حقیقتِ طریقت: اصلاحِ نفس کے اصول، ارکانِ سلوک اور حقوقِ مرشد(حصہ دوم)

درس 1، حصہ 1 باب 1 ملفوظ 1: حقیقت طریقت، اشاعت اول: بدھ، 14 اپریل، 2007 بمطابق: 26 ربیع الاول، 1428 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

دنیا کی اصل حیثیت: دار الامتحان اور آخرت کی تیاری

باطنی اصلاح کے اصول: نفس کا مجاہدہ، دل کا ذکر اور عقل کا فکر

حبِّ دنیا: تمام خطاؤں اور برائیوں کی جڑ

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا زہد اور طرزِ عمل

نعمتِ غیر فانی: جنت کی وسعت اور دیدارِ الٰہی

صحبتِ صالحین کی اہمیت اور ترجیحات کی درستی

الحمد للہ رب العالمین الصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین اما بعد۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

ہمارے ہاں ملفوظات شریف کا درس ہوتا ہے

گزشتہ سے پیوستہ

ثالث: یہ قواعد کلیہ ہیں باقی جزئیات کا ان پر انطباق ہوتا ہے، اس میں ابتداً شیخ کی ضرورت ہے کہ اس کا درجہ طبیب کا سا ہے اور طالب کا درجہ مریض کا سا۔ طبیب سے اپنا حال کہا جاتا ہے وہ نسخہ تجویز کرتا ہے اس کا استعمال کر کے اس کو اطلاع دی جاتی ہے وہ پھر جو رائے دیتا ہے اس پر عمل ہوتا ہے اسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہے تا حصولِ صحت۔ اسی طرح سلوک میں بھی دو امر ہیں اطلاع اور اتباع تا حصولِ مقصد، یعنی رسوخ نسبت بحق۔

یہ دیکھ لیں، یہاں پر کیا فرمایا؟ چیزیں تو یہ تین ہی ہیں۔ لیکن یہ چیزیں کیا ہیں؟ یہ قواعدِ کلیہ ہیں۔ قواعدِ کلیہ ہیں، اس کے بعد جو اس کے اوپر جو جزئیات ہیں کہ اس میں کون سی چیز کیا ہے، کون سی چیز کیا ہے، اور کتنا ہے، اور اس کے بارے میں کیا کرنا چاہیے، یہ details ہیں۔ اس کو ہم جزئیات کو کیا کہتے ہیں؟ details۔ تو ان details کے بارے میں ہم لوگ نہیں جان سکتے، کیونکہ ہر چیز کی اپنی details ہوتی ہیں۔

ایک دفعہ ایک ڈاکٹر سے بات ہوئی، یہ psychiatry کا مسئلہ تھا۔ تو ان سے میں نے کہا کہ بھئی آپ لوگ جو ہیں نا وہ جو psychiatry کے جو treatment ہوتے ہیں، tablets ہوتی ہیں، یا جو اس قسم کا دیتے ہیں۔ تو بعض دفعہ ہمیں بھی ضرورت پڑ جاتی ہے کہ لوگ ہمارے پاس آتے ہیں، اس میں تھوڑی بہت medication کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو آپ اس کے بارے میں بتائیں تاکہ میں لوگوں کو اس کے بارے میں بتا سکیں۔ تھوڑی دیر سوچ کر اس نے کہا، یہ ناممکن ہے۔ میں نے کہا، کیوں؟ کہتے ہیں بہت ساری چیزوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ اب ایک blood pressure کے ساتھ بھی ہے، sugar کے ساتھ بھی ہے، pulse کے ساتھ بھی، heart کے ساتھ بھی ہے، kidneys کے، تمام چیزوں کے ساتھ وہ tablets جو بھی ہوں گی۔ اب آپ کو details کا پتہ نہیں ہو گا تو آپ کیسے فیصلہ کریں گے؟ ممکن ہے غلط فیصلہ کر لیں، پھر اس کا آپ کو نقصان ہو۔ لہٰذا میرے خیال میں آپ اس کو نہ کریں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کا psychological side اپنے ساتھ پہ رکھیں، لیکن psychiatric side وہ ڈاکٹر کے پاس ہی رکھیں۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔

میں نے کہا، مجھے آپ کا مشورہ بہت پسند آیا۔ لیکن بعینہٖ یہ چیز ہمارے ہاں بھی ہوتی ہے۔ اس میں پھر آپ کی بات نہیں چلے گی، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ یعنی اس کی details آپ کے ساتھ ہیں۔ کیونکہ آپ اس کے ماہر ہیں۔ تو اس دوسری چیز کے details پھر ہمارے ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے جو بھی اس کے ساتھ متعلقات ہوتے ہیں وہ پھر اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تو پھر آپ اپنی طرف سے اس میں فیصلہ نہیں کر سکتے۔ تو اس کو بات سمجھ میں آ گئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ یہ چیزیں ہوتی ہیں، details جو ہوتی ہیں، یہ expert کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ details۔

