"اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
جیسے کہ چھبیسویں کو آپ کے سامنے تین کلام پیش کیے تھے جو تین سلسلوں کی نسبت سے تھے۔ چشتیہ سلسلہ، قادریہ سلسلہ اور سہروردیہ سلسلہ۔ اور ایک رہتا تھا نقشبندی سلسلہ تو ان شاءاللہ آج اس کا کلام آپ کے سامنے پیش کریں گے۔
یہ اصل میں اس کا مقصد ہمارا کچھ نہیں ہے، مقصد ہمارا ہے کہ سارے سلسلے صحیح ہیں۔ سارے سلسلے اچھے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ اس کا ہوتا ہے کہ انسان خود کیا ہے؟ اس کی اپنی نسبت کیا ہے؟ جیسے انسان کی طبعی... مطلب طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں، کوئی بلغمی مزاج کا ہوتا ہے، کوئی سوداوی مزاج کا ہوتا ہے، کوئی کس مزاج کا ہوتا ہے۔ تو پھر حکیم حضرات ان کو وہی دوائی دیتے ہیں جو اس کا مزاج ہوتا ہے۔ تو آسانی ہو جاتی ہے۔
اسی طریقے سے کوئی نقشبندی مزاج کا ہوتا ہے، کوئی چشتی مزاج کا ہوتا ہے، کوئی سہروردی مزاج کا ہوتا ہے، کوئی قادری مزاج کا ہوتا ہے۔ تو قادری مزاج کے لیے بہترین سلسلہ قادری ہے۔ چشتی مزاج کے لیے بہترین سلسلہ چشتی ہے، سہروردی مزاج کے لیے بہترین سلسلہ سہروردی ہے اور نقشبندی مزاج کے لیے بہترین سلسلہ نقشبندی ہے۔ مطلب اس میں کوئی ایسی بات ہی نہیں ہے۔
البتہ متاخرین میں... بلکہ ہمارے متاخرین میں... ویسے تو متاخرین جن کو ہم فقہی طور پہ کہتے ہیں وہ تو محفوظ ہیں ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو ہمارے جو بعد میں چھوٹے جن کو ہم کہتے ہیں، ہمارے چھوٹے لوگ یا جو سلسلوں کے چھوٹے لوگ، بعد میں جو آنے والے لوگ ہیں۔ ان میں یہ بات چلتی ہے کہ میرا سلسلہ اچھا ہے، دوسرا کہتا ہے میرا سلسلہ اچھا ہے، تیسرا کہتا ہے میرا سلسلہ اچھا ہے۔ یہ ایک انتہائی درجے کی فضول سوچ ہے کیونکہ ہر سلسلے میں بڑے بڑے اولیاء موجود ہیں۔
تو اگر کوئی اپنے سلسلے کو ان سے اچھا سمجھتا ہے تو ان اولیاء کا بھی رد ہو جاتا ہے۔ مثلاً کوئی کہتا ہے میرا نقشبندی سلسلہ اچھا ہے تو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سے اچھے تو نہیں ہو سکتے نا، اگر کوئی کہتا ہے میرا قادری سلسلہ اچھا ہے تو ظاہر ہے پھر وہ... دوسری طرف کے بڑے اولیاء اللہ موجود ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ بات بہت غلط ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگ یہاں پر یہ چیزیں آپ کو سناتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ سلسلے سارے اچھے ہیں۔ فائدہ سب سے ہوتا ہے لیکن ہر ایک کا مزاج اپنا اپنا ہوتا ہے۔
اس وجہ سے ہم آپ کو پہلے آج نقشبندی سلسلہ کا سنائیں گے پھر اس کے بعد تمام سلسلوں کے بارے میں جو بات ہے وہ بھی ان شاءاللہ آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی سب کو اس کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
نقشبندی سلسلے کا ایک کلام آپ کی سماعتوں کے حوالے کر رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیے۔
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
اسے پانا کہاں ممکن ہے دل کو یہ بتانا ہے
اسے پانا کہاں ممکن ہے دل کو یہ بتانا ہے
