شیخ کی اطاعت، ترکِ انانیت اور تعلق مع اللہ کے آداب

(اشاعتِ اول)، 4 دسمبر، 2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        روحانیت کی پہلی شرط: شیخ کے سامنے انانیت (Ego) اور خود رائی کو ختم کرنا۔

•        طریقت میں ”كَالْمَيِّتِ فِي يَدِ الْغَسَّال“ (غسال کے ہاتھ میں میت کی طرح ہونے) کا حقیقی مفہوم۔

•        اہل اللہ کی صفت: دنیاوی مصروفیات (توجہ الی الخلق) کے دوران بھی اللہ کی یاد (توجہ الی الحق) سے غافل نہ ہونا۔

•        حقیقی خلوت و جلوت کی پہچان اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دورانِ نماز لشکر کی ترتیب کا واقعہ۔

•        علم کے ساتھ عقل، حکمت اور تدبیر کی ضرورت (علم کے عملی استعمال کا طریقہ)۔

•        مرید کے لیے تنبیہ: شیخ کے خانگی (گھریلو) معاملات میں تجسس اور دخل اندازی سے مکمل گریز۔

شیخ کے سامنے اپنے آپ کو مٹانا طریق کی اول شرط ہے

ارشاد: افسوس آج کل مُبتدی عوام کے سامنے تو اپنے کو کیا مٹاتے۔ یہ تو اپنے کو شیخ کے سامنے بھی نہیں مٹاتے جس کے سامنے اپنے کو پامال کردینا طریق کی اول شرط ہے، مگر یہ اس کے سامنے بھی اپنی فکر اور رائے کو فنا نہیں کرتے خود رائی سے کام لیتے ہیں۔ حالانکہ کمال اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے کو کسی کامل کے ہاتھ میں ’’کَالْمَیِّتِ فِیْ یَدِ الْغَسّالِ‘‘ سپرد نہ کردو اور حقائق کا انکشاف بھی اسی پر موقوف ہے۔

حضرت نے بہت بڑی بات کی ہے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ کسی کو اجازت مل گئی ناں اپنے بزرگوں سے۔ تو غالباً اس کا کوئی پیر بھائی تھا، جو شیخ تھا، اس نے ان کو نصیحت کی۔ کچھ خبر بھی ہے کہ اجازت کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا "نہیں"۔ انہوں نے کہا اجازت کا مطلب یہ ہے کہ تو نے اپنے شیخ کے سامنے اپنے آپ کو جیسے پامال کیا، عاجزی نصیب ہو گئی، شیخ کی بات کے سامنے اپنے آپ کو پامال کیا، اب تو اسی چیز کو باقی لوگوں کے لیے بھی استعمال کرو گے۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ تم باقی لوگوں کے سامنے بھی اپنے آپ کو ایسے پامال کر لو کہ جن کی بات صحیح ہے، حق ہے، فوراً مان لو۔ اس میں کوئی ضد، انانیت وغیرہ بات نہ ہو۔

تو مطلب یہ ہے کہ دیکھیں، ہوتا کیا ہے؟ انسان حقیقت سے اس وقت تک رکا رہتا ہے جب تک اس کی انانیت فنا نہیں ہو چکی ہوتی۔ جب تک انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ انانیت ہر جگہ اس کے لیے رکاوٹ ہو گی۔ اصل بات تک نہیں جانے دے گا۔ تو جب یہ والی بات ہے، تو انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ انانیت کو مٹانا ضروری ہے۔ تو انانیت کو کیسے مٹائے گا؟ تو اس کے لیے اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کم از کم دنیا میں ایک شخص ایسا ہو جس کے سامنے اپنی انانیت کو مٹا دے۔ وہ اس کو جو کچھ کہے، اس کو مِن و عن ماننے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس میں نہ سوچے پھر۔ دنیا میں کم از کم ایک ایسا شخص ہونا چاہیے۔ اور ظاہر ہے وہ شیخ ہو سکتا ہے اس مسئلے میں۔ تو شیخ کے سامنے پھر کم از کم اپنی انانیت کو مٹا دے۔ جب شیخ کے سامنے اس کی انانیت مٹ جائے گی، تو پھر وہ حقیقت تک پہنچ جائے گا۔ جب حقیقت تک پہنچ جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے کام لیں گے۔