یہ کوئی simple قسم کا، یہ تو ہو سکتا ہے جیسے ہیضہ آ گیا ہو۔ اب ہیضہ آ گیا ہو، ڈاکٹر کم ہوں، تو ڈاکٹروں کی board بیٹھ جائے، اور کہیں گے بھئی compounder کو کیا بتایا جائے کہ بھئی بنیادی چیزیں ہیں کہ یہ علاماتِ ہیضہ کی، اور یہ اس کی دوائی ہے، اور یہ دے دیا کرو، بس۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ موٹی موٹی علامات بتا دو، اگر کوئی complication ہو تو پھر details کے لیے پھر ڈاکٹر کے پاس۔ لیکن ڈاکٹر تھوڑے ہیں، اور ہیضہ، وباء آ جائے، تو پھر تو مریض ہی مریض۔ اس وقت اتنے ڈاکٹر کہاں ہوں گے؟ تو پھر compounder کو بھی اختیار دیا جاتا ہے، اچھا ٹھیک ہے جی، یہ دوائی ہو، اس کا package ہے۔ اس کے اندر یہ علامتیں، یہ علامتیں ہوں گی تو پھر اس کو یہ injection لگانا ہے، اور یہ دوائی دینا ہے، اور یہ پرہیز بتانا ہے، اور اپنے آپ کو ایسے بچانا ہے، یہی ہوتا ہے نا؟

تو اب وہ details نہیں بتاتے، آپ ان کو ایک package دیتے ہیں، ایک set of rules دیتے ہیں، ایک طریقہ کار دیتے ہیں، ایک basic procedure دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں نگرانی بھی اس کی کی جاتی ہے کہ اس پہ عمل ہوتا ہے یا نہیں، کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یا خود اپنے آپ کو مارے یا دوسروں کو مارے۔ ظاہر ہے اس کی باقاعدہ نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ اسی طریقے سے کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو simple، عوام کے سمجھ میں آ سکتی ہوں۔ اور ہر وہ آدمی عوام ہے-یہ بھی یاد رکھیے- جو اس فن کو نہیں جانتا ہو۔ مثلا ڈاکٹروں کے لیے سارے لوگ عوام ہیں جو ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ہے نا ڈاکٹر صاحب؟ چاہے وہ بہت بڑا engineer کیوں نہ ہو۔ وہ عوام ہے یا نہیں ہے؟ اسی طریقے سے کسی بھی فن کو لے لو، اس کے لیے باقی لوگ جو ہوتے ہیں وہ عوام ہوتے ہیں۔ اس فن کے علاوہ جو لوگ ہوتے ہیں وہ سارے عوام ہوتے ہیں۔ اس میں یہ تخصیص نہیں ہوتی ہے کہ وہ فلاں تو یہ اتنا بڑا scholar ہے۔ بھئی scholar ہے لیکن اس میدان میں scholar ہے نا۔ اس میدان میں scholar ہے، اس میں تو عوام ہے۔ ٹھیک ہے؟ تو عوام کے لئے جو فارمولے ہوتے ہیں وہ سب کے اوپر لاگو ہوتا ہے۔

تو اب اس فن میں جو ڈاکٹر بھی آئے گا تو وہ عوام ہوں گے۔ ظاہر ہے جب اس اصلاح والی line پہ کوئی آئے گا تو جب تک وہ اس کا وہ نہیں بنے گا، اس وقت تک وہ عوام کے زمرے میں آئے گا یا نہیں آئے گا؟ اسی طرح کوئی بھی ہو۔ یہ تو ڈاکٹروں کی میں نے مثال اس لیے دی کہ ڈاکٹر کی بات discuss ہو رہی تھی۔ ورنہ سب لوگ جتنے بھی فن کے ماہر ہیں، ماہرین ہیں، وہ دوسرے فن میں عوام ہوتے ہیں۔ physicist جو ہوتا ہے وہ chemistry میں عوام ہوتا ہے۔ اور chemist جو ہوتا ہے وہ physics کے معاملے میں عوام میں آتا ہے۔ جب آپس میں ان کا مقابلہ ہوتا ہے، تو پھر وہ کہتے ہیں بھئی تم کیا جانو یہ chemistry کا field ہے اس میں میرا field ہے تمہارا field نہیں ہے۔ اس میں آپ کی بات ہے اور وہ ٹھیک کہتا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی، کیوں؟ details کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ details کی ضرورت کب پیش آتی ہے۔ یہ کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ جیسے اس ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ آپ کو میں بتا دوں گا لیکن اس میں یہ مسائل ہیں۔ تو جہاں پر بھی مسئلہ ہو مسائل ہوتا ہے پھر آپ اس کو simplify کرتے ہیں۔ لیکن وہ جو simplified version ہوتا ہے وہ جو ہوتا ہے وہ ماہرین ہی تیار کرتے ہیں اور اس کی نگرانی بھی کی جاتی ہے۔ ٹھیک ہے؟

تو یہاں پر بھی یہ والی بات ہے کہ جو شخص بھی اس راستے پہ آنا چاہتا ہے، وہ اس کے ماہر کے پاس جائے گا۔ وہ اس کے ماہر کے پاس جائے گا۔ جب ماہر کے پاس جائے گا، تو کیا کرے گا؟ دو باتیں اس کے ساتھ لازمی ہوں گی۔ ایک تو اس کو اپنی حالت کی اطلاع کروائے گا۔ میری کیا حالت ہے۔ وہ دوسرا شخص اس کے حال کے مطابق تجویز کرے گا۔ دو باتیں ہو گئیں؟ اب کیا بات ہے، وہ پھر دیکھے گا کہ وہ اس کے اوپر عمل کرے گا تجویز پر۔ عمل کرے گا پھر اس سے کچھ احوال پیدا ہوں گے پھر اس کو اطلاع کرے گا۔ اور اسی طریقے سے interaction ہو گی۔ اور یہ interaction کا procedure وہ ماہر بتائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ اس کے گھر کے سامنے بیٹھ جائے کہ پانچ منٹ کے بعد میرا یہ حال ہے۔ دس منٹ کے بعد میرا یہ حال ہے۔