بظاہر تو یہ بالکل Simple سا شعر ہے لیکن اس کے اندر اگر گہرائی میں جائیں تو بہت ساری تفصیلات ہیں جو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوبات شریف میں بیان فرمائی ہیں۔
اصل میں ابتداء صوری... سے ہوتی ہے... یعنی مطلب یہ ہے کہ صوری تجلی سے۔ تو صوری تجلی میں انسان کا اپنا تصور کام کرتا ہے۔ تو جس قسم کا اس کا تصور ہوتا ہے وہ سامنے آتا ہے۔ اور سالک سمجھتا ہے شاید مجھ پہ وہ ذاتی تجلی ہو گئی یا مطلب... وہ اس کی غلط فہمی ہوتی ہے۔
حضرت نے فرمایا چاہے خواب میں کسی کو دیدار ہو جائے اللہ تعالیٰ کا یا کشف میں ہو جائے وہ اللہ نہیں ہے۔ وہ اللہ نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ کا دیدار اِس زندگی میں ہو نہیں سکتا۔ ہاں البتہ صرف صوری تجلی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان سمجھتا ہے کہ شاید مجھے دیدار ہو گیا اور اس میں بہت سارے لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہیں تو حضرت نے اس کا بہت سختی کے ساتھ رد کیا ہے۔ تو اس کا جو جو دوسرا مصرعہ ہے وہ یہ ہے کہ اسے پانا کہاں ممکن ہے، دل کو یہ بتانا ہے۔
اسے پانا کہاں ممکن ہے دل کو یہ بتانا ہے
کہ وہ ہے ذات وراء الوراء اور ہم کہاں سوچو
کہ وہ ہے ذات وراء الوراء اور ہم کہاں سوچو
مگر اس تک جو راہ جائے اسی راہ پر ہی جانا ہے
یہ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وراء الوراء ہے۔ لَن تَرَانِي یہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تو باقی لوگوں کی کیا حیثیت ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اللہ کو پانے کا جو راستہ ہے اس پہ سب کو جانا ہے۔ لیکن اللہ کو پانے کا مطلب جو ہے وہ بھی سمجھنا چاہیے۔
تو جو اللہ کو پانے کا راستہ ہے وہ اصل میں اس کو "سیر الی اللہ" کہتے ہیں۔ اس نام سے بھی لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے، "سیر الی اللہ"۔ تو مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تک انسان اس طرح پہنچتا ہے جیسے کسی انسان کے تک پہنچتا ہے یا کسی اور ہستی تک پہنچتا ہے۔ وہ ایسا نہیں ہے۔ بس وہ یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان اللہ جل شانہٗ کے جو مطلب منشاء مبارک ہے اس کے مطابق زندگی گزارنے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ تک پہنچ گیا۔
مطلب کیونکہ اللہ پاک جیسے ذکر کے بارے میں فرماتے ہیں جو انسان ہونٹ سے ذکر کرتے ہیں تو اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ إِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِينَ بے شک اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ تو معیّتِ الہٰیہ جو ہے یہ بھی بالکل ایک متشابہات میں سے ہے مطلب جو ہے نا وہ... یعنی وہ متشابہات میں سے ہے۔ اس وجہ سے جو ہے نا وہ اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح مطلب ہم لوگ معیّت کسی اور چیز کی سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ اصل میں اللہ پاک کو پتا ہے کہ اس کی کیفیت کیا ہے۔
مگر اس تک جو راہ جائے اسی راہ پر ہی جانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
یہ عشق کی راہ ہے اس پر چلے جانا مگر آگے
یہ عشق کی راہ ہے اس پر چلے جانا مگر آگے
بھی کوہِ نفس سر کرنے میں مردانگی دکھانا ہے