تو یہ اصل میں حضرت فرماتے ہیں کہ لوگوں نے یہی بات مختلف الفاظ میں بیان کی ہے اور وہ یہ ہے، كَالْمَيِّتِ فِي يَدِ الْغَسَّال۔ کہ شیخ کے ہاتھ میں ایسا رہے جیسے میت نہلانے والے کے ہاتھ میں رہتا ہے کہ جس طرف آگے پیچھے کر لے، تو اگے پیچھے کر سکتا ہے، اس کے درمیان میں کچھ وہ نہیں ہوتی۔ تو اگر کوئی خود رائی سے کام لیتا ہے، تو ظاہر ہے پھر وہ کہاں صحیح بات پہ چل سکے گا؟

ایک دفعہ ایسا ہوا۔ یہ بعض ڈاکٹر بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک ڈاکٹر تھا، ایک بیمار ان کے پاس چلا گیا۔ وہ ڈاکٹر تھے پٹھان۔ Specialist تھے، ستر سال عمر تھی اس کی۔ وہ کوئی میرے خیال میں اس کا نسخہ وغیرہ اس نے لکھا تو اس بچے نے Internet پہ کچھ Search کیا کہ یہ تو ایسے ہوتا ہے، ایسے ہوتا ہے، ایسے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب یہ تو Internet پر یہ لکھا ہے، یہ لکھا ہے۔ تو وہ عام ڈاکٹر نہیں تھا، پٹھان ڈاکٹر تھے۔ تو اس نے کہا دیکھو، یاد رکھو۔ پہلے تو جا کر ایف ایس سی کر، پھر Medical میں جا، پھر Medical Knowledge حاصل کرو، پھر ڈاکٹر بن جاؤ، پھر پوری عمر Service کرو، میری طرح Retire ہو جاؤ۔ جب میری عمر کو پہنچو ناں، پھر یہ کہو کہ ایسا ہونا چاہیے اور ایسا ہونا چاہیے۔ اب تم میری بات کو نہیں Change کر سکتے۔ یہ میں جانتا ہوں، تو نہیں جانتا۔ اس کو اتنا سختی کے ساتھ ڈانٹا نا۔ کہتے ہیں تیرا منہ یہ نہیں ہے کہ تیرے منہ میری بات کو غلط کہہ سکے۔ تو Internet کو کیا جانتا ہے؟ کیا چیز لکھی ہوئی ہے؟ ان کی Terminology کو جانتا ہے؟ Details کو جانتا ہے؟ خوب اس کو دبایا۔ باہر گیا تو اپنے والد صاحب سے کہتا ہے یہ ڈاکٹر تو بڑا سخت ہے، اس نے مجھے بڑی بے عزتی کی، اتنی بے عزتی بھی تو نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا تو نے بات ہی ایسی کی تھی۔ تو نے کیوں اس سے اس طرح کہا کہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اس طرح ہے؟ تیرا Field ہے؟ تو اس کو تو یہ کہنا چاہیے تھا؟

تو اسی طریقے سے جو شیخ ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ایک کام پر فائز ہے۔ اس کی اللہ مدد کر رہے ہیں۔ اس کے دل میں اللہ وہ ڈال رہے ہیں جو تیرے لیے مفید ہے۔ تم اس کی جگہ تک پہنچ جاؤ تو پھر بالکل نہ مانو۔ لیکن یہاں تو معاملہ الٹا ہوتا ہے، جو پہنچ جاتے ہیں وہ تو مانتے ہیں۔ وہ تو پورا پورا مانتے ہیں، جو پہنچ جاتے ہیں۔ نہیں مانتے وہ لوگ جو نہیں پہنچے ہوتے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ والی بات کہ شیخ کے ساتھ مناظرہ نہیں کرنا چاہیے۔ مناظرے کا میدان نہیں ہے۔ بلکہ کہتے ہیں شیخ سے سوال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے؟ جیسے ڈاکٹر سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ بھئی یہ تو، اس کے لیے تو ایک علم چاہیے چیزوں کو جاننے کے لیے، ایک Procedure چاہیے اور پھر اس راستے سے کوئی گزرا ہو تو اس کو پتہ چلے گا۔ تو اپنے شیخ کے ساتھ اس میں معارضہ نہیں کرنا چاہیے۔ جو وہ کہے، بس مانتے جائیں۔ اور یہ اس کی ذمہ داری ہے من جانب اللہ کہ وہ آپ کی تمام چیزوں کا خیال رکھے۔ ہاں تجھ سے پوچھے، پھر ضرور سچ سچ بتاؤ۔

اب میں معمولات کا چارٹ کہتا ہوں، وہ تو بھیجتے نہیں اور باقی چیزوں میں معارضہ کرنے لگے، اب بتاؤ؟ ان کی بات سننی چاہیے؟ جو خود میں پوچھ رہا ہوں وہ تو بتاتے نہیں۔ وہ میں پوچھ رہا ہوں کہ بھئی لاؤ، تو وہ تو بتاتے نہیں اور باقی چیزوں کے بارے میں پوچھنے لگے یا کہنے لگے، تو یہ پھر اس کا ظاہر ہے حق نہیں بنتا۔

کامل توجّہ الی الخلق میں بھی توجّہ الی الحق سے غافل نہیں:

ارشاد: کامل توجّہ الیٰ الخلق میں بھی توجّہ الی اللہ سے غافل نہیں ہوتا، کیونکہ توجّہ الیٰ الحق کے دو جز ہیں: ایک ذکر، دوسرے طاعت۔ اور وہ توجّہ الیٰ الخلق میں ان دونوں سے غافل نہیں ہوتے۔ ذکر سے تو اس لئے غافل نہیں ہوتے کہ کوئی کام ان کو یادِ محبوب سے نہیں ہٹا سکتا۔ ہر کام اور ہر حالت میں ان کا دھیان اس طرف لگا رہتا ہے۔ چنانچہ یہی حالات عارف کی جمعہ کے دن حجامت و غسل و تطییب میں ہوتی ہے۔ وہ یہ سب کام محض محبوب کے لئے کرتا ہے اور عین اشتغال بھذہ الاعمال کے وقت محبوب کی طرف اس کا دھیان ہوتا ہے، اس کا راز یہ ہے کہ جو چیز اوّل میں پیوستہ ہو جاتی ہے، اس سے کوئی چیز حاجِب و مانِع نہیں ہوتی، تمہارے دل میں دنیا پیوست ہو گئی ہے اس لئے تم کو ذکر اللہ دنیا کی یاد سے اور اس کے دھیان سے مانع نہیں ہوتا نماز بھی پڑھ رہا ہو، اس میں بھی دنیا چل رہی ہوتی ہے۔ چونکہ دنیا پیوست ہو گئی ہے۔ اور اہلُ اللہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیوستہ ہو گئی ہے۔ ان کو کوئی چیز اور کوئی کام ذکر اللہ سے مانِع نہیں ہوتا،

کیسے عجیب مثال دی ہے۔ مطلب جن کا دل دنیا میں پیوست ہے، تو ظاہر ہے وہ نماز بھی پڑھے گا، روزہ بھی رکھے، حج بھی کرے، اس میں بھی دنیا ہو گی۔ وہ اس سے Disconnect نہیں ہو گا۔ اور جس کا دل اللہ کے ساتھ ملا ہوا ہے، وہ بے شک Toilet جاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی یاد اس کے دل سے ختم نہیں ہوتی۔ وہ بازار جاتا ہے، تو اس کا دل۔ اس میں ہے ناں کہ ان کو بازار جانا، اس میں بیع و شِراء ان کو ذکر اللہ سے مانع نہیں ہوتا۔ قرآن پاک میں ہے۔ تو جب اس قسم کی بات ہے تو جو اللہ والے ہیں، ان کو کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے روک نہیں سکتا۔

حضرت مجذوب رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہے تھے، تو لطیفوں پر لطیفے ہو رہے تھے۔ لوگ ہنس رہے تھے، لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ جب اپنی جگہ پہ پہنچ گئے تو پوچھا ساتھیوں سے، کیا آپ میں سے کوئی غافل ہوا تھا؟ تو لوگوں نے کہا حضرت ہم تو غافل ہوئے تھے۔ فرمایا الحمد للہ میں غافل نہیں ہوا تھا۔ اب بتاؤ! ظاہری سامان سارا غفلت کا ہے، ہنسنا اور لطیفے سننا اور سنانا یہ غفلت کا ہے یا نہیں؟ اور ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں بھی چونکہ لطیفے چلتے تھے اور گپ شپ ہوتی تھی اور ہنستے، ہنساتے رہتے تھے۔ تو ہمارے ایک سخت مزاج آدمی تھے، وہ بعد میں حضرت سے بیعت ہوئے لیکن اس وقت ان کو سمجھ نہیں تھی۔ تو اعتراض کر لیا اس نے۔ کہتے ہیں یہ کیسا شیخ ہے؟ ہر وقت خود بھی ہنستا ہے، دوسروں کو بھی ہنساتا ہے۔ یہ کیسا شیخ ہے؟ میں نے اس پہ ذرا غصہ کیا، میں نے کہا ذرا اپنے آپ میں رہو۔ کیا بات کرتے ہو؟ میں نے کہا یہ جو لوگ حضرت کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں، یہ صاحبِ حیثیت لوگ ہیں، یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں، دنیا کی ہر بدمعاشی کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں۔ اگر حضرت نے چند لطیفوں پہ ان کو ٹرخا دیا اور اپنے ساتھ بٹھا دیا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا دیا، تو اچھا کیا یا برا کیا؟ کہتے یہ تو اچھا کیا۔ میں نے کہا حضرت یہی کام کر رہے ہیں۔ اب بتاؤ! مسلسل لطیفے سنانے کے دوران بھی اگر کسی کو یہ چیز یاد ہے، تو غافل ہے یا غافل نہیں ہے؟ جس کو یہ بات یاد ہو کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملانے کے لیے کر رہا ہوں۔ تو غافل تو نہیں ہے ناں۔

تو یہی بات ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے، ان کے دل میں اللہ کی محبت پیوست ہوتی ہے، وہ بے شک لوگوں کو ہنسا رہے ہوں، لیکن وہ خود غافل نہیں ہوتے۔ بے شک لوگوں کو اسکول بھیج رہے ہوں، ان کا دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کو پتا ہوتا ہے کہ میں کس لیے کر رہا ہوں۔ ان کا دل اللہ کی یاد سے نکلتا نہیں۔

چنانچہ تبلیغ میں بھی جس میں ظاہراً تعلّق مع الخلق ہے اس کی رعایت کرتے ہیں جس سے وہ تعلّق مع الحق ہو جاتا ہے، چنانچہ تبلیغ میں وہ نرمی کرتے ہیں اور دُرشتی نہیں کرتے، مگر اسی وقت جب تک محبوب کی شان میں کوئی گستاخی نہ کرے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو ہر کام اللہ کے لیے کرنا چاہیے، تو جو کام اللہ کی رضا کے لیے ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی یاد کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے یاد ہی ہو رہا ہے۔ مجھے ایک دن ایک بزرگ فرمانے لگے، میں جو فلکیات پہ کام کر رہا تھا، فرمایا آج کل اگر آپ سے اپنا ذکر وغیرہ آگے پیچھے ہو جائے ناں، تو پرواہ نہ کرو، یہ بھی ذکر ہے جو تم کر رہے ہو۔ یہ بھی ذکر ہے۔ تو ہے بس ظاہر ہے۔

خلوت و جلوت مفیدہ کی شناخت:

ارشاد: ’’اِنِّیْ لَاُجَھِّزُ جَیْشِیْ وَ اَنَا فِی الصَّلٰوةِ‘‘ منافی خشوع و خلوت نہ تھا۔ اور اس کا راز کیا ہے؟ اگر صورةً خلوت ہو مگر قلب تعلّقات میں گرفتار ہو تو اس خلوت کا کچھ فائدہ نہیں۔ اور اگر مال و زر اور کھیتی و تجارت میں بھی دل خدا تعالیٰ کے ساتھ لگا ہوا ہو تو تم خلوت نشیں ہو۔

