تبلیغِ دین: حکمت، نرمی اور ثمرات سے بے نیازی

(اشاعتِ اول)، 18 فروری، 2015

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • تبلیغ میں ثمرات اور نتائج کے انتظار کی ممانعت
    • مبلغ کی اصل ذمہ داری (پیغام پہنچانا نہ کہ منوانا)
      • خراب حالات میں عمل پر استقامت اور ولایت کا حصول
        • دعوت و تبلیغ میں نرمی اور سختی کے اصول
          • امرِ بالمعروف میں پیشگی خوف اور بدگمانی کا علاج
            • مسئلہِ میراث کی تبلیغ: ایک چشم دید واقعہ اور تجربہ
              • اصلاح کا حکیمانہ اور نرم انداز (واقعہ امام حسن رضی اللہ عنہ)
                • تبلیغ میں شفقت اور "کارِ خود کن، کارِ بیگانہ مکن" کا اصول
                  • نومسلموں کے لیے حکمت، تیسیر اور تدریج (جرمن نوجوان کا واقعہ)


                    ثمرات کا انتظار تبلیغ میں ہمت کو پست کرتا ہے۔

                    فرمایا: تبلیغ میں ثمرات کا انتظار نہ کرو، اور یہ تجویز نہ کرو کہ ہماری سعی سے شُدّھی بندی ہو جائے، یا دس ہزار ہندو مسلمان ہو جائیں۔ کیونکہ اس تجویز کا انتظار کا نتیجہ یہ ہے کہ چند دن کے بعد جب اس ثمرہ کی ترتّب میں دیر ہوگی تو ہمت پست ہو جائے گی۔ اس میں راز یہ ہے کہ مبالغہ فی العمل ہمیشہ تقلیلِ عمل کا سبب ہوتا ہے۔

                    بات تو میرے خیال میں آپ نے سمجھ لی ہوگی کیونکہ کوئی مشکل لفظ تو امید ہے نہیں ہیں اس میں۔ کہ تم تبلیغ کے اوپر مامور ہو، اس کے اندر وہ change لانے پر مامور نہیں ہو۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ سے فرمایا: ہم نے تمہیں ان کے اوپر داروغہ نہیں بنایا۔ تیرا کام ان تک پہنچانا ہے، باقی کوئی ہدایت حاصل کرتا ہے یا نہیں کرتا وہ تیرا کام نہیں ہے۔ تجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔

                    تو جب آپ ﷺ سے یہ کہا جا رہا ہے، تو پھر ہم کون ہوتے ہیں؟ ہم کہتے ہیں نہیں، یہ ہو جائے۔ میں آپ کو ایک اصول بتاتا ہوں۔ الحمدللہ اس سے بڑی تسلی ہو جاتی ہے، کم از کم میری تو ہو گئی ہے، الحمدللہ شکر ہے، مجھے تسلی ہے اس مسئلے میں۔ قیامت آنی ہے، پکی بات ہے؟ قیامت سے پہلے سارے لوگوں نے کافر ہونا ہے۔ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ایک آدمی بھی اللہ اللہ کرنے والا موجود ہے۔ پکی بات ہے؟ اور یہ تبدیلی یکدم نہیں، بلکہ بتدریج آئے گی۔ حالات خرابی کی طرف جائیں گے۔ اچھے اچھے لوگ اٹھتے جائیں گے، ان کی جگہ پہ کوئی نہیں ہوگا۔ . اب جب یہ ساری باتیں ہمیں معلوم ہیں کہ ایسا ہوگا، تو پھر اگر ہم لوگ کچھ محنت کر رہے ہیں، اور اس محنت سے وہ حالات تبدیل نہیں ہو رہے، تو وہ مشیت کے مطابق نہیں ہے نا، مشیتِ الہی کے مطابق نہیں ہے۔ لیکن یاد رکھیے، جو کوششیں کر رہے ہیں، اور بے شک تبدیلی بالکل نہ لا سکتے ہوں، وہ اُس دور کے ولی اللہ ہوں گے۔

                    اس لیے مفتی محمود صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ولی اللہ گزر گئے، حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ بھی ولی اللہ گزر گئے، اس طرح ہمارے مولانا عبدالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ولی اللہ گزر گئے۔ بڑے بڑے لوگ گزر گئے، حالات اسی کے اسی طرح ہی ہیں، حالات خراب ہی ہو رہے ہیں۔ لیکن وہ اولیاء اللہ بنتے گئے۔ تو اسی طریقے سے اس وقت بھی یہ ہو رہا ہے۔ حالات جیسے بھی ہیں، وہ ہیں، اور جیسے ہوں گے وہ ہوں گے۔ لیکن جو لوگ خیر کی کوششیں کریں گے، وہ ولی اللہ بن جائیں گے۔ وہ ولی اللہ بن جائیں گے۔

                    ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ، انہوں نے بھی یہ بات فرمائی تھی۔ فرمایا کہ بس کوئی وقت ایسا آ جاتا ہے کہ نیک لوگ دعائیں مانگتے ہیں لیکن اللہ ان کی دعائیں بھی تبدیلی کے لیے قبول نہیں فرماتے، کیونکہ لوگ تبدیلی چاہتے نہیں۔ لوگ تبدیلی چاہتے نہیں۔ فَاعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو اب مجھے بتاؤ فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ نہیں چاہتے، ان کو نہیں ٹھیک کیا جاتا۔ جب یہ اس قسم کی بات ہے، تو جو لوگ کوشش کر رہے ہیں وہ بھی اس کو تبدیل نہیں کر سکیں گے۔ جب نہیں تبدیل کر سکیں گے، اگر ان کی نظر اللہ پر ہوگی، اور اللہ کے لیے کام کر رہے ہوں گے، تو ان کو اپنا اجر مل جائے گا۔ ان کو اپنا اجر مل جائے گا، وہ ولی اللہ بن جائیں گے۔