یہ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک خصوصی فکر کی برکت سے اللہ پاک نے شعر نصیب فرمایا ہے کیونکہ حضرت نے اس کے لیے خصوصی مکتوب شریف اپنے بھائی کو لکھا تھا جس کا نام ہے مکتوب نمبر 287۔ اس میں حضرت نے انتہائی وضاحت کے ساتھ اپنے بھائی کو یہ فرمایا تھا کہ لوگ جذب اور سلوک کے درمیان سمجھنے میں گڑبڑ کر رہے ہیں، میرا دل چاہتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ بات کروں۔ اور 27 صفحات کا ایک خط لکھا ہے حضرت کو۔
اس میں حضرت نے اس بات کو فرمایا ہے کہ جو جذب ہے اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس سے انسان سلوک کے لیے تیار ہو جائے۔ سلوک طے کرنے کے لیے۔
سلوک طے کرنا کیا ہے؟ اپنے نفس کو قابو کرنا۔ اپنے نفس کو قابو کرنے کے جتنے بھی ذرائع ہیں ان کو مقامات کہتے ہیں۔ یعنی مقامِ ریاضت ہے، مقامِ قناعت ہے، مقامِ تقویٰ ہے، مقامِ زہد ہے، مقامِ صبر ہے۔ حضرت نے خود ہی ارشاد فرمایا ہے۔ دس مقامات کا بتایا ہے۔ تو ان دس مقامات کو طے کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔
اس کے لیے انسان کو پہلے جیسے انسان ذہن بناتا ہے نا، تو اس طرح انسان اپنا دل بناتا ہے۔ اور دل بنانے کا نام جو ہے نا وہ جذب ہے۔ یعنی دل کے اندر اتنا شوق پیدا کرنا کہ انسان اس مشکل کام کو کرنے کے لیے آمادہ ہو جائے۔ یہی اصل میں بنیادی مقصد ہے جذب کا۔
اب لوگوں... بلکہ حضرت کے زمانے میں ہی ایسی بات ہو گئی کہ لوگوں نے جذب کو ہی مقصود سمجھ لیا۔ بلکہ حضرت کے الفاظ یہ ہیں کہ جذب جب ہوتا ہے تو اس میں جو ایک حال سے دوسرے حال سے تبدیلی ہوتی ہے تو سمجھتے ہیں کہ شاید ہمارا سلوک طے ہو رہا ہے۔ بالکل حضرت کے الفاظ ہیں۔ جیسے لوگ سمجھتے ہیں جیسے ہمارا سلوک طے ہو رہا ہے حالانکہ سلوک اور جذب بالکل مختلف چیز ہے۔
یہ سلوک تو بعد میں آتا ہے۔ جذب میں احوال بے شک تبدیل ہوں لیکن وہ جذب ہی ہوتا ہے۔ تو اس کا صرف اور صرف مقصد اپنے آپ کو تیار کرنا ہوتا ہے سلوک کے لیے۔ اس کی مثال اگر آپ دے سکتے ہیں تو یہ ہے کہ جیسے لوہا گرم ہوتا ہے... نہیں جیسے لوہا ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کو آپ نہیں موڑ سکتے۔ اگر آپ اس سے کوئی چیز بنانا چاہیں تو پہلے اس کو گرم کریں گے، نرم کریں گے، پھر اس کو موڑیں گے، پھر اس سے کوئی چیز بنائیں گے پھر اس کے بعد جب وہ ٹھنڈا ہو جائے گا تو اسی صورت میں بن جائے گا۔
تو یہ اصل میں یہ حالت ہے۔ جذب اور سلوک کا جو ہے نا مطلب یہ بتایا ہے۔ تو یہ اصل میں یہاں پر ہے کہ جو اس کے بعد سلوک کا پہاڑ جو ہے نا اس کو طے کرنا ہوتا ہے۔ یعنی آپ نے گویا کہ راستہ بنا لیا، میدان بنا لیا اور ذہن بنا لیا، دل بنا لیا، اس کے ذریعے سے اب آپ نے سلوک کا پہاڑ طے کرنا ہے۔
اور یہ حضرت نے ایک خواب کسی کا آیا تھا ایک مکتوب شریف میں اس کا بالکل یہی تعبیر فرمایا تھا کہ وہ دو ترک جو تھے نا وہ جس وقت گلی کے اندر گھس گئے تو سامنے ایک پہاڑ نظر آ گیا۔ تو فرمایا یہ پہاڑ جو ہے نا وہ سلوک کا پہاڑ ہے۔
بھی کوہِ نفس سر کرنے میں مردانگی دکھانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
مقامِ قلب میں روح بند ہے نفس کے شکنجے میں
مقامِ قلب میں روح بند ہے نفس کے شکنجے میں
ریاضت سے سلوک سے روح کو نفس سے چھڑانا ہے