جب بھی کسی سے کوئی چیز لی جاتی ہے تو اس کی شرط پہ لی جاتی ہے، اپنی شرط پہ نہیں۔ جب بھی کسی بھی ڈاکٹر سے آپ کوئی چیز لیتے ہو، تو کیا ڈاکٹر کی شرط پہ لیتے ہو یا اپنی شرط پہ لیتے ہو؟ وہ ڈاکٹر کہتا ہے میں اس وقت فارغ ہوں۔ یہ میرا private time ہے، آپ جا سکتے ہو اس کے پاس؟ نہیں جا سکتے۔ ظاہر ہے وہ اس کا private time ہے، ٹھیک ہے، ظاہر ہے اس نے private کام کو بھی تو کرنا ہے نا۔ تو ایسی صورت میں وہ وہ آپ کو entertain نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں میرے clinic کا time ہے اس میں آپ آئیں گے۔ پہلے appointment لیں گے۔ کیونکہ مجھ سے دوسرے لوگ بھی میرے پاس آتے ہیں۔ اب وہ کہے نہیں جی میرا کام بڑا اہم ہے۔ کہتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والا تو کون ہے؟ تیرا کام بڑا اہم ہے باقی لوگوں کا کام آپ کو کیا پتا؟ کہ کس کا کیا کام ہے۔ تو اس کا یہ ہے کہ جس سے بھی لیا جاتا ہے، اس کی شرط پہ لیا جاتا ہے۔ اپنی شرط پہ نہیں لیا جاتا۔ جو اپنے شرط پہ لینا چاہتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔ ہمیشہ کا قانون ہے۔ جو اپنی شرط پہ لینا چاہتا ہے وہ محروم رہتا ہے۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے ہارون الرشید نے کہا میرے شہزادوں کو آپ پڑھائیں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ تشریف لائیں ہمارے ہاں۔ فرمایا ممکن نہیں۔ میں تو مدینہ منورہ سے نکلتا نہیں۔ اچھا، تو پھر آپ کے درس میں بھیج دیں لیکن ان کو آپ علیحدہ پڑھائیں۔ فرمایا ممکن نہیں۔ علم کے لحاظ سے سب برابر ہیں۔ اگر یہ سب کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو بیٹھ جائیں، نہیں تو میرے پاس وقت نہیں۔ ان کے لیے علیحدہ وقت میرے پاس نہیں ہے۔ صاف انکار کر دیا۔ بادشاہ کو مجبور ہونا پڑا کہ اپنے شہزادوں کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے درس میں بغیر کسی امتیاز کے بٹھائے۔ کیونکہ اس کو پتہ تھا کہ انہوں نے نہیں ماننا۔ ٹھیک ہے نا؟

وجہ کیا تھی، اس کی اصلاح کرنی ضروری تھی کہ بھئی یہ والی بات کہ جب بھی آپ مانگیں گے تو کسی سے بھی مانگیں گے، تو اس کی شرط پر مانگیں گے، اپنی شرط پر نہیں۔ جب آپ نے اپنی شرائط طے کروانی شروع کر دیں تو پھر اس کا ہے محرومی کا دن شروع ہو گیا۔ کیوں؟ ایسے مصلح کے اوپر آپ جبر اگر کریں گے تو اس کا دل آپ کے ساتھ نہیں ہو گا۔ اور یہ کام ذہن کا ہے نہیں۔ جب دل آپ کے ساتھ نہیں ہو گا، ذہن کا ہے نہیں، تو آپ اس کا زیادہ سے زیادہ ذہن کو تو کنٹرول کر سکتے ہیں دل کو تو نہیں کنٹرول کر سکتے۔ دل کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا یا اللہ میں جہاں تک میرے اختیار میں ہے سب بیویوں کے درمیان عدل کرتا ہوں لیکن دل کا معاملہ تیرے سپرد ہے، اے اللہ اس پہ میرا قابو نہیں ہے۔ دل کس کی طرف جھکتا ہے؟ یہ تو تیرے قبضے میں ہے، یہ تو اس میں میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ میرے لیے غیر اختیاری ہے۔ لیکن معاملہ سب کے ساتھ اختیاری طور پہ جو ہوگا، وہ سب کے ساتھ برابر ہوگا۔ کلیہ بتا دیا یا نہیں بتایا؟