                    پس یہ والی بات ہے کہ اگر میں جلدی مچاؤں، اور کہوں ایسا کیوں نہیں ہوا، اور ایسا کیوں نہیں ہوا، اور فلاں کیوں نہیں واپس آیا، اور فلاں کیوں نہیں، بھئی وہ تو میں اپنے آپ کے اوپر نظر کر رہا ہوں کہ میں کچھ ہوں۔ وہ تو تبلیغ کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ جب میں نے اپنے اوپر نظر کی کہ میں کچھ ہوں، تو وہ تو کام ہی خراب ہو گیا۔ وہ تو اپنے بنیادی اصول ہی میں ناکامی ہو گئی۔ تو اب میں کیا کر سکتا ہوں؟ اس وجہ سے اصل طریقہ یہ ہے کہ کام کرو ڈٹ کر، اس میں کوئی کسر نہ چھوڑو، لیکن نتیجہ بالکل خدا پہ چھوڑو۔ بالکل خدا پہ چھوڑو۔ اس میں پھر یہ بالکل نہ دیکھو کہ اس میں میرا بھی کوئی حصہ ہے۔ اس وقت بالکل اللہ تعالیٰ پر چھوڑو۔ یہی اصل کام ہے، یہی اصل طریقہ ہے۔


                    مخاطبت سخت الفاظ سے مناسب نہیں۔

                    فرمایا: بلا ضرورت مخاطب کو سخت الفاظ سے خطاب کرنا ممنوع ہے۔ ہاں ضرورت کے وقت جائز ہے۔ جیسے قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ میں کافروں کی امیدیں قطع کرنے کے لیے سختی کے ساتھ کافر کہہ کر ان کو خطاب کیا گیا۔

                    جب تک نرمی سے کام ہوتا ہو، سختی تو بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارے پشتو میں ایک ضرب المثل ہے، وہ کہتے ہیں: "چہ پہ گوڑہ کار کیگی نو زہر نہ دی پکار" (یعنی گڑ سے جب کام نکلتا ہو تو زہر دینے کی کیا ضرورت ہے؟)۔ تو اس میں مطلب یہ ہے کہ جب تک نرمی سے کام نکلتا ہو، اس وقت تک تو سختی نہیں کرنی چاہیے۔ ہاں جب سختی کی ضرورت ہو، جیسے کپڑے کو دھویا جاتا ہے تو اس وقت نرم نرم ہاتھ سے میل نہیں نکلتا۔ اس کو اٹھا اٹھا کے پٹخا جاتا ہے، پھر کبھی اس سے یہ میل نکل سکتا ہے۔ تو اس طرح جس کی تربیت ذمے لگ گئی ہو، تو اگر ان کے لیے سختی مطلوب ہو تو پھر سختی کرنی چاہیے۔ پھر سختی کرنی چاہیے، پھر ٹھیک ہے۔ وہ صحیح ہے۔ لیکن جب تک ضرورت نہیں ہے، نرمی سے کام ہو سکتا ہو، تو پھر کیوں سختی کرنی چاہیے؟ پھر سختی کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ سے بھی اللہ پاک نے فرمایا اگر تو سخت ہوتا تو لوگ تیرے ساتھ نہ بیٹھتے، تیرے ساتھ نہ بیٹھتے۔ تو جب آپ ﷺ کے لیے فرمایا گیا تو باقی لوگوں کے لیے بھی یہی بات ہے۔ تو اس وجہ سے سختی کی ضرورت کے وقت بے شک سختی ٹھیک ہے، لیکن جب نرمی سے کام نکل سکتا ہو تو پھر سختی نہیں کرنی چاہیے۔


                    پہلے سے آزار کا حکم دریافت کرنا جان بچانے کی تدبیریں ڈھونڈنا ہے۔

                    فرمایا: اگر کوئی کہے کہ ہم کسی کو نصیحت کرتے ہیں تو وہ برا مانتا ہے، ناک منہ چڑھاتا ہے اور ہمارے درپے آزار ہو جاتا ہے، تو کیا پھر بھی امر بالمعروف کریں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ امر بالمعروف شروع کر دیں، جب کام شروع کرے گا، گاڑی اٹکے گی، اس وقت استفسار کر لینا، ابھی سے آزار کا حکم دریافت کرنے کا آپ کو حق نہیں ہے۔ بلکہ اس وقت آزار کا حکم دریافت کرنا گویا جان بچانے کی تدبیریں ڈھونڈنا ہے۔

                    واقعتاً میں نے دیکھا ہے۔ میں آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہوں، چھوٹا سا واقعہ ہے جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ خود... اس وجہ سے میں اس کا راوی بھی ہوں، گواہ بھی ہوں۔ مری ہم گئے تھے، وہاں پر علمائے کرام کے ساتھ میراث پڑھانے کے لیے کوئی meeting تھی۔ کہ میراث پڑھانا چاہیے۔ تو meeting ہو گئی۔ اس کے بعد واپسی ہو رہی تھی، میرے پاس تو گاڑی نہیں تھی، میں تو ویسے public transport پہ گیا تھا۔ تو ایک مہتمم صاحب تھے مدرسے کے، بارہ کہو کے، تو انہوں نے مجھے lift دے دی کہ آپ کو میں ساتھ لے جاؤں گا۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ بڑی اچھی بات ہے۔ علماء کی صحبت میں ویسے بھی بیٹھنا اچھی بات ہے تو یہ تو گاڑی میں بھی مل رہی تھی۔

                    تو خیر بہرحال یہ ہوا کہ میں ساتھ بیٹھ گیا۔ راستے میں ہم بات چیت کرتے رہے۔ تو مہتمم صاحب مجھے فرمانے لگے کہ شبیر صاحب، آپ کے بڑے اچھے خیالات ہیں، بہت اچھا آپ نے کام کیا ہے، اور یہ واقعی بہت اچھی کوشش ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس سے فائدہ نہیں ہوگا۔ میں نے کہا حضرت کیسے فائدہ نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا لوگ میراث دیتے ہی نہیں۔ تو پھر کیوں فائدہ ہوگا اس سے، لوگ میراث دینے کے لیے تیار ہی نہیں؟ میں نے ان سے کہا کہ حضرت، میں بوجوہ آپ کے ساتھ اس میں اختلاف کر رہا ہوں۔ کہتے کیوں؟ میں نے کہا دیکھو آپ ایک دینی ادارے کے سربراہ ہیں اور میں ایک دنیاوی ادارے کا ملازم ہوں۔ الحمدللہ اپنے دنیاوی ادارے میں، میں نے پندرہ پندرہ منٹ روزانہ کے درس میں، پندرہ دن میں الحمدللہ میں نے میراث پڑھا لی۔ اور اس کا اثر یہ ہوا کہ کئی لوگوں نے میرے ہاتھوں سے میراث تقسیم کر لی۔ خود ہی بتا رہے ہیں کہ آپ ہمارا بھی تقسیم کر لیں، ہمارا بھی تقسیم کر لیں، ہمارا بھی تقسیم کر لیں۔ ایک دنیا دار ادارہ ہے۔ کوئی اس میں وہ والی بات نہیں کہ قَالَ اللّٰهُ اور قَالَ الرَّسُوْلُ کی باتیں روز و شب ہو رہی ہوں، یہ دنیاوی ادارہ ہے، لوگ اس کے لیے آتے ہیں۔

