اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام و خضر علیہ السّلام کے علم کا فرق:
ارشاد: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم کے سامنے خضر علیہ السلام کا علم ایسا ہے جیسے وائسرائے کے علم کے سامنے کوتوال کا علم، کہ جزئیات وقائع کا علم تو کوتوال کو وائسرائے سے زیادہ ہوتا ہے، مگر اصول سلطنت اور کلیات قانون کے علم میں وائسرائے کے برابر کوئی حاکم نہیں ہوتا۔
یہ ایک اصولی بات ہے کہ جو چیز جتنی زیادہ اہم ہو، تو اس کا ذریعہ بھی باقی ذرائع سے اہم ہوگا۔ مثلاً ہدایت، یہ بہت اہم ہے باقی جو دنیاوی کامیابی ہے اس کے مقابلے میں۔ مثلاً ایک شخص بہت پریشانی کی حالت میں ہے، مشکلات میں ہے، تکالیف میں ہے لیکن ہدایت اس کو حاصل ہے۔ تو وہ کامیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک شخص بہت مزوں میں ہے، آسانیاں اس کو حاصل ہیں، دنیاوی عزت بہت زیادہ حاصل ہے لیکن اس کے پاس ہدایت نہیں تو وہ ناکامیاب ہے۔ اب جو اول الذکر چیز ہے، یعنی ہدایت، جو اس کا ذریعہ ہوگا وہ بہت زیادہ اہم ہوگا۔ اور جو موخر الذکر ہے یعنی دنیاوی کامیابیاں، دنیاوی خوشیاں، دنیاوی مزے، اس کا جو ذریعہ ہوگا وہ اس کے بعد ہوگا۔ اس کے برابر تو نہیں ہو سکتا۔ یعنی تکوینی چیزیں۔
تو موسیٰ عليه السلام پیغمبر تھے لہٰذا موسیٰ عليه السلام کو ہدایت کے لیے جو علوم مقصود تھے، ذریعے تھے، وہ حاصل تھے۔ ہدایت والے علوم پیغمبر کو سب سے زیادہ حاصل ہوتے ہیں۔ اور خضر عليه السلام کو تکوینی علوم حاصل تھے۔ لہٰذا موسیٰ عليه السلام کا علم یہ بنیادی ہو گیا کیونکہ یہ اللہ سے لینے والی چیز ہے۔ اور خضر عليه السلام کا جو علم ہو گیا یہ تکوینی ہو گیا کہ اللہ پاک نے چیزوں کو کیسے بنایا ہوتا ہے اور کیسے توڑتا ہے، کیسے۔۔۔ تو بظاہر عام لوگوں کے لیے تو یہ جو دنیاوی علوم ہیں وہ زیادہ appeal کرتے ہیں، وہ ان چیزوں سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ لیکن جو عقلمند ہوتے ہیں وہ ہدایت والے علوم کا زیادہ خیال رکھتے ہیں، کیونکہ ہدایت پر آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
اب دیکھ لیں میں نے یہاں پر کوئی ڈیوٹی کی جس کے مجھے ہزار روپے مل گئے۔ تو یقیناً یہ ایک فائدہ ہے۔ جس کو میں آگے استعمال کر سکتا ہوں۔ اس طرح میں نے سُبْحَانَ اللهِ پڑھ لیا تو اس پر مجھے وہاں قیامت میں جنت میں پلاٹ مل گیا، الحمد للہ۔ اور وہی ہزار روپے اگر میں اس ہدایت کے نظام کے مطابق اللہ کے راستے میں خرچ کر لوں تو وہاں کا ذریعہ بن جائے گا۔ تو اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہاں کی کامیابی لینی ہے تو پھر ہدایت کے نظام کو ساتھ لینا ہوگا۔ اور اگر یہاں کی کامیابی لینی ہے تو پھر یہ ان چیزوں کو، تکوینی چیزوں کو، اتنے ساتھ لینا ہوگا۔ تو پس ہم لوگ یہی کہہ سکتے ہیں کہ جیسے دنیا فانی ہے، اس طرح اس کا جو ذریعہ ہے وہ بھی اس طرح ہی ہے۔ اور چونکہ وہاں کی جو کامیابی ہے وہ باقی ہے لہٰذا اس کے لیے جو ذریعہ بننے والی چیز ہے وہ بھی باقی ہوگا۔ وہ بھی بہت مفید ہوگا۔ تو موسیٰ عليه السلام کا علم اس زمرے میں آتا ہے، خضر عليه السلام کا علم اس زمرے میں آتا ہے۔
