اصلاحِ نفس، مقامِ علماء اور آدابِ تصوف و خدمت

(اشاعتِ اول)، 4 دسمبر، 2013

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        نفلی عبادات میں کثرت کے بجائے معیار اور دلی توجہ کی اہمیت

•        سالکین کی تربیت میں انفرادی مزاج کی رعایت (سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنے کی ممانعت)

•        علماء اور صوفیاء کے دائرہ کار کا فرق اور باہمی تعلق

•        شیخ اور مرید کے درمیان خدمت کے اصول اور حدود

•        ہدیہ، استغناء اور توکل علی اللہ کا نبوی ﷺ اور اکابرین کا طریقہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ،

فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

دل سے اور توجہ سے تھوڑا کام بھی وصول کے لئے کافی ہے:

ارشاد: اگر دل سے اور توجہ سے تھوڑا کام بھی ہو تو وہ بے توجہی کے ساتھ زیادہ کام کرنے سے بڑھ کر ہے۔ پس جو زیادہ کام نہ کر سکے وہ تھوڑا ہی کرے مگر ستھرا کرے یہی وصول کے لئے کافی ہے۔

بفراغ دل زمانے نظرے بماہ روئے

بہ ازاں کے چستر شاہی ہمہ روز ہائے ہوئے


مطلب یہ کہ انسان کو جتنا وہ کر سکتا ہے وہ اچھا کرے۔ یہ نوافل کے لیے ہے، ورنہ ایسا نہ ہو کہ چلو جی فرائض آج دو رکعت پڑھ لوں ظہر کی۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہے۔ فرائض میں کمی بیشی نہیں ہے، یہ ساری چیزیں نفلی اعمال میں ہیں۔ نفلی اعمال میں کوئی کم کر لے کوئی زیادہ کر لے تو اس کے حساب سے۔

تو اگر کوئی شخص دو رکعت ہی اچھی طرح پڑھ لے تو بے توجہی سے پڑھنے والے سو رکعت سے تو افضل ہے نا۔


سارے طالبوں کو ایک ہی لکڑی سے مت ہانکو، رسمی پیروں کی غلطی:

ارشاد: یہ طریقہ غلط ہے کہ سارے طالبوں کو ایک لکڑی سے ہانکا جائے، بلکہ اَقْوِیَا کو ان کے مناسب کام بتلاؤ اور ضعفاء کو تھوڑا بتلاؤ اور اس کی تاکید کرو کہ وہ تھوڑا ہی کام توجّہ کے ساتھ کریں، ان شاء اللہ وہ زیادہ ہی کے برابر ہو جائے گا۔ چنانچہ بعض بزرگوں نے اپنے بعض مریدوں کو جو دنیوی مشاغل میں زیادہ مشغول تھے صرف اتنا کام بتلایا ہے کہ نماز کے بعد تین دفعہ ’’لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ‘‘ جہراً ۔ یہ کس کی کتاب ہے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ، دیوبندی ہیں نا؟ اب رسمی پیروں کے یہاں یہ رسم ہو گئی ہے کہ ہر نماز کے بعد یا فجر و عصر کے بعد سارے نمازی مل کر جہراً ’’لَا اِلٰہَ إِلَّا اللہُ‘‘ کہتے ہیں اور اس کا سختی کے ساتھ التزام کرتے ہیں، حالانکہ سب کے واسطے بزرگوں نے نہیں کہا تھا، بلکہ خاص خاص لوگوں کو بتلایا تھا، مگر جاہلوں نے اس کو حکم عام ہی بنا لیا اور التزام کر لیا، اسی واسطے علماء نے اس کو بدعت کہا ہے۔

مطلب اس کو لازم کہا ہے اس کا سمجھا ہے۔ حالانکہ اگر اس کو علاج کے لیے کہہ دیتے تو علاج کے لیے تو بدعت نہ ہوتا۔ پر اس کو ثواب کے لیے بنایا، ٹھیک ہے نا؟ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ ساری چیزوں میں تفصیلات ہوتی ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ ہر ایک کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ہر شخص کو وہ کام دینا چاہیے جو وہ کر سکتا ہے۔ ورنہ یہ ہے کہ پھر سب چونکہ ایک جیسے حالات میں ہیں نہیں، تو ایک جیسے حالات نہ ہوں تو ایک جیسے علاج نہیں ہے۔ تو سب کا کسی نہ کسی چیز سے علاج کیا تو باقی ادھر ادھر جن کے لیے کسی کے لیے کچھ کم ہو گا، کسی کے لیے زیادہ ہو جائے گا، تو کام خراب ہو جائے گا۔ تو ہر ایک کو اس کے مناسب بتاؤ جتنا وہ کر سکتا ہے اور صحیح کر سکتا ہے۔ 