                    تو اب مجھے آپ بتائیے کہ میرے سامنے تو یہ نتیجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دکھایا ہے کہ جو کام شروع کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں باقاعدہ اتنی برکت دی کہ کئی لوگوں نے سیکھ بھی لیا اور ساتھ ساتھ عمل بھی کر لیا۔ میں اب آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا کبھی آپ نے منبر کے اوپر میراث کے بارے میں کچھ وعظ کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر آپ کیسے لوگوں سے توقع رکھ سکتے ہیں؟ آپ نے تو اپنا کام کیا نہیں۔ اگر آپ کام کرتے اور پھر نہ ہوتا، تو پھر آپ کا شکوہ کچھ نہ کچھ وزن رکھتا تھا۔ اب تو آپ نے وہ کام کیا ہی نہیں ہے تو آپ کیسے شکوہ کر سکتے ہیں؟

                    دوسری بات، قبر کے اوپر جو مسئلے کرتے ہیں تو آپ بھی کئی دفعہ قبر کے اوپر مسئلہ کر چکے ہیں۔ کبھی آپ نے کوئی اس قسم کا میراث کا مسئلہ بتایا ہے؟ میں تو جب بھی جاتا ہوں، اگر کچھ کوئی مجھ سے کہتا ہے تو میں تو پہلے بات ہی یہی کرتا ہوں کہ بھئی مجھے بتاؤ ان کے ورثاء کون کون، کتنے ہیں، اور کیا ہیں؟ ان کا حساب کرکے میں باقاعدہ اس وقت اعلان کر دیتا ہوں کہ یہ یہ مسئلہ ہے اور اس پر عمل کر لو۔ تو میں نے کہا یہ تو ہونا چاہیے۔ تو اب مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے تو بتایا نہیں اور شکوہ کر رہے ہیں کہ لوگ مانتے نہیں ہیں۔ تو یہ تو غلط ہوا۔ اس پر حضرت خاموش ہو گئے۔

                    مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو، یہ والی بات ٹھیک نہیں ہے کہ پہلے ہی سے assume کیا جائے کہ یہ کام لوگ نہیں کرتے یا یہ لوگ نہیں مانتے یا یہ لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ آپ اگر آپ اس بات کو جانتے ہیں کہ لوگ ناراض ہوتے ہیں، آپ کوئی ایسا طریقہ devise کر لیں کہ ناراض نہ کرنے والا ہو۔ اب دیکھو یہ بھی تو طریقہ ہے نا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا، بچے تھے، ایک بڑے میاں ساتھ وضو فرما رہے تھے۔ وضو غلط کر رہے تھے۔ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: "حضرت! میں اپنے وضو کے بارے میں ذرا سوچتا ہوں کہ وہ ٹھیک ہو جائے۔ تو اگر آپ میرا وضو دیکھ لیں، تو اچھا نہیں ہوگا ذرا مجھے پتہ چل جائے کہ میں ٹھیک وضو کر رہا ہوں یا نہیں کر رہا؟" انہوں نے کہا: "اچھا ٹھیک ہے، کر لو"۔ انہوں نے ماشاءاللہ پورا تفصیل کے ساتھ جیسے خاندانِ نبوت تھا ظاہر ہے، وہ جو وضو کرنے کا طریقہ تھا اس کے مطابق ہر چیز اس کے مطابق کر لی۔ تو اس بڑے میاں نے کہا کہ: "بیٹا آپ کا وضو ٹھیک ہے، میرے وضو میں غلطی ہے۔ ان شاءاللہ میں آئندہ ٹھیک کر لوں گا!" اب کیسے خوبصورت طریقے سے بتایا!

                    اب اس میں ناراضگی کا کیا تک بن سکتا ہے؟ تو یہی بات ہوتی ہے کہ وہ جو ہے نا... جیسے تبلیغ والے کرتے ہیں، ماشاءاللہ یہ جب بیٹھے ہوتے ہیں، کہتے ہیں: "چلیں جی مذاکرہ کرتے ہیں، سورتیں پڑھتے ہیں"۔ تو سورتیں پڑھتے ہیں، ہر ایک جس کو آتا ہے وہ بھی پڑھ لیتا ہے، جس کو نہیں آتا وہ بھی پڑھ لیتا ہے۔ پتہ چل جاتا ہے کہ جو ہے نا مطلب ہے کہ کون صحیح ہے۔ جس کا صحیح نہیں ہوتا اس کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ میری غلطی یہ ہے۔ چلیں بعد میں ٹھیک کر لے گا نا، لیکن پتہ تو اس وقت چل گیا نا۔ تو اصل میں یہی والی بات ہوتی ہے کہ اگر طریقے سے بات ہو جائے تو یہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ پہلے سے یہ بات کرنا کہ نہیں ہوگا اس سے فائدہ، یا فلاں مسئلہ ہوگا، فلاں مسئلہ ہوگا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔


                    تبلیغ میں ابتداءً شفقت کا امر ہے۔

                    انبیاء علیہ السلام کو ابتداء میں شفقت کا امر ہے اور انتہائی ناامیدی کے بعد قطعِ شفقت کا حکم ہے۔ اس میں راز یہ ہے کہ ابتداءً میں شفقت نہ کرنے سے خود تبلیغ کا کام اٹکتا ہے، اور ناامیدی کے بعد حزن کرنے سے تبلیغ کی ترقی رکتی ہے۔ کیونکہ اب حزن کرنے سے مبلّغ کی ہمت پست ہو جائے گی، اس وقت اس کو یہ تعلیم ہے کہ ہدایت تمہارے قبضے میں نہیں، بلکہ خدا کے قبضے میں ہے۔ پس تم اپنا کام کرو، تمہارا ثواب کہیں نہیں گیا، اور جو کام خدا کا ہے اس کو خدا کے سپرد کرو۔ "کارِ خود کن، کارِ بیگانہ مکن"۔ اب اس تعلیم سے اس کا دل بڑھے گا اور برابر تبلیغ کرتا رہے گا۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں مبلّغ کو صبر و استقلال کا حکم ہے کیونکہ تبلیغ میں بعض دفعہ ناگواریاں پیش آتی ہیں۔ اگر صبر و استقلال سے کام نہ لیا، تو تبلیغ دشوار ہو جائے گی۔


                    تبلیغ جو ہے، اصل میں ایک ایک ضروری کام ہے۔ اس کو کرنا چاہیے۔ ابتداءً تو بڑی نرمی کے ساتھ، شفقت کے پہلو کو سامنے رکھ کے، اور انسان کے دل میں بڑا جذبہ ہو کہ ان تک یہ بات پہنچ جائے، اس طرح کرنا چاہیے۔ لیکن پھر جب ناگواریاں پیش آتی ہیں اور مشکلات پیش آتی ہیں تو انسان ہمت ہارنے لگتا ہے کہ یہ تو لوگ مانتے نہیں، یہ نہیں کرتے، وہ نہیں کرتے۔ تو اس وقت اس کو بتایا جاتا ہے کہ بھئی تمہارے ذمے آپ کا کام ہے بتانا، اس کے بعد لوگوں کا لینا نہ لینا، یہ تمہارے ذمے نہیں ہے۔ لہٰذا اگر کسی کو بھی فائدہ نہیں ہوا، تو کوئی پرواہ نہ کرو۔ اسباب کے رخ سے سوچ سکتے ہو کہ میری کون سی غلطی ہے جس کی وجہ سے کام نہیں ٹھیک ہو رہا؟ اسباب کی نظر سے تو سوچو، لیکن نتیجے کے اعتبار سے نہ سوچو۔ کیونکہ ہمارے ذمے یہ کام نہیں ہے کہ ہم لوگوں کو ہدایت دیں۔ ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے۔ باقی یہ ہے کہ انسان کو طریقہ ایسا اختیار کرنا چاہیے۔

                    میرے سامنے وہاں Germany میں ایک لڑکا کو لایا گیا، جرمن لڑکا تھا یہاں، اس کا نام تھا۔ تو ترک حضرات لے آئے کہ یہ مسلمان ہونا چاہتا ہے، لیکن اس کو کچھ مشکلات ہیں، کچھ مسائل ہیں، وہ آپ سے discuss کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، بتائیں۔ میں نے کہا کیا مسئلہ ہے؟ کہتا ہے میں اگر مسلمان ہو گیا تو میں سارے family سے کٹ جاؤں گا اور میرے پاس اس قسم کا وہ نہیں ہے نظام تو اس وجہ سے میں مسلمان نہیں ہو پا رہا، کیونکہ مسلمانی میں میرا پورا society نظام سارا میرے against ہو جائے گا۔ اب دیکھو رکاوٹ کون سی چیز تھی اس کے لیے، کہ میں اپنے اس سے کٹ جاؤں گا؟ اب تھوڑا سا اس بات کو سوچو کہ اگر آپ کو دو راستوں میں ایک اختیار کرنا ہو، تیسرا راستہ کوئی نہ ہو، کہ گناہِ کبیرہ اور کفر، ان میں کون سا اختیار کرے گا کوئی؟ گناہِ کبیرہ کرے گا نا، کیونکہ مجبوری ہے۔ کیونکہ کفر سے گناہِ کبیرہ کم ہے۔ کبھی تو چلا جائے گا نا ان شاءاللہ جنت میں۔ میں نے اسے کہا کہ دیکھیں دو قسم کے مسلمان ہوتے ہیں ہمارے ہاں۔ ایک ہوتے ہیں صاحبِ عزیمت مسلمان، جو کہتے ہیں ہم مر بھی جائیں پھر بھی کام صحیح کریں گے، شہید بھی ہو جاتے ہیں۔ تو میں نے کہا صاحبِ عزیمت مسلمان بھی ہوتے ہیں، اور رخصت والے مسلمان بھی ہوتے ہیں۔ گزارا لائق، بس وہ لگے رہتے ہیں، کچھ نہ کچھ کرتے ہیں، کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔ میں نے کہا ایسے بھی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ بھی کافروں سے اچھے ہیں۔ وہ بھی کافروں سے اچھے ہیں۔ تو میں نے کہا اگر وہ صاحبِ عزیمت مسلمان آپ نہیں بن سکتے تو چلو وہ رخصت والا مسلمان بن جاؤ۔ اس نے کہا وہ کیسے۔ میں نے کہا بھئی بات یہ ہے کہ تم مسلمان جب ہو، جب تنہا ہو تو نماز پڑھ لیا کرنا چپکے سے، اور اگر حالات نہ ہوں تو توبہ کر لیا کرنا۔ اور اس طریقے سے اپ کا گزارا پھر اللہ پاک سے مانگ لیا کرنا، تو اللہ پاک اپ کے لیے راستے ان شاءاللہ کھولیں گے۔ کہتا ہے پھر تو میں مسلمان ہوتا ہوں۔ میں نے کہا بس ٹھیک ہے مسلمان ہو جاؤ۔ اب دیکھو اس کا راستہ الحمدللہ بن گیا نا۔

                    تو یہ جو چیز ہوتی ہے، مطلب جس وقت جس چیز کی ضرورت ہو، تو اس کو اختیار کرنا، تو اس میں بھی یہی والی بات ہے کہ ابتداءً میں شفقت کا امر ہے، بعد میں اس کو دیکھنا ہے کہ بھئی کام کرنے والا تو اللہ کی ذات ہے، تم نہیں ہو۔