تو یہ معاملہ جو ذہن کا ہے نہیں۔ تو اب مجھے بتا دیں کہ آپ اس کا دل اب جب تک آپ نے نہ لیا ہو، اس وقت تک آپ کو کیسے فائدہ ہوگا؟ دل آپ اس کا تب لے سکیں گے جب اس کے اصولوں پہ چلیں گے۔ جب اس کے طریقے پہ چلیں گے، جب وہ جیسے بتائیں گے اس طریقے پہ کریں گے، تو پھر وہ ہوگا۔ تو یہ باتیں بہت ضروری ہیں۔ بعض چیزیں اس میں ایسی ہوتی ہیں کہ وظیفہ ایک ہوتا ہے۔ لیکن دیتے وقت جو دینے والے کی قلبی کیفیت ہے وہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسفر ہو رہی ہوتی ہے۔ اب بتا دو۔ اس کے پھر کوئی کیا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ جو اس کی قلبی کیفیت ٹرانسفر ہو رہی ہے۔ جو اس کو enhance کر رہی ہے یا پھر گرا رہی ہے، تو ایسی صورت میں تو پھر ظاہر ہے نتیجہ تو مختلف آئے گا نا۔ نتیجہ مختلف آئے گا۔ تو لہٰذا جب دل لینے والی بات ہے، تو پھر انہی کے اصولوں پہ کرنا ہو گا۔ جیسے اصول وہ طے کر لیں، اسی طریقے اور وہ اصول بے شک آپ کو کتنے ہی کمزور نظر کیوں نہ آئیں۔ لیکن ملے گا انہی اصولوں پر۔ کیوں؟ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل ہوتی ہے۔

اگر طریقے سے کام کیا جائے، تو لاکھوں کا کام بن سکتا ہے۔ بے طریقے کا کام کیا جائے، تو دو کا بھی نہیں بن سکتا۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پہ نوے لاکھ لوگ مسلمان ہوئے تھے نا۔ نوے لاکھ لوگوں تک آج کل کے دور میں بات پہنچانا مشکل ہے۔ آج کل کے دور میں، صرف بات پہنچانا، اب مجھے بتائیں نوے لاکھ لوگوں کو کیسے بات پہنچائیں گے؟ سب کو جمع کرنا ممکن ہے؟ آپ ان کو کسی ریڈیو کے سامنے بٹھا سکتے ہیں سب کو؟ سب کو ٹی وی کے سامنے بٹھا سکتے ہیں؟ نوے لاکھ لوگوں کو؟ بھئی کیا ہے؟ چوں چوں کا مربہ ہے، پتا نہیں کوئی کہاں ہے کوئی کہاں ہے۔ کیسے آپ کریں گے؟ آج کل کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ تو اس دور کے اندر کیسے ممکن ہو گیا؟ مجھے بتا دیں آپ۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ اللہ کی مدد تھی نا۔ تو اللہ کی مدد کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتے، اور جب اللہ کی مدد ہوتی ہے تو پھر ایسے ہوتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جتنے بھی غزوات ہوئے ہیں دونوں طرف سے صرف چودہ سو لوگ کام آئے ہیں۔ ان میں مسلمان جو شہید ہوئے وہ بھی شامل ہیں، جو کفار مر گئے وہ بھی شامل ہیں۔ چودہ سو کے loss پر اتنی بڑی achievement، کوئی تصور کر سکتا ہے؟ اندازہ کریں۔ انقلاب آ گیا اور ایسا انقلاب جس نے دنیا کو ہلا دیا۔ لیکن وہ صرف چودہ سو آدمی کام آئے جس میں مسلمان بھی شہید ہوئے اور جو کافر ہیں وہ بھی۔ اتنی بڑی اللہ تعالیٰ کی مدد اس میں شامل تھی۔ تو اس کا یہ ہوا کہ یہ بنیادی بات ہے کہ جو برکت ہے نا برکت، وہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔ لیکن وہ تب ہی ہوتی ہے جب ان اصولوں کا اتباع کیا جائے۔

اور ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ پہلی دفعہ جو مجھ سے لوگ بیعت تھے، تو ان کو جب پتہ چلا کہ سلسلے کا فروغ ہو گیا اور بہت سارے لوگ بیعت ہو گئے نا تو ان کے ساتھ بڑی فکر ہو گئی۔ تو مجھے انہوں نے اطلاع پہنچائی کہ اب تو ہماری باری نہیں آئے گی۔ اب تو ہماری باری کیسے آئے گی؟ ظاہر ہے اتنے سارے لوگ ہو گئے۔ تو میں نے ان کو ایک جواب دے دیا۔ میں نے کہا دیکھو اگر کسی افسر کو ایک mess میں سو آدمیوں کو کھانا مہیا کرنے پہ مقرر کیا گیا ہو۔ اور سو پیکٹس اس کے لئے ان کو ملتے ہوں۔ اب اگر وہ افسر ترقی کر لے اور اس کو ہزار کے mess پر نگران بنا دیا جائے۔ اور ہزار لوگوں کے پیکٹس اس کو مہیا کئے جائیں، کچھ مسئلہ ہو گا؟ کچھ مسئلہ ہو گا؟ بہت صحیح بات ہے۔ تو آپ اس کی فکر نہ کریں کہ لوگ زیادہ ہو گئے۔ اپنا تعلق مضبوط کریں۔ وہ آپ کے اپنے دل میں ہے۔ آپ کے مسئلے کا حل آپ کے دل میں موجود ہے۔ آپ کے مسئلے کا حل آپ کے دل میں موجود ہے۔ شیخ کا معاملہ تو اللہ کے سامنے ہے وہ تو سب کے لیے ہے۔ اس میں مسئلہ نہیں ہے۔