یہ حضرت کی ایک اور فکر ہے، حضرت نے فرمایا کہ ہمارا جو روح تھا یہ عاشق تھا اللہ تعالیٰ کا۔ اور اس کے بارے میں جو قرآن پاک میں آتا ہے نا کہ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى۔ تو اصل میں یہ روح عاشق تھا تبھی سب نے کہہ دیا نا کہ "کیوں نہیں"۔
تو روح عاشق تھا لیکن جس وقت یہ آ گیا جسم میں یعنی نفس کے اندر آ گیا تو نفس نے اس کو جکڑ لیا۔ اور نفس اس کو اپنے آپ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ تو اب یہ ہے کہ یہ بالکل گویا کہ بھول گیا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کا عاشق تھا۔ تو اس کو جذب کے ذریعے سے یا ذکر اذکار مراقبات کے ذریعے سے یاد دلایا جاتا ہے کہ تو تو اللہ کا تھا۔ تو جس وقت یہ اپنے آپ کو سمجھ لیتا ہے کہ میں تو اللہ کا ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے۔
نتیجتاً یہ پھر گویا کہ کوشش کرتا ہے کہ میں نکلوں۔ تو یہ مقامِ قلب کہلاتا ہے۔ یہ جذب جب آ جاتا ہے نا تو اس کو "مقامِ قلب" کہتے ہیں حضرت۔ فرمایا مقامِ قلب میں روح اور نفس یہ آپس میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ یعنی روح نکلنا چاہتا ہے اس کے اثر سے اور نفس اس کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ تو اس وقت مجاہدات اور ریاضت اور سلوک کے ذریعے سے گویا کہ نفس کے ہاتھ پیر باندھنے ہوتے ہیں تاکہ روح کو راستہ مل جائے۔ یہ حضرت نے فرمایا ہے۔
ریاضت سے سلوک سے روح کو نفس سے چھڑانا ہے
جو حضرات غلط فہمی میں مبتلا تھے جن کی غلط فہمی دور کرنا چاہتے ہیں حضرت۔ وہ کہتے ہیں جذب الگ چیز ہے اور سلوک الگ۔ جذب سے بھی اصلاح ہوتی ہے، سلوک سے بھی اصلاح ہوتی ہے۔ خدا کے بندو! یہ دونوں اپنے طور پہ علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں اکٹھے ہیں، صرف ترتیب ہے کہ پہلے جذب ہے پھر بعد میں سلوک ہے۔
پہلے گزشتہ سلاسل کے اندر صرف سلوک ہوتا تھا Start اور پھر اس کے بعد جذب عطا کیا جاتا تھا۔ اس کو جذبِ منتہی کہتے ہیں۔ نقشبندی سلسلہ میں حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں کی برکت سے ان کی فکر کی برکت سے اللہ پاک نے یہ راستہ دے دیا کہ پہلے جذب، پھر اس جذب کے بعد پھر سلوک، پھر اس کے بعد جذب۔ یہ گویا کہ سالک مجذوب کے بجائے مجذوب سالک مجذوب مطلب یہ نقشبندی حضرات اس کو گویا بنایا جاتا ہے۔
تو جو کہتے ہیں جذب بھی ہوتا ہے اور سلوک بھی ہوتا ہے یا اس سے کرو یا اس سے کرو۔ بلکہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جو سلوک ہے اس کی مثال سیڑھیوں کی ہے اور جذب کی مثال Lift کی ہے۔ یہ بالکل مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے طریقے کے خلاف باتیں ہیں۔ بالکل مختلف ہے۔ اگر یہ کہتے ہیں اپنے آپ کو تو اپنے آپ کو مجددی نہ کہیں۔ پھر کچھ اور بن جائیں گے۔ جو بھی ہیں وہ ہیں لیکن مجددی نہیں ہیں۔
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
یہی ہے راہ پانے کا یہی مقصود آنے کایہی ہے راہ پانے کا یہی مقصود آنے کاکہ جانے اس کو مانیں کی اس پہ نفس کو لانا ہے