پس کم از کم خلوت میں تو ایسی توجّہ ہونا چاہئے کہ اس وقت دل خیالاتِ غیر سے پاک ہو، ورنہ وہ خلوت خلوت نہ ہو گی بلکہ جلوت ہو گی، البتہ اگر ایسا خیال ہو جس کی اجازت محبوب کی طرف سے ہو یعنی دین کا خیال ہو اور ضرورت کا ہو تو وہ خلوت کے منافی نہیں۔ اس خیال کی نظیر وہ ہے جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’اِنِّیْ لَاُجَھِّزُ جَیْشِیْ وَ اَنَا فِی الصَّلٰوةِ‘‘ کہ میں نماز میں لشکر کشی کا انتظام کرتا ہوں۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ بھی دین کا کام تھا اور ضروری تھا اور ’’ذِکْرُ اللہِ وَ مَا وَالَاہُ‘‘ میں داخل تھا اور کثرتِ مشاغل کی وجہ سے خارج نماز اوقات بعض دفعہ اس کے لئے کافی نہ ہوتے تھے۔ اور نماز میں یکسوئی ہوتی ہے اور تدبیر و انتظام کا کام محتاجِ یکسوئی تھا اس لئے حضرت عمرؓ نماز میں بضرورت بِإذنِ حق یہ کام کر لیتے تھے اور اس لئے منافیٔ خلوت و خشوع نہ تھا۔

مثال دے دوں۔ مثال: مثال کے طور پر کسی بادشاہ کا کوئی معتمد ہے۔ اور وہ بادشاہ کے دربار میں کھڑے ہو کر اس کے حکم سے وہ چیزیں Arrange کر رہے ہوں، تو کیا خیال ہے وہ کیا ہے؟ وہ بادشاہ کے پاس حاضر باش ہے یا نہیں ہے؟ حاضر باش ہے ناں۔ اس طریقے سے جس شخص کی کوئی ذمہ میں کوئی کام ہو اس طرح اور وہ نماز میں اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور باِذن اللہ وہ کام اس کے بارے میں سوچ رہا ہے اور وہ کر رہا ہے، لیکن نماز میں خلل نہیں پڑ رہا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ میں خلل نہیں پڑ رہا۔ تو ظاہر ہے اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

لیکن چونکہ ہم لوگ آخری دور کے ہیں، لہذا اس کی عام اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ورنہ لوگ تو نماز کو کھیل بنا دیں گے۔ لہذا یہ اللہ پر ہے کہ اللہ جل شانہ جس کو اس مقام تک پہنچا دے اور پھر اس سے یہ کام کرا دے تو وہ ہے، عام طور پر اس کو منع کیا جائے گا، عام طور پر یہ کہیں گے کہ نہیں نماز میں باقی کام نہ کرو۔ لیکن ان بزرگوں پر بھی اعتراض نہیں کریں گے کہ وہ اس کے اہل تھے۔ وہ اس کے اہل تھے۔ بہرحال یہ ہے کہ نماز میں جو خشوع و خضوع ہے، وہ مقصود ہے لیکن جو چیزیں خشوع کے منافی نہیں ہوں اور وہ ہو سکتے ہوں، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً آپ ﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے تھے اور دیکھ رہے ہوتے تھے کہ کچھ عورتیں، ان کے بچے رو رہے ہیں، تو نماز مختصر کر دیتے۔ تو اس طرف توجہ گئی نا۔ لیکن وہ توجہ اللہ کے لیے گئی۔ تو Exceptional cases ہیں۔

نفع متعدی کی شرط استعدادِ سیاست و تدبیر بھی ہے:

ارشاد: نفعٔ متعدی کی اجازت شیخ اس وقت دیتا ہے کہ جب سیاست و تدبیر کا ملکہ بھی مرید میں دیکھ لیتا ہے، کیونکہ امر بالمعروف کے کچھ آداب ہیں جن کے قابل ہر ایک نہیں ہوتا اور جن کے بغیر امر بالعروف بجائے مفید ہونے کے موجب فتنہ و فساد ہو جاتا ہے۔

مثلاً بعض دفعہ کوئی اچھا کام بھی کوئی غلط طریقے سے کر لے تو خراب ہو جاتا ہے نا۔ کیا خیال ہے بہت اچھا کھانا ڈاکٹر صاحب پکایا ہو اور میں لیٹ کر کھا رہا ہوں، تو آپ اجازت دے دیں گے؟ کیونکہ لیٹ کر کھانے سے نقصانات ہو سکتے ہیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا کوئی طریقہ ہوتا ہے Proper۔ تو جو اس کا اہل ہوتا ہے، جو اس طرح کر سکتا ہے، تو آپ اس کو وہ کرنے دیں گے۔ ورنہ کام خراب ہو جائے گا۔ کوئی چیز جاننا کافی نہیں ہے، اس جانے ہوئے چیز کو صحیح طور پر استعمال کرنا یہ بھی ضروری ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ "ایک من علم کے لیے دس من عقل کی ضرورت ہے۔" یعنی آپ کو ایک چیز معلوم ہے لیکن اس کو سمجھنا ٹھیک ٹھیک اور پھر اس کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرنا بہت اہم ہے۔

بعض دفعہ بعض لوگوں کو آپ کہہ دیں گے کہ یہ کام ایسا ہوتا ہے۔ اس کو ٹھیک یاد کر چکے ہوتے ہیں، بالکل یاد ان کو ہوتا ہے۔ لیکن جس وقت استعمال کریں گے، پتہ چلے گا کہ بھئی اس کو تو پتہ نہیں ہے۔ حالانکہ جب اس سے پوچھیں گے پھر دوبارہ بتا دیں گے، صحیح صحیح بتا دیں گے۔ لیکن ان کو استعمال کرنا آتا نہیں ہو گا۔ ایک دفعہ کسی عالم سے مسئلہ پوچھا گیا۔ اس نے جواب دیا۔ تو ایک صاحب تھے، جو عالم تھے، وہ بھی ہدایہ کے عالم تھے وہ۔ ہدایہ پورا اس کو یاد تھا۔ حفظ تھا۔ تو اس نے کہا آپ نے یہ مسئلہ کہاں سے بتایا؟ اس نے کہا ہدایہ سے۔ انہوں نے کہا ہدایہ تو مجھے پورا حفظ ہے، اس میں تو کہیں پر بھی یہ مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہدایہ میں یہ مسئلہ ہے، وہ الفاظ بتائے، کہتے ہاں ہے، یہ ہے؟ کہتے ہاں، یہ بھی ہے۔ تو ان کو ملا کر دیکھو اس سے یہ چیز بن جاتی ہے کہ نہیں بنتی؟ کہتے ہیں ہاں بن جاتی ہے۔ پھر انہوں نے کہا کیا؟ کہتے بس آپ نے ہدایہ کو سمجھا ہے، میں نے اس کو رٹ لیا ہے۔ کیا خیال ہے انجینئرنگ کے فارمولے کوئی رٹ لے اور کوئی استعمال نہ کر سکے، تو اس کو آپ انجینئر کہیں گے؟ اس لیے جو نفعِ متعدی ہے، وہ کر سکتا ہے جو اس کا اہل ہو، ان چیزوں کو صحیح صحیح طور پر...

تعلّق مع اللہ اصل مقصود ہے اور مرجوعین خلائق کے لئے دستور العمل:

ارشاد: تعلّق مع اللہ اصل مقصود ہے تو ہم کو زیادہ اہتمام اس کا کرنا چاہئے اور جن کی طرف مخلوق کا رجوع ہو خواہ دین کی غرض سے یا دنیوی غرض سے ان کو تعلّق مع الخلق کا وقت منضبط کرنا چاہئے اور باقی وقت خدا کی یاد میں صرف کریں۔ خصوصاً وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ نے ملازمت وغیرہ سے مستغنیٰ کیا ہے۔ جن کے گھر میں کھانے پینے کا سامان موجود ہے ان کو اس کا اہتمام زیادہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کو دوسروں سے زیادہ ذکرِ حق کا موقع مل رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے زیادہ اہم ہے۔

مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ پڑنا چاہئے:

ارشاد: مشائخ کی وصیت ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہ گھسنا چاہئے کیونکہ جو شخص کسی کے خانگی معاملات سے واقف اور ان میں دخیل ہوتا ہے اس کے قلب سے دوسرے کی عظمت کم ہو جاتی ہے۔ اور مشائخ کو یہی مناسب ہے کہ مریدوں کو اپنے خانگی معاملات پر مطلع یا ان میں دخیل نہ کرے کہ اس سے تمام طبائع کو بجائے نفع کے ضرر ہوتا ہے۔

خانگی معاملات جو ہوتے ہیں۔ اصل میں اس میں بڑی Details ہوتی ہے۔ مثلاً میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں، بہت موٹی مثال ہے، ان شاء اللہ سمجھ آ جائے گی۔ مجھے کسی شخص نے کہا کہ مولانا اشرف صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے یہاں ٹی وی ہے۔ ہمارے شیخ۔ میں نے کہا نہیں! حضرت تو ٹی وی نہیں دیکھتے، ٹی وی کے تو خلاف ہیں۔ کہتے ہیں ان کے گھر میں ٹی وی ہے، انٹینا لگا ہوا ہے۔ اب میں نے کہا اب تحقیق کرنی چاہیے کیونکہ ظاہر ہے بات آ گئی ہے تو اب آ گئی ہے۔ تحقیق کی تو پتا چلا کہ مولانا کی ایک بھانجی تھی جو بالکل پاگل تھی۔ اور پاگل کو کنٹرول کرنا تو آسان نہیں ہوتا اور وہ بھی لڑکی ہو۔ تو ان کی والدہ جو بیوہ تھی اس لڑکی کی، اس نے اس کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹی وی اپنے گھر میں رکھا تھا کہ تاکہ اس ذریعے سے یہ رہے۔ اب پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی ناں۔ پاگل پہ تو شریعت لاگو نہیں ہوتی۔ تو اس کو قابو کرنے کے لیے کہ ظاہر ہے مطلب ٹھیک ہے شریعت اس پر لاگو نہیں ہے، لیکن باہر جائے گی تو فتنہ ہو گا۔ کیونکہ لڑکی ذات ہے۔ تو اس کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے ایک ایسا کام کہ جس پر شریعت لاگو نہیں ہے، اس کو کنٹرول رکھا۔ تو مولانا صاحب نے نہیں کیا، مولانا صاحب کی بہن نے کیا۔ لیکن مولانا صاحب نے کچھ کہا نہیں۔ چونکہ مجبور تھی وہ۔ تو ایسی صورت میں مولانا صاحب بھی مجبور تھے، وہ بیوہ بھی مجبور تھی اور بھانجی تو خیر تھی ہی مطلب۔ تو میں نے کہا دیکھو، اس سے مولانا صاحب کے قلب کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی اور ممکن ہے کہ اس تکلیف پر اللہ تعالیٰ اس کو بہت اجر دے رہے ہوں، کیونکہ ان کے لیے مجاہدہ تھا۔ اور لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ لوگوں کے خیال میں وہ عیب تھا۔ تو اب اگر کوئی آدمی جو ان تمام Detail کو نہ جانتا ہو، اس کو اگر مولانا صاحب کے بارے میں یہ پتہ چل جائے کہ اور ہو میرے جیسا اکڑ والا، تو اس کو نقصان ہو گا یا نہیں ہو گا؟ اس کو تو حضرت سے تعلق ختم ہو جائے گا ناں۔ حالانکہ مولانا صاحب تو اس میں معذور تھے، اس پہ تو اجر مل رہا تھا اس کو۔ یہ ایک مثال دے رہا ہوں۔ عقلمند کے لیے ایک بات کافی ہوتی ہے۔

مثال دے رہا ہوں۔ تو اس لیے کہتے ہیں شیخ کے خانگی معاملات میں دخیل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ کو پتا ہوتا ہے کہ کون کون سی چیز کس کس وجہ سے ہو رہی ہے۔ اس کے لیے گنجائش ہو گی، آپ کے لیے نہیں ہو گی۔ مجھ سے کسی نے پوچھا، جہانگیرہ کے ایک آدمی نے ٹیلی فون کیا، میں سعودی عرب میں تھا حج پر، پچھلے سے پچھلے سال کی بات ہے غالباً۔ شبیر صاحب! میں اگر سعودی عرب کے ساتھ قربانی کروں تو جائز ہے؟ میں نے کہا "نہیں"۔ تم پاکستان کی حکومت کے ساتھ کرو۔ کہتے ہیں آپ جو ابھی کر رہے ہیں؟ میں نے کہا میرے لیے جائز ہے، تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ کہتے یہ کیسے ہو سکتا ہے، آپ کے لیے جائز، میرے لیے جائز نہیں؟ میں نے کہا بھئی قانون یہی ہے۔ کہتے کیسے قانون ہے؟ میں نے کہا قانون یہ ہے کہ جس ملک میں جو ہو، اس کے اوپر اس کی قضا لازم ہے۔ تو میں سعودی عرب میں ان کے Jurisdiction میں ہوں، ان کا قاضی جو فیصلہ کرے گا وہ عند اللہ جواب دے گا، اللہ کو جواب دے گا، لیکن مجھ پر اس کا حکم ماننا لازم ہے۔ تو میں حج بھی ان کے فتوے کے مطابق کر رہا ہوں، قربانی بھی ان کے ساتھ کر رہا ہوں۔ تو مجھے تو گنجائش ہے، لیکن تم اس کے Jurisdiction میں نہیں ہو۔ تم جن کے Jurisdiction میں ہو، ان کا حکم آپ کے اوپر لازم ہے، لہذا آپ سعودی عرب کے ساتھ نہیں کر سکتے، شرعاً نہیں کر سکتے۔ اب یہ Detail ہر ایک کو تو نہیں پتا ہوتا کہ کوئی کام کسی کے لیے جائز ہوتا ہے، کسی کے لیے جائز نہیں ہوتا۔ تو اس طرح شیخ کے خانگی معاملات میں اگر کوئی دخیل ہوتا ہے، اس کو نقصان ہو جاتا ہے۔

اللہ کا شکر ہے، الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے، اللہ کا شکر ہے۔ وہ Accidentally اگر کوئی چیز کا پتا چل گیا ہو تو پتہ چل گیا ہو، تجسس میں نے کبھی بھی حضرت کے گھر کے معاملات کے نہیں کیے کہ حضرت کے گھر میں کیا ہوتا ہے۔ اس سے میں دور بھاگتا تھا۔ کہ کبھی مجھے، جن کے ساتھ میرا دل کا تعلق ہے، ان کے بارے میں مجھے کوئی ایسی چیز نہ نظر آئے جس کی وجہ سے مجھے نقصان ہو جائے۔ تو میں دور رہتا تھا، حتیٰ کہ ان کے خاندان والوں سے بھی ملنے جلنے سے دور رہتا تھا۔ بعض لوگ تو ان کے قریب ہوتے تھے لیکن میں دور رہتا تھا۔ مجھے اس میں فائدہ نظر آتا تھا کہ میں کیوں خواہ مخواہ، میں تو مولانا صاحب سے بیعت ہوں، کسی اور سے تو نہیں بیعت ہوں۔ مجھے تو اپنی فکر کرنی چاہیے۔ میں کسی اور کی فکر کیا کروں؟ "تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو"۔ خواہ مخواہ اپنے آپ کو خراب کرنا۔ تو یہ بات ہے کہ مرید کو شیخ کے خانگی معاملات میں نہیں پڑنا چاہیے اس وجہ سے۔

اللہ اکبر۔

اب میرے خیال میں وقت پورا ہو رہا ہے اور یہ پورا نہیں ہو رہا۔ اس وجہ سے میرے خیال میں اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔

شیخ کی اطاعت، ترکِ انانیت اور تعلق مع اللہ کے آداب - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور