانا چاہیے۔
حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگوں میں سے ایک بزرگ ہیں، وہ گئے تو انہوں نے باقاعدہ شکوہ کیا۔ کہ تم لوگ یہاں کیوں نہیں آتے، ہم تو تم جیسے لوگوں کے انتظار میں ہوتے ہیں۔ اور تم کبھی بازار گئے ہو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ تو بازار میں ساری چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں۔ انہوں نے کہا جو چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں بس وہی لیتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا بس یہاں بھی جو چیزیں ٹھیک ہیں وہ لے لیا کرو نا۔ ساری چیزیں ضروری تو نہیں کہ ٹھیک ہوں۔ مطلب ظاہر ہے ہر قسم کے لوگ ہیں۔ تو ہمارا تو ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ تو ایسا ہوتا ہے، مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ بعض صاحبِ مزار جو مطلب ایسے لوگوں کے اندر گھرے ہوتے ہیں، یہ ہمارے حضرت جو تھے یہ جلال الدین سرخ بخاری رحمۃ اللہ علیہ، اچ شریف میں۔ تو حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ وہاں تشریف لے گئے۔ تو یہ تو صاحبِ نسبت تھے بہت بڑے۔ تو انہوں نے ان سے شکوہ کیا، کہ تم لوگوں کی وجہ سے یہ حالت ہماری ہو گئی ہے۔ اگر تم لوگ آتے تو ان لوگوں کو جرات نہ ہوتی۔ یہ تم لوگوں کی سستی کی وجہ سے ہوا ہے۔ یعنی باقاعدہ ان کی کلاس لی ایک قسم کی۔ تو حضرت نے پھر وہاں کے لوگوں کو بتایا کہ حضرت نے تو شکوہ کیا ہے کہ تم لوگوں کی سستی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ واقعی یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے لوگوں کی سستی کی وجہ سے آہستہ آہستہ مزاریں، ہمارے مزاروں پہ جو اہلِ باطل ہوتے ہیں، قبضہ کر لیتے ہیں، پھر وہ شرک و بدعت کے اڈے بن جاتے ہیں۔ یہ ہماری سستی ہو جاتی ہے۔
حقیقت سلب نسبت به تصرفات:
ارشاد: نسبت کو کوئی سلب نہیں کرسکتا وہ تو تعلّق مع اللہ کا نام ہے۔ ہاں کیفیاتِ نفسانیہ کو صاحب تصرف ضعیف کر دیتا ہے۔ جس سے ایک قسم کی غباوت ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات اس کا اثر ارادہ پر واقع ہو کر اعمال پر پہنچتا ہے یعنی اعمال میں سُستی ہونے لگتی ہے لیکن اختیار سلب نہیں ہوتا، نے قصد و اختیار سے اس کی مُقَاوَمَت کر سکتا ہے اکثر تو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ معصیت ہوتی ہے۔ ہاں احیاناً کسی کیفیت کے مفرط ہونے سے بعض واجبات میں خَلَل ہونے لگتا ہے ایسے وقت میں اس کو ضعیف کرنے میں مصلحت ہوتی ہے۔
حضرت مجدد والی بات ہے، تو ایسے طریقے سے سمجھاتے ہیں کہ بالکل جو ہے نا وہ ساری چیزیں...
نسبت کے بارے میں لوگ کہتے ہیں فلاں نے فلاں کی نسبت سلب کر دی۔ فرمایا ایسا نہیں ہوتا، جو نسبت ہے وہ کوئی سلب نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ اور اس کے درمیان کون آ سکتا ہے؟ نسبت تو اللہ کے ساتھ تعلق کا نام ہے، لہذا اس کو کوئی سلب نہیں کر سکتا۔ البتہ اس کے ساتھ جو ملتی جلتی کچھ کیفیاتِ نفسانیہ ہوتی ہیں، جس سے انسان کو اعمال کی توفیق ہوتی ہے، ان کو کمزور کر سکتا ہے۔ ان کو کمزور کر سکتا ہے۔ اچھا، یہ جو ہے نا صحیح لوگ بھی کر سکتے ہیں، برے لوگ بھی کر سکتے ہیں۔ صحیح لوگ اس طرح کر سکتے ہیں کہ ایک شخص ہے وہ مجذوب بنتا جا رہا ہے کسی وجہ سے۔ تو اب ان کے احوال سلب کر دیں گے۔ احوال سلب کر دیں گے تو نارمل آدمی ہو جائے گا۔
جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ماموں کا ایک مجذوب نے کیا تھا۔ ان کی شکایت کی گئی کہ بالکل دنیا کے کام بالکل نہیں کر رہے اور سارے کچھ چھوڑ دیا ہے، زمینوں کو باقی سارا انتظام میں خلل ہو گیا نا۔ تو حضرت آ گئے اور ان کو پتا نہیں کیا علی اس کا نام تھا، فلاں علی دیکھو۔ تو اس نے جیسے دیکھا تو سارے سلب۔ جب سلب ہو گیا تو پھر کہتا ہے ڈاکو تھا، لٹیرا تھا، لے گیا سب کچھ۔ کیا ہو گیا، چیخا چلایا۔ لیکن اس کے بعد پھر وہ نارمل ہو گیا نا۔ مطلب سارے کام کرنے لگے۔ تو وہ جس وقت وفات ہونے کا وقت اس کا آ گیا نا تو پھر وہ مجذوب آیا۔ تو اس نے کہا فلاں، اس کو دیکھو۔ مجھے دیکھو۔ اس نے دیکھا تو پھر ساری چیزیں وس کر دیں۔ موت کے قریب ساری کچھ وس کر دیں۔ وہ جو وس کر دیں تو انہوں نے کہا کہ اب میرے سامنے دو شانے ہیں۔ اس طرح پھر وہ، اس نے کہا ایسا نہیں کہتے۔ مطلب یہ کہ بیان نہیں کرتے، بس وہ چپ ہو گیا اور پھر اس کے بعد جو ہے نا وہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اب ظاہر ہے یہ ایک ضرورت تھی اس وقت۔ بعض دفعہ یعنی بضرورت۔ تو یہ تو اچھا تصرف تھا۔
برا تصرف یہ ہے کہ کوئی جادو سے کر دے یا کوئی اور طریقے سے کر دے۔ بعض کی چیزیں ضعیف کر دے۔ اگر وہ ہمت کر لے تو اس کو زیادہ اجر مل جائے گا اس وقت۔ اور ہمت نہیں کرے گا تو نقصان ہو سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ مطلب وہ چیز مشکل ہو جائے گی اس کے لیے۔ تو مشکل ہونے کی حالت میں جب عمل کرتا ہے تو اجر تو بڑھ جاتا ہے نا۔ لیکن Risk بھی ہوتا ہے کہ ان ممکن ہے کہ چھوڑ ہی دے۔ تو بعض دفعہ لوگ چھوڑ دیتے ہیں تو ان کو نقصان ہو جاتا ہے۔
حُبُِّ خدا کی شناخت:
ارشاد: ’’حُبُّ الشَّیْخِ وَ الرُّکُوْنِ اِلَیْہِ عَلَامَةٌ لِحُبِّ اللهِ تَعَالٰی لِرُکُوْنِ اِلَیْہِ‘‘
شیخ کی محبت اور اس کا احترام اللہ تعالیٰ کی محبت اور لگاؤ کا اظہار ہے۔ اصل میں چونکہ جیسے کل ہوا تھا، میں گیا تھا نا قدمین شریفین میں ہم گئے تھے۔ تو ایک صاحب میرے سامنے بیٹھ گئے اور مجھے کہا کہ مطلب یہ کہ یہاں پر یہ نہیں ہونا چاہیے اور یہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ نے طور پہ۔ ان بیچاروں کو مسئلہ کیا ہے، ان بیچاروں کو مسئلہ یہ ہے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ جب ہم تعظیم کرتے ہیں پیغمبروں کی یا اولیاء اللہ کی، تو یہ شرک ہے۔ یعنی اللہ تعالی کے ساتھ ان کو شریک کرنے والی، حالانکہ تعظیم سے شرک نہیں ہوتا، عبادت سے شرک ہوتا ہے۔ تعظیم سے شرک نہیں ہوتا۔ ہاں البتہ جو اعمالِ عبادت ہیں ان کو کوئی تعظیماً بھی کر لے گا تو شرک ہو جائے گا۔ جیسے سجدہ۔ جیسے سجدہ ہے، اس کو کوئی تعظیماً بھی کر لے گا تو وہ جو ہے نا حرام ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ جو اعمال جیسے مثال کے طور پر سامنے دیکھنا، یا سلام پڑھنا، یہ تو، یہ تو عبادت کے اعمال، مطلب جو ہے نا وہ والی نہیں ہے نا کہ جس سے جھکنے والے اعمال۔ وہ تو صرف یہ بات ہے کہ آپ جو ہے نا ان کی تعظیم کر رہے ہیں اور ان کو جو ہے نا پہنچا رہے ہیں، جو یعنی مطلب سلام پہنچا رہے ہیں یا سلام ان پہ کر رہے ہیں۔ تو اس سے تو شرک نہیں ہوتا۔ تو بہرحال ان لوگوں کو اس چیز کا پتa نہیں۔
تو اس طرح جو ہے نا بعض لوگ یہ ہوتے ہیں جو شیخ کے ساتھ لوگ محبت کرتے ہیں کہتے ہیں یہ شرک ہے۔ شیخ کے ساتھ محبت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ شرک ہے، ان کو بھی شرک کہتے ہیں۔ تو حضرت نے یہ فرمایا کہ حُبُّ الشَّيْخِ وَالرُّكُونُ إِلَيْهِ عَلَامَةٌ لِحُبِّ اللَّهِ تَعَالَى وَلِلرُّكُونِ إِلَيْهِ۔ فرمایا شیخ کی محبت اور اس کا احترام اللہ تعالی کی محبت اور لگاؤ کا اظہار ہے۔ کیونکہ اللہ تک پہنچنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ ذریعہ ہے۔ مجھے بتاؤ آپ نے نے والد سے ملنا ہے۔ نے والد سے ملنے کے لیے آپ جو ہے نا وہ Daewoo پکڑتے ہیں۔ اور اس کی بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھ سے بس مس نہ ہو جائے اور یہ ہو جائے وہ ہو جائے۔ پورا آپ کو خیال ہو تو کیا خیال ہے کوئی کہے گا کہ کو والد سے اتنی محبت نہیں جتنی Daewoo سے ہے؟ بھئی Daewoo کے ساتھ اس لیے ہے کہ وہ پہنچنا چاہتا ہے نا نے والد تک۔ تو Daewoo، کے ساتھ اس کو کیا محبت ہے وہ تو اس لیے ہے کہ چونکہ وہ اپنے والد تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اب اس طرح حج پہ میں آ رہا ہوں تو اب مجھے نے ٹکٹ کی بڑی فکر ہو اور اس کو سنبھال کے رکھتا ہوں، تو کیا خیال ہے شرک ہو جائے گا؟ وہ تو ظاہر ہے مطلب اس کے لیے ہے نا کہ تاکہ مجھے میرا وہ عمل صحیح ہو جائے۔
اسی طریقے سے شیخ کے ساتھ جو محبت ہے یہ اللہ کے لیے ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے، اللہ تعالی کی رضا کے اعمال کے لیے ہے۔ لہذا یہ اس کے اندر شامل ہے۔ اور آپ ﷺ کے ساتھ محبت یہ تو بذاتِ خود مطلب اللہ تعالی کا مطلوب ہے۔ تو جیسے مطلب جو ہے نا، وہ آپ ﷺ نے مانگا: اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ۔ اے اللہ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں، اور تجھ سے ہر اس شخص کی محبت مانگتا ہوں جو تجھ سے محبت رکھتا ہو۔ اور ہر اس عمل کا جو تجھ تک مجھے پہنچائے۔ تو اب شیخ کے ساتھ جو تعلق ہے وہ کیا چیز ہے؟ وہ اللہ تعالی تک پہنچا رہا ہے نا۔ تو اب ظاہر ہے اس کی جو محبت ہے وہ کیسے شرک ہو گی؟ یہ تو آپ ﷺ نے خود مانگی ہے۔ تو جو ذرائع ہیں ان کے ساتھ بھی محبت ہونی چاہیے تاکہ مقصد حاصل ہو جائے۔
سَمَاعِ موتیٰ و دعائے موتیٰ و تَوَسُّل بموتی کا حکم:
ارشاد: سَمَاع (اہلِ قبور کا سننا) میں تو اختلاف ہے، اکثر اہلِ کشف اس کے قائل ہیں مگر ان سے درخواست دعا کرنا کسی دلیل سے ثابت نہیں، کیونکہ ان کو دعا کا اختیار دیا جانا کہیں منقول نہیں، البتہ ان کے تَوَسُّل سے خود دعا کرنا ثابت ہے۔
ان کے توسل سے خود دعا کرنا اللہ تعالی سے یہ ثابت ہے۔ ایک بات۔ دوسری بات یہ بات ہے کہ یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کا معاملہ ذرا مختلف ہے اس مسئلے میں۔ کیونکہ آپ ﷺ کی سماعت کا سارے اہلِ حق قائل ہیں۔ آپ ﷺ کی۔ باقی قبور کی سماعت کا میں اختلاف ہے، صحابہ سے اختلاف ہے۔ یعنی کچھ صحابہ مانتے ہیں، کچھ صحابہ نہیں مانتے۔ اس وجہ سے کچھ بزرگ مانتے ہیں، کچھ بزرگ نہیں مانتے۔ جو اہلِ کشف بزرگ ہیں اکثر اس کو مانتے ہیں۔ ۔ تو اس میں جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ﷺ کا معاملہ ہے وہ بالکل مختلف ہے۔ لہذا مجھے پھر نے شیخ نے مزید، حالانکہ جو ہے نا اس کے بعض علمائے کرام نے بعض چیزوں کی اجازت دی ہے، لیکن چونکہ احتیاط کرنا اولیٰ چیز ہے۔ لہذا حضرت نے مجھے اس طریقے سے سمجھایا کہ جب آپ ﷺ کے دربار میں حاضری ہو، تو پھر چونکہ آپ ﷺ بھی سن رہے ہیں، اللہ بھی سن رہے ہیں، تو تم اپنی بات عرض کر لو۔ ایسا ہو جائے، تو بس ہو جائے تو پھر مانگا تو نہیں ہے نا وہ تو اللہ تعالی بھی سن رہے ہیں، آپ ﷺ بھی سن رہے ہیں۔ تو مانگا تو آپ نے نہیں، البتہ یہ بات ہے کہ اپنا مدعا عرض کر لیا۔ مدعا عرض کر لیا، تو سن تو رہے ہیں، لہذا جو بھی فیصلہ جو ہو گا وہ مطلب آپ تو نہیں ہیں نا، وہ تو کریں گے نا۔ تو یہ بہت احتیاط والی صورت ہے۔ جو حضرت نے مجھے سمجھائی لہذا ابھی تک میں یہی کرتا ہوں۔ مطلب میں اسی طریقے سے عرض کرتا ہوں۔
تَوَسُّل کی حقیقت:
ارشاد: کسی شخص کا جو جَاہ ہوتا ہے اللہ کے نزدیک اس جاہ کی قدر اور اس پر رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ تَوَسُّل کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اے اللہ! جتنی رحمت اس پر متوجہ ہے اور جتنا قرب اس کا آپ کے نزدیک ہے اس کی برکت سے مجھ کو فلاں چیز عطا فرما۔ کیونکہ اس شخص سے تعلق ہے۔ اسی طرح اعمال صالحہ کا حدیث میں تَوَسُّل آیا ہے۔ اس کے معنی بھی یہی ہیں کہ اس عمل کی جو قدر حق تعالیٰ کے نزدیک ہے اور ہم نے وہ عمل کیا ہے اے اللہ! ببرکت اس عمل کے ہم پر رحمت ہو۔ مقصد یہ ہے کہ دیکھیں، اللہ جل شانہ نے ایک شخص کو بخشا ہوا ہے۔ اور ان کو ایک مقام عطا فرمایا ہے۔ اب جو ہے نا مطلب اس کی وجہ سے اس پر رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ تو یہ جو انسان توسل کرتا ہے، وہ یہی کرتا ہے کہ اے اللہ! آپ نے اس پر ان پر جو کرم کیا، تو ان کی برکت سے مجھ پر بھی کرم فرما دے۔ یہ توسل ہوتا ہے۔ اس میں کہاں شرک آ گیا؟ مانگنا کس سے ہوا؟ اللہ سے۔ تو لہذا وہ حکم تو نہیں ٹوٹا، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے خلاف تو نہیں ہوا نا۔ تو کہاں مطلب مسئلہ کیا ہوا؟
فیض قبور مکفول تکمیل سلوک نہیں:
ارشاد: قبروں سے جو فیض آتا ہے وہ ایسا نہیں جس سے تکمیل ہو سکے یا سلوک طے ہو سکے بلکہ اس کا درجہ صرف اتنا ہے کہ صاحبِ نسبت کی نسبت کو اس سے کسی قدر قوت ہو جاتی ہے، غیر صاحبِ نسبت کو تو خاک بھی فیض نہیں ہوتا،
دیکھو نا بتا دیا۔
صرف صاحبِ نسبت کو اتنا فیض ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے نسبت کو قُوّت اور حالت میں زیارت ہو جاتی، مگر وہ بھی دیرپا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی ایسی مثال ہے جیسے تنور کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر کے لئے جسم میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے، زندہ مشائخ سے جو فیض ہوتا ہے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی مُقَوِّی دوا کھا کر قوّت و حرارت حاصل ہوتی ہے صاحبِ نسبت کو اول قبر سے فیض لینے کی ضرورت نہیں، زندہ شیخ اس کے لئے قبروں سے زیادہ نافع ہے اور ضرورت بھی ہو تو صاحبِ نسبت کے لئے قبر کا پختہ ہونا ضروری نہیں، وہ تو آثار سے معلوم کرلے گا کہ یہاں کوئی صاحبِ کمال مدفون ہے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو ہے نا مطلب لوگوں نے اس کو وہ بنایا ہوا ہے، تو اس کا مطلب فرمایا ہے کہ جو صاحبِ وہ، صاحبِ نسبت ہو چکا ہے، مطلب یوں کہہ سکتے ہیں جیسے کوئی Signal موجود ہے، تو Signal کو Amplify کیا جاتا ہے۔ اب Signal موجود ہی نہیں تو کس چیز کو Amplify کیا جائے؟ صفر کو ایک لاکھ سے ضرب دو تو کیا جواب آئے گا؟ جواب صفر ہی آئے گا۔ لیکن اگر کوئی .0000 اور پچاس زیرو کے بعد 1 آتا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی Multiplication factor اس کے ساتھ لگا دیا جائے، تو اس کا کچھ وزن تو ہے نا؟ کچھ مطلب تو ہے۔ ٹھیک ہے، تو یہ جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ نسبت جو ہوتا ہے، اس کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کی Strength ہو جاتی ہے۔ اور وہ Strength بھی وقتی ہوتی ہے۔ اگر وہ اس کو استعمال کر لے، تو اس سے جو اعمال بنتے ہیں اس سے دائمی قوت بن سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس نسبت جو عارضی طور پہ Increase ہو گئی ہے، اس کے ذریعے سے اگر کچھ اعمال کر لے۔ تو اعمال سے تو فائدہ ہوتا ہے نا۔ اور اگر اس کو ویسے ہی رکھ دے، کچھ اعمال وغیرہ نہ کرے، تو بس ختم ہو جائے گی وقت کے ساتھ۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ۔
ادب و احترامِ شیخ کی وجہ:
ارشاد: مقصد جتنا عظیم ہو گا اس کے وسائل کی بھی اسی قدر وقعت ہو گی۔ اسی سے شیخ کا ادب و احترام بہت چاہیے۔
یعنی مقصد یہاں پر کیا ہے؟ اللہ کا ملنا۔ اللہ کے ساتھ تعلق کا ہو جانا۔ تو یہ کتنا عظیم مقصد ہے؟ تو جتنا عظیم مقصد ہوگا اس کے لیے جو مبادیات ہوں گے، جو Means ہوں گی، جو وسائل ہوں گے اتنے ہی اہم ہوں گے۔ مثلاً آپ پشاور جا رہے ہیں کسی رشتہ دار سے ملنے کے لیے۔ تو اس ٹکٹ کی بھی اہمیت ہے۔ لیکن آپ حج پہ جا رہے ہیں۔ تو اس ٹکٹ کی بھی اہمیت ہے۔ فرق ہوگا یا نہیں ہوگا؟ تو بس یہ مطلب یہ ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ اہم ہے، مقصد، اس کے وسائل اور ذرائع اتنے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ تو اس وجہ سے شیخ کی اہمیت ہے کیونکہ اس سے بہت بڑا مقصد حاصل ہو سکتا ہے۔