اس کے الطاف شہیدی تو ہیں مائل سب پر تجھ سے کیا بیر تھا گر تو کسی قابل ہوتا

وہ تو اللہ کے ظاہر ہے وہ تو سب کے اوپر مائل ہے۔ وہ کیا بات ہے کہ تجھے نہیں ملا اور باقی، نہیں نہیں اگر، اگر تجھ میں کوئی بات ہوتی تو ضرور تجھے بھی ملتا۔ نہیں ملا تو کچھ نہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو تلاش کرو۔ اور وہ مسئلہ اختیاری ہو گا، یہ بھی یاد رکھیے۔ وہ مسئلہ اختیاری ہو گا۔ وہ غیر اختیاری نہیں ہو گا۔ کوئی درمیانی گڑبڑ ہو گی، وہ اختیاری گڑبڑ ہو گی۔ جو کہ مسئلہ بن رہا ہے۔ اس مسئلے کو تلاش کر لو، بس اس مسئلے پہ قابو پا لو، آپ کو بھی مل جائے گا، سب کو ملتا ہے۔ دینے والا تو اللہ ہے انسان تو نہیں ہے۔

تو یہ والی میں یہ بات عرض کرتا ہوں یہ باتیں اس لیے ضروری ہیں کہ آج کل ان چیزوں کے بارے میں ایسے اشکالات ہوتے ہیں کہ شیطان پھر ان کو بہت دور لے جاتا ہے۔ مایوس کر دیتا ہے اور یہ بالخصوص اس لائن کا جو مایوس ہوتا ہے پھر کہیں نہیں چلتا۔ کیونکہ ایک انسان ہے، بھئی میں ادھر پہنچ گیا وہاں بھی میرا کام نہیں ہو گیا، تو پھر اس کے بعد کہاں ہو گا؟ لہٰذا ایسا مایوس ہو جاتا ہے بیچارہ، جس کو چکنا گھڑا کہتے ہیں نا، چکنا گھڑا بن جاتا ہے پھر اس کے اوپر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔ وہ کہتا ہے بس ٹھیک ہے جی رلتے رہو، تم ہو ہی اس طرح، تمہاری قسمت ہی ایسی ہے۔ اب جب اس کے ذہن میں یہ بات آ جائے پھر اس کو اس کی اصلاح کی امید کیا کی جائے۔ مایوس۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مایوسی جو ہے کفر کے قریب کر دیتی ہے۔ مایوس نہیں ہونا چاہیے، عمل کرنا چاہیے لیکن اصولوں کے ساتھ، تو یہ اصول آپ کے سامنے آ گئے ہیں۔ تو یہ دو باتیں تو یہاں پہ طے ہو گئیں اطلاع اور اتباع۔

تیسری بات بھی حضرت نے مختلف اوقات میں کی ہے لیکن جب آئے گا تو آئے گا لیکن میں اس کے ضمن میں کر لیتا ہوں۔ تیسری بات یہ ہے اعتقاد، یہ اعتقاد کہ میرا شیخ میرے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ بے شک کوئی بہت بڑا شیخ کیوں نہ ہو دوسرا، آپ اس کی بڑائی سے انکار نہ کریں کیونکہ وہ اللہ کی دین ہے۔ اس کی بڑائی سے انکار نہ کریں لیکن کہیں میرے لیے میرا شیخ سب سے بڑا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔

ایک دفعہ حضرت میخبند بابا جی رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑی نسبت والے تھے تقریباً 140 سال کی عمر میں فوت ہوئے، پہاڑ میں رہتے تھے بہت اونچی نسبت تھی، سادات میں سے تھے۔ اور قادری سلسلہ نقشبندی سلسلے کے بہت بڑے شیخ تھے۔ ان کی خدمت میں ہم گئے۔ اب ظاہر ہے ان کے جو احوال تھے حالات تھے متاثر ہونا تو ضروری تھا۔ متاثر ہو گیا نا میں بھی متاثر ہو گیا کہ بھئی اتنا بڑا عمر کا اور پتہ نہیں کتنے بزرگوں سے ملا ہے اور کیا کیا کیا ہوا ہے اور پہاڑ میں ابھی تک رہتا ہے اور اللہ پاک نے ان کو کیا کیا کچھ دیا ہوا ہے یہ ذہن کا اثر تو ہونا تھا نا۔ ہو گیا۔ اب بچانے والا بھی تو ہے نا۔ اللہ بچاتا ہے۔ لیکن انسان اگر بچنا چاہے تو۔ اللہ بچاتا ہے۔ حضرت کی مجلس میں میں بیٹھا ہوں۔ مجھے کشف نہیں ہوتا۔ یقین جانیے میں آپ کو لکھ کے دے سکتا ہوں مجھے کشف نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے وہ بتاتے ہیں کہ ان کو کشف ہے، کشف مجھے نہیں ہوتا۔ کیونکہ کشف کوئی مقصود چیز ہے نہیں۔ اس کے لیے نہ رویا جائے نہ اس کے لیے بولا جائے۔ ٹھیک ہے، جس کو دیتے ہیں تو ویسے ہی دے دیتے ہیں بغیر بولنے کے بغیر رونے کے دے دیتا ہے، اور جس کو نہیں دیتا وہ تو رونے کے ساتھ بولنے کے ساتھ بھی نہیں دیتا، ٹھیک ہے نا؟ تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کے بارے میں فکر کی جائے۔ تو مجھے کشف نہیں ہوتا۔