صرف دو باتیں ہیں تصوف کے اندر صرف دو باتیں اور وہ یہ ہیں کہ اللہ کو پہچان لیں یعنی جانیں اس کو اور مانیں اس کی نفس اس کی جو ہے نا اللہ پاک کی بات مانے بس یعنی گویا کہ عبدیت ہے اور معرفت ہے عبدیت اور معرفت۔ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ عبدیت اور معرفت ایک دوسرے کے ساتھ Attach ہیں یعنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم ملوم ہیں۔ معرفت کے ذریعے سے عبدیت حاصل ہوتی ہے اور عبدیت کے ذریعے سے معرفت بڑھتی ہے۔ معرفت کے ذریعے سے عبدیت بڑھتی ہے، عبدیت کے ذریعے سے معرفت بڑھتی ہے۔ گویا کہ اس طریقے سے۔۔اور حضرت یہاں تک فرماتے ہیں کہ آخیر میں جتنی معرفت حاصل ہوچکی ہوتی ہے تو انسان کی موت کے ساتھ تو چونکہ عبادت ختم ہوجاتی ہے تو صرف معرفت جو رہ جاتی ہے اس معرفت کے ساتھ انسان اللہ کے ساتھ ملاقات کرتا ہے۔ تو اب یہ جس کو کہتے ہیں نا کہ عمر بھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے جتنی معرفت حاصل ہوگئی اس کے ساتھ اس کی عبدیت آجاتی ہے سامنے۔ اور جب عبدیت انسان اختیار کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے ذریعے سے معرفت بڑھتی ہے۔
کہ جانے اس کو مانیں کی اس پہ نفس کو لانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
طریقِ عشق میں رکنا کہاں جائز ہے چلتے جا
طریقِ عشق میں رکنا کہاں جائز ہے چلتے جا
نکلتے جا حجابوں سے نظر اس پر جمانا ہے
یہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خصوصی نسبت ہے کہ حضرت رکنے نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے لیے الفاظ حضرت استعمال کرتے ہیں کہ اخروٹ کے چھلکوں پہ اپنے آپ کو جو ہے نا بالکل اپنے آپ کو وہ نہ کرے کہ بس دھوکہ نہ دے کہ بس یہ ہمارے لیے اصل ہے۔ یعنی کسی کو کشفیں حاصل ہو گئیں یا کسی کو یہ چیز حاصل ہو گئی وہ پھر سمجھے کہ بس میں بزرگ بن گیا۔ بھئی یہ کیا چیز ہے؟ یہ تو راستے کے کھیل تماشے ہیں۔ یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں، یہ تو ادھر رہ جائیں گئیں۔ اصل چیز تو ادھر ہے، اللہ تعالیٰ کا تعلق حاصل کرنا ہے۔
تو یہ جو ہے نا یہ بنیادی بات ہے کہ ہمیں ان چیزوں میں نہ الجھیں بلکہ اصل تعلق جو اتباعِ سنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت ہے اس کے ذریعے سے جو معرفت حاصل ہو، اس کے ساتھ اس عبدیت پر عمل کریں۔
نکلتے جا حجابوں سے نظر اس پر جمانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
کہ بس صرف وہ ہی رہ جائے نہ کوئی اور ہو دل میں
کہ بس صرف وہ ہی رہ جائے نہ کوئی اور ہو دل میں
کہ اس وحدت کے دریا میں بھی ایک ڈبکی لگانا ہے
یہ مقام فنائیت ہے، یہ مقام فنائیت ہے سلوک طے کرنے کے بعد انسان کو حاصل ہوجاتا ہے اس میں انسان کے دل میں صرف اور صرف اللہ پاک رہ جاتے ہیں یعنی انسان کا تعلق اللہ کے ساتھ ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو بھی کچھ نہیں سمجھتا نہ کسی اور کو مطلب ظاہر ہے کہ اس کی پوری توجہ اللہ کی طرف ہوجاتی ہے
اور بعض لوگوں کا علم بھی سلب ہوجاتا ہے اس وقت یعنی اپنے آپ کو بھی نہیں پہچانتے۔ تو مطلب یہ کہ یہ ایک وقتی بات ہوتی ہے عارضی بات ہوتی ہے لیکن یہ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جیسے کہ مطلب کسی چیز کو آپ ڈبو دیں کسی چیز میں اور بالکل ساری میل کچیل اس کے ساتھ دور ہوجائے پھر جب واپس آجائے تو بلکل وہ پاک و صاف ہو تو اس طرح جب انسان اس کیفیت سے گزر جاتا ہے تو اس کا گویا کہ دوسری چیزوں کے ساتھ جو تعلق ہوتا ہے وہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور جب یہ واپس آتا ہے تو بالکل پاک و صاف ہوتا ہے اس سے پھر اللہ پاک نکال لیتے ہیں