نظام عالم علماء ہی کے اتباع سے قائم رہ سکتا ہے:

ارشاد: عوام کو لازم ہے کہ علوم میں صوفیہ کا اِتِّباع نہ کریں۔ بلکہ علماء اور جمہور کا اِتِّباع کریں، کیونکہ یہ لوگ مُنْتَظِم ہیں۔ نظامِ شریعت بلکہ نظامِ عالم علماء ہی کے اتباع سے قائم رہ سکتا ہے۔ یہ علماء منتظم پولیس ہیں کہ مخلوق کے ایمان کی حفاظت کرتے ہیں۔ اگر یہ اپنا کام چھوڑ دیں تو صوفی صاحب کو حجرہ سے نکل کر یہ کام کرنا پڑتا اور سارا حال و قال رکھا رہ جاتا، کیونکہ اصلاحِ خلق کا کام فرضِ کفایہ ہے۔

الحمد للہ۔

دیکھیں! علماء کس کو کہتے ہیں؟ جن کو علم حاصل ہو۔ کون سا علم؟ قرآن و سنت کا علم حاصل ہو۔ قرآن و سنت کا نچوڑ فقہ ہے، تو فقہ کا علم بھی حاصل ہو۔ اب کون سی چیز جائز ہے کون سی چیز ناجائز ہے، اس کا کس کا کام ہے؟ علماء کا۔ لیکن جو چیزیں کرنی ہیں، اگر کسی سے نہیں ہو سکے، اس پر لانا کس کا کام ہے؟ صوفیا کا۔ بس عملی چیزوں میں تو مشورہ صوفیا سے لیا کرو۔ اور جائز و ناجائز، حلال و حرام کا فتویٰ کس سے لیا کرو؟ علماء سے لیا کرو۔

لیکن یہ الگ بات ہے کہ علمائے محققین جب کسی بات کو کریں نا، تو باقی علماء کو بھی اس کو ماننا پڑتا ہے۔ علمائے محققین اگر ایک بات کر لیں نا، مثال کے طور پر حضرت تھانوی رحمة الله عليه بات کر لیں، مولانا قاسم نانوتوی رحمة الله عليه بات کر لیں، حضرت گنگوہی رحمة الله عليه کر لیں، مدنی رحمة الله عليه کر لیں، تو آج کل کے علماء تو ان کے برابر تو نہیں ہیں نا۔ پھر کس کی بات مانیں گے؟ ان کی مانیں گے نا۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلنے لگے تو وہ علماء نہیں رہے۔ اگر علماء عوام کے پیچھے چلیں، عوام کی خوشنودی کے لیے بات کرنے لگیں کہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں جی بس کیا کریں؟ تو وہ تو علماء کا رول کر ہی نہیں رہے۔ علماء کا رول تو وہ کر رہے ہیں جو عوام کے پیچھے نہیں جا رہے، ان کو بلکہ عوام کو اپنے پیچھے چلا رہے ہیں۔

تو یہ وہ علماء تھے جن کا نام میں نے لیا بڑے بڑے علماء، ان کا کام یہی تھا کہ لوگوں کو سچ بتائیں، حق بتائیں، طریقے سے بتائیں، وہ اپنا کام کر چکے۔ لہذا اگر کسی بات پر ان کی بات آ چکی ہو، قولِ فیصل، تو اب اگر میں کسی آج کل کے عالم کو دیکھوں گا کہ وہ اس کے خلاف بات کر رہا ہے اور نظر آ رہا ہو کہ وہ لوگوں سے متاثر ہے، تو پھر وہ معاملہ وہ نہیں ہے۔ بلکہ ہم دیکھیں گے کہ بھئی ہمارے محققین علماء کیا بات کر رہے ہیں۔ محققین علماء، جو محقق علماء ہیں، جو جامع ہیں۔ ان سے ہم لوگ پھر اس میں رائے لیں گے، کیونکہ وجہ یہ ہے کہ کام انہی کو سجتا ہے کہ جو ان تمام چیزوں سے گزر چکا ہو، ان کو معلوم ہو کہ کس... اب جیسے مولانا زکریا صاحب رحمة الله عليه، جس نے پچاس سال حدیث پڑھایا ہے، تو حدیث میں اس کا قول ہو گا یا جس نے دس سال پڑھایا ہے، پانچ سال پڑھایا ہے؟ کس کی بات ہم لیں گے؟ ظاہر ہے ان کی بات لیں گے۔