لیکن اس وقت مجھے جو محسوس ہوا وہ صرف محسوسات کے دائرے کی بات ہے۔ مجھے میں اس کو کشف بھی نہیں کہہ سکتا میں اس کو صرف محسوسات کہہ سکتا ہوں۔ محسوس یہ ہو گیا کہ جیسے میرے ارد گرد پورا ایک دائرہ ہے۔ اپنے شیخ کا مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا۔ جس سے میں نکل نہیں سکتا۔ اب یہ میں محسوسات ہی کہوں گا نا اس کے بارے میں مجھے کیا پتہ کہ یہ کیا چیز تھی۔ اللہ کو پتہ اللہ کو علم۔ تو میں اس سے نہیں نکل سکتا۔ اس وجہ سے میری طبیعت پہ زبردست قسم کا انقباض طاری ہو گیا۔ جس کو تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بھی محسوس کر لیا۔ تو بعد میں مجھ سے پوچھا آپ کی طبیعت پہ میں انقباض دیکھ رہا تھا۔ کیا وجہ تھی؟ میں نے کہا حضرت بس کوئی بات تھی۔ میں نے ان کو نہیں بتایا کیونکہ ان کے تو شیخ تھے نا۔ میخبند بابا جی ان کے شیخ تھے، میں نے کہا ان کو ذرا بات ایسا محسوس نہ ہو، لہذا میں نے ان کو یہ بات نہیں بتائی، میں نے کہا بس ایسی کوئی بات تھی۔

خیر، رات کو میں نے خواب دیکھا کہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ بہت زیادہ عمر کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے علاج آ گیا۔ یہ علاج تھا کہ چونکہ میں ان کی عمر سے متاثر تھا تو اللہ پاک نے مجھے دکھا دیا کہ تو اس کو نہ دیکھ تیرے لیے تیرا شیخ بہت اونچی عمر کا ہے۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا۔ تجھے سب کچھ یہاں سے ملے گا تو کیوں، دینے والا تو خدا ہے نا۔ بھئی ایک کھڑکی یہ بھی کھڑکی ہے وہ بھی کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی سے دینے والا بھی خدا اس کھڑکی سے دینے والا بھی خدا، تو تمہیں کسی بھی کھڑکی کے سامنے کھڑا کیا جائے بس تم اس کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو جاؤ نا تمہارا کام تو کھڑا ہونا ہے اس کے بعد وہ دینے والا تو خدا ہے نا۔ اب ادھر کا آدمی جو بیٹھا ہوا ہے وہ بھی خدا نے بٹھایا ہے، اس آدمی کو بھی خدا نے بٹھایا ہے، دینے والا تو خدا ہے۔ تو مانگنا تو خدا سے ہے نا۔ چاہے وہ کسی بھی ذریعے سے آپ کو دلوا دے، لیکن مانگنا تو خدا سے ہے نا۔ تو یہ بات سمجھ میں آ گئی نا۔

تو یہ بات یہ ہے کہ یہ جب لوگ اس اس قسم کی بات کرتے ہیں اوہ فلاں شیخ، افوہ، آپ حضرات جانتے ہوں گے، حدیث شریف میں، احادیث شریف کا جو رجال کا جو فن ہے۔ اس میں ایک اصطلاح ہوتی ہے۔ اور وہ اصطلاح ہوتی ہے مدلس کی۔ تدلیس۔ وہ اصطلاح یہ کہلاتی ہے کہ کوئی اپنے استاد پر شرمائے۔ اس کا نام نہ لے اور اس کے استاد یا اس سے بڑے کا نام لے کہ میں نے اس سے سنا ہے۔ اگر یہ کسی پہ ثابت ہو جائے تو اس کو حدیث کے فن میں کہتے ہیں یہ مدلس ہے۔ اس کی حدیث کمزور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اس کو اپنے شیخ کا نام ظاہر کرنے پہ شرم آ رہا ہے۔ یہ کمزوری ہے۔ میں آپ، میں نے آپ کو حدیث کے فن کی دلیل دی ہے۔ جو ظاہر سے تعلق رکھتی ہے۔ ٹھیک ہے نا، تو اس میں ، تو اس کا ہے جو اپنے شیخ پہ شرمائے کہ میرا شیخ چھوٹا ہے۔ اور دوسرے کا تو وہ مدلس ہے طریقت میں۔ اس کا کچھ بھی نہیں ہو گا۔ وہ مدلس ہے۔ اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔

کیونکہ ملتا ہر ایک کو اس اعتقاد کے مطابق ہے۔ تو اس کا اعتقاد اس کے ساتھ کیا ہے۔ جس کا اعتقاد جس درجے کا ہوگا اس درجے کا اس کو ملے گا۔ لہذا کہتے ہیں ہمارے اکابر نے لکھا ہے کہ اپنے شیخ کو تمام مشائخ سے اپنے لیے زیادہ مفید سمجھو۔ آپ کو اسی کے مطابق ملے گا۔ آپ نے ان کے ساتھ جو اعتقاد منسوب کیا ہے وہی اسی اعتقاد کے مطابق ملے گا کیونکہ دینے والا خدا ہے۔ آپ کا اعتقاد یہ tap کو کھولنے کی بات ہے۔ آپ اپنا tap کو جتنا کھولیں گے تو اتنا پانی آئے گا۔ ٹھیک ہے نا۔ پانی تو نل کے ذریعے سے ٹینکی سے آ رہا ہے۔ tap میں تو نہیں ہے tap تو خالی ہے۔ جب تک وہ نلکے کے ساتھ وابستہ نہ ہو تو tap میں کیسے پانی آئے گا۔ آئے گا تو نل کے ذریعے سے ٹینک سے آئے گا۔ تو کھولیں گے آپ تو وہ جو آپ کا اعتقاد ہے وہ کھولنا ہے۔ اس کے ساتھ رابطہ اطلاع اتباع اعتقاد۔ ٹھیک ہے نا یہ کیا چیز ہے یہ آپ کا کھولنا ہے۔

تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی تو اس کے بعد پھر چوتھی بات ہے انقیاد۔ اپنے آپ کو شیخ کے ساتھ مقید رکھنا۔ بس اسی کا ہو کے رہ جانا۔ کسی اور کے ساتھ اس سلسلے میں رابطہ نہ کرنا۔ یعنی اس روحانی علاج کے لیے کسی اور کے ساتھ رابطہ نہ کرنا۔ ٹھیک ہے آپ سب کو بڑا سمجھیں سب کی عزت کر لیں مسئلے مسائل سب سے پوچھیں۔ مسئلوں پہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ اگر میں مثال کے طور پر میں نماز سیکھنا چاہتا ہوں آپ ایک بچے سے بھی سیکھ سکتا ہوں۔ اس پہ کوئی پابندی نہیں ہے۔ لیکن اگر ایک شخص ایک عام شیخ سے بیعت ہے۔ ایک آدمی ایک عام شخص سے بیعت ہے۔ وہ اس وقت کے قطب الاقطاب سے بھی اپنا حال ظاہر نہیں کر سکتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا۔ وہاں اس کو نقصان ہو جائے گا۔

مسئلہ ہر ایک سے پوچھ سکتا ہے۔ ظاہر جو مسائل ہوتے ہیں وہ ہر ایک سے پوچھے جا سکتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں۔ استاذ آپ کے ہزار سے بھی زیادہ ہو جائے تو کوئی پرواہ نہیں شیخ ایک ہونا چاہیے۔ استاذ اور شیخ میں فرق ہے۔ استاذ آپ کو جو چیز سکھاتا ہے ظاہر کا اس کا check ظاہر کا ہے لہذا اس میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن یہ جو شیخ والا معاملہ ہے یہ آپ کے دل کے تاروں کو چھیڑ رہا ہے۔ یہ والا معاملہ گڑبڑ ہے۔ اگر یہ آپ نے کئی لوگوں کو لگا دیا ایک اس طرف کھینچے گا دوسرا اس طرف کھینچے گا درمیان میں آپ کا حشر ہو جائے گا۔ پھر کیا کرو گے۔ تو اپنا دل کو expose نہ کرو سب کے سامنے۔ دل کو expose نہ کرو۔ یہ معاملہ جدا ہے. ہاں! علمی line وہ آپ کا کھلا ہے۔ اور یہ معاملہ بہت کم لوگوں کو سمجھ میں آتا ہے۔ بہت کم لوگوں کو سمجھ میں آتا ہے۔

ابھی میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ہمارے یہاں پر plumbing کا مسئلہ ہے۔ تو ابھی ہم تلاش میں ہیں کہ یہ کس نے یہ کام کیا ہے کہ جس نے یہ کام کیا ہے اسی سے اس کو ٹھیک کروایا جائے۔ کیونکہ پھر یہ ہوگا کہ باقی لوگوں کو تو ساری چیزیں ڈھونڈنی پڑیں گی نا۔ کہ بھئی کہاں کہاں پر کون سے وہ لیکن جس نے وہ کام کیا اس کو پتہ ہوتا ہے کہ میں نے کون سا کام کدھر کیا ہے۔ وہ میں نے ہرنیا کا آپریشن کیا ہوا تھا تو اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہو رہے تھے تو ڈاکٹر آپ کے پرنسپل جو تھے، پروفیسر اقبال صاحب ان سے کروایا تھا۔ تو ان کے پاس یا تو میں نے ان سے کہا کہ یہ مسئلہ ہے کہتے ہیں i know it better میں نے خود کیا ہے مجھے پتہ ہے اس کے اندر میں نے کیا کیا ہے۔ اب دیکھ لیں اس کو دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اس کو کہتے ہیں میں نے مجھے پتہ ہے کہ اس کے اندر میں نے کیا کیا ہے۔ بس چپ ہو جاؤ آپ۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔ اب وہ اتنے confidence سے کون کہہ سکتا تھا۔ کوئی اور سرجن کہہ سکتا تھا۔ بے شک اس سے بڑا سرجن ہو۔ وہ کہہ سکتا تھا؟ وہ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ اس کو پتہ ہی نہیں تھا وہ تو اس نے پھر دوبارہ دیکھنا تھا۔ چاہے وہ ultrasound کے ذریعے دیکھے چاہے وہ کسی اور ذریعے سے دیکھے۔ چاہے دوبارہ operation کر کے دیکھے لیکن بہرحال وہ تو نہیں کر سکتا تھا۔

وہ میں نے اس کو بتایا وہ ڈاکٹر ہاشمی صاحب کو اپنے بیٹے کا ہرنیا کا آپریشن کروانا تھا۔ تو یہ ایسا عجیب آدمی تھا چھوٹا سا تھا میرا خیال میں تین سال کا یہ تین تین سیڑھیوں سے اے ہوں کر کے چھلانگ مار لیتا تھا۔ تو یہ اس کا مشغلہ تھا احمد کی بات کر رہا ہوں یہ اس طرح کرتا تھا۔ تو اس پر ہمیں بڑا مشکل تھا کہ ہرنیا کا operation ہے اور اس میں تو بڑی احتیاط ہوتی ہے پھر اس کے بعد post operation بڑی احتیاط ہوتی ہے۔ اور اس کا یہ operation کریں گے بچہ ہے اس نے تو چھلانگ لگانی ہے۔ یہ کیا کرے گا۔ تو ڈاکٹر ہاشمی صاحب سے میں نے کہا۔ میں نے کہا یہ میرا بچہ ہے یہ تو تین سیڑھیوں سے چھلانگ لگاتا ہے۔ تو اگر اس کا آپ نے آپریشن کیا اور اس کے بعد اس نے سیڑھیوں سے چھلانگ لگائی تو کیا ہوگا۔ کہتے ہیں مجھے بچوں کا پتہ ہے میں بچوں کا آپریشن جب کرتا ہوں میں تمام چیزوں کا خیال رکھتا ہوں۔ یہ بے شک اگلے دن چھلانگ لگائے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ٹھیک ہے جی الحمدللہ تو ٹھیک ہی ہو گیا۔

تو میں عرض کرتا ہوں یہ ہوتے ہیں ہر چیز کا جو ماہر ہوتا ہے۔ وہ اس چیز کو جانتا ہے کہ میں علاج کس کا کر رہا ہوں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اس میں کیا کیا ہوا ہے۔ آپ دیکھ لیں ایک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں وہ آپ کا family doctor ہے۔ آپ اسی کے پاس جاتے ہیں اور آپ اس سے سب کچھ آپ اس سے دوائیاں وغیرہ کراتے ہیں علاج وغیرہ کرواتے رہتے ہیں۔ اب کسی وقت آپ کو کوئی مسئلہ ہوا تو آپ کسی بھی ڈاکٹر سے ٹیلیفون پر مشورہ لے کر وہ علاج نہیں کروا سکتے advisable نہیں ہے۔ جب تک وہ check نہ کرے۔ لیکن جو آپ کا فیملی ڈاکٹر ہے اس سے کروا سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ آپ کی رگ رگ کو جانتا ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ کیا کیا مسائل ہیں۔ آپ نے کہہ دیا جی اب تو میرا یہ مسئلہ ہے انہوں نے کہا نہیں نہیں اس کے ساتھ یہ کر لو بس یہ دوائی دو اس کو یہ ٹھیک ہو جائے گا۔ کبھی کہتے ہیں نہیں اس کو دوائی دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ ویسے مسئلہ ہے۔ کیوں؟ اس کو اتنا سارا ڈیٹا آپ نے دے دیا ہے۔ اتنی ساری انفارمیشن آپ کی اس کے پاس ہے کہ وہ آپ کو دوبارہ تازہ انفارمیشن کی اس کو ضرورت نہیں ہے۔ وہ بس ٹھیک ہے اپنے علم کو اور بصیرت کے ذریعے سے اس نئے situation کے اندر وہ فورا فیصلہ کر سکتا ہے۔

یہی ایک شیخ کا بھی ہوتا ہے کہ جس شیخ کے ساتھ آپ کا مستقل تعلق ہوتا ہے۔ وہ بعض دفعہ آپ اس کے سامنے گزریں گے نا تو اس کو پتا چل جائے گا اس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ وہ آپ کے احوال کھول دیں گے ان کے اوپر۔ تو اس کا یہ ہوا کہ یہ یہ چیز لازمی ہو گئی کہ شیخ ایک ہونا چاہیے۔ استاد کئی ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بہت ہی زیادہ ضروری ہے۔

تو چار چیزیں حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔ ایک بیت میں فرمایا۔

چار حق مرشد کے ہیں رکھ ان کو یاد اطلاع و اتباع و اعتقاد و انقیاد

یعنی چار چیزوں کو یاد رکھنا چاہیے۔ ایک اطلاع ہے، آپ اطلاع کریں گے۔ ایک اتباع ہے، جو بتائیں گے اس کو فالو کریں گے۔ تیسرا اعتقاد ہے کہ یہ میرے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، افضل نہ کہو۔ افضل اللہ کا معاملہ ہے۔ اس کا تو اس شخص کو بھی پتہ نہیں، جس کو افضل کہتے ہیں اس کو بھی پتہ نہیں۔ اور جس پر ترجیح دے رہے ہو، اس کو بھی پتہ نہیں۔ آپ کو بھی پتہ نہیں۔ یہ صرف اللہ کو پتہ ہے۔ لہذا افضل کا معاملہ تو ہم اللہ کے حوالے کرتے ہیں، افضل نہیں۔ لیکن مفید۔ مفید اور چیز ہوتی ہے، افضل اور چیز ہوتی ہے۔ ایک چھوٹا ڈاکٹر آپ کے لیے مفید ہو گا، دوسرا اس سے افضل ہو گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو افضل نہ کہیں، آپ میرے لیے مفید کہہ لیں۔ سب سے زیادہ مفید آپ کے لیے وہی ہے۔ اور جب وہ مفید ہے تو آپ اسی کے ساتھ لگے رہنا ہے۔ اسی کے ساتھ۔ بس اسی کے ذریعے سے اللہ پاک آپ کی مدد کرے گا۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ اللہ تعالی ہم سب پر رحم فرمائے۔

حقیقتِ طریقت: اصلاحِ نفس کے اصول، ارکانِ سلوک اور حقوقِ مرشد(حصہ دوم) - انفاسِ عیسیٰ - دوسرا دور