فرشتے انکار نہیں کر سکتے اگر کوئی حکم اللہ کی طرف سے دیا گیا، اس کو عذاب دو یا اس کو اس کے اوپر الٹ دو، وہ نہیں انکار کر سکتے۔ آپ ان بے شک لاکھ دفعہ ان کی منتیں کریں، فرشتہ نہیں مانے گا۔ لیکن اگر اللہ سے آپ نے آہ و زاری کی، کہہ دیا اور اللہ پاک نے مان لیا، تو وہ فرشتے کو کہہ دے گا، فرشتہ واپس۔ اب فرشتے کو بھی تکوینی چیزیں حاصل ہوتی ہیں نا، کہ یہ کرو یہ نہ کرو۔ تو اس میں اس کو اختیار نہیں ہوتا۔ وہ کرو یا نہ کرو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ جبکہ نبی جو ہوتا ہے وہ اللہ پاک سے لینے والا ہوتا ہے، اللہ پاک کے سامنے زاری کرنا ہوتا ہے۔ اللہ پاک کی ہدایت کے نظام کے ماتحت اللہ سے لوگوں کو ملا رہے ہوتے ہیں۔
تو یہ وہ بات ہے جس کا حضرت فرما رہے ہیں کہ موسیٰ عليه السلام کے علم کے مقابلے میں خضر عليه السلام کا جو علم تھا، وہ ایسا ہے جیسے کوتوال کا علم وائسرائے کے سامنے۔ اصول... یعنی جیسے Parliament ہے۔ اب Parliament جو ہے قانون پاس کرتا ہے۔ اور جو باقی لوگ ہوتے ہیں ان کو implement کرتے ہیں۔ تو ظاہر ہے جس وقت فیصلہ ہوگا تو Parliament کی بات اہم ہوگی۔ لیکن اس قانون پر جب عمل کرنے کا وقت آئے گا تو پھر وہاں پر جو دوسرے لوگ ہیں، ان کو زیادہ پتا ہوگا۔ ایک وکیل کو زیادہ پتا ہوگا، ممکن ہے Parliamentarian سے۔ لیکن یہ ہے کہ وکیل کا علم جو ہے وہ Parliamentarian کے علم کے مقابلے میں تو نہیں ہے، وہ تو الگ چیز ہے بنیادی قانون تو اس کے لیے وہ بناتا ہے۔ اسی طریقے سے جو ہوگا، موسیٰ عليه السلام کا علم، وہ اللہ پاک سے لینے والی بات ہے، تو اس وجہ سے وہ بنیادی ہے۔ اور یہاں جو مطلب علم ہے جو دوسرا اس کا انحصار ان پر ہے۔ لہٰذا موسیٰ عليه السلام کی کمی اس میں نہیں آتی۔ یہ تو صرف اللہ پاک نے دکھانا تھا کہ یہ بھی ایک نظام ہے۔ اس کو دیکھ لو۔
تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ بادشاہ جس وقت جاتا ہے کسی Factory میں، تو جو Factory کے جو لوگ ہوتے ہیں ان کو بتاتے ہیں، یہ بھی ہے، یہ بھی ہے، یہ بھی ہے، یہ بھی ہے۔ تو کیا خیال ہے وہ Factory والے بادشاہ والے سے افضل ہو گئے؟ وہ Factory as a whole بادشاہ کے ماتحت ہے۔ Factory جو as a whole ہے وہ بادشاہ کے ماتحت ہے۔ البتہ یہ ہے کہ اس کی جو جزئیات ہیں وہ Factory والوں کو معلوم ہیں۔ وہ ان کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے، یہ Briefing دیتے ہیں نا، کہ اس میں یہ ہوتا ہے، اس میں یہ ہوتا ہے، اس میں یہ ہوتا ہے۔ وہ ساری چیزیں ہوتی ہیں اس طرح۔ تو اگر کسی کو یہ چیزوں کا پتا ہو تو پھر ان کو پتا ہوتا ہے کہ موسیٰ عليه السلام کا علم یہ شاہی علم ہے۔ اور باقی جو تکوینی علم ہے، وہ تو ظاہر ہے۔
جس شے میں نفع موہوم اور خطرہ غالب ہو تو حرام ہوگی۔
فرمایا: چاند کے سفر میں نفع تو موہوم اور غیر ضروری اور خطرہ غالب، تو یہ سفر حرام ہوگا۔
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس میں نفع یہ ہے کہ ہمارا نام ہوگا۔ بھلے ان سے پوچھو کہ اس سے تم کو کیا نفع ہوا؟ تم تو ہلاک ہو کر نامعلوم جہنم کے کس طبقے میں رہو گے۔ پیچھے اگر نام بھی ہوا تو کیا فائدہ؟ جیسے بعض لوگ جائیداد وغیرہ حرام حلال سے جمع کر کے چھوڑ جاتے ہیں تاکہ اولاد کے کام آئے۔ لیکن اولاد کے کام آنے سے تم کو کیا فائدہ ہوگا؟ تم تو جہنم میں جلتے ہو گے اور اولاد گلچھڑے اڑاتی ہوگی۔ بخلاف اس کے کہ حضرت ابراہیم عليه السلام نے جو نیک نام کی تمنا کی، اس کا منشا یہ تھا کہ میرے اقوال و افعال بھی اس طرح محفوظ رہیں گے اور میرا اتباع زیادہ کیا جائے گا۔ تو ثواب بھی مجھے زیادہ ملے گا اور قرب و درجات میں بھی ترقی ہوگی۔
وہی والی بات، کہ جس نظام کا انسان کڑی بنتا ہے، اس نظام پر منحصر ہے کہ وہ کیا ہے۔ تو ابراہیم عليه السلام تو اس نظام کے حصے ہیں نا، ہدایت کے نظام کا۔ لہٰذا بعد میں جن کو بھی ہدایت ابراہیم عليه السلام کے نظام کے ذریعے سے مل رہی ہوگی تو اس میں ابراہیم عليه السلام کا حصہ ہوگا۔ تو وہ اس چیز کو تو باقی رکھنا چاہیں گے۔ لیکن اگر حرام مال میں نے پیچھے چھوڑ دیا اور وہ لوگ اس کو استعمال کریں، تو میرا اس میں کیا فائدہ؟ میرا تو نقصان ہے۔ وہ جتنا زیادہ استعمال ہوگا اتنی مصیبت۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة الله عليه ان سے کسی... ان کے 12 بیٹے تھے۔ تو کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ وہ تو بالکل فقر کی زندگی گزار رہے تھے۔ یعنی اتنا فقر کہ ان کی جو بیوی تھی وہ بھی شہزادی تھی۔ فاطمہ بنت عبدالملک... خلیفہ کی بیٹی تھی۔ شہزادی تھی۔ تو عید کا دن آ گیا تو بیوی نے خواہش کا اظہار کیا کہ ذرا بیٹوں کے لیے نئے کپڑے... عید ہے۔ تو انہوں نے کہا میرے پاس تو نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ذرا خزانچی سے کہہ دیں تو تنخواہ میں سے بعد میں کاٹ لیں، انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ خزانچی کو انہوں نے رقعہ دے دیا کہ اتنے پیسے مجھے پہلے سے ایڈوانس دے دو تو پھر جب میری تنخواہ ہوگی تو اس سے آپ کاٹ لینا۔ تو خزانچی بھی انہی کا مقرر کردہ تھا، تو انہوں نے جواب میں رقعہ پہ لکھ دیا کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ اتنی دیر تک زندہ رہیں گے؟ تو عمر بن عبدالعزیز رحمة الله عليه نے کہا کہ بس ٹھیک ہے جواب معقول ہے۔ اب ان کو مزید نہیں چھیڑنا چاہیے۔ تو انہوں نے وہ رقعہ دکھا دیا بیوی کو، اور پرانے کپڑوں کے ساتھ انہوں نے عید کی۔ بادشاہ، خلیفہ کا کام تھا۔
ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنے بیٹوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو جواب سنیں۔ ایمان والے کا جواب کیسا ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا دو صورتیں ہیں، یا یہ میرے بیٹے اللہ والے ہوں گے، یا یہ شیطان کے پیچھے جا رہے ہوں گے۔ اگر یہ اللہ والے ہیں تو اللہ ان کے لیے کافی ہے۔ میں ان کے لیے کیوں چھوڑوں؟ اللہ جب مجھے دیتا ہے تو ان کو بھی دے گا۔ اور اگر یہ شیطان کے پیچھے ہیں تو ایسے بدمعاشوں کے لیے میں کیوں چھوڑوں؟ یہ بالکل وہی مثال ہے جیسے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جنازے کو جلدی جلدی لے جاؤ۔ کیونکہ اگر یہ نیک بخت ہے، تو اس کا ٹھکانہ بڑا اچھا ہے، اس ٹھکانے تک ان کو پہنچاؤ، اس کے لیے اس میں راحت ہے۔ اور اگر یہ بدبخت ہے تو ایک برا گوشت تمہارے کندھے پہ ہے اس کو جلدی پھینکو۔ تو مطلب یہ ہے کہ انسان کو یہ دیکھنا ہے کہ میرے لیے کیا مناسب ہے۔