کہ اس وحدت کے دریا میں بھی ایک ڈبکی لگانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
جو گند دنیا کی دل میں ہے وہ اس سے پاک ہو جائے
جو گند دنیا کی دل میں ہے وہ اس سے پاک ہو جائے
شرابِ عشقِ وحدت دل کو خم پہ خم پلانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
نکالے وہ تجھے واں سے تو پھر تو جان لے سب کو
یعنی پھر علم واپس لے آتا ہے۔
نکالے وہ تجھے واں سے تو پھر تو جان لے سب کو
مگر پہچانے لے اس کو حقیقت اس کی پانا ہے
معرفت یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کا علم دوبارہ جب آ جائے واپس، اور وہ اپنی حقیقت کو بھی جان لے اور پھر اللہ جل شانہ کا جو مطلب یعنی جو تعلق ہے اس کو بھی جان لے کہ ہر وقت اللہ پاک اس کے دل میں ہوتا ہے اور جو کام بھی کرتا ہے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ شریعت پر ہی چلتا ہے یہ نہیں کہ مطلب کوئی نئی چیز ہے، شریعت پر چلتا ہے لیکن اللہ کے لیے چلتا ہے۔ بس یہی بات ہوتی ہے میں گویا جو بھی حقوق ہوتے ہیں وہ حقوق ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں لیکن مقصد اس کا اللہ کی رضا ہوتی ہے۔
مگر پہچانے لے اس کو حقیقت اس کی پانا ہے
تصور میں خدا کے ڈوب جانا اس کو پانا ہے
ہو قلب میں ذاتِ بخت کا خیال عقل بن جائے سِر شبیر
ہو قلب میں ذاتِ بخت کا خیال عقل بن جائے سِر شبیر
ہو نفس قابو کہ اپنے آپ کو اس کا بنانا ہے
یہ اس کا حاصل شعر ہے اور جو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تشریح فرمائی ہے، اس کا نچوڑ ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ہمارے جسم کے اندر تین نظام ہیں۔ ایک عقل کا ہے، ایک دل کا ہے اور ایک نفس کا ہے۔ اور یہ تینوں نظام بالکل آزاد ہیں اور اپنے اپنے مطلب اس پہ چلتے ہیں۔ لیکن ان کو پابند کرنا ہوتا ہے۔ یعنی عقل کو، عقل کا اپنا ایک کام ہوتا ہے یعنی گویا کہ سوچنا، علم حاصل کرنا، اس کو سمجھنا، جاننا، یہ سب عقل کا کام ہے۔ اور نفس کا کام خواہشات کا ادراک ہے، اس کی پیروی ہے، ضروریات کا احساس ہے۔ اور دل کا جو کام ہے جذبات و احساسات، ایمان اور کفر۔ یہ چیزیں جو ہے نا مطلب ہے کہ یعنی دل کی ہیں۔
تو اب اس میں یہ ہے کہ وہ جو یہ اس میں ہے کہ "دل میں ذاتِ بخت کا خیال ہو" یعنی مطلب یہ ہے کہ دل کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو۔ اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ عقل سر بن جائے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس وقت انسان مقامِ قلب میں مطلب جس کو کہتے ہیں نا یعنی وہ نفس سے آزاد ہو جاتا ہے روح، تو ملاء الاعلیٰ پہنچ جاتا ہے۔ تو جب وہ ملاء الاعلیٰ پہنچ جاتا ہے تو پھر وہاں سے دو باتیں آتی ہیں۔ قلب کا تعلق بھی ملاء الاعلیٰ سے ہوتا ہے اور سر کا تعلق بھی... عقل کا تعلق بھی ملاء الاعلیٰ سے ہو جاتا ہے۔ یعنی دو لطیفے آ جاتے ہیں۔ ایک روح کا اور ایک سِر کا۔ تو جو لطیفہ روح ہے وہ قلب کا تعلق بنا دیتا ہے یعنی ملاء الاعلیٰ کے ساتھ، اور لطیفہ سِر جو ہے نا وہ عقل کا تعلق ملاء الاعلیٰ کے ساتھ بنا لیتا ہے۔ لہٰذا اب وہ محسوس جو جذبات اس کے ہوتے ہیں وہ ملاء الاعلیٰ کے ذریعے سے آتے ہیں، اور جو سوچ اور فکر ہے اور فیصلے ہیں وہ بھی ملاء الاعلیٰ کے ذریعے سے آتے ہیں۔ لہٰذا وہ پھر یہ ہو کہ پھر وہ اگرچہ لوگوں میں ہوتا ہے لیکن لوگوں کا نہیں ہوتا وہ اللہ کا ہوتا ہے، اس کے سارے کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں۔
جیسے گفتہ او گفتہ اللہ بود، گرچہ از حلقوم عبداللہ بود، جس مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔ تو یہ اصل میں اس کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ جب انسان کو یہ چیز حاصل ہو جائے، تو ظاہر ہے اس کو ہم کامل کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔ تو یہ نقشبندی سلسلے کا پورا نچوڑ ہے۔ میں ایک نقشبندی سلسلے کے اجتماع میں گیا تھا۔ تو انہوں نے مجھ سے ایک بیان کے لیے کہا، میں نے کہا بیان تو میں نہیں کروں گا، میں صرف یہ کرتا ہوں کہ میں اس غزل کی تشریح کر لیتا ہوں۔ تو جب اس غزل کی تشریح میں نے کی تو ڈاکٹر امتیاز صاحب جو نقشبندی سلسلے کے شیخ ہیں، انہوں نے فوراً کہا، "بس نقشبندی سلسلہ یہی ہے، اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ بس یہی ہے، ہم اس کو جانتے ہیں۔" تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ اصل بنیاد ہے۔ چونکہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی مکتوبات شریف پر منحصر ہے۔ ہمارا جو بات ہے نا کہ ہم تو الحمدللہ اللہ کا شکر ہے سارے سلسلوں کو مانتے ہیں۔ اور سارے سلسلوں کو چاہتے ہیں۔ اور سارے سلسلوں کے اندر بیعت ہیں اور سارے سلسلوں کے اندر بیعت کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمارا تو یہ کوئی مطلب نہیں ہے کہ میں جو ہے نا وہ جو مطلب صرف ایک خاص سلسلے کی بات کروں۔
(End of Transcription)
تجزیہ اور خلاصہ
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع اور بہترین عنوان:
سلسلہ نقشبندیہ کی حقیقت: جذب، سلوک اور معرفتِ الہٰیہ (ایک کلام کی تشریح)
متبادل عنوان:
روحانی ترقی کے مراحل: خواب و کشف سے عبدیتِ کاملہ تک
اہم موضوعات:
سلاسلِ اربعہ کی حقانیت: تمام سلاسل (چشتیہ، قادریہ، سہروردیہ، نقشبندیہ) برحق ہیں اور مزاج کے اختلاف کی بنا پر ہیں، کسی ایک کو دوسرے پر فضیلت دینا غلط ہے۔
دیدارِ الہٰی کی حقیقت: دنیا میں (خواب یا بیداری میں) اللہ کا ذاتی دیدار ممکن نہیں، صرف صوری تجلی ہوتی ہے جسے سالک غلطی سے دیدار سمجھ لیتا ہے۔
سیر الی اللہ: اللہ تک پہنچنے کا مطلب جسمانی سفر نہیں بلکہ اللہ کی منشاء کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔
جذب اور سلوک کا فرق: حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تعلیمات کی روشنی میں جذب محض "سلوک" (نفس کی اصلاح) کی تیاری کے لیے ہوتا ہے، اصل مقصد سلوک اور اتباعِ سنت ہے۔
روح اور نفس کی کشمکش: "مقامِ قلب" میں روح (جو عاشقِ الہٰی ہے) اور نفس کے درمیان مجاہدے کی تفصیل۔
شاہ ولی اللہؒ کا فلسفہ: انسانی جسم کے تین نظام (عقل، دل، نفس) اور مقامِ فنا میں ان کا ملائکہ کے ساتھ تعلق