راہِ سلوک کی حقیقت: مجاہدۂ نفس، آدابِ شیخ اور مسئلہ جبر و اختیار
درس 4، حصہ 1 باب 1 ملفوظات: مسئلہ اختیار، اشاعت اول: بدھ 5 اور 12 مئی، 2007 بمطابق: 17 اور 24 ربیع الثانی ، 1428 ہجری
ابتدا میں تربیتِ نفس کی دشواری اور مجاہدے کی ضرورت
سلوک کے ابتدائی دور کی سہولت (مٹھائی ملنا) اور اس کے بعد کا امتحان
شیخ و سالک کے تعلق کے آداب اور حدود
شرعی احکام پر عمل میں مشق اور تدریجی آسانی
قرآن و مولانا رومی کی روشنی میں مسئلہ جبر و اختیار
اسباب و ہمت (اختیار) اور دعا و برکت کا باہمی توازن
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
گزشتہ سے پیوستہ
فرمایا:
پس اختیار کا استعمال کرے گا تو کامیابی لازم ہے البتہ دشواری اور کلفت اول اول ضرور ہو گی۔
نفس ابھی train نہیں ہوا۔ جتنا نفس train نہیں ہے اتنا عمل مشکل ہے۔ مزاحمت ہے۔ مزاحمت ہے گھوڑا ابھی train نہیں ہوا اس کے اوپر چڑھنا مشکل۔ ہر وقت گرنے کا خوف۔ تو ابتدا میں لیکن جیسے جیسے اس کو آپ train کریں گے اتنے اتنے وہ آپ کے لیے آسان ہوتا جائے گا اس کے اوپر چڑھنا۔ اسی طریقے سے یہ والی بات ہے، ابتدا ابتدا میں تو مشکل ہو گی لوگ اسی ابتدائی مشکل سے گھبرا کر کام چھوڑ دیتے ہیں۔
لیکن ایک چیز جو تصوف کے اندر ملتی ہے اس کی بھی پھر قدر نہیں کی جاتی نا اس کے ساتھ بھی تو مسئلہ ہوتا ہے ہم تو ہر چیز کو خراب کر لیتے ہیں نا کہ جب کسی اللہ والے سے کسی کا تعلق ہو جاتا ہے اور انسان کام شروع کر لیتا ہے اس وقت ابتدا میں مٹھائی کھلائی جاتی ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ کی جو سنت عادیہ ہے وہ یہ ہے کہ اس کے لیے گویا کہ اس کی جو نفس کی جو خواہشات ہیں اس کو اپنی طرف سے depress کر لیتے ہیں۔ جیسے بے ہوشی کا injection لگاتے ہیں operation کے وقت۔ اچھا اب depress ہو گیا انسان عمل بھی کر رہا ہے، نفس کی خواہشات بھی depress ہو گئیں، یہ آدمی سمجھتا ہے میں تو بزرگ بن گیا۔ حالانکہ یہ صرف اس کو time دینے کے لیے کہ ابھی فی الحال ابتدا میں وہ جو کلفت ہے اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر سکے۔ ٹھیک ہے نا، اس کے لیے ہے۔ پھر جس وقت ہر ایک کے لیے اپنی اس میعاد ہوتی ہے، کسی کے لیے چھ مہینے ہوتے ہیں، کسی کے لیے چھ ہفتے ہوتے ہیں، کسی کے لیے چھ دن ہوتا ہے، کسی کے لیے کیا، کسی کے لیے کیا۔ ہر ایک کے لیے اپنا اپنا ہوتا ہے۔
اب جب ابتدا والا دور گزر جائے یا اس کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو ایک قسم کی بے ہوشی نفس کے لحاظ سے لائی جاتی ہے۔ جب یہ دور گزر جاتا ہے پھر وہ جو اصل جو طاقت ہے پھر دوبارہ عود کر کے آ جاتی ہے تو آدمی سمجھتا ہے افوہ یہ تو میرا سارا مجاہدہ ختم ہو گیا۔ پہلے جو بزرگی کی بات سمجھ میں آئی تھی وہ تو ساری کی ساری دھری کی دھری رہ گئی۔ آدمی سمجھتا ہے کہ میں تو پھر سے شیطان بن گیا۔ اس وقت بعض دفعہ شیخ پر بدگمانی ہو جاتی ہے۔ شیطان پھر اس سے بھی موقع لیتا ہے۔ شیخ پر بدگمانی ہو جاتی ہے، سلسلے پہ بدگمانی ہو جاتی ہے۔ اس پہ نہیں جاتے کہ بھئی ابھی تو مجھے اتنا وقت دے دیا گیا کہ اب میں اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لوں۔ اب میدانِ کارزار میں مجھے اتارا جانے لگا ہے اب مجھے وہی کرنا ہے جو مجھے بتایا جائے گا چاہے مجھے سمجھ آئے نہ آئے، چاہے مجھے مشکل لگے چاہے مجھے آسان، میں نے اب ہر حالت میں کرنا ہے۔ اسی کے لیے تو یہ دور دیا گیا تھا۔ اب جس کو یہ سمجھ میں آ گیا الحمد للہ وہ بچا۔
اس لیے کہ شیخ کے ساتھ بڑے رابطے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وہ عین موقع پہ بتاتا ہے۔ جس وقت جس قسم کی چیز کے بتانے کی ضرورت ہوتی ہے اس موقع کے مطابق وہ بات بتاتا ہے۔ شیخ کے ساتھ بھی عموماً ہمارا تعلق اس طرح ہوتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری مرضی کے مطابق شیخ چلے۔ ہماری مرضی کے مطابق شیخ چلے، کس طرح چلے ایک تو ہم اپنی مرضی کے مطابق اس سے پوچھیں گے اور اس کو ہماری مرضی کے مطابق بتانا چاہیے۔ مطلب یہ ذہن کے اندر تو یہی ہوتا ہے باقی تو بہرحال ہر ایک کی اپنی اپنی بات ہے لیکن بہرحال یہ ہے کہ راستہ چلتے ہوئے، بے شک وہ نماز کے لیے جا رہا ہو ہم نے خواب سنانا شروع کر لیا۔ میں نے خواب دیکھا ہے بھئی خدا کے بندے وہ نماز کے لیے جا رہے ہیں تم نے خواب سنانا شروع کر لیا، یہ کوئی طریقہ ہے؟ اب یہ ہے کہ آپ نے وہ کہ نہیں جی مجھے جی میرا یہ حال ہے خدا کے بندے ہر چیز کا اپنا وقت ہوتا ہے کوئی طریقہ ہوتا ہے۔
بعض دفعہ ڈاکٹر لوگ جو ہوتے ہیں یہ جو بڑے سپیشلسٹ ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ اب ان کے پاس کوئی مریض جاتا ہے تو وہ اس کو جتنا ایجوکیٹ کر سکتا ہے وہ اس کو ایجوکیٹ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ آتے ہیں تو تنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ دوسروں کے حوالے کر دیتا ہے کہتے ہیں ان کو سمجھاؤ آپ۔ کیونکہ ظاہر ہے مریض تو بیچارہ پریشان ہوتا ہے وہ تو یہ بھی پوچھتا ہے یہ اس کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کا سارا پوچھنا فضول ہے۔ اصل باتیں میں بتا چکا ہوں۔ یہ تو صرف اس وقت ایک مشکل میں اس کو اضطراری حالت کی وجہ سے اس طرح پوچھ رہا ہے ورنہ اس کے پوچھنے کی ضرورت نہیں میں وہ ساری چیزیں اس کو بتا چکا ہوں۔ لیکن وہ مریض ہے کہ وہ کبھی اس کو راستے میں کبھی کیا کبھی کیا۔ تو کیا کسی کو کہنے کی اجازت ہوتی ہے ادھر؟ کلینک میں جا سکتے ہیں اندر پھر کوئی؟ پیسے بھی دیے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کلینک میں کوئی جا سکتا ہے؟
شیخ کے لیے یہ نہیں بے شک پیسے بھی میں نے نہ دیے ہوں لیکن میری مرضی کے مطابق میرا علاج کرو۔ شیخ تو اس کو دیکھتا ہے کہ بھئی ٹھیک ہے میں نے ایک بات بتا دی اب اس کو نتیجہ ظاہر ہونے دو پھر اس کے بعد۔ وہ خود بعض دفعہ تو اس کے چہرے سے پتہ چل جاتا ہے آپ کے بتانے کی بھی ضرورت نہیں ہو گی لیکن اگر ایسی بات نہیں ہے آپ بتائیں گے تو بتانے کا ایک طریقہ ہو گا۔ آپ دے دیں خط اب وہ پڑھ لے بے شک جواب دے جواب نہ دے۔ جواب دینا ہر وقت ضروری نہیں ہوتا۔ حال کو بتانا ضروری ہوتا ہے اس کے بارے میں دوبارہ جواب لینا ضروری نہیں ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ صرف اس کے لیے information ہو آپ کے لیے ہو ہی نہیں۔
یہ جو medical test ہوتے ہیں جو کرتے ہیں ہم یہ report کس کو دیتے ہیں آپ کے لیے ہوتے ہیں یا doctor کے لیے ہوتے ہیں؟ وہ doctor کے لیے ہوتے ہیں نا۔ اب doctor کو آپ نے report دے دی doctor نے دیکھ لی کیا ضروری ہے کہ وہ آپ کو بتائے کہ کیا چیز ہے؟ بعض دفعہ نہ بتانا ضروری ہوتا ہے۔ بعض دفعہ نہ بتانا ضروری ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ رکھ لے گا اچھا ٹھیک ہے جی کوئی بات نہیں، جاؤ۔ لیکن اس نے تو note کر لیا نا کہ مسئلہ کیا ہے۔ وہ تو اس کی سمجھ میں تو بات آ گئی۔ اس طرح ہی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ آپ کے احوال یا آپ کے خواب یا جو بھی چیز ہے وہ صرف information ہوتی ہے شیخ کے لیے۔ آپ کے لیے نہیں ہوتی۔ آپ اس کو communicate کر لیں properly جیسے آپ کو بتایا جائے۔ اس کے بعد آپ زور نہ دیں کہ خوامخواہ آپ کو اس کے بارے میں بتا دیا جائے، نہیں۔ بتانے کی ضرورت ہو گی تو بتا دیا جائے گا۔ اور اتنا بتا دیا جائے گا جتنا بتانے کی ضرورت ہے اس سے زیادہ کا نہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اللہ جل شانہ کا اپنا معاملہ ہوتا ہے ہر ایک کے ساتھ۔ یہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ تو مشائخ کی بھی یہی بات ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنا اپنا ایک معاملہ بنایا ہوتا ہے کسی کے ساتھ کس طریقے سے deal کرتے ہیں کسی کے ساتھ کس طریقے سے deal کرتے ہیں۔ اور جن کو جس سے فائدہ پہنچانا ہوتا ہے ان کے لیے اسی کے مطابق حالات بناتے ہیں لیکن ہم لوگوں کو نہ تو بدگمانی کرنی چاہیے نہ تعجیل کرنی چاہیے۔ تعجیل میں بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔
تو فرمایا اول اول جو کلفت ہوتی ہے وہ تو ہوتی ہے لیکن اس کا علاج یہ ہے کہ
باوجود کلفت کے ہمت سے اور اختیار سے برابر بہ تکلف کام لیتا رہے رفتہ رفتہ وہ کلفت مبدل بسہولت ہو جائے گی۔ سارے مجاہدے بس اسی لیے کیے جاتے ہیں کہ اختیار اوامر اور اجتناب نواہی میں سہولت پیدا ہو جائے۔
یہ جتنے بھی مجاہدے کرائے جاتے ہیں چاہے اختیاری مجاہدے چاہے غیر اختیاری مجاہدے ہیں وہ اس لیے کیے جاتے ہیں کہ مطلب جو ہمارے جو شرعی اوامر اور نواہی ہیں چاہے وہ ظاہری ہیں چاہے باطنی ہیں۔ ظاہری مثال کے طور پر نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ اور باطنی مثال کے طور پر تکبر سے بچنا اور صبر کرنا، شکر کرنا، ریا سے بچنا، یہ باطنی ہیں اس کے اندر سہولت پیدا ہو جائے۔ سہولت پیدا ہو جائے اور یہ تبھی ہو گا کہ جب ہم چلتے رہیں اسی کے مطابق جیسے کہا جائے۔
اور اوّل اوّل تو ہر کام مشکل ہوتا ہے مگر کرتے کرتے مشق ہو جاتی ہے اور پھر نہایت سہولت کے ساتھ ہونے لگتا ہے، جیسے حفظ کا سبق شروع میں دشوار ہوتا ہے
بچہ ایک رکوع بھی آسانی کے ساتھ نہیں حفظ کر پاتا۔ اور اخیر میں بعض دفعہ پورا سپارہ ایک دن میں پڑھ لیتا ہے۔ سہولت ہو جاتی ہے اور پھر بعد میں تو یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ صرف ایک نظر ڈالنے سے ہی وہ سنانے لگتا ہے۔ اور بعض دفعہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ بغیر پڑھے ہی وہ سنانے لگتا ہے۔ ایسی حالت بھی ہوتی ہے کہ اس کو قاری نور اللہ صاحب کی طرح پوری رات کے اندر اس کو کھڑا کر دیں اور ایک ہی پورا قرآن سنا دے۔ اس کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی لیکن کیا قاری نور اللہ صاحب بالکل ابتدا میں ایسے تھے؟ جب اس کو پہلی دفعہ داخل کیا گیا تھا تو ویسے ہی تھے؟ ظاہر ہے ابتدا میں تو اس کو بھی میرے خیال میں ڈنڈے بھی پڑے ہوں گے اور بہت مشکلات بھی پڑی ہوں گی۔ ساری چیزیں بچوں کو ہوتی ہیں۔ لیکن بہرحال پھر بعد میں آسانی آ جاتی ہے۔