تو یہی بات ہوتی ہے کہ ہم لوگ علماء کا کام علماء سے، صوفیا کا کام صوفیا سے۔ آج کل کا کوئی صوفی جو محقق صوفی نہیں ہے، رسمی ہے، تو ان کی بات کہاں مانیں گے ہم؟ ہم کہیں بھئی جو محقق صوفیاء نے بات کی ہے ہم ان کی بات مانتے ہیں۔ یعنی اس میں بھی قانون تو یہی ہے نا کہ ہم محقق صوفیاء کی بات مانتے ہیں۔ تو اس وجہ سے دونوں صورتوں میں ہم لوگ جو علمائے حق ہیں ان سے علم حاصل کریں گے اور جو صوفیائے حق ہیں ان سے عمل حاصل کر لیں گے، ان سے تربیت حاصل کر لیں گے۔ تعلیم کا کام علماء کا ہے اور تربیت کا کام صوفیاء کا ہے۔ جس عالم کی خود تربیت نہیں ہوئی وہ کسی اور کی تربیت کیا کرے گا؟ بالکل ایسے ہی جیسے جس نے خود علم حاصل نہیں کیا ہو تو کسی اور کو علم کیا دے گا؟ وہی اصول ہے نا؟ تو جس کی خود تربیت نہ ہوئی ہو تو اس مسئلے میں تو عامی کی طرح ہے۔ تربیت کے معاملے میں وہ عامی کی طرح ہے نا۔

ایک دفعہ مولانا اشرف صاحب رحمة الله عليه کا بیان ہوا اور ایک بہت بڑے عالم کا بھی بیان ہوا۔ لیکن بیان ان چیزوں پہ ہوا تھا ، جو تصوف سے متعلق چیزیں ہیں۔ تو صاف پتہ چلتا تھا کہ مولانا صاحب جو بیان کر رہے تھے وہ بات الگ تھی اور وہ دوسری۔ کیونکہ مولانا صاحب ان چیزوں سے گزرے تھے۔ تو وہ آنکھوں دیکھا حال بتا رہے تھے۔ اور دوسرے صاحب کتابی حال بتا رہے تھے۔ تو کہاں کتاب سے پڑھنا اور کہاں کسی چیز سے ہو کے گزرنا، ان دونوں میں تو فرق ہے نا۔ تو پتہ چل رہا تھا، صاف پتہ چل رہا تھا۔ تو اس وجہ سے جو جس چیز کا فیلڈ ہے، جس کا فیلڈ ہے، اس کو ہی، جس کا کام اسے ساجھے۔ ان سے اس چیز میں حاصل کرنا چاہیے۔

خدمت کرنے اور لینے کے بعض اصول:

ارشاد: خدمت وہی اچھی ہے جس سے بزرگوں کو گرانی نہ ہو، بزرگوں کو بھی اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنے خُدَّام کے ساتھ ایسی تواضُع نہ کریں جس سے ان کو خجلت و کُلْفَت ہو، بلکہ بزرگوں کے لئے تو اس کی ضرورت ہے کہ کبھی کبھی خُدَّام سے کہہ دیا کریں کہ جوتے وہاں سے اٹھا کر یہاں رکھ دو۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ مُریدوں کو ذلیل کیا کریں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس سے خُدَّام خوش ہوں گے کہ ہم کو اپنا سمجھتے ہیں اور کبھی یہ خدمت بہ نیتِ اصلاح و تعلیم تَوَاضُع کے لینا چاہئے۔

اصل میں دیکھیں جب پریکٹیکل آ گیا تو پریکٹیکل میں تو ساری چیزیں آئیں گی نا۔ پریکٹیکل میں تو ساری چیزیں آئیں گی۔ تو پریکٹیکل میں میں اگر صرف اپنا خیال رکھوں کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ اور اس کا میں خیال نہ رکھوں، میں نے تو اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کی۔ اب میں اپنا خیال نہ رکھوں، میں کہتا ہوں بس ٹھیک ہے جی جو میرے بارے میں جو بھی رکھے میں نے تو ان کا فائدہ خود دیکھنا ہے۔ لہٰذا اگر ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ پیر دبوا دیں تو بس ٹھیک ہے دبوا لیں۔ اگر ان کا فائدہ اسی میں ہے کہ جوتے سیدھے کریں تو ٹھیک ہے اس کا فائدہ اسی میں ہے۔ اگر اس کا فائدہ اسی میں ہے کہ کوئی اور کام اس کو دے دیں، تو ٹھیک ہے۔ لیکن معاملہ اللہ کے ساتھ سیدھا ہو۔ اپنے نفس کے لیے نہ ہو، اللہ کے لیے ہو۔ یہ بھی اللہ کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی کام کا ذمہ دار بنا دیا اور اس کام میں اس طریقے سے بہتری ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو اس کے لیے فارغ کر دیں اور دوسرے جو آپ کے کام کو شیئر کر سکتے ہیں اور خوشی سے وہ کرنا چاہتے ہیں، آپ ان کو کام دیں۔ تو ظاہر ہے وہ کام زیادہ بہتر ہو سکے گا۔