                    امر بالمعروف میں فوتِ مصلحت عذر نہیں۔ فرمایا: ترکِ تبلیغ کے لیے محض ناگواری مخاطب عذر نہیں ہے۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں: أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَن كُنتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ کیا تم کو نصیحت کرنے سے پہلو تہی کریں کہ تم لوگ حد سے نکلنے والے ہو؟ حالانکہ حق تعالیٰ کے ذمے تو امر بالمعروف واجب نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے کہ ان پر کوئی بات واجب ہو۔ پس یاد رکھیے امر بالمعروف کے لیے عذر صرف یہ ہے کہ لحوقِ ضرر کا اندیشہ ہو، اور ضرر بھی جسمانی، محض فوتِ منفعت عذر نہیں ہے۔ کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے بےگانہ ہے اگر اس کو احکامِ الہی کی تبلیغ ناگوار ہو تو ہماری جوتی سے، ہم تبلیغ سے کیوں رکیں؟ پس ہم کو خدا پر نظر رکھنا چاہیے اور صرف اس کی رضا کا طالب ہونا چاہیے چاہے تمام عالم ناراض ہو جائے۔ بس تمام عالم سے کہہ دو کہ ہم نے ایک ذات سے علاقہ جوڑ لیا ہے، جو اس سے ملے وہ ہمارا دوست، اور جو اس سے الگ رہے وہ ہم سے الگ ہے۔

                    یہاں پر اصل میں ایک بات حضرت نے بتائی ہے کہ بہت سارے لوگ صرف دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے، جس میں صرف جلبِ منفعت نہیں ہوتی، مثلاً آدمی کہتا ہے جی یہ آدمی مجھ سے پھر سودا نہیں لے گا، میرا PR خراب ہو جائے گا، میرا یہ ہو جائے گا، فلاں مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ یہ، ان وجوہات سے تبلیغ نہیں کرتے۔ تو یہ چیز ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں ایسا ہو کہ مطلب ظاہر ہے اس قسم کا ضرر ہو جس سے جسمانی ضرر ہوتا ہو، تو اس وقت تو اپنے ایمان کو چھپانا بھی کی بھی اجازت ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آدمی pistol مطلب وہ رکھ دے کنپٹی پر، اور کہے کہ تم نعوذ باللہ من ذالک ایسے الفاظ کہہ دو، تو اس وقت اگر کسی نے کہہ دیا تو وہ کافر نہیں ہوگا۔ لیکن اگر نہیں کہا، تو عزیمت والی بات ہے، اگر شہید ہو گیا تو شہادت تو ہے۔ لیکن یہ والی بات ہے کہ جو ہے نا مطلب ایسی صورت میں اگر کسی نے اپنی جان بچانے کے لیے اس قسم کی بات کی تو وہ مجرم نہیں ہوگا۔

                    تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اب یہ والی بات ہے کہ یہ جو ہے نا، یہ جسمانی ضرر بھی نہیں ہے، صرف ایک نفسیاتی ضرر ہے۔ نفسیاتی طور پر انسان کو تکلیف ہو جاتی ہے، بھئی اس کے لیے پھر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ لیکن میں آپ کو ایک بات بتاؤں، اللہ بہت غیرتی ہے، بہت زیادہ غیرتی ہے۔ جس نے اللہ کے لیے اپنے ذات کو... ذات کی پرواہ کرنا چھوڑ دیا۔ تو جس چیز سے وہ ڈر رہا ہے، اللہ تعالیٰ اس ڈر سے اس کو نکال لے گا۔

                    کہتے ہیں ایک دفعہ انگریز army تھی۔ تو ایک major تھے، وہ جو یہ parade، exercise وغیرہ ہوتی ہے اس میں... exercise، اس پہ لگایا ہوا تھا army والوں کو۔ تو روزے تھے، رمضان شریف تھا۔ کچھ لوگوں نے روزے رکھے تھے، کچھ نے نہیں رکھے تھے۔ تو اس انگریز major نے پوچھا کہ کن کن کا روزہ ہے؟ تو جن کا نہیں تھا، مسلمان تھے، تو بڑے شوق سے اٹھ کھڑے ہو گئے کہ چلو جی ہم مان ہی گئے، کہ ہمیں تو برا نہیں کہیں گے۔ تو انہوں نے کہا جی ہمارا روزہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا آپ اس طرف کھڑے ہو جائیں۔ بھئی جن کا روزہ ہے؟ جی آپ اس طرف کھڑے ہو جائیں۔ تو پھر جب سب مکمل ہو گیا، تو انہوں نے کہا بھئی جن کا روزہ ہے وہ baracks میں چلے جائیں ارام کر لیں، اور باقی جن کا روزہ نہیں وہ کام کریں۔ ان کے لیے سہولت کیوں؟ ظاہر ہے ان کے تو روزے نہیں ہیں۔ تو الٹا پڑ گیا ان کو۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے ایک نظام ہے۔ یعنی جس کو ہم سمجھتے ہیں کہ بھئی اس سے نقصان ہو جائے گا، اس سے اللہ تعالیٰ فائدہ پہنچا دیتے ہیں۔ تو ہوتا یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بھی، حالانکہ بہت گیا گزرا معاشرے، معاشرہ ہے، اس کے باوجود بھی جو لوگ اصولوں پر ڈٹ جاتے ہیں اور کام شروع کر لیتے ہیں، ابتداء میں تکلیف ہوتی ہے، ابتداء میں مخالفت ہوتی ہے، اور ڈٹ کے مخالفت ہوتی ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگوں پہ کھلنے لگتا ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو موڑنے لگتا ہے، تو آہستہ آہستہ آہستہ آہستہ ان کے دل سمجھنے لگتے ہیں کہ بھئی بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ تو پھر آہستہ آہستہ اپنے دل میں پہلے چھپا ہوا محبت کا رکھ لیتے ہیں کہ بھئی یہ واقعی آدمی یہ ٹھیک ہے۔ اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ کبھی بولنے بھی لگتے ہیں کہ بھئی بات تو ان کی ٹھیک ہے۔ تو یہ، یہ جو چیز ہے آہستہ آہستہ پھر اللہ تعالیٰ ان کو بالکل کھول لیتے ہیں، اور پھر وہی لوگ جو مخالفت کرتے ہیں، وہ پھر پانی لاتے ہیں جی دم کر لیں میرے لیے، یہ دعا کر لیں میرے لیے یہ... ساری چیزیں پھر وہی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ہم نے دیکھا ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یعنی پہلے جو مخالفت، ڈٹ کے مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں، وہ اپ کے پاس ائیں گے جی اپ میرے لیے دعا کریں اور اپ جو ہے نا مطلب یہ کریں۔ گویا انہوں نے دل سے مان لیا تھا نا کہ اچھا تو یہ ہے۔ وہ صرف ظاہراً اپنے بعض مفادات کی وجہ سے ٹکراؤ تھا، تو اس کی وجہ سے نہیں مان رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہو گیا، پتہ چل گیا کہ بھئی اصل میں تو مان یہی رہے تھے۔

                    ابتداء میں تبلیغ اعمال اخلاق کے پیرائے میں ہونی چاہیے۔ فرمایا: نصیحت کا قاعدہ یہ ہے کہ مصلح اپنے اوپر مشقت ڈالے اور مخاطب کو آسان طریقے سے سمجھائے، اور ابتداء میں تالیفِ قلب کرے اور انتہا میں صفائی سے کام لے۔ یعنی مسئلہ کو صاف صاف بیان کر دے، گول مول نہ بیان کرے۔ ابتداء میں ترغیب اعمال اخلاق کے پیرائے میں دینا چاہیے تاکہ مخاطب کو گرانی اور وحشت نہ ہو۔ مثلاً اس طرح کہ نفس کو پابند کرنا اور آزادی سے روکنا اور اس میں استقلال و پختگی پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ ورنہ انسان اور جانور میں کیا فرق ہے؟ مردانگی اس میں ہے کہ انسان اپنے نفس پر قابو یافتہ ہو، نفس کا تابع فرمان نہ ہو، اور نفس کو تباہ کرنے والی چیز تکبر ہے۔ انسان کو تواضع اور عاجزی اختیار کرنا چاہیے۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے بڑی عظمت والے کی عظمت کو اس کے پیشِ نظر رہے، اسلام نے اس کے لیے پانچ وقت کی نماز مقرر کی ہے، جس کو باقاعدہ ادا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا نقش اس کے دل پر جم جاتا ہے۔ دوسری تباہ کرنے والی چیز نفسانی خواہشوں کی حرص ہے، مثلاً کھانے پینے اور عورتوں سے مخالطت کرنے کی حرص۔ اس کے لیے اسلام نے روزہ فرض کیا ہے۔ تیسری مہلک شے حبِ مال ہے، اس کے لیے اسلام نے زکوٰۃ فرض کیا ہے۔ اسی طریقے سے...

                    مطلب ذرا logical انداز میں، شفقت کے پیرائے میں، بہتر طریقے سے لوگوں کو وہ چیز بتا دیا جائے، تو ٹھیک ہے، اگر مانیں گے نہیں تو کم از کم کسی نہ کسی درجے پہ غور کر لیں گے، یاد رہیں گی، اور مخالفت ذرا... مطلب مخالفت سے بچیں گے۔ بلکہ سمجھیں گے کہ بھئی ہم لوگ کمزور ہیں کہ ہم اس پہ عمل نہیں کر رہے۔ تو اس طرح ہو جائے گا۔ تو بہتر طریقے سے انسان بات کر لے۔

                    اخلاق کے پیرائے میں نصیحت کرنا ایسا ہے جیسے مٹھائی میں quinine دینا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کے واسطے بھی یہی تدبیر کرتے ہیں کہ مٹھائی میں quinine کو لپیٹ کر دیتے ہیں۔ اس لیے حکم ہے کہ حکمت کے ساتھ دعوت کرنے کا اور اخلاص کے پیرائے میں اعمال کی ترغیب دینے کا۔

                    مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ کوئی سخت بات ہوتی ہے اس کے لیے۔ مثلاً سود چھوڑنا۔ سخت بات ہے۔ اب جو سود میں مبتلا ہے اس کو سود سے ہٹانا اسان بات تو نہیں ہے۔ اب اس کے لیے اپ اس کے لیے جتنا بھی کام کریں گے وہ اس کے لیے quinine کی طرح ہے۔ یعنی اس کو اگر react نہیں کرتا، تو یہ اس کی ہمت ہے، کیونکہ quinine سے تو منہ تو کڑوا ہوتا ہے نا، شکل تو بگڑتی ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو اپ ایسی باتیں بتائیں گے تو طبیعت پہ تو بوجھ ائے گا، باتیں تو کریں گے۔ لیکن پہلے سے اپ base بنا لیں۔ اس لیے quinine پڑی ہوئی ہو تو اس کو short-hearted بنا لیتا ہے، اتنا تنگ دل بنا لیتا ہے کہ وہ ان کی باتوں کے اندر ہی ذرا چبھن، چبھن، چبھن سی ہوتی ہے۔ وہ جیسے خنجر چل رہے ہوں، بھئی یہ تم کیوں کر رہے ہو؟ یہ کیوں کر رہے ہو؟ یہ کیوں؟ خدا کے بندے بھئی اپ کے چبھن سے کام خراب ہو رہا ہو، تو اپ جس کام کو کر رہے ہیں، اس کو خراب کر رہے ہو۔ بھئی تمہارا ضرر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا، وہ علیحدہ بات ہے لیکن اس کا ضرر ہو رہا ہے۔ اس کو نقصان ہو رہا ہے۔ کیونکہ ظاہر ہے مطلب اس کو صحیح طریقے سے بات نہیں پہنچی۔ تو اپ کم از کم اس کا خیال رکھیں۔ بھئی اپ اپنے ذمے پہ اگر ذمہ داری لے ہی رہے ہیں، تو جس چیز کی اپ ذمہ داری لے رہے ہیں اس کو صحیح طریقے سے کرو نا! تو اس وجہ سے جو خطابِ خاص ہے یہ ہر ایک کا کام نہیں ہے۔

                    خطابِ عام کر سکتا ہے۔ جیسے ہماری تبلیغی جماعت کے حضرات کے لیے یہ standing instructions ہیں۔ standing instructions ہیں۔ ابھی بھی میرے خیال میں رائیونڈ سے یہی ہوں گی، اگرچہ میں کافی عرصے سے نہیں گیا ہوں، لیکن میرے خیال میں یہی ہوں گی، جو گئے ہیں وہ میرا تصدیق کریں یا تردید کریں، کہ چھ نمبر سے زیادہ ان کو اجازت نہیں ہے۔ کہ چھ نمبر پر بات کریں گے اس سے آگے پیچھے نہیں بولیں گے۔ کیوں نہیں بولتے؟ ان کو اجازت نہیں ہے؟ وجہ یہ ہے کہ چھ نمبر design کرنے میں انہوں نے بڑی غور و فکر سے کام لیا کہ اگر چھ نمبر پہ کوئی رہتا ہے تو اس سے کوئی شر نہیں پھیلے گا۔ اس سے لوگوں کو فائدہ ہوگا، اور مطلب ظاہر ہے اسانی کے ساتھ وہ چیزیں ہضم کر سکیں گے، وہ فضائل کا بھی ایک set ہے، مسائل کا بھی ایک set ہے۔ اس میں جو ہے نا، بس موٹی موٹی سی باتیں ہیں جس سے جو ہے نا ذرا تھوڑا سا دل نرم ہو جائے، تھوڑا سا عمل کی طرف توجہ ہو جائے، تھوڑا سا سیکھنے کا ایک رجحان پیدا ہو جائے۔ یہی جو ہے نا مطلب یہ کہ چھ نمبر کی حکمت ہے۔ اب اگر یہ چھ نمبر سے آگے میں بڑھتا ہوں، تو اس میں ایک دعویٰ ہے کہ میں عالم ہوں۔ کیونکہ علماء کا ایجاد ہے۔ تو اس میں دعویٰ ہے کیا؟ کہ میں عالم ہوں۔ اور اگر تربیت بھی کرنا شروع کر لے تو اس میں دعویٰ ہے کہ میں شیخ ہوں۔ تو جب عالم نہ ہو یا شیخ نہ ہو، اور دعویٰ کوئی کر رہا ہو، تو اس دعوے کو کیا کہیں گے؟ جھوٹ کہیں گے نا؟ تو بتاؤ تبلیغ میں جھوٹ جائز ہے؟ یہی اصل میں بنیادی بات ہے۔ تو اگر اس طرح مطلب ادمی کر لے، کہ جو بزرگوں نے طریقہ بتایا ہے کہ بھئی چھ نمبر سے ہم نے آگے نہیں نکلنا، بس کرو۔ الحمدللہ اللہ تعالیٰ اس کا فائدہ نصیب فرمائے، ہاں جی دعائیں بھی کرو اور فکر بھی کر لو اور جو ہے نا اللہ تعالیٰ سے مانگو، اور یہ ہے کہ اپنی بات کو اچھی طریقے سے پیش کر لو۔ اب تو یہ حالت ہے، مجھے معاف کرے اللہ تعالیٰ کہ، اس وقت اتنا نفس بڑا ہو گیا کہ اپنے بزرگوں کی باتیں انسان نہیں پیش کرنا چاہتا۔ فضائلِ اعمال سامنے ہوگا، لیکن باتیں کون سی کریں گے؟ اپنی کریں گے۔ فضائلِ اعمال سے نہیں کریں گے۔ فضائلِ اعمال سے صرف قرآن کی آیت، اس کا ترجمہ بتا دیں گے، حدیث شریف اس کا ترجمہ بتائیں گے۔ پھر ساری بات اپنی کریں گے۔ اس میں یہ دعویٰ ہے کہ میں حضرت شیخ سے زیادہ جانتا ہوں۔ اب بتاؤ! اس سے کیا مسئلہ ہوگا؟ اس سے فائدہ ہوگا؟ نقصان ہوگا نا! اور بہت بڑا نقصان ہوگا، اپنے بزرگوں سے کٹ جائے گا۔ برکت ختم ہو جائے گی۔

                    ایک دفعہ زید کاکا صاحب سے میں آ رہا تھا، اپنے رشتہ داروں کے ہاں، وہاں مغرب کے بعد گاڑیاں نہیں ملتیں۔ مشکل ہو جاتی ہے۔ مل بھی جاتی ہیں تو ذرا تنگ ہوتا ہے ادمی۔ خیر، میں نے اجازت مانگ لی کہ میں نے جانا ہے پہنچنا ہے۔ اس وجہ سے۔ بڑا روکا انہوں نے لیکن میں نہیں رکا۔ راستے میں میری نماز آ گئی۔ اس دن گشت ہوا تھا مسجد میں۔ گشت والوں نے مجھے کہا کہ... حالانکہ میں نہ اس میں گشت میں شامل تھا، نہ جو ہے نا مطلب اس میں... تو جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ بیان آپ کریں گے۔ خیر بہت جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ میں نے منع کیا کہ میں، کہ میں جا رہا ہوں بھئی میں راستے میں ہوں، اپ لوگوں نے گشت کیا اپ خود کریں۔ لیکن انہوں نے مانا نہیں۔

                    آخر میں مختصر طور پہ میں نے بات کی، میں نے یہی باتیں ان کو بتائیں پھر۔ بہت خوش ہو گئے، الحمدللہ کہتے ہیں آپ نے... اپ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ہمارے لیے کہ آپ نے یہ ساری باتیں بتائیں۔ اور انشاءاللہ ہم اس پر عمل کریں گے۔ اچھی بات ہے۔

                    ایک اور جگہ میں گیا۔ مجھے بزرگوں نے کہا جو اس وقت تبلیغی جماعت کے تھے، کہ آپ تعلیم کریں۔ میں نے کہا نہیں جی، اپ کریں جی، میں تو مہمان ہوں۔ کہتے ہیں نہیں، ہم آپ سے سننا چاہتے ہیں، اپ کریں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں نے فضائلِ اعمال میں سے فضائلِ تبلیغ میں فصلِ اول جو ہے اس کا بالکل پہلا صفحہ شروع کیا۔ پہلا صفحہ۔ اور اس میں وہ قران کی آیت پڑھی، پھر اس کا ترجمہ پڑھا، پھر جو حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے فائدہ لکھا تھا، وہ پڑھنا شروع کیا۔ وہ یہ تھا، مجھے ابھی تک یاد ہے۔ حضرت نے فرمایا اس میں جو ہے نا، وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اس آیت کے ذیل میں حضرت نے فرمایا، کہ مؤذنین اذان کے ذریعے سے دعوت دیتے ہیں، اور علماء دلائل سے دعوت دیتے ہیں، مجاہدین تلوار سے دعوت دیتے ہیں، اور مشائخ جو اعمالِ قلب کی طرف دعوت دیتے ہیں، یہ بھی دعوت، دعوت الی اللہ ہے۔

                    آگے جا کر اور باتیں شروع کیں۔ اب میں جب کہنے لگا تو وہ مجھے اس طرح گھور گھور کے دیکھ رہے ہیں، میں کہاں سے پڑھ رہا ہوں؟ یہ بات کبھی انہوں نے سنی نہیں ہوگی۔ وہ سمجھے کہ شاید یہ اپنی طرف سے کچھ کہہ رہا ہے۔ تو جب میں نے ان کو ذرا گھورتے دیکھا تو میں نے کہا، یہ آپ پڑھ لیں۔ کہتے ہیں کیوں؟ میں نے کہا نہیں، یہ آپ پڑھیں۔ اس میں خیر ہے۔ کہتے ہیں نہیں، آپ ہی پڑھیں۔ میں نے کہا بھئی اب، اب تو آپ ہی پڑھیں گے۔ اب تو آپ ہی پڑھیں۔ میں نے کہا یہ لے لو۔ ان سے میں نے پڑھوائی۔ جب پڑھوائی نا، تو میں نے کہا، دیکھو، میں نے قصداً یہ پڑھی تھی۔ اس لیے قصداً پڑھی تھی کہ آپ نے اتنا عرصہ یہ کیا ہوگا تعلیم۔ الحمدللہ روزانہ تعلیم ہوتا ہوگا آپ کے ہاں، تعلیم کیا ہوگا۔ اور یہ فضائلِ اعمال کے فضائلِ تبلیغ کا فصلِ اول ہے۔ تو اس سے بھی ضرور گزرے ہوں گے۔ لیکن یہ جو فائدہ ہے، اس فائدہ بیان کرنے کی اپ کو کبھی توفیق نہیں ملی ہوگی۔ تو اب مجھے بتاؤ، کہ آپ لوگوں نے اچھا کیا یا غلط کیا؟ اب سب نے سر جھکا لیا۔ کہتے ہیں، یہ تو غلط ہے۔ میں نے کہا یہ غلطی میں نکالنا چاہتا تھا۔ میں نے کہا، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ بزرگوں نے اگر کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو، تو یہ ہمارے لیے نور ہے۔ اس نور سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمارے دلوں کے اندر تو ظلمتیں ہیں۔ ہم جب باتیں کریں گے، تو اس کے ساتھ ہمارے دل کی ظلمتیں باہر ائیں گی، لوگوں کو نقصان پہنچائیں گی۔ اور بزرگوں نے جو اپنے اخلاص سے جو باتیں کیں، اور ہمارے امراض کے مطابق مطلب جو ہے نا باتیں کی ہیں، تو یہ ہمارے لیے نور ہے، اس نور سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تو میں نے کہا جی انشاءاللہ العزیز ہم ائندہ ایسے ہی کیا کریں گے۔

                    مقصد میرا یہ ہے، دیکھیں، کہ یہ جو ہے نا، یہ اتنا بڑا کام ہے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نصیب فرمایا ہے، یہ ضائع نہ ہو جائے۔ یہ ضائع نہ ہو جائے۔ اس کے لیے دل سوزی کی بھی ضرورت ہے۔ ہاں جی، اور ذرا مطلب دعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ ہر چیز میں ہمارا نفس اڑے آ جاتا ہے نا۔ نفس ہے ہمارا! یہ بھی تو شوق ہے کہ میں بیان کر لوں! مجھے بتاؤ، اس میں نفس ہے یا نہیں ہے؟ اس میں بھی نفس ہے۔ پھر میں خود اپنی بات کر لوں، بزرگوں کی بات چھوڑوں، یہ بھی تو نفس کی بات ہے۔ پیروں کو میں کہوں، بھئی یہ کون ہیں، یہ تو صحیح نہیں کر رہے، میں اس طرح صحیح کر سکتا ہوں، یہ بھی نفس کی خواہش ہے۔ میں علماء کے ساتھ ٹکر لے لوں، بھئی یہ کیا، اس کو تو دین کا تو سمجھ ہی نہیں آئی، تو یہ بھی مسئلہ ہو جائے گا۔ اب یہ ساری باتیں نفس کی ہیں۔ اسی نفس کی اصلاح کی تو فکر ہے۔

                    تو ہم اکثر کہا کرتے ہیں جماعت کے ساتھیوں کو کہ ماشاءاللہ آپ کی جماعت میں ماشاءاللہ مشائخ موجود ہیں۔ جماعت میں ہی مشائخ موجود ہیں، الحمدللہ ہم جانتے ہیں، کافی حضرات کو جانتے ہیں۔ تو اپنے جماعتی کے مشائخ سے اپنی اصلاح کرواؤ۔ اپنی انفرادی اصلاح کے لیے کوئی نظام بناؤ نا! ان میں سے کسی سے اپنا اپنے آپ کو متعلق کر دو، بیعت کر لو، پھر چلتے رہو۔ جماعت میں اصلاح بھی ہوتی رہے گی اور ماشاءاللہ کام بھی ہوتا رہے گا، مجاہدہ بھی ہوتا رہے گا۔

                    حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا۔ فرمایا کہ جماعت میں چلنا پھرنا اپ کے لیے مجاہدۂ نفس ہے اور جو ہمارا ذکر کا طریقہ ہے، یہ اپ کے لیے ذکر ہے۔ اور ان دونوں سے ایک سے قلب کی اصلاح ہوتی ہے ایک سے نفس کی اصلاح ہوتی ہے۔ ماشاءاللہ دونوں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ اب کتنی اچھی بات ہے! اب اگر کسی سے کوئی بیعت ہو اور وہ اس سے ذکر لے اور ذکر کرتا رہے، تو مجاہدۂ نفس تو موجود ہے نا، تو مجاہدہ اس کے لیے سونے کا، ماشاءاللہ سہاگہ بن جائے گا۔ سونے پہ سہاگہ ہو جائے گا۔ تو اگر ہم لوگ اس، اس چیز کو مان لیں تو انشاءاللہ العزیز کوئی مشکل نہیں ہے کہ ہمیں بھی یہ چیز نہ ملے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

                    وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