مگر رٹتے رٹتے یاد ہو جاتا ہے اگر شروع کی کلفت اور تعب کو دیکھ کر ہمّت ہار دی تو پھر کوئی صورت ہی کامیابی کی نہیں۔
مسئلہ اختیار:
مسئلہ اختیار کا اس قدر ظاہر ہے ہر شخص اپنے اندر صفت اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت ہوتی ہے اگر وہ اپنے کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی۔ انسان تو انسان جانوروں تک کو اس اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو مارنے والے پر حملہ کرتا ہے نہ کہ لکڑی پر۔ اس کو بھی یہ امتیاز ہوتا ہے کہ کون مختار ہے اور کون مجبور۔ حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے۔
زارئیِ ما شد دلیل اضطرار
خجلتِ ما شد دلیل اختیار
غرض نہ خالص جبر ہے نہ خالص اختیار ہے۔ اختیار خالص نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ماتحت ہے اختیار حق کے، مستقل اختیار نہیں ہے۔ غرض کہ سالک جب تک صفت اختیار کو استعمال نہ کرے گا۔ اصلاح ممکن نہ ہو گی، مثلًا کسی میں بخل ہے تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ و برکت سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہ ہو گا۔ بلکہ نفس کی مقاومت ہی سے زائل ہو گا گو ذکر و شغل وغیرہ معین ضرور ہو جائیں گے مگر کافی ہرگز نہیں ہو سکتے اس طریقہ میں تو کام ہی سے کام چلتا ہے نری تمناؤں یا نری دعاؤں سے کچھ نہیں ہوتا۔
کار کن کار بگذر از گفتار
کاندریں راہ کار باید کار
بہت ساری باتیں ایسی ہیں جو کہ سنتے سنتے لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھ جاتی ہیں۔ اور پھر وہ اتنی پکی ہو جاتی ہیں کہ جب حق کی بات ان کے سامنے کی جائے تو ان کو وہ حق کی بات کمزور نظر آتی ہے۔ حالانکہ وہ بات بڑی پکی ہوتی ہے۔ مثلاً اب ایک طرف آپ کسی بزرگ کا قول رکھیں اور دوسری طرف آپ اللہ پاک کے کلام کی کوئی آیت رکھیں۔ تو کس کو ترجیح ہو گی؟ ظاہر ہے اللہ پاک کے کلام کو ترجیح ہو گی کیونکہ اللہ پاک کا کلام وہ کامل ہے۔ باقی تو کوئی کامل نہیں ہو سکتا۔ اب اول تو ضروری نہیں کہ بزرگ کا قول جو آپ نے سنا وہ وہی ہے جو کہ آپ نے سنا۔ درمیان میں اس میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے، تو یہ بات ہے۔ دوسری بات جو آپ نے سنا کیا وہ اس کا واقعی وہی مطلب ہے جو آپ نے سمجھ لیا؟ اب اس میں ہزاروں باتیں آ سکتی ہیں۔ قرآن مستقل ہے، لہٰذا اس کے اندر کوئی درمیان میں نہیں ہے۔ تو اب یہ مسئلہ قرآن پاک میں بالکل وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ دو آیاتِ کریمہ کو لے لیں۔ ساری باتیں کلیئر ہو جائیں گی۔ ایک لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔ اللہ جل شانہٗ کسی کے اوپر کوئی ایسی چیز نہیں لازم کرتے جس میں اس کو طاقت نہ دی ہو۔ ہے نا بات؟ اس میں درمیان میں کوئی اور بات تو نہیں ہے۔ اور إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ اس کے اندر ساری باتیں فکس ہو جاتی ہیں۔
یہ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ میں ہماری اضطراری کیفیت ہے کہ اللہ جل شانہٗ کو سارے اختیارات حاصل ہیں۔ ہمارے تمام اختیارات اس کے اندر ہیں۔ اور لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جتنا اختیار ہمیں دیا ہے اس کے بارے میں بیان ہے۔ تو یہی بات حضرت نے بھی بیان فرمائی ہے۔