تو یہ بھی تو اللہ کے ساتھ معاملہ صاف ہے اگر کوئی اس نیت سے کرنا چاہتا ہے تو ٹھیک ہے۔ اللہ جل شانہ ہی بھیجتے ہیں لوگوں کو۔ یہ تو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ مثلاً کسی کو خدمت کے لیے بھیج دیا کہ تم یہ کام کرو۔ تو اللہ کی طرف سے آ گیا نا۔ ہمارے حضرات فرماتے ہیں اس میں اتنا ہونا چاہیے، اتنا ضرور ہونا چاہیے، کہ بہت بڑا اصول بتا رہا ہوں، لکھ لیں اپنے ساتھ، کہ جو مشائخ ہیں اللہ والے ہیں جو اللہ کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں وہ دروازے کو چٹخنی بھی نہ لگائیں کنڈی بھی نہ لگائیں اور دروازے پہ نظر بھی نہ ہو۔ دروازے پہ نظر بھی نہ ہو کہ اس طرف سے کوئی آئے گا۔ دروازے پہ نظر بھی نہ ہو کہ اس طرف سے کوئی آئے گا اور مجھے کچھ دے گا۔ یہ مشائخ کا کام نہیں ہے۔ یہ اخلاص کے منافی ہے اور وہ اپنے منصب کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔ اگر دروازے پہ نظر ہو کہ اب کوئی آئے گا اور مجھے دے گا۔ لیکن دروازے کو چٹخنی بھی نہ لگاؤ کہ بھئی کوئی آئے گا نہیں آئے میرے پاس، بس میں نہیں لینا چاہتا۔ تم کون ہو؟ انبیاء کرام علیہم السلام کا اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے وہ فرمایا۔ لہذا تم درمیان میں کہاں؟

کیا آپ ﷺ ہدیہ وصول نہیں فرماتے تھے؟ ایک دفعہ حضرت نے بڑی عجیب بات فرمائی، حضرت تھانوی رحمة الله عليه۔ فرمایا دیکھو یاد رکھو، اپنے آپ... جیسا ہو اتنا بات کرنی چاہیے، اپنی حیثیت سے بڑھ کے بات نہیں کرنی چاہیے۔ فرمایا دیکھو جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو ہدیوں کے اوپر جو وقت گزار رہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔ کوئی کام کرنا چاہیے خود۔ تو ٹھیک ہے آج کل کے لحاظ سے بہتر ہے کہ ایسا کریں لیکن اس کو General Law اس لیے نہ بناؤ، کیونکہ اگر General Law آپ نے بنا دیا تو یہ اعتراض ہو جائے گا اور اعتراض بہت دور تک چلے جائے گا۔ اور پھر فرمایا آپ ﷺ سے نبوت کے ملنے سے پہلے تو کام ثابت ہے، دنیا کا ۔ بکریاں چرانا یا تجارت یا کچھ اس قسم کے کام یہ ثابت ہے۔ نبوت کے بعد کوئی چیز ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے دنیا کے لیے کوئی تجارت کیا ہو یا آپ ﷺ نے بکریاں چَرائی ہوں یا کوئی اور کام کیا ہو، ملازمت کی ہو، جس پر آپ ﷺ کو کچھ ملتا ہو۔ بالکل کچھ بھی کام ثابت نہیں ہے۔ لیکن آپ ﷺ نے بہت ہی غیرت کے ساتھ وقت گزارا ہے، کبھی ایسا ہوتا تھا کہ کسی کو اتنا دے دیتے کہ دو پہاڑوں کے درمیان یہ بکریاں ہیں، تم لے جاؤ اتنا بھی حضرت کے پاس ہوتا تھا۔ اور کبھی یہ حال ہوتا تھا کہ پوچھ لیتے کچھ ہے کھانے کو؟ بتا دیتے نہیں، فرماتے اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔ اچھا میں نے روزہ رکھ لیا۔ کبھی کبھی پاس کچھ بھی نہیں۔ اور کبھی اتنا ہے کہ ایسے لوگوں کو دے دے رہے ہیں۔