تو یہاں پر یہ فرمایا کہ یہ جو لوگ خواہ مخواہ اپنی شہرت پہ مر رہے ہوتے ہیں، شہرت ایک بیماری ہے۔ یہ شہرت کی جو طلب ہے، یہ ایک بیماری ہے۔ ماشاءاللہ علماء بھی بیٹھے ہیں۔ جنازے کا جب اعلان ہوتا ہے، مجھے بتائیں جنازہ جو ہے یہ کس چیز کی یاد ہے؟ موت کی یاد ہے نا؟ اچھا، جنازے کے اعلان کرتے وقت لوگ کیوں خوش ہوتے ہیں اس اعلان پر؟ مجھے بتائیں۔ خوش کرتے ہیں کہ میں اعلان کروں، خدمت کے لیے؟ دیکھ لیں۔ صحیح اعلان کرنا آتا بھی نہیں ہوگا، لیکن چاہتے ہوں گے کہ میں اعلان کر لوں۔ اس لیے، جذبہ خودنمائی، کہ میں Loudspeaker کے اوپر میری آواز آ جائے۔ بھئی کیا ہو جائے گا پھر اگر Loudspeaker پر تمہاری آواز آ جائے؟ جو رویت ہلال کمیٹی میں ہم ہوتے تھے تو لوگ باقاعدہ Camera کے سامنے اپنی کرسیاں رکھواتے تھے۔ ظاہر ہے ہم سے زیادہ جاننے والے تھے۔ اب بتاؤ کس لیے رکھواتے تھے؟ کہ ہماری تصویر آ جائے۔ ایک دفعہ ایسا ہوا، ہمارے Director صاحب اچھے آدمی تھے، اب ریٹائر ہو گئے۔ تو ان کے کوئی دوست تھے لاہور میں ہمارا اجلاس تھا۔ تو وہ دوست بھی ظاہر ہے انہوں نے ہمارے کھانے پینے کا بھی بندوبست کیا تھا، Director صاحب کو کہا تھا کہ آپ کا کھانا ہمارے ساتھ ہوگا۔ کیونکہ عید کی رات تھی، وہ ٹرو والی بات تھی لاہور کی۔ خیر اب ہوا یہ کہ چونکہ وہ Director صاحب کا ساتھی تھا تو جب اعلان ہو رہا تھا Chairman صاحب کا تو یہ Chairman صاحب کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ تو ظاہر ہے TV میں اس کا وہ آ رہا تھا، Camera میں۔ تو وہ ہم سے آگے آگے جا رہا تھا جس وقت ہم ان کے گھر جا رہے تھے کھانے کے لیے۔ تو یہ حالت تھی اس کی کہ وہ باقاعدہ Mobile پہ فون کر رہا تھا اپنے دوستوں کو، آج خبرنامہ ضرور دیکھیں۔ آج خبرنامہ ضرور دیکھیں۔ کیونکہ ظاہر ہے اس کی تصویر آ رہی تھی۔
اب مجھے بتائیں اگر کسی نے اس کا... ویسے بھی دیکھ لیتا ہے۔ ایک دفعہ مفتی محمود صاحب رحمة الله عليه کو میں نے خواب میں دیکھا تھا، تو میں نے تسنیم الحق صاحب رحمة الله عليه کو بتایا کہ میں نے خواب میں مفتی محمود صاحب کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا میں نے، میں نے اس کو ویسے دیکھا ہے۔ بغیر خواب کے دیکھا ہے۔ بات بالکل صحیح تھی۔ اب مطلب TV کے بغیر اگر کسی کو دیکھے تو زیادہ اچھا ہے یا TV کے اندر دیکھے؟ لیکن بہرحال یہ جذبہ خودنمائی ہے۔ تصویریں لوگ کیوں کھنچواتے ہیں؟ آخر اس میں کیا تُک ہے؟ اور عجیب و غریب طریقوں سے تصویریں کھنچواتے ہیں۔ ابھی تو میرا خیال ہے اس پہ Article بھی آ گیا کہ جو لوگ خود اپنی تصویریں کھنچواتے ہیں یہ ایک خطرناک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں۔ غالباً پرسوں اخبار میں یہ Article آیا ہے۔ کہ ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہیں جو اس طرح تصویریں وہ کرتے ہیں، اپنے سامنے رکھ کر، وہ اپنی تصویر لیتے ہیں۔ یہ خطرناک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں۔ تو اب دیکھ لیں یہ ہے، باقاعدہ لوگ pose بناتے ہیں، اب تو خانہ کعبہ کے پاس، اور حرم شریف میں، اور... نماز پڑھتے ہوئے! لوگ کہتے ہیں جی اب ہماری تصویر بناؤ۔ عورتیں بنا رہی ہیں، مرد بنا رہے ہیں۔ ایک عجیب طوفانِ بدتمیزی ہے۔ جمعے کا خطبہ پڑھا جا رہا ہوگا اور لوگ تصویریں بنا رہے ہوں گے۔ اب اندازہ کریں مطلب کچھ طریقہ ہے، کچھ تک ہے؟
تو اب یہ ساری باتیں اس بات کی طرف مرکوز ہو رہی ہیں، انسان کے اندر شہرت کی بہت بڑی طلب ہے۔ انسان کے اندر شہرت کی بہت بڑی طلب ہے۔ جو تین بیماریاں ہیں، ان میں سے ایک بیماری حبِ جاہ بھی ہے۔ روحانی بیماری، جو تین بڑی بیماریاں ہیں۔ جس سے ساری بیماریاں نکلتی ہیں۔ ایک حبِ جاہ ہے، ایک حبِ باہ ہے، اور ایک حبِ مال ہے۔ تو حبِ جاہ میں یہ چیز آتی ہے۔ انسان لوگوں کی نظروں میں باوقعت بننا چاہتا ہے، مشہور بننا چاہتا ہے۔
تو یہ حضرت نے یہ فرمایا کہ چاند پہ جانا، اس میں نفع تو موہوم ہے، اور اس میں نقصان اگر ہو گیا تو وہ یقینی ہے۔ اور یقینی ہے۔ اب دیکھیے اگر آپ نے جان دینی ہے تو کسی اچھی چیز کے لیے دو نا۔ چاند پہ جانے کے لیے جان دینا یہ کونسی تُک ہے؟ یہ ہم نے دیکھا ہے Europe میں۔ واقعتاً لوگ ایسے فضول فضول چیزوں کے لیے جانیں دیتے ہیں۔ ایسے فضول فضول چیزوں کے لیے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ ابھی میرا بیٹا مجھے بتا رہا تھا کہ Moscow میں ایک پُل ہے۔ اس پل کے اوپر دو شخص پتا نہیں کہتے ہیں کیسے چڑھے اور اتنے خطرناک، اور پھر وہاں سے اپنی تصویریں کھنچوائیں۔ کہتے ہیں وہ بالکل موت کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اب دیکھیں بتاؤ اتنے جذبے کے ساتھ وہ کس چیز کے لیے جا رہے ہیں؟ یہ wheeling جو لوگ کرتے ہیں مجھے بتاؤ کس لیے کرتے ہیں؟ یہ جو بچے wheeling کرتے ہیں؟ اس میں کیا بات ہوتی ہے؟ صرف یہ بات ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں دیکھ کے کہیں: واہ جی واہ، کیا بات ہے۔ حالانکہ سب لوگ ان کو بیوقوف اور پاگل کہتے ہیں۔ شاید ہی کوئی... مطلب ہو جو ان کو نہ کہتا ہو۔ ورنہ میرے خیال میں تو جو لوگ بھی ان کو دیکھتے ہیں تو پاگل اور بیوقوف ہی کہتے ہیں نا؟ لیکن ایسے شیطان کے اس میں آ چکے ہوتے ہیں، کہ موت دیکھ رہے ہوتے ہیں، یعنی آج ان سے لوگ مر جائیں گے، کل پھر دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔ کل پھر دوبارہ ہوگا۔ اور یہ جو فیض آباد کے پاس جو ہے... تو ادھر تو کھڑے ہوتے تھے باقاعدہ... یعنی یہاں وہ تلاش کر کے، جو ہے نا وہ wheeling کر رہے ہوتے تھے۔ تو یہ ساری کی ساری جذبہ خودنمائی، شہرت کی بھوک، ایک بیماری ہے۔ ایک بیماری ہے۔ اور خطرناک بیماریاں ہیں۔ دنیا میں بھی خطرناک ہے، جیسے wheeling کا میں نے بتا دیا، دوسری چیزوں کا، اور آخرت میں تو ہے ہی۔
تو یہاں پر حضرت نے جو فرمایا کہ جس شے میں نفع موہوم اور خطرہ غالب ہو، تو وہ حرام ہوگی۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