اب اتنی پکی باتیں ہیں لیکن کیا کریں؟ جب سنتے سنتے سنتے سنتے سنتے سنتے وہ بات ذہن میں بیٹھ جائے۔ تو پھر اس کا نکلنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کو مختلف طریقوں سے پھر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو مجدد کا کام ہوتا یہی ہے کہ وہ جو گرد و غبار پڑا ہوتا ہے بہت ساری چیزوں پہ۔ وہ گرد و غبار کو ہٹا کے صحیح چیز کو سامنے لے آتا ہے۔ تو تصوف میں جتنا گرد و غبار پڑا ہوا تھا۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس گرد و غبار کو ہٹا دیا۔ اور بالکل پھر سے وہی چیز جو کہ دین کی صحیح چیز تھی اس کو سامنے لے آئے۔ اس وجہ سے ہمارے اوپر ان کا بڑا احسان ہے کہ انہوں نے وہ باتیں جو کہ پکی باتیں تھیں لیکن گرد و غبار کی وجہ سے چھپ گئی تھیں وہ دوبارہ ان کو سامنے لے آئے اور ہم نے اس کا فائدہ اٹھا لیا۔
اب یہ جو میں نے آپ کو آیتِ کریمہ کا بتایا، یہ پہلے سے بھی آیتِ کریمہ موجود تھی۔ لیکن اتنا پورا ایک ذخیرہ موجود تھا کہ اس کے اندر اس کی جو صحیح manifestation تھا وہ دب گیا تھا۔ لہذا صحیح بات تک لوگ نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ اب حضرت نے یہ کام کیا ہے تو ہمارے لیے بہت آسان ہو گیا۔ اب ہم جو بیان کرتے ہیں لوگوں کی بھی سمجھ میں آ جاتا ہے، یہ برکت حضرت کی ہے۔ اگر یہ باتیں ہم اس وقت پہلے بتاتے تو شاید لوگ نہ سمجھتے، عوام تو عوام، مولوی لوگ بھی نہ سمجھتے۔ جو یعنی مطلب ظاہر ہے اسی کام کے لیے ہوتے ہیں۔ ان میں بھی ہزاروں اس قسم کی باتیں درمیان میں سنتے سنتے آ گئی تھیں۔ اب ان کے لیے ایک بہت بڑی ہستی کی ضرورت تھی کہ ان تمام چیزوں کی اصلاح کرے۔ تو حضرت نے یہ کام کر دیا الحمد للہ، اب ہمارے لیے یہ بہت آسان ہے، ہم بھی بیان کر لیتے ہیں اور حضرت کی برکت سے بیان فرما، کر لیتے ہیں۔
تو یہاں پر حضرت فرماتے ہیں کہ:
مسئلہ اختیار کا اس قدر ظاہر ہے ہر شخص اپنے اندر صفت اختیار کو وجداناً اور طبعاً محسوس کرتا ہے
مجھ سے جب بھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے مجھے اس پر افسوس ہوتا ہے۔ یہ افسوس جو ہے تو اس کا مطلب میں اس کا اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھتا ہوں۔ اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نے ایسا کیوں کیا؟ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ یہ والی بات، اگر میں نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ اپنے بیٹے کا علاج کر سکتا تھا، نہیں کیا، اس کی وجہ سے چلا گیا تو اپنے آپ کو ملامت کرتا رہوں گا، اوہو، میں نے اس کا علاج نہیں کیا، یہ نہیں کیا، وہ نہیں کیا۔ حالانکہ جانا جو تھا وہ تو جانا تھا۔ اس کا تو پہلے سے طے تھا۔ ہاں، مطلب ظاہر ہے، اگر میں لے بھی جاتا ڈاکٹروں کے پاس تو جانا تو تھا، وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہ ٹھہر تو نہیں سکتا تھا۔ ڈاکٹر ہی کوئی غلطی کر لیتے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ افسوس ہوتا ہے۔ تو یہ افسوس جو ہے یہ کس چیز کا اظہار کر رہا ہے؟ کہ میں اپنے آپ کو ذمہ دار سمجھ رہا ہوں۔
چنانچہ جب وہ کوئی ناشائستہ حرکت کرتا ہے تو خجلت ہوتی ہے اگر وہ اپنے کو مجبور سمجھتا تو خجلت کیوں ہوتی۔ انسان تو انسان جانوروں تک کو اس اختیار کا ادراک ہوتا ہے۔ دیکھیے اگر کسی کتے کو لکڑی ماری جائے تو مارنے والے پر حملہ کرتا ہے نہ کہ لکڑی پہ
آپ پتھر پھینکیں تو پتھر کو ایک نظر دیکھتا بھی نہیں۔ کتا پتھر کو ایک نظر دیکھتا بھی نہیں، وہ فوراً پتھر پھینکنے والے پہ حملہ کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب اس کو بھی پتا ہے کہ کون مجبور ہے اور کون مختار ہے۔ ارادہ کس کا ہے؟ جس نے ارادہ کیا ہے اس کے ساتھ وہ نمٹتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہ بات یہ کہ کتوں کو بھی۔۔۔
وہ کہتے ہیں کہ کیل کو ٹھونکا جا رہا تھا نا، دیوار میں۔ تو دیوار نے اس سے شکایت کی، ظالم، کیوں مجھے چیر رہے ہو؟ آخر تیرے میرے ساتھ کیوں دشمنی ہے؟ کہتی ہے، سر پر کس کی پڑ رہی ہے، یہ بھی تو پوچھو نا۔ جس کے سر پر پڑ رہی ہے، وہ جو سر پر ہے، اس سے وہ کیا کر سکتا ہے؟ مطلب یہ ہے، کیل کے سر پہ پڑ رہی ہے، تو ظاہر ہے، مطلب یہ ہے، وہ آگے جا رہی ہے۔ اب دیوار کا تو نظر آرہا ہے کیل کا۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان تو انسان، تو کتا جانور بھی مطلب اس کا ادراک کر لیتا ہے کہ کون مجبور ہے، کون سا مختار ہے۔
حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت سادہ اور سہل عنوان سے اس مسئلہ جبر و اختیار کو بیان فرمایا ہے۔
اب یہ مشکل باتیں تھیں، لیکن ان حضرات نے بہت آسانی کے ساتھ یہ بیان فرمائی ہیں۔ یہی ہمارے اوپر ان حضرات کا احسان ہے۔ فرمایا:
زارئی ما شد دلیل اضطرار
میں جب زاری کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سامنے تو یہ میرے اضطرار کی دلیل ہے کہ میرا فیصلہ کرنے والا کوئی اور ہے۔ میرا فیصلہ کرنے والا کوئی اور ہے، میں چاہے جتنا ہی کوشش کر لوں، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کہ ادھر سے، ادھر سے گرین سگنل نہ آ جائے۔
تو زاری ما شد دلیل اضطرار
خجالت ما شد دلیل اختیار
اور جب میں کسی چیز پر شرمندہ ہوتا ہوں، تو یہ میرے اختیار کی دلیل ہے کہ میں اپنے آپ کو مجبورِ محض نہیں سمجھ رہا بلکہ اپنے آپ کو مختار سمجھ رہا ہوں اور اس کی وجہ سے پھر میں استغفار بھی کرتا ہوں، توبہ بھی کرتا ہوں۔ اور میں وہ اپنے اندر کیا، وہ ایک محسوس کرتا ہوں، خجالت۔
غرض نہ خالص جبر ہے نہ خالص اختیار ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ انسان کتنا مختار ہے اور کتنا مجبور ہے؟ اس نے کہا کہ تم ایک پیر اٹھا لو۔ اس نے ایک پیر اٹھا لیا۔ اس نے کہا دوسرا بھی ساتھ اٹھا لو۔ کہتے یہ تو نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا بس اتنا اختیار ہے اتنا مجبور ہے۔ یعنی جو پہلا پیر اٹھانا، یہ تو اس کے اختیار ہے، لیکن ساتھ ہی دوسرا پیر اٹھانا یہ مجبور ہے۔ یہ نہیں کر سکتا۔ زمین اس کو کھینچ رہی ہے اللہ پاک نے جو قانون بنایا ہے اس کا یہ پابند ہے۔ تو یہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ ضرور جو کچھ کر سکتا ہے اسی کے اندر پوچھا جائے گا۔ تو اللہ پاک کبھی بھی اس کو یہ حکم نہیں دے گا کہ تم دونوں پیر ایک وقت میں اٹھا لو۔ کبھی بھی اللہ پاک اس کو ایسا حکم نہیں دے گا کہ تم دونوں پیر ایک وقت میں اٹھا لو۔ اللہ پاک اس کو اتنا ہی زیادہ سے زیادہ دے گا کہ ایک پیر اٹھا لو۔ تو اللہ پاک کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ وہ اسی رینج کے اندر اندر آتے ہیں۔ بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہماری رینج کا پتا ہی ان احکامات سے چلتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک تو تمام چیزوں کو جانتا ہے تو اس نے جس چیز کا بھی حکم دیا ہے وہ ہمارے اختیار میں ہو گا تبھی دیا ہو گا۔ ہماری رینج سے باہر ہو گا ہی نہیں۔
اب اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو کیا اس کے اوپر وہ ہاتھ دھونا واجب ہے وضو میں؟ کٹنے کے بعد؟ کون سا مفتی کہتا ہے؟ حتیٰ کہ اگر کوئی گونگا ہے تو اس کے اوپر نماز کے اندر وہ نماز کا سبق وغیرہ پڑھنا واجب ہی نہیں۔ بس وہ تصور ہی تصور میں رکھے گا سب کچھ کیونکہ تصور اس کے اختیار میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان جتنا کر سکتا ہے اللہ پاک کا اس کا اتنا حکم ہے۔ اس سے زیادہ نہیں ہے۔
تو اللہ جل شانہٗ نے ہمیں اختیار و بے بس کا سکھایا ہے۔ جن چیزوں کے اندر ہمارا کچھ بس نہیں چلتا اس کے بارے میں تو ہمیں حکم دیا ہے دعا کا کہ اس میں مجھ سے مانگو۔ اور جس چیز میں اللہ پاک نے ہمیں اختیار دیا ہوا ہے اس میں اللہ پاک نے ہمیں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی ان کاموں کو چھوڑ کر دعا کرنے لگ جائے تو وہاں اس کی گردن ناپی جا سکتی ہے۔ اور جہاں دعا کرنے کی جگہ ہے وہاں پر یہ کام کا سوچے گا تو تکوینی نظام اس کو جکڑ لے گا۔ تکوینی نظام اس کو جکڑ لے گا، وہ کچھ کر تو سکے گا نہیں۔ تو ظاہر ہے مطلب خود خراب ہی ہو گا نا۔ جیسے مثال کے طور پر کسی کا لکھا ہوا ہے تو اس کو تو کوئی روک نہیں سکتا وہاں دعا ہی کر سکتا ہے نا۔ ڈاکٹر لوگ بھی جب فیل ہو جاتے ہیں اور تمام سکیمیں فیل ہو جاتی ہیں اور وہ کہتے ہیں انجیکشن بھی اب نہیں چڑھتا، خون بھی مطلب نہیں چلتا تو پھر وہ سب لوگوں سے کہتے ہیں اب دعا کرو۔ اب دعا کرو مطلب ظاہر ہے پھر وہاں پر ان کو بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اب ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ کہتے ہیں دعا کرو۔ پائلٹ بھی جب پھنس جاتا ہے، وہاں سارے instruments فیل ہو جاتے ہیں نا تو پھر کہتے ہیں دعا کرو۔ مسئلہ ہو گیا کیا کریں، اب دعا کریں۔ اب دعا ہی کی بات ہو سکتی ہے نا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو ہے وہ جب بھی کبھی اس قسم کی بات آ جائے۔۔۔ یہ جتنے بھی لوگ ہیں چاہے بحری جہاز میں اگر طوفان آ جاتا ہے تو کیپٹن باقاعدہ اعلان کرتا ہے کہ دعا کریں۔ کیونکہ طوفان جو ہے نا وہ ان کے حتیٰ کہ وہ غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ ان کو پتہ چل جاتا ہے اب ہماری ساری سکیمیں فیل ہیں جتنا ہمارے بس میں ہے وہ ہم کر چکے وہ نہیں ہو رہا تو اب دعا ہی کریں۔ ایک ایسی ہستی سے جو کہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ تو یہاں پر یہ والی بات ہے کہ رینج کو دیکھنا چاہیے کہ ہماری رینج کیا ہے۔
غرض کہ سالک جب تک صفت اختیار کو استعمال نہ کرے گا۔ اصلاح ممکن نہ ہو گی، مثلًا کسی میں بخل ہے تو نرے ذکر و شغل یا شیخ کی دعا و توجہ و برکت سے یہ رذیلہ ہرگز زائل نہ ہو گا۔
اب یہاں پر بھی دو چیزیں ہیں ایک ہے ہمت، کوشش، سبب اختیار کرنا، طریقے سے کام کرنا جس طرح کہا جائے اس طرح کرنا، یہ ہمارے اختیار کی چیز ہے۔ اس میں کوئی سستی کرے گا اور کہے گا کہ شیخ کی توجہ سے ہمارا کام ہو جائے گا۔ اور ساری چیزیں ہمارے لئے bypass ہو جائیں گی۔ ایسا تو نہیں ہے۔ اللہ پاک نے جو قانون جس طرح پینے کے ساتھ پیاس بجھتی ہے کھانے کے ساتھ سیر ہوتا ہے آدمی، اس طرح اس کے بھی قوانین بنائے ہیں۔ وہ قوانین آپ اختیار کریں گے تو کچھ ہو گا۔ اب اگر لوگ اس کو دعاؤں پہ چھوڑ دیں تو وہاں پر یہ معاملہ گڑبڑ ہو جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود جب آپ سب کچھ کریں تو اس کے اوپر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہاں پر شیخ کی دعا اور وہاں پر برکت اور وہاں پر یہ تمام چیزیں آ جائیں گی۔ اب اگر آدمی کہتا ہے میں تو کام کر رہا ہوں مجھے کس چیز کی ضرورت ہے وہاں پر وہ مارا جائے گا۔ بات سمجھ آرہی ہے نا، مطلب دونوں چیزیں بیک وقت ہونی چاہیئں۔ ہمت کرو پھر اللہ پہ فیصلہ چھوڑ دو۔ اس کے اندر جو اللہ جل شانہٗ نے برکت کی چیزیں رکھی ہوئی ہیں وہ اللہ جل شانہٗ اپنے طور پہ کر لیتے ہیں اگر وہ موجود ہوں گی تو اس کے مطابق فیصلہ ہو جائے گا۔ تو وہاں پر یہ تمام چیزیں ذکر اور جو دعائیں ہم کرتے ہیں یا جو مطلب مشائخ کی توجّہات ہوتی ہیں، ساری چیزیں پھر وہاں پر استعمال ہو جاتی ہیں۔ کوشش ہر ایک کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ جب یہ دوسری چیز بھی ہوتی ہے تو فائدہ ان کو ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کے ہاں تو دونوں نظام چلتے ہیں نا، دونوں نظام ساتھ ساتھ چلتے ہیں نا کچھ اختیاری ہے کچھ غیر اختیاری ہے۔ تو جو اختیاری ہے تم کر لو، اور غیر اختیاری کا راستہ نہ روکو۔ اس طرح سے نہ روکو کیونکہ وہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ وہاں پر اگر خدانخواستہ وہاں معاملہ گڑبڑ ہے۔ تو پھر صرف ہماری کوشش سے تو کچھ نہیں ہوگا۔ ہماری کوششیں بلاک ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک پورا نظام ہے اس کے اندر سب کچھ بند ہے۔ تو اس سے آگے بات جائے گی نہیں۔
اس سے آگے بات جائے گی نہیں، جیسے حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا کہ حضرت جو کچھ آپ کرتے ہیں وہ ہم بھی کرتے ہیں ہمیں فائدہ نہیں ہوتا آپ کو فائدہ ہوتا ہے کیا وجہ ہے؟ حضرت نے فرمایا ابھی تک جتنا آپ لوگوں نے کیا وہ آپ کا نفس کھا چکا۔ اب وہ آدمی کیا سمجھے کہ بھئی نفس کیسے کھا چکا؟ میں نے کہا جو انسان پوچھ پوچھ کے چلتا ہے۔ تو پھر معاملہ ہوتا ہے مطلب وہ جو برکت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ پھر یہ بات ہوتی ہے کریں گے پھر بھی وہی، وہ بھی وہی کرے گا جو آپ کریں گے۔ لیکن وہاں برکت ہوگی وہاں کام چلے گا یہاں نہیں ہوگی۔ ضروری نہیں ہے۔ مطلب ضروری نہیں ہے۔ تو
اب ایک تو یہ بات ہے جیسے وہ بزرگ والی بات تو اس نے بِسْمِ اللَّهِ پڑھ لیا تھا اور پانی پہ دم کر لیا تھا تو وہ شہد بن گیا تھا۔ اب وہ بچے جو ہیں نا وہ کہتے ہیں بِسْمِ اللَّهِ تو ہمیں بھی آتی ہے۔ تو اتنی بات تو ان کے اختیار میں تھی نا لیکن شہد بننا تو ان کے اختیار میں نہیں تھا نا۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کا عام قانون تھوڑی تھا۔ وہ تو خاص قانون تھا تو خاص قانون تو خاص لوگوں کے لیے ہوتا ہے نا۔ لیکن عام قانون بھی تو اس کے لیے استعمال تو ہو رہا تھا نا۔ بِسْمِ اللَّهِ تو اس نے بھی پڑھ لیا تھا۔ تو اب اگر سمجھیں ہم کہ نہیں بھئی ٹھیک ہے جی بس میں بھی تو اس چیز کو جانتا ہوں میں کر لیتا ہوں تو وہ پھر معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ وہاں پر معاملہ گڑبڑ ہو جاتا ہے ان چیزوں کو ذرا اچھی طرح سمجھنا چاہیے۔