تو جو ہمارے حضرات ہیں، اللہ والے ہیں، وہ بھی اسی طریقے سے ہوتے ہیں۔ ان کی اللہ پہ نظر ہوتی ہے۔ اپنا کام یکسوئی کے ساتھ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو بھیج دیتا ہے اس پر خوش ہو جاتے ہیں۔ تو حضرت تھانوی رحمة الله عليه انہوں نے کون سا کام کیا؟ کوئی ملازمت نہیں تھی بعد میں جب مدرسے سے فارغ ہو گئے نا۔ کوئی ملازمت نہیں کی، کوئی کاروبار نہیں کیا، حتیٰ کہ اپنی لکھی ہوئی کتابوں کی رائلٹی وصول نہیں کی، ان کے جملہ حقوق محفوظ نہیں کیے، بس توکل علی اللہ چل رہا ہے۔ اور ایسی وسعت کے ساتھ وقت گزارا ہے کہ ناشتے میں اس وقت غالباً اگر میں آج کل کے پیسوں کے لحاظ سے کہوں کہ دو دو ہزار روپے کا ناشتہ ہوتا تھا حضرت کا ضرورتاً۔ لیکن اللہ پاک کراتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ والی جو بات ہے کہ یہ تو اللہ پاک کا نظام ہے جس کو جیسے رکھنا چاہیں اس طرح رکھ لیں۔ اور غیرت اتنی تھی کہ ایک تحصیلدار صاحب آئے ہیں، اس نے پچیس روپے ہدیہ کیے۔ اس وقت پچیس روپے کا ذرا حساب لگاؤ کہ آج کل کیا ہو گئے؟ پچیس روپے ہدیہ کیے۔ مولانا قاسم نانوتوی رحمة الله عليه کی کتابت کی تنخواہ دس روپے تھی، اب پچیس روپے کیا ہوں گے اس وقت؟ آج کل کم سے کم تنخواہ کتنی ہے؟ چھ سات ہزار روپے ہے نا؟ تو ان کے دس روپے چھ سات ہزار روپے سمجھو تو پچیس کتنے ہوں گے؟ تو خیر بہرحال یہ کہ وہ پچیس روپے دے دیے، حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے باقی واپس کر دیے۔ بس ٹھیک ہے اس نے لے لیے۔ چلے گئے۔

راستے میں (وہ صاحب) اپنے ساتھی سے کہہ رہے ہیں عجیب کام ہو گیا، کہتے ہیں میرا ارادہ دس روپے دینے کا تھا۔ پھر میں نے کہا اتنے بڑے آدمی کو میں دس روپے کیسے دوں؟ یہ مناسب نہیں ہے، تو میں نے اس کے ساتھ پندرہ اور ملا دیے، پچیس روپے دے دیے۔ حضرت نے اس سے دس روپے لے لیے باقی چھوڑ دیے، باقی واپس کر دیے۔ اس میں اگر ایک طرف حضرت کی قلبی بصیرت کا ثبوت ملتا ہے تو دوسری طرف حضرت کے استغناء کا... کہ لائی ہوئی چیز کو واپس کر رہے ہیں۔

ایک دفعہ ایک صاحب نے منی آرڈر کیا۔ منی آرڈر میں لکھا تھا کہ حضرت میں آپ کو یہ پیسے بھیج رہا ہوں قبول فرمائیے اور جو مستحق ہوں ان کو دے دیجیے گا۔ حضرت نے جواب لکھوایا: پہلا کلمہ ملکیت کا ہے کہ آپ مجھے مالک بنا رہے ہیں کہ 'قبول فرمائیں'۔ دوسرا کلمہ وکالت کا ہے کہ آپ مجھے وکیل بنا رہے ہیں کہ 'مستحق کو دے دیجیے گا'۔ یہ دونوں بیک وقت جمع نہیں ہو سکتے لہٰذا منی آرڈر واپس۔ ایسے طریقے سے رہے ہیں اور پھر بھی اللہ پاک نے کھلایا۔ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس کے اوپر کوئی نہیں کیا پرواہ، کہ کیا ہو گا کیا نہیں ہو گا، لیکن ظاہر ہے یہ کہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہتے تو دینا چاہتے ہیں تو دے دیں۔ تو یہ حضرت نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، یہ نہ کہو کہ ایسا کرنا نہیں چاہیے کیونکہ اعتراض ہے، اعتراض بہت دور چلا جائے گا، آپ ﷺ تک بات پہنچ جائے گی۔ لہٰذا اپنے آپ میں رہو، جتنی تمہاری حیثیت ہے اس کے مطابق بات کرو۔




جاری ہے ان شاءاللہ


اصلاحِ نفس، مقامِ علماء اور آدابِ تصوف و خدمت